357.5K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mehram-e-Raaz Episode 15

Mehram-e-Raaz by Syeda Shah

وہ جب سے آئی تھی ایسے ہی اکیلے میں مسکراۓ جا رہی تھی اسے ایسے دیکھ کر شمیم نے کافی غور سے اسے دیکھا

خیر ہے؟ ان کی آواز پر وہ ہربڑا کر سیدھی ہوئی

جی اماں کیوں؟

جب سے دیکھ رہی ہوں اکیلے بیٹھ کر مسکراۓ جا رہی ہو اور مسکراہٹ بھی کچھ بدلی بدلی سی ہے! ان کے کہنے پر رعنین کے حلق میں گلٹی ابھری

ننہیں تو ایسا تو کچھ نہیں بس وہ یونیورسٹی والے ٹرپ پر جا رہے ہیں! رعنین نے بات سنبھالتے ہوۓ کہنا

تو؟

تو کیا میں بھی…..

کوئی ضرورت نہیں ہے! اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ نفی کرتی بولیں

پللززز اماں جانے دیں…عرین بھی جا رہی ہے اور اس کی موم نے صرف میری وجہ سے اجازت دی ہے!

وہ تو جا سکتی ہے لیکن تمہارے پاس پیسے کہاں سے آئیں گے؟

آپ اس کی فکر نا کرو میری کمیٹی کھولی ہے میں اس سے ہو آؤں گی!

ہاں نالائق اولاد کمیٹی کھولی ہے تو یہ نہیں کہ کوئی اچھی سی چیز لے کر جہیز کے لیے رکھ لے لیکن نہیں انہیں تو بس پیسوں میں آگ لگانی ہے! شمیم خفگی سے بولیں

میں کونسا روز روز کہیں جاتی ہوں اماں؟ اگر زندگی میں پہلی بار مجھے کہیں جانے کا موقع مل رہا ہے تو جانے دیں نا! اب کے اسنے بلیک میلنگ سے کام لیا تھا جس پر شمیم بیگم نے اس کی اداس شکل دیکھی اور پھر سوچ میں پڑ گئیں

ٹھیک ہے لیکن احتیاط سے جانا!

آہ..کیا کہا آپ نے؟ تھینک یو سو مچ اماں! وہ فوری سے ان کے گلے لگتی بولی

”اچھا بس بس چلو اب تیاری کر لو“شمیم کے مسکرا کر کہنے وہ ایکسائٹمنٹ سے اندر کی طرف بھاگ گئی

*******************

رات کے تقریبا دس بجے کے قریب وہ آنکھوں میں بلا کی سختی اور سرد پن لیےگھر میں داخل ہوا تھا

معمول کے مطابق گھر کے سارے ملازم اپنے اپنے گھر اور کواٹر میں جا چکے تھے

لیلی! گھر میں داخل ہوتے ہی اسے الیانہ کے علاوہ کوئی ہال روم میں نظر نہیں آیا

لیلی کو میں نے اوف دے دیا تمہیں کچھ چاہیے؟

حنان کہاں ہے موم؟

”وہ تو روم ہے خیر ہے“

”بلائیں اسے…“ اس کے سختی سے کہنے پر الیانہ چونکی

کیا ہوا بھائی؟ اس کی آواز سن کر حائنہ اور عرین دونوں عرین کے کمرے سے نکلی تھیں

حائنہ بیٹا جاکر حنان کو بلاؤ! الیانہ معاملے کی سنگینی بھانتے ہوۓ بولیں

اگلے دو سیکنڈ میں حنان سفید شرٹ اور گرے ٹراؤز پہنے بکھری سی حالت میں نیچھے آیا

جی بھائی….

