Laa By Fatima Noor Readelle50338 Laa (Episode 31)
Rate this Novel
Laa (Episode 31)
Laa By Fatima Noor
” ڈاکٹر ہے اور غریب مریضوں کا تو مفت علاج کرتا ہے”
اس نے یہ جملہ چھت سے نیچے اترتے ہوئے سنا تھا اور بنا کوئ نوٹس لئے برآمدے کی سیڑھیاں اترتی تخت پر کپڑے رکھتی انہیں تہہ لگانے لگی
” یہیں پاس کی گلی میں گھر ہے فی الحال ، کہہ رہا تھا کہ کہیں اور لے لے گا جلد “
اب کی بار آواز دانیال کی تھی
” شکل وصورت بھی اچھی ہے “
” زرا عقل بھی چیک کرلیتے موصوف کی امی جو یہاں رشتہ بھیجنے کی بات کر رہے ہیں “
اب کہ وہ ناگواری سے بولی تھی
” تو کیا تم ساری زندگی یہیں رہو گی ؟”
” میرا بھائ مجھے دو وقت کی روٹی بھی نہیں کھلا سکتا ؟”
اس نے شاکی نظروں سے دانیال کو دیکھا تو وہ گڑبڑایا
” روٹی تین وقت کی ہوتی ہے اور پھر تمہارے دوسرے اخراجات بھی ہیں وہ کون پورے کرے گا ؟”
دروازے سے اندر آتے عون اور کچن سے نکلتی مبشرہ نے بھی امی کی یہ آواز سنی تھی ، قصہ پرانا تھا تو وہ دونوں اپنے اپنے کام میں مشغول ہوگئے
” میں اپنا کما لوں گی “
” گھر میرے نام ہے “
” آپ مجھے گھر سے نکالیں گی ؟”
اسے دکھ ہوا
” ہاں ، دانیال بلاؤ اس لڑکے کو ، بس اب میں اس کی شادی کررہی ہوں “
وہ تخت سے اٹھتی فیصلہ کن انداز میں بولیں تو دانیال سر ہلا گیا ،معطر کپڑے وہیں پٹختی اس تک آئ
” خبردار جو اگر کسی ڈاکٹر نے یہاں قدم بھی رکھا تو “
” کیا کروگی ؟ ٹانگیں توڑو گی ؟ “
وہ نیم دراز تخت پر لیٹ گیا
” میں اس کی نہیں تمہاری ٹانگیں توڑوں گی “
” بھائ کو لنگڑا کرو گی ؟”
” بھائ کو بہن کا احساس ہے ؟”
اب کہ دانیال کچھ سیدھا ہوا اور اسے دیکھا جو کچھ تپی اور بے زار لگ رہی تھی ، ڈیڑھ سال سے اس گھر میں یہی تکرار ہورہی تھی
” معطر ! شادی کیوں نہیں کرنا چاہتیں تم ؟”
” مجھے وقت چاہئے “
” دو ڈھائ سال کافی ہوتے ہیں “
” کچھ غم بھلانے کے لئے سو سال کی عمر بھی مل جائے تو ناکافی لگتی ہے “
وہ وہیں تخت پر اس کے ساتھ بیٹھ گئ
” اس طرح خود کو ضائع کرنے سے بابا واپس نہیں آئیں گے “
” ان کا زکر ایسے مت کیا کرو “
” کہیں ایسا تو نہیں کہ تم تیمور کی وجہ سے….”
معطر نے اس کی بات کاٹ دی
” اس کا تو نام بھی مت لو “
کچھ پل کو وہ دونوں خاموش رہے ، معطر آسمان کو دیکھ رہی تھی ،کچھ دن سے حبس بہت بڑھ گیا تھا شاید بارشوں کی پیش گوئ سچ ثابت ہونے والی تھی ، لاہور کی بارشیں دیکھنے میں اچھی لگتی تھیں لیکن گلیاں جیسے سمندر میں تبدیل ہوجایا کرتی تھیں
” مجھے ڈر لگتا ہے “
” کس چیز سے ؟” وہ رک کر معطر کو دیکھنے لگا
” شادی کے خیال سے ، میرے اردگرد شادیوں کا انجام کسی فیری ٹیل جیسا نہیں ہے جو مجھے متاثر کرسکے ، میں نے محبت کا نام لے کر جوڑے جانے والے اس تعلق کا بہت برا اختتام دیکھا ہے ، مجھے اب اس لفظ سے خوف آتا ہے “
” تم خواہ مخواہ ڈرتی ہو معطر ، ہر جگہ دو طرح کی کہانیاں ہوتی ہیں ، یہ تمہارا زہن ہے جو تمہیں منفی کہانیاں دکھا رہا ہے کیونکہ تمہارے زہن کو کوئ بہانہ چاہئے جس سے تم شادی سے منع کرسکو “
” شاید ایسا ہی ہے لیکن امی سے کہو مجھے فی الحال فورس نا کریں ، مجھے کچھ عرصہ لگے گا خود کو راضی کرنے میں “
” اچھا یہ تو بتادو کہ کب تک دل کو راضی کرلو گی ؟ میں بھی زرا امی کو کہوں لگے ہاتھوں میرا بھی سوچ لیں “
” بس ، اپنی پڑ جاتی ہے موصوف کو ، مبشرہ یہ کپڑوں کو تہہ لگاؤ آ کر جب دیکھو یا تو موبائل چلاتی رہتی ہے یا سوئ رہتی ہے “
اس کے اندر کی بڑی بہن فوراً باہر نکلی ، مبشرہ ڈھیٹوں کی طرح بیٹھی رہی ، جب تک معطر دو تین مرتبہ مزید آواز نا لگاتی اس نے نہیں اٹھنا تھا۔ مجال تھی جو چھوٹی بہنیں پہلی آواز پر کوئ کام کرلیں
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
” اس گھر کے مالک کا نام افتخار صاحب ہے ، ڈھائ سال پہلے ان کا انتقال ہوگیا تھا ، اب ان کی بیوی اور بچے اس گھر میں رہتے ہیں “
” اور ….؟”
” اور کیا پتا کروانا تھا ؟”
نجیب گڑبڑایا ، کرسی پر آگے کو ہوکر بیٹھا آدم سیدھا ہوا
” تم نے بس گھر کس کا ہے یہ معلوم کروایا ہے ؟”
اس کا دل کیا رکھ کر تھپڑ لگائے اس لڑکے کو ، زبان یوں چلتی تھی کہ خدا کی پناہ اور کام چور اتنا کہ حد نہیں
