357.4K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mehram-e-Raaz Episode 8

Mehram-e-Raaz by Syeda Shah

یہ ویسے غلط بات ہے اقبال تمہیں اس طرح اچانک نہیں جانا چاہیے کم از کم کل کا فنکشن تو آٹینڈ کر لیتے! عالم خان خفگی سے بولے

یقین جانے بھائی صاحب مجھے آپ کے ایلیکشن جیتنے کی بے حد خوشی ہے اگر ضروری کام نہیں ہوتا تو میں کبھی نہیں جاتا! اقبال خان محبت سے کہنے لگے

”ٹھیک ہے پھر اپنا کام مکمل کرکے جلد لوٹ آنا مجھے تمہارا انتظار رہے گا“

آپ بے فکر رہیں جلد لوٹوں گا! اقبال صاحب مسکرا کر کہتے ان کے گلے لگے تھے

چلو جاؤ اب بیٹی اور بیگم سے بھی مل لو!

”جی ٹھیک ہے“ ان سے کہ کر وہ عرین اور ایرج سے ملنے لگے

ڈیڈ جلدی آجائیے گا! وہ آنکھوں میں نمی لیے بولی

میں جلد آجاؤں گا اور حازم کو کہ کر جاؤں گا تمہارا خیال رکھے اور تم بھی حازم کا بیوی کی طرح خیال رکھنا میرا بچہ! اقبال خان اسے خود سے لگاۓ اسکا سر تھپتھپا کر بولے

لیکن ڈیڈ وہ اس نکاح کو نہیں ماننے گے!

ہاں لیکن مجھے اپنی بیٹی پر پورا یقین ہے تم اس کے دل میں اپنا مقام بنا لو گی یاد رکھنا میرے بعد تمہارا شوہر ہی ہوگا جو تمہاری حفاطت کرے گا! اقبال خان بھرے ہوۓ لہجے میں کہنے لگے

آپ ایسے کیوں کہ رہے ہیں ڈیڈ!

بس بیٹا زندگی کا کچھ پتا نہیں لگتا تم کوشش کرنا میرے واپس آنے تک اس بات کو صرف اپنے اور حازم کے بیچ میں رکھنا!

ڈیڈ پلزز آپ میری طرف سے بلکل بے فکر ہو جائیں! اس کے پیار سے کہنے پر اقبال خان نے اسے گلے سے لگایا تھا

بس کریں اب آپ دونوں باپ بیٹی کب سے رازداری میں پتا نہیں کیا کیا باتیں کر رہے ہیں لیکن بیگم کی فکر نہیں ہے! ایرج خفگی سے بولیں

ارے بھئی آپ کو کہاں بھول سکتے ہیں ایک ہی تو بیوی ہے میری!

عرین آپ میری بیگم کا خیال رکھیے گا! اقبال خان لاڈ سے بولے جس پر وہاں موجود حنان اور حائنہ مسکرا دیے انہوں نے یہ سب اپنے پیرنٹس میں کبھی نہیں دیکھا تھا

سر حازم سر آپکا باہر انتظار کر رہے ہیں! لیلی نے آکر اسے انفارم کیا جس پر وہ سب سے ایک الوداعی ملاقات کرکے آئیرپورٹ کے لیے نکل گئے الیانہ ان سے ایک بات رسمی ملاقات کو بھی نہیں آئی تھی جبکہ آئمہ بیگم اپنی طبیعت کے ناساز ہونے کے باواجود انہیں دروازے تک چھوڑنے آئی تھیں

**********************

شام کے ساۓ گہرے ہوتے جا رہے تھے

لیلی سب کے لیے چائے لے آئیے! حائنہ ٹی وی لاونج میں عرین کے سامنے والے صوفے پر بیٹھتی بولی

سب کے لیے کیوں؟ عرین نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا

چاچی اور دادی تو دادی کے روم میں چاۓ پیئں گی اور ہم دونوں یہاں! وہ کندھے اچکا کر بولی جس پر عرین نے سر اثبات میں ہلایا