کل رات کہاں تھے تم؟ وہ ضبط سے اس کی طرف قدم بڑھاۓ بولا کے اس کی بات پر حنان آخری سیڑھی پر ٹھنکا

میں تو گھر ہی……

شٹ اپ! اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی حازم نے بے اختیار ایک زور دار تھپر اس کے منہ کی زینت کیا تھا کے اس کی حرکت پر عرین نے بے ساختہ منہ پر ہاتھ رکھا

یہ کیا طریقہ ہے حازم؟ الیانہ حیرتذدہ سی چلائی

پوچھیں اس سے کیا کرتا پھیڑتا ہے ڈرنک کرکے دوستوں کے ساتھ ریس لگا رہا تھا ایکسڈنٹ ہوا ہے اسکا اپنی جان کا جواء کھیل رہا تھا یہ….منع کیا تھا نہ میں نے تمہیں یہ سب کرنے سے ہاں؟ وہ غرایا

جب کے حنان حیرتذدہ سا اپنے گال پر ہاتھ رکھے سر جھکاۓ کھڑا تھا

بس کرو حازم تم بھی اس ایج میں یہ سب کرتے تھے!

میں خود کو برباد کر چکا ہوں موم لیکن اسے برباد نہیں ہونے دوں گا….اس سے پہلے اس گھر کے کسی افراد نے اسے اس قدر غصے میں نہیں دیکھا تھا

ایکسڈنٹ ہوا ہے؟ حائنہ فوری سے حنان کی طرف بڑھی

ابھی صرف ایک چھوٹا سا ایکسڈنٹ ہوا ہے کل کو ہڈیاں توڑوا کر آۓ تھا…تیش سے کہتا وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھنے لگا جب حنان نے آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ تھاما

”سوری بھائی میں ڈرنک تھا! وہ شرمندہ سا اسکا بازو تھامے بولا وہ سب برداشت کر سکتا تھا سواۓ اس کی ناراضگی کے

میں نے تمہیں ڈرنک سے بھی منع کیا ہے! اس کا انداز ہنوز سرد تھا

سوری بھائی آئندہ نہیں کروں گا!

بہترین انسان وہ ہے جو اپنی جان پر ظلم نا کرے سب کچھ کرو لیکن کبھی گرین لائن کراس مت کرو! حازم اس کی شرمندگی دیکھ کر کچھ نرمی سے بولا

سوری بھائی! حنان اسکے گلے لگا جس پر وہ حازم مسکرا کر اسے اپنے حصار میں لے گیا

میری جان ہو تم اپنا خیاک رکھا کرو آئندہ یہ حرکتیں کرتے نظر نا آنا! وہ اسکی کمر تھپتھپاتا بولا

”بس آپ ناراض مت ہوا کریں“ اس کی بات پر بے ساختہ حازم کی نظریں اوپر کی طرف گئی جہاں کھڑی عرین اسے ہی دیکھ رہی تھی ایک لمحے کو نظر ملی پھر وہ نظریں مورتی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی

حازم نے اسکے روم میں غائب ہونے تک اسے دیکھا تھا وہ اپنے لیے حنان کی محبت سے واقف تھا تو کیا وہ بھی اس سے اس حد تک محبت کرنے لگی تھی؟

وہ دن بدن اس کے سر پر سوار ہوتی جا رہی تھی..

******************

معمول کے برعکس وہ آج جلدی اٹھ گئی تھی مگر آج اسکا سارہ دھیان اپنی پیکنگ پر تھا

حازم جلدی اٹھ کر ناشتے کی ٹیبل پر آیا جہاں اسے آج اسے عرین کے بغیر حائنہ اور الیانہ نظر آۓ…اسے ناشتے پر موجود نا دیکھ کر نجانے کیوں اسے برا لگا تھا مگر وہ اس کا پوچھ کر الیانہ کو چونکنا نہیں کرنا چاہتا تھا

موم میں آج شام کو اسلام آباد کے لیے نکلوں گا ایک ضروری کام ہے! وہ حمزہ سے کل ہوئی بات کرتے ہوۓ بولا

خیرت سے؟ الیانہ کانٹے سے املیٹ کا بائٹ لیتی بولی

جی بس کیس سے حوالے سے جانا ہے المان ملک کی کچھ ایکٹیوٹز پر نظر رکھنی ہے تاکہ آگے پیش کر سکوں اور ڈیڈ کے ساتھ ایک کنفرانس بھی ہے!

