Mehram-e-Raaz by Syeda Shah Readelle 50389 Mehram-e-Raaz Episode 26
Rate this Novel
Mehram-e-Raaz Episode 26
Mehram-e-Raaz by Syeda Shah
آوفس سے نکل کر وہ رش ڈرائیونگ کرتا وہ سبز حویلی پہنچا تھا
دو منٹ کے اندر اندر گھر میں ملو مجھ سے! گاڑی گراج میں پارک کرنے کے بعد حمزہ کو فون ملاتا وہ سیدھا اپنے کمرے میں گیا تھا اسے رہے رہے عرین کے الفاظوں پر غصہ آرہا تھا
کیا سمجھتی ہے یہ خود کو….! اسنے سگریٹ نکال کر لبوں سے لگائی جس کے بعد اسے کچھ رحت سی ملنے لگی تھی
اگلے دس منٹ میں اس کا دروازہ نوک ہوا
سوری سر ٹریفک جام میں پھنس گیا! حمزہ اس کی اجازت ملنے پر اندر داخل ہوتے ہوۓ بولا
تم نے مجھ سے عرین کے آوفس جانے کی بات کیوں چھپائی؟ ہاں؟ اسے دیکھتے ہی وہ کسی زخمی شیر کی طرح اس پر جھنپٹا تھا
سسوری سر مجھے عرین میم نے منع کیا تھا!
تم میرے لیے کام کرتے ہو یا اس کے لیے؟ کم سے کم دوستی کا مان رکھ لیتے میں اسے تمہارے حوالے کرکے گیا تھا!. حازم اسے چھوڑ کر ہنکار بھرتے ہوۓ بولا
آئی ایم سوری سر! حمزہ سر جھکا گیا
ایسا کیا ہوا ہے میرے پیچھے سے جو وہ اس قدر بدگمان ہو گئی ہے مجھ سے…آج نفرت دیکھ کر آیا ہوں میں اس کی آنکھوں میں! وہ اب کے ٹوٹے ہوۓ لہجے میں بولا کل رات سے اس کا روایہ اسے بار بار زخمی کر رہا تھا
آئی تھنک وہ آپ کے اچانک غائب ہونے پر خفا ہیں…
ہاں تو میں صرف اسے بتاۓ بغیر غائب نہیں ہوا سواۓ ڈیڈ کے سب انجان تھے موم کو بھی نہیں پتا تھا حائنہ حازم کوئی نہیں جانتا تھا میں کہاں ہوں پھر وہ کیوں ایسے ری ایکٹ کر رہی ہے؟مانتا ہوں اس کا غصہ کرنا جائز ہے لیکن یہ نفرت؟ اسے ایک سال پہلے کا وہ منظر یاد آیا تھا جب صبح اس کی آنکھ کھولی اور اسنے عرین کو اپنے ساتھ لیٹے پایا
وہ اس کی شرٹ میں موجود اس کے پہلو میں لیٹی اسے ساری بات سمجھا گئی تھی
ڈیم اٹ! وہ بے ساختہ اپنے بالوں کو ہاتھوں میں جکڑ گیا تھا
یہ مجھ سے کیا ہو گیا..!
