192.3K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Laa (Episode 3)

Laa By Fatima Noor

دو سال کے انتظار میں وہ شخص تھک گیا تھا جو دو صدیوں کا انتظار کرسکتا تھا۔ اسے آج بھی وہ دن یاد تھا جب چھت پر کھڑے ہوکر تیمور نے منگنی کے بعد اس کے موبائل پر پہلا میسج کیا تھا

” تم میری زندگی میں سرخ گلاب کی طرح داخل ہوئ ہو “

محبت کا پہلا اظہار !!

اسے آج بھی وہ لمحہ یاد تھا جب پہلی بار تیمور کو دیکھتے اس کا دل چاہا وہ وہیں رک کر اسے دیکھتی رہے

محبت کا پہلا احساس !!

وہ جگنوؤں بھری شام جب وہ اسے کہہ رہا تھا کہ وہ پورا کا پورا تیمور حیدر مانگ لے

رشتے میں پہلا مان !!

اب یوں ہوا تھا کہ وہ جو سرخ گلابوں کی باتیں کرتا تھا وہ بچھڑنے کی نوید سنا رہا تھا

وہ اپنے کمرے میں کھڑکی کے ساتھ بیٹھ کر کتنی ہی دیر روتی رہی ، کتنی ہی دیر افسوس کرتی رہی ، اس نے کیوں ایک عارضی شخص کو دل میں جگہ دی ؟ وہ شخص عارضی ہی کیوں نکلا ؟ وہ انتظار بھی تو کرسکتا تھا ؟ اب تو انتظار بھی نہیں کرنا تھا ، وہ تو ہاں کرنے جارہی تھی ، اب کیوں پھر ؟

ہفتے بھر کی بات تھی جب خاندان میں ہر کسی کو علم ہوگیا

تیمور حیدر نے معطر صبا کو ریجیکٹ کردیا ہے ، وجہ کیا تھی کسی نے نہیں پوچھا ، رشتہ کیوں توڑا گیا کسی کو دلچسپی نہیں تھی، دلچسپی تھی تو تبصروں میں

انگلینڈ جانے کا کہہ رہی تھی ، تیمور نے منع کردیا

دو سال سے رضیہ تاریخ لینے کی کوشش کررہی ہے ، یہی ہونا تھا

معطر اور تیمور کا جوڑ تھا بھلا ؟

لڑکی کو باہر جانے کے خواب زیادہ عزیز تھے

وہ افتخار کی وجہ سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی

وہ جو تیمور حیدر کے نام سے جڑی تھی تو اس پر رشک کیا جاتا تھا وہ اب قابل رحم بن گئ تھی ، قابل ترس بھی ، لڑکیوں کو ریجکٹ کیا جانا ان کے ساتھ کیا کرتا ہے یہ بات مرد کبھی نہیں سمجھ سکتے ، انا کے لئے زندہ رہنے والے مردوں کو محبت کرنے کا حق نہیں ہونا چاہئے

وہ اگلے کئ دن ساکت زہن کے ساتھ سارے کام کرتی رہی ، درد بھرے دل کے ساتھ ہر پل گزارتی رہی ، بابا کی طبیعت مزید خراب ہوتی گئ ، اپنی بیماری کم اس کا درد زیادہ کمزور کردینے والا بن گیا ، بستر پر پڑے تو اٹھ ہی نا سکے ، یوں لگنے لگا جیسے ہر طرف سے مصیبتیں ایک ساتھ آن پڑی ہوں ، وہ گھبرا کم اور بوکھلا زیادہ گئ خرچے ، درد تکلیف ، ہر شے ایک ساتھ حملہ آور ہوگئ

” میں پڑھائ چھوڑرہا ہوں”

دانیال سرخ آنکھ کے ساتھ اس کے سامنے بیٹھا کہنے لگا، وہ بی ایس آئ ٹی کے چوتھے سیمسٹر میں تھا

” کیوں ؟”

“فیس بہت زیادہ ہے “

” پہلے بھی اتنی ہی تھی”

” پہلے اتنی زیادہ نہیں لگتی تھی “

وہ لب کاٹنے لگا ، وہ گھر کا بڑا بیٹا تھا ، وہ گھر کی بڑی بیٹی تھی ، گہری سانس لیتے اس نے گویا ہمت کرنی چاہی

” میں کچھ کرتی ہوں دانیال ، تم بے فکر رہو “

” کیا کروگی ؟”

” کچھ نا کچھ تو کرلوں گی”

وہ بڑبڑائ ، کچھ نا کچھ تو کرنا ہی تھا

” سب سے پہلے پھر خود کو آذاد کردو “

” کس چیز سے ؟”

” تیمور حیدر سے “

وہ ساکت پتلیاں لئے اسے دیکھ رہی تھی

” میں قید نہیں ہوں “

” ہو معطر۔۔۔۔ تم نے خود کو قید کر رکھا ہے، جو نہیں مل سکا اسے بھلا دو “

” ، چار سال دیئے ہیں اسے ، آسان ہے یوں بھلانا ؟ “

” جن ماں باپ نے بائیس سال پالا ہے ان کو چار سال کی محبت کے لئے بھول گئ ہو ؟”

بھول گئ ہو ؟ وہ ساکت رہ گئ

” بابا تمہارا غم لے کر وقت سے پہلے چلے جائیں گے معطر “

وہ بس اسی ایک جملے کو پکڑ کر بیٹھ گئ ، وہ ایک جملہ دل میں کھب گیا، دانیال اٹھ کر چلا گیا ، وہ بیٹھی رہ گئ