تم سے ایک بات پوچھوں حائنہ؟

ہاں پوچھو؟

نکاح کے کون کون سے فرائض ہوتے ہیں؟ وہ اپنے ذہن میں آیا سوال اس کے آگے رکھ گئی

مطلب؟

مطلب کے ایسا کونسا فرائض ہوتا ہے جس سے دوسرے انسان کو خوف آۓ؟ عرین نے معصومیت سے پوچھا جبکہ اسکا سوال حائنہ کی سمجھ سے بلکل باہر تھا

ایسا تو کوئی فرائض نہیں ہے تم کتنی کیوٹ ہو یار! وہ بے ساختہ ہنستے ہوۓ بولی جبھی حازم نے انہیں جوائن کیا تھا

کیا باتیں ہو رہی ہیں؟ وہ اس کے عین سامنے والے صوفے پر ریلیکس انداز میں بیٹھتا بولا کے اس کی موجودگی سے عرین سمیٹ کر بیٹھی گئی

کچھ نہیں بھائی بس عرین اپنے جیسے کیوٹ اور فنی سوال پوچھ رہی ہے! حائنہ ہنستے ہوۓ بولی جبکہ عرین کا دل بری طرح کود کر حلق میں آیا تھا

اچھا اور وہ کیا؟ حازم نے اپنے موبائیل کی سکرین پر نظریں جماۓ حائنہ سے پوچھا

یہ میڈم پوچھ رہی ہیں نکاح کے ایسے کونسے فرائض ہیں جن سے بندے کو خوف آۓ! اس کی بات پر حازم نے سرعت سے چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا جو بے ساختہ ادھر ادھر دیکھنے لگی تھی

.

لگتا ہے آج یونیورسٹی میں پہلا لیکچر نکاح کا ہی ملا ہے!وہ سرد لہجے میں اسے بغور دیکھتا بولا

جی شاید لیکن حنان نے تو مجھ سے ایسا کوئی سوال نہیں کیا! حائنہ نا سمجھی سے کہنے لگی پھر خود ہی بولی

خیر اسنے اگر اتنا ہی دھیان دیا ہوتا پڑھائی پر تو آج اپنی عمر لڑکوں سے دو سال پیچھے نا ہوتا….آپ بیٹھیں بھائی میں زرا دادی کی بات سن لوں وہ کافی دیر پہلے سے بلا رہی ہیں! حائنہ ہنستے ہوۓ آئمہ بیگم کے روم کی طرف بڑھ گئی کے اس کے جاتے ہی عرین بھی فوری سے صوفے سے اٹھی تھی

وہی رکو لڑکی!

اآآااپ مممجھے سے ممخاطب ہیں؟

ظاہر ہے تمہارے علاوہ اور تو کوئی عجوبہ نہیں کھڑا یہاں پر! وہ سرد لہجے میں کہتا اس کے پاس آیا تھا

کیا چاہتی ہو؟ منع کیا تھا نا اس بارے میں کسی سے بات مت کرنا ہاں؟ اس کے لہجے کی ٹھنڈک سے عرین کو اپنا جسم لرزتا محسوس ہوا

ممممیں نے تو بس…..

آئندہ اگر میں نے تمہیں ایسی باتیں کرتے دیکھا تو ٹرسٹ می مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا! وہ چیخ نہیں رہا تھا مگر اسکا یہ مخصوص سرد انداز دوسرے کو فنا کر دینے کو کافی تھا

آپ مجھ سے ایسے بات نہیں کر سکتے میرے ڈیڈ مجھے آپ کے حوالے کر کے گئے ہیں اگر آپ مجھ سے ایسے بات کریں گے تو میں ڈیڈ کو بتا دوں گی! وہ اپنی نمی بامشکل چھپاتے ہوۓ بولی

شوق سے بتاؤ مگر میری ایک بات کان کھول کر سن لو میرے راستے میں کم ہی آیا کرو اگر میں نے تمہیں پھر کبھی ہماری بات کسی سے کرتے دیکھا تو تم میرے غصے سے واقف نہیں ہو! اس سے کہ کر وہ جا چکا تھا جب کہ وہ تو ایک لفظ پر رک سی گئی تھی ”ہماری بات“….یکدم اس کے دل نے پہلی بیٹ مس کی تھی

