192.3K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Laa (Episode 33)

Laa By Fatima Noor

اسے اگلے دن نا کسی سے کچھ کہنے کا وقت مل سکا نا وہ کسی سے مل سکا ، چھٹی ختم ہونے میں صرف آٹھ دن باقی تھے اور ان سب میں تین دن تو عید میں گزر جاتے ، یہ پہلی بار تھا جب وہ عید پر برطانیہ میں نہیں تھا

اس دن وہ صبح صبح منظور صاحب کے ساتھ گیا ،پہلے کالج پھر پولیس اسٹیشن پھر اس کے انسٹیوٹ کال کروائ ،پھر انگلینڈ میں موجود پاکستانی سفارت خانے تک ساری بات پہنچائ ، اُنہوں نے تسلی کروائ کہ وہ سارا معاملہ خود دیکھ لیں گے ، اس نے سارے ڈاکیومنٹس جن میں کامل منظور کے کسی بھی طرح کی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نا ہونے کا یقین کروایا گیا تھا مارک تک پہنچا دیئے ، وہ وہاں یہ سارا معاملہ دیکھ رہا تھا

” آپ کا شکریہ بیٹا ، آپ نا ہوتے تو میں تو امید ہی چھوڑ چکا تھا”

منظور صاحب کی آنکھیں نم ہوگئیں

” میں نا ہوتا تو کوئ اور ہوتا اور اب کامل کو واپس مت بلوائیے گا کسی خوف کی وجہ سے ، اسے اپنے مستقبل کے لئے کوشش کرنے دیں ، وہ وہاں محفوظ ہے ، میں واپس جاکر بذات خود اس سے ملوں گا “

اس نے انہیں تسلی دیتے نجیب کو گاڑی نکالنے کا اشارہ کیا

” آپ کا مشن کہاں تک پہنچا ؟”

” کون سا مشن ؟” گاڑی میں بیٹھتے وہ ٹھٹکا

” وہی جس کی وجہ سے پڑوس والا گھر لیا تھا “

” تم وہیں اٹکے ہو ابھی تک ؟”

وہ ہلکا سا ہنسا ، چہرے پر تھکن نظر آرہی تھی ، پچھلے چند دن سے نا نیند پوری ہوئ تھی نا آرام کا وقت مل سکا تھا ، موبائل نکالتے وقت دیکھنا چاہا لیکن وہ بند تھا ،پورے دن میں اسے چارج کرنا یاد ہی نہیں رہا

” میں انتظار کررہا ہوں کہ کسی دن مجھے علم ہو ہی جائے گا “

” میں خود انتظار کررہا ہوں “

” اب تو آپ لاہور گھومیں گے نا ؟”

” مجھے پشاور جانا ہے “

” پہلے لاہور تو گھوم لیں “

” پشاور بھی گھومنے نہیں جارہا “

” پھر کس لئے جارہے ہیں ؟”

” کسی سے ملنا ہے “

نجیب گاڑی گلی میں روک رہا تھا ، وہ دروازہ کھولتے باہر نکلا جب سڑک پر نظر گئ ، ایک بڑی گاڑی وہاں رکی تھی ، اس نے ابرو اچکائے

” یہ آپ کہیں پچھلے جنم میں پاکستانی تو نہیں تھے ؟”

گاڑی کی کھڑکی سے منہ نکالتے نجیب نے اسے پکارا تو اس نے رخ موڑا

” کون سا پچھلا جنم ؟ لاحول ولاقوۃ الاباللہ “

” نہیں میرا مطلب ، آدھا پاکستان آپ سے واقف ہے ، آدھے پاکستان سے آپ واقف ہیں ، یہ واقفیت کس وجہ سے ہوئ ہے بھلا ؟”

” خود ہی تو کہتے ہو آدھی دنیا مجھے جانتی ہے ، آدھی دنیا میں پاکستان بھی آتا ہے “

” لیکن آپ آدھے پاکستان کو کیسے جانتے ہیں ؟”

” میں تمہارے آدھے پاکستان میں سے صرف دو چار لوگوں کو جانتا ہوں ،یہ الگ بات ہے کہ میرے لئے آدھا پاکستان انہیں دو چار لوگوں میں سما جاتا ہے “

مزید نجیب سے بحث کرنے کی بجائے وہ گلی کی طرف جارہا تھا ، گلی کے ابتدا ہی میں معطر کا گھر تھا ، وہ اندر داخل ہوا تو گیٹ کھلا تھا اسے بند کرتے وہ برآمدے پھر کمرے کی طرف جانے لگا تو یکدم رکا ، چھوٹے سے لاؤنج سے باتوں کی آواز آرہی تھی ، عام سی چیز تھی لیکن وہ ٹھٹکا ، یونہی گمان سا گزرا کہ وہ آواز جانی پہچانی تھی ، آہستہ قدموں سے وہ گیلری سے ہوتا لاؤنج کے سرے پر آیا تو قدم مزید چلنے سے انکاری ہوگئے

سامنے بزرگ بیٹھے تھے ، سفید شلوار قمیص پہنے ، ان کے ساتھ خاتون جنہوں نے دوپٹہ سر پر اوڑھ رکھا تھا ،پھر اس کی نظر ساتھ والے صوفے پر گئ ، سیاہ شلوار قمیص پہنے بیٹھی لڑکی

“پریزے …..”

اس کے لبوں سے نکلا ، کسی بات پر مسکراتی پریزے کی نظر اس پر گئ تو مسکراہٹ سمٹی پھر اس نے خفگی سے رخ موڑا ، آدم کی نظر خجستہ خاتون پر گئ پھر سعدی حشمت خان پر

” السلام علیکم “

اس کی آواز پر وہاں سناٹا چھایا ، سب نے سر ہلا کر سلام کا جواب دیا تو وہ کچھ حیرانی سے ہلکا سا مسکراتے ہوئے سعدی خان کی طرف آیا جو اسے دیکھتے کھڑے ہوچکے تھے ، ان سے گلے ملتے خجستہ کے آگے سر جھکایا ، نظر دانیال پر گئ جو اسے دیکھ رہا تھا پھر نظر پریزے پر گئ تو وہ سیدھا ہوتے ہلکا سا کھنکارا

” کیسی ہو پریزے ؟”

” بات مت کریں مجھ سے “

اس نے کچھ بے بسی سے خجستہ خانم کو دیکھا پھر سعدی حشمت خان کو ، دونوں نے کاندھے اچکا دیئے

” ناراض ہو ؟”

” بہت ، آپ نے آنے سے پہلے بتایا بھی نہیں”

” میں آج پشاور کے لئے نکل ہی رہا تھا”

” بیٹھیں آدم بھائ “

دانیال کی آواز پر وہ سر کو خم دیتا دائیں طرف رکھے صوفے پر بیٹھا ، ایک سنجیدہ نظر سب پر ڈالی ( وہ یہاں کیا کررہے تھے ؟)

” کیونکہ آدم بیٹا بھی آ گیا ہے تو ہم سیدھا مدعے کی بات پر آتے ہیں” سعدی حشمت خان نے اسے دیکھتے انگلش میں کہا تو وہ کچھ چونکا پھر سیدھا ہوا ،نظر پریزے پر گئ جو اسے دیکھتی مسکراہٹ دبا رہی تھی

” میں سمجھی نہیں”