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

جن پر زمہ داریوں کے بوجھ ہوں انہیں غم منانے کی فرصت ملتی ہے نا اجازت ، جن کے دل میں خواہشوں کے مقبرے ہوں انہیں صبر بھی آہی جاتا ہے ، جانے اسے آیا تھا یا نہیں لیکن اس نے سارے غم پیچھے دھکیل دیئے، مضبوط تھی یا نہیں لیکن مضبوط بننے کا ناٹک ضرور کر سکتی تھی ، زندگی چند دن رکنے کے بعد پھر سے چلنے لگی ، دل رکا تھا تو وہ رک ہی گیا تھا ، بابا نے اس سے کچھ نہیں کہا ، کچھ نہیں پوچھا ، نا کوئ الزام نا کوئ سرزنش، وہ شاید اس کے دل کو مزید تکلیف نہیں دینا چاہتے تھے

” تم کہو تو میں تیمور سے بات کروں ؟”

وہ انہیں دوائ دینے گئ تو اس کے چہرے کو دیکھ کر وہ پوچھ بیٹھے

” کیا بات کریں گے ؟”

” یہی کہ وہ منگنی نا توڑے ، وہ میری بیٹی کے ساتھ ایسا نہیں کرسکتا “

” آپ اپنی بیٹی کو اس کی نظر میں گرانا چاہتے ہیں ؟'”

” میں یہ کیوں چاہوں گا معطر ؟”

انہیں دکھ ہوا ، وہ گلاس رکھتی ان کے سامنے بیٹھی ، مبشرہ سکول کا کام کررہی تھی ، وہ پچھلے دو سال سے بابا کے آس پاس منڈلاتی رہتی تھی ، معطر جانتی تھی وہ خوفزدہ ہے ، ہر کوئ خوفزدہ تھا

” پھر اس سے بات مت کریں بابا ، میں معطر صبا ہوں ، مجھے یہ نہیں سکھایا گیا کہ اگر کوئ مرد مجھے اپنی زندگی سے نکال دے کہ تو میں اس کی زندگی میں دوبارہ شامل ہونے کا سوچوں بھی “

” تمہارا دل ٹوٹا ہے بیٹا “

” ہاں وہ ٹوٹا ہے بابا لیکن وہ رکا نہیں ہے ، میرے پنکھ زخمی ہیں لیکن وہ گرے نہیں ہیں ، میں اس ٹوٹے دل اور زخمی پنکھوں کے ساتھ زندہ بھی رہ لوں گی اور اڑ بھی لوں گی ، میرے پاس کھلا آسمان ہے ، میں اس پر اڑ لوں گی ، میرے پاس وسیع زمین ہے ، میں اس پر دوڑ بھی لوں گی ، چل بھی لوں گی ، آپ نے مجھے تھکنا تو نہیں سکھایا “

وہ بہت کوشش سے مسکرا پائ ، بہت دقت سے ، تاکہ انہیں دکھا سکے کہ وہ ٹھیک تھی

” مجھے تمہارا رشتہ وہاں نہیں کرنا چاہئے تھا “

انہیں افسوس تھا ، اب زیادہ افسوس ہورہا تھا

” آپ قسمت نہیں بدل سکتے ، چھوڑیں ، مبشرہ ، میں سکول جارہی ہوں ، بابا کی دوائ دے دینا “

” میں دے دوں گی آپی “

اس کے میٹرک کے پیپر تھے تو وہ گھر پر ہی تھی ، تیزی سے سر ہلادیا تو وہ اٹھ کھڑی ہوئ ، اس نے ظاہر کرنا چاہا کہ جو ہوا تھا اسے فرق نہیں پڑا تھا ،لیکن فرق پڑا تھا اور بہت زیادہ پڑا تھا ، وہ تنہا کمرے میں روئ تھی اور بہت زیادہ روئ تھی ، لیکن اسے بکھرنا نہیں تھا ، وہ بکھرنے جیسے عیاشی فلحال افورڈ نہیں کرسکتی ، وہ ظاہر کرتی تھی کہ اسے کسی کی باتوں سے فرق نہیں پڑا لیکن اسے دنیا کی باتوں نے بھی تکلیف دی تھی ، وہ دنیا جس میں اب تیمور حیدر بھی شامل تھا ، جانے دنیا ہم پر ہمارے باپ جتنی مہربان کیوں نہیں ہے

” پھپھو نے تیمور بھائ کا رشتہ طے کردیا ہے”

دانیال اسے سکول چھوڑنے جارہا تھا جب راستے میں اس نے بتایا ، پل بھر کو اس کے اردگرد ساری دنیا غائب ہوگئ

” کس سے ؟”

” تیمور بھائ کی تایا زاد ہے ، نازنین ، تم جانتی ہو نا ؟”

وہ جانتی تھی ، اب زیادہ جان گئ تھی ، دانیال مزید بتا رہا تھا ، اگلے ماہ شادی تھی ، ہاجرہ اور اس کی ایک ہی دن ، دھوم دھام سے ۔۔۔۔۔ اور اس کے ارگرد رکی دنیا ویسے ہی رکی ہوئ تھی

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

اور جب وہ دن آیا کہ تیمور حیدر کو کسی اور کے نام ہونا تھا تو معطر صبا کانچ کی طرح بکھر گئ ۔ بند کمرے میں اس نے خود کو رونے دیا ، اپنی محبت کے بچھڑنے پر اس نے خود کو رونے دیا

پھپھو ایک دن پہلے پورے خاندان کو لے کر انہیں منانے آئ تھیں۔ بھری محفل میں سارا الزام اس پر ڈال کر خود کو بری الزمہ قرار دے کر انہوں نے یہ بھی ثابت کردیا کہ غلطی اسی کی تھی