ہماری بات؟,اسنے زیرے لب دھرایا

کیا چیز؟ حائنہ جو ابھی یہاں آئی تھی نا سمجھی سے بولی

ہماری بات! عرین مسکرا کر بولی

کیا مطلب کس کی بات؟

ہماری! چہک کر کہتی وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر گھومانے لگی تھی

مجھے لگتا تم واقعی اس یونیورسٹی میں ایڈجیسٹ نہیں کر سکو گی زرا اپنی حالت تو دیکھو پہلے دن ہی پاگل ہو گئیں! حائنہ سر نفی میں ہلاتی بولی مگر اس کی سن کو رہا تھا وہ تو بس خوشی سے گھوم رہی تھی اسے اس لفظ کی آخر اتنی خوشی کیوں ہو رہی تھی وہ خود بھی سمجھ نہیں پا رہی تھی

*********************

رات گزر کر صبح میں تبدیل ہوئی تھی یہ بھی رب کا ایک بہت بڑا نظام ہے اندھیرے بھری رات گزرتی ہے تو روشنی والا دن چڑھتا ہے مگر آج زرا روشنی کم ہی تھی وجہ سورج کا بادلوں کے پیچھے چھپ جانا تھا ایسے میں لاہور میں موجود ایک چھوٹے سے گھر میں صبح صبح لڑائیوں کی آوازیں گونج رہی تھیں

سمجھ نہیں آتی تمہیں کہ دیا میں نے جانا ہے تجھے بھی میرے ساتھ! شمیم اونچی آواز میں اسے ڈپٹی بولیں

.

میں نے بھی کہ دیا اماں میں نہیں جا رہی وہاں! وہ تنخ کر بولی اور اسی کے ساتھ چوتھی چپل نے اسے سلامی پیش کی تھی

افف درد ہورہی ہے ویسے نا بہت ہی ظالم اماں ہیں آپ! وہ اپنا بازو مسلتی منہ بنا کر بولی

ہاں اب ماں ظالم ہو گئی میں کہ دیتی ہوں رعنین اگر تم آج میرے ساتھ نہیں گئیں تو میں زندگی بھر بات نہیں کروں گی! شمیم نے ٹھوس لہجے میں کہا

ویسے اماں ٹھیک ٹھیک بتائیں آپ کو یہ ساری پٹیاں کہیں رضیہ آنٹی نے تو نہیں پڑھائی کے فنکشن میں جاکر میرا رشتہ وشتہ بھی ہو جاۓ گا؟ وہ خود سے انداز لگاتی شمیم کو دھنگ کر گئی

ممیں کیوں ایسے سوچوں گی فضول باتیں کرتی رہتی ہے جاؤ جاکر چائے بنا کر لاؤ تمہاری اس فضول کی چک چک سے میرے سر میں درد ہو گیا! شمیم بات بدل کر اسے ڈپٹتی بولیں جس پر وہ برا سا منہ بنا کر اٹھ گئی

سوٹ بھی نہیں ہے کوئی میرے پاس پہننے کو! ایک اور بہانہ پیش کیا تھا

اچھا؟ اور جو انبار الماری میں جمع کر رکھا ہے وہ میں محلے میں بانٹ دوں؟ خبردار جو میرے سامنے اب یہ فضول بہانے کیے ہوں ورنہ تمہارے سارے کپڑے میں نے رضیہ کی بچیوں کو دے دینے ہیں!

”افف ہو اماں آپ تو غصہ ہی ہو گئی! وہ فوری سے پیندرہ بدل کر بولی آیا ان سے کوئی بعید نہیں تھی واقعی اس کے کپڑے کسی کو دے دیں“

چاۓ دو کپ بنانا رضیہ بھی آنے والی ہوگی! وہ گھڑی پر نظر دہراۓ بولی

کیوں میں کیا سوتیلی ہوں میں بھی چاۓ پیئوں گی اور لو آگئی تمہاری بیسٹ فرینڈ! رضیہ کو آتا دیکھ کر وہ بگڑے منہ سے بولی جس پر شمیم نے اسے آنکھیں دیکھائی تھیں