” نہیں ، میرا مطلب یہ بھی پتا کروایا تھا کہ چار بچے ہیں ان کے ، دو بیٹیاں دو بیٹے”
“یہ باتیں وہاں محلے میں کھڑے کھڑے بھی بندہ پتا کروالیتا ہے “
” لیکن آدم بھائ آپ درحقیقت پتا کیا کروانا چاہ رہے ہیں ؟”
کوئ لڑکی جس کا نام معطر صبا تھا ، وہ اس شہر کے اسی مکان میں رہتی تھی ، اسے بس اسی کے حال سے غرض تھی
” ایسا کرو مجھے پتا کروادو کہ ان کے گھر میں سب کیا جاب کرتے ہیں ، بچے کتنا پڑھے ہوئے ہیں ، کیا کیا پڑھ رہے ہیں ، شادی شدہ ہیں یا نہیں ( سرسری سا انداز ، تیزی سے دھڑکتا دل ) بلکہ یہ بھی کہ کسی کرائے دار کی ضرورت ہے یا نہیں ؟ “
وہ اٹھتے ہوئے کبرڈ تک گیا ۔ شرٹ اور جینز نکالی
” آپ اس محلے میں کسے کرائے دار ٹھہرانا چاہتے ہیں ؟”
اب کے وہ کچھ تحمل سے پلٹا
” خود کو “
” آئیں ؟؟” نجیب کا چہرہ ہونق لگنے لگا ” آپ کیوں ؟ کیا ؟ کس لئے ؟”
” منہ بند کرو اور مجھے پتا کروا کر دو ، تمہارے پاس صرف بیس منٹ ہیں “
وہ شرٹ لیتا واش روم میں گھس گیا ، تھوڑی دیر بعد واپس آیا تو نجیب موبائل کان سے لگائے اندر آرہا تھا ، وہ وہیں رک کر اسے دیکھنے لگا ، اب وہ یا تو زندگی کا پیغام لایا ہوگا یا موت کا ، موت معطر صبا کا کسی اور کے نام ہونا ۔ زندگی ، اس سیاہ رات کی طرح اسے ایک موقع دیا گیا ہو ، نجیب وہیں کمرے میں چکر لگاتا بات پوری کرتا رہا ، اس کی سمجھ میں ایک لفظ نہیں آرہا تھا لیکن وہ پھر بھی وہیں رکا رہا ، کسی نے قدم منجمد کردیئے تھے ، پانچ منٹ بعد اس کی کال بند ہوگئ
” پتا کروالیا ہے میں نے ، بڑی بیٹی کا نام معطر صبا ہے (اس نے مٹھیاں بھینچ لیں ، چند سیکنڈ ، چند الفاظ ) اس نے حال ہی میں ایم فل کے پیپر دیئے ہیں ، پھر بیٹا ہے دانیال افتخار ، وہ ایک مقامی کمپنی میں آئ ٹی ڈیپارٹمنٹ میں ہوتا ہے ، پھر بیٹی مبشرہ صبا ، کیمسٹری میں بی ایس کررہی ہے ، بیٹا ہے پھر عون افتخار اس کا کالج کا پہلا سال ہے ، ایف ایس سی کررہا ہے ، سارے غیر شادی شدہ ہیں “
” کہیں منگنی وغیرہ کسی کی ؟”
” میرے ذرائع کے مطابق تو نہیں….” مشکوک نظروں سے اسے دیکھا ” بڑی بیٹی کی ہوئ تھی پھر ٹوٹ گئ “
آدم نے بھینچی ہوئ مٹھیاں کھولیں ، شانے ڈھیلے پڑے ، ان گلیوں میں کانچ کی آواز اب بھی گونجتی ہوگی ، اس لڑکی کا نام کسی کے نام سے منسوب نہیں ہوا تھا ، قسمت مہربان تھی ، وقت رحم کررہا تھا ، اس کے اندر سے کسی نے آدھا بوجھ نکال لیا ،لیکن پھر معطر نے جھوٹ کیوں بولا تھا ؟ نجیب اب بھی اسے مشکوک نظروں سے دیکھ رہا تھا ، اس کی بلا سے دیکھتا رہے
” کرائے دار کا پتہ کیا ؟”
” اس گھر کے ساتھ والا گھر خالی ہے لیکن دو مسئلے ہیں ؟”
” پہلا ؟”
” وہ بہت چھوٹا اور تنگ سا گھر ہے ، آپ وہاں نہیں رہ پائیں گے”
” یہ میرے نزدیک مسئلہ نہیں ہے ، دوسرا ؟”
” وہ گھر افتخار صاحب کے بھائ کا ہے اور ان کے ساتھ افتخار صاحب کی اولاد کے تعلقات اچھے نہیں چل رہے “
” یہ مسئلہ ہے” اس نے دانتوں کا کنارہ کونے سے کاٹا پھر نجیب کو دیکھا ” لیکن اتنا بڑا بھی نہیں ہے”
” آدم بھائ ،مجھے آپ کی حرکتیں مشکوک لگ رہی ہیں “
” تم میری حرکتوں پر غور ہی مت کرو “
” سچ سچ بتائیں آپ یہاں کامل منظور کے لئے ہی آئے ہیں ؟”
” جو سچ ہے وہ میں تمہیں بتا چکا ہوں اور چلو باہر اب، میں آرہا ہوں “
انہیں بی بی سی کے آفس جانا تھا ، نجیب بی بی سی کا سوشل میڈیا ہینڈلر تھا ، ہر وقت موبائل پر اپڈیٹس دیتا رہتا ، کیونکہ اس کا کام آفس میں بیٹھ کر کیا جانے والا نہیں تھا تو فی الحال آدم نے اسے اپنے ساتھ لگا رکھا تھا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
زرا کی زرا نظر اٹھا کر اس نے ایک بار پھر مکان کو دیکھا ، اسے یقین تھا اس سے زیادہ خستہ حال مکان پورے لاہور میں کہیں نہیں ہوگا
” کرایہ کتنا لیں گے ؟”
” پندرہ ہزار “
” ایویں ہی پندرہ ہزار ؟ مکان کی حالت دیکھی ہے چچا ؟ اسے تو آثار قدیمہ والے بھی قبول نا کریں “
اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا ساتھ ٹھہرا نجیب چمک کر کہتا یکدم آگے کو ہوا ، حسن صاحب گڑبڑائے
” تو ؟ پورا مکان ہے ، ایک کمرہ تھوڑی ہے “
” تو ہمیں کون سا دس بندوں کے لئے چاہئے ؟ ایک آدم بھائ نے ہی رہنا ہے یہاں ، اوپر سے جیسی گھر کی حالت ہے…”