ساجدہ کو ان لوگوں کی آمد حیران کررہی تھی

” ہم سمجھا دیتے ہیں بہن ” اس نے مٹھی اضطراری انداز میں بند کرتے خجستہ خانم کو دیکھا جن کی نظر ساجدہ پر تھی ” آدم کو ہم دو سال سے جانتے ہیں ، یہ سنان کا دوست ہے ، سنان میرا بیٹا جسے برطانیہ میں شہید کردیا گیا تھا” پل بھر کو وہاں سناٹا چھا گیا ، پھر خجستہ خانم نے گہری سانس لی ” سنان کو انصاف دلانے کیلئے آدم نے کوششیں کی تھیں ، ہم تب سے اس سے واقف ہیں ، یہ میرے لئے میرے بیٹے جیسا ہے ، اور میں اپنے اس بیٹے کے لئے آپ کی بیٹی معطر کا ہاتھ مانگتی ہوں”

گفتگو اردو میں تھی ، اسے الفاظ سمجھ نہیں آئے تھے سوائے سنان اور معطر کے نام کے ، بند مُٹھی کھل گئ ، اسے گفتگو کا موضوع سمجھ آگیا تھا ، سر جھکاتے اس نے آنکھیں بند کیں

” میں ۔۔۔ خجستہ خاتون آپ نے مجھے کچھ کہنے لائق نہیں چھوڑا “

ساجدہ پل بھر کو واقعی لاجواب ہوگئ تھیں

” میں جانتی ہوں آپ کے لئے فیصلہ مشکل ہوگا لیکن میں آپ کو یقین دلاتی ہوں کہ یہ بچہ آپ کی بیٹی کو بہت خوش رکھے گا “

” یہ مشکل فیصلہ ہے “

” جانتے ہیں بہن لیکن ہم آپ کو پوری تسلی دلاتے ہیں کہ آپ غلط فیصلہ نہیں کریں گی “

وہ سر جھکائے خاموشی سے گفتگو سنتا رہا ، یہاں اس کے ماں باپ کو ہونا چاہئے تھا ، کیان اور ہیزل کو ،پریزے کی جگہ سوزین ہوتی ، وہاں اس کے ماں باپ ہوتے ، اس کی جھکی آنکھوں میں ازیت ابھری ، عجیب دل توڑنے والی اذیت

” میں معطر سے مل سکتی ہوں ؟”

اس کا سر پریزے کی آواز پر اٹھا تھا ، وہ ساجدہ سے پوچھ رہی تھی ، اُنہوں نے سر ہلاتے مبشرہ کو بلایا

” ان کو معطر کے پاس چھوڑ آؤ “

وہ شکریہ کہتی اٹھی ، بنا کسی کو دیکھے مبشرہ کے ساتھ لاؤنج کے سرے پر بنی تنگ سی سیڑھیوں سے اوپر کی طرف ، وہاں سیڑھیوں کے اختتام پر سب سے پہلا کمرہ معطر کا تھا ، مبشرہ نے دستک دے کر دروازہ کھولا تو اندر بیٹھی معطر نظر آئ ، وہ کھڑکی کے پاس رکھی کرسی پر بیٹھی تھی ، پاؤں اوپر کر رکھے تھے ،نظر باہر تھی ، اس کا لباس مکمل سیاہ تھا ، ڈپٹہ گردن میں ، بال ڈھیلے سے جوڑے میں بندھے تھے ، دستک پر نظر گھمائ ، مبشرہ کے پیچھے ٹھہری گلابی دوپٹے میں دمکتے چہرے والی لڑکی پر نظر گئ

” یہ پریزے ہیں ، آپ سے ملنا چاہتی تھیں “

وہ کچھ دیر اس لڑکی دیکھتی رہی ، ابرو تعجب سے اٹھے پھر ایک لمحے میں یاد آیا وہ کون پریزے تھی ، وہ دنیا میں صرف ایک پریزے نام کی لڑکی کو جانتی تھی ، قدم کرسی سے نیچے اترے

” شکریہ مبشرہ ، ہمیں کچھ دیر اکیلا چھوڑ سکتی ہیں ؟”

مبشرہ مسکرائ پھر سر ہلاتے دروازہ بند کیا ، پریزے کچھ لمحے وہیں ٹھہری رہی پھر معطر کے سامنے پڑی کرسی تک آئ

” السلام علیکم”

” پریزے…..”

وہ بے یقینی سے اٹھی اور تیزی سے اس تک آتے اسے گلے سے لگایا، پریزے تھم گئی ، معطر اسے زور سے بھینچے ہوئے تھی ، اس کا ہاتھ معطر کی پشت پر گیا

” تم یہاں کیسے ؟”

اس سے الگ ہوتے حیرانی سے پوچھا ، وہ ابھی ابھی سو کر اٹھی تھی تو نیچے آنے والے مہمانوں کی آمد سے لاعلم تھی

” آپ کے لئے آئے تھے ، میں بیٹھ سکتی ہوں ؟”

” ہاں ۔۔ بیٹھو “

کرسی سامنے رکھتے وہ خود بھی بیٹھ گئ ، چہرے پر بے چینی پھیلی تھی

” کیسی ہو تم ؟ اور یہاں کیسے ؟ ایڈریس کیسے ملا تمہیں ؟”

” سانس تو لیں معطر ” وہ ہلکا سا ہنسی

” اللہ ، مجھے تمہیں دیکھ کر بہت خوشی ہورہی ہے ، کس کے ساتھ آئ ہو ؟”

وہ واقعی خوش لگ رہی تھی

” مورے اور بابا کے ساتھ ، وہ نیچے ہیں “

” اوہ ، میں ان سے مل کر آتی ہوں ” وہ اٹھنے لگی جب پریزے نے اس کا ہاتھ تھاما

” وہ آپ کی امی سے بات کررہے ہیں ، مجھے آپ سے بات کرنی تھی اس لئے اوپر آ گئ “

” کیا بات کرنی ہے ؟” وہ وہیں بیٹھ گئ

” پہلے تو آپ کو دیکھنا تھا “

” ابھی تو دیکھا ہے” وہ مسکرائ

” دروازے میں کھڑے ہو کر اپنی نظر سے دیکھا تھا یہاں بیٹھ کر سنان لالہ کی نظر سے دیکھنا چاہتی ہوں “

اس کی مسکراہٹ غائب ہوئ

” مجھے اس کے لئے دکھ ہے”

” میرا دکھ تو دو سال سے کم ہی نہیں ہورہا “

” وہ ۔۔۔ اچھا انسان تھا “

” تھا…. دیکھیں اس لفظ سے ہی کتنا دکھ ہوتا ہے”

اس کی آنکھیں نم ہوئیں ،معطر کو دکھ نے آن گھیرا

” صبر کرو پریزے…..”