*******************

دوسری طرف سبز حویلی کا منظر تھا جہاں اس لمحے گھر کے سارے ملازم تیزی سے سارے کام نپٹا رہے تھے کان میں کھڑی الیانہ لیلی کو آج کے فنکشن کے حساب سے کچھ ہدایتیں دے رہی تھیں

ان پھولوں کو بھی دیکھو ان میں وہ جان نہیں رہی دھیان کہاں ہے تم سب کا آج کل؟ حازم نے اگر ان پھولوں کی یہ حالت دیکھ لی تو تمہیں چھوڑے گا نہیں! الیانہ سرد نگاہوں سے ملازم کو گھورتی ہوئی بولیں

سوری میم آئندہ خیال رکھوں گا!

”ہممم اور یہ گھانس اسے صحیح سے تراشوں آج کا فنکشن لان میں ہی رکھا جاۓ گا دھیان رکھنا ایسا کچھ نا ہو جس کو غصہ آۓ“ وہ پیچھلی بار کی پارٹی ذہن میں لاتی بولیں جب حازم نے ڈرنکس کم پڑنے پر دو دن ملازموں پر اپنا غصہ اتارا تھا

سب پرفیکٹ ہوگا میم! لیلی مؤدب انداز میں اسے تسلی دینے کو بولی

ہمم امید کرتی ہوں!

”اور تم میرے ساتھ آؤ کچن کے معاملات بھی دیکھ لیں پھر میں نے سلون جانا ہے….“ایک ادا سے کہتی وہ لیلی کے ہمراہ کچن کی طرف بڑھی تھی جہاں اس کی نظر ہال روم میں موجود ڈائنگ پر بیٹھے عالم خان پر گئی

گڈ مورنگ..آج آپ کو آپ کی بھابھی اور بھتیجی نے جوائن نہیں کیا؟ الیانہ طنزیا مگر میٹھے لہجے میں بولی

وہ آنے والی ہیں….لیکن آج آپ بہت تروتازہ معلوم ہو رہی ہیں! عالم خان مسکرا کر ان پر ایک طاہرانہ نظر ڈالتے کہنے لگے

آج آپ کا بھائی جو نہیں ہے!

اوہ گوڈ الیانہ… تم کبھی نارمل بیویوں کی طرح بیہوو نہیں کر سکتی؟

نہیں کیوں کہ میں یونیک ہوں! وہ مغرانہ انداز میں بولی اس سے پہلے عالم خان کچھ کہتے اس کی آواز سے وہ دونوں اس جانب متواجہ ہوۓ

یونیک پلس بیوٹیفل! حازم ان کے قریب آتا مسکرا کر بولا

آگیا ہے موم کا دیوانہ! عالم خان خفگی سے بولے

وہ تو آپ بھی ہیں ڈیڈ! حازم نے آنکھ ماری جس پر عالم خام سر جھٹک کر مسکرا دیے

مہمانوں کی لسٹ دیکھ لی تم نے؟ عالم خان نے حازم سے پوچھا

جی دیکھ لی اور کچھ ایکسٹرہ لوگوں کو ریموو بھی کر دیا ہے! وہ پلیٹ میں موجود انڈے کو کاٹنے سے تورتے ہوۓ بولا

ہمم لیکن میں نے کسی ایکسٹرہ بندے کو نہیں بلایا تھا! عالم خان پرسوچ سے بولے

”آپ کے نزدیک نہیں ہونگے میرے لیے ایکسٹرہ تھے تو کر دیا“ اسکا انداز نارمل تھا

ٹھیک ہے اور باقی اریجنمنٹ…

میں دیکھ لوں گا ڈیڈ!