” نجیب….” کچھ تحمل سے کہتے اس نے نجیب کو گھورا تو وہ چپ ہوا ، آدم حسن صاحب کے سامنے ٹھہرا ” دیکھیں انکل ، اگر آپ کو لگتا ہے کہ مجھے غیر ملکی سمجھ کر آپ مجھے لوٹ لیں گے تو آپ کو غلط لگتا ہے ، میں آٹھ ہزار سے زیادہ ایک روپیہ نہیں دوں گا “
اور بس یہ نجیب کا منہ کھلا ، وہ ایک بار پھر آگے کو ہوکر کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن حسن صاحب فوراً بول پڑے
” ٹھیک ہے ، منظور ہے “
آدم نے وہیں کھڑے کھڑے والٹ کھولا ، اس نے کرنسی یہیں آ کر تبدیل کروائ تھی لیکن فلوقت اس کے پاس چار ہزار ہی تھے تو ایڈوانس میں صرف وہی دے دیئے ، حسن صاحب چلے گئے تو نجیب آدم کا بیگ لے کر اندر آیا
” آپ بہت بھولے ہیں آدم بھائ “
” بیوقوف کہنا چاہتے ہو ؟”
” پانچ ہزار کرایہ بھی نہیں بنتا تھا اس گھر کا ، حالت دیکھیں ، گیس کا کنکشن کٹا ہوا ہے ، بجلی بھی بند ہے اور یہ ۔۔۔” وہ چلتے ہوئے خستہ حال کمرے تک گیا ” دو کمروں کے اس مکان کا آٹھ ہزار کرایہ ؟”
اس نے کچھ نہیں کہا ، وہ پورا گھر دیکھ رہا تھا ، سیاہ جینز کی جیب میں ہاتھ ڈالے وہ پُرسکون نظر آتا تھا
” اوپر سے سیمنٹ تک اتری ہوئ ہے ، کیسے یہاں پہ رہیں گے ؟”
اس کا بیک گراؤنڈ میوزک ابھی تک جاری تھا ، وہ اب کے چھوٹے سے صحن میں لگے درمیانی دروازے تک گیا اور اس پر ہاتھ رکھا ، ایک دیوار ، ایک دروازہ ، یا بیچ میں بہت کچھ حائل تھا
” واش روم کی حالت ….”
” جاؤ یار کچھ لے کر آؤ پہلے تو “
اس نے وہیں کھڑے کھڑے ہاتھ جھلایا تو نجیب کی زبان بند ہوئ ، کچھ دیر اسے گھورتا رہا پھر منہ بناتے باہر کی طرف بڑھ گیا ، اس کے جانے کے بعد آدم سر جھکٹتے سیڑھیوں کی طرف بڑھا ، ساتھ والا مکان بہتر حالت میں تھا لیکن اسے تو جیسے کسی نے گویا زلزلے کے بعد دوبارہ بنانے کی کوشش ہی نہیں کی تھی ، وہ چھت پر آیا تو لمحہ بھر کو رکا ، دیوار بہت چھوٹی سی تھی ،یوں جیسے بتکلف بنائ گئ ہو ، اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا ، کیا یہ بد اخلاقی ہوگی اگر وہ دیوار پھلانگ کر جائے اور نیچے دیکھ لے ؟ کل ہی نجیب ایسا کوئ واقعہ سنا رہا تھا کہ ان کے محلے میں کسی لڑکے کی لڑکی کے بھائ نے چھت سے جھانکنے پر اچھی خاصی درگت بنائ تھی ، وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا دو قدم پیچھے کو ہوا ، جب دروازہ تھا تو دیوار پھلانگنے کی کیا ضرورت تھی ؟ بہت غیر اخلاقی حرکت ہوگی
کچھ دیر وہیں ٹھہر کر اس نے اردگرد کا جائزہ لیا ، ہر طرف مکان ہی مکان تھے ، کچھ کا صحن نظر آتا تھا کچھ کا نہیں ، ساتھ والے گھر کی صرف گیٹ سے برآمدے تک کی جگہ نظر آتی تھی اور فلوقت وہاں کوئ نہیں تھا ، جب تک وہ نیچے آیا نجیب کھانے پینے کا سامان لے کر آگیا تھا ، سیڑھیوں سے اترتے اس کی نظر گوشت پر پڑی تو ابرو اچکائے
” کوئ اور چیز نہیں تھی ؟”
اس سے یہ تیکھی سالن نہیں کھائ جاتی تھی
” آپ کو اب یہی ساری چیزیں ملیں گی “
وہ ابھی تک آٹھ ہزار کو لے کر صدمے میں تھا
” کچن میں کچھ نہیں ہے ؟”
” نا کچن میں کچھ ہے نا کمرے میں ، آپ کو بہت مبارک ہو کیونکہ آپ کو یہاں سونا بھی ڈھنگ سے نصیب نہیں ہوگا “
اب کے اس نے ہاتھ جھلادیا ، چند پاؤنڈز ہی ضائع ہوئے تھے اس کے اور یہ لڑکا یوں تپا ہوا تھا جیسے اپنی ساری جائیداد اس نے حسن صاحب کے نام کردی ہو ، اس کے لئے چند پاؤنڈز تھے لیکن وہ چند پاؤنڈز پاکستان کے آٹھ ہزار روپے بنتے تھے ، اور نجیب سلیم کو اسی بات کا صدمہ تھا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
رات دیر تک وہ باہر کام کرتا رہا ، ہوا کے باعث گرمی زیادہ محسوس نہیں ہوئ تھی اس لئے وہ کچھ سکون سے رہا تھا ، کئ بار زور سے اٹاخ پٹاخ بھی کی تاکہ ساتھ کے مکان والوں کو احساس ہو کہ نیا کرائے دار آیا تھا لیکن وہاں خاموشی رہی ، اسے کئ کئ دن رات کو جاگنے کی عادت تھی اسی لئے صبح تک وہ بالکل فریش ہی رہا ، صبح طلوع ہوئ ہی تھی جب اسے مارک کی کال آئ ، وہ اس انسٹیٹوٹ کا نام بتارہا تھا جس کا سرٹیفیکیٹ کامل کے پاس تھا اور جس کی وجہ سے وہ اور اس کا دوست جیل میں تھے
” اس کا نام کہیں سنا سنا لگتا ہے”
وہ چونکا
” یاداشت کمزور تو نہیں ہورہی تمہاری ؟ اس نام کی تنظیم کو انگلینڈ میں کالعدم قرار دیا جاچکا ہے”
