Laa By Fatima Noor Readelle50338 Laa (Episode 26)
Rate this Novel
Laa (Episode 26)
Laa By Fatima Noor
اس نے سب سے پہلے شو کے ڈائریکٹر سے بات کی
” تم بہت بڑی بات کررہے ہو ایرک “
” میں سچ بات کررہا ہوں “
” اس سچ کی وجہ سے تم ہمیں تباہی کی طرف لے جاؤگے “
” میں ایک بڑی تباہی سے بچانا چاہتا ہوں سر ۔ یہ بہتر ہوگا کہ میڈیا اب دوغلا پن دکھانا چھوڑ دے ۔ “
وہ سنجیدگی سے کہہ رہا تھا ۔ تم چند ماہ پیچھے پلٹ کر دیکھو اس کی آنکھوں کی شرارت آج غائب تھی
” ایک حد تک یہ ٹھیک ہے ۔ لیکن ہم اپنی حکومت یا نظام کے خلاف نہیں جا سکتے ۔ میں ایسی آواز نہیں اٹھا سکتا جو نا صرف میری زبان بلکہ پورا جسم ضائع کردے “
” آپ منع کررہے ہیں ؟”
” ہاں۔ “
وہ گہری سانس لے کر سر کو خم دیتا وہاں سے اٹھ گیا ۔ وہ جانتا تھا یہی ہوگا ۔ یہ وہ پہلا راستہ تھا جو وہ اپنانا چاہتا تھا لیکن یہ آخری نہیں تھا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اس نے دوسرا راستہ اپنایا
طبل جنگ بج چکا
اس نے وہ سارے ثبوت اور ویڈیوز اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شیئر کردیئے ۔ ساتھ ایک لمبا چوڑا پیغام
” میں سنان کو اپنی زندگی کے پچھلے پانچ ماہ میں دو ماہ سے جانتا تھا ۔ وہ مجھ سے پہلی بار تب ملا تھا جب وہ اسلام کے بارے میں میرے خیالات تبدیل کرنا چاہتا تھا ” وہ اپنے اپارٹمنٹ میں صوفے پر بیٹھا کیمرہ سامنے رکھے سنجیدگی سے کہہ رہا تھا ” اس وقت ہماری بحث ہوئ اور ہم دونوں ایک دوسرے کو ناپسند کرنے لگے ۔ کم از کم میں اسے پسند نہیں کرتا تھا ۔ پھر میری زندگی میں ایسے واقعات ہوئے کہ میں نے مان لیا کہ وہ مجھ سے بہتر ہے اور وہ یہ حق رکھتا ہے کہ اسے پسند کیا جائے ۔ سنان سعدی کو کون نا پسند کرسکتا ہے ؟ اس کا مرنا اور میرے سامنے مرنا اس پر مستزاد جس وجہ سے وہ مرا اس نے میرے سامنے میرے معاشرے کا وہ رخ لایا جس سے میں آج تک نظریں چرا رہا تھا ۔ اس کی موت کے بعد میرے پاس اتنے سوال جمع ہوگئے ہیں کہ ان کا جواب ایک شخص نہیں دے سکتا ۔ لیکن میں چاہتا ہوں مجھے اس کا جواب دیا جائے ۔ مجھے جاننا ہے کہ اس شخص کا قصور کیا تھا ؟ وہ ہاشم بن عبد اللہ ٹرسٹ میں تباہ حال مسلمان ملکوں کے لوگوں کے لئے فنڈز اکٹھا کرتا تھا کیا یہ اس کا قصور تھا ؟ وہ فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کے لئے بولتا تھا کیا یہ اس کا قصور تھا ؟ وہ اپنے مذہب سے متعلق مغرب کا تصور درست کرنے کی کوشش کررہا تھا کیا یہ اس کا قصور تھا ؟ جن لوگوں نے اسے مارا میں ان سے صرف ایک سوال کرنا چاہتا ہوں ۔ اگر کوئ شخص اپنے مذہب کے لئے لڑ رہا ہے تو کیا اسے اس کی سزا ملنا ضروری ہے ؟ “
وہ بیس منٹ کا ویڈیو کلپ تھا جو اس نے دو گھنٹے کی محنت کے بعد تیار کرتے ہوئے سارے ثبوتوں کے ساتھ اپنے اکاؤنٹ پر شیئر کیا تھا ۔ ہر واقعے کی کڑی سے کڑی ملاتے اس نے بنا کسی پر الزام لگائے مغربی نظام کا وہ بھیانک روپ دکھایا جو مسلمانوں کے لئے زہر قاتل ثابت ہورہا تھا ۔ براہ راست کسی پر الزام لگائے بغیر اس نے ہر چیز ڈیٹیل سے شیئر کردی اور عوام کو سوچنے دیا کہ قاتل کون تھا ؟
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
عوام کی سوچ مغربی نظام کے لئے بھیانک ثابت ہوئ ۔ پہلے پہل وہ ویڈیو چند لوگوں تک محدود رہی پھر شہر پھر ملک اور پھر دنیا
سنان سعدی ایک بار پھر برطانیہ کے لئے ہاٹ ٹاپک بن گیا لیکن اس بار مختلف انداز میں ۔ پانچ ماہ قبل سنان کے معاملے میں برطانیہ کے مسلمانوں نے احتیاطاً خاموشی اختیار کی تھی کیونکہ اس وقت الارا گریس کا معاملہ تازہ تھا لیکن پانچ ماہ بعد جیسے سنان کے کیس کا نیا رخ آنے پر ان کے اندر غم و غصے کی کیفیت چھا گئ ۔ ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بننے والے
“# سنان سعدی” نے جلد ہی عالمی سرخیوں میں جگہ بنا لی ۔ اسے برطانوی نیوز چینلز پر ریٹنگ کے لئے استعمال کیا جانے لگا ۔ بظاہر حکومت کے وفادار نظر آنے والے چینلز جنہوں نے چند ماہ قبل سنان پر کئ طرح کے الزامات لگائے تھے وہ بھی اب اسے اپنے لئے استعمال کر رہے تھے