تم نے مجھے روکا کیوں نہیں….ہم دونوں کی منزلیں الگ ہیں! وہ اس کا گال سہلاتا اس کی لٹوں کو پیچھے کرتے ہوۓ بولا اسے اس لمحے خود پر بے حد غصہ آرہا تھا
سوچوں کا تسلسل اچانک بجنے والے فون نے توڑا جس سے وہ ہوش میں آتا سائد ٹیبل سے اپنا موبائیل اٹھا کر کان سے لگا گیا
ہاں بولو حمزہ….! اور دوسری طرف کی بات سن کر اسکے پیروں تلے سے زمین نکل گئی تھی
سر خانی کا مڈر ہو گیا ہے اور…
اور آفرین کے ساتھ ریپ اٹیمیپٹ ہوا ہے! اور حازم خان کو لگا وہ ہار گیا ہے
ممیں آرہا ہوں… اسے خود کا کیا وعدہ یاد آیا تھا جو اسنے خانی سے کیا تھا
میں آرہا ہوں….! کچھ دیر بعد وہ فریش ہوکر اس پر ایک نظر ڈالے نکل گیا اس کے بعد حمزہ نے اسے کچھ عرصے لا پتہ ہونے کا مشہورہ دیا تھا کیوں کہ خانی اور المان کا کیس حازم ہنڈل کر رہا تھا ممکن تھا یہ سب حازم کے لیے نقصان دہ ہوتا ایسے میں آفرین خانی کو بھی اس کے سپورٹ کی ضرورت تھی اسنے آفرین کے باپ سے اس کی زمےداری لی تھی جس کی وجہ سے وہ اسے لے کر کچھ عرصے کے لیے انڈر گراونڈ ہو گیا تھا
خانی کیس کے بعد دو مہینے تک اسنے بہت بار عرین سے کونٹیکٹ کرنے کی کوشش کی تھی مگر ہر بار ایک ہی سوچ نے اسے روک دیا تھا وہ اسے کیا کہ گا؟ کے اپنے رشتے کے آغاز کے اگلے دن ہی وہ اسے چھوڑ آیا تھا؟ یہ سچ تھا اسے شروع میں اس رشتے کو لے کر مشکل پیش ہوئی تھی مگر پھر اس سے دور رہے کر اسے اندازہ ہو گیا تھا ایک چھوٹی سی لڑکی نے اسے اپنا گرویدہ بنا لیا تھا اور دوسری وجہ یہ تھی کہ عرین اس کے لیے چھوٹی تھی وہ ان معاملات کو نہیں سمجھ پاتی اور اگر اس کے روائیے سے المان کو زرا بھی شک ہوتا تو وہ عرین کو مس یوز کرتا جو اسے ہرگز برداشت نہیں تھا
دو مہینے بعد وہ ایک حمزہ اور کچھ سی بی آئی آوفسرز کے رزیعے المان تک پہنچ چکا تھا المان اس کی گرفت میں تھا مگر اسے بغیر وجہ کے مار کر وہ قانون کی نظر میں آجاتا جس کے باعث اسنے آفرین کے قومہ سے نکلنے کا انتظار کیا جس نے اسے اپنی ریپ کے پہلے دن ہی بے ہوشی کی حالت میں المان خان کا نام لے کر اپنے مجرم کا بتا دیا تھا
اتنے دنوں تک حازم نے المان کو مینٹلی اور فیزیکلی ٹورچڑ کیا تھا مگر اس نے اپنا جرم قبول نہیں کیا تھا وہ پورے دن اس کیس پر کام کرتا اور روز اسے الگ طریقے سے ٹوچڑ کرتا تھا مگر ایک دن آفرین کے ہوش میں آنے کی وجہ سے جب وہ اس سے ملنے گیا تو المان جانے کس طرح بھاگنے میں کامیاب ہو گیا جس کے باعث حازم کو مزید انڈر گراؤنڈ رہنا بے کار لگا
اس ایک سال میں اس کے دن کی شروعات اور رات کا اختتام صرف ایک سوچ پر تھا
”اس کی بیوی کی حفاظت“
جانے کیوں حمزہ کے لاکھ کہنے کے باواجود اسے لگتا تھا کچھ غلط ضرور ہے….
اور دوسری طرف حمزہ الیانہ کے پریشر کی وجہ سے عرین پر پوری طرح سے نظر نہیں رکھ پا رہا تھا شروع کے دو تین مہینے اس نے بے احتیاطی برتی مگر عرین کے ایکسیڈنٹ کے بعد اسنے اس پر نگرانی سخت کر لی تھی وہ جہاں جاتی تھی حمزہ کا ایک خاص بندہ اس سے کچھ فاصلے پر رہتا تھا
آپ پریشان مت ہوں سر ان شاء اللہ میم جلد سمجھ جاۓ گی! حمزہ کی آواز سے وہ سوچوں کے تسلسل سے نکلا
کیسے پریشان نا ہوں؟ میں نے اتنے عرصے اس سے فاصلہ اس لیے رکھا کیوں کہ مجھے اس کی عزت خود سے زیادہ عزیز تھی لڑکیوں کہ عزت نازک ہوتی ہے میں تو کبھی حق رکھنے کے باواجود اس کے قریب تک نہیں گیا پھر کہاں کمی کر دی جو اسنے مجھے حوس پرست کہ دیا؟ اس دن جو کچھ بھی ہوا وہ میرے لیے بلکل اچانک تھا میں اپنے رشتے کی شروعات اس طرح نہیں چاہتا تھا جس کی وجہ سے میں اس وقت کچھ پریشان ہو گیا تھا… آخری جمعلے اسنے شاید خود سے کہے تھے
آئی تھنک وہ آپ سے صرف اس بات پر ہی خفا ہیں کچھ ٹائم لگے گا ٹھیک ہو جائیں گی آپ ان دنوں میں انہیں منانے کی کوشش کریں! حمزہ اسے تسلی دیتے ہوۓ بولا اسنے حازم خان کا یہ روپ شاید زندگی میں پہلی بار دیکھا تھا وہ تو ہمیشہ خود کو ایک بے حس اور مضبوط آدمی ظاہر کرتا آیا تھا
ہممم تم مجھے وہ فائل لا دو…!