” وہ مجھے کہتے تھے کہ تم جب معطر سے ملو گی تو کہوں گی کہ وہ ہیر جیسی لڑکی ہے ، وہ یہاں ہوتے تو میں انہیں بتاتی آپ واقعی ہیر جیسی ہیں پر وہ یہاں ہیں ہی نہیں ” اس کی نم آنکھیں اب آنسو بہا رہی تھیں ” ان کے پاس بہت خواب تھے جو آپ سے جڑے تھے ، لیکن ان کی کہانی مختصر رہی ، کچھ کہانیوں کے انجام ان کے نام طے کرتے ہیں ، وہ خود کو رانجھا نا کہتے تو اچھا ہوتا نا “

” اس کا جانا طے تھا پریزے “

” وہ خوش تھے معطر ، ہماری رات کو بات ہوئ تھی ، اُنہوں نے بتایا کہ وہ واپس آرہے ہیں ، ہم نے طے کیا تھا کہ ہم لاھور جائیں گے ، اُنہوں نے آپ کے لئے چوڑیاں بھی لی تھیں ، وہ چوڑیاں کہیں کھو گئیں ، انہوں نے میرے لئے جھمکے لئے تھے وہ جھمکے بھی گم گئے ، ان کی ڈائری میں کئ قصے درج تھے وہ ڈائری بھی مجھے نہیں ملی “

اس کے آنسو تواتر سے بہہ رہے تھے ،معطر کو اسے دیکھتے کچھ یاد آیا ، وہ اس کا ہاتھ چھوڑتی اٹھی ، الماری کا دروازہ کھولا ،نچلے خانے میں چھوٹے سے ڈبے کو اٹھایا پھر اس تک آئ ، ڈبہ کھولا تو اندر رکھی چند چوڑیاں نظر آئیں ساتھ ایک جھمکا ، آنسو صاف کرتی پریزے کی نظر اس کے ہاتھ میں تھامے جھمکے پر گئ

” جب اسے گولی لگی تھی تو یہ مجھے اس کے پاس سے ملے تھے ، اس نے میرے سامنے تمہارے لئے لیے تھے “

اس نے وہ جھمکا پریزے کی طرف بڑھایا ، وہ اسے ہاتھ میں تھامے ایک بار پھر رو پڑی

” اوہ لالہ ۔۔۔۔”

معطر چوڑیاں وہیں رکھتی اس تک آئ ، اسے گلے سے لگاتے اس کی پیٹھ تھپکی

” رونے سے غم ہلکا ہوتا ہے پریزے لیکن اپنے دل کا بوجھ مت بڑھاؤ “

وہ اس کا سر تھپک رہی تھی ، اس کی خود کی آنکھیں یوں ہی نم ہوگئ تھیں ، پریزے کی ہچکیاں آہستہ آہستہ تھمنے لگیں پھر وہ پرسکون ہوتے ہوتے چپ ہوئ ، ہاتھ سے آنسو صاف کئے اور معطر کا ہاتھ تھاما

” میں بہت کمزور دل والی لڑکی ہوں دراصل “

وہ سامنے بیٹھتی ہلکا سا مسکرائی

” سنان تمہارا بتاتا تھا “

” لالہ آپ کا بھی بتاتے تھے ” وہ آنسو صاف کررہی تھی

” کیا بتاتا تھا ؟”

” یہی کہ آپ چوڑیاں پہنتی ہیں ، انہیں ڈر ہے کہ کسی دن جب وہ آپ کو بتائیں گے کہ وہ آپ کو اپنی ڈائری میں لکھتے ہیں تو آپ اُنہیں انہی چوڑیاں پہنے ہاتھوں سے تھپڑ ماریں گی “

” وہ خواہ مخواہ میرے ہاتھوں سے ڈرتا تھا “

وہ نم آنکھوں سے ہنسی ، پریزے کچھ لمحے اسے دیکھتی رہی

” وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ آپ کو وہ تنگ کرتے تھے ، اُنہوں نے ازلنگٹن کی گلیوں میں آپ کو خوفزدہ کیا تھا ، آپ کا بس چلتا تو اُنہیں دریائے ٹیمز میں پھینک دیتیں “

اس کی نمی آنکھوں میں رہی لیکن مسکراہٹ غائب ہوگئ

” یہ سنان کہتا تھا ؟”

” یہ آدم لالا کہتے ہیں “

وہ کئ لمحے اسے دیکھتی رہی ،لفظ جیسے دماغ کو آہستہ سے سمجھ آئے تھے

” پریزے ….”

” ہم یہاں آپ کا رشتہ لینے آئے ہیں معطر ، اپنے بھائ آدم کیان کے لئے “

وہ سنجیدگی سے کہہ رہی تھی ،معطر آنکھوں میں حیرت لئے اسے دیکھتی رہی

” تم آدم کو جانتی ہو ؟”

” وہ میرے لئے بھائ جیسے ہیں ، سنان لالہ زندہ ہوتے تو ہم یہاں ان کے لئے آتے ، لیکن ہم یہاں آدم لالہ کے لئے آئے ہیں ، میرے بھائ کو منع مت کیجئے گا معطر “

اس نے ہاتھ پریزے کے ہاتھ سے کھینچا

” تو اس نے تمہیں سفارش کے لئے بھیجا ہے ؟”

” وہ ہمارے یہاں آنے کے متعلق جانتے بھی نہیں ہیں ، ہم یہاں ان کی مرضی سے نہیں آئے “

” اگر اس نے نہیں کہا تو تم لوگوں کو نہیں آنا چاہئے تھا “

” ان کے پاس کوئ تھا ہی نہیں معطر جو ان کے لئے آتا ” معطر صبا کی زبان سے کسی نے سارے الفاظ کھینچ لئے ، پریزے اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی ” ان کے ماں باپ ، بہن ، دوست سب نے انہیں اس لئے چھوڑ دیا کیونکہ وہ اسلام قبول کرچکے تھے ، ایسے انسان سے نفرت تو نہیں بنتی جس نے اللہ کے لئے سب کو چھوڑدیا ہو ، ایسے انسان پر تو رشک بنتا ہے”

” میں اس سے نفرت نہیں کرتی “

اس نے وضاحت دینی چاہی

” پھر آپ ان سے شادی کیوں نہیں کرنا چاہتیں ؟”

” تم ۔۔ تم میرے حالات نہیں جانتیں “

” میں واقعی نہیں جانتی ، لیکن میں آدم لالہ کے دل کا حال جانتی ہوں ، وہ آپ سے محبت کرتے ہیں ، میں نے کئ بار ان سے کہا کہ پاکستان آجائیں وہ نہیں آئے ، مجھے کچھ عرصے بعد پتا چلا وہ آپ کی وجہ سے نہیں آرہے ، وہ آپ کا سامنا نہیں کرنا چاہتے تھے ، میں نہیں جانتی کس وجہ سے لیکن کوئ بھی جرم اتنا بڑا تو نہیں ہوتا جسے معاف نا کیا جاسکے “

” تم غلط سمجھ رہی ہو “

” میں شاید غلط سمجھ رہی ہوں لیکن میں واقعی نہیں جانتی کہ جو انسان آپ سے سب زیادہ محبت کرتا ہو اس کا دل توڑنے کے پیچھے کیا وجہ ہوسکتی ہے “

وجہ ؟ اس نے سوچا واقعی کیا وجہ تھی ؟ آدم کیان کا وہ جملہ جو اس نے نادانی میں کہا تھا ؟ یا ۔۔۔ اور کیا قصور تھا ؟ اسے واقعی یاد نہیں آسکا

” وہ جو چاہ رہا ہے وہ ممکن نہیں ہے پریزے “

اس نے پاؤں دوبارہ اوپر کر لئے

” وہ آپ کے لئے پوری دنیا سے لڑ سکتے ہیں معطر “

” اور میں یہی نہیں چاہتی ، وہ کس کس کے لئے پوری دنیا سے لڑے گا ؟ اسے خود کا سوچنا چاہیے”

” خود کا ہی تو سوچ رہے ہیں”