ایرک کیان کی شیئر کئ گئ ویڈیوز میں اس نے کسی پر صاف الزام لگانے سے گریز کیا تھا ۔ وہ میڈیا پرسن تھا صاف نام لینے کے نتائج اچھی طرح جانتا تھا ۔ اسے یہ جنگ جذبات سے نہیں عقل سے لڑنی تھی اور عقل کا تقاضا تھا کہ وہ احتیاط کرے ۔ لیکن وہ جانتا تھا کہ اس نے یہ آگ پیٹرول کے ساتھ لگائ تھی ۔ کسی کا نام لئے بغیر بھی اس نے ڈھکے چھپے الفاظ میں مغربی نظام کو عوام کے سامنے لا کھڑا کیا تھا ۔ وہ یوں تھا گویا اس نے کسی مکان کی ساری علامتیں بتادی ہوں اور کہا ہو کہ تم اسے پورے محلے میں ڈھونڈ لو ۔ عوام نے نتائج اپنی مرضی کے نہیں ایرک کیان کی مرضی کے اخذ کئے تھے ۔ مغربی نظام کو ان سب میں گھسیٹا گیا اور بری طرح گھسیٹا گیا ۔ سنان کی کتابوں کا ایک ایک صفحہ پاکستانی میڈیا نے بڑھا چڑھا کر دکھایا ۔ عوام نے پاکستان میں سنان کے حق میں چند چھوٹی موٹی ریلیاں نکال کر اپنا فرض پورا کردیا ۔ برطانیہ میں مسلمانوں نے سیمینار منعقد کئے ۔ ایرک نے ان سب میں شرکت کی تھی ۔ اس نے اسٹیج پر کھڑے ہو کر مغربی ممالک میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کے خلاف کام کرنے کی کوشش پر زور دیا ۔ وہ مسلمان نہیں تھا لیکن وہ مسلمانوں کے لئے بول رہا تھا اور بڑھ چڑھ کر بول رہا تھا ۔ جو لوگ پہلے اسے جانتے تک نہیں تھے وہ اب اس کا نام پہچاننے لگے تھے
” تمہیں مجھے پہلے بتانا چاہئے تھا ایرک کہ یہ معاملہ اتنا حساس تھا “
شو کا ڈائریکٹر چینل کے مالک کے سامنے منمنایا
” میں سارے ثبوت لے کر آپ کے پاس آیا تھا سر آپ نے خود کہا تھا کہ آپ یہ بہادری دکھا کر بیوقوفی کا مظاہرہ نہیں کرسکتے ۔ اگر آپ مجھے شو میں یہ سب دکھانے کے لئے منع نا کرتے تو میں اسے سوشل میڈیا پر شیئر نا کرتا “
اس نے بنا لحاظ کئے سچ کہہ دیا ۔ ڈائریکٹر گڑبڑایا جبکہ چینل مالک نے خونخوار نظروں سے ڈائریکٹر کو دیکھا
” تمہیں مجھ سے بات کرنی چاہیے تھی ایرک “
” فنچ سر نے منع کردیا تھا کیونکہ ان کے بقول آپ راضی نہیں ہوں گے “
” میں کیوں منع کرتا ؟ یہ اتنا اہم معاملہ ہے ۔ ہمیں مل کر انصاف کے لئے بولنا چاہئے “
انصاف ؟ ریٹنگ کا معاملہ تھا سب لیکن اس نے سرہلادیا
” جو ہوچکا سو ہوچکا ۔ لیکن تم اب آذاد ہو ایرک۔ جو جو ثبوت تمہارے پاس ہیں وہ تم شو میں بنا کسی پابندی کے دکھا سکتے ہو “
” شکریہ۔۔۔۔”
وہ اسی سنجیدگی سے کہتا کرسی پیچھے کرتا ہٹا اور دروازہ کھولتے باہر چلا گیا ۔ اس کے جانے کے بعد چینل مالک ڈائریکٹر کی طرف متوجہ ہوا
” تم ایک بار مجھے ثبوت تو دکھا سکتے تھے ؟ یہ اپنے پاس ایک تباہی لئے پھررہا تھا اور تم نے ہمیں اس سے فائدہ بھی نا اٹھانے دیا ؟ لعنت ہو تم پر “
وہ غصے میں تھے
” میں اسی تباہی سے چینل کو بچانا چاہ رہا تھا سر “
” کم از کم ایک بار مجھ سے تو بات کرلیتے “
” کی تھی ۔ آپ نے ہی تو صاف منع کردیا کہ اب ان چھوٹے موٹے شو کرنے والے اینکر پرسن کے لئے اپنا چینل بند کروائیں ؟”
وہ خائف ہوا ۔ اس لڑائ میں وہ خواہ مخواہ رگیدا جارہا تھا
” چھوٹا موٹا ؟ لوگوں نے سر پر اٹھا رکھا ہے اسے ۔ ایسا کرو یہ چھ بجے کی بجائے نو بجے والا پروگرام اسے دے دو “
” سر وہ مائیکل کا وقت ہے “
وہ گڑبڑایا
” مجھے پرواہ نہیں لیکن تم اب فوکس ایرک پر رکھو ۔ اس لڑکے کو کل کسی بڑے چینل سے آفر آ گئ تو وہ پہلی فرصت میں ہمارا چینل چھوڑے گا ۔ قابو میں رکھو اسے “
فنچ نے صرف سر ہلادیا ۔ ایرک فلوقت ان کے لئے سونے کی چابی تھی ۔ اسے اجازت تھی کہ وہ جو بھی کرے سو کرے
سو اس نے اس اجازت کا کھلا اور جائز فائدہ اٹھایا ۔ اس نے سنان کے بیک گراؤنڈ ۔ اس کی کاوشیں ۔ اس کی کتابوں پر مشتمل ڈاکیومنٹریز اپنے شو میں چلوائیں ۔ کئ سیاستدانوں کو شو میں بلوایا ۔ کئ جگہوں پر خود جا کر سنان کے لئے بات کی ۔ ان سب میں وہ بری طرح زہنی تھکاوٹ کا شکار ہوا لیکن اسے یہ منظور تھا ۔ اسے بس اوپر کے لوگوں سے اقرار چاہئے تھا کہ یہ سب پلینڈ تھا اور سنان کے لئے ہی پلین کیا گیا تھا ۔ اسے مغربی نظام کا اقبال جرم اور ان کی ہار دیکھنی تھی
” جوزف مارگریٹ اس وقت کہاں ہے ؟”
وزارت داخلہ کے سینیئر آفیسر کے سامنے بیٹھے اس نے کیمرے میں دیکھتے سوال کیا تھا
” ہم نے امریکی پولیس سے رابطہ کیا ہے ۔ وہ اسے تلاش کررہے ہیں”
” میرا سوال زرا مُختلف ہے سر ۔ اگر بقول پولیس کے وہاں موجود ہر شخص کو گرفتار کرلیا گیا تھا تو جوزف مارگریٹ وہاں سے کیسے فرار ہوا ؟ بلکہ نا صرف جائے وقوعہ سے بلکہ وہ ملک سے بھی فرار ہوگیا جبکہ اس کے پاس دوسرے شہر تک کے سفر کی رقم نہیں تھی “
” ایرک , ان سب پر تحقیقات تو جوزف کے گرفتار ہونے کے بعد ہی ممکن ہے”
” یہ تحقیقات پہلے کیوں نہیں کی گئیں ؟”
” ہمارے پاس وہ ویڈیوز نہیں تھیں “
” اسٹارک اگر مجھے وہ اتنی آسانی سے مل سکتی ہیں تو پولیس کو کیوں نہیں ملیں ؟ “
” اب ہر کوئ آپ جیسا تو نہیں ہے “
اس نے بات مزاق میں اڑانی چاہی ۔ ایرک کی سنجیدگی ختم نہیں ہوئ ۔ کچھ تھا جو وہ کھو چکا تھا