صیح پھر کب تم نکلنا ہے؟

شام تک! وہ آخری بائٹ لیتا نیپکن سے ہاتھ صاف کرتا رنگ ہوتا موبائیل اٹھا کر باہر کی طرف بڑھ گیا

عرین نے کس ہوٹل میں اسٹے کرنا ہے؟ الیانہ اب حائنہ سے مخاطب ہوئی

آئی تھینک سرینہ میں ہے! حائنہ نے ذہن پر زور دالتے ہوۓ بتایا

ہممم سرینہ میں تو حازم بھی اسٹے کرتا ہے نا؟الیانہ پرسوچ سی بولی

اوہ شٹ۔۔۔موم اگر بھائی نے عرین کو وہاں دیکھ لیا تو؟

“تو کچھ نہیں ہوگا وہ تمہارے معاملے میں فکر مند ہوتا ہے اسئلے اکیلے نہیں جانے دیتا لیکن عرین اس کے یا میرے حکم کی پابند نہیں ہے اسنے اپنی ماں سے اجازت لی ہے تو حازم بھی اُسے کچھ نہیں کہے گا“

اللہ کرے ایسا ہی ہو!

تم ابھی عرین سے کچھ مت کہنا نا ہی اُسے حازم کے اسلام آباد جانے کا بتانا خامخاں بچی پریشان ہوگی! ان کی نرمی پر حائنہ نے حیریت سے انہیں دیکھا پھر مسکرا کر سر کو خم دیتی عرین کے روم کی جانب بڑھ گئی

یہی تو دیکھنا ہے حازم اسے وہاں دیکھ کر کیسے ری ایکٹ کرتا ہے اُسے جس سے غرض نا ہو پھر ان کی فکر بھی نہیں ہوتی۔۔۔ الیانہ کسی غیر مری نقتے کو دیکھتی خود سے بولی تھی

تیاریاں ہو گئیں ساری؟ حائنہ اس کے روم میں آکر اسے بیگ سے الجھتا دیکھ کر بولی

ہاں پیکنگ تو تقریبا ہو گئی بس اب ریڈی ہونے جا رہی ہوں! وہ مصروف سی بولی

کب تک نکلنا ہے تم لوگوں نے؟ حائنہ نے اسکے ساتھ بیگ بند کرانے ہوتے پوچھا

بس ابھی نوبجے تک سب یونی میں اکٹھے ہونگے پھر وہی سے نکل جائیں گے لیکن ایک پروبلم ہے بس میں میں نے کبھی ٹریول نہیں کیا….!

اس کی فکر نا کرو انشاءاللہ کچھ نہیں ہوگا!

“میں پھر ریڈی ہوکر آئی…”

“ٹھیک ہے جب تک میں دیکھتی تم کچھ بھول تو نہیں رہی…” حائنہ مسکرا کر بولی

کچھ دیر بعد وہ بیلو جینز پر گھٹنوں سے تھوڑا اوپر تک آتی سفید شرٹ پر سکن لونگ کورٹ پہنے ڈریسنگ روم سے باہر آئی

واؤ کتنا پیارا کورٹ ہے! حائنہ متاثر ہوتی بولی

یہ میرے ڈیڈ لاۓ تھے!

“اچھا چلو اب سنٹی مت ہو….تیاری کر لو ورنہ لیٹ ہو جاؤ گی” حائنہ اسکا لٹکا ہوا چہرہ پیار سے تھامے بولی جس پر وہ پھیکا سا مسکرا کر شیشے کے سامنے آئی

بالوں کو ڈھیلی سی پونی باندھ کر میک اپ کے نام پر اسنے محض لائٹ سی لپ اسٹک لگاۓ وہ اگلے دو منٹ میں تیار تھی ملنے کے بعد حنان اسے یونی چھوڑ آیا تھا وہ خود اپنی طبیت کی وجہ سے نہیں جا رہا تھا

*****************

یونی میں قدم رکھتے ہی اسے المان اپنے انتظار میں کھڑا نظر آیا

مورننگ وائفی! اسے دیکھتے ہی وہ مسکرا کر اسکے پاس آیا

اسلام و علیکم! رعنین جتانے والے انداز میں بولی جس پر وہ خاصا ستائشی انداز میں مسکرایا

و علیکم السلام….ہمارا پہلا سفر مبارک ہو آپ کو!