ککونسی فائل؟ حمزہ نے پیسنہ صاف کرتے ہوۓ پوچھا
میں نے تمہیں جانے سے پہلے ایک فائل دی تھی! حازم نے اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھتے ہوۓ پوچھا
سر ایکچلی وہ فائل تو….وہ کچھ رکا
“سن رہا ہوں” اس کی آواز اب سرد ہو چکی تھی
ہمیشہ والی سرد برف کی طرح!
وہ فائل الیانہ میم کے پاس ہیں!
واٹ؟ آڑ یو ان یور سینسس؟ اس کی ڈھار پر حمزہ نے دو قدم پیچھے کی طرف لیے تھے
سوری سر بٹ آپ کا آڈدر تھا الیانہ میم کا ہر آڈدر ماننا ہے! حمزہ مودب انداز میں بولا
میں نے تمہیں ان کا آڈدر ماننے کا کہا تھا میری پرائیوسی لیک کرنے کا نہیں…میری آنکھوں کے سامنے سے غائب ہو جاؤ! وہ ضبط کی آخری حد پر تھا
سوری..س
گیٹ اوٹ! اب کے اس کے ڈھارنے پر حمزہ افسوس سے سر جھکاۓ روم سے نکل گیا اس کے جانے کے بعد وہ کافی لمحے ادھر سے ادھر ٹہلتا رہا پھر تنگ آکر سگریٹ سلگا کر صوفے پر ڈھے گیا
(آپ جیسے لوگوں سے مراد آپ جیسا خود غرض اور ہوس پرست انسان)
آہ…اس کے الفاظ یاد آتے ہی اسنے اپنے بالوں کو مٹھی میں جکڑا تھا گزدشتہ ایک سال اس نے کس کیفیت میں گزارا تھا یہ صرف وہی جانتا تھا
انسان بہت سے معاملات میں بے بس ہوتا ہے اور حازم خان اپنے پیشے کو لے کر ہمیشہ سے بے بس ہوتا آیا تھا اس کی محنت ہی تھی جس کی وجہ سے وہ پورے شہر میں بیسٹ لائر کہلایا جاتا تھا
کافی لمحے سوچنے کے بعد وہ فیصلہ کرتے ہوۓ اٹھا کر الیانہ کے روم کی طرف بڑھ گیا
*********************
اسے یونیورسٹی سے نکلتے ہوۓ آج کافی دیر ہو گئی تھی وجہ یونی میں ہونے والے اہک فنشن کی تیاری تھی جس کی وجہ سے وہ آج پانچ بجے گھر جا رہی تھی
نین؟ حنان کی آواز پر وہ گردن موڑ کر اسے دیکھنے لگی
میں ڈراپ کر دیتا ہوں تمہیں…!
نہیں یار میں خود چلی جاؤ گی بس آتی ہوگی! رعنین اسے بتانے لگی
میرے ساتھ چلنے میں کچھ مسئلہ ہے تمہیں؟
نہیں ایسی بات نہیں ہے!
تم مجھ سے ناراض ہو کیا؟ حنان گھبرا کر بولا
نہیں تو!