” آپ در حقیقت قبول نہیں کررہے کہ ان سب میں پولیس نے سب سے بدترین کردار ادا کیا اور اُنہوں نے تحقیقات لاپرواہی سے مکمل کیں ۔ بلکہ مکمل بھی نہیں کیں ۔ جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا ان پر توڑ پھوڑ کے مقدمات درج کرکے سزا دے دی گئی یا پھر شک کی بنا پر چھوڑ دیا گیا جبکہ اصل قاتل پولیس کی نظروں سے نا صرف اوجھل ہوا بلکہ ان کی آنکھوں میں دھول جھونک کر ملک سے فرار بھی ہوچکا ہے ۔ تو پھر اب حکومت کیا کرے گی ؟ آپ ذمہ داران کے خلاف کارروائی کب کررہے ہیں ؟”
آفیسر اپنے ہاتھوں کو بھینچتے مسکرایا
” فلوقت تو جوزف کو بھی قاتل کہنا نا انصافی ہوگی ایرک ۔ محض شک کی بنا پر ہم کسی پر اتنا بڑا الزام نہیں لگا سکتے “
” ایسے ہی شک کی بنا پر پولیس نے حامد رئیسی کو بھی گرفتار کیا تھا “
” وہ ۔۔ اس سے مختلف معاملہ تھا “
وہ کھنکارا ۔ کپ اٹھا کر لبوں سے لگایا ۔ یہ لڑکا چپ ہو سکتا تھا ؟
” میرا نہیں خیال ۔ معاملہ دونوں طرف قتل کا ہی تھا “
” یقیناً۔ لیکن پولیس سنان کے لئے بھی کوشش کررہی ہے “
” اور پولیس کا کردار ؟ اس پر کیا کہیں گے ؟”
” یقیناً یہ پولیس کی لاپرواہی تھی اور ہم نے پولیس حکام سے رابطہ کرکے اس پر کاروائ کا آغاز کردیا ہے ۔ سنان سعدی کے کیس کا چارج اسپیشل کمیٹی کو دے دیا گیا ہے اور جلد آپ کو اس پر رزلٹ دیکھنے کو ملے گا “
اس وقت ان سب کو بات سمیٹنی تھی ۔ کسی بھی طرح معاملہ سنبھالنا تھا ۔ جو امیج برباد ہوا تھا اس کی اب خیر تھی لیکن فلوقت اوپر والوں کو مزید رائتہ نہیں پھیلانا تھا اور اس کے لئے ضروری تھا کہ سب سے پہلے ایرک کیان کو روکا جائے
آفیسر نے کافی پیتے سامنے بیٹھے لڑکے کو دیکھا جو بریک کے بعد اب دوبارہ سے پروگرام شروع کرچکا تھا ۔ وہ لا علم تھا کہ وہ کن لوگوں کی نظروں میں آ چکا ہے
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
کانفرس روم میں سربراہی کرسی کی دائیں طرف بیٹھے وہ ایک ہاتھ سے میز پر انگلیاں بجا رہا تھا ۔ دوسرے ہاتھ کی دو انگلیاں ماتھے پر جمی تھیں ۔ نگاہیں سامنے بیٹھے لڑکے پر تھیں جو سامنے پڑی سرخ ڈائری سے الفاظ کا انگلش ترجمہ کرکے سنا رہا تھا
” وہ لاھور سے ہے ۔۔۔”
اس کی انگلیاں تھمیں پھر جھٹکے سے سیدھا ہوا
” اچھا ٹھیک ہے ۔ اتنا کافی ہے “
” کس لئے ؟ “
سربراہی کرسی پر بیٹھا فنچ ٹھٹکا
” آگے کی معلومات ہمارے لئے غیر ضروری ہیں “
اس نے لاپرواہی دکھانی چاہی
” اس وقت سنان سے جڑی کوئ شے غیر ضروری نہیں ہے ۔ تم پڑھو “
” فنچ۔۔۔”
” ایرک ۔۔۔۔”
اسے گھورا تو وہ بدمزہ سا پیچھے کو ہوا ۔ ہونٹوں پر سختی سے مٹھی رکھ لی ۔ لڑکا دوبارہ پڑھنا شروع ہوگیا اور جیسے جیسے وہ پڑھتا گیا ایرک کا ضبط بڑھتا گیا ۔ معطر صبا سے ہونے والی ہر ملاقات کو سنان سعدی نے یہاں لکھا تھا ۔ اس کے زخم ہرے ہوتے ہوگئے ۔ اذیت بڑھتی گئ ۔ آخری ادھورا صفحہ اور لڑکے نے ڈائری بند کی
” امیزنگ …”
فنچ دنگ تھا
” آپ نے پڑھ لی ہو تو میں ڈائری واپس لے لوں ؟”
اس نے ضبط سے فنچ کو دیکھا ۔ دل میں سو بار پچھتایا جب وہ یہ ڈائری اس نیت سے آفس لایا تھا کہ شاید اس میں سنان سے متعلق کوئ ایسی بات ہو جو اسے کیس میں مدد دے سکے ۔ اگر اسے علم ہوتا اس نے ڈائری میں معطر کو لکھا تھا تو وہ مر کر بھی یہ نا کرتا
” واپس کیوں ؟ تم ایسا کرو یہ ان سب کی تصاویر لو ۔ اور آج کے شو میں چلواؤ ۔ دیکھنا ریٹنگ کیسے اوپر اٹھتی ہے “
” میں ایسا ہرگز نہیں کروں گا “
” کس لئے ؟”
فنچ چونکا
” یہ اس کی پرسنل ڈائری ہے اور اس میں ایسا کچھ نہیں ہے جو ہمارے لئے فائدے کا باعث ہو “
” کیوں نہیں ہے ؟ اس کے اپنی محبوبہ کے نام لکھئے گئے خط ہیں ۔ یہ ہمارے لئے بہت فائدہ مند ہوں گے “
اس کے ماتھے کی رگیں پھٹنے کو ہوئیں ۔ پچھلے دو ہفتے سے نیند کی کمی تھکاوٹ اور بے زاری تکلیف سب عود کر آنے لگا
” میں یہ نہیں کروں گا فنچ ۔۔۔ میں کسی لڑکی کی عزت یوں نہیں اچھال سکتا “
وہ جس لڑکی کا نام خود بھی احتیاط سے لیتا تھا اسے یوں دنیا کے سامنے آنے دیتا ؟ وہ مر جاتا یہ نا ہونے دیتا
” نام کہاں لکھا ہے اس نے ؟”
ایرک کا وجود یکدم تھما
” نام نہیں لکھا ؟”
وہ بڑبڑایا
” پوری ڈائری میں ایک بار اس لڑکی کا نام تک نہیں آیا ۔ تو اس میں حرج ہی کیا ہے ؟”
اور اس لمحے اسے احساس ہوا کہ سنان سعدی نے ڈائری میں ایک بار بھی معطر صبا کا نام نہیں لکھا تھا ۔ اسے بے اختیار سنان پر رشک آیا ۔ وہ اس انسان سے کیسے مقابلہ کرتا ؟ کہاں کہاں کرتا ؟ اس نے محبت کی تو ایسی کی کہ اس لڑکی کا نام اپنے ساتھ کسی کاغذ کے صفحے پر بھی نہیں لکھا ۔ اس کا نام دل کے اندر کسی کونے میں چھپا کر رکھتے وہ اسے اپنے ساتھ جوڑنا چاہتا تھا ۔ یہ کیسی محبت تھی اس کی ؟ وہ اس ایک شخص جیسی محبت کیسے کرتا ؟