وہ کراہ کر سیدھا ہوا ، یعنی یہ سب صرف ایک نام کی وجہ سے ہوا تھا ، صرف ایک نام ، ان کے پاس کسی جماعت کا ٹریننگ سرٹیفکیٹ تھا لیکن مسئلہ ہی یہی بنا تھا کیونکہ اسی نام کی ایک جماعت پر برطانیہ میں تشدد پسند واقعات کی وجہ سے پابندی لگائ گئ تھی اور ان کی کارکنوں کی گرفتاریاں جاری تھیں سو وہ دونوں بھی اسی چکر میں گرفتار ہوگئے ، ان سب میں کریم تو جلد چھوٹ جاتا لیکن کامل کے لئے اسے کوشش کرنی پڑتی
” اب کیا کروگے ؟”
” کیا کروں گا ؟” وہ بدمزہ ہوا ، ایک نام ؟” یہاں تو وہی بات ہوگئ کھودا پہاڑ اور نکلا چوہا ، یہ بات ہم وہیں سے بیٹھ کر پتا کروالیتے تو۔۔۔”
تو وہ یہاں نا آتا ، معطر کا گھر نا ڈھونڈتا ، معطر سے ملاقات نا ہوپاتی ، اس نے گہری سانس لی ، قدرت کے کام وہی جانے
” اب واپس آجاؤ “
دوسری طرف مارک کہہ رہا تھا
” یہاں کچھ اور کام کرنے ہیں ، اور یہ انسٹیوٹ ، مجھے جا کر اس سب کا معاملہ بھی دیکھنا پڑے گا “
اس نے ماتھا مسلا ، سر درد کررہا تھا ، عجیب وحشت تھی اس گھر میں
” چھٹیاں بھی اس لئے آگے کی ہیں ؟”
” ہاں….”
اس نے دو چار باتوں کے بعد کال کاٹ دی ، پھر تھک کر کرسی پر سر رکھا ، معطر سے جانے کب ملاقات ہوتی ۔ اس نے سوچ رکھا تھا کہ وہ کیا کیا کہے گا ، اس سے معافی مانگے گا ، ایک موقع ، چند گزراشات ، وہ اس سے خفا ہوگی ،ہاں ٹھیک ہے اتنا تو اس کا حق تھا
لیپ ٹاپ اٹھاتے وہ مزید چند باتیں سوچتا اندر گیا ، نجیب ٹھیک ہی کہتا تھا اس گھر کو تو آثار قدیمہ والے بھی نظر انداز کردیتے ، فرنیچر نام کا بھی نہیں تھا ، دو کمرے تھے ایک کچن اور باہر پکا چھوٹا سا صحن ، ساتھ والے سرخ گھر کے ساتھ یہ عجیب سا لگتا تھا
سامان کمرے میں رکھتے وہ کچن تک آیا تو چند پیکٹ رکھے تھے ، اسے یہاں کے بازاری کھانوں میں ڈلا آئل سخت ناپسند تھا تو کوئ سبزی بنانے کا ارادہ تھا لیکن کچن کی حالت سے لگ رہا تھا کہ ارادہ بدلنا ہی بہتر ہوگا ، ڈھونڈ کر انڈہ اور سارا سامان رکھا تو ایک بار پھر اکتاہٹ نے آن گھیرا
موبائل جیب سے نکالتے نجیب کا نمبر ڈائل کیا
” مجھے پتا تھا آپ کال کرکے کہیں گے کہ نجیب واپس لینے آجاؤ “
” نمک نہیں لائے تھے ؟”
اس نے سارے سامان کو دیکھتے کچھ بے زاری سے پوچھا
” نہیں ہے ؟”
” نہیں۔۔۔”
” بھول گیا ہوگا آپ ایسا کریں پڑوس والوں سے مانگ لیں “
پڑوس والے ؟ یعنی معطر سے ؟
” ایسے کیسے مانگ لوں”
” زبان سے “
” نجیب ۔۔۔۔”
” اچھا سوری ، میں زرا کہیں دور گیا ہوا ہوں تو آنا مشکل ہوگا ، ابھی مانگ لیں جاکر میں واپس آکر باقی سامان کے ساتھ نمک بھی دے جاؤں گا “
اس نے کال کاٹتے ہونٹ کاٹے ، چلا جائے ؟ پھر بالوں پر ہاتھ پھیرا اور قدم باہر رکھے ، گلی چھوٹی سی تھی لیکن صاف ستھری تھی ، وہ گہری سانس لیتا دروازے کے باہر ٹھہرا پھر سر جھٹکا ، نظر اٹھا کر گھر کو دیکھا
تو یعنی وقت ملاقات آن پہنچا تھا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
دروازے پر پہلی دستک ہلکی ہوئ تھی ، یوں جیسے کسی نے بس دو انگلیاں رکھ کر ہٹا لی ہوں ، اس کی دو انگلیوں کی حرکت اندر نہیں پہنچی تھی سو آنے والے نے اس بار کچھ زور سے دروازہ بجایا ، دروازے تک آتی ساجدہ نے ہلکا سا دروازہ کھولا پھر گھور کر لڑکے کو دیکھا
” جی ؟”
” نمک مل سکتا ہوں ؟”
” کیا ؟”
وہ تھوڑا رکا پھر سوچنا چاہا کہ کیسے بتائے
” جسے سالن میں ڈالتے ہیں”
اس بار جملہ زیادہ لمبا ہوا ، اسے احساس ہوا شاید خاتون کو انگلش نہیں آتی تھی ، نمک کو اردو میں کیا کہتے تھے ؟ اس کی نظر اردگرد گئ ، ساتھ میں کوئ لڑکا جارہا تھا ، اسے روک کر سامنے کرتے اس نے بتایا کہ اسے کیا چاہئے تھا
” نمک مانگ رہے ہیں”
وہ پانچ فٹ کا لڑکا دو فٹ کی لمبی زبان سے کہتا فوراً غائب ہوا ، ساجدہ نے سوالی کو دیکھا پھر سر تا پیر گھورا
وہ بھورے بالوں گوری رنگت ، نیلی آنکھوں والا لڑکا تھا ، کوئ پہلی ہی نظر میں بتادیتا کہ وہ مغرب سے تھا ، نیلی جینز پر سیاہ ٹی شرٹ پہن رکھی تھی ، چہرے پر ہلکی سی شیو تھی
” بھجواتی ہوں “
وہ جانتی تھیں اسے ان کی بات سمجھ نہیں آئ ہوگی لیکن سوالی نے پھر بھی سر ہلادیا ، دروازہ بند کرتے برآمدے تک آتے وہ کچن کے سامنے رکیں
” معطر…”
” جی ….”