آپ کو بھی!

ویسے پیاری لگ رہی ہو! المان اس پر ایک طاہرانہ نظر ڈالے بولا

شکریہ…اب یہی وقت پورا کرنا ہے یا چلنا بھی ہے؟

چلو چلو! المان خوشدلی سے کہتا اسکے ساتھ بڑھنا لگا پھر یکدم روکا

کیا ہوا؟ رعنین نے ابرو اچکائی

”میں سوچ رہا ہوں ہم اپنی گاڑی میں چلتے ہیں ایسے ہمیں ساتھ کچھ ٹائم بھی مل جاۓ گا“

تم پاگل ہو؟ سب کی سوچیں گے؟

کوئی کچھ نہیں سوچے گا بس تم ہامی بھرو ان سب کو میں دیکھ لوں گا تم شاید بھول رہے ہو یہ یونی انور ملک یہی میرے ڈیڈ کی ہے! المان نے عام سے انداز میں کہا

نہیں عرین کو صرف میری وجہ سے پرمیشن ملی ہے ورنہ اس کی موم آنے نہیں دیتی!

کون عرین؟ المان نے پانی کی بوتل منہ سے لگا کر تجسس سے پوچھا

میری کلاس فلوو ہے اور کزن بھی لگتی ہے عالم خالو کی بھیتجی ہے! رعنین کے کہتے ہی اسکے منہ سے بے ساحتہ پانی باہر کی طرف نکلا تھا

کیا ہوا تم ٹھیک ہو؟ وہ پرہشانی سے بولی

عالم خان کی بھیتجی ہماری یونیورسٹی میں پڑھتی ہے؟

ہاں اور عالم خالو کا بیٹا حنان بھی میرا کلاس فلوو ہے لیکن اسکی طبیت خراب ہے جس کی وجہ سے وہ نہیں جا رہا! رعنین نے گویا اس پر دھماکہ کیا

واٹ؟ وہ حیران تھا وہ کیسے اس سب سے بے خبر رہا تھا؟

تمہیں اتنی حیرت کیوں ہو رہی ہے؟

وہ کچھ نہیں بس حازم خان سے میرا کچھ اچھا تعلق نہیں ہے! المان فوری نارمل ہوتے ہوۓ بولا

ہاں آئی نو تمہارے ڈیڈ جو مخالف پارٹی کے لیڈر ہیں…اسئلے ہی نا؟ رعنین نے تجسس سے پوچھا جس پر وہ سر کو خم دے گیا

اچھا چلو آجاؤ سب ویٹ کر رہے ہیں…!

تم چلو میں آتا ہوں! اب کے وہ مسنوئی مسکراہٹ کے ساتھ بولا کے اس کی بات پر رعنین کندھے اچکا کر آگے چل دی

اگر حازم کو میرے اور رعنین کے ریلیشن کے بارے میں پتا چل گیا تو؟ یہ تو مجھے میرا مقصد پورا بھی نہیں کرنے دے گا! وہ خاصا بدمزہ ہوتے ہوۓ رعنین کی پشت دیکھتا خود سے بولا

********************

کب آۓ گا؟ عرین اب اکتا کر بولی تھی جب سے سفر شرور ہوا تھا اسے گھبراہٹ سی ہو رہی تھی وجہ بس کا بند ہونا تھا

بس آنے والا ہے تم ٹھیک ہو نا؟ رعنین نے پریشانی سے پوچھا

تم تو کب سے کہ یہی کہ رہی ہو!