” ایرک ؟”
ایرک نے نظر گھما کر فنچ کو دیکھا پھر گہری سانس لیتے سر جھٹکا ۔ کھڑا ہوتے اس نے وہ ڈائری اٹھائ اور فنچ کی طرف مڑا
” میں یہ نہیں کروں گا فنچ ۔ اگر تم نے مجھے مجبور کیا تو میں اسی لمحے ریزائن کردوں گا “
سختی سے کہتے وہ کانفرس روم کا دروازہ کھولتا باہر کی طرف بڑھ گیا ۔ پیچھے بیٹھے فنچ نے بے اختیار اسے دو چار گالیاں دیں ۔ وہ اس وقت ان کے چینل کی ضرورت نا ہوتا تو وہ اس کے ایٹیٹیوڈ پر لعنت بھیج کر خود ہی اسے فائر کردیتا لیکن اس وقت ایرک کو برداشت کرنا اس کی مجبوری تھی
اس سے دور ایرک کیان کے آفس کی طرف واپس آؤ تو وہ اب ڈائری میز پر رکھتا تھک کر کرسی پر بیٹھ رہا تھا ۔ چہرے پر تھکن اور اذیت تھی ۔ سر پیچھے کو لگائے اس نے آنکھیں بند کیں
آنکھوں کے پار کسی کا وجود لہرایا ۔ وہ اس ایک لڑکی کو کہاں ڈھونڈتا ؟ کون کہتا تھا وقت کے ساتھ محبت ختم ہو جاتی ہے ؟ اسے تو مزید جکڑ رہی تھی ۔ جانے اس نے اپنے ملک میں بیٹھے یہ خبر سنی بھی ہوگی یا نہیں ۔ جانے اس نے جانا ہوگا یا نہیں کہ وہ سنان کے لئے کتنا لڑ رہا تھا ۔ جانے اسے ایرک کیان یاد بھی ہوگا یا نہیں ۔ آنکھوں کو مسلتے اس نے موبائل اٹھایا ۔ معطر صبا کو وہ پچھلے پانچ ماہ سے ٹوئٹر انسٹاگرام فیسبک ہر جگہ سرچ کر چکا تھا لیکن وہ کہیں نہیں تھی
اپنا انسٹا کھولتے اس نے اپنی نئ پوسٹ کے کمنٹس دیکھے ۔ وہ اب تک کی رپورٹ پر مشتمل پوسٹ تھی جس میں اس نے لوگوں سے درخواست کی تھی کہ وہ سنان کے لئے آواز اٹھائیں ۔ نیچے جسٹس فار سنان سعدی کے لاکھوں کمنٹس تھے ۔ اس کی فین فالونگ یوں بڑھی تھی کہ وہ خود حیران تھا ۔ کمنٹس پڑھتے وہ ایک کمنٹ پر رکا
” میں دعا کروں گا کہ آپ اسلام قبول کرلیں “
وہ کتنی ہی دیر اس کمنٹ کو دیکھتا رہا ۔ پچھلے چند دنوں میں یہ پہلا کمنٹ نہیں تھا جو اسے ملا تھا ۔ ہر دوسرے سیمینار میں ہر دوسری پوسٹ پر وہ یہ جملہ سن اور پڑھ رہا تھا
سر جھٹکتے اس نے کمنٹس نیچے کئے جب ہاتھ ایک بار پھر سے رکا
” مجھے سنان سے متعلق بات کرنی ہے ۔ پلیز آئ بی میں رپلائے دیں “
وہ یہ کمنٹ اگنور کردیتا اگر اس کی نظر نام پر نا پڑتی ۔ تیزی سے سیدھا ہوتے اس نے وہ آئ ڈی کھولی
درخزئ خان
کچھ دیر قبل سنان کی ڈائری میں اس نے یہ نام سنا تھا ورنہ وہ یہ کمنٹ نظر انداز کردیتا ۔ اس طرح کے کئ میسجز اس کے انباکس میں پڑے تھے لیکن وہ اس ایک میسج کو نظر انداز نہیں کرسکتا تھا
” آپ سنان کے کیا لگتے ہیں ؟”
اس نے انباکس کھولتے وہ میسج بھیج کر انتظار کیا کہ کیا رپلائے آتا ہے لیکن دوسری طرف خاموشی تھی ۔ شاید وہ آفلائن تھا ۔ ایرک نے فون رکھ دیا اور سر پیچھے کی طرف کرلیا
جو خواہشیں تھیں وہ بے زاریوں میں بدل جائیں تو دل کو کیا کہیں ؟
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
” وہ میرا تایا زاد کزن تھا”
درخزئ کا ریپلائے اسے رات کو آیا تھا جب اپارٹمنٹ پہنچتے چینج کرتے اس نے باہر جانے سے قبل عادتاً اپنا اکاؤنٹ چیک کیا تھا
” مجھ سے کیا بات کرنی تھی آپ کو ؟”
وہ کھڑے کھڑے رپلائے دینے لگا ۔ اسے جلدی تھی
” سنان کے بابا کو آپ سے بات کرنی ہے ۔ ویڈیو کال کرلوں ؟”
وہ کچھ دیر اس میسج کو دیکھتا رہا
” کرلیں “
کچن ٹیبل پر لیپ ٹاپ ٹیبل پر فکس کرتے وہ چیئر پر بیٹھ گیا ۔ چند لمحوں بعد ویڈیو کال آنے لگی ۔ اس نے بھاری دل کے ساتھ بٹن دباتا
سامنے کسی کمرے کا منظر تھا ۔ پیچھے کشیدہ کاری کئے گئے ڈیزائن ٹھہرے تھے ۔ ریک میں کتابیں بھی نظر آرہی تھیں یقیناً کوئ سٹڈی ہوگی ۔ کرسی پر کوئ ساٹھ کے قریب کے مرد بیٹھے تھے ۔ پروقار شخصیت ۔ سر کے سیاہ بال جن میں کچھ سفیدی تھی ۔ چہرے پر ہلکی داڑھی اور مونچھیں ۔ اداس آنکھیں ۔ وہ چند لمحوں میں پہچان گیا کہ وہ سنان کے بابا تھے ۔ ان کے پیچھے ایک خوش شکل سا لڑکا ٹھہرا تھا جو غالباً درخزئ تھا
” السلام علیکم بیٹا ۔ میں سنان کا والد ہوں “
بارعب سا لہجہ ۔ دونوں ہاتھوں کی مٹھی بنا کر لبوں پر رکھے اس نے صرف سر کو خم دیا
” میں نے ہی درخزئ سے کہا تھا کہ آپ کو کال کرے “
ان کے لہجے میں پشتو جھلک تھی ۔ انگلش صاف نہیں تھی لیکن سمجھ آرہی تھی
” آپ مجھ سے کس لئے بات کرنا چاہتے تھے ؟”
” میں آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا تھا “
” کیوں ؟”
” میں اس انسان کا شکریہ ادا کرنا چاہتا تھا جو میرے بیٹے کے لئے لڑ رہا ہے “
اس نے دونوں ہاتھ ہونٹوں سے ہٹائے پھر زرا سا آگے کو ہوا
” آپ لوگ یہاں سنان کے کیس کے لئے کیوں نہیں آئے ؟”
” حکومت نے منع کیا تھا کہ برطانوی حکومت سب معاملات دیکھ رہی ہے ۔ ہم پانچ چھ ماہ سے آپ کی حکومت کے انصاف کے منتظر تھے “
