Laa By Fatima Noor Readelle50338 Laa (Episode 9)
Rate this Novel
Laa (Episode 9)
Laa By Fatima Noor
لاؤنج میں بیٹھے سامنے ڈھیروں فائلز رکھے ، بالوں کو کیچر میں باندھے وہ مصروف اور تھکی ہوئ سی لگ رہی تھی
” اس ہفتے کی رپورٹ بھی بھیج دو “
دانیال کو میسج کرتے اس نے ایک بار پھر فائلز دیکھیں ، بابا کی پچھلی ساری رپورٹس جو وہ اپنے ساتھ لائ تھی اور جو دانیال نے تصاویر بنا کر بھیجی تھیں ، وہ کل پرسوں تک جاکر کسی اچھے ڈاکٹر کو رپورٹس دکھائے گی ، اگر ہو سکا تو وہ بابا کو یہاں لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی ، اپنے باپ کے لئے اسے جو کرنا پڑا کرے گی
” سو جاؤ معطر۔۔۔۔”
بانو آپا غالباً پانی لینے کے لئے آئ تھیں تو اسے وہیں بیٹھے دیکھ حیران ہوئیں ، چہرے پر کچھ سرخی تھی ،انہیں بخار تھا
” رپورٹس دیکھ رہی تھی بس “
وہ فائل سمیٹنے لگی ، بانو آپا وہیں تھک کر صوفے پر لیٹ گئیں
” کیسی طبعیت ہے اب تمہارے بابا کی ؟”
” جیسی پہلے تھی “
وہ کچھ لمحے اسے دیکھتی رہیں ، سادہ چہرے والی تھکی تھکی سی معطر ، وہ پورا دن گھن چکر بنی رہتی تھی ، کیفے ، اسٹور ، پھر وہاں سے رات تک واپسی ، گھر آکر ان کی مدد ، چند گھنٹوں کی نیند اور پھر وہی روٹین
” کچھ دن کی چھٹی لے لو “
وہ اٹھتے اٹھتے بیٹھ گئ
” کس لئے ؟”
” آرام کرلو ، ازلنگٹن گھوم لو “
” آرام کا وقت نہیں ہے اور ازلنگٹن گھومنے میں دلچسپی نہیں ہے”
وہ مسکرائ
” گھومنے پھرنے کا کسے شوق نہیں ہوتا؟”
” میرے جیسے لوگوں کو “
” ازلنگٹن کی گلیوں میں چلتے ہوئے ہو جائے گا ، میں تمہیں اس سنڈے کیمڈن پیسیج لے جاؤں گی “
” میں وہاں گئ تھی سنان کے ساتھ “
وہ بے اختیار بولی پھر چپ ہوگئ ، بانو آپا صوفے پر لیٹی رخ موڑے اسے دیکھ رہی تھیں
،” وہ جو تمہیں گھر چھوڑنے آیا تھا وہی ؟”
” آپ کو کیسے معلوم ؟”
” تمہیں لگتا ہے میں تمہارے آنے تک سو جاتی ہوں ؟ جب تک تم آ نا جاؤ نیند کہاں آتی ہے “
” اس دن راستے میں کچھ لوگ مل گئے تھے ، میں ڈر گئ تھی تو اسے بلا لیا “
اس نے یوں ہی وضاحت دی ، بانو آپا نے رخ موڑ لیا ، ان کا چہرہ نحیف لگتا تھا
” تمہیں یقین ہے کہ وہ بھروسے کے قابل ہے ؟”
” کم از کم یہاں ازلنگٹن میں ہے “
” کوئ مرد دنیا کے کسی کونے میں بھی بھروسے کے قابل نہیں ہوتا معطر “
ان کی نگاہیں چھت پر تھیں
” چند مرد ہوتے ہیں ۔۔شاید سنان ان چند مردوں میں سے ہو “
” تم اسے پسند کرتی ہو ؟”
” ہرگز نہیں ۔۔۔۔” وہ تیزی سے بولی ” وہ صرف میرا محسن ہے “
” اور وہ ؟ کیا وہ تمہیں پسند کرتا ہے ؟”
” وہ صرف میری مدد کردیتا ہے کیونکہ وہ ایک اچھا انسان ہے “
” یہ احسان کی کون سی قسم ہے کہ وہ ازلنگٹن کے ہزاروں لوگوں کو چھوڑ کر صرف تمہارے لئے جاب ڈھونڈتا ہے ، صرف تمہیں چوڑیاں دیتا ہے ، صرف تمہارے لئے آدھی رات کو آجاتا ہے ؟”
لمحے بھر کو وہ بالکل چپ رہ گئ پھر گویا وضاحت دینی چاہی
” وہ ہر کسی کے ساتھ اچھا ہے بانو آپا ، اور میرے ساتھ زیادہ اچھا اس لئے ہے کیونکہ میں اس کے ملک سے ہوں “
بانو آپا اب کے بہت زیادہ دیر خاموش رہیں ، انہیں کل سے موسمی بخار ہورہا تھا ، معطر کو یوں ہی ان پر ترس سا آیا
” آپ کا یہاں کوئ رشتے دار نہیں ہے ؟”
“ازلنگٹن میں نہیں ہے اور اب تو شاید پوری دنیا میں میرا کوئ نہیں بچا “
آنکھیں بند کرتے وہ دھیمے لہجے میں بولیں
” ایسے کیوں کہہ رہی ہیں ؟”
اسے دکھ ہوا
” سچ کہہ رہی ہوں ، سب کو خود ہی چھوڑ آئ تھی معطر ، پھر سب نے بھی مجھے چھوڑ دیا “
وہ کچھ دیر خاموشی سے انہیں دیکھتی رہی
” آپ کی اپنے شوہر کے ساتھ محبت کی شادی تھی نا ؟”
جواب نہیں آیا ، اسے لگا شاید وہ سو چکیں ہیں ، سر جھٹکتے اس نے باقی ماندہ کاغذ سمیٹنے شروع کئے جب سامنے والے صوفے سے آواز ابھری
” میری طرف سے تو محبت کی ہی تھی ،جانے اس کی طرف سے تھی یا نہیں “
اس کا سر دھیرے سے اٹھا
” کیا مطلب ؟”
” وہ ہمارے گاؤں گھومنے آیا تھا ، اونچا خوبصورت مرد ، مجھ سے محبت ہوگئ ، کہتا تو یہی تھا ، شاید ہوئ بھی ہوگی ، مجھے بھی ہوگئ ، گھر والے راضی نہیں تھے ،ہم نے سوچا بھاگ جاتے ہیں ، اب سوچتی ہوں غلط سوچا تھا ، جاوید اچھا شوہر تھا ، لیکن اچھا مرد نہیں تھا ، ہماری اولاد نہیں ہوئ تو میں نے سوچا بچہ اڈاپٹ کرلیتے ہیں “….وہ مدھم سا بول رہی تھیں ،کچھ تھکن سے ، معطر دم سادھے انہیں سن رہی تھی ” جاوید سے کہا تو جانتی ہو اس نے کیا کہا ؟ “