”ہاں لیکن ہم اب اسلام آباد میں انٹر ہو چکے ہیں دیکھو زرا باہر کتنا خوبصورت ہے اسلام آباد… “ رعنین نے اس کی تواجہ باہر کہ طرف کی جس پر وہ ایکسائٹڈ سی باہر دیکھنے لگی

“سبحان اللہ” بے ساختہ اسکی زبان سے نکلا

شام کے تقریبا چھ بجے تک وہ اسلام آباد کے ہوٹل سرینہ میں داخل ہوۓ تھے یہ ہوٹل اسلام آباد کا خوبصورت اور مہنگا ترین ہوٹل کہلایا جاتا تھا نومبر شرور ہو گیا تھا لاہور کی نسبت اسلام آباد زیادہ سرد تھا جس کا اندازہ اسے بس سے نکلے کے بعد ہوا تھا

افف یہاں تو بہت سردی ہے! عرین سحرذدہ سی ادھر ادھر دیکھتے ہوۓ بولی

“ہاں یہاں کی ہوائیں ٹھنڈی ہوتی ہیں” علینہ اور رعنین مسکرا کر بولیں

ہیلو مسز یہ آپ کا ہے؟ جبھی اپنے پیچھے سے آتی آواز پر عرین نے مر کر دیکھا جہاں المان ایک پانی کی بوٹل ہاتھ میں لیے اس سے پوچھ رہا تھا

جی میرا ہے تھینک یو! عرین نے مسکرا کر کہا

یو آر ویلکم! آپ کا تعروف؟ اسنے جان پر پوچھا تھا

یہ عرین ہے…میں نے تمہیں بتایا تھا نا! اب کے رعنین نے مداخلت کی تھی جس پر المان سر کو خم دے گیا

اور عرین یہ المان ہے! رعنین کے کہنے پر المان کے عرین کے آگے اپنا ہاتھ کیا جسے وہ رعنین کے اشارہ کرنے پر تھام گئی

چلو اسٹوڈنٹس پہلے سب کچھ کھا لو پھر ریسٹ کر لینا! میم عصمت کی آواز پر وہ سب سر اثبات میں ہلاتے ان کے پیچھے چل دیے

*****************

ہاں حمزہ روم بوک کروا لیا تھا؟

یس سر بٹ اس بار کسی یونی کا ٹرپ جانے کی وجہ سے روم مشکل سے مل رہے تھے لیکن !

“مجھے تمہاری آواز نہیں آرہی چلو میں پہنچ گیا ہوں روم میں جاکر بات کرتا ہوں ” اس سے کہ کر وہ کال کٹ کر گیا رات کے دس بجے کے قریب وہ اسلام آباد پہنچا تھا

گاڑی پارک کرنے کے بعد وہ ریسیپشن پر اپنے روم کی چابی لینے آیا

سوری سر بٹ 116 Available نہیں ہے! رسیپشن پر موجود لڑکی پروشنل انداز میں بولی

بٹ یہ کیسے ممکن ہے؟ میں نے یہ روم آج صبح کی بک کروایا ہے!

سوری سر بٹ یہ روم کل سے بک ہے!

آپ اپنے منیجر کو بلائیں میں صرف اسی روم میں اسٹے کرتا ہوں! اس کے کہنے پر مینجر اس کے پاس آیا

اسلام و علیکم سر!

وعلیکم السلام…وہ روم ہمیشہ سے میرے یوز میں رہا ہے پھر آپ نے کیسے وہ روم کسی اور کو دے دیا؟ حازم سرد لہجے میں بولا

”آئی ایم سوری سر میں یہاں موجود نہیں تھا اسئلے یہ سب ہوا میں جاکر ابھی آپ کے لیے 116 خالی کرواتا ہوں بٹ سر آپ کو ایک بار ان سے بات کرنی پڑے گی“

ہمم…!

یہ کتنا پیارا روم ہے نا! عرین اس روم کو ستائشی نظروں سے دیکھتی بولی

ہاں بہت پیارا ہے! رعنین کا حال بھی کچھ اسی کی طرح تھا

جبھی اس کا روم نوک ہوا

آجائیں….