اب کے جواب پیچھے ٹھہرے درخزئ نے دیا تھا ۔ اس کی انگلش صاف تھی
” یہاں معاملہ مشتبہ تھا ۔ پہلے صورتحال واضح نہیں تھی لیکن اب سب صاف ہے ۔ آپ لوگ یہاں آ کر کیس دائر کرسکتے ہیں اور اس پر نا آپ کو پاکستان کی حکومت روکے گی نا برطانوی حکومت “
وہ اُنہیں کسی طرح قائل کرنا چاہتا تھا کہ وہ برطانیہ آ کر اس سب معاملے میں ذاتی طور پر حصہ لیں ۔ وہ سنان کی طرف سے لڑ سکتا تھا مقدمہ درج نہیں کرسکتا تھا
” میں وہاں نہیں آنا چاہتا “
” دیکھیں انکل ۔ میں اپنی پوری کوشش کررہا ہوں لیکن آپ لوگوں کے یہاں آنے سے اس کیس کو بہت فائدہ ہوگا “
” میں برطانیہ نہیں آنا چاہتا “
” لیکن کیوں ؟اگر آپ خوفزدہ ہیں تو میں یقین دلاتا ہوں کہ آپ کو یا آپ کے خاندان کو کوئ کچھ نہیں کہے گا “
” ہم پٹھان ہیں ایرک ۔ ہم ڈرتے تو میرا بیٹا وہاں ایک شہید کی موت نا مارا جاتا “
” پھر آپ یہاں کیوں نہیں آرہے ؟”
وہ زرا سا جھنجھلایا ۔ وہ سمجھ نہیں رہے تھے ان کے آنے ۔۔۔۔
” میں اس زمین پر نہیں جانا چاہتا جہاں سے میرے بیٹے کی میت واپس آئ تھی “
کسی نے لمحے میں اس کے دل کا ایک حصہ باہر نکالا تھا ۔ کسی نے دل کو دو حصوں میں کاٹ کر واپس جوڑا تھا ۔ اس کے پاس سارے الفاظ ختم ہوگئے
” وہ جب جارہا تھا تو میں نے کہا تھا کہ پردیس کو اپنا مت سمجھ لینا ۔ اس نے شاید اپنا ہی سمجھ لیا کہ واپس اپنے ملک زندہ نہیں آیا ۔ مجھے بڑے غم ہیں ایرک ۔ میں ستاون سال کا ہوں لیکن میں بوڑھا نہیں ہوا تھا ۔ جس دن اس کی میت گھر آئ میں اس دن بوڑھا ہوگیا ۔ اسے دفن کرتے وقت میں نے اپنی ہمت بھی دفن کردی تھی ۔ مجھے بڑے غم ہیں بیٹا ۔ میں ان غموں کے ساتھ اس زمین پہ قدم رکھوں گا تو میرا بڑھاپا بھی ختم ہوجائے گا “
اس نے زندگی میں پہلی بار کسی بزرگ کو اس طرح روتے دیکھا تھا ۔ وہ بس ٹکر ٹکر ان کا چہرہ دیکھتا رہا ۔ درخزئ اب ان کے آنسو صاف کررہا تھا
” میں آپ ۔۔۔ کا غم سمجھ ۔۔۔”
یہ کہنا فضول تھا وہ ان کا غم نہیں سمجھ سکتا تھا
” مجھے تم سے شکایت نہیں ہے ۔ سنان سے بھی شکوہ نہیں ہے ۔ وہ میرا سر فخر سے بلند کر کے گیا ہے ۔ میں اس سے قیامت کے دن فخر سے ملوں گا ۔ لیکن میرے دل کو صبر نہیں آرہا “
وہ آنسو صاف کررہے تھے ۔ اس نے دیکھا درخزئ کی آنکھیں سرخ ہوئ تھیں
” میں اسے انصاف دلانے کی پوری کوشش کروں گا “
بالآخر وہ کوئ جملہ پورا کرسکا
” نا بھی دلا سکے تو میں نے کہا نا مجھے کوئ غم نہیں ۔ تم جو کررہے ہو وہ بہت ہے ۔ تم جو نا کروں اس کا بھی شکوہ نہیں ۔ اس نظام سے تم نہیں لڑ سکتے ایرک ۔ یہ نظام بہت سے سنان سعدی مار چکا ہے ۔ یہ نظام ظالم ہے اور مجھے صرف اپنے اللہ سے انصاف کی امید ہے “
ان کی آواز اب ہموار تھی ۔ ایرک نے کچھ نہیں کہا ۔ وہ ٹی وی پر بیٹھ کر بولتا تھا اور دنیا اسے سنتی تھی ۔ اس کا شو اس وقت برطانیہ کے ٹاپ شوز میں سے ایک تھا ۔ اس نے اپنے چینل کی ریٹنگ آسمان تک پہنچا دی تھی لیکن وہاں اپنے اپارٹمنٹ کے کچن میں ٹیبل کے سامنے بیٹھے اس کی زبان سے سارے الفاظ کھینچ لئے گئے تھے
” میں دعا کروں گا کہ اللہ آپ کو سلامت رکھے ۔ سنان کی مورے ہر نماز میں اپنے بیٹے کی مغفرت اور آپ کی سلامتی کی دعا مانگتی ہے ۔ اس کی پہلی دعا قبول ہوجائے گی ۔ دوسری رد نہیں کی جائے گی ۔ میں چلتا ہوں ۔ زمینوں پر پہنچنا ہے ۔ آپ سے پھر بات ہوگی “
وہ کرسی سے تھک کر اٹھے تھے ۔ مزید شاید اس کے سامنے بیٹھنے کی ہمت نہیں تھی ۔ اس نے بس سر کو خم دیا ۔ سکرین سے ان کا چہرہ غائب ہوا تو درخزئ کا چہرہ آ گیا
” تایا تھوڑے جذباتی ہوگئے ۔ امید ہے آپ کو برا نہیں لگا ہوگا “
” وہ صرف ایک باپ ہیں “
” سنان ہم سب کو بہت عزیز تھا ۔ میرا دوست بھائ سب تھا ۔ ایک عرصہ لگے گا ہمیں سنبھلنے میں “
” سمجھ سکتا ہوں ۔ میں چلتا ہوں اب “
اس نے کال کٹ کرنی چاہی جب درخزئ کی آواز پر رکا
” ایک منٹ رکیں ۔ کسی اور کو بھی آپ سے بات کرنی تھی “
وہ کرسی سے اٹھتا سکرین سے یکدم غائب ہوا ۔ ایرک کے ہاتھ تھمے رہے ۔ اور کس کو ؟
وہ دو منٹ بعد واپس آیا تو کرسی کے پیچھے کھڑا ہوگیا ۔ ساتھ کوئ لڑکی تھی جس نے دوپٹہ اچھے سے سر پر اوڑھ رکھا تھا ۔ گول سا سفید خوبصورت چہرہ ۔ گلابی گال اور بڑی بڑی آنکھیں ۔ وہ انیس بیس سال کی کوئ لڑکی تھی جو زرا زرا سا گھبرائ ہوئ تھی
” یہ پریزے ہے ۔ سنان کی بہن اور میری کزن پلس منکوحہ ۔ اسے کچھ بات کرنی تھی آپ سے ۔ پریزے بیٹھو “
” درخزئ کسی نے دیکھ لیا تو ؟”
وہ ڈر رہی تھی ۔ ایرک خاموشی سے اُنہیں دیکھتا رہا ۔ اس سے کیا بات کرنی تھی ؟
” کوئ نہیں دیکھے گا ۔ تم میرے ساتھ ہو ۔ اب بیٹھو بھی ۔ وہ مصروف آدمی ہے “