اس کا سر بے ساختہ نفی میں ہلا ، وہ اگلے کئ لمحے خاموش رہیں پھر بولیں تو آواز میں کرب گھل گیا
” اس نے کہا میں روز شکر ادا کرتا ہوں کہ ہماری اولاد نہیں ہوئ ۔۔۔ میں نے پوچھا کیوں تو اس نے کہا ، اگر بیٹی ہوگئ تو ؟ اگر وہ بھی کسی دن گھر سے بھاگ گئ تو ؟ اس نے دو جملوں میں مجھے زندہ زمین میں گاڑھ دیا، اس نے دو جملوں میں مجھے میری اوقات دکھا دی ، صرف دو جملے معطر “
معطر کی نظر ان کے گال پر گئ ، وہ رو رہی تھیں ،وہ کچھ بے چینی سے ان کے صوفے تک آئ
” بانو آپا۔۔۔۔۔”
” وہ محبت کرتا تھا، عزت نہیں کرتا تھا ، میں سمجھتی رہی وہ عزت بھی کرتا ہے ، میں زندگی کو غلط سمجھتی رہی ، دیکھو اب میں اکیلی ہوں ، کوئ پاس نہیں ہے ، کسی دن میں اس گھر میں تنہا مر جاؤں گی ، کسی کو علم نہیں ہوگا ، کوئ میرا جنازہ نہیں پڑھے گا ، کوئ میرے لئے نہیں روئے گا ، میں نے گھر سے بھاگ کر جو عزت کھوئ تھی وہ عزت کبھی مجھے واپس نہیں ملی “
ان کی آواز دھیمی ہوگئ ۔ کرب زدہ
” کوئ مرد بھروسے کے قابل نہیں ہوتا ، جاوید پر بھی نہیں کرنا چاہئے تھا ، مجھے اپنے ماں باپ کے گھر سے قدم نہیں نکالنے چاہئے تھے ، غلطی ہوگئ ، وہ مجھے طعنے مارتا رہا ، بری عورت کہتا رہا ، جو گھر سے بھگا کر لایا تھا تو دنیا میں تنہا چھوڑ کر مر گیا ، اسے مرنا نہیں چاہئے تھا ، میں ساری زندگی اس کے طعنے برداشت کرلیتی ، لیکن اسے مرنا نہیں چاہئے تھا ،کوئ تو اپنا ہوتا نا ، اب کوئ نہیں ہے ، اب میں اکیلی ہوں “
آواز بڑبڑاہٹ میں بدل گئ ، پھر وہ بڑبڑاہٹ آہستہ آہستہ ہوتی ختم ہوگئ ، ان کا چہرہ پرسکون ہوتا گیا وہ دکھ سے انہیں دیکھتی رہی ، نیچے ڈھلکا ان کا ہاتھ تھام کر درست کیا ، پھر پیچھے پڑی رپورٹس کو دیکھا
زندگی ہر کسی کے سفید پھول نہیں تھی !
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
دوائ دیتے ہوئے اس نے ایک بار پھر ان کا ٹمپریچر چیک کیا
” آپ آرام کیجئے گا ، میں اسٹور سے چھٹی کرلوں گی “
” ٹھیک ہوں میں معطر، میرے پیچھے اپنا دن مت برباد کرو”
بمشکل کھولی آنکھوں اور بھاری ہوتی زکام زدہ آواز سے انہوں نے منع کردیا
” آپ اگر مجھے یقین دلائیں کہ میرے پیچھے گھر کے کام اور آرڈرز کی تیاری نہیں کریں گی تو میں چھٹی نہیں کرتی “
” میری ماں مت بنو “
وہ جھنجھلائیں
” بیٹی صحیح ۔۔۔۔”
نرمی سے کاندھے اچکاتے اس نے اپنا پرس اٹھایا
” رقم لیتی جانا دراز سے “
” لے لی تھی ، آپ آرام کیجئے گا “
اسے دیر ہورہی تھی سو جلدی جلدی باہر بڑھ گئ ، لمبے کوٹ کی جیب میں رقم کا لفافہ رکھا تھا وہ بیگ میں ڈالا
بانو آپا لندن میں قائم ایک ٹرسٹ کو ہر ماہ رقم دیا کرتی تھیں ، وہ نہیں جانتی تھی کہ کس چیز کا ٹرسٹ تھا ، اس مرتبہ وہ خود نہیں جاسکتی تھیں تو اسے رقم دے دی کہ جمع کرواتی آئے ، وہ جگہ کیفے کے راستے میں پڑتی تھی سو اسے پہلے رقم جمع کروانی تھی پھر آگے جانا تھا
ازلنگٹن میں صبح صبح کی ہنگامہ خیزی تھی ، وہ ٹیوب سے قریبی اسٹیشن پر اتر گئ ، علاقہ کچھ رہائشی تھا ، کشادہ سڑک ، گھروں کے آگے درخت لگے تھے ، وہ ایک سیاہ دروازے کے سامنے رک گئ ، سامنے صحن تھا ، پھر دروازہ ، دروازہ کھلا تھا تو بجائے باہر رہنے کی وہ اندر چلی گئ ، اندر چھوٹا سا آفس بنا رکھا تھا ، کاؤنٹر پر سیاہ حجاب پہنے خاتون بیٹھی تھیں
” السلام علیکم, مجھے چیریٹی کے لئے رقم جمع کروانی ہے “
” وعلیکم السلام ، دن خیریت سے گزرے ، کس چیز کے فنڈ کے لئے ؟”
نرمی سے مسکراتے ہوئے پوچھا تو وہ لمحہ بھر کو چپ ہوگئ ، بانو آپا نے نہیں بتایا تھا کہ کس فنڈ میں جمع کروانی ہے ، بس رقم جمع کروانے کا کہہ دیا تھا
” میں بانو بیگم کی طرف سے آئ ہوں ، ان کی رقم جمع کروانی تھی “
بہترین جواب یہی لگا ، وہ عرصے سے رقم جمع کروا رہی تھیں تو شاید وہ لوگ جانتے ہوں
” اوہ ۔۔۔۔ وہ خود نہیں آئیں ؟”
اندازہ ٹھیک تھا
” ان کی طبیعت خراب ہے”
” شفا ملے ، آپ ایسا کریں یہ سامنے والے دروازے کے پار آفس ہے وہاں چلی جائیں ، وہاں ان کا نام لے کر فنڈ جمع کروادیں “