معطر چپ چاپ اسے دیکھتی رہی

” میں اس کے لئے کچھ نہیں کرسکتی ، میرے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے “

” آپ ان کے لئے جو کرسکتی ہیں وہ کرلیں ، قسمت ان پر مہربان ہوگی تو آپ کو مزید کچھ کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی “

اس کے کوئ جواب دینے سے پہلے دروازے پر دستک ہوئ پھر دروازہ کھلا

” آپی آپ کو اور پریزے کو نیچے بلا رہے ہیں “

پریزے سر ہلاتی اٹھی پھر معطر کو دیکھا

” نیچے چلیں “

اس نے جھک کر اپنا لباس دیکھا ، تھوڑی دیر پہلے ہی تبدیل کیا تھا پھر سر ہلاتے اٹھی اور دوپٹہ درست کرکے سر پر پہنا ، سیڑھیوں سے اترتے ہوئے پریزے اس کے آگے رکی

” میرے بس میں ہوتا تو میں سنان لالا کے لئے آپ کو چنتی معطر ، لیکن ان کی قسمت میں آپ نہیں لکھی تھیں ، اب میں اپنے دوسرے بھائ کے لئے آپ سے سوال کررہی ہوں میرے دوسرے بھائ کا دل مت توڑئیے گا “

وہ آگے بڑھ گئ ،معطر نے سیڑھیوں سے نظر آتے آدم کو دیکھا ، اس کے قدم دھیمے ہوئے ، لاؤنج تک پہنچنے تک وہ آدم کو دیکھتی رہی ، وہ سر جھکائے نیچے دیکھ رہا تھا ، اتنا نیچے کے اس کا چہرہ نظر نہیں آتا تھا

” السلام علیکم “

آواز پر بھی وہ سر جھکائے بیٹھا رہا ،معطر خجستہ خانم سے ملتی ان کے ساتھ بیٹھی ، زرا کی زرا نظر اٹھا کر پھر سے اسے دیکھا ، وہ اپنے قدموں کو خاموشی سے گھور رہا تھا

” بہت پیاری بیٹی ہے آپ کی “

اس پیاری بیٹی کو اس پیارے بیٹے کو دیکھ کر پہلی بار احساس ہوا وہ بدل گیا تھا ، وہ واقعی بدل گیا تھا ، جسے الفاظ یوں ہی کہہ دینے کی عادت تھی وہ کم گو ہوگیا تھا ، جس کے جملے زبان کی نوک پر رہتے تھے وہ جملے سوچ کر بولنے لگا تھا ، جسے نظریں اردگرد گھمانے کی عادت تھی وہ نظریں جھکا کر رکھنے لگا تھا ، جس کی گول گول گھومتی آنکھوں کے گرد دنیا رقص کرتی تھی وہ آنکھیں اب گول گول گھومنا چھوڑ چکی تھیں ، کوئ اتنا کیسے بدل سکتا ہے ؟

” آپ تسلی سے سوچ لیں بہن لیکن جلدی جواب دے دیجئے گا ، یہ ہمارے لئے ہمارا بیٹا اور ہم اس کے ماں باپ ہیں “

اس نے سعدی خان کی آواز سنی پھر پریزے کو دیکھا وہ آدم کے جھکے سر کو دیکھ رہی تھی ، اس جھکے سر والے کے چہرے پر اذیت تھی ، کوئ پوچھتا تو وہ کہتا اسے اپنے ماں باپ یاد آرہے تھے ، زندگی کس مقام پر لائ تھی کہ اپنی زندگی کا اہم ترین دن وہ کسی اور کو اس کے لئے اہم بناتے دیکھ رہا تھا ، ہیزل ،کیان اور سوزی ، اس کے پاس ہر رشتہ تھا اور ہر رشتہ اسے چھوڑ گیا تھا ، وجہ ؟ وہ صرف حق کو جان چکا تھا ، حق پر عمل کررہا تھا ، اس بات پر وہ کون کون سی سزا بھگتتا ؟ اس بات پر کون کون اسے چھوڑ جاتا ؟ ایک اللہ ہی کو تو چنا تھا اس نے ، اللہ کی مخلوق کیوں اسے چھوڑ گئ تھی ؟

” میں باہر ہوں “

وہ جھٹکے سے اٹھتا باہر کی طرف بڑھ گیا ، معطر اور پریزے کے سوا کسی نے محسوس نہیں کیا تھا کہ اس کی آواز ہلکی سی نم تھی

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

” تم صرف شکی نہیں چالاک بھی ہو “

گلی سے نکلتے کار کی طرف جاتی پریزے ہلکا سا ہنسی

” میں تعریف سمجھوں گی “

” تم مجھے بتا سکتی تھیں “

” آپ نے بتایا تھا کہ آپ پاکستان میں ہیں ؟”

” میں سرپرائز دینا چاہتا تھا “

” ہم نے بھی سرپرائز دیا ہے “

ان کے آگے دانیال تھا ، وہ سعدی خان سے کچھ بات کررہا تھا

” ایڈریس کہاں سے ملا یہاں کا ؟”

” بانو آپا نے دیا ، اُنہوں نے ہی آپ کے یہاں آنے اور رشتے کا بتایا تھا “

اوہ آپا ، وہ سنان کے خاندان سے رابطے میں تھیں

” بہت اچھے ….”اس نے سر ہلایا ” کیا کہا معطر نے ؟”

” آپ کے لئے بات تھوڑی کرنے گئ تھی “

” ہاں تم تو پاکستانی سیاست پر بحث کرنے گئ تھیں نا “

” جی نہیں ، اور سنیں لالا زرا انہیں سمجھائیں ، وہ آپ سے بدگمان نہیں ہیں وہ صرف کنفیوژ ہیں ، آپ بات کریں گے تو لڑکی مان جائے گی “

وہ گاڑی کے پاس رک رہی تھی ، آدم نے صرف سر ہلادیا ، سب سے ملتے اُنہیں روانہ کرتے وہ اور دانیال ایک ساتھ واپس روانہ ہوئے

” آپ نے بتایا نہیں کہ آپ کی پاکستان میں بھی ایک فیملی ہے ؟”

” مجھے خود آج احساس ہوا ہے “

وہ سر جھکائے قدموں کو دیکھ رہا تھا

” امی کچھ رضامند نظر آرہی تھیں لیکن میں کچھ کہہ نہیں سکتا “

” اٹس اوکے دانیال ، اگر وہ میری قسمت میں ہوئ تو مجھے مل جائے گی “

وہ جانے مطمئن تھا یا ظاہر کررہا تھا لیکن دانیال نے مزید کچھ نہیں کہا

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

وہ متذبذب تھی لیکن امی تو ابھی بھی اسی بحث میں اٹکی تھیں

” اس کے سگے ماں باپ تو نہیں ہیں “

” وہ بھی آجائیں گے کسی دن “

دانیال ان سے بحث کرکے تھک گیا تھا

” لیکن ہیں تو غیر مسلم ہی نا “

” آپ نے جس سے معطر کی شادی کرنی ہے وہ مسلمان ہے “

” تم بس اسی بات کو پکڑ کر بیٹھ جاؤ ،ہزار چیزیں دیکھنی پڑتی ہیں ،ہزار باتیں سوچنی پڑتی ہیں ، ہزار…..”