گڈ! عالم خان نے اسکا کندھا تھپتھپایا جبھی ایرج اور آئمہ بیگم ڈائنگ تک آتے نظر آۓ اس کے بعد حائنہ اور عرین نے انہیں جوائن کیا تھا

حنان کہاں ہے؟

وہ فریش ہو رہا ہے میں نے اٹھا دیا تھا اسے! حائنہ مسکرا کر بتانے لگی جس پر وہ سر اثبات میں ہلا گیا

عرین بیٹے رات میں سوئی نہیں کیا آنکھیں سوجھی ہوئی لگ رہی ہیں؟ عالم خان کے کہنے پر حازم نے ایک نظر اٹھا کر اپنے سے دو چیئر چھوڑ کر بیٹھی اس لڑکی کو دیکھا اور پھر واپس ناشتے میں مصروف ہو گیا

وہ میں لیٹ نائٹ تک پڑھتی رہی! اسنے آدھا سچ بتایا تھا حلانکہ جاگنے کی وجہ تو سامنے ہی بیٹھی تھی جس کے خیال اس کی نیندیں اڑا چکے تھے

ہمم پڑھائی امپورٹنٹ ہے مگر صحت سے زیادہ نہیں! عالم خان کے کہنے سے پہلے ہی حازم بولا تھا کے اس کی بات پر عرین کا دل بے ترتیب دھڑکا آج کل اس کی نارمل باتیں بھی اسے عجیب سے احساس میں مبتلا کر دیتے تھے

ہاں بھئی عرین اپنا خیال رکھا کرو بھائی کو تمہاری بہت فکر رہتی ہے! حنان حازم کے گلے لگتا شریر لہجے میں بولا کے اس کی بات پر عرین کے گالوں پر سرخی سی چھائی تھی جب کے دوسری طرف الیانہ نے ذومعانی انداز میں ان دونوں کو دیکھا تھا حازم تو بنا کسی تاثرات کے ہنوز اپنے ناشتے میں مصروف رہا تھا مگر عرین کے گالوں ک سرخیاں الیانہ کو بہت سے معنی سمجھانے لگی تھی

چلیں میں اب کچن کی کچھ اریجنمنٹ دیکھ لوں پھر سلون جانا ہے اور ہاں حائنہ میں نے تمہیں ایک دوسرے سلون کی لوکیشن بھیجی ہے تم وہاں سے ریڈی ہو جانا! الیانہ اپنے مخصوص مغرورانہ انداز میں بولیں

ٹھیک ہے پھر میں عرین اور چاچی کو بھی اپنے ساتھ لے جاؤں گی! حائنہ ایکسائٹمنٹ سے کہنے لگی

نہیں بیٹا میں تو گھر میں ہی تیار ہو جاؤ گی!

ہاں اور میں بھی گھر میں ہی صحیح ریڈی ہو جاؤں گی! عرین جھجھک کر بولی

بلکل نہیں ہم سب کی تھیم ہے ہم سب آج ساڑھی پہنے گے اور تمہیں تو میک اپ کرنا آتا ہی نہیں تو کرو گی کیسے؟ ہم تینوں سلون سے ہی تیار ہونگے! حائنہ نے ٹھوس لہجے میں کہا

اچھا چلو جو کرنا ہو کر لینا بٹ میک شور ٹائم سے سب ریڈی ہو جائیں آج پرائم منسٹر اور ان کی فیملی سے بھی میٹنگ کرنی ہے لگنا چاہیے کے تم میری یعنی الیانہ عالم خان کی بیٹی ہو! الیانہ ادا سے کہتی اٹھ کر کچن کی جانب بڑھ گئی آج کی تھیم بلیک اور گولڈن کلر کی تھی

جبھی حازم کا فون رنگ ہوا جسے وہ آٹینڈ کرکے باہر نکل گیا اس کے جاتے ہی عرین کو اپنا دل بوجھا بوجھا سا لگا تھا جانے کیا کشش تھی جو اسے اپنے طرف کھینچے چلی جا رہی تھی اور ایک وہ ظالم تھا جسے اس کے ہونے نا ہونے سے فرق تک نہیں پڑتا تھا

***********************

دیکھیں اماں ٹھیک لگ رہی ہوں؟ وہ ان کے کہنے پر بلیک شیفون کی سمپل فراک جس کے باڈر پر گولڈن خوبصورت سی لوگڈن لیس لگی ہوئی تھی اس کے نیچھلے چوڑی دار پجامہ اور ہم رنگ کالا ڈوپٹا پہنے بالوں کو کھلے چھوڑ کر لائٹ سے میک اپ میں بہت پیاری لگ رہی تھی