وہ سر ہلاتی سامنے کی طرف گئ ، بند دروازے کے پار دو دروازے تھے ، کس کا کہا تھا خاتون نے ؟ اندازے سے ایک دروازے پر دستک دے کر ہاتھ رکھا تو وہ کھلتا چلا گیا ، چھوٹا سا کمرہ یوں کہ بمشکل کرسی اور میز کی جگہ بن رہی تھی ، سامنے ہی ٹیبل اور کرسی پڑی تھی ، میز کے پار کوئ شخص جھک کر دراز سے کچھ نکال رہا تھا ، وہ وہیں رک گئ ، سامان نکالتے سنان نے نظر اٹھائ تو وہ بھی لمحہ بھر کو تھم گیا
” معطر۔۔۔۔”
” سنان “
اسے حیرت ہوئ ، وہ یہاں کام کرتا تھا ؟
” آپ یہاں کیا کررہی ہیں ؟”
وہ تعجب سے مسکرایا
” یہ سوال میں پوچھنا چاہ رہی تھی “
” جواب دینے کے لئے حاضر ہوں ، بیٹھیں ۔۔۔۔”
” مجھے جلدی ہے ، کیفے پہنچنا ہے “
وہ جو اسے بیٹھنے کا کہہ کر خود بیٹھ رہا تھا رکا ، ایک نظر میز کو دیکھا پھر سیدھا ہوتے میز سے چابی اور اخبار اٹھایا
” باہر چلتے ہیں “
” آپ کا آفس ٹائم نہیں ہے ،؟”
” نا ہی یہ میرا آفس ہے اور نا ہی یہ میرا آفس ٹائم ہے ، چلیں بتاتا ہوں ، آپ کس لئے آئ تھیں ؟ “
وہ چابی ، موبائل جیب میں ڈالتا باہر جارہا تھا
” فنڈ جمع کروانا تھا “
” رقم دیں “
یکدم وہ رکا تو اس نے بیگ سے لفافہ نکالتے ہوئے سنان کے ہاتھ میں تھمایا ، وہ لفافہ لیتے ساتھ والے کمرے کی طرف گیا تو وہ متذبذب سی اس کے پیچھے آئ
” فاتح بھائ یہ رقم معطر صبا کے نام سے جمع کروادیں “
اندر داخل ہوتے کرسی پر بیٹھے شخص کو مخاطب کیا
” بانو بیگم کے نام سے جمع کروانی ہے “
” اوکے۔۔۔۔۔بانو بیگم کے نام سے جمع کروادیں اور رسید بھی دے دیں “
شستہ انگریزی میں سامنے کھڑے ادھیڑ عمر آدمی کو مخاطب کیا جو شکل سے کوئ انگریز لگتا تھا ، وہ سر ہلاتے رقم لیتا میز کی طرف گیا
” تم جارہے ہو ؟”
” جی۔۔۔ شام کو آؤں گا “
” ایڈ تیار ہے ؟”
” مکمل۔۔۔۔ میں شام کو اپنی نگرانی میں بھجوادوں گا “
وہ خاموشی سے ان کی گفتگو سنتی رہی ، فاتح نامی آدمی نے رسید بنا کر سنان کی طرف بڑھائ ، اس نے شکریہ کہتے تھامی اور اسے آگے چلنے کا اشارہ کیا ، وہ خاموشی سے آگے بڑھ گئ
” بانو بیگم آپ کی کیا لگتی ہیں ؟”
وہ باہر پہنچ گئے تو رسید اس کی طرف بڑھاتے وہ پوچھنے لگا
” میں ان کے گھر کرائے پر رہ رہی ہوں “
” ٹھیک “
” آپ نے بتایا نہیں کہ آپ یہاں جاب کرتے ہیں ؟”
” کیونکہ میں یہاں جاب نہیں کرتا۔۔۔” وہ اپنے قدموں کو دیکھتا آہستہ چل رہا تھا ،لبوں پہ ہلکی سی مسکراہٹ تھی ، چہرے پہ کچھ تھا جو پہلے وہاں نہیں ہوتا تھا
” پھر۔۔۔۔؟”
” پھر یہ کہ ۔۔۔۔” وہ رک گیا،معطر کو بھی رکنا پڑا ” میں یہاں والنٹیئر کے طور پر کام کرتا ہوں ، چھوٹی سی آرگنائزیشن ہے جو برطانیہ اور دیگر ممالک سے پیسے اکٹھے کرتی ہے اور شام ، عراق ، فلسطین اور دیگر اسلامی ممالک میں بھیجتی ہے “
” اوہ۔۔۔۔” اس کے ہونٹ گول ہوئے” کب سے کام کررہے ہیں ؟”
” ڈیڑھ سال تقریباً ، یہ فنڈ ہاشم بن عبد اللہ نے بنایا تھا ، وہ ویسے تو افغانی ہیں لیکن برطانوی شہریت رکھتے ہیں ، میرے علاوہ چند دیگر ممالک کے سٹوڈنٹس بھی ہیں جو والنٹیئر کے طور پر کام کرتے ہیں “
” مشکل نہیں ہوتی ؟”
” کیسی مشکل ؟”
” میں نے تو سنا تھا کہ مغربی ممالک میں اسلاموفوبیا کی وجہ سے بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور آپ فلسطین اور ان ممالک میں رقم بھجوانے کی بات کررہے ہیں جن کے مخالفین برطانیہ کے اتحادی ہیں “
” مشکل کس کام میں نہیں ہوتی ؟”
وہ نرمی سے مسکرایا
“میں سوال تبدیل کرتی ہوں ، برطانیہ میں بھی ؟ ہم نے تو یہی سنا تھا کہ برطانیہ میں اس طرح کی مشکلات زیادہ برداشت نہیں کرنی پڑتیں ، یہاں قوانین اتنے سخت نہیں ہیں، دوسرے ممالک کے مقابلے میں یہاں عوام کو اسلاموفوبیا کا زیادہ سامنا نہیں کرنا پڑتا “
” میں تردید نہیں کروں گا لیکن تصدیق بھی نہیں کروں گا ، آپ کو مغرب میں ایسا کوئ ملک نہیں ملے گا جہاں مسلمانوں کو مشکلات کا سامنا نا کرنا پڑتا ہو “
” لیکن میں نے ابھی تک یہاں کوئ ایسی چیز برداشت نہیں کی “
وہ دونوں درمیان میں فاصلہ رکھے ساتھ ساتھ چل رہے تھے ، ایک ہاتھ میں اخبار تھامے دوسرا ہاتھ جینز کی جیب میں ڈالے سر جھکا کر اپنے قدموں کو دیکھتا سنان اور لمے کوٹ میں ہاتھ ڈالے معطر صبا