وہ ان کی باتیں نظر انداز کرتی چھت کی طرف بڑھ گئ ، موسم کل سے دوبارہ گرم ہورہا تھا لیکن مغرب کے وقت ٹھنڈی ہوائیں چل پڑتی تھیں تو گرمی کا احساس نہیں ہوتا تھا ، سورج کو غروب ہوئے تھوڑی ہی دیر گزری تھی سو فی الحال موسم بہتر تھا

سیڑھیاں چڑھتے وہ اپنی ہی سوچ میں الجھی تھی ، جانے دل کیا چاہتا تھا ،کبھی سوچتی ان سب میں آدم کا تو کوئ قصور نہیں تھا اور کبھی دل سرے سے اس کی اچھائ ماننے سے انکار کردیتا

اوپر کا دروازہ کھلا تھا ، اس نے ابھی چھت پر قدم رکھا ہی تھا جب نظر اس پر گئ ، وہ ابھی ابھی کال کاٹتا پلٹا تھا ، معطر کو دیکھ کر رکا ، اسے یکدم آکورڈ سا احساس ہوا ، پلٹنے ہی لگی تھی جب اس کی آواز سنائ دی

” تم نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا “

” کس سوال کا جواب دوں ؟ تم نے سوال ہی اتنے اکٹھے کر رکھے ہیں”

وہ پلٹتی اس تک آئ ، ایک آخری گفتگو ہو ہی جائے

” تم نے غور نہیں کیا معطر میرے ہر سوال کا جواب ” تم ” ہو “

” اپنے سوال تبدیل کرلو “

” جواب تو پھر بھی وہی رہے گا “

معطر نے رخ موڑتے چچا کے مکان کی طرف دیکھا ، اس کی چھت خالی تھی

” تم چھت پر سوتے تھے ؟”

” نیچے اے سی نہیں تھا ” چھت کو دیکھتے وہ ہلکا سا مسکرائ

” تمہیں کہنا چاہئے تھا پنکھا نہیں تھا “

وہ خاموش رہا ،جانے کتنی دیر ،جانے کتنے لمحے ، اس نے سوچا رخ موڑ کر اسے دیکھا جب اس کی آواز کانوں میں پڑی

” میں نے اسلام تمہارے لئے قبول نہیں کیا تھا ” معطر نے بے ساختہ سر گھما کر اسے دیکھا ، اسے اندازہ نہیں تھا وہ یہ بات کرے گا ” میں نے اسلام اللہ کے لئے قبول کیا تھا معطر ، دو سال پہلے ، ایک سڑک پر نیم مردہ حالت میں پڑے میں نے زندگی میں پہلی بار تمہارے خدا کو پکارا تھا ، مجھے مرنا نہیں تھا ، ابھی بہت کچھ ادھورا تھا ، میں نے اللہ کو پکار کر اس سے زندگی مانگی تھی ، اللہ نے زندگی کے ساتھ ساتھ اپنا آپ بھی دے دیا ، میں نے اس رات ایرک کو وہیں دفن کردیا تھا ، اس کے بعد وہ ایرک آج تک میرے سامنے نہیں آیا ، کچھ دن پہلے تم نے جب پرانے نام سے پکارا تو مجھے احساس ہوا ہر ادھورا کام مکمل ہوگیا تھا سوائے تم سے معافی مانگنے کے “

وہ پل بھر کو رکا ، معطر خاموشی سے سنتی رہی

” میں نے جب اسلام قبول کیا تھا تو …” وہ ایک بار پھر رکا پھر سر جھٹکا ” تو مام ڈیڈ نے کہا کہ ان کے لئے اسلام چھوڑ دوں ، اس لمحے میں نے جانا کہ جب یہی جملہ میں نے تم سے کہا تھا تو تمہارے دل پر کیا گزری ہوگی ، تھپڑ تو بہت چھوٹی چیز تھی تم مجھے قتل بھی کردیتیں تو جائز تھا ، مجھے اب احساس ہوتا ہے وہ جملہ کتنا بھاری تھا ، میں نے اب جانا میں نے وہ جملہ کہہ کر تمہارے اندر سے روح نکالی ہوگی ” اس نے پہلی بار نظر اٹھا کر معطر کو دیکھا ، اس کی آنکھیں نم تھیں ” میں نے دو سال سوچا کہ کاش مجھے اس وقت احساس ہوتا ، کاش میں وقت کو واپس لوٹا سکتا ، میں آج تک اپنے بولے گئے کسی جملے پر اتنا شرمندہ نہیں ہوا ، میرا ماضی میرے پیچھے رہ گیا ایک وہی جملہ میں اپنے حال میں بھی ساتھ لایا ہوں ، تم مجھے اس ایک جملے کے لئے معاف کرسکتی ہو ؟”

وہ بالاآخر خاموش ہوگیا ، معطر کی نم آنکھیں اس پر جمی رہ گئیں

” اب یہ باتیں بے معنی ہیں “

“میرے لئے نہیں ہیں ، میں انہی باتوں میں اٹکا ہوں ،میرا دل انہیں باتوں میں اٹک گیا ہے”

” میں نے تمہیں معاف کردیا تھا آدم ” وہ اسے دیکھتا رہا جو آنسو صاف کررہی تھی ” جس دن تم نے سنان کے لئے اپنی آواز استعمال کی تھی میں نے اسی دن تمہاری زبان کا وہ ایک جملہ معاف کردیا تھا ، میں نہیں جانتی تھی کہ تم نے اسلام کس لئے قبول کیا ، تم کہتے ہو اللہ کے لئے کیا تھا تو مجھے تم پر رشک ہے ، تم کہتے ہو تم نے ایرک کو کہیں دفن کردیا تھا تو میں اس ایرک کا وہ ایک جملہ معاف کرتی ہوں “

” دل سے ؟”

” دل سے ، تم ٹھیک کہتے ہو تم ناواقف تھے ، مجھے دیر سے سمجھ آئی کہ تم ناواقف تھے ، تم نے جو سب اپنے اردگرد دیکھا تھا تمہارے لئے اس وقت وہ جملہ واقعی چھوٹا تھا ” وہ خاموشی سے اس لڑکی کو دیکھتا رہا ، وہ اور سنان اس کی زندگی میں نا آتے تو وہ آج بھی وہیں ازلنگٹن کی گلیوں میں ہوتا ، شاید یوں ہی کامیاب لیکن درحقیقت ناکام

” تم جانتی تھیں کہ میں سنان کے لئے کوشش کررہا تھا ؟”

” ہاں ۔۔۔۔” اس نے سر کو خم دیا ” پاکستان میں یہ معاملہ بہت اٹھا تھا ، دانیال نے تب تمہیں ہر سوشل میڈیا پیج پر فالو کیا تھا ، وہ مجھے تمہارے بارے میں ہر خبر بتاتا تھا ، بانو آپا بھی ، انہوں نے میرے کہنے پر جھوٹ بولا تھا ، وہ میرا ایڈریس بھی جانتی تھیں لیکن میں نے وعدہ لیا تھا کہ تمہیں نہیں بتائیں گی “

” تم مجھ سے خوفزدہ تھیں ؟”