جس نے محبت کرنے کی غلطی کی تھی وہ سب کے جانے کے بعد اپنے کمرے میں بیٹھ کر کئ گھنٹے روتی رہی ۔ لڑکیوں کو کچی عمر میں خواب نہیں دیکھنے چاہئیں ۔ خوابوں کی تعبیر نا ملے تو وہ بکھر جاتی ہیں ۔ وہ بھی بکھر گئ ۔ اسی بکھرے دل سے وہ اگلی صبح مطمئن زردچہرے کے ساتھ نکلی ۔ ٹوٹے دل سے وہ اردگرد کا شور سنتی گئ ۔ ان کے گھر سے شادی پر کوئ نہیں گیا تھا ۔ بابا نے دعائیں بھجوادیں ۔ اماں نے تحفے ۔ نا ظرف اتنا بڑا تھا نا ہمت اتنی زیادہ کہ وہاں جاتے ۔ اس نے ہر ایک سے یہ بھی سن لیا کہ تیمور خوش تھا ، یہ بھی کہ اس نے غلطی کی ہے ، یہ بھی کہ وہ اپنا نصیب خود سیاہ کرنے جارہی ہے ، یہ بھی کہ وہ اپنا دل خود توڑے گی ، جانے وہ بددعا دے رہے تھے یا پیش گوئ کررہے تھے، مگر وہ کہہ نا سکی کہ جو دل پہلے ٹوٹ چکا تھا وہ مزید کتنا ٹوٹتا ؟

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

” امی آپ خود چلی جائیں نا “

” تمہارے بابا کی طبیعت خراب ہے ، خود کیسے جاؤں ؟”

” پھر جانا اتنا ضروری ہی کیوں ہے ؟”

” تو کیا سارے خاندان سے تعلق توڑ لیں “

” اس خاندان نے کون سا ہمیں سکھ دیئے ہیں ، قطع تعلقی کر ہی لیں “

کتنی ہی دیر سے ان دونوں کی بحث سنتے دانیال نے پہلی بار مداخلت کی تو اماں اسے گھورنے لگی

” تمہارا بس چلے تو اس خاندان سے خود کو کاٹ دو “

” بالکل ۔۔۔۔ مجھے اس خاندان میں ایک فرد بھی اس قابل نہیں لگتا کہ میں ان کے لئے اپنے چچا ، ماموں یا بلاں بلاں کا لفظ استعمال کروں “

سکون سے گلاس اٹھا کر لبوں سے لگایا ، ساجدہ اب کی بار اسے نظر انداز کرتے ساتھ والی کرسی پر بیٹھی معطر کی طرف متوجہ ہوئیں

” تم جارہی ہو اور بس جارہی ہو “

” امی۔۔۔۔”

وہ احتجاج کرنا چاہتی تھی

” معطر۔۔۔۔۔۔”

” مان جاؤ معطر ، ورنہ ابھی یہاں امی پہلے تمہیں دکھ سے دیکھیں گی پھر ان کے آنکھوں میں آنسو آئیں گے پھر وہ اٹھ کر کچن میں جائیں گی پھر تم دکھ سے چند منٹ اِدھر بیٹھو گی، گلٹ کہ تمہاری وجہ سے امی روئیں ، پھر دو منٹ بعد کچن میں جاکر کہو گی ، ٹھیک ہے میں چلی جاؤں گی ، ان سب میں میرے دس منٹ اور تمہارے بارہ منٹ ضائع ہوجائیں گے ، اپنا اور میرا دونوں کا وقت بچاؤ ، شاباش “

اب کی بار امی نے بنا اس کی عمر کا لحاظ کئے ایک تھپڑ اس کے کاندھے پر مارا

” یہی تمیز ہے تمہیں “

” سچ کہہ رہا تھا بھئ”

اس نے کاندھا سہلایا

” اچھا ٹھیک ہے ، چلی جاؤں گی “

وہ بے زاری سے کہتی اٹھنے لگی

” ناشتہ تو کرلو “

” کرلیا ہے بس ، چلو دانیال “

” مجھے ابھی دو منٹ دیر ہے ، باہر جاؤ میں آتا ہوں “

وہ بنا کچھ کہے باہر کی طرف بڑھ گئ تو دانیال امی کی طرف متوجہ ہوا

” آپ جانتی ہیں وہاں پھپھو ہوں گی ، خود چلی جائیں “

تھوڑی دیر پہلے کے برعکس اس کا لہجہ سنجیدہ تھا ، ساجدہ گہری سانس لے کر رہ گئیں

” تم یوں کہو وہاں تیمور ہوگا ، نازنین ہوگی ، میں خود نہیں چاہتی کہ وہ جائے ، یہ تمہارے بابا کا حکم ہے ، وہ چاہتے ہیں کہ وہ ان سب کا سامنا کرے۔ ،خاندان سے کٹ کر نہیں رہا جاتا دانیال ، ایک نا ایک دن یہی خاندان سہارا بنتا ہے “

” ہم پر وہ ایک نا ایک دن دو سال پہلے آ گیا تھا امی اور ہمارا سہارا کوئ نہیں بنا تھا “

” تمہیں اتنی نفرت کیوں ہوگئ ہے سب سے؟ ، کرتی ہوں تمہارا بھی کوئ بندوبست “

” کیسا بندوبست ؟”

وہ کرسی سے اٹھتا ٹھٹکا

” کرتی ہوں خاندان میں کہیں رشتہ تمہارا ، کسی کھونٹے سے بندھو گے تو خاندان والے خود ہی عزیز ہوجائیں گے “

” یہ غلطی مت کیجئے گا والدہ ماجدہ ، آپ کے کسی بھائ یا کزن کے ساتھ میں ایک کمرے میں نا بیٹھنا چاہوں ان کی دختر نیک اختر سے شادی تو کجا “