” آپ لباس کی وجہ سے کہہ رہی ہیں غالباً ، اس معاملے میں برطانیہ داد کا مستحق ہے کہ یہاں خواتین کے حجاب نقاب یا اپنا مقامی لباس پہننے پر پابندی نہیں ہے ،لیکن دیگر معاملات میں میری رائے محفوظ ہے، یہ وہی برطانیہ ہے جس نے اپنی فلمز اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے اپنے لوگوں میں اسلام کا امیج خراب کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ،جیسے کہ یہ ۔۔۔۔۔” وہ ہاتھ میں تھاما اخبار کھول رہا تھا ، معطر کی نظر اخبار پر گئ ، سامنے کالم تھا ” یہ ایک برطانوی صحافی کا کالم ہے جس میں اس نے مسلم ممالک پر تنقید کی ہے کہ اگر وہ مذہبی شدت پسندی کا مظاہرہ کرنے اور دہش ت گر دی کو سپورٹ کرنے کی بجائے اپنی معیشت اور دیگر امور پر توجہ دیں تو وہ مغربی ممالک سے اس قدر پیچھے نا ہوتے ، میں آخری بات سے متفق ہوں لیکن پہلی بات سے نہیں ، وہ مسلمانوں کی پسماندگی کو شدت پسندی سے جوڑتے ہیں “
وہ اخبار لپیٹ رہا تھا جب یونہی معطر کی نظر کالم لکھنے والے کے نام پر گئ
” کھولیں اسے “
وہ تیزی سے بولی ، سنان کا ہاتھ تھما پھر اس نے اخبار کھول لیا ،معطر کے ماتھے پر بل پڑے ، کالم نگار کی جگہ ایرک کیان کا نام لکھا ہوا تھا
” کیا ہوا ؟”
وہ اس کے بگڑتے تاثرات دیکھتا پوچھ رہا تھا ، اس نے سر جھٹکا
” کچھ نہیں ۔۔۔۔ یہ اخبار مل سکتا ہے ؟”
سر ہلاتے اس نے اخبار معطر کے ہاتھ میں دے دیا ، وہ انہی بگڑے تاثرات کے ساتھ ٹھہری تھی
” اگر آپ کیفے جارہی ہیں تو میں چھوڑ دوں ؟”
کچھ معصومیت سے پوچھا
” نہیں ،میں چلی جاؤں گی ، شکریہ “
وہ کوٹ سیدھا کرتی آگے کی جانب بڑھ گئ ، سنان کچھ دیر وہیں ٹھہرا رہا پھر سر جھٹکتے آگے بڑھ گیا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
کافی تھامنے کے لئے بڑھے ہاتھوں میں اخبار آیا تو وہ چونکا
” معاشی ماہرین ٹھیک کہتے ہیں عنقریب وہ وقت بھی آئے گا جب چند پاؤنڈز دینے پر آپ کو کافی کی جگہ اس کی تصویر تھما دی جائے گی ، بتاؤ کس جگہ تصویر چھپی ہے ؟”
معطر نے سنجیدگی کے ساتھ اخبار کھولتے ایک جگہ انگلی رکھی
” یہ تم نے لکھا ہے ؟”
” یہ غالباً میرا ہی نام ہے ، کیا تم اب آٹو گراف لینا چاہو گی ؟ شیور ۔۔۔۔ کاغذ آگے کرو “
وہ مزاح کررہا تھا اور وہ سنجیدہ تھی
” تو تمہارے مطابق مسلمانوں کی معاشی بدحالی کی وجہ ان کی شدت پسندی ہے ؟”
ایرک کچھ سنجیدہ ہوا
” کیا ایسا نہیں ہے ؟”
” اگر ایسا ہے تو تم ان عرب ممالک کے بارے میں کیا کہو گے جو معاشی لحاظ سے مضبوط ہیں ؟”
” وہاں شدت پسندی نہیں پائ جاتی ۔۔۔۔سمپل “
کاندھے اچکائے
” بہت خوب ۔۔۔۔۔یعنی کوئ اسلامی ملک غریب ہے تو وجہ شدت پسندی ہے اور اگر کوئ ملک امیر تو وجہ یہ کہ وہ شدت پسند نہیں ہیں “
” میں اسی نظرئیے پر یقین رکھتا ہوں ، تم ان ممالک کو دیکھ لو جن پر امریکہ نے سٹرائیکس کی ہیں ،عراق ،لبنان ، شام وغیرہ ، اگر وہ لوگ بجائے دہ شت گرد تنظیموں کو سپورٹ کرنے کے اپنی ترقی پر توجہ دیتے تو ان کا یہ حال نا ہوتا “
” اور تمہیں یہ لگتا ہے کہ ان کا یہ حال اس وجہ سے ہے ؟”
اسے حیرت اور صدمہ بیک وقت ہوا
” ظاہر ہے ، تم لوگوں کو یہ بات قبول کرلینی چاہئے کہ ہر مسلمان ملک کی تباہی کے پیچھے امریکہ نہیں بلکہ ان کا اپنا عمل ہے “
” تو پھر تم بھی یہ بات کیوں نہیں مان لیتے کہ امریکہ نے اب تک دہ شت گردی کے نام پر صرف مسلمان ملکوں کو ہی نشانہ کیوں بنایا ہے ؟ کوئ عیسائ ملک یا کوئ اور ملک کیوں نہیں ،؟ ، مجھے کسی ایک ملک کا نام بتادو جس پر اس طرح سے حملے کئے گئے ہوں جیسے مسلمان ملکوں پر کئے گئے ہیں “
اسے غصہ آگیا تھا
” بات پھر وہیں آجاتی ہے کہ مذہبی شدت پسندی ۔۔۔۔”
معطر نے اس کی بات کاٹ دی
” مذہبی شدت پسندی کو ان سب سے مت جوڑو ، امریکہ کے حملوں میں کسی مذہبی شدت پسندی کا حوالہ نہیں تھا ، عراق سے لے کر لبنان تک ، ہر ملک پر الگ الگ بہانے بنا کر حملے کئے گئے ہیں ، مجھے صرف اتنا بتاؤ ایرک کیان کہ امریکہ کو خطرناک ہتھیاروں کی موجودگی کی خبر صرف عراق کے حوالے سے ہی کیوں ملتی ہے ؟ برسوں بعد ان کی طرف سے خود اقرار کیا جاتا ہے کہ خبر جھوٹی تھی ، کسی نے کچھ کہا تب ؟ وہاں ہزاروں لوگ مر گئے ، یہ عام بات تھی ؟ مجھے یہ بتاؤ کہ عوامی استحکام کے نام پر لیبیا پر ہی کیوں چڑھائ کی جاتی ہے ؟ 9/11 جیسے واقعات صرف افغانستان سے ہی کیوں جوڑے جاتے ہیں ؟ دنیا میں ہونے والے ہر حادثے کا الزام مسلمان ملک پر لگا کر وہاں حملے کردینا ، اس کی اجازت دنیا کا کون سا قانون دیتا ہے ؟”
ایرک کے لب بھینچ گئے