” معاشرے سے خوفزدہ تھی ، میری بہادری کی ایک حد تھی ، میں اکیلے انگلینڈ جا سکتی ہوں ،میں اپنے باپ کے پوری دنیا سے لڑسکتی ہوں لیکن میں خود کے لئے نہیں لڑسکتی تھی ،مجھے خود کے لئے لڑنے کی ہمت بابا دیتے تھے ، وہ چلے گئے تو میری ہمت پست ہوگئ ، تم سمجھتے ہوگے میں سخت دل ہوں لیکن میں جس معاشرے میں رہتی ہوں آدم وہاں لڑکیوں کی زندگی آسان نہیں ہوتی ، میری پہلے ہی مشکل تھی تم آتے تو مزید مشکل ہوجاتی ،میں نے تو صرف اپنے لئے آسانی چنی تھی “

” میں تمہارے لئے مشکل نہیں بننا چاہتا تھا “

” جانتی ہوں لیکن تم بن جاتے ، سنان کی وجہ سے تیمور نے ویسے ہی یہاں سب کو جانے کیا کیا کہا تھا ، لندن سے کسی اور کا آنا میرے لئے مزید مشکل کھڑی کردیتا ،میں خود غرض بن گئ ،مجھے کچھ سکون چاہئے تھا لیکن بابا کے بعد وہ سکون کہیں میسر ہی نہیں رہا “

“مجھے افسوس ہے کہ میں سنان کو انصاف نہیں دلا سکا “

اس کی آواز دھیمی ہوگئ ، وہ ٹھیک کہہ رہی تھی ، وہ اپنی جگہ ٹھیک ہی کہہ رہی تھی

” میں جانتی تھی یہی ہوگا ، تم نے غلط لوگوں سے جنگ چھیڑی تھی “

” دیکھو مجھے یہ بھی سمجھ آگیا کہ وہ لوگ غلط ہی تھے ، تم صحیح تھیں ، وہ اسلاموفوبیا تھا “

معطر نے کچھ نہیں کہا ، خاموشی کا ایک اور وقفہ ان کے بیچ آیا تھا

” تم مجھے منتخب کرسکتی ہو معطر ؟ “

انتخاب ؟ بات اب انتخاب کی رہی ہی کہاں تھی ؟

“بات انتخاب سے آگے کی ہے آدم ، ہار یا جیت ۔ اور تم ہمیشہ جیت جاتے ہو “

” میں اس بار تمہارے سامنے ہارنے آیا ہوں “

” میں ہار نہیں بننا چاہتی “

” تم وہ واحد جیت ہو جسے ہارنے سے میں خوفزدہ ہوں “

وہ سامنے آ ٹھہرا تھا

” تم الفاظ کے ساتھ اچھے ہو “

” تمہارے سامنے مجھے صرف سننا اور دیکھنا یاد رہ جاتا ہے ۔ بولنا کہاں یاد رہتا ہے ؟”

اس کی آنکھیں پھر سے نم ہوئیں ، وہ چپ کرجاتا تو اچھا تھا ، اس کا دل پگھل رہا تھا ، اسے اس دل کے پگھلنے سے خوف آرہا تھا ، اس نے ایک بار پھر رخ موڑ لیا ، وہ آنکھوں سے گفتگو کرنے میں بھی ماہر تھا ، کئ لمحے وہ باریک سے چاند کو دیکھتی رہی ، سات دن بعد عید تھی

” جنت کی ساتھی بنو گی میری ؟”

معطر کا سر بے ساختہ اس کی طرف مڑا ، وہ دیوار سے کاندھا ٹکائے جیبوں میں ہاتھ ڈالے اسے دیکھ رہا تھا

” فلرٹ کررہے ہو ؟”

” تم سے تمہیں اپنے لئے مانگ رہا ہوں ، بتاؤ ، جنت تک ساتھ چلو گی میرے ؟”

” جنت میں جا کر حوروں پر دل آگیا تو ؟”

وہ سر جھکا کر ہنسا

” حوروں کی ملکہ کے ہوتے ہوئے کوئ اور شخص کہاں یاد رہے گا مجھے ؟”

” ایسے کیسے ہاں کردوں ؟”

” کیسے ہاں کروگی پھر ؟”

وہ سیدھا ہوا ،معطر نے زکام زدہ سانس اندر اتاری

” اپنے بارے میں بتاؤ پہلے “

” تم مجھے جانتی ہو ، اور میں صرف تمہیں جانتا ہوں “

” میں ایرک کو جانتی تھی ، اب آدم کو جاننا ہے “

” ٹھیک ۔۔۔” اس نے سر ہلایا ” پوچھو کیا جاننا چاہ رہی ہو ؟”

” کیا کرتے ہو ؟”

” تم سے محبت”

” کماتے کتنا ہو ؟”

” اتنا کما لیتا ہوں کہ تمہاری چوڑیاں آجائیں گی “

” میرے خرچے بہت ہیں “

” سنبھال لوں گا “

” نخرے زیادہ ہیں “

” اٹھا لوں گا “

” میں ناراض جلدی ہوتی ہوں “

” منا لوں گا “

” مجھے سگریٹ سخت ناپسند ہے ۔۔ اور تم پیتے ہو “

” میں تمباکو کو آگ لگادوں گا مادام ۔ آپ حکم کریں “

وہ سینے پر ہاتھ رکھے ہلکا سا جھکا

” مجھ سے تمیز سے بات کرنا “

” ملکہ حکم کریں ۔ غلام اپنی زبان کاٹ ڈالے گا “

یہ شخص !!!

” مجھ سے فلرٹ کرنے کی کوشش مت کرو “

” محبت کرسکتا ہوں ؟”

اف یہ معصومیت

” تمیز سیکھو پہلے “

” پاکستان میں سیکھ لوں گا “

” تم اب بھی ویسے ہی لگتے ہو “

” کیسا …؟”

” پہلے برے لگتے تھے ، اچھے اب بھی نہیں لگتے لیکن ….” وہ رکی ، چند لمحے اسے دیکھا پھر مسکراہٹ دبائ ” مجھے تمہاری جنت کی ساتھی بننے پر کوئ اعتراض نہیں ہے “

وہ کتنی ہی دیر بے یقینی سے اسے دیکھتا رہا

” تم میرا پرپوزل قبول کررہی ہو ؟”

” ہاں “

” بنا تھپڑ مارے ؟”

اس کے ماتھے پر بل پڑے

” تھپڑ کھانا ہے ؟”

” ایک ہی کافی تھا “

وہ ہنسا

” کوئ کہہ رہا تھا قتل بھی کردیتیں تو جائز تھا “

وہ الٹے قدموں واپس بڑھی

” تم نے سنا نہیں لغو باتوں کی شرعاً کوی حثیت نہیں ہے ؟”

” بڑا دین کا علم آ گیا ہے ؟”

” تھوڑا بہت ، ان میں یہ بھی ہے کہ لڑکی راضی تو کس کا اعتراض قابلِ قبول ؟ “

” لڑکی سے پہلے اس کی امی کو راضی کرو ، امی نے منع کردیا تو مجھ سے کوئ امید مت رکھنا “

وہ کاندھے اچکاتے نیچے بڑھی ، اس نے آدم کے موبائل کی رنگ ٹون بجتے سنی تھی ، لبوں پہ مسکراہٹ ابھری ، اتنا برا بھی نہیں تھا

نیچے اترتے پہلی سیڑھی پر قدم رکھتے اسے گیٹ سے کسی کے قدم اندر داخل ہوتے نظر آئے ، صحن میں پہلا قدم رکھنے پر اس انسان کا وجود اندر داخل ہوا ، معطر وہیں رک گئ ، سیاہ پینٹ پر اس نے نیوی بلیو شرٹ پہن رکھی تھی ، وہ تیمور حیدر تھا