وہ کچھ ڈر اور گھبراہٹ سے کرسی پر ٹکی گویا ابھی بھاگ جائے گی
” سلام لالہ “
گھبراہٹ میں زبان سے نکلا ۔ ایرک کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری
” وعلیکم السلام”
” آپ کو اردو آتی ہے ؟”
وہ سلام کا جواب سن کر حیران ہوئ تھی
” صرف سلام کا جواب آتا ہے”
” اچھا اچھا ۔ مجھے آپ سے کچھ پوچھنا تھا ” وہ بار بار دروازے کو دیکھتی
” جی ؟”
” آپ معطر صبا کو جانتے ہیں ؟”
تو کیا ساری دنیا آج ہی ہر زخم ادھیڑنا چاہتی تھی ؟ ہر پرانے شخص کا غم آج یاد آنا تھا ؟ اس نے سوچا منع کردے کہ وہ کسی معطر صبا کو نہیں جانتا ۔ لیکن وہ اپنا ہونا بھول سکتا تھا معطر صبا کا ہونا نہیں ۔ وہ اس کائنات میں اپنے وجود کا انکار کرسکتا تھا معطر صبا کی موجودگی کا نہیں
” جانتا ہوں ” اس نے سر کو خم دیا ” آپ کیوں پوچھ رہی ہیں ؟”
” سنان لالہ اس کا زکر کرتے تھے ۔ میری ایک بار بات ہوئ تھی لیکن پھر جانے وہ کہاں غائب ہوگئیں۔ میں ان کے نمبر پر کال کرتی ہوں تو نمبر بند جارہا ہے ۔ آپ ان سے میرا رابطہ کرواسکتے ہیں ؟”
” تمہیں کیوں لگا کہ میں معطر کو جانتا ہوں گا ؟”
” آپ لالہ کے دوست ہیں نا تو اُنہوں نے معطر کا زکر تو کیا ہوگا “
وہ اسے کیا بتاتا کہ سنان سعدی محبت کے معاملے میں اس قدر محتاط واقع ہوا تھا کہ وہ معطر کو بھی نہیں بتا کر گیا تھا
” میں نے سنان سے معطر کا زکر نہیں سنا لیکن میں اسے جانتا ہوں اور میرا اس سے کوئ رابطہ نہیں ہے ۔ وہ پاکستان واپس جا چکی ہے “
” اس کا کوئ رابطہ نمبر ہے آپ کے پاس ؟”
” پرانا نمبر وہ بند کرچکی ہے ۔ نئے نمبر کا مجھے علم نہیں”
اس نے دیکھا تھا کہ اس لڑکی کے چہرے پر صاف مایوسی چھائ تھی
” اسے ڈھونڈدیں کہیں سے “
کاش ! کوئ اسے ڈھونڈ دیتا
” میں نہیں جانتا وہ کہاں ہے پریزے “
اس کے لہجے میں بھائیوں سی نرمی گھل گئ ۔ پریزے کی آنکھیں نم ہوئیں
” ایسے مت بلائیں “
” تمہیں برا لگا ؟”
وہ گڑبڑایا
” سنان لالہ ایسے ہی نرمی سے بلایا کرتے تھے “
وہ اب رو رہی تھی ۔ درخزئ گھبرا کر اس کی دائیں طرف آیا ۔ ایرک کو ایک بار پھر دکھ نے آن گھیرا۔ وہ خاموشی سے سکرین کو دیکھتا رہا جہاں اب درخزئ پشتو میں کچھ کہتے پریزے کو چپ کروارہا تھا ۔ وہ اس کے سر پر ہاتھ پھیر رہا تھا ۔ نرم محبت بھرا انداز ۔چہرے پر تکلیف تھی
” آئ ایم سوری ۔ میں اپنے الفاظ واپس لیتا ہوں “
اس کی آواز سن کر وہ سارا رونا بھول گئ
” نہیں نہیں ۔۔ مجھے بس لالہ یاد آ گئے ۔ میں بہت بیوقوف ہوں آپ برا مت مانیں ۔ آپ میرے بھائ جیسے ہیں پلیز سوری “
ایرک نے گہری سانس لی
” مجھے لگا میں نے تمہیں پریشان کردیا ہے”
” بالکل نہیں ۔ اچھا آپ پلیز مجھے معطر کا ایڈریس ڈھونڈ دیں کہیں سے “
” میں جھوٹ نہیں بولوں گا پریزے لیکن میں اس کا ایڈریس نہیں ڈھونڈ سکتا نا ڈھونڈنا چاہتا ہوں ۔ “
وہ کچھ ٹھٹک کر اسے دیکھنے لگی پھر آنکھیں سکیڑیں
” کیوں ؟”
وہ اس کیوں کا کیا جواب دیتا سو یہ دکھانے کو کہ اسے دیر ہورہی ہے اس نے ہاتھ پہ بندھی گھڑی پہ ٹائم دیکھا
” مجھے دیر ہورہی ہے فی الحال ۔ پھر بات ہوگی ۔ درخزئ آپ اپنا نمبر مجھے سینڈ کردیں “
اس نے عجلت کا مظاہرہ کرتے جلدی سے لیپ ٹاپ سکرین بند کردی ۔ اردگرد سناٹا چھا گیا
پرانے لوگوں کا زکر ہمیشہ خوشی نہیں دیا کرتا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
” میں پچیس سال کا ہوں اور میں پندرہ سال کی عمر سے مسلمانوں سے نفرت کرتا آرہا ہوں ۔ مجھے نہیں یاد وہ کون سا واقعہ تھا جس نے مجھے اس نفرت کی طرف دھکیلا لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ اس نفرت کا زمہ دار کون ہے ” وہ پوڈیم کے سامنے کھڑا کہہ رہا تھا ۔ نیلی جینز پر سیاہ ڈریس شرٹ پہن رکھی تھی ۔ کالر پر مائیک لگا تھا ” وہ مغربی معاشرہ تھا اور میرے اردگرد کے لوگ تھے جنہوں نے مجھے سکھایا کہ مسلمان ایک دہ شت گرد قوم ہیں اس لئے ان سے نفرت کرو ۔ میرے میڈیا نے مجھے سکھایا کہ دنیا میں جتنے بھی دہ شت گردانہ واقعات ہوتے ہیں ان سب کے پیچھے مسلمانوں کا ہاتھ ہے ۔ مجھے میرے معاشرے اور لوگوں نے سکھایا کہ جس مسلمان ملک کو تباہ کیا گیا وہ اس کے حقدار تھے ۔ زندگی کے چوبیس سال میں اسی سوچ کے ساتھ رہا اور پھر ۔۔” وہ لمحہ بھر کو رکا سامنے ڈھیروں نوجوان بیٹھے تھے ” میری زندگی میں دو لوگ آئے ۔ وہ دونوں مسلمان تھے ۔ اپنے مذہب کو ڈیفینڈ کرنے کے لئے ہمیشہ آگے رہتے تھے ۔ وہ دو لوگ میری زندگی میں نا آتے تو میں آج بھی یہی سمجھ رہا ہوتا ۔ ان میں سے ایک سنان تھا ۔ وہ جاتے جاتے میرا زہن بدل گیا ۔ اس کے جانے کے بعد میں نے جانا کے شدت پسندی کا تعلق کسی مذہب سے نہیں ہوتا ۔ اگر مذہب سے ہوتا تو سنان نا مارا جاتا ۔ مذہب سے ہوتا تو برطانیہ میں اسلاموفوبیا کے ہر ماہ اوسطاً تین سو کیسز رپورٹ نا ہوتے ۔ مذہب سے ہوتا تو دنیا بھر میں مسلمانوں کو مشکلات کا سامنا نا کرنا پڑتا ۔ اب وقت آگیا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف سازشیں بند کردینی چاہئیں ۔ مسلمان ممالک کا پیچھا کرنا چھوڑ دیں ۔ وہ آپ کے زرخرید غلام نہیں ہیں کہ اگر ان کی پالیسیز آپ کے مطابق نہیں ہیں تو آپ انہیں اس فہرست میں لے آئیں جو صرف تباہی کے حقدار ہیں ۔ انصاف کے نام پر مسلمان ممالک کو تباہ کرنا چھوڑ دیں ۔ میں یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوں کہ زمین کا ایک ٹکڑا اتنی اہمیت کا حامل کیوں ہے کہ اس کے لئے انسانوں کی جان لے لی جائے ؟ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ جس قوم پر دنیا میں سب سے زیادہ ظلم ہوئے ہوں وہ ظالم کیسے ہو سکتی ہے ؟ جو لوگ اب بھی اپنے فرنشڈ ہاؤس میں بیٹھ کر مسلمانوں پر شدت پسند اور دہ شت گرد ہونے کے الزامات لگاتے ہیں اُنہیں چاہئے کہ فلسطین میں جا کر وہاں کہ پانچ سال کے بچوں کو دیکھیں ۔ عراق اور شام کے بوڑھوں کو دیکھیں ۔ ان ننھے اور بوڑھے ہاتھوں میں انہیں کون سا اسلحہ نظر آتا ہے جو دہ شت گردی کے نام پر مسلمان ممالک کو روند دیا جاتا ہے ؟ آپ کو جو الزامات لگانے ہیں وہ ایک انسان پر لگائیں مسلمان پر نہیں کیونکہ اس دنیا میں ہر شخص زندہ رہنے کا حق رکھتا ہے چاہے وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم “
وہ بولنے پر آیا تو بولتا چلا گیا۔ بنا کچھ سوچے ۔ دماغ میں سنان کی موت کا منظر ۔ معطر کے سر سے نکلتا خون گھومنے لگا ۔ اس کے چپ ہونے پر مجمعہ پورے جوش سے کھڑا ہوا اور تالیاں بجانے لگا ۔ وہ مسلمانوں کے زیر اہتمام منعقد کیا جانے والا جلسہ تھا جس میں اسے مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا گیا تھا ۔ وہاں صرف مسلمان نہیں کئ غیر مسلم بھی موجود تھے ۔ تالیوں کا شور تھما تو مجمعے میں سے کوئ کھڑا ہوا
” ایک سوال پوچھوں ؟”
” جی “
اس نے سر کو خم دیا پھر گھڑی پہ وقت دیکھا ۔ اسے واپس لندن پہنچنا تھا
” وہ دوسرا انسان کون ہے جس نے آپ کی رائے بدلی ؟”
گھڑی پر وقت رک گیا ۔ اس کی نظر مجمعے پر گئ پھر مائیک درست کرتے اس نے گلا کھنکارا
” میں اس کا نام نہیں بتانا چاہتا “
مجمعے میں سرگوشیاں ابھریں
” کیا وہ کوئ لڑکی ہے ؟”
اس بار وہ کئ لمحے چپ رہا
” یہ جاننا اہم نہیں ۔ اہم یہ ہے کہ وہ ایسا انسان نہیں جس کا زکر ہر کسی سے کر لیا جائے “
وہ کالر پہ لگا مائیک اتار رہا تھا ۔ سامنے بیٹھے لوگوں کو کئ سوالات پوچھنے تھے لیکن وہ جان گئے تھے کہ ان کا پسندیدہ صحافی سوالات پسند نہیں کرتا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
تیز ہوتی بارش میں اس نے ایک بار پھر سپیڈ کچھ زیادہ کرنی چاہی ۔ اسے اب رہ رہ کر افسوس ہورہا تھا کہ وہ جلدی چلا جاتا یا وہاں اتنی دیر نا ٹھہرتا ۔ موبائل نکالتے اس نے ٹائم دیکھا ۔ بارہ بج رہے تھے ۔ وہ وہاں سے نکلا تھا تو دس کا وقت تھا ۔ عام طور پر اتنا وقت نہیں لگتا تھا لیکن آج بارش کے باعث دیر ہوگئ تھی ۔ موبائل پر آتی کال دیکھتے اس نے موبائل ڈیش بورڈ پر رکھا پھر بلیو ٹوتھ کان میں ڈالا
” جی مام “
وہ موڑ کاٹ رہا تھا ۔ موبائل سکرین پر اسے ہیزل کا چہرہ نظر آرہا تھا
” یہ کیا کرتے پھر رہے ہو تم ؟”
” میں ٹھیک ہوں ۔ آپ کیسی ہیں ؟”
” ایرک میں مزاق کے موڈ میں نہیں ہوں ۔ یہ کہاں تقریر کرکے آرہے ہو ؟”
” آپ کو کس نے بتایا ؟”
” لائیو دیکھ رہی تھی میں ۔ پوری دنیا نے لائیو دیکھی ہے تمہاری بیوقوفی “
” حالانکہ وہ بہادری تھی “
” تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے ایرک ۔ پہلے دن سے میں تمہیں سمجھا رہی ہوں کہ اتنا زیادہ بولنے کی ضرورت نہیں ہے سمجھ کیوں نہیں آتی تمہیں ؟”
ان کا چہرہ غصے میں لگ رہا تھا
” میں صرف سچ کا ساتھ دے رہا ہوں “
وہ احتیاط سے گاڑی چلا رہا تھا ۔ راستہ کچھ پہاڑی تھا زرا سی بے احتیاطی اور گاڑی پھسل جاتی
” بیوقوفی کررہے ہو ۔ تم ایسا کرو فوراً امریکہ آؤ “
” یعنی آپ چاہتی ہیں کہ میں زمینی کیڑوں سے بچ کر سمندر میں مگرمچھ کے پاس چلاجاؤں ؟”
” تم بات غلط سمت کی طرف موڑ رہے ہو “
” ابھی تو صحیح سمت کا تعین کیا ہے ۔ نا آپ بچی ہیں اور نا میں مام ۔ ہم دونوں جانتے ہیں کہ سنان جس نظام کے خلاف لڑرہا تھا اور جس نظام کے خلاف میں لڑنے کی کوشش کررہا ہوں وہ کن کا بنایا ہوا ہے اور کون اس کا مین ہینڈلر ہے “