” تم ان ملکوں کی تباہی کا الزام امریکہ پر ڈالنے کی بجائے مقامی حکومت پر کیوں نہیں ڈالتیں ؟ اب تم مجھے یہ بتاؤ کہ کیا ہر کسی کو شوق ہے بلاوجہ تباہی پھیلانے کا ؟ کون سا ملک اس قدر بیوقوف ہے یوں ہی کسی بھی ملک پر حملے کردے ؟ مس معطر صبا اب وقت آ گیا ہے کہ تم لوگ یہ کہنا بند کردو کہ ہماری تباہی کے پیچھے فلاں فلاں ملک ہے ، بہادر بنو اور یہ قبول کرو کہ مسلمان صرف اپنی وجہ سے پیچھے ہیں ، اور اگر الزام لگانا ہی ہے تو پھر یہ بھی مان لو کہ امریکہ نے اگر حملے کئے تو یہ ممالک اپنا دفاع کیوں نہیں کرسکے ؟ اگر اتنا ہی امریکہ طاقتور ہے تو تم لوگ کمزور کیوں ہو ؟ دبئ اور قطر کے ممالک بڑی بڑی بلڈنگز بنانے کی بجائے اپنے دفاعی نظام کو مضبوط کیوں نہیں بناتے؟ اگر بقول تمہارے مغربی ممالک صرف مسلمان ملکوں کو ہی نشانہ بناتے ہیں تو کیا یہ بے وقوفی نہیں کہ آپ جانتے ہوں کہ آپ پر جنگ مسلط کی جائے گی اور آپ میدانوں میں تیاری کرنے کی بجائے اونچے محلوں میں اپنے لئے آرام دہ بستر بنوا رہے ہوں؟ پھر اگر میں یہ کہتا ہوں کہ مسلمان ملک خود اپنی وجہ سے پسماندگی کا شکار ہیں تو تمہیں مجھ سے بحث نہیں کرنی چاہئے کیونکہ میں ٹھیک ہی کہتا ہوں “
وہ جرنلزم کررہا تھا ، اس کے پاس دلائل تھے ، الفاظ تھے ، وہ الفاظ اپنے حق میں موڑنا جانتا تھا ، معطر کے پاس الفاظ کی کمی ہوگئ ، پھر اس نے گہری سانس لی
” تم اسلاموفوبیا کا شکار ہو “
” بہتر ہوگا تم خود پہلے جانو کہ اسلاموفوبیا ہے کیا پھر مجھ پر یہ الزام لگاؤ “
” میں جانتی ہوں اسلاموفوبیا کیا ہے”
اسے برا لگا تھا
” پھر اپنی معلومات اپڈیٹ کرو ،کیونکہ میں اسلاموفوبیا کا نہیں حقیقت کا شکار ہوں، جو کچھ میں نے کہا اس کا مذہبی تعصب سے کوئ تعلق نہیں ہے ، یہ سب حقیقت ہے ، میری یونیورسٹی میں میرے ساتھ کئ مسلمان سٹوڈنٹس پڑھتے ہیں ، پسماندہ اور ترقی یافتہ ممالک سے آنے والے، ان میں سے کوئ ایک بھی مجھے متاثر نہیں کرسکا ، ان میں بہت مذہبی بھی ہیں لیکن بات صرف مذہبی ہونے کی نہیں ہے ، ان میں سے جس سے پوچھا جائے کہ تمہارا ملک کیسا ہے وہ آپ کے سوال کا آغاز صرف ایک بات سے کرتے ہیں” تمہارے ملک جتنا ترقی یافتہ نہیں ہے ” میرے لئے ایسے لوگ قابل ترس ہیں ، جو لوگ اپنے ملک پر فخر نہیں کرتے وہ قابل ترس ہیں ،لیکن اس سے زیادہ میں ان ملک کے حکمرانوں کے خلاف ہوں جو بجائے دہ شت گرد تنظیموں کو سپورٹ کرنے کے اپنے ملک کی ترقی پر توجہ دیتے تو احساس کمتری کا شکار کسی پسماندہ ملک کا باشندہ مجھے یہ نا کہہ رہا ہوتا کہ برطانیہ اور امریکہ ہم سے کئ گنا آگے ہیں ، میں اگر ان کے حالات اپنی آنکھوں سے نا دیکھتا تو تمہاری بات درست تھی کہ میں اسلاموفوبیا کا شکار ہوں ، لیکن میں تمہاری اس بات سے اب اتفاق نہیں کرتا “
اس کا چہرہ حد درجہ سنجیدہ تھا ،کچھ حد تک سخت بھی ، اگر وہ ایرک کو پہلے نا جانتی ہوتی تو وہ کبھی یقین نا کرتی کہ یہ انسان ہر وقت ہنستا مسکراتا رہتا تھا
” مسئلہ یہ ہے ایرک کہ تم بھی اسی معاشرے کا حصہ ہو جس نے مسلمان ملکوں کی تباہی میں اہم کردار ادا کیا ہے ، اور یہ اس وجہ سے کہ تم لوگ مسلمانوں سے خوفزدہ ہو “
” ہاااا۔۔۔۔۔” وہ طنزیہ ہنسا ” مجھے یاد کرنے دو کہ ہم لوگوں کو کس چیز سے خوفزدہ ہونا ہے ، سعودیہ کے ورلڈ لارجسٹ کولنگ سسٹم سے ؟ جب کہ وہ اتنی ہمت بھی نہیں پاتے کہ فلسطین کے لئے بول سکیں ، یا پھر ہمیں مصر کے اہرام سے خوفزدہ ہونا چاہیے ؟ یا پھر دبئ کے برج خلیفہ سے ؟ یا پھر پاکستان کے تھر میں پانی کے لئے میلوں کا سفر کرتے ناچار لوگوں سے ؟ ، اب بتاؤ معطر ، ان سب میں سے ایسی کون سی چیز ہے جس سے اہل مغرب کو خوفزدہ ہونے کی اور تم لوگوں کے خلاف اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ؟ ،کیونکہ مجھے ان چیزوں میں سے کچھ ایسا نظر نہیں آتا جو ہمارے لئے خطرے کا باعث ہو “
سنجیدہ سپاٹ انداز ، اگر وہ کہتا تھا کہ وہ سیاست پر بحث کرسکتا ہے تو وہ ٹھیک کہتا تھا ،معطر کا چہرہ سرخ پڑا ، وہ جواب میں کچھ کہنا چاہتی تھی جب مایا ان دونوں کی طرف آئ
” تم دونوں بحث بند کروگے ؟ سب ڈسٹرب ہورہے ہیں “
وہ جھنجھلائ ہوئ اور غصے میں تھی ، ایرک نے رخ پھیر کر اسے دیکھا پھر معطر کو ، کاؤنٹر پر پڑا اپنا کیمرہ اٹھایا اور ایک آخری نظر اس پر ڈالتا باہر بڑھ گیا ، وہ کافی لے کر نہیں گیا تھا ، معطر گہری سانس لے کر رہ گئ ، وہ جاتے جاتے اسے ایک سوال سونپ کر گیا تھا ، اور وہ جانتی تھی جواب کس کے پاس ملے گا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
