Mehram-e-Raaz by Syeda Shah Readelle 50389 Mehram-e-Raaz Episode 20
Rate this Novel
Mehram-e-Raaz Episode 20
Mehram-e-Raaz by Syeda Shah
کم ہیئر…..اب کے اس کی ڈھار پر وہ کٹی ڈوریوں کی طرح اس کے قریب آئی
ججی…!
”اس پر سائن کرو“ اسکے سامنے آتے ہی حازم نے اس کے سامنے ایک فائل پھینکی
ممگرر یہ ککیا ہے؟ وہ اب اس کے اشارے پر صوفے کی خالی جگہ پر اس سے کچھ فاصلے پر بیٹھ گئی
تمہاری محبت کی گواہی…اگر مجھ سے محبت کرتی ہو تو اس پر سائن کرو! اس کی بات پر عرین کے فائل کو کھولتے ہوۓ ہاتھ تھمے
کیا سوچ رہی ہو؟ کافی لمحے اسے ایسے ہی خاموش بیٹھے دیکھ کر وہ اس کے کان کے قریب لب لاتے ہوۓ بولا کے اس اچانک اتفاد پر عرین کرنٹ کھا کر ہوش میں آئی
اسنے بے اختیار اپنی نظریں حازم کی طرف کیں..دونوں کی نظریں ملیں
تو کیا اس سے پہلے آپ کو میری محبت پر یقین نہیں تھا؟ وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ بول رہی تھی
میں ایک پریکٹیکل آدمی ہوں مجھے…میں کسی بھی چیز پر ایسے ہی ہقین نہیں رکھتا!
ٹھیک ہے اگر ایک کاغذ کا ٹکرا میری محبت کی گواہی دے سکتا ہے تو ٹھیک ہے…! اور اگلے ہی لمحے وہ کچھ بھی دیکھے بغیر سائن کے خانے میں اپنے سائن کر گئی کے اپنی اس حرکت پر وہ حازم کو دھنگ کر گئی
اندر کیا لکھا ہے پڑھ تو لیتی! وہ کہ بغیر نا رہے سکا
آپ کو محبت پر یقین نا ہو لیکن مجھے آپ پر پورا یقین ہے! وہ اس کی آنکھوں میں جھانک کر کہتی اس لمحے اپنی ہر ادا سے اس کے لیے مشکل بنی ہوئی تھی
اب مجھ سے اور امتحان نا مانگیے گا! اس سے کہ کر وہ اٹھ کر ڈریسنگ کی طرف بڑھی جہاں حازم کا فرسٹ ٹیڈ بوکس تھا عرین کو اس کی حالت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی تھی
ڈریسنگ پر آکر وہ فرسٹ ایڈ بوکس پر جھکی اس کے لیے کوئی میڈیسن دھونڈ رہی تھی جب اسے اپنی پشت پر کسی کا سنسناتا ہوا ہاتھ محسوس ہوا اس کی خوشبو کا احساس پاتے ہی وہ بے ساختہ اپنی آنکھیں میچ گئی
ییہ کککیا ککر رہے ہیں آپ!
تم نے اپنی محبت کی گواہی تو دے دی ہے تو پھر اس رشتے کا آغاز بھی ہو جانا چاہیے! وہ گھمبیر لہجے میں کہتا اس کے کندھے پر اپنی تھوڈی جما گیا
میں نے اپنی محبت کی گواہی دی ہے آپ نے نہیں! وہ آستہ سے اس کا سر اپنی تھوڈی سے ہٹا کر اس کی طرف رخ کر گئی
تو کیا چاہتی ہو؟
آپ کی محبت!
وہ میرے بس میں نہیں ہے!
اوکے! اس کے صاف انداز میں کہنے پر وہ منہ بناتی آگے بڑھنے لگی جب حازم اسکا ہاتھ تھام کر ایک جھٹکے سے اسے قریب کرتا اس کے گرد ایک ہاتھ کا حصار قائم کر گیا
وہ اب اس کی گرفت میں تھی
آئندہ مجھ سے منہ مت پھیرنا چھوٹی لڑکی! وہ اس کے کان کے قریب لب لاۓ شدت سے بولا
آآآپپپپ ٹٹھیک نننہیں ہے! اس کی قریب میں وہ بے ترتیب ہوتی دھڑکنوں سے نظریں جھکاۓ بولی
تم نے ٹھیک رہنے کب دیا ہے؟ گھمبیر لہجے میں کہتا اسکے چہرے پر آئی کچھ لٹیں نرمی سے کان کے پیچھے کر گیا
حححازمم….اس کی گرفت میں بے چین ہوکر وہ آج پہلی بار اسکا نام یوں لے گئی تھی جب کے اس کے منہ سے پہلی بار اپنا نام سن کر حازم بے ساختہ مسکرایا پہلی بار اسے اپنا نام الگ سا لگا تھا
You are driving me crazy baby girl!