اس کے چہرے پر سپاٹ تاثرات چھائے ، قدم خودبخود اس کی طرف بڑھے

” یہاں کیا کررہے ہو ؟”

” کیا میں اپنے ماموں کے گھر نہیں آ سکتا ؟”

” تمہارے ماموں یہاں نہیں ہیں۔ اس لئے بالکل تم یہاں نہیں آ سکتے “

تیمور کی مسکراہٹ گہری ہوئ

” پتا نہیں کیوں مجھے اب احساس ہونے لگا ہے کہ تم حقیقتاً بہت ظالم ہو “

” تمہیں اب یہ بھی احساس کرلینا چاہئے کہ تم کتنے گھٹیا ہو “

وہ ہنسا جیسے محظوظ ہوا تھا

” تم خاموش اچھی لگتی تھیں بولتی اور زیادہ اچھی لگتی ہو ، دانیال کہاں ہے ؟”

وہ گھر میں اردگرد دیکھ رہا تھا

” آفس ہے ، جاؤ یہاں سے ، اس کی موجودگی میں آنا “

” اہاں ، عون بھی گھر پر نہیں ہے ؟”

” باہر گیا ہے محترم تیمور صاحب ، اسی لئے ابھی کے لئے دفع ہوجاؤ یہاں سے “

وہ چبا چبا کر کہہ رہی تھی ، اسے دیکھ کر غصہ ابل ابل کر باہر آرہا تھا

” تم یہاں کیا کررہے ہو تیمور ؟”

اندر سے ساجدہ کی آواز ابھری تو معطر مڑتی ان تک آئ

” بات کرنے آیا تھا لیکن کیونکہ آپ کے گھر کے مرد یہاں نہیں ہیں تو آپ سے ہی بات کرلیتا ہوں ” وہ جیب سے لفافہ نکالتا معطر کی طرف بڑھا رہا تھا

” کیا ہے یہ ؟”

” تم مجھے کہہ کر آئ تھیں نا کہ میں کیس سے نا ڈراؤں تمہیں ، میں ڈرا نہیں رہا تھا معطر ، حسن ماموں نے کیس دائر کیا ہے تم لوگوں پر “

معطر لفافے سے کاغذ نکالتی وہ پڑھ رہی تھی ، اوپر نیچے ایک ایک لفظ پڑھا اور پھر نظر اٹھا کر غصے سے اسے دیکھا

” اور حسن چاچو کے پاس فیکٹریاں لگی ہیں نا جو وہ کیس پر خرچ کریں گے تم نے ہی شہہ دی ہوگی “

” چچ ۔۔ بہت غلط سوچتی ہو میرے بارے میں تم ” افسوس سے اُسے دیکھا ” حالانکہ میں نے بہت کوشش کی کہ تم لوگ معاملہ کورٹ سے باہر ہی طے کرلو لیکن اب تم خود ہی کورٹ تک بات لے جانا چاہتی ہو تو ٹھیک ہے “

” تو پھر اب کورٹ میں ہی ملاقات ہوگی “

وہ پریشان لگتی ساجدہ کے ساتھ ٹھہری تھی

” مجھے بہت برا لگے گا ، کیا یہ اچھی بات ہے کہ ہمارے خاندان کی عورتیں عدالتوں کے دھکے کھائیں ؟ تم سوچ لو معطر ، ابھی بھی معاملہ باہر رہ کر طے کیا جاسکتا ہے “

” اور باہر معاملہ طے کرنے کا کیا لوگے تم ؟”

سینے پر ہاتھ باندھے وہ اس کی سامنے آ ٹھہری ،تیمور نے گہری نظر سے اسے دیکھا

” بہت آسان سی قیمت ہے “

” کیا ؟”

تیمور کچھ کہنے ہی لگا تھا جب سیڑھیوں پر سے کھٹکے کی آواز آئ ، ان دونوں کی نظر بیک وقت اوپر گئ ، نیلی جینز پر سیاہ شرٹ پہنے بازو کہنیوں تک موڑے وہ موبائل جیب میں ڈالتا نیچے اتر رہا تھا

” کیا سب ٹھیک ہے ؟”

تیمور کے ابرو اکٹھے ہوئے ، آنکھوں میں حیرانی پھر شناسائ ابھری

” اہاں ، آدم کیان ….” ابرو اچکاتے کاٹ دار نظر سے معطر کو دیکھا ” مجھے نہیں معلوم تھا کہ اتنا بڑا سٹار یہاں موجود ہے “

وہ تیمور کو نظر انداز کرتا معطر کی طرف آیا

” کیا مسئلہ ہے؟”

” کیس کیا ہے اس نے اور اب دھمکیاں دے رہا ہے”

وہ غصے سے تیمور کو دیکھ رہی تھی

” دکھاؤ ….”

اس کے ہاتھ سے کورٹ کا نوٹس لیتے اسے پڑھا پھر تیمور کو دیکھا

” اگر کیس حسن صاحب نے کیا ہے تو تم کیا کرنے آئے ہو یہاں ؟”

” یہ ہمارا بیچ کا معاملہ ہے تم ان سب سے دور رہو “

” درحقیقت تم شاید یہاں صرف معطر کو ڈرانے آئے ، کیا تین سال پہلے ایئرپورٹ کا منظر بھول گیا ہے ؟”

وہ تپانے والے انداز میں مسکرایا ، تیمور کا ماتھا سلگا

” تم ہوتے کون ہو مجھ سے بحث کرنے والے ؟ واہ مامی جوان لڑکے کو گھر میں رکھا ہوا ہے ، کس حثیت سے ؟”

آدم کو گھورتے ساجدہ سے پوچھا تو معطر کا ضبط جیسے جواب دے گیا

” تم کون…”

” وہ اس گھر کا ہونے والا داماد ہے “

الفاظ زبان میں رہ گئے ، وہ بے یقینی سے ساجدہ کی طرف پلٹی

” امی….”

” آدم اور معطر کا رشتہ طے کردیا ہے میں نے ، وہ اسی حثیت سے یہاں ہے ، مل گیا جواب ؟”

وہ تیمور کے سامنے آئیں ، تیمور ساکت ہوا

” مزاق مت کریں ممانی “

” تم سے میرا کون سا مزاق والا تعلق ہے ؟ “

” کیا کہہ رہی ہیں تمہاری امی ؟”

آدم تھوڑا سا قریب کھسکا ،معطر نے خونخوار نظر اس پر ڈالی ، اسے بھی ترجمہ کرکے دینا پڑے گا ، وہ پہلے ہی تپی ہوئ تھی

” بطورِ داماد تمہارا تعارف کروارہی ہیں “

” واقعی ؟”

وہ چونکا

” نہیں ۔جھوٹ بول رہی ہوں ، گوگل سے ٹرانسلیشن کروالو “

” ضرورت نہیں ہے ، تمہاری زبان پر یقین ہے مجھے ” اس سے کہتے وہ تیمور کے سامنے آیا ، ہاتھ جیبوں میں ڈال لئے ، چہرے پر سختی ابھری ، وہ تیمور سے دو انچ لمبا تھا

” کیونکہ تم نے سن لیا کہ میرا اس گھر سے کیا رشتہ ہے اس لئے اپنا یہ دو روپے کا امیروں والا ایٹیٹیوڈ اٹھاؤ اور دفع ہوجاؤ یہاں سے ، کیونکہ تم نا معطر کو خوفزدہ کرسکتے ہو نا مجھے متاثر “