” کہاں پر ہیں ؟”
اسٹیشن سے اترتے ہی اس نے سنان کو میسج کیا
” گراہم سٹریٹ پر آجائیں “
وہ میسج پڑھتی گوگل میپ سے دیکھتی اسٹیشن سے جنوب کی طرف بڑھ گئ ، گراہم اسٹریٹ کے آغاز پر سامنے ہی وہ ٹھہرا تھا ، ہاتھ میں چند دانے تھے جو سامنے موجود بطخوں کو ڈال رہا تھا ، ریجینٹس کنال ( Regent’ s canal) بالکل پاس ہی تھی تو ان بطخوں کا یہاں موجود ہونا عام بات تھی ، وہ کوٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالتی اس کی طرف بڑھنے لگی جب کچھ فاصلے پر رک گئ ، سنان کوئ پشتو غزل گنگنا رہا تھا
محبت چې له زړه نه وی
هغه مینه دَ لوبو ده
په خندا کي به ژاړي هم
چې مینه دَ محبوبو ده
دَ جانان دَ دیدن وخت کښې
ثانیه هم دَ زرګو ده
زه حمزه دَ عشق مریض یم
زما درمل دَ زلفو ده
(جو محبت دل سے نہ ہو
وہ صرف ایک کھیل ہوتی ہے
محبوبوں کی محبت ایسی ہوتی ہے
کہ ہنسی میں بھی رونا چھپا ہوتا ہے
محبوب کی دید کے لمحے
ہزار سالوں کے برابر لگتے ہیں
میں حمزہ عشق کا بیمار ہوں
میری دوا اُس کی زلفوں میں چھپی ہے )
دھیمی پرسوز آواز ، یوں جیسے الفاظ اس کے دل سے نکلے ہوں ، وہ پیچھے ٹھہری سنتی رہی ، الفاظ سمجھ نہیں آئے تھے لہجہ سمجھ آگیا تھا
” آپ کو شاعری میں دلچپسی ہے ؟”
وہ چونک کر پلٹا پھر اسے دیکھ کر لبوں پہ مسکراہٹ ابھری
” صرف پشتو شاعری ۔۔۔ میں پشتو شاعری کا دلدادہ ہوں”
” اگر مجھے سمجھ آجاتی تو میں کہتی کہ کچھ سنادیں “
” اگر آپ کو لفظ محبت کی سمجھ آجاتی ہے تو پشتو بھی سمجھ آجائے گی “
وہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی
” میں نے لفظ محبت کو حفظ کیا تھا سنان ، آپ سمجھنے کی بات کرتے ہیں ؟ “
سنان سعدی کی مسکراہٹ غائب ہوئ
” کبھی محبت کی ہے آپ نے ؟”
” کبھی محبوب نا ملنے کا غم سہا ہے آپ نے ؟”
وہ آگے کی طرف جارہا تھا ، معطر ساتھ چلنے لگی ، سردی سے اس کے گال اور ناک سرخ پڑ رہے تھے ، گراہم اسٹریٹ سے آگے نیچے کی طرف ریجینٹس کنال کا ابتدائ حصہ تھا ، وہاں ڈھیروں بوٹس خالی ٹھہری تھیں ، سردیوں میں سیاح کم آتے تھے
” کبھی محبت کی ہی نہیں”
” کیجئے گا بھی مت “
” ڈرا رہی ہیں ۔۔۔ حالانکہ میں پہلے ہی خوفزدہ ہوں “
” کس چیز سے ؟”
سائیکل چلاتا کوئ سوار پاس سے گزرا تو وہ سائیڈ پر ہوگئ ، پتھریلی روش کی ایک طرف درخت تھے جو جھاڑیوں کی صورت لگتے تھے اور دوسری طرف پانی جس پر وقفے وقفے سے چند بوٹس بزرتیں ، نہر تقریباً تیرہ کلو میٹر لمبی تھی اس کے باوجود بھی بوٹس کثرت سے نظر آتی تھیں ، گو سیاح پھر بھی کم ہی تھے
” مجھے لگتا ہے کہ میں محبت کے معاملے میں خوش قسمت نہیں ہوں گا ، شاید میں دنیا سے ایک یہی غم لے کر جاؤں گا ۔۔۔۔ محبوب نا ملنے کا غم “
” ممکن ہے آپ محبت کے معاملے میں خوش قسمت ہوں “
” ممکن ہے محبت میرے لئے لکھی ہی نا گئ ہو “
اس نے رخ موڑ سنان کو دیکھا
” اتنا پوزیٹو سوچنے والا انسان اس معاملے میں منفی کیوں ہورہا ہے ؟”
وہ ہلکا سا مسکرایا ، جواب دینے کی بجائے وہ اوپر بریج کی طرف جارہا تھا ،معطر کو وہاں نہیں جانا تھا ، اسے اونچائ پر ٹھہر کر پانی دیکھنا پسند نہیں تھا لیکن پھر سر جھٹکتے وہ اوپر کی طرف بڑھی ، بریج گولائ کی صورت لگتا تھا ، ایک طرف سے گزر کر دوسری طرف جاتا ہوا ، نیچے نہر میں چند کشتیاں نظر آرہی تھیں ، کچھ سیاح خود چلا رہے تھے ، چند الیکٹرانک بوٹس پر تھے ، رنگ برنگی کشتیاں جو پانی کی سطح پر بھلی لگتی تھیں ، لوگ ازلنگٹن کو خوبصورتی کا شہر کہتے تھے ، معطر صبا کو وہ رنگوں کا شہر لگتا تھا
وہ برج سے ٹیک لگاتا چہرہ کا رخ موڑ کر نیچے دیکھنے لگا اور معطر اس کے بالکل سامنے ٹھہر گئ ، اسے نیچے نہیں دیکھنا تھا
” آپ نے جواب نہیں دیا “
سنان نے رخ اس کی طرف موڑا
” خوف کہہ لیں ، محبت ہوئ نہیں ہے کبھی ،کبھی ہوگئ تو میں محبت ہونے سے نہیں محبوب نا ملنے سے ڈرتا ہوں ،یہ درد ناقابل برداشت ہوتا ہے “
وہ کچھ دیر اسے دیکھتی رہی ، کچھ یاد آیا، کوئ درد ، کوئ ٹوٹے خواب ، چند کرچیاں ،پھر اس نے رخ موڑا
” آپ کا لہجہ اتنا صاف کیوں ہے ؟”