”ماشاءاللہ میری بیٹی تو شہزادی لگ رہی ہے“ شمیم اس کی پیشانی چوم کر پیار سے بولیں وہ خود بھی ڈل گولڈن رنگ کا سمپل سا سوٹ پہنے ہوۓ تھیں

دیکھ لیں اماں آپ کے لیے جا رہی ہوں لیکن اگر اس عورت نے مجھ سے یا آپ سے بدتمیزی کی تو اچھا نہیں ہوگا! اس کے کہنے کی دیر تھی شمیم نے اسکا کان بری طرح مڑورا تھا

”پہلے تم تو تمیز سیکھ لو“

آہ اچھا سوری سوری! اسنے فوری سے اپنا کان ان کی گرفت سے نکال کر مسلنے لگی شمیم اسے ایسے دیکھ کر مسکرا کر رہے گئی تھیں یہی تو دنیا تھی ان کی ایک چھوٹی سی بیس سال کی لڑکی!

ہو گیا ہے میم! بیوٹیشن اسکے اتنے تنگ کرنے کے باواجود لپ اسٹک کا آخری ٹچ دیتی پیچھے ہوئی تھی کے خود کا عکس دیکھ کر حیران ہوئی تھی

آہ…..اس کی چیخ سے حائنہ فوری سے اپنی ساڑھی سنبھال کر اس کی جانب آئی

کیا ہوا عرین؟

یہ میرا فیس یہ تو میرا لگ ہی نہیں رہا….وہ اپنے چہرے پر ہاتھ لگاتی حیرانی سے بولی

کیا ہوگیا ہے عرین کیسی بات کر رہی ہو؟

ہاں یہ تو کوئی بہت ہی پیاری لڑکی لگ رہی ہے! وہ معصومیت سے کہتی سب کو ہنسنے پر مجبور کر گئی

ارے اتنا سچ تھوڑی بولنا ہے تم ویسے بھی بہت پیاری ہو یہ تو جسٹ تھوڑا سا ٹچ اپ کیا ہے! حائنہ سمجھانے والے انداز میں بولی جس پر وہ ایک نظر پھر سے شیشے میں دیکھ کر وہ خود بھی ہنس دی

You look stuning Girl:

حائنہ محبت سے بولی وہ بلیک سلک کی ساڑھی پر نیوڈ میک اپ کیے بادامی آنکھوں پر مسکارا لگاۓ اپنے گولڈن براؤن کندھے تک آتے بالوں کو لائٹ کرل کیے گلے میں بلیک چوکر پہنے سفید کلائیوں میں واچ پہنے پاؤں میں بلیک ہائی ہیل پہن کر نظر لگ جانے کی حد تک حسین لگ رہی تھی اس کے برعکس حائنہ گولڈن بلاؤز پر بلیک ساڑھی پہنے لائٹ میک اپ پر ڈارک لپ اسٹک لگاۓ خوبصورت لگ رہی تھی

تم بھی بہت پیاری لگ رہی ہو! جوابا عرین بھی محبت سے بولی جبھی حائنہ کا فون بجا

چلو حنان لینے آگیا ہے! اس کے کہنے پر وہ سر ہلاتی اس کے ساتھ گاڑی میں آکر بیٹھی تھی

ویسے یہ پالڑ والوں کا الگ سے حساب ہوگا! حنان دونوں کانوں پر ہاتھ رکھے تونہ کرنے کے انداز میں بولا

”چپ کرو نہیں تو تمہارا حساب ہم نے خود کر دینا ہے“ عرین اسے گھور کر بولی جس پر وہ قہقہ لگا گیا

ویری چالاک برو! حنان ستائشی انداز میں بولا جس پر وہ دونوں مسکرا دیں

****************

تقریبا دس منٹ بعد وہ لوگ سبز حویلی کے اندر داخل ہوۓ تھے لان میں داخل ہوتے ہی اتنے سارے لوگوں کو دیکھ کر وہ حیران ہو گئی تھی