ہاۓ لیدیز! المان اندر آتا مسکرا کر بولی

تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ رعنین بیڈ اسے دیکھتے ہی بیڈ سے اچھلی تھی

تمہیں لینے آیا ہوں آجاؤ باہر چل کر کافی ڈیٹ کرتے ہیں! المان آنکھ دبا کر بولا جس پر عرین نے شرارتی انداز میں رعنین کی طرف دیکھا رعنین نے اسے بس میں ہی اپنے اور المان کے بارے میں بتایا تھا

جاؤ چلی جاؤ! عرین شریر لہجے میں بولی جس پر وہ اسے آنکھیں دیکھا گئی

چل لیں بیگم! المان نے پھر سے پوچھا کے اس بار وہ چھا کر بھی اسے منع نہیں کر پائی تھی

صرف اپنی وجہ سے جا رہی ہوں وہ بھی کافی انجواۓ کرنا کافی دیٹ پر نہیں! اس سے کہ کر وہ باہر کی طرف قدم بڑھا گئی

ارے مجھے تو لیتی جاؤ! المان پیچھے سے بولا

رکیں یہ لیتے جائیں! اس سے پہلے وہ آگے بڑھتا عرین نے اسے روک کر رعنین کا موبائیل اس کی طرف بڑھایا

تھینک یو! المان مسکرا کر اس سے موبائیل تھامے بولا فلحال وہ اسکا بھروسہ جیتنا چاہتا تھا

*******************

روم نمبر 116 سیکنڈ فلور پر تھا ابھی اسنے لفٹ سے ایک قدم باہر نکالا ہی تھا کے المان روم نمبر 116 سے نکلتے دیکھ کر ٹھنکا

المان اس روم سے نکل کر نیچھے جانے والی سیڑھیوں کی طرف بڑھا تھا حازم اسے یہاں سے نکلتے دیکھ کر ذہن پر زور ڈالنے لگا

سر آجائیں! مینجر کی آواز پر وہ اس کی جانب متواجہ ہوا

اس روم کے باہر کھڑے ہوکر مینجر نے روم نوک کیا

وہ جو المان اور رعنین کے جانے کے بعد ریلیکس انداز میں بیڈ پر گری ہی تھی روم کے پھر سے نوک ہونے پر اکتا کر اٹھی

دو منٹ تک روم نا کھلنے پر اسنے واپس سے دستک دی اب کے کلک کی آواز سے دروازہ کھلا تھا

سوری میم اس ٹائم ڈسٹرب کیا بٹ آپ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے!

جی بولیں! عرین نا سمجھی سے بولی

کائنڈلی میم آپ اس روم سے روم نمبر 117 میں شفٹ کر لیں یہ روم پہلے سے بک تھا!

بٹ ایسے کیسے میں یہ روم نہیں دے سکتی آپ میری وہ سامنے والے روم میں میری میم ہیں ان سے پوچھ لیں!

”میم آپ ایک بار سر کی بات سن لیں“ مینجر مودب انداز میں بولا

سر آپ ایک بات کر کے دیکھ لیں! اس کے کہنے پر حازم موبائیل سے نظر ہٹا کر اس کے روم کے سامنے آیا

دیکھیں مسز….وہ جو حیران پریشان کھڑی کی یکدم اسکے سامنے آنے پر مزید حیرت سے اپنی آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اسے دیکھنے لگی کے دوسری طرف حازم اسے سامنے دیکھ کر ٹھنکا

یکدم اس کے سامنے المان کے اس کے روم سے نکلنے والا منظر لہرایا تھا وہ تو اس روم کو المان اور اس کی کسی گرل فرینڈ کا روم سمجھ رہا تھا مگر….

اسے دیکھتے ہی اسکے نرم تاثرات سختی میں تبدیل ہوۓ .

آپ جائیں میں خود بات کرتا ہوں ان سے!

بٹ سر….