خمار آلود لہجے میں کہتا وہ مزید اسے کچھ سمجھنے کا موقع دیے بغیر اس کی پیشانی پر جھک کر اپنی محبت کی پہلی مہر چھوڑ گیا کے اس پر لمس پر عرین نے کرنٹ کھا کر دور ہونا چاہ مگر حازم کی مضبوط گرفت اس کی کوشش کو ناکام بنا گئی
حازم نے غور سے اسکا چہرہ پڑھنا چاہ تھا نشہ اس وقت اس کے سر پر پوری طرح سے سوار ہو گیا تھا ایسے میں وہ اس وقت اس کے لیے مزید مشکل بنی کھڑی تھی
کیا سوچ رہی ہو؟ تمہیں کوئی پروبلم ہے تو جا سکتی ہو! بے حد ضبط کی حالت میں وہ اس سے کچھ فاصلہ قائم کرتا نرمی سے بولا تھا کے اس کی بات پر عرین نے بے اختیار اسے دیکھا کافی لمحے وہ اسے دیکھتی رہی اور پھر کچھ قدم چل کر پھر سے اس کے قریب آئی
آپ مجھے کبھی چھوڑ کر تو نہیں جائیں گے نا؟ وہ اس کے قریب آتی اس کے سینے پر سر رکھتے ہوۓ بولی اس کی حرکت پر حازم نے مسکرا کر اس کے گرد اپنا حصار قائم کیا
کوشش کروں گا تمہیں کبھی مجھ سے تکلیف نا پہنچے! وہ محبت پاش لہجے میں اس کے بال سہلاتے ہوۓ بولا جس پر عرین نے سر اٹھا کر اس کی آنکھوں میں دیکھا آیا یقین کرنا چاہ رہی ہو
کر لو یقین!حازم نے اس کی آنکھوں میں موجود سوال دیکھ کر کہا
یقین ہے مجھے!
*********************
موم بھائی کہاں رہے گئے؟
بیٹا وہ اس کی طبیت کچھ ٹھیک نہیں تھی میں نے میڈیسن دے کر بھیجا ہے!
کیا ہوا انہیں؟ میں دیکھتا ہوں! اسے جاتا دیکھ کر الیانہ نے اسکا بازو تھاما
بھائی کی طبیت خراب ہے تم جانتے ہو وہ غصہ ہو جاۓ گا! الیانہ نے تمبیہ کی
لیکن آپ کو پتا ہے میں ان کے بغیر کیک نہیں کاٹوں گا! حنان ضدی انداز میں بولا
حنان سین کری ایٹ مت کرو… حازم کی غیر موجودگی سے تمہارے ڈیڈ بھی اپ سیٹ ہونگے اور یہ بات میڈیا مین غلط طریقے سے پھیلائی جاۓ گی ٹراۓ ٹو انڈر اسٹینڈ میری جان!
لیکن یہاں تو عرین بھی نہیں ہے! حنان منہ بسور کر بولا
وہ یہی کہیں ہوگی شاید ایرج کے پاس ہو تم کیک کٹ کرو میں بلاتی ہوں اسے! الیانہ اسے ٹال کر مہمانوں میں مصروف ہو گئیں
یار یہ عرین کہاں چلی گئی؟ علینہ ادرگرد دیکھتے ہوۓ رعنین سے بولی
یہی کہیں ہوگی تمہیں کیوں اتنی فکر ہو رہی ہے؟
میں تو بور ہو رہی ہوں اور یہ تم کیوں عرین کے پیچھے پڑ گئی ہو؟ علینہ خفگی سے بولی
تم جانتی تو ہو!
