192.3K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Laa (Episode 24)

Laa By Fatima Noor

وہ آہستہ سے کمرے کا دروازہ دھکیلتا اندر داخل ہوا تو ہر طرف اندھیرا تھا ۔ دروازے کی دائیں طرف بنے بورڈ پر ہاتھ مارتے اس نے لائٹ آن کی ۔ پورا کمرہ روشنی میں نہا گیا ۔ دانیال کی نظر کھڑکی کے ساتھ رکھی کرسی پر گئ ۔ وہ کرسی پر سر رکھے زمین پر بیٹھی تھی ۔ ملجگا سا لباس ۔گول مول جوڑے سے نکلتے بال ۔ کمزور وجود کے ساتھ اور آنکھوں میں پڑے حلقے

پچھلے ایک ماہ سے اس نے معطر صبا کو دنیا بھلاتے دیکھا تھا ۔ وہ یا تو پورا دن روتی رہتی یا خلا میں گھورتی رہتی ۔ نا اسے اپنے لباس کا ہوش رہا تھا نا کھانے کا ۔ کسی نے زبردستی کچھ کھلا دیا تو کھا لیا ورنہ وہ پورا دن بھوکی رہتی ۔ یہ کل سے تھا جب اس کی حالت کچھ سنبھلی تھی ورنہ وہ کسی جنگل سے بھٹکی باسی لگتی تھی جس سے اس کا مکان چھن گیا ہو

دانیال دھیمے قدموں سے چلتا اس تک آیا ۔ اس کے پاس بیٹھا

” معطر ۔۔”

اس کے وجود میں کوئ جنبش نا ہوئ

” کھانا کھا لو ۔ اٹھو شاباش “

ہاتھ اس کے سر پر پھیرا تو معطر نے نظر اس کی طرف گھمائ

” میری بھوک بابا اپنے ساتھ لے گئے دانیال “

اس کی آنکھیں نم ہوئیں۔ پانی بہا اور کرسی پر گرا

” مرنے والوں کے ساتھ مرا تو نہیں جاتا نا “

” مرنے والوں کو چاہئے ہماری زندگی بھی ساتھ لیتے جائیں”

خالی کمرے میں کوئ کرب اترا

” بس کرو اب غم منانا معطر”

” مجھے تو ساری عمر لگے گی ۔ میرا غم ایک تو نہیں ہے ۔ وہ مجھ سے آخری بار ملے بھی نہیں ۔ میں نے آخری بار انہیں دیکھا بھی نہیں ۔ تم لوگ میرا انتظار تو کرتے “

” فلائٹ دو دن بعد کی تھی ۔ دو دن تک ان کو کیسے دفنائے بغیر رکھتے ؟”

وہ اگلے کئ لمحے خاموش رہے ۔ معطر نے کرسی سے سر اٹھاتے گھٹنوں پر رکھا

” وہ مجھے یاد کرتے تھے ؟”

” ہر انسان سے زیادہ “

اس کے گال نم ہوئے

” اُنہیں میرا انتظار تو کرنا چاہئے تھا نا پھر “

” ہارٹ اٹیک شدید تھا ۔ امی تک لا علم رہیں ۔ تمہاری کال نا آتی تو ہم سب کو صبح تک پتا نا چلتا”

” وہ میری وجہ سے چلے گئے نا “

” تمہاری وجہ سے کیوں ؟”

” وہ مجھے واپس آنے کا کہہ رہے تھے ۔ میں گئ ہی کیوں ؟ دیکھو میرے ہاتھ خالی ہیں ۔ تمہیں ان میں کچھ نظر آتا ہے ؟ میں وہاں سے روگ لے کر آئ ہوں ۔ میرا غم کیسے کم ہوگا ؟”

اس کا وجود مٹی ہورہا تھا ۔ دل خاک ۔ آنکھیں سمندر بن گئ تھیں۔ دانیال کو شدید دکھ نے آن گھیرا

” وہ تم سے راضی تھے معطر ۔ وہ تمہارے لئے سب سے زیادہ دعا کرتے تھے ۔ وہ تمہیں سب سے زیادہ چاہتے تھے ۔ کیوں دل کو غم لگا رہی ہو ؟”

اس نے سر نہیں اٹھایا ۔ اس کا نقصان بڑا تھا ۔ دل کوئ روز چھری سے کاٹتا تھا ۔ دانیال کو بے بسی نے آن گھیرا ۔ وہ ایک ماہ سے اسے تسلی دے رہا تھا ۔ وہ ایک ماہ سے رو رہی تھی

” بھائ ۔۔۔۔۔”

کھلے دروازے سے مبشرہ اندر آئ ۔ سر پر دوپٹہ اوڑھے مردہ چہرے کے ساتھ

” کیا ہوا ؟”