بات پوری کرنے سے قبل اس کی گاڑی کو ہلکا سا جھٹکا لگا ۔ وہ بروقت اسٹیرنگ نا تھامتا تو گاڑی نیچے جا گرتی
” یہی بہادری تمہیں کسی دن مروائے گی “
وہ جھنجھلائیں ۔ ایرک کا پرسکون چہرہ انہیں مزید مشتعل کرریا تھا
” میں بہادروں کی طرح مرنا پسند کروں گا “
” تم غلط لوگوں کے لیے لڑ رہے ہو ایرک ۔ مسلمان اس قابل نہیں ہیں کہ ان کے لئے کوشش کی جائے “
” میں اس پر بحث ۔۔۔۔”
اس بار لگنے والا جھٹکا شدید تھا ۔ وہ یکدم آگے کو ہوا ۔ اسٹیئرنگ گھماتے اس نے بمشکل گاڑی کنٹرول کی
” کیا ہوا ؟”
اس نے جواب نہیں دیا ۔ دماغ گھوم رہا تھا ۔ سیدھا ہوتے اس نے سائیڈ مرر سے دیکھا پیچھے کوئ لائٹ جل رہی تھی ۔ دو چار اونچی گالیوں سے نوازتے اس نے دوبارہ سے گاڑی سٹارٹ کی
” تم ٹھیک ہو ایرک ؟”
” جی ۔ بارش ہورہی ہے تو اسی وجہ سے کسی کی ٹکر لگ گئ تھی “
سوزین ہیزل کچھ کہہ رہی تھیں اسے سنائ نہیں دیا ۔ پیچھے سے کسی نے زور دار ٹکر ماری تھی ۔ اس نے اسٹیئرنگ سنبھالنے کی کوشش کی لیکن گاڑی کنٹرول میں نہیں آرہی تھی ۔ ٹکر دوبارہ آ کر لگی اور اس بار اس کے ہاتھ سے اسٹیئرنگ چھوٹ گیا ۔ سر سیٹ بیلٹ کے باوجود پوری قوت سے اسٹیئرنگ سے لگا ۔ موبائل پر سوزین اب چیخ رہی تھیں ۔ اس کی گاڑی بے قابو ہوتی سڑک پر گھومتی جارہی تھی ۔ اس کا جسم جھٹکوں کے باعث تکلیف میں تھا ۔ گول گول گھومتی گاڑی کسی درخت سے ٹکرا کر رکی تو سامنے سے دھواں نکلنے لگا ۔ اس کے اندر ہمت نہیں بچی تھی لیکن بہت کوشش سے اس نے دروازے کو مارنا چاہا۔ کہنی زخمی تھی ۔ کاندھا یوں لگتا تھا جسم سے جدا کردیا گیا ہو ۔ گاڑی کے اندر دھواں بھررہا تھا ۔ کھانستے اس نے بمشکل آخری بار ہمت کرتے کچھ قوت سے دروازے کو مارا ۔ قسمت تھی کہ وہ کھل گیا ۔ ایرک خود کو گھسیٹ کر بمشکل باہر نکلا ۔ پاؤں سے جان نکل رہی تھی ۔ اس کے اندر چلنے کی ہمت نہیں تھی ۔ وہ وہیں زمین پر لیٹ گیا ۔ اوپر تیز آواز کے ساتھ بادل گرج رہے تھے ۔ اس نے گہری سانس لیتے اٹھنا چاہا لیکن جسم مردہ ہورہا تھا ۔ اس کے ماتھے سے خون نکل رہا تھا ۔ سر گھوم رہا تھا ۔ اس نے کسی کو بلانا چاہا ۔ کوئ انسان جو یہاں ہوتا لیکن علاقہ سنسان تھا ۔ یہاں کسی کی موجودگی قریباً نا ممکن تھی ۔ اسے ٹکر مارنے والا ڈمپر وہاں سے جا چکا تھا ۔ کیا وہ یوں مر جائے گا ؟ ۔ اس نے ہمت سے بہت کوشش سے خود کو گھسیٹا ۔ گاڑی گول گول گھومتی سڑک سے سرک کر نیچے گری تھی وہاں آبادی نہیں تھی ۔ ٹانگیں زخمی تھیں ۔ اس کی ہمت ختم ہوگئی ۔ جان جسم سے بہت آہستہ سے نکل رہی تھی ۔ گلے میں ابھرتی گلٹی سے اس نے کسی کو بلانا چاہا ۔ کوئ انسان یا خدا ۔ انسان وہاں نہیں تھے اور خدا ؟
وہ کس خدا کو بلائے ؟ وہ کس خدا کو مانتا تھا ؟ پچیس سال ۔ ان سالوں میں اس نے کس خدا کی عبادت کی تھی ؟ اس نے مشکل میں کس خدا کو پکارا تھا ؟ خوشی میں کس خدا کا شکر ادا کیا تھا ؟ وہ جب مر رہا تھا تو کس خدا سے زندگی مانگتا ؟ وہ جب مر رہا تھا تو کس خدا سے آسان موت مانگتا ۔ اس انجان سڑک سے دور تباہ حال گاڑی کے ساتھ پڑے اسے احساس ہوا اس کے پاس کوئ خدا نہیں تھا ۔ اس نے زندگی کے پچیس سال صرف دنیا کے لئے ضائع کئے تھے ۔ خسارے کا سودا ۔ گھاٹے کا کاروبار ۔ ملا تو خاک !
بند ہوتی آنکھوں اور پھٹتے زہن سے اس نے یاد کرنا چاہا کہ اس کے پاس کتنے لوگ تھے ۔ ڈیڈ ۔ مام ۔ معطر ۔ تین ۔ اس کے ماں باپ کو علم ہوجاتا لیکن معطر ؟ کیا وہ جان پاتی جس لڑکے کے ساتھ وہ ازلنگٹن کی سڑکوں پر چلا کرتی تھی وہ یوں انجان سڑک پر مررہا تھا ۔ وہ جان پاتی کہ جس سے وہ نفرت کرتی تھی وہ زندہ ہی نہیں رہا تھا
اس کا دماغ پھٹنے لگا ۔ حلق درد کررہا تھا ۔ گہری سانس لیتے اس نے آسمان کو دیکھا ۔ چند ماہ پہلے ٹرسٹ کے صحن میں اسی طرح لیٹا کوئ وجود یاد آیا ۔ اس کے پاس بیٹھی کوئ لڑکی یاد آئ ۔ آخری سانسیں بھرتا سنان ۔ اسے یاد آیا وہ آخری وقت میں کچھ کہہ رہا تھا ۔ اس کے پاس یہاں کوئ نہیں تھا جس سے کچھ کہتا ۔ اسے یاد آیا سنان کی زبان سے آخر میں الفاظ نہیں نکل رہے تھے ۔ تو کیا ہر موت کے قریب شخص کی زبان ہلنے سے انکار کردیتی ہے ؟ بند ہوتی آنکھوں سے اسے یاد آیا سنان نے آخری بار ایک لفظ کہا تھا
اللہ۔۔۔۔۔
اس کی آنکھیں بند ہونے لگیں ۔ کانپتے ہونٹ جدا ہوئے ۔ نظر آسمان پر گئ ۔ ہونٹ ہلکے سے ہلے ۔ کوئ نام نکلا ۔ کوئ ایک لفظ جو اس نے کہا تھا
” اللہ۔۔۔۔۔ !”
وہ آخری لفظ تھا جو اس کے ہونٹوں سے نکلا تھا اور پھر آنکھیں بند ہو گئیں ۔ دماغ ساکت ہوگیا ۔ جسم خالی
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