وہ کچن میں تھی
” زرا سا نمک اٹھا کر گیٹ پر کوئ آیا ہے اسے دے آؤ ، باہر سے ہی دے دینا ،گیٹ مت کھولنا “
ان کے گھٹنوں میں آج کل شدید درد رہتا تھا تو وہ اندر کمرے میں چلی گئیں
” اچھا امی …..”
چند لمحے گزرے اور کٹوری میں سفید نمک لئے وہ باہر نکلی ، جس نے سفید رنگ کے لباس پر چنری والا دوپٹہ سینے پر پھیلا رکھا تھا ، برآمدے سے صحن ، صحن سے گیٹ تک آتے اس نے آسمان کو دیکھا ، آج یقیناً بارش ہونے والی تھی پھر نظر گیٹ پر گئ ، زرا سا گیٹ کو کھولتے اس نے وہیں سے نمک بڑھایا ، دروازے کے پار ٹھہرے سوالی نے اس کی کلائیاں دیکھیں ، وہ خالی تھیں پھر اس کی نظر نمک کی پیالی پر گئ ، وہ کئ لمحے ساکت سا ٹھہرا رہا
” نمک مانگا تھا ؟”
سوالی سے سوال کیا جارہا تھا ، اس نے کچھ کہنے کو منہ کھولا پھر بند کرلیا
” لینا ہے تو لو ورنہ جاؤ”
اب کہ وہ کچھ اکتائ ، دوسری جانب سے کٹوری نہیں تھامی گئ تھی ، اسے غصہ آیا کٹوری والا ہاتھ واپس کھینچتے اس نے دروازہ بند کرنا چاہا جب دروازے کے پار ٹھہرے سوالی کی آواز کانوں میں پڑی
” تم اس کلائ سے ان ہاتھوں کو محبت دان کرسکتی ہو معطر ؟”
معطر صبا کو دروازہ بند کرکے قدم بڑھانے تھے لیکن اس کا ہاتھ دروازے پر جما رہ گیا ، اس کے قدم زمین پر جمے رہ گئے ، وہ آواز کو پہچان گئ تھی ، وہ ایک آواز سے سوالی کو پہچان گئ تھی ، وہ دھیرے سے پلٹی ، گیٹ بند کرتا ہاتھ گیٹ کھولنے کو آگے ہوا ،مڑتے قدم واپس ہوئے ، اس نے خالی کلائیوں سے گیٹ کھولا
وہم ہوگا ، یا وہ نیند میں ہوگی ، خواب ہوگا اور وہ ٹوٹ جائے گا ، مغرب کا سوالی اس کے در پر کیوں آئے گا ؟ ، دروازہ کھلا اور وہم حقیقت بن گیا ، خواب پہلی ہی سوچ پر ٹوٹا ، وہ سوالی دیار غیر سے ایک سوال لے کر اس کے دروازے پر آن ٹھہرا تھا ، کٹوری میں نمک لاتی لڑکی سے محبت لانے کی التجا کی جارہی تھی ، سوالی سامنے ٹھہرا تھا ، نمک تھامے لڑکی نے نہیں دیکھا تھا لیکن سامنے ٹھہرا شخص پتھر کا مجمسہ بنا تھا
وہ دن گن کر بتا سکتا تھا جتنے دن بعد اس نے وہ چہرہ دیکھا تھا ، وہ سات سمندر کی مٹی اپنے قدموں میں لایا تھا ، مشرق کی باسی کی آنکھیں بے یقینی سے مغرب کے اس سوالی کے چہرے پر جمی رہ گئیں
” میں یہاں کچھ اور مانگنے آیا تھا معطر “
اس کے گلے میں کچھ اٹکتا تھا ، اس کی آنکھیں کچھ کہتی تھیں ، وہ نظریں چرانے کی کوشش میں زمین کا زرہ گن آتا تھا پھر خاک سے نظر اٹھا کر پتھر لگتی اس لڑکی کو دیکھتا
” تم مجسم صورت سامنے ہو تو دیکھو مجھے یہ بھی بھول گیا میں نے کیا مانگنا تھا “
جس کی کٹوری میں نمک تھا وہ کٹوری زمین پر گر گئ ، اس کے چہرے پر آتی لٹ ہوا کی لہر سے چہرے پر گردش کرتی تھی
” ایک بار میرا نام پکار لو معطر ، صرف ایک بار تاکہ مجھے یقین ہو جائے کہ تم نے مجھے بھلایا نہیں ہے “
” ایرک… “
اس کے لب بے یقینی سے پھڑپھڑائے
” تم نے تو پکار کر خاک ہی کر ڈالا “
ایرک ؟ تو کیا وہ نہیں جانتی تھی کہ اس کے سامنے ٹھہرا شخص آدم تھا ؟ اس نے سر جھٹکا ،پھر نظر اٹھائ اور اسے دیکھا ، کئ ساعتیں جیسے وقت رک گیا ہو ، جیسے آسمان پر کوئ سیاہ بادل نہیں تھے ،جیسے زمین پر کوئ ٹھنڈی ہوا نہیں چل رہی تھی ، اس کے گلے میں کچھ اٹکتا تھا ، اس کی آنکھیں دیکھو ، وہ ان آنکھوں میں کیا کیا بھر لایا تھا ؟
” کیسی ہو ؟”
تو اسے اب حال پوچھنا یاد آیا تھا ؟ اسے آئینے سے جا کر اپنا حال بھی پوچھنا چاہئے
” تم ۔۔۔ تم یہاں کیا کررہے ہو ؟”
اسے بھی اب پوچھنا یاد آیا تھا ، اسے آئینے کے سامنے جا کر اپنا چہرہ دیکھنا چاہئے
” میں پرانے دنوں کا قصہ چھیڑنے آیا تھا پر دیکھو میری زبان تمہیں دیکھ کر الفاظ ہی بھول گئ ہے ، تم نے مجھ پر کیا سحر کیا ہے ؟”
اس نے سنا تھا مشرق کی زمین روگ زدہ تھی ، وہ مانتا تھا وہ واقعی روگ زدہ تھی ، چنری پہننے والی لڑکی کو ہوش آیا ، اس کی نظر زمین پر گئ ، کٹوری اور نمک زمین پر گرے تھے پھر اس کی نظر سامنے گئ ، سیاہ لباس والا لڑکا اسے دیکھ رہا تھا ، اس کا سر نفی میں ہلا پھر وہ دو قدم پیچھے کو ہوئ
” تم وہم ہو ….”