اسئلے ہی پوچھ رہی ہوں جو کچھ بھی ہوا اس میں عرین کا کیا قصور ہے؟ تم خود ہی کہتی ہو تم نے جب پہلی بار حازم خان کو دیکھا تھا وہ ایسے ہی غصے میں تھے ان کی نیچر کی سزا تم عرین کو کیوں دے رہی ہو؟ علینہ ہنوز خفگی سے بولی
کیوں کہ عرین ہی وجہ بنی تھی!
نہیں وجہ عرین نہیں بنی تم مانو یا نا مانو المان کو اسکا ہاتھ پکڑنا ہی نہیں چاہیے تھا!
انفف تم اب حد کراس کر رہی ہو! اس کی بات پر رعنین آگ بغولہ ہوتے ہوۓ بولا
اوکے فائن تم کرو جو کرنا ہے تم پر تو واقعی محبت کا بھوت سوار ہو گیا ہے کل کے آۓ لڑکے کے لیے تم مجھ سے الجھ رہی ہو مجھے میری حد بتا رہی ہو؟ علینہ افسوس سے کہتی آگے بڑھ گئی جب کہ وہ محض اپنا سر جھٹک کر رہے گئی تھی
*********************
اپنے معمول کے مطابق صبح چھ بجے کے قریب اس کی آنکھ کھولی تھی سر ابھی بھی رات کی طرح ہی بھاری تھا مگر اب وہ ہوش میں آتے ہوۓ رات کا منظر یاد کرنے لگا جب اچانک اسے اپنے بازو پر نرمی کا احساس ہوا اور اگلے ہی لمحے وہ اپنی جگہ ساکت ہو گیا
وہ اس کی شرٹ میں موجود اس کے پہلو میں لیٹی اسے ساری بات سمجھا گئی تھی
ڈیم اٹ! وہ بے ساختہ اپنے بالوں کو ہاتھوں میں جکڑ گیا
یہ مجھ سے کیا ہو گیا..! اس کا دماغ جیسے ماؤف ہو گیا تھا جب وہ نیند میں ہی اس کے مزید ہوتی اس کا بازو تھام گئی حازم نے غور سے اسے دیکھا وہ اس کی وائٹ شرٹ میں بکھرے ہوۓ بالوں میں اس کی محبت کے رنگ لیے سوتی ہوئی بلاشہ بے حد خوبصورت لگ رہی تھی
تم نے مجھے روکا کیوں نہیں….ہم دونوں کی منزلیں الگ ہیں! وہ اس کا گال سہلاتا اس کی لٹوں کو پیچھے کرتے ہوۓ بولا اسے اس لمحے خود پر بے حد غصہ آرہا تھا
سوچوں کا تسلسل اچانک بجنے والے فون نے توڑا جس سے وہ ہوش میں آتا سائد ٹیبل سے اپنا موبائیل اٹھا کر کان سے لگا گیا
ہاں بولو حمزہ….! اور دوسری طرف کی بات سن کر اسکے پیروں تلے سے زمین نکل گئی تھی اگلے ہی لمحے وہ تیزی سے واشروم کی طرف بھاگا
کچھ دیر میں ہی وہ فریش سا بلیک پنٹ کورٹ پہنے باہر آیا کے نظر ڈریسنگ پر رکھی فائل پر گئی لمحہ لگا تھا اسے سب سمجھنے میں
آئی ایم سوری عرین! اس کے سوتے ہوۓ وجود سے کہ کر وہ شیشے پر رکھی ریڈ فائیل اٹھا کر باہر نکل گیا
*********************
خود پر پڑتی روشنی سے وہ بامشکل اپنی آنکھیں کھول پائی تھی
آستہ آستہ ہوش میں آنے پر اسے کل کا منظر یاد آنے لگا ایک شرمیلی سی مسکراہٹ نے اس کے ہونٹوں کا احاطہ کیا تھا اسنے نظر گھوما کر اسے تلاش کرنا چاہا
وہ ڈرتے ڈرتے اٹھ کر واشروم کی طرف دیکھنے لگی وہ وہاں بھی نہیں تھا گھڑی ابھی صرف ساڑھے ساتھ بجا رہی تھی اس وقت تو اسے یہی ہونا چاہیے تھا
اسکا دل جیسا بجھ سا گیا تھا آج کا دن تو کم از کم اسے اس کے ساتھ گزارنا چاہیے تھا منہ بنا کر سوچتی وہ سب کے اٹھنے سے پہلے ہی اس کے روم سے نکل گئی
وہ طریقے سے چھپ کر اس کے روم سے نکل کر اپنے کمرے میں بڑھ گئی مگر الیانہ کی نظروں سے بچ نہیں سکی تھی وہ جو کسی میٹنگ کی وجہ سے جلدی اٹھی تھی اسے حازم کے کمرے سے نکلتے دیکھ کر معانی خیزی سے مسکرائی
بیواقوف لڑکی! وہ اسے حازم کی شرٹ میں ہی اسکے روم سے نکلتے دیکھ کر ذومعانی انداز کہتی سر جھٹک گئی
جب کہ وہ اپنے کمرے میں آتے ہی گہرا سانس بھرے شیشے کے سامنے آئی جب اس کی نظر اپبی شرٹ پر گئی
شٹ! بے ساختہ اسنے اپنی زبان دانتوں تلے دبائی
کسی نے دیکھا نا ہو پلزز اللہ میاں پلزز! وہ دل میں کہتی اس کی شرٹ کو مضبوطی سے پکڑ کر اسکی خوشبو خود میں محسوس کرتی شرمیلی مسکراہٹ کے ساتھ کہتی گھوم کر بیڈ پر گری تھی اسکا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا
وہ خوش تھی بہت خوش….