” باہر کرنے کا سوچنا بھی مت “

گھور کر تنبیہہ کی

” اور آپ یہاں کرنے کا سوچئے گا بھی مت ، میں پہلے ہی بتارہا ہوں ،ورنہ اس خاندان میں اگلا پھڈا میری وجہ سے ہوگا “

وہ وارننگ دیتا بیگ اٹھاتا باہر بڑھ گیا ، ساجدہ ںے پیچھے سے ہاتھ جھلایا گویا انہیں اس دھمکی سے فرق نہیں پڑا تھا

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

سفید لمبی قمیص پر اس نے سفید ہی دوپٹہ سینے پر پھیلا رکھا تھا، سادہ سفید قمیص جس کے بارڈر پر گلابی اور نیلے پھول بنے تھے ، ویسے ہی پھول کلائ اور دوپٹے کے کونوں پر تھے ، بال گول جوڑے میں بندھے تھے ، ہاتھوں سے چوڑیاں اور ہونٹوں پہ ہلکا سا لپ گلوز اور بس یہی تھی معطر صبا کی تیاری ،

وہ مبشرہ کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھی تھی ، کچھ بے زاری ،کچھ اکتاہٹ سے سامنے کی طرف دیکھتے ہوئے ، بابا کے چچازاد کے بیٹے کا ولیمہ تھا ، وہ خود نہیں آسکتے تھے اور اماں ان کی وجہ سے نہیں آ سکتی تھیں تو ڈانٹ ڈپٹ کر ان دونوں کو گھر کے مرد کے ساتھ بھیج دیا ، اس کی نظر سامنے والی کرسی پر گئ

سیاہ پینٹ پر سیاہ شرٹ پہنے تھوڑا معصوم تھوڑا سنجیدہ نظر آتا عون افتخار ، ان کے گھر کا مرد

” کب تک کھانا کھلے گا آپی ؟”

مبشرہ اس کے ساتھ کھسکتی سرگوشی کرنے لگی

” صبر کرلو۔۔۔ کھل جائے گا “

” تمہیں کھانے کے علاوہ کچھ آتا بھی ہے ؟”

چودہ سالہ عون نے آنکھیں گھمائیں تو وہ تپ کر اس کی طرف متوجہ ہوئ

” تم تو جیسے دولہا دلہن کو دعائیں دینے آئے ہو نا “

” دوسروں کے رزق پر نظر نہیں رکھتے “

” دوسروں کو بھی یہی کرنا چاہئے “

معطر نے افسوس سے سر ہلاتے رخ موڑ لیا ، وہ دونوں جب جنگ شروع کرتے تو ان کو روکنا نا ممکن تھا ، اس کی نظریں اسٹیج پر گئیں ، فرقان انکل کا اپنا گھر کافی بڑا تھا تو ولیمہ گھر پہ ہی رکھ لیا تھا ، صحن میں ہر طرف لوگ ، ہجوم ، آوازیں ، اس کا سر درد کرنے لگا

ہر تھوڑی دیر بعد کوئ نا کوئ ان کی طرف آتا ،بات بابا کی طبیعت سے شروع ہوتی اور اس کی اور تیمور کی منگنی ٹوٹنے کی طرف چلی جاتی ، اس کے نا آنے کی ایک وجہ یہی تھی ، اسے خاندان والوں کا سامنا نہیں کرنا تھا ، یہ ترحم اور ترس بھری نظریں ، تمسخرانہ انداز اور مسکراہٹ نا اسے پسند تھیں اور نا وہ یہ نظریں خود پر دیکھنا چاہتی تھی

اور دوسری وجہ ۔۔۔۔۔

اس کا سر بے ساختہ اینٹرنس کی طرف گھوما ، سامنے سے وہ آرہا تھا ، نیوی بلیو پینٹ شرٹ میں ملبوس ، سرخ ساڑھی والی نازنین کے ساتھ ، چہرے پر کچھ بے زاری تھی ، اور جیسے محفل یکدم ان دونوں کے گرد گھومنے لگی ، ہر کسی کی نظر ان پر گئ ، ہر کسی کی نظر ان پر جانے کے بعد اس پر گئ ، ہاتھ میں تھامے موبائل پر اس کی گرفت سخت ہوگئ

یہ منظر اس نے کئ بار سوچا تھا ، یوں ہی کسی دن وہ دونوں ساتھ چلتے ہوں گے ، تیمور حیدر اور معطر صبا ، ایسی ہی کوئ جگہ ہوگی ، ایسا ہی کوئ منظر ہوگا ، یوں ہی سب انہیں دیکھتے ہوں گے ، کچھ رشک سے کچھ حسد سے ، وہ تیمور کا ہاتھ تھامے ہوئے ہوگی ، وہی ہاتھ جو اب نازنین نے تھام رکھا تھا

ہر منظر بدل گیا ، ہر شخص کی جگہ بدل گئ ، وہ ہٹ گئ اور تیمور حیدر کا مرکز نازنین عامر بن گئ ، ہر نظر ان دونوں پر گئ ،کچھ رشک سے کچھ حسد سے ، وہ تیمور حیدر تھا ، ان کے خاندان کا چمکتا ستارہ ، وہ جس کے ساتھ کی چاہ ان کے خاندان کی ہر دوسری لڑکی کو تھی ، وہ جس کے ساتھ کی خواہش کی جاتی ، وہ تیمور حیدر اس کے نصیب میں لکھا گیا تھا اور اس نے وہ نصیب ضائع ہوجانے دیا ، احساس ضیاع بڑی شدت سے ہوا تھا ، کسی نے دل کو دو ٹکڑوں میں بانٹا تھا

” آپی۔۔۔۔۔ “

وہ چونکی ، مبشرہ ساتھ بیٹھی بلا رہی تھی

” جی “

” گھر چلیں ۔۔۔۔”