وہ اس شخص کی موجودگی ماننے کو تیار نہیں تھی ، وہ اس لڑکی کی موجودگی کو سب سے بڑا سچ کہتا تھا
” معطر۔۔۔۔”
معطر صبا کا سر نفی میں ہلا ، اس نے گیٹ کو کھینچا
” یہ تم نہیں ہو “
وہ نہیں تھا، اسے خود اپنی موجودگی پر شک ہوا
” ہاں میں نہیں ہوں ، میرے اردگرد اب میں نہیں رہا، میرے اردگرد اب تم ہو “
مشرق کی سفید لباس والی لڑکی نے نفی میں سر ہلاتے کھلا گیٹ بند کردیا ، اس کا چہرہ اس کے لباس سے زیادہ سفید لگتا تھا پھر وہ ٹرانس سے چلتی ہوئ برآمدے تک آئ ، وہاں رکھا تخت خالی تھا ، وہ ساکت زہن سے وہاں بیٹھی
وہ مغرب سے یہاں آیا تھا ؟ کیوں ؟ وہ وہم کی صورت لگ رہا تھا ، وہ سچ کی صورت نکل آیا تھا ، ایرک یہاں کیوں آیا تھا ؟
اس کے دروازے کے پار ٹھہرا شخص جیسے اس کی چنری میں ، ان خالی کلائیوں میں الجھ گیا تھا ، اسے کسی کے سوال کرنے کا ڈر نا ہوتا تو وہ ایک بار پھر دروازہ کھٹکھٹاتا ، وہ اس سے پوچھتا کہ وہ کیسی تھی ؟ اسے بتاتا وہ کیسا تھا ، وہ رک کر اسے دیکھتا ، وقت ازلنگٹن کی سڑکوں پر لوٹ جاتا جب وہ اسے تنگ کرتا تھا اور تنگ ہوجاتی تھی ، کیا ہو اگر ہم وقت کو واپس لا سکیں ؟ اس کے تھکے قدم ساتھ والے گھر کی طرف پلٹ رہے تھے ، کیا ہو اگر ہم وقت کو واپس لا سکیں ؟
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
وہ پورا دن گھر میں گھومتی رہی ، نظر بار بار گیٹ پر جاتی ، وہ ایرک تھا ، اسے یقین ہوگیا تھا ، لیکن اسے اس کے گھر کا پتا کہاں سے ملا ، اس نے سب سے پہلی کال بانو آپا کو کی
” وہ وہاں ہے ؟”
انہیں بے یقینی ہوئ اور معطر سے زیادہ ہوئ
” وہ میرے سامنے ٹھہرا تھا ، وہ وہی تھا ، صرف چہرہ ہوتا تو میں کہہ دیتی اس کا مشابہ لگتا کوئ شخص میری گلی میں بھٹک کر آگیا تھا لیکن وہ وہی تھا ، اس کی آنکھیں ، اس کی آواز وہ وہی تھا آپا “
” لیکن وہ ۔۔وہ کیسے “
” آپ نے ایڈریس دیا تھا اسے ؟”
” میں نے تم سے کیا گیا وعدہ نہیں توڑا معطر “
” پھر وہ یہاں کیسے آیا ہے ؟ کیوں ؟”
” اس نے مجھے نہیں بتایا “
وہ سر ہاتھوں میں تھام کر بیٹھ گئ ، نظریں بار بار گیٹ پر اٹھتیں ، وہ جانتی تھی وہ دوبارہ آئے گا ، وہ بلا کا ضدی تھا ، لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ اس شخص کی ہر ضد کسی کے آگے ہار گئ تھی
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
نا اس نے دوبارہ دروازہ کھٹکھٹایا نا وہ دوبارہ اس کے سامنے آیا ، اگلا دن گزر گیا اور یہ رات کا قصہ تھا جب سب اپنے کمرے میں سو رہے تھے اور وہ سیڑھیاں چڑھتی چھت پر جاتی نظر آرہی تھی ، آسمان بادلوں سے ڈھکا تھا اور دو دن ہوگئے وہ برس ہی نہیں رہا تھا ، چھت پر لگا لوہے کا دروازہ کھولتے اس نے جوتا وہیں اتارا اور ننگے قدموں چھت پر گئ ، چچا کے گھر کے ساتھ لگی دیوار سے ٹیک لگائے وہ وہیں بیٹھ گئ ، سر گھٹنوں پر رکھ لیا
ڈھائ سال میں کتنے دن ہوتے تھے وہ نہیں جانتی تھی لیکن اسے بابا سے بچھڑے کتنے دن ہوگئے تھے وہ یہ بتا سکتی تھی ، وہ پوروں پر ایک ایک دن کی ازیت گنوا سکتی تھی ، وہ ایک ایک رات کا حال بتا سکتی تھی جب دن سکون سے گزارتے اس نے راتیں روتے ہوئے گزاری تھیں ، کون کہتا ہے باپ بچھڑ جائے تو صبر آجاتا ہے ؟ اسے تو اب تک نہیں آیا تھا
سامنے دیکھتی آنکھوں میں نمی ابھری ، وہ کہتی نہیں تھی لیکن وہ تھک گئ تھی ، وہ بتاتی نہیں تھی لیکن اسے کوئ کاندھا چاہئے تھا جس پر وہ سر رکھ سکتی ، گھر کی بڑی بہن بنتے ، سب کو تسلیاں دیتے ، ماں کو سنبھالتے ، گھر کے باہر سب سے لڑتے وہ خود کو کہیں کھو بیٹھی تھی ، بچپن سے اب تک وہ اپنے خاندان کا سامع تھی ، کسی نے پوچھا ہی نہیں کہ تم بھی سامنے بیٹھو تو تمہیں سن لیں
اس کے تو کوئ دوست بھی نہیں بنتے تھے ، اور دوست سے اسے کوئ شخص یاد آیا ، ازلنگٹن کی سڑکیں ، سڑکوں پر مسکرا کر چلتا کوئ شخص ، سنان