پھر ایسے بیہوو کیوں کر رہی ہو؟ وہ اس کے قریب ہوتے ہوۓ بولا
تمہاری انہیں حرکتوں کی وجہ سے ایسے بیہوو کر رہی ہوں آج تم بہت weird بیہوو کر رہے ہو…! وہ دو تین دن سے اس کی ذومعانی باتوں پر غور کر رہی تھی جب کہ اس کی بات سمجھتے ہوۓ حنان نے اپنا حلق تر کیا پھر کچھ ہمت کرکے بولا
میں نے کچھ غلط تو نہیں کیا….مجھے اچھی لگتی ہو تم! اور رعنین کو لگا وہ اپنا سب سے اچھا دوست بھی کھو چکی ہے
تمہارا دماغ درست ہے؟ تم سے مجھے ایسی امید نہیں تھی حنان کیا واقعی ایک لڑکا اور لڑکی صرف دوست بن کر نہیں رہے سکتے؟ اس کے اعتراف پر وہ آف بغولہ ہوکر کہتی تیزی سے وہاں سے آگے بڑھ گئی اسے رہے رہے کر حنان پر غصہ آرہا تھا کافی دنوں سے وہ اس کی آنکھوں میں اپنے لیے احساسات دیکھ رہی تھی مگر اس کے اعتراف نے اسے ہلا کر رکھ دیا تھا
یونیورسٹی سے نکل کر اسے کوئی بھی بس یا رکشہ نظر نہیں آیا کافی لمحے انتظار کرنے کے بعد وہ اس سنسان سڑک پر چلنا شروع ہو گئی تھی
تم تمہارا لگتا ہے اور آپ اپنا لگتا ہے! حنان کے الفاظ اسکے ذہن میں گونجے تھے
ابھی اسے اس سنسان سڑک پر اکیلے چلتے ہوۓ کچھ منٹ ہی گزرے تھے جب اچانک اسے کسی عجیب سے خیال نے گھیرا کسے کے قدموں کی آواز سے پیشانی پر یکدم بل نمودار ہوۓ
اسنے اپنی رفتار تیز کی تھی وہ اب بخوبی اپنے ساتھ ساتھ ان قدموں کی تیزی بھی محسوس کر رہی تھی
یو….. مزید کچھ چلنے کے بعد یکدم ہی پلٹی تھی کے اپنے پیچھے آتے وجود کو دیکھ کر پیشانی کے بل مزید گہرے ہوۓ
اب کیا چاہتے ہو کیوں میرا پیچھا کر رہے ہو؟
میں تمہیں اکیلے نہیں جانے دے سکتا!
میں روز ایسے ہی جاتی ہوں پلزز مجھے میرے حال پر چھوڑ دو….اسنے حنان کے آگے ہاتھ جوڑے تھے جو کچھ گھنٹوں پہلے تک اسکا سب سے اچھا دوست تھا
نہیں چھوڑ سکتا میں تمہیں تمہارے حال پر….
کیوں پریشان کر رہے ہو مجھے آخر تم چاہتے کیا ہو حان! وہ بیزار سی بولی
پہلے بھی عرض کر چکا ہوں تمہیں چاہتا ہوں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں….یہ اسکا دوسرا اعتراف تھا جو وہ آج کے دن کر چکا تھا
لیکن میں تم سے شادی نہیں کر سکتی سمجھے تم!
کیوں نہیں کر سکتی؟
کیوں کہ میں…..وہ کہتے کہتے رکی
تم کیا؟
کیوں کہ میں تمہارے قابل نہیں ہوں میں کسی کے ساتھ پہلے ہی بھی شرعی نکاح میں رہے چکی ہوں اور وہ شخص مجھ سے میرا سب کچھ لے کر چلا گیا میں جانتی ہوں تمہاری نظر میں بھی سب کی طرح اس نکاح کی کوئی ویلیؤ نہیں ہوگی مگر میں اس کی ویلیؤ کو چاہ کر بھی نہیں جھٹلا سکتی…. وہ کرب سے بولی تھی آنسو اب گال بھگو رہے تھے جو کہ مقابل کو سخت تکلیف میں مبتلا کر رہے تھے وہ بے اخیتار آگے بڑھ کر اس کے آنسو صاف کرنے لگا
میں یہ سب جانتا ہوں پھر کیوں بار بار کہ کر مجھے تکلیف پہنچاتی ہوں…تم سے محبت میں نے تمہارا ماضی دیکھ کر نہیں کی تھی وہ تو بس ہو گئی میں نہیں جانتا مجھ میں کتنا ظرف ہے لیکن اتنا ضرور کہوں گا مجھے اپنے ماضی کے ڈر سے انکار مت کرو تم چاہو تو ہم دنیا کے لیے ایک نئی مثال بن سکتے ہیں….تمہاری طرح نجانے کتنے ہی لڑکیاں ہیں جو اس سب سے گزر کر نجانے کیا کیا فیس کر رہی ہیں ہم ان کے لیے امید کی کرن بن سکتے ہیں…وہ ایک امید سے بولا تھا جب کہ وہ اب حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی کے الفاظ اس کے دل کے گرد کھڑی دیوار پگلا رہے تھے اسنے اسے آج سے پہلے کبھی اتنا سنجیدہ نہیں دیکھا تھا
اس بارے میں سوچنا ضرور میں تمہارا انتظار کروں گا! اسکے آنسو اپنے رومال سے صاف کرکے وہ جس راستے سے آیا وہی سے چلا گیا تھا جب کہ وہ ضرور اس کی باتوں میں اٹک گئی تھی
وہ وہی کھڑی یہ سب سوچ رہی تھی جب اسے سامنے سے بس آتی دیکھائی دی ایک گہرا سانس ہوا کے سپرد کرکے وہ بس کی طرف چل دی
************************
الیانہ اس وقت اپنے کمرے میں بیٹھی کوئی میگزین دیکھ رہی تھی جب حازم ان کے روم میں بنا اجازت کے آیا تھا
مجھے آپ سے بات کرنی ہے موم!