” چاچو اور تیمور بھائ آئے ہیں “

دانیال نے بے اختیار معطر کو دیکھا ۔ وہ گال سے آنسو صاف کرتی رکی تھی

” تم جاؤ میں آتا ہوں “

” یہ پرسوں بھی آئے تھے نا ؟”

مبشرہ چلی گئ تو وہ دانیال سے پوچھنے لگی

” ہاں۔۔۔”

وہ اٹھ رہا تھا

” کس لئے آئے تھے ؟”

” خون سفید ہوگئے ہیں۔ اسے لال کرنے آئے تھے ۔ تم بیٹھو میں آتا ہوں “

وہ سر اٹھا کر نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگی ۔ دانیال چلا گیا تو اس نے سر جھٹکتے خالی کمرے کو دیکھا۔ امی بابا کی وفات کے بعد سے مبشرہ کے ساتھ سورہی تھیں اس لئے یہ کمرہ خالی تھا ۔ مکین چلا گیا تھا ۔ دل بھی خالی ہوگیا تھا

وہ جو اپنے باپ کو کینسر سے بچانے کے لئے پردیس تک چلی گئ تھی وہ اُنہیں ان کے دل سے نہیں بچا سکی تھی ۔ وہ اپنے باپ کے کینسر سے ان سے زیادہ لڑی تھی لیکن موت سے پھر بھی نہیں بچا سکی تھی ۔ کیا یہی زندگی تھی ؟ کیا یہی موت تھی ؟ جتنا ہم اس سے لڑنے کی کوشش کریں اتنا یہ تکلیف دیتی تھی ۔ اس کی نظر باہر گئ ۔ وہاں سے چچا کے اونچا اونچا بولنے کی آواز آرہی تھی ۔ اسے اب ان اونچی آوازوں سے بھی وحشت ہوتی تھی ۔ تھک کر اس نے سر کرسی پر رکھا ۔ بابا کی گود آج وہاں نہیں تھی ۔ ورنہ ان کے گھٹنے پر سر رکھ کر سو لیتی ۔ اسے یاد آیا آخری بار جب وہ یہاں سے گئ تھی تو ان کی گود میں سر رکھے اسے کتنی نیند آرہی تھی

باہر سے اب آواز اونچی ہورہی تھی ۔ وہ اکتا کر اٹھی ۔ اسے دروازہ بند کردینا چاہئے ۔ یہاں عجیب سا سکون تھا۔ وہ ایک ماہ سے ٹھیک طرح سوئ نہیں تھی ۔ اسے نیند کی ضرورت تھی ۔ شاید دل بہل جائے ۔ شاید درد کم ہوجائے

دروازے تک پہنچتے ابھی اس نے ہاتھ دروازے پر رکھے ہی تھے جب چچا کی آواز کان میں پڑی

” تمہارا باپ ۔۔۔۔”

وہ کچھ اور بھی کہہ رہے تھے ۔ سخت الفاظ ۔ سرد انداز ۔ اس کا ہاتھ نیچے گرا ۔ قدم وہیں منجمد ہوئے ۔ پھر دوپٹہ سینے پر پھیلائے وہ باہر بڑھی ۔ صحن میں برآمدے کے آغاز پر چچا دانیال کو دیکھتے غصے سے کچھ کہہ رہے تھے ۔ ان کے ساتھ تیمور ٹھہرا تھا جو ہاتھ جیبوں میں ڈالے ان دونوں کو سن رہا تھا ۔ اس کا چہرہ بے تاثر تھا

” آواز نیچی رکھیں چچا “

معطر کی آواز پر اس کا رخ مڑا۔ ہلکے جامنی رنگ کے لباس میں دوپٹہ سینے پر پھیلائے سرخ متورم آنکھوں کے ساتھ وہ حسن چچا کو دیکھ رہی تھی جن کی زبان اسے دیکھ کر بند ہوئ تھی ۔ وہ خاموشی سے اسے دیکھتا رہا ۔ وہ صدیوں کی غمزدہ لگ رہی تھی ۔ اس کے گلے میں گلٹی سی ابھری ۔ پھر سر جھٹکا ۔ اس نے کچھ نہیں کیا تھا ۔ وہ افتخار ماموں کی موت کا ذمہ دار نہیں تھا ۔ وہ تو صرف اتنا چاہتا تھا کہ وہ معطر کو واپس بلا لیں پھر وہ خود اس سے نبٹتا ۔ جو ہوا اس میںوہ بے قصور تھا ۔ ہاں ایسا ہی تھا ۔ اس نے نظریں معطر پر جماتے خود کو تسلی دی ۔ وہ برآمدے کی سیڑھیاں اترتی صحن میں آرہی تھی