اتنے سارے لوگ اماں؟ وہ حیرتذدہ سی بولی

ہاں بھائی صاحب ایلیکشن جیتے ہیں نا! شمیم اسے بتانے لگی جب الیانہ اس طرف آئی

ہاۓ شمیم گڈ ٹو سی یو! وہ ادا سے ان کے گلے لگتی بولی رعنین تو ان کی ڈریسنگ سے ہی حیران ہو گئی تھی وہ سیلوو لیس ساڑھی پر سنہری بالوں کو کھولے کہیں سے جوان بچوں کی ماں نہیں لگ رہی تھیں

اسلام و علیکم کیسی ہیں آپ؟

فائن…یہ رعنین ہے؟ الیانہ اب اس کی جانب متواجہ ہوئی

ہاں!

پیاری ہے کچھ پڑھائی وغیرہ کرتی ہو یا…..اس سے پہلے وہ مزید کچھ کہتی رعنین کی نظر الیانہ کے پیچھے آتے لڑکے پر گئی

تم؟ وہ حنان کو دیکھ کر حیرتذدہ سی بولی

آپ؟

تم دونوں ایک دوسرے کو جانتے ہو کیا؟ الیانہ نے تشویشی انداز میں پوچھا

یس موم یہ میری کلاس فیلو ہیں! حنان نے گویا ان پر دھماکہ کیا تھا ان کا بیٹا لاہور کی سب سے اعلی یونیورسٹی میں پڑھتا تھا اور رعنین کا یہاں پڑھنا اس کے لیے نا قابل برداشت تھا

آہم میں زرا مہمانوں کو دیکھ لوں! اس سے کہ کر وہ حنان کا بازو پکڑے آگے نکل گئی

دیکھا کیسے طوطے اڑ گئے تھے آپ کی اس مغرور بہن کے! رعنین فخریہ انداز میں بولی

چپ کر جاؤ یہ غرور خدا کو نہیں پسند! شمیم نے اسے ڈانٹا

میں غرور نہیں فخر کر رہی ہوں!

ایک ہی بات ہے تمہیں دل میں ان کا ایسا چہرہ دیکھ کر خوشی ہو رہی ہے! وہ دونوں بحث میں مصروف تھیں جب حائنہ ان سے ٹکرائی

آئی ایم سوری! وہ اندر آنے کی جلدی میں ان سے ٹکرائی تھی

اٹس اوکے بیٹا….تم حائنہ ہو نا؟ شمیم نے نرمی سے پوچھا

جی لیکن آپ…..آپ شمیم خالہ ہیں؟ وہ حیرانی سے پوچھنے لگی جس پر شمیم نے اثبات میں سر ہلایا

اور یہ رعنین؟ اوہ ماۓ گوڈ تم تو بہت پیاری ہو گئی ہو! حائنہ اسکے گلے لگتی بولی جبکہ اس کے اخلاق سے رعنین بھی خوشی سے اس سے ملی تھی

عرین یہ دیکھو یہ میری خالہ ہیں اور ان کی بیٹی! اس کے کہنے پر عرین اس کی طرف آئی اور سامنے موجود لڑکی کو دیکھ کر ٹھنکی

آپ؟

ہمم میں ہی ہوں وہ آفت جو کہیں بھی پہنچ جاتی ہے ویل نائس ٹو میٹ یو! رعنین نے اسکے آگے ہاتھ بڑھایا جسے وہ گرم جوشی سے تھام گئی

عرین میم حائنہ میم آپ کو مس الیانہ بلا رہی ہیں! لیلی نے آکر انہیں انفارم کیا

چلو عرین ہم ویسے ہی لیٹ ہیں…میں آپ سے ملتی ہوں خالہ!