آہستہ سے کہا ، اس کی نظر عون پر گئ وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا پھر اس کی نظر دوبارہ نازنین اور تیمور پر گئ ، حلق میں اٹکتے آنسو اور چہرے پر پھیلی زردی کم کرنی چاہی

” تھوڑی دیر تک چلیں گے “

” آپ۔۔۔۔”

” میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔” وہ اٹھ کھڑی ہوئ ، اسے کچھ دیر کی تنہائ درکار تھی ” تم لوگ بیٹھو میں آتی ہوں “

بیگ وہیں رکھا اور پلٹی ہی تھی جب نازنین پر نظر گئ ، وہ خوش دلی سے مسکراتے ہوئے ان کی طرف آرہی تھی ، ناخوش اور کچھ سپاٹ سے تاثرات کے ساتھ موجود تیمور حیدر بھی ساتھ تھا جیسے اسے زبردستی لایا گویا ہو ، اس نے بے اختیار کرسی کو مضبوطی سے تھاما

” کیسی ہو معطر ۔۔۔”

آگے بڑھتے اسے گلے سے لگایا ، معطر کی نظر پیچھے ٹھہرے تیمور پر گئ ، وہ سپاٹ تاثرات سے اسے ہی دیکھ رہا تھا

” ٹھیک ۔۔۔ آپ کیسی ہیں ؟”

نا اس کا لہجہ کپکپایا تھا نا آواز ، نازنین پیچھے ہوئ اور اسے دیکھا

” کیسی لگ رہی ہوں ؟”

وہ خوش تھی یوں جیسے دنیا مل گئ ہو ، سرخ ساڑھی میں سفید رنگت والی نازنین ، وہ جیسا حسن قسمت والوں کو ملتا ہے ، سیاہ سوٹ میں تیمور حیدر جیسا بخت نصیب والوں کو ملتا ہے ، اور سفید سوٹ والی معطر صبا ، اس کے پاس کیا تھا ؟

” خوش رہیں۔۔۔۔”

وہ دعا کرسکتی تھی ، وہ دعا دے سکتی تھی ، سو وہی دے سکی

” خالو نہیں آئے ؟”

وہ یوں تیمور کے ساتھ ٹھہرگئ جیسے فرصت سے تھی ، بازوں اس کہنی کے گرد رکھ لیا

” طبیعت ٹھیک نہیں تھی “

” اوہ۔۔۔ ہم آئیں گے پوچھنے ، کیوں تیمور ؟”

ناز سے اس سے کہا ، تیمور نے بس سر ہلادیا، وہ سرد نظروں سے معطر کو ہی دیکھ رہا تھا ، نازنین نے ضبط کرتے رخ واپس معطر کی طرف موڑا

” ویسے ہم نے سنا تھا کہ تم انگلینڈ جارہی ہو ؟ کب کا پلین ہے پھر ؟”

” میں نہیں جارہی “

” کیوں؟ سب کچھ وہیں جانے کے لئے تو چھوڑا تھا ، ارادہ کیوں بدل گیا پھر ؟ “

وہ لہجہ تلخ ترین تھا ، وہ لہجہ کبھی شہد جیسا ہوا کرتا تھا ، معطر نے کرسی کے ہتھے سے ہاتھ اٹھالیا ، نظر کاٹ دار نظروں سے دیکھتے تیمور پر گئ ، سب کچھ ؟

” میں آپ کو جواب دہ ہوں تیمور ؟”

وہ تم سے آپ ہوگیا ، اجنبی !

تیمور کے چہرے پر سرخی پھیلی

” جب تھیں ، تب بھی تم نے بہت سے جواب نہیں دیئے تھے “

وہ تم ہی رہی ، اجنبی تو وہ بھی بن گئ تھی نا؟

” پرانا وقت نا ہی دہرائیں تو بہتر ہوگا ، نئے وقت کو دیکھیں ورنہ آپ کی زندگی میں کڑواہٹ گھل جائے گی “

” ریلیکس معطر ، تمیز سے”

نازنین کی مسکراہٹ غائب ہوئ ، لہجے میں سختی گھل گئ

” تمیز سے ہی کہہ رہی تھی ، ایکسکیوزمی”

زبردستی مسکراتے ہوئے وہ ان دونوں کی سائیڈ سے ہوکر گزر گئ، اندر کی طرف جاتے ہوئے مسکراہٹ غائب ہوگئ

” یہ معطر ہے نا، تیمور کی ایکس ؟”

کسی ٹیبل کے پاس سے گزرتے ہوئے آواز گونجی

” ہاں ۔۔۔ وہی ہے ۔۔۔ انگلینڈ جانا تھا محترمہ کو۔۔۔ رضیہ۔۔۔۔”

اس نے مزید نہیں سنا ، اسی بے تاثر چہرے کے ساتھ اندر بڑھتی گئ مضبوط قدم ، کمزور دل ، ان کے گھر میں سامنے لاؤنج تھا ، بائیں طرف گیسٹ روم ، وہ سیدھا گیسٹ روم کے اندر گئ ، دروازہ کھلا چھوڑدیا ، واش روم کا دروازہ کھولا اور واش بیسن پر جھکی

ضبط ٹوٹ گیا ، آنسو پوری رفتار سے بہہ نکلے ،دل رکنے لگا ، اذیت سی پھیل گئ ، خواب ٹوٹنے کا غم ، اپنے ہاتھوں سے تیمور کو کھونے کی اذیت ، محبوب شخص کو کسی اور کے ساتھ دیکھنے کا کرب، ہر شے ارگرد پھیل گئ، جانے محبوب شخص کا نا ملنا زیادہ تکلیف دہ ہے یا محبوب شخص کا کسی اور کو مل جانا ، وہ فیصلہ نا کرسکی