آئی سیڈ لیوو…..اس کے سرد پن پر عرین بے ساختہ دو قدم پیچھے ہوئی منیجر اس کے کہنے پر سر ہلاتا واپس مڑ گیا

تم یہاں کیا کر رہی ہو؟ وہ سرد لہجے میں کہتا لمبے لمبے دھگ بھرے اسکا بازو دبوچ گیا

وہ..وہ

بتاؤ کیا کر رہی ہو یہاں کس کی اجازت سے یہاں آئی ہو؟ اب کے وہ ڈھارا تھا

ممموم نے….مییرا ٹرپ آیا ہہے! عرین خوفددہ سی اسکی گرفت میں بامشکل بول پائی تھی

میں نے کہا کس کی اجازت سے آئی ہو؟ میری اجازت لی تم نے؟ اس کے کہنے پر عرین نے بے ساختہ اسے دیکھا

آااپ میری بات سنتے ہی نہیں!

تم نے مجھ سے پوچھا کب ہے ہاں؟ آج ناشتے پر بھی تم نہیں آئی بس ایک دن کی محبت تھی؟ اتنے بڑے بڑے الفاظ بول رہی تھیں اور عمل ایک پر بھی نہیں کیا!

ہمیشہ اپنے الفاظوں سے وہ اسے لاجواب کرتی آئی تھی مگر آج اسنے اسے لاجواب کر دیا تھا وہ کیسے اس سے اجازت لینا بھول سکتی تھی؟ مگر وہ تو اسے بیوی نہیں مانتا تھا پھر اسے کیا اتنا برا لگ رہا تھا؟

یہ لڑکا کیا کر رہا تھا تمہارے روم میں؟ اسنے دوسرا سوال کیا

وہ…وہ مجھے بوٹل دینے آیا تھا! وہ فلحال رعنین کا نہیں بتا سکی تھی کے اس کے جواب پر حازم کے تاثرات قدرے ڈھیلے پڑے

ممجھے ددرد ہو رہا ہے! عرین آنسوؤں سمیت بولی اس کے کہنے پر حازم ہوش میں آتا فوری سے اسکا بازو چھوڑ گیا

آئندہ مجھے وہ شخص تم سے دو کلو میٹر کے فاصلے پر بھی دیکھائی نا دے! اب کے وہ نارمل ہوتے ہوۓ بولا

جی!

اور تم میرے ساتھ کل ہی واپس جاؤں گی!

نہیں! اب کے وہ ترنت کر بولی

تم مجھ سے ضد کرو گی چھوٹی لڑکی؟ حازم نے ابرو اچکا کر اسے دیکھا تھا

جی کیوں کہ میں گھر سے اجازت لے کر آئی ہوں! وہ منہ پھلا کر کہتی آگے بڑھنے لگی جب حازم نے اسے کھنچ کر دیوار سے لگاتا اسکے اطراف میں ہاتھ گیا

کونسا گھر؟ تمہارا گھر میں ہوں سمجھی؟ اور اب تم سب کچھ میری اجازت سے کرو گی!

کس حق سے یہ بات کر رہے ہیں آپ؟ وہ غصے سے منہ پھلا کر بولی تھی اپنے سوال پر وہ اسے آگ لگا گئی

کونسا حق مطلب؟ بیوی ہو تم میری سمجھی! وہ تیش سے اس پر جھکاؤ کرتا بولا جب کے اس کے الفاظوں پر عرین کے چہرے پر بے ساختہ گلابی سے مسکراہٹ رینگی جسے دیکھ کر وہ چونکا پھر اپنے کہے گئے الفاظ پر غور کرنے لگا

آاائی مین کے تم ہمارے گھر میں رہتی ہو تو سب سے پوچھنا چاہیے! اپنے لفظوں پر وہ اپنی پیشانی مستلے ہوۓ بولا کے اس کی بات بدلنے پر عرین نے اپنی مسکراہٹ ضبط کی

کیا ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟ وہ اس کی معنی خیز مسکراہٹ سے کنفیوز ہوتا اس سے پیچھے ہوا تھا

“میں نے تو کچھ نہیں کہا” وہ بامشکل اپنی مسکراہٹ ضبط کیے بولی تھی

ہممم دو منٹ سے پہلے پہلے میرا روم خالی کرو..! مزید اسے کچھ کہے بغیر وہ بالوں میں ہاتھ پھیرے باہر نکل گیا کے اس کے جاتے ہی وہ کھول کر مسکرائی تھی