” معطر ۔ تم اندر جاؤ “

وہ دانیال کو نظر انداز کرتی حسن چچا کے سامنے آئ ۔ عون اور دانیال کے بالکل سامنے

” آپ اپنے نہیں میرے باپ کے گھر میں کھڑے ہیں ۔ اس لئے آواز آہستہ رکھیں “

حسن چچا کا چہرہ سرخ ہوا

” اب تم مجھے بولنا سکھاؤ گی ؟”

” میں آپ کو صرف آہستہ بولنا سکھا رہی ہوں ۔ میرے باپ کے گھر میں آواز آہستہ رکھیں “

” تمہارے باپ کا گھر ؟ ” تیمور طنزیہ مسکرایا ۔ معطر نے رخ موڑ کر اسے دیکھا ۔ آنکھوں میں کوئ تاثر نہیں تھا ۔ وہ اس معطر سے مختلف لگ رہی تھی جو تھوڑی دیر پہلے کمرے میں بیٹھی رو رہی تھی

” میرے باپ کے گھر میں میں اپنے چچا سے بات کررہی ہوں ۔ جن کا اس گفتگو سے کوئ واسطہ نہیں وہ چپ رہیں “

تیمور کی مسکراہٹ غائب ہوئ ۔ پھر وہ دو قدم چلتے گھوم کر حسن چچا کے ساتھ آ ٹھہرا

” تصحیح کرو معطر ۔ یہ تمہارے باپ کا گھر نہیں ہے ۔ یہ” صرف ” تمہارے باپ کا گھر نہیں ہے “

” کیا مطلب ؟”

وہ ٹھٹکی ۔ دانیال نے ضبط سے تیمور کو دیکھا

” مطلب یہ کہ اس گھر میں میری ماں کا اور حسن ماموں کا بھی حصہ ہے اور کیونکہ ماموں کی وفات کے بعد ان کی وراثت تقسیم ہوگی تو ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا حصہ ہمیں دے دو پھر تم لوگ آپس میں سب جائیداد بانٹ لینا “

معطر صبا کے اندر گہرا دکھ سا اترا ۔ شاکی نظروں سے اس نے حسن چاچو کو دیکھا

” چاچو …”

” وہ ٹھیک کہہ رہا ہے ۔ ابا جی نے جائیداد تقسیم کرتے وقت زیادتی کرتے ہوئے گھر بھائ صاحب کو دے دیا تھا ۔ ہمیں اب ہمارا حصہ چاہئے “

دانیال گھوم کر معطر کے ساتھ آیا اس کی جیسے زبان گنگ ہوگئ تھی

” آپ لوگوں کو تو اب میرا اپنا رشتے دار کہنے کا بھی دل نہیں کرتا ۔ ایک ماہ ہوا ہے ابھی چاچو صرف ایک ماہ ۔ تھوڑی سی تو غیرت دکھائیں ۔ سگا بھائ مرا ہے آپ کا “

” مجھے تم لوگوں جتنا ہی دکھ ہے دانیال ۔ لیکن میں حق سے دستبردار نہیں ہوسکتا “

وہ اسی ڈھٹائ سے کھڑے رہے ۔ تیمور آنکھیں سکیڑے معطر کو دیکھ رہا تھا جو ان کی بات سن کر غصے میں آئ تھی

” کون سا حق ؟ کس حق کی بات کررہے ہیں آپ ؟ پورے خاندان میں ہر ایک واقف ہے کہ بابا نے اس مکان کے عوض آپ کو پیسے دیئے تھے اور یہ آپ کی اور پھپھو کی رضامندی سے ہوا تھا ۔ اب کس منہ سے کس حق کا مطالبہ کررہے ہیں آپ ؟”

” کوئ ثبوت ہے تمہارے پاس کہ اُنہوں نے ہمیں کوئ رقم دی تھی ؟”

اس نے رخ موڑ کر تیمور کو دیکھا ۔ چہرے پر نفرت سی پھیلی

” تم سے مجھے اسی گھٹیا پن کی امید تھی لیکن آپ چاچو آپ سے مجھے یہ امید نہیں تھی۔ بابا نے آپ کو اپنے بھائ سے زیادہ سمجھا تھا ۔ “

تیمور کی نظر حسن چاچو پر گئ ۔ ان کے چہرے پر کچھ تکلیف سی ابھری تھی ۔ وہ بے زاری سے ان کے سامنے آیا

” اموشنل ڈائیلاگز مت جھاڑو بی بی ۔ اس مکان میں میری ماں کا اور ماموں کا حصہ ہے وہ دے دو اور خوش رہو “

” میں تم لوگوں کو ایک پھوٹی کوڑی بھی نہیں دوں گی” وہ غصے سے کھولی ” یہ گھر میرے باپ کا ہے۔ نا یہ گھر میں تمہیں دوں گی نا اس گھر کے عوض ایک روپیہ “