اس کے آنسو مزید تیز ہوئے پھر اسے دروازے پر آنے والا شخص یاد آیا ، اسے لگتا ہوگا معطر صبا نہیں جانتی کہ وہ ایرک نہیں آدم تھا ، وہ اسی دنیا کی باسی تھی ، اسے علم تھا اور بخوبی تھا ، نہیں تھا تو ایک یقین نہیں تھا ، اب وہ پورا ازلنگٹن اس کے خلاف لاتا یا پورا لاہور اس کے حق میں کھڑا کر لیتا اسے فرق نہیں پڑتا تھا ، بارش کی پہلی بوند سر پر گری تو وہ چونکی ، آسمان پر بہت تیز بادل تھے ، ہوا اب آندھی میں بدلنے لگی تھی ، ہاتھوں کو گالوں پر رگڑتے وہ اٹھنے ہی لگی جب ساتھ والی چھت پر کھٹکا ہوا ، اس کا وجود یکدم تھما ، آہستہ سے اٹھتے اس نے سر اونچا کیا ، چھوٹی سی دیوار سے دوسری جانب کوئ لڑکا نظر آرہا تھا جو گدا زمین سے اٹھا رہا تھا ، معطر دھیرے سے اٹھی ، آسمان پر چمکتی بجلی میں اسے صاف نظر آیا تھا کہ وہ کون تھا
” تم میرے شہر میں کس لئے آئے ہو ؟”
گدا اٹھاتے لڑکے کے ہاتھ تھمے ، عجیب تھا کہ وہ آوازیں پہچان لیتے تھے ، اس کا سر گھوما ،کتنی ہی دیر وہ چھت کی دوسری طرف کھڑی لڑکی کو دیکھتا رہا جو اندھیرے میں صحیح سے نظر بھی نہیں آتی تھی ، وہ بستر وہیں رکھتا اس کی طرف چلا آیا
” تم نے کہا تھا کہ لاہور کی کسی گلی میں کوئ چوڑیوں والی کھڑکی ڈھونڈنا ، دیکھو میں نے وہ کھڑکی ڈھونڈ لی “
” یہاں کس لئے آئے ہو ایرک ؟”
” میرا نام آدم ہے “
وہ یکدم رکی
” مجھے نام میں مت الجھاؤ “
بجلی ایک بار پھر چمکی تھی
” تم روئ ہو؟”
کیا وہ بہرا تھا ؟
” میری بات کا جواب دو “
” تم روئ کس لئے ہو ؟”
اس نے جھٹ آنکھوں پر سے آنسو صاف کئے ،گویا وہ صرف بہرا ہی نہیں اندھا بھی تھا ، کس نے کہا وہ روئ تھی
” اپنی نظریں مجھ سے دور رکھو “
اس نے نظریں ہی نہیں قدم بھی دور کرلئے
” تم دور سے بھی ویسی ہی نظر آتی ہو “
” چچا کے گھر کیا کررہے ہو ؟”
وہ سلگی
” کرائے پر لیا ہے”
” کسی دن یہاں سے لاش ملے گی تمہاری “
وہ تڑخ کر کہتی نیچے کی طرف بڑھی
” معطر ….”
” میرا نام اپنی زبان سے مت لینا ، معطر صبا خود کو لندن میں دفن کر آئ تھی “
اسی سخت لہجے میں کہتے وہ نیچے اتری ، سیڑھیاں ، پھر برآمدہ اور برآمدے سے اندر جاتے ہوئے وہ رکی ، باہر اب تیز آندھی کے ساتھ بارش شروع ہوگئ تھی ، وہ لمحہ بھر کو وہیں رکی رہی پھر جھنجھلا کر دانیال کے کمرے تک گئ ، دو تین بار دستک دی تو اس نے نیند سے بوجھل ہوتی آنکھیں کھولتے اسے دیکھا
” کیا ہوا ؟”
” ساتھ والے گھر میں کوئ لڑکا کرائے پر آیا ہوا ہے”
” تو ؟”
” جا کر ملو اس سے “
” یارر صبح مل لوں گا ، یہ کوئ وقت ہے ملاقات کا ؟”
وہ جھنجھلایا
” ملاقات کا کون کہہ رہا ہے ؟ موسم دیکھا ہے باہر ؟ چچا کے گھر کو ایک ہوا کے جھونکے کی ضرورت ہے اور وہ ملبے میں بدل جائے گا ، جاکر اس لڑکے سے کہو کہیں اور چلا جائے “
اب کے وہ بے زار ہوئ ، اسے بھی یہی جگہ ملی تھی رہنے کو ؟ دانیال کچھ دیر اسے دیکھتا رہا پھر اندر گیا
” دانیال…..”
” آتا ہوں ، چھاتا تو لینے دو “
وہ اندر سے بولا تو اس نے سر جھٹکتے قدم باہر کی طرف بڑھا لئے ، برآمدے میں تخت پر بیٹھے وہ باہر برستی بارش دیکھنے لگی ، دانیال چھاتا تھامے اونچی آواز میں بڑبڑاتا گیٹ کی طرف گیا ، تھوڑی دیر بعد ساتھ والا دروازہ بجنے کی ہلکی سی آواز آئ پھر کھلنے کی ، وہ وہیں بیٹھی رہی ، اگر اس نے دانیال کو بتادیا کہ وہ کیوں آیا تھا ؟شاید وہ غلط سوچ رہی تھی ؟ ہوسکتاہے وہ یہاں کسی کام سے آیا ہو ،لیکن پاکستان میں اس کا کیا کام ؟
قریب دس منٹ گزرے تھے جب گیٹ ایک بار پھر کھلا اور دانیال اندر آیا وہ سکون کا سانس لیتی پلٹنے ہی لگی تھی جب وہیں رک گئ ، دانیال کے ہاتھ میں ایک بیگ تھا ، سیاہ رنگ کا چھوٹا بیگ ، پھر اس کی نظر پیچھے کی جانب گئ ، گیلے بالوں اور گیلی شرٹ پہنے لڑکا ، وہ وہیں برآمدے میں کھڑی رہ گئ
” آئیں ….”