”ہاں بولو ہنی“ الیانہ اسکے تیور دیکھ کر سیدھے ہوتے ہوۓ بولی
مجھے وہ فائل واپس کریں!
کونسی فائل؟ اسنے آئبرو اچکائی
“وہی فائل جس کے لیے آپ نے میری ڈرنک میں نشہ آور چیز ملا کر مجھے زبردستی فائل تھمائی اور پھر عرین کو بہانے سے میرے پاس بھیج دیا” اس کے سرد آواز پر الیانہ سفید پڑ گئی
ییہ تتتم کیا کہ رہے ہو؟ یہ بات ضرور تم سے اس لڑکی…
فار گوڈ سیک موم آپ کو لگتا ہے میں لوگوں کی باتیں مان لوں گا..؟ حازم کے انداز پر وہ خاموش سی ہو گئی
وجہ جان سکتا ہوں یہ سب کرنے کی؟
ہاں ضرور اس میں نئی بات کیا ہے یہی بات ہم میں پہلے سے تہ نہیں ہوئی تھی؟ الیانہ نے الٹا سوال کیا
تو آپ کو مجھ پر یقین نہیں تھا؟ آپ اس حد تک جا سکتی ہیں میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا! وہ افسوس سے سر جھٹکتے ہوۓ بولا
میری جان میں مانتی ہوں میں نے غلط کیا لیکن میرا یقین کرو میں نے وہ فائل اپنے پاس صرف اسئلے رکھی تاکہ وہ کسی کے ہاتھ نا لگ جاۓ مجھے بھی یہی لگتا ہے ہمیں عرین کا حق نہیں لینا چاہیے! الیانہ نے اسے ہنڈل کرنا چاہ
آپ وہ فائل مجھے واپس دے دیں میں خود اس کی حفاظت کر لوں گا…اس کا لہجہ ہنوز سرد تھا
یہ لو! الیانہ نے فائل اس کے سامنے کی جسے وہ تھام کر چیک کرنے لگا
امید کرتا ہوں آپ نے اس بارے میں کسی سے زکر نہیں کیا ہوگا!
بے فکر رہو یہ راز صرف میرے اور تمہارے بیچ تھا! الیانہ نے سفاکی سے جھوٹ کہا تھا حازم اس سے مزید کوئی بات کیے بغیر روم سے نکل گیا جب کے اسکے جانے کے بعد الیانہ کافی لمحوں تک اس جگہ کو گھورتی رہی جہاں سے وہ ابھی ابھی گیا تھا وہ جانتی تھی حازم اس سے اس رات کی وجہ سے خفا ہے مگر کچھ عرصے میں ٹھیک ہو جاۓ گا اسکا غصہ ایسا ہی تھا جھاگ کی طرح جو کچھ دیر بعد بیٹھ جاتا تھا
‘تمہارا پتا تو اب میں صاف کروں گی لڑکی’ وہ خیالوں میں عرین سے مخاطب ہوتے ہوۓ اپنے موبائیل پر ایک نمبر ملا گئی
***********************
آنکھیں کھولو بیٹا…زہرہ اسکے سرہانے بیٹھے اس کے سر پر ہاتھ پھیڑتے ہوۓ بولیں
ڈیڈ…ڈیڈ…! اسنے یکدم چلانا شروع کیا تھا
جاؤ رانی جاکر صاحب کو بلا کر لاؤ!