اس نے بات بدل دی ، وہ اس غم سے گزر چکی تھی ، جس سے گزری تھی اس غم میں کسی دوسرے کو مبتلا نہیں دیکھنا چاہتی تھی
” صاف مطلب ؟”
وہ حیران ہوا
” مطلب یہ کہ آپ ” مڑا ، خاناں یا جس طرح پختون کہتے ہیں تم کرتا ہے ،تم کرتی ہے ، یعنی مذکر کو مؤنث اور مؤنث کو مذکر بنا کر بات کیوں نہیں کرتے ؟”
وہ چند لمحے اسے دیکھتا رہا پھر فضا میں اس کا قہقہ گونجا
” کیا کیا سوچ لیتی ہیں ؟”
” سوال تھا ۔۔۔”
” عجیب تھا”
وہ ہنس رہا تھا ، وہ ہنستے ہوئے اچھا لگ رہا تھا
” آپ نے ہنسنا بند نا کیا تو میں چلی جاؤں گی “
وہ خفا ہوئ ، سنان نے بمشکل ضبط کیا پھر چہرہ کچھ سنجیدہ کرنا چاہا
” میں جواب دے رہا تھا ، بات یہ ہے کہ میں شروع سے گھر سے باہر رہا ہوں ، پہلے اسلام آباد ، پھر کچھ عرصہ لاہور ، پھر یہاں لندن آ گیا تو میرا لہجہ تھوڑا کم پختون ہے ،یعنی میں مئونث کو مئونث اور مذکر کو مذکر ہی کہتا ہوں “
مسکراہٹ دبائ، معطر نے سر ہلادیا
” اس لئے آپ بات بات پہ پشتو بول جاتے ہیں کیونکہ آپ اپنی زبان مس کرتے ہیں۔۔۔ ہیں نا ؟ “
” ہاں ۔۔۔۔ میں مس کرتا ہوں ، بابا ،مورے ، پریزے ، وہاں کے لوگ سب کو ، ایک دن آئے گا جب لندن کے خشک موسم سے میں پشاور کی پر رونق سردیاں انجوائے کروں گا ، جب اپنے باغ میں پریزے کے ساتھ پھل توڑنے جاؤں گا ، مورے کے ہاتھ کا کھانا کھاؤں گا ، ایک وقت “
وہ کسی خیال میں تھا ، لب مسکرا رہے تھے ، اس لمحے اسے احساس ہوا کہ سنان سعدی اپنے پشاور کو یاد کرتا تھا
” واپس چلے جائیں “
” ایک دن جاؤں گا ۔۔۔۔ آخری بار اور پھر دوبارہ میں اس شہر میں واپس نہیں آؤں گا “
” آپ کو ازلنگٹن نہیں پسند ؟”
نیچے کوئ بوٹ گزری تھی ، چند سرخ غبارے اور پھول باندھے ، شاید کسی نے اپنے محبوب کے لئے اظہار محبت کا انوکھا طریقہ منتخب کیا تھا
” شاید۔۔۔” اس نے کاندھے اچکائے ” مجھے اس شہر سے کبھی اچھی وائبز نہیں آئیں ، مجھے یہ شہر کبھی اپنا نہیں لگا ، گو یہ خوبصورت ہے ،لیکن مجھے یہ خوبصورت کے ساتھ بے رحم بھی لگتا ہے ، مجھے لگتا ہے جیسے یہ مجھے اچھے انداز میں الوداع نہیں کرے گا ، معلوم نہیں کیوں لگتا ہے لیکن لگتا ہے “
معطر کو اس لمحے اس شخص کا چہرہ فقط معصوم لگا تھا پھر اس نے گہری سانس لیتے سر جھٹکا
” آپ کا خوف بے وجہ ہے بہرحال میں اصل بات بھول گئ ،میں آپ سے کچھ پوچھنے آئ تھی “
” کیا ؟”
” سچ سچ بتائیں گے ؟”
” آپ کو لگتا ہے میں جھوٹ بولوں گا ؟”
” نہیں۔۔۔ لیکن میں سب جاننا چاہتی ہوں ، گو اس بارے میں میرے پاس بھی معلومات ہیں لیکن مجھے کسی اور سے جاننا ہے “
” کیا جاننا چاہتی ہیں آپ ؟”
وہ کچھ دیر خاموشی سے اسے دیکھتی رہی
” اسلاموفوبیا کیا ہے ؟”
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اسلاموفوبیا کیا ہے ؟”
وہ اس کے سامنے ٹھہری پوچھ رہی تھی
” مسلمانوں کے خلاف تعصب ، ان کو برے الفاظ میں پیش کرنا ، ان کے خلاف نفرت انگیزی “
” میں ڈکشنری کا مطلب جانتی ہوں ،مجھے اپنے الفاظ میں بتائیں “
” اوکے سادہ الفاظ میں یوں سمجھیں جیسے ہمارے بچپن میں ہماری والدہ کسی ایسی جگہ جہاں ہمیں جانے سے منع کرنا چاہتی ہوں وہاں کے بارے میں جھوٹ بولا کرتی تھیں کہ یہ جگہ خطرناک ہے ،یہاں نقصان دہ چیزیں ہیں ، ایسے ہی صدیوں پہلے چند مغربی ممالک جو اپنی اقوام کو اسلام سے برگشتہ کرنا چاہتے تھے انہوں نے اسلام کو ہانٹڈ پلیس بنا دیا ، خطرناک جگہ جہاں جانا ان کے لئے خطرے کا باعث ہے “
” تو کیا یہ آج کا مسئلہ نہیں ہے ؟”
” یہ صدیوں پرانا مسئلہ ہے ، کہہ سکتے ہیں کہ آغاز عباسیوں اور عثمانیوں کی صلیبیوں کے ساتھ لڑی جانی والی جنگوں سے ہوا تھا ،اس وقت کی قوتوں نے عوام کو مسلمانوں کے خلاف اکسانے کے لئے اسلاموفوبیا کا پروپیگنڈہ شروع کیا ، بعد میں برطانوی راج نے ہندوستان پر اپنے قبضے کو جائز ثابت کرنے کے لئے اسلاموفوبیا کا سہارا لیا ، آج کے دور میں یہی مغربی حکومتیں غریب مسلمان ملکوں پر اپنے حملے کو جائز بتانے کے لئے اسلاموفوبیا کا سہارا لیتی ہیں “
” میں پرانے دور کا سمجھ سکتی ہوں لیکن آج ، اکیسویں صدی میں اسلاموفوبیا کیوں اتنا پھیل رہا ہے ؟”
” پرانے دور کے مقابلے میں آج یہ کام زیادہ آسان ہے ، آج کل آپ کو سوشل میڈیا پر صرف ایک پوسٹ شیئر کرنی ہوتی ہے اور آپ اپنے ساتھ جڑے کئ لوگوں کو اسلام سے متنفر کردیتے ہیں ، مغربی ممالک کا میڈیا اس سلسلے میں اہم کردار ادا کرتا ہے ، برطانیہ کو ہی لے لیں ، ایک تحقیق کے مطابق یہاں ستر فیصد خبریں مسلمانوں کے خلاف دی جاتی ہیں “