واش بیسن سے ہٹتے اس نے ہاتھ ہونٹوں پر رکھا ، جو کھویا تھا وہ عزیز تھا ، جو کھویا تھا اس کے بدلے کیا ملا تھا ؟ ، اذیت ؟ دکھ ؟

اسے افسوس تھا تو بس اتنا کہ کیا ہوتا اگر وہ انتظار کرلیتا ؟ چند سال ؟ جب تک بابا ٹھیک ہوجاتے ، وہ اس کے لئے چند سال انتظار کرلیتا ، ہونٹوں سے ہاتھ ہٹاتے اس نے آئینے میں خود کو دیکھا ، سرخ چہرہ ، سرخ آنکھیں ، مسلسل بہتے آنسو ، کانپتے ہونٹ ، سیاہ نصیب ، وہ معطر صبا تھی ، جسے بابا آسمان کا چاند کہتے تھے ، جس پر تیمور نے گرہن لگنے دیا تھا ، وہی جسے امی پھول کہتی تھیں ، وہی پھول جسے تیمور نے مسل دیا تھا ، ہاتھ بڑھاتے اس نے نل کھولا ، پانی ہاتھوں کے پیالے میں بھرا ، چہرے پر چھینٹے مارے ، ایک بار ، دو بار ، کئ بار ، چہرہ پہلے جیسا ہوگیا ، آنکھیں ویسی ہی رہیں ، اور رہا دل ، تو وہ تو پرسان حال ہی تھا ، دو تین ٹشو کھینچتے ہوئے اس نے چہرہ صاف کیا ، گہری سانس لی اور باہر کی طرف بڑھی

اسی لمحے کوئ اندر داخل ہوا تھا ، وہ کمرے کے وسط میں رک گئ ، جو اندر داخل ہوا تھا وہ بھی ، نظر سرخ آنکھوں پر گئ ، سرخ آنکھوں والی معطر صبا نے بس ایک لمحے کو تیمور حیدر کی آنکھوں میں بے چینی دیکھی تھی ، بس ایک لمحے کو اور پھر وہاں سپاٹ تاثرات آگئے ، اسے ڈھیروں خفت نے آن گھیرا ، کیا سوچ رہا ہوگا کہ اس کے لئے رو رہی تھی ؟ سر جھٹکتے وہ اس کی دائیں طرف سے ہوکر جانے لگی

” اگر رونا ہی تھا تو کیوں سب اپنے ہاتھوں سے ضائع کیا ؟”

پاس سے آواز ابھری ، وہ جاتے جاتے رکی ، وہ رخ موڑ کر اسے دیکھ رہا تھا ، اس کی آنکھوں میں کچھ تھا ، کچھ تکلیف جیسا ، کچھ پچھتاوے جیسا ، یہ وہ لمحہ تھا جب اس نے جانا کہ احساس ضیاع صرف اسے نہیں تھا

” میں نے اپنے ہاتھوں سے ضائع کیا تھا ؟ تم اب بھی الزام مجھ پر لگاؤگے ؟”

انگلی سے اپنی جانب اشارہ کیا

” تم چاہتیں تو وہ سب نا ہوتا معطر ، تم چاہتیں تو وہ سب ہونے سے روک لیتیں ، تم نے اپنی جگہ نازنین کو آنے دیا “

” واہ تیمور حیدر واہ ، تم سارا الزام مجھ پر لگاکر خود کو بری الزمہ کررہے ہو ؟”

” کیونکہ اس الزام کی حقدار تم ہی ہو معطر ، تم نے اس رشتے کو بچانے کیلئے ، قائم رکھنے کے لئے ایک بار بھی کوشش نہیں کی “

سلگتا لہجہ، کاٹ دار آواز

” کوشش نہیں کی ؟”….وہ بے یقینی سے بولی ” میں گئ تھی تیمور ، میں آخری بار گئ تھی تمہارے پاس ، کیا تمہیں اپنے کمرے کا منظر بھول گیا ہے ؟ تم نے میری کہنی سے پکڑ کر مجھے اپنے کمرے سے نکالا تھا ، تم نے کہا تھا کہ مجھ سے اپنی محبت کی بھیک مت مانگنا ، تو ٹھیک ہے، طے ہوا کہ معطر صبا تم سے بھیک نہیں مانگے گی ، اگر تم نے چھوڑا ہی تھا تو میں بھی پیچھے ہٹ گئ لیکن ۔۔۔کیا وہ میں تھی جس نے منگنی توڑی تھی ؟ کیا وہ میں تھی جو کچھ عرصہ انتظار نا کرسکی ؟ “

” میں تمہاری وجہ سے مجبور تھا ، تمہارے پاس سوائے رونے دھونے کے کچھ نہیں تھا ، تم نے میری ماں کی انسلٹ کی تھی “

وہ سرد لہجے میں سختی سے کہہ رہا تھا

” شادی ملتوی کرنا انسلٹ ہے ؟ اگر اتنا ہی اپنی ماں عزیز تھی تو مجھ سے محبت کے دعوے کیوں کئے تھے ؟ اگر تم ان کی ہی باتوں پر چلنے والے انسان ہو تو تبھی اپنی ماں کی پسند سے منگنی کرلیتے ، اتنے سال خود کو اور مجھے کیوں اذیت دی ؟”

اس کی آواز اختتام پر ہلکی سی بھرا گئ ، ہلکی سی کانپ گئ

” امی کے خلاف ایک لفظ نہیں معطر “

وہ پھنکارا ، سختی سے اس کی کہنی کو تھاما ، معطر کا بازوں سلگ اٹھا ، جھٹکے سے اس کا ہاتھ ہٹایا