تیمور کی رگیں پھول گئیں

” تمہیں تو میں دیکھ لوں گا “

” ضرور ، سوموار سے جمعہ بی بی سی پر رات نو بجے آتا ہوں “

وہ مسکرایا ، کسی کو زہر کسی کو شہد لگا

” اور تم معطر اس کی شہہ پر مجھ سے ٹکر لے رہی ہو تو دیکھ لوں گا تمہیں بھی “

” میری ہونے والی بیوی کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنے کی کوشش بھی مت کرنا تیمور حیدر ، بخدا مجھے آدم سے ایرک بننے میں ایک لمحہ بھی نہیں لگے گا ، پچھلی بار صرف شہر میں بدنام ہوئے تھے اس بار میں تمہیں پوری دنیا میں منہ دکھانے لائق نہیں چھوڑوں گا “

اس کی آواز سخت ہوگئ ، وہ معطر کے سامنے ٹھہرا تھا ، کسی ڈھال کی طرح ، کسی سائے کی طرح

” تم پچھتاؤ گے لڑکے “

” دیکھ لیں گے “

ابرو سے باہر نکلنے کا اشارہ کیا تو تیمور سلگتی نظر اس پر اور معطر پر ڈالتا پلٹا پھر دروازے کی طرف بڑھ گیا ، اس کے جانے کے بعد آدم ساجدہ کی طرف پلٹا جو خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھیں ، اس نے ایک نظر معطر پر ڈالی

” تم مترجم کا کردار ادا کر سکتی ہو ؟”

” کیا کہنا ہے ؟”

” وہی جو عام طور پر لڑکے کہتے ہیں “

” میری تعریف کروگے تو ٹھیک ہے ترجمہ کردوں گی “

” تم اپنی تعریف کا ترجمہ کبھی بھی نہیں کروگی اس لئے آنٹی سے کہو میں اس دنیا میں اپنے ماں باپ کے بعد ان کا سب سے شکر گزار ہوں “

معطر نے منہ بناتے اردو میں ترجمہ کردیا ، ساجدہ ہلکا سا مسکرائیں پھر آگے کو ہوتے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا تو وہ ہلکا سا جھکا

” سلامت رہو ، معطر اندر چلو “

اس کے سر پر سے ہاتھ ہٹاتے معطر کو اشارہ کیا تو اس نے سر ہلایا پھر ساجدہ کے پیچھے گئ

” سنو ….”

وہ برآمدے تک جاتی پلٹی

” کیا ؟”

” آئ لو یو ….”

معطر کا چہرہ سرخ پڑا

” استغفرُاللہ …..”

وہ ہنسا پھر سر جھٹک دیا ، معطر اندر جا چکی ، لاؤنج میں پہنچتے وہ پل بھر کو رکی ، ساجدہ اندر کرسی پر بیٹھ رہی تھیں ، وہ ان تک آئ

” امی ….”

انہوں نے سر اٹھایا

” آپ کو اس رشتے پر کوئ اعتراض نہیں ہے ؟” وہ جھجھک رہی تھی, ساجدہ نے ہاتھ اس کی طرف بڑھایا تو وہ ان کا ہاتھ تھامتی ان کے ساتھ بیٹھی

” اعتراض نہیں ہے ، خدشات اب بھی ہیں ، وہ نیا نیا مسلمان ہوا ہے ، اس کے ماں باپ ساتھ نہیں ہیں ، ہم اسے زیادہ جانتے بھی نہیں ہیں ، پھر وہ غیر ملک سے ہے ، بہت سارے خدشات ہیں معطر ، دانیال کو لگتا ہے میں سخت بن رہی ہوں ، لیکن میں صرف ایک ماں ہوں بیٹا ،یوں ہی کوئ لڑکا آ کر کہے کہ آپ کی بیٹی سے شادی کرنا چاہتا ہوں تو میں اٹھ کر ہاں تو نہیں کرسکتی نا ؟ تمہارے بابا ہوتے تو مجھ پر اتنا بوجھ نا ہوتا ، ان کے بعد تو قدم بھی پھونک پھونک کر رکھنے پڑ رہے ہیں ” وہ لمحہ بھر کو رکیں ، رک کر سانس لی ” لیکن دانیال یہ بھی ٹھیک کہتا ہے کہ وہ ہم میں سے کئ مسلمانوں سے بہتر ہے ، ماں باپ بھی اسے اسلام قبول کرنے کی وجہ سے ہی چھوڑ گئے ہیں ، جس نے اللہ کے لئے اپنے چھوڑے ہوں میں اسے ناامید کرکے اسے اسلام سے بد دل نہیں کرنا چاہتی کہ اس کے نومسلم ہونے کی وجہ سے میں نے منع کردیا ، دل پر پتھر رکھ کر فیصلہ کیا ہے ، معاشرے سے بغاوت آسان نہیں ہوتی معطر ، ہمیں یہیں رہنا پڑتا ہے ، بہادری کی باتیں کرنا آسان ہے لیکن بہادر بننے کے لئے آپ کو بیوقوف بھی بننا پڑتا ہے “

” آپ راضی نہیں ہیں ؟”

” راضی ہوں ، دانیال نے تسلیاں کروائ ہیں ، پھر تم یہاں سے چلی جاؤ تو یہی بہتر ہے، یہاں تو سب تمہیں جینے نہیں دیں گے ، تم اسے جانتی ہو نا پہلے سے ؟”

” جی …” اس نے سر ہلایا ” ازلنگٹن میں اس نے میری بہت بار مدد کی تھی “

” اچھا لڑکا ہے ؟”

” پہلے برا نہیں تھا اب اچھا ہے ” ساجدہ ہلکا سا مسکرائیں

” تم راضی ہو ؟”

” آپ راضی ہیں تو مجھے کوئ اعتراض نہیں “

” لیکن تیمور کے مسئلے کا کیا ؟ ..”

” اس کی آپ فکر مت کریں امی ، وہ اگر مجھے کمزور سمجھتا ہے تو غلط سمجھتا ہے ،میں دیکھتی ہوں کیسے میرے باپ کے گھر پر قبضہ کرتے ہیں یہ لوگ ، ان پر زمین تنگ کردوں گی میں “

” محتاط رہو معطر ،وہ خطرناک انسان ہے “

” میں دیکھتی ہوں وہ کیا کرتا ہے ، آپ بے فکر رہیں ،بابا کا گھر ہم سے کوئ نہیں چھینے گا “

ساجدہ نے اس کا ہاتھ تھپتھایا ،معطر کی نظر باہر گئ ، وہ اب تک باہر تھا ، اور وہاں صحن میں نظر ڈالو تو وہ موبائل کان سے لگائے ہوئے تھا

” ہیلو نجیب ! ایک آدمی کا نام بھیج رہا ہوں ، اس کے سارے کالے کرتوت ڈھونڈ کر مجھے دو ، یاد رکھو ایسے کرتوت جو اسے پھانسی تک لے جائیں”

دوسری طرف وہ کچھ کہہ رہا تھا ، آدم سنتے ہوئے کمرے کی طرف جارہا تھا

سر شام پنچھی لوٹ رہے تھے ، اور لاھور کس نئے انجام کو لکھ رہا تھا ، کہانی بدل دینے والا انجام !

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