” اور مسلمان ملک ؟ وہ کچھ کیوں نہیں کررہے ؟”
” وہ سو رہے ہیں ۔۔۔” وہ سر جھٹکتے تلخی سے مسکرایا ” آپ کو لگتا ہے جو ملک فلسطین ، عراق لبنان کی بربادی کے وقت خاموش تھے وہ اسلاموفوبیا کے حل کے لیے کچھ کریں گے ؟”
” کاش ہم میں اتحاد ہوتا ، ہمارے حکمرانوں میں اتحاد ہوتا، مغربی ممالک اپنے اسی اتحاد کی وجہ سے تو اتنا آگے بڑھ گئے ہیں ،ان کے حکمران ہر پالیسی پر اختلاف رکھتے ہوں گے لیکن مسلمانوں کے خلاف پالیسی پر متفق ہیں ، یہ اتفاق ہمارا ہونا چاہئے تھا “
” آپ کو لگتا ہے کہ ہر مغربی حکمران اس ایک پالسی سے متفق ہے ؟”
” کیا ایسا نہیں ہے ؟”
” میں اس چیز پر یقین نہیں رکھتا ، اگر ایسا تھا صدر اوباما صدر بش کی عراق پر حملے کی پالیسی کے خلاف نا ہوتے “
” پھر ؟”
” پھر یہ کہ یہ ممالک کی پالیسی ہے ، یوں سمجھیں جیسے پاکستان کے قیام سے ہی ہماری پالیسی تھی کہ اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا جائے گا ، ہمارے حکمران تبدیل ہوتے رہے ،پالیسی وہی رہی ، مغربی ممالک میں بھی کچھ یہی حساب ہے ، ان کی مسلمانوں کے بارے میں ایک ہی پالیسی ہے اور ہر حکمران اسی پر چلتا ہے چاہے وہ اس چیز کو پسند کرے یا نا پسند ، طریقہ کار تبدیل کرلیا جاتا ہے لیکن مقصد نہیں “
” لیکن کیوں ؟”
” مغربی معاشرہ جتنی بھی ترقی کرلے معطر ، آج بھی ، کہیں نا کہیں آج بھی وہ لوگ مذہبی بنیاد پر مسلمانوں سے تعصب رکھتے ہیں ، انہیں اپنے مذہب کا صحیح سے علم نہیں ہوتا لیکن وہ مسلمانوں کو ان کے مذہب کی وجہ سے ہی ٹارگٹ کرتے ہیں ، اور ہمارے ممالک اس قدر بچے ہیں کہ وہ یہ بات سمجھ ہی نہیں پارہے ، مغرب صدیوں سے صدیوں تک اسی ایک وجہ سے ہر کام کررہا ہے “
” پھر میں یہ نہیں سمجھ پارہی کہ ہمارے حکمران اس قدر غفلت میں کیوں پڑے ہیں ؟”
وہ جھنجھلائ ، ایرک کی بات کس حد تک درست لگنے لگی
” کیوں کہ میں نے کہا نا وہ سورہے ہیں ، مقابلہ بازی کررہے ہیں ، پاکستان انڈیا سے زیادہ بہتر فلمیں بنانے کی دوڑ میں ، سعودی عرب دبئ سے زیادہ اونچی بلڈنگز بنانے میں مصروف ہے ، وہ اندازہ تک نہیں کرپارہے کہ ان کا دشمن کس قدر ان سے آگے ہے ، آپ کو علم ہے اسرائیل میں گھروں کے نیچے شیلٹر بنانا قانون ہے ؟ وہ اس جنگ کی تیاری کررہے ہیں جو ایک دن ہونی ہے ،لیکن وہ اس جنگ کے لئے تیار ہیں ، ان پر اگر جنگ مسلط کی جاتی ہے تو وہ اپنی عمارتیں کھو دیں گے لیکن اپنے لوگ بچالیں گے ، اس کے برعکس مسلمان ملک شاید اپنی اونچی اونچی عمارتیں بچالیں لیکن لوگ کھو دیں گے “
وہ لمبا کوٹ پہنے ہوئے تھا ، ایک ہاتھ میں اب بھی چنے کے دانے تھے جس سے وہ منہ میں ڈال لیتا ، اس کی طرف بڑھائے تو معطر نے نفی میں سر ہلایا
” اگر مسلمان حکمران کچھ نہیں کررہے تو پھر ہم عام لوگ کیا کریں ؟”
” جو کرسکتے ہیں “
” اور کیا کرسکتے ہیں ؟”
” ابابیل بن جائیں جس کے منہ میں ایک کنکر تھا اور ایک کنکر نے ہاتھی کو مار دیا ، عام لوگ اپنے مذہب کا عکس ہوتے ہیں ، لوگ آپ کو دیکھ کر آپ کے مذہب کو جج کریں گے ، یہ طے کریں کہ آپ اپنے مذہب کا امیج کیسا رکھ رہے ہیں “
آدھا پیکٹ خالی تھا تو اس نے وہ ساتھ گزرتے بچے کی طرف بڑھا دیا پھر مسکراتے ہوئے اس کے بال بگاڑے اور سیدھا ہوا ، معطر کچھ پریشان چہرے کے ساتھ ٹھہری تھی ، وہ گہری سانس لیتا اس تک آیا
” سیاست کی وجہ سے پریشان مت ہوا کریں “
” یہ مذہب کا معاملہ ہے “
” آپ اپنا کردار ادا کررہی ہیں معطر ، آپ سے کسی کو تکلیف نہیں پہنچ رہی ، اس سے زیادہ آپ کچھ نہیں کرسکتیں “
اس نے سر ہلادیا لیکن اسے معلوم تھا وہ بہت کچھ کرسکتی ہے ، فلوقت اسے ایرک کے ساتھ بات کرنی تھی ، کن اکھیوں سے اس نے سنان کو دیکھا ، وہ کچھ کہتے ہوئے واپسی کی طرف جارہا تھا ، اس کی لنچ بریک ختم ہونے والی تھی ،وہ معطر کے کہنے پر تھوڑی دیر کے لئے آیا تھا
اور واپسی کی طرف جاتے ہوئے معطر نے طے کیا اسے اب ایرک کیان اور سنان سعدی کی ملاقات کرانی تھی ، اگر ایرک کے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں نظریات کوئ تبدیل کرسکتا تھا تو وہ سنان سعدی تھا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