******************

فنکشن شروع ہو چکا تھا پورے لان کو ڈسکو لائٹس سے سجایا گیا تھا حازم ابھی ابھی کورٹ سے واپس آیا تھا جس کی وجہ سے اسے سب کو جوائن کرنے میں کچھ دیر ہو گئی تھی

وہ بلیک ڈریس کورٹ میں بالوں کو جیل سے سیٹ کیے بڑیندڈ واچ پہن کر نیچھے آتا پر کسی کی تواجہ کا مرکز بنا تھا

یہ آگیا حازم….! عالم خان اسے دیکھ کر سب سے ملانے لگے تھے وہ بھی سب سے جوش اخلاقی سے مل رہا تھا جب حائنہ اسکے پاس آئی

دیکھیں بھائی میں کیسی لگ رہی ہوں؟

بیوٹیفل! وہ مسکرا کر بولا

اور عرین کیسی لگ رہی ہے؟ اس کے کہنے پر اسنے حائنہ کے ساتھ کھڑی عرین کو دیکھا جسے دیکھ کر اس کی نظر ٹہر سی گئی تھی وہ شاید پہلی بار تیار ہوئی تھی جبھی اتنی خوبصورت لگ رہی تھی پھر کچھ خیال آنے پر فوری سے اپنی نظر ہٹا گیا

میں پہلے ڈیڈ کی بات سن لوں! مسکرا کر کہتا وہ واک اوٹ کر گیا کے اس کا یہ انداز عرین کے دل کو برے طریقے سے زخمی کر گیا تھا وہ انجانے میں اس کی تعریف کی منتظر تھی

مجھے بھی موم بلا رہی ہیں شاید! اپنی تزلیل سے سرخ پڑتے چہرے کو چھپاتی وہ تیزی سے اندر کی طرف بڑھی حائنہ اسکے تاثرات نوٹ کیے بغیر رعنین کے پاس چلی گئی تھی

اسکا دل بری طرح سے دھڑک رہا تھا یہ احساس اسے کیوں ہو رہا تھا وہ سمجھ نہیں سکی تھی آنکھوں سے آنسو جیسے جھلکنے کو تیار تھے ایسے ہی تیزی سے چلتے ہوۓ اچانک اس کا ٹکراؤ سامنے کھڑے وجود سے ہوا کے اچانک سے لائٹ اوف ہوئی تھیں اور ڈسکو لائٹس اون ہوئی تھیں

دیکھ کر نہیں چل سکتی تم! حازم نے سرد لہجے میں کہا کے اسے اپنے سامنے ہنوز اسی سرد پن میں دیکھ کر اسکا ضبط ٹوٹ چکا تھا چند موتی ٹوٹ کر پلکوں سے آزاد ہوۓ تھے

سوری! بھرے ہوۓ لہجے میں کہتی وہ آگے بڑھنے لگی جب حازم کی نظر اس کے بلاؤز کی زپ پر گئی وہ ساڑھی میں ہونے کے بواجود پوری طرح سے کوورڈ تھی مگر اس کی زپ کھلی دیکھ کر حازم کا پارا ہائی ہوا

اسنے نظر گھوما کر پیچھے دیکھا جہاں کچھ ویٹرز للچائی ہوئی نظروں سے اس کے حسن کو دیکھ رہے تھے

بے حد ضبط کی حالت میں اسنے عرین کا بازو پکڑ کر اسکی پشت کو خود سے لگایا کے اس اچانک اتفاد پر عرین بھکلا کر رہے گئی

یہ یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟ وہ اپنی بے ترتیب ہوتی دھڑکنوں کو سنبھالتی اس کے ہاتھ جھٹکنے کی کوشش کرنی لگی جب اسے اپنی کمر پر سنسناتا ہوا ہاتھ محسوس ہوا

چھوڑیں مجھے! اب کی بار وہ پوری قوت سے اس سے الگ ہوئی تھی کے اس کی یہ حرکت حازم کو تیش دلا گئی تھی

آپ جب میری تعریف نہیں کر سکتے تو آپ کو مجھے ٹچ کرنے کا بھی کوئی حق نہیں ہے! وہ غصے اور شرم سے سرخ ہوتی بولی کے حازم نے ایک بار پھر اسکا بازو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا

لسن عرین خان مجھے کوئی شوق نہیں ہے تمہارے قریب آنے کا مگر میری غیرت یہ گوارا نہیں کرتی کے کوئی میری عزت کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھے! سرد لہجے میں اس کی آنکھوں میں دیکھتا وہ ایک ہی جھٹکے میں اس کی زپ بن کرتا اسے چھوڑ گیا