ہاں میرا بیٹا بولو…اگلے پانچ منٹ بعد انور ملک اس کے پاس تھے
ڈیڈ میں اسے چھوڑوں گا نہیں آئی سوئر میں اسے چھوڑوں گا نہیں! وہ بند آنکھوں سے چلایا تھا
کسے؟
حازم خان اور خانی کی بیٹی” اسنے محض اتنا کہا تھا
تم پہلے تندرست ہو جاؤ پھر ہم مل کر اس سے بدلہ لیں آئی سوئر…انور ملک نے اسکا چہرہ تھپتھپایا جس سے وہ تھوڑا پرسکون ہوا تھا
********************
رات کے نو بجے کے قریب وہ گھر میں داخل ہوئی تھی
دروازہ کھولتے ہی اس کے کانوں سے ایرج کی آواز اس کے کانوں میں پڑی تھی
جی بھابھی میں بات کروں گی عرین سے…مجھے بھی یہ رشتہ اچھا لگ رہا ہے ایک بار ملنے میں کوئی ہرج نہیں ہے!
اچھا بھابھی میں آپ سے بعد میں بات کروں گی عرین آنے والی ہوگی! ایرج ان سے کہ کر کال کر گئی جب عرین سر کو جھٹکتے ہوۓ اندر داخل ہوئی
آگئی بیٹا…ہمیں ڈرائیور نے ڈراپ کر دیا تھا آجاؤ میں تمہارے لیے کھانا لگا دیتی ہوں…! ایرج اسے دیکھتے ہوۓ مسکرا کر بولیں
میں کھا کر آئی ہوں! سپاٹ انداز میں کہتی وہ اپنے روم میں چلی گئی کے پیچھے ایرج نے اس کو جاتا دیکھ کر کندھے اچکاۓ
اسے کیا ہو گیا ہے؟شاید تھک گئی ہوگی! ایرج خود سے کہتی آئمہ کے پاس بیٹھ گئیں
روم میں آتے ہی اسنے اپنا بیگ بیڈ کی طرف اچھلا تھا آج کا دن اس کے لیے کل سے زیادہ تکلیف ددہ ثابت ہو رہا تھا پہلے حازم کی اس کے ساتھ آوفس والی ملاقات اور اب یہ سب…..
یا اللہ مجھے اپنے پاس بلا لیں آپ میں مرتی کیوں نہیں ہوں آخر! وہ بیڈ پر گرتے ہوۓ اپنے بال مٹھی میں جکڑتے ہوۓ بولی
تو آپ اس بات پر خفا ہیں؟ اس کے الفاظ ذہن میں گونجتے ہی اس اس کہ قربت یاد آئی تھی یکدم اسے عجیب سا احساس ہونے لگا اسے خود سے گھن آنے لگی تھی وہ آج بھی اتنی ہی بے بس تھی جتنی اس دن ہو گئی تھی وہ اسکے ہاتھ جھٹک کر اسے خود سے دور نہیں کر سکی
اگلے ہی پل وہ سرخ انگارہ ہوتی آنکھیں لیے اٹھ کر واشروم میں باندھ ہوئی تھی
کچھ دیر بعد وہ فریش سی سلپنگ سوٹ میں.ملبوس واشروم سے نکلی کے سامنے کا منظر دیکھ کر اسکے بال پونچھتے ہاتھ تھمے
آستہ آستہ اس کے نرم تاثرات تن گئے تھے سامنے وہ اسکے بیڈ پر ٹیک لگاۓ اتنے آرام سے بیٹھا تھا جیسے اس کا اپنا کمرہ ہو
آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟ وہ غصے کی شدت سے سر تا پیر تک سرخ ہوتے ہوۓ چلائی
تمہارا انتظار کتنی دیر لگاتی ہو تم چھوٹی لڑکی! وہ ریلیکس انداز میں کہتا اسے مزید آگ لگا گیا تھا
جس راستے سے آئیں ہیں اسی سے چلیں جائیں ورنہ میں شور مچا دوں گی! عرین کھولی ہوئی کھڑکی سے اس کے آنے کا اندازہ لگاتے ہوۓ غرائی
مچا دو شور تمہیں لگتا ہے مجھے ان سب سے کچھ فرق پڑے گا؟
میں آپ کا سر پھاڑ دوں گی جائیں یہاں سے! اب کے وپ واقعی چلائی تھی کے اس کی حرکت پر حازم بیڈ سے اٹھ کر اس کے سر پر پہنچا تھا
مجھے کوئی تماشا نہیں چاہیے بات کرنے آیا ہوں! وہ بے بسی سے بولا تھا اس لڑکی کو دیکھ کر اسکا دل جیسے اس کی محبت واپس محسوس کرنے کے لیے بے چین ہو رہا تھا
لیکن مجھے آپ کی کوئی بات نہیں سنی آپ نے نہیں جانا رہیں یہی…! طیش سے کہتی وہ دروازے کی طرف بڑھی
”ایک بار صرف ایک بار میری بات سن لو….پلززز…!“
اس لفظ پر بے ساختہ اس کے قدم رکے تھے آج وہ اس مغرور شخص کو اپنے آگے جھکا محسوس کر رہی تھی
بولیں! وہ سپاٹ انداز میں اس کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑھے بولی آج اس کی آنکھوں میں محبت..خوف.. احترام کچھ نا تھا اس کی آنکھیں خالی تھیں
مجھے معاف کر دو…! جانے کس طرح اس کے منہ سے یہ لفظ نکلے تھے
نہیں کر سکتی…!