” ہاتھ مت لگاؤ مجھے “

اس کا چہرہ سرخ ہوا

” کاش تم مان جاتیں معطر ۔۔۔ کاش “

” ہر الزام معطر صبا کے نام ، اور تم خود کو کچھ نہیں کہو گے ؟ میں بتاتی ہوں حقیقت کیا ہے تیمور ، ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ میں اپنے باپ سے محبت کرتی ہوں ، وہ باپ جو موت سے لڑ رہا ہے ، تمہارا مسئلہ یہ ہے کہ تم اپنی ماں سے محبت کرتے ہو ، وہ ماں جس نے اپنی جوانی تمہارے لئے ضائع کردی ، میں اپنے باپ کی بیماری سے ہار گئ اور تم اپنی ماں کی محبت سے ، یہ سب نہیں ہونا تھا لیکن ہوچکا اور اب جب تم خود تعلق ختم کر چکے تو میرے راستے میں مت آؤ ، مجھے تمہیں بھلانے دو “

” اتنی آسانی سے بھول جاؤ گی مجھے ؟”

اس کے لبوں پہ تلخ مسکراہٹ ابھری ،یوں جیسے وہ جانتا تھا تیمور حیدر کو بھلانا معطر صبا کے لئے آسان نہیں تھا

” بھول جاؤں گی، اگر تم مجھے نظر نا آؤ تو میں تمہیں یوں بھول جاؤں گی گویا تم کبھی تھے ہی نہیں”

وہ آنسو وہ محفلوں میں کیوں آتے تھے ؟ وہ ان کے سامنے کیوں بہتے تھے جن کے سامنے انہیں بہنے دینا توہین تھی ، تیمور کی نظر اس کے گال پر پھسلتے آنسو پر گئ ، پھر اس کے ہاتھ پر ، درمیانی انگلی کے ساتھ والی انگلی میں پہنی انگوٹھی پر ، وہ چند لمحے ان ہاتھوں کو دیکھتا رہا ، پھر ایک قدم صرف ایک قدم آگے کو ہوا

” اگر بھولنا ہی ہے تو میرے نام کی انگوٹھی اب تک کیوں پہن رکھی ہے ؟”

معطر کا وجود تھم گیا ، انگوٹھی ؟ ہاتھ سامنے کرتے اس نے سفید انگوٹھی کو دیکھا

” تم مجھے نہیں بھول پاؤ گی معطر ، تم ساری زندگی مجھے نہیں بھول پاؤ گی ” وہ اس کی جھکی نظروں کو دیکھتا کہہ رہا تھا ، لہجہ پرسکون تھا لیکن ہلکی سی تپش لئے ہوئے تھا ” میں ایک نا ایک دن آگے بڑھ جاؤں گا ، تمہاری یاد شاید ساری زندگی دل کے ایک کونے میں رہے لیکن میں آگے بڑھ جاؤں گا ، مگر تم کسی ایک مقام پر قید رہو گی ، عورتیں اتنی آسانی سے موو آن نہیں کرپاتیں نا معاشرہ کرنے دیتا ہے اور ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اگلی ساری زندگی اسی شہر میں رہنے والے ہیں معطر ، تم بھول جاؤ کہ تم مجھے بھول جاؤگی “

سرد تلخ انداز، وہ چاہتا تھا وہ ساری زندگی اسے یاد رکھے ، وہ ساری زندگی پچھتائے کہ اس نے تیمور کو خود کھویا تھا ، یہ محبت نہیں تھی ، ضد تھی ، آخری نظر اس پر ڈال کر وہ باہر کی طرف بڑھ گیا ، معطر کے آنسو مزید تیز ہوئے ، وہ اب تک انگوٹھی کو دیکھ رہی تھی ، پھر ایک ہاتھ سے اس نے وہ انگوٹھی اتارنا چاہی ، نا ہمت تھی نا وہ کرسکتی تھی ، ہاتھ نیچے گرگیا ،زندگی یکدم مشکل لگنے لگی تھی ، اس نے بے دردی سے گال رگڑا ، گہری سانس لی اور باہر کی طرف بڑھ گئ ، راستے میں یوں ہی اسٹیج پر نظر گئ ، وہ نازنین اور پھپھو کے ساتھ ٹھہرا تھا ، فیملی فوٹو ، پرفیکٹ فیملی ، وہ مسکرارہا تھا ، وہ جانتی تھی وہ جھوٹی مسکراہٹ تھی ، معطر صبا اس شخص کو اس سے زیادہ جانتی تھی

اپنی کرسیوں کی طرف جاتے ہوئے اسے احساس ہوا وہ ٹھیک کہہ رہا تھا وہ ایک شہر میں ، ایک علاقے میں رہتے تھے ، سامنا ہوتا اور وہ اسے کبھی نا بھول پاتی

اس لمحے اس نے طے کرلیا ، وہ انگلینڈ جائے گی ، بابا کے لئے ، خود کے لئے ، جس بابا کے لئے اس نے تیمور کو کھو دیا وہ انہیں نہیں کھو سکتی تھی ، کبھی نہیں ، جس تیمور حیدر نے اسے چھوڑ دیا تھا اسے بھلانے کے لئے ہی صحیح ، وہ لاہور سے چلی جائے گی

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

” میں نے نادر بھائ سے ٹکٹ بک کرنے کا کہہ دیا ہے “

سپاٹ لہجہ ،بے تاثر چہرہ ، اس نے اگلے دن امی کو بتادیا

” اب تم نیا شوشہ چھوڑدو ، جو ہوا اس کے بعد یہ فیصلہ کیسے لے سکتی ہو ؟”