آئی لیوو یو حازم خان! وہ پھر سے ان لمحوں میں کھو سی گئی تھی اسنے آج پہلی بار یہ لفظ ادا کیے تھے یا شاید آخری بار!
***********************
کسی سے زور سے دروازہ کھٹکانے پر وہ ہڑبڑا کر اٹھا
کیا ہو گیا ہے؟ دروازہ کھولتے ہی وہ چلایا
سوری سر…بٹ ملک صاحب آپ کو بلا رہے ہیں! سامنے کھڑا ملازم مودب انداز میں بولا
انہیں کیا ہو گیا ہے؟ جو صبح صبح بلا رہے ہیں! المان خاصا بدمزہ ہوکر اسی حولیے میں نیچھے آیا جہاں انور ملک اور زہرہ ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھے اسی کا انتظار کر رہے تھے
جی ڈیڈ؟
کہاں تھے تم کل رات؟ انور ملک ڈھارے
وہ….
خانی کی بیٹی کا ریپ تم نے ہی کیا ہے نا؟اور خانی کے مڈر میں بھی تمہارا ہی ہاتھ ہے نا؟ انور ملک بری طرح سے ڈھارتے ہوۓ کرسی سے اٹھے تھے
وہ مان ہی نہیں رہا تھا ڈیڈ! المان بالوں میں ہاتھ پھیڑے عام سے انداز میں بولا
اسکا سکون دیکھ رہی ہو تم؟ انور ملک اب زہرہ سے مخاطب ہوۓ جو نظریں جھکاۓ بیٹھی تھیں
کم اون ڈیڈ آپ اور ری ایکٹ… باقی کے الفاظ مکمل ہونے سے پہلے ہی انوع ملک نے ایک زوردار تھپر اسے رسید کیا
میں جتنا تمہارا پھیلایا ہوا سمیٹ رہا ہوں تم میرے لیے مزید مشکل کرتے جا رہے ہو تم جانتے ہو اب حازم خان کیا کرے گا؟انور ملک اسکا گریبان تھامے چلاۓ
اور یہ رعنین حیدر سے کیا تعلق ہے تمہارا؟ ان کی بات پر المان نے حلق تر کیا
پپسند ہے مممجھے وہ شادی کرنا چاہتا….
شٹ اپ! ایک معمولی سی لڑکی کو تم میری بہو بناؤ گے؟ اب کی بار زپرہ غرائی تھیں
بٹ میں اسے واقعی چاہتا ہوں ڈیڈ!
ٹھیک ہے چاہتے ہو نا تم اسے؟ تو ثابت کرو….اس لڑکی کو اپناؤ اور اس گھر سے نکل جاؤ! انور ملک کی شرط پر اس کی چلتی ہوۓ زبان کو جیسے بریک لگی
پر ڈیڈ!
یہی تمہارا امتحان ہے دو دن کا وقت دیتا ہوں سوچ سمجھ کر جواب دے دینا…اس سے کہ کر وہ پھر سے ناشتے کی ٹیبل پر جاکر ناشتے میں مصروف ہو گئے