”ایک موقع دو“ وہ ترپ کر بولا
”نہیں دے سکتی!“
”تمہیں تمہاری مجھ سے کئی گئی محبت کی قسم! “
”کونسی محبت؟ وہ محبت مر چکی ہے…!“اب کے اس کی زبان لڑکھڑائی تھی حازم نے غور سے اسکا چہرہ دیکھا تھا اس کی آنکھوں میں نمی تھی
”میں تمہیں تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا” وہ بے بسی سے بولا
یہ بات تو آپ کو زخم دینے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا آپ نے کیوں کیا تھا وہ سب میرے ساتھ؟ آپ جانتے تھے آپ جانتے تھے میرا آپ کے وعلاوہ کوئی نہیں تھا آپ جانتے تھے میرا سب کچھ آپ تھے میری دنیا میرا سب کچھ میں دیوانوں کی طرح چاہ تھا آپ کو….اس کے باوجود آپ مجھے یہاں اکیلا چھوڑ گئے؟
”آپ کی ماں میرے لیے روز ایک رشتہ لاتی ہے میں انہوں کیسے بتاؤں ان کا بیٹا مجھے اپنے نکاح میں باندھ چکا
ہے! اس کے جمعلے پر حازم نے مٹھی سختی سے بھینجی تھی
” آزاد کر دیں…دے دیں مجھے طلاق….“ باقی کے الفاظ وہ اسکے منہ پر ہاتھ رکھے اسے دیوار سے لگاتا بند کر گیا
”خبردار جو تم نے یہ لفظ پھر منہ سے نکالا چیر کر رکھ دوں گا اگر کسی نے تمہیں مجھ سے چھینے کی کوشش بھی کی تو… سب کچھ تہس نہس کردوں گا سب کچھ یعنی سب کچھ سمجھی تم؟ دیکھتا ہوں کون تمہیں مجھ سے چھینتا ہے شیر زخمی بھی ہو جاۓ تو شیر ہی رہتا ہے میں بھی تو دیکھوں کس بھیڑے میں شیر کا سامنا کرنے کی ہمت آگئی ……“ وہ غرایا کے اس کی آنکھوں میں عرین اپنے لیے وہ جنون دیکھ رہی تھی جس کی اسنے کچھ عرصے پہلے شدت سے خواہش کی تھی ایک لمحے کو اسکے الفاظوں نے اسے جھنجھوڑ دیا تھا مگر وہ خود کو نارمل ظاہر کر رہی تھی
کچھ خواہشیں اس وقت پوری ہوتی ہیں جب آپ ان سے آگے نکل چکے ہوں! اسنے کرب سے سوچا
میں کوئی بھیڑ بکری نہیں ہوں جسے آپ جیسا چاہیے گے چلائیں گے پہلے والی عرین مر چکی ہے اب والی عرین کے سامنے اس طرح کی باتیں کرنے سے پہلے دس بار سوچیے گا میرے لیے آپ کی باتوں اور آپ کی حیثیت اب میری نظر میں اس کونے میں پڑے واز جیسی ہے جو ٹوٹ بھی جاۓ تو اس سے کمرے کی خوبصورتی میں کوئی فرق نہیں آتا….وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر کہتی اپنے ہی کمرے سے نکل گئی تھی