امی خفا ہونے لگیں

” جوا ہوا اس کے بعد یہ فیصلہ لینا آسان ہوگیا ہے “

” بس کردو معطر ۔ مزید کتنا ہمیں بدنام کرواؤگی ، سارے خاندان میں رضیہ نے یہ بات پھیلا دی ہے کہ تم انگلینڈ جانا چاہتی تھیں اسی وجہ سے شادی نہیں ہوئ ، تیمور تمہارا مقدر تھا جسے تم نے ضائع کردیا “

اس نے درد سے تھکتی آنکھیں بند اور پھر کھول کر امی کو دیکھا

” نہیں بنا مقدر ۔ نہیں تھا تیمور حیدر معطر صبا کے نصیب میں ۔ اب ؟ مزید کیا امی ؟ مجھے بتائیں ہم بابا کا علاج کہاں سے کروائیں گے ؟ دانیال کی فیس کہاں سے بھریں گے ؟ مبشرہ آگے کالج جائے گی ۔ اس کے خواب ہیں ۔ عون کی ساری زندگی پڑی ہے ،ان کا کیا ؟ گھر کا خرچ ؟ بجلی ،گیس ، لاکھوں دوسرے اخراجات ؟ ان سب کا کیا ؟ میں نہیں جاتی کمانے ۔ گھر بیٹھ جاتی ہوں ۔ تو جو رشتے دار باتیں کررہے ہیں ان سے کہیں میرے باپ کی زندگی بچانے کے لئے پیسے دیں ، ان سے کہیں میرے بھائ کی فیس بھریں یونیورسٹی کی ۔ ان سے کہیں میری بہن اور بھائ کا خرچ اٹھائیں ۔ ان سے کہیں برداشت کریں ہمارا خرچہ ۔ اتنا ہی سب کو مسئلہ ہے تو جو مسئلہ مجھے ہے وہ ختم کردیں، میں ان کی نام نہاد عزت کا جنازہ نہیں نکالوں گی “

وہ بولنے پہ آئ تو بولتی چلی گئ ، امی کو گویا سانپ سونگھ گیا ۔ انہیں احساس ہوا وہ اس کے لئے ظالم بن رہی تھیں ، تھکی سانس لیتے وہ اٹھ کر اس تک آئیں ۔ اس کی آنکھوں کا پانی خشک ہوگیا تھا ، جتنا غم منانا تھا منالیا

” یہ سب تمہاری زمہ داری نہیں تھی معطر ،مت خود کو تھکاؤ “

” یہ شروع سے میری زمہ داری تھی امی ۔ بابا کہتے ہیں میں اپنے گھر کا بڑا بیٹا ہوں ، بیٹے ہی کمانے جاتے ہیں ۔ زمانے کی فکر کرنے بیٹھ گئ تو ہم سب یہاں بے بسی سے مر جائیں گے “

وہ اسے دیکھتی رہ گئیں ۔ اس کی عمر کی لڑکیاں اپنے مستقبل کے خواب دیکھا کرتی تھیں ۔ وہ اپنے حال میں زندہ رہنے کی کوشش کررہی تھی

” ہم پر یہ بوجھ مت ڈالو معطر۔ تمہارا ہمارے لئے خود کو برباد کرنا ہمیں چین نہیں لینے دے گا “

” میں بوجھ نہیں ڈال رہی امی ۔ بوجھ تو نہیں ہے یہ “

وہ تھکے قدموں سے باہر بڑھ گئ ، بابا اپنے کمرے میں تھے ، ان کے پاس بیٹھ کر ان سے اجازت لی

” مجھے معاشرے سے بے غیرتی کا طعنہ دلوانا چاہتی ہو معطر ؟ تمہاری زندگی برباد کرکے حاصل کی جانے والی کمائ سے زندہ رہا تو یہ موت سے بری شے ہوگی۔ “

” اگر زندگی بری شے ہے تو معطر صبا کے لئے اس سے بدتر کوئ شے روئے زمین پر باقی نہیں رہی “

” ایسی باتیں مت کرو۔ مجھے لگتا ہے تمہاری زندگی میں نے خراب کردی ۔ یہ ندامت مجھے وقت سے پہلے لے جائے گی “

” مجھے لگتا ہے میری زندگی آپ نے بچالی ۔ تیمور حیدر شاید میرے قابل نہیں تھا “

” مجھے جھوٹی تسلیاں مت دو “

” حقیقت ہے “

” حقیقت یہ بھی ہے کہ تمہاری ساری بربادی کا زمہ دار میں ہوں “

ان کی آنکھیں نم ہوگئیں ۔ وہ لمحہ تھا جب معطر صبا نے جانا اپنے باپ کے لئے وہ سات سمندر کیا پوری دنیا کی خاک چھان سکتی تھی ۔ ان کے قدموں کے پاس بیٹھتے اس نے ان کا ہاتھ تھاما

” میرے پاس چند لوگ ہیں بابا ۔ چند خوشیوں کے ٹکڑے ۔ میرے ہوتے ہوئے آپ کو کچھ ہوگیا تو اس سے اگلا لمحہ میرا اس روئے زمین پر آخری ہوگا۔ یوں سمجھیں خود کو بچا رہی ہوں ۔ مجھے خود کو تو بچانے دیں۔ آپ کو نا صحیح ۔ خود کو بچانے دیں “

۔ ان کے سارے اعتراض دم توڑ گئے ۔ ساری تاویلیں دھری رہ گئیں ۔ ہر لفظ زبان پہ رہ گیا ۔ اس نے جاکر ویزہ کے لئے اپلائے کردیا ، زیورات کی رقم اس کے پاس تھی ، کچھ اِدھر اُدھر سے جوڑ لیا ، بس چند دن اور وہ یہاں سے چلی جائے گی ، کسی اور کے دیس میں ، یہاں سے دور !!

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°