سامان برآمدے کے تخت پر رکھتے اس نے لڑکے کو اشارہ کیا تو وہ کچھ تذبذب سے برآمدے تک آیا پھر رکا ، سیاہ سوٹ میں سرخ پڑتے چہرے کے ساتھ وہ سامنے ٹھہری تھی ، نظر اس پر تھی گویا بھسم کرنے کا ارادہ ہو
” معطر تم امی کے پاس جاؤ میں آتا ہوں “
اسے آنکھوں سے اشارہ کرتے وہ واپس سے مہمان کی طرف پلٹا
” آدم سر ، آپ یہاں بیٹھیں میں آتا ہوں “
وہ اندر کی طرف بڑھ گیا ،معطر کے ساکت وجود میں حرکت سی ہوئ
” یہاں کیا کررہے ہو تم ؟”
سلگ کر اس سے پوچھا تو وہ جو تخت پر بیٹھ رہا تھا رکا
” تمہارا بھائ لے کر آیا ہے “
” میں نے اس سے کہا تھا کہ کہیں اور چھوڑ آئے یہاں آنے کا نہیں کہا تھا “
” چھوڑ آئے مطلب ؟”
وہ کوئ بچہ تھا ؟ اسے مزید کچھ کہنے کی بجائے وہ تخت پر بیٹھا اور سر کو جھاڑا ، معطر اسے کھاجانے والی نظروں سے دیکھتی امی کے کمرے کی طرف گئ جہاں دانیال نے اُنہیں اٹھا کر صورتحال بتادی تھی ، مبشرہ ویسے ہی لیٹی تھی ، اس کی نیند اس قدر پکی ہوتی تھی کہ نا طوفان سے کھلتی تھی نا زلزلے سے
” ایسے کیسے جوان جہان لڑکے کو گھر میں رکھ لیں واپس بھیجو اسے “
امی حسب توقع صاف منع کرنے لگیں
” امی صرف دس بارہ دن رکیں گے بابا کا کمرہ شروع شروع میں ہے وہیں ٹھہرادیں گے “
” میں اسے ہرگز بابا کے کمرے میں نہیں رکنے دوں گی “
وہ فوراً سامنے آئ
” معطر ۔۔۔” دانیال جھنجلا گیا ” اب واپس بھیج دوں ؟”
” واپس بھیج دو ، زرا جو تمہارے اندر عقل ہو ،ایسے کیسے گھر میں لے آئے ؟ جوان بہنیں ہیں گھر میں ، پتا نہیں کس قماش کا لڑکا ہے ، کچھ سمجھ بھی ہے تمہارے اندر ؟”
” امی وہ کوئ ڈاکو تھوڑی ہے ، آدم کیان ہے ، آپ جانتی بھی ہیں اسے ؟”
اور اس لمحے معطر کا دل چاہا خود کو جا کر سو تھپڑ مارے ، اچھی طرح علم تھا کہ اس کا بھائ آدم کیان کا کتنا بڑا فین ہے پھر بھی اس کی مدد کے لئے بھیج دیا
” تو ؟ کون سا وقت کا ولی ہے ؟”
” امی ، وہ اتنے بڑے سلیبرٹی ہیں ، آپ کو پتا ہے وہ مسلمانوں کے لئے برطانیہ میں کتنا لڑتے ہیں ؟ “
” ہوگا اچھا لیکن میں اسے گھر میں نہیں ٹھہرا سکتی “
گڈ ، وہ امی کے ساتھ جا کر کھڑی ہوگئ ، ماتھا سلگ رہا تھا ، کیا ضرورت تھی اس کی مدد کے لئے بھیجنے کی ؟
” وہ کامل کی رہائ کے لئے کوشش کررہے ہیں ، اسی سلسلے میں یہاں آئے ہیں ، کیا ہم ان کی تھوڑی سی مدد بھی نا کریں ؟ منظور چچا نے ہمیشہ ہمارا ساتھ دیا ہے امی “
اور بس ، امی کے ماتھے کے بل ڈھیلے پڑے ، منظور صاحب کے ان کے شوہر سے بہت قریبی تعلقات تھے ، گلی کےآخر میں ہی تو ان کا گھر تھا ، کامل ان کے لئے بیٹوں جیسا تھا
” پھر بھی ۔۔۔۔”
” چچا کو چار ہزار ایڈوانس دیا ہے ، ہوٹل کہہ رہے تھے کہ واپس جا نہیں سکتے ، کامل کی یونیورسٹی اور گھر بار بار آنا پڑتا ہے ، چند دن کا کام ہے ان کا ، چاچو کے گھر کی حالت آپ کے سامنے ہے ، میں خود ان کو یہاں نہیں ٹھہرانا چاہتا لیکن کوئ اور آپشن بھی نہیں ہے ، اب بتائیں کیا کروں ؟”
” اچھا ٹھیک ہے لیکن وہ گھر میں نہیں رکے گا ، بیٹھک صاف کردو اسے “
” امی ؟ وہاں دو سال سے صفائ تک نہیں کی “
وہ مزید جھنجھلا گیا
” ٹھہرے گا تو وہیں ٹھہرے گا ورنہ ابھی نکالو اسے “
” امی ایسے کیسے ؟”
ساجدہ نے بنا ان کا احتجاج سنے قدم نیچے اتارے جب دانیال فورا آگے بڑھا
” اچھا ٹھیک ہے ، میں کل انہیں بیٹھک میں ٹھہرادوں گا ، وعدہ وہ گھر کے اندر آئیں گے بھی نہیں ، لیکن ابھی میں بابا کا کمرہ کھول رہا ہوں، آپ آرام کریں “
وہ تیزی سے کہتا باہر کی طرف بڑھا ، بیٹھک گھر کے کونے میں بنی تھی ، دروازہ گلی میں کھلتا تھا تو گویا گھر سے الگ ہی تھی ، یعنی وہ جو بھی کام ہو گلی کا دروازہ کھولتا کرآئے اور اندر کی طرف دیکھے بھی نا ، لیکن ۔۔۔معطر نے سرخ پڑتے چہرے سے باہر کی طرف کاٹ دار نظر ڈالی
وہ تھا تو گھر میں ہی نا ۔۔۔۔ افففف
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