” میں عورتوں سے ایسے معاملات پر بحث نہیں کیا کرتا ۔ دانیال تم سامنے آؤ “

معطر کا اندر تک آگ میں جلا ۔ دانیال کچھ کہنے لگا تھا جب وہ اس کے سامنے آئ

” میں اس گھر کی بڑی اولاد ہوں تیمور حیدر ۔ سنا تم نے ؟ میں اس گھر کی بڑی اولاد ہوں ۔ جو کہنا ہے مجھ سے کہو “

” میں نے کہا نا میں عورتوں سے بحث نہیں کرتا ۔ بلکہ رکو ماموں چلیں ممانی سے مل کر بات کرتے ہیں “

وہ حسن چاچو کا ہاتھ پکڑتا اندر کی طرف بڑھا جب وہ برآمدے کی سیڑھی پر پہنچی

” میری ماں عدت میں ہے ۔ خبردار اگر کسی نے اندر جانے کی کوشش کی تو “

اس کے چہرے پر غصے سے سرخی دوڑی ۔ دانیال تیزی سے اس کے ساتھ آ ٹھہرا

” اس سے پہلے کہ میں آپ دونوں کو دھکے دے کر اس گھر سے نکالوں ۔ یہاں سے دفع ہو جائیں دونوں ۔ اس گھر کے مرد ابھی زندہ ہیں تو اس خوش فہمی میں تو مت آئیے گا کہ آپ یہاں دندناتے پھریں گے”

اس نے تیمور کے سینے پر انگلی رکھیں ۔ معطر خاموشی سے تیمور کو گھورتی دانیال کے پیچھے ٹھہری تھی

” تم دونوں غلطی کررہے ہو دانیال ۔ خاموشی سے بات مان لیتے تو اچھا تھا ۔ اب میں تم لوگوں کو عدالت میں گھسیٹوں گا “

اس کا چہرہ اہانت سے سرخ پڑا تھا

” جس عدالت میں جانا ہے جاؤ لیکن میں اپنے باپ کی کمائ سے آپ لوگوں کو ایک روپیہ نہیں دوں گی “

وہ دونوں بہن بھائ ساتھ ٹھہرے تھے ۔ دانیال کا قد اس سے بڑھ گیا تھا ۔ وہ اس سے پھر بھی بڑی نظر آرہی تھی ۔ تیمور کچھ دیر انہیں غصے سے گھورتا رہا پھر جھٹکے سے پیچھے کی طرف مڑا ۔ حسن چاچو نے ان دونوں پر دوبارہ نظر نہیں ڈالی تھی ۔ وہ جا ہی رہے تھے جب معطر سیڑھیاں اترتی ان کے سامنے آئ وہ یکدم رکے

” میرے باپ نے اپنی پنشن کے پیسوں سے جو اسٹور کھولا تھا اس پر آپ نے بہت عیش کرلئے چاچو ۔ جتنی ہماری رقم بنتی ہے وہ بھجوادیئے گا ۔ اس امید میں مت رہیں اب کہ میں اپنا حق چھوڑوں گی”

” وہ دکان میرے نام ہے “

ان کے ماتھے پر بل پڑے

” اس پر رقم میرے باپ نے لگائ تھی ۔ بخدا میں آپ کو سارے علاقے میں بدنام کردوں گی اگر میرے باپ کی محنت آپ نے قبض کرنے کی کوشش کی “

اس کی آنکھیں چٹان جیسی تھی۔ ۔ دل موم جیسا تھا ۔ موم دل اور چٹان آنکھوں میں غم کے سائے تھے ۔ اسے دیکھ کر کوئ بھی بتا دیتا وہ صدیوں سے کسی سوگ میں تھی

” تم اب اپنے چچا سے مقابلہ کروگے ؟ باپ کی جگہ پر ہوں تمہارے”

” میرا باپ مرچکا ہے ( دل سو بار ٹوٹا ) آپ کے ساتھ جو رشتہ تھا وہ بھی دفن ہوگیا ۔ جائیں اور اپنا کام کریں چاچو ۔ آئندہ اس گھر میں مت آئیے گا کیونکہ آپ کا کوئ بھائ یہاں نہیں ہے ۔ یہاں اب افتخار اصغر کی اولاد اور بیوہ رہتی ہے “

حسن چاچو کچھ دیر اسے دیکھتے رہے پھر تیزی سے باہر کی طرف مڑے ۔ ان کے جاتے ہی معطر کے کاندھے ڈھیلے پڑے ۔ وہ تھک کر برآمدے میں رکھے تخت پر بیٹھی

” یہ ہمارے اپنے تھے ؟”

” ان سے بہتر تھا ہم تنہا ہوتے “

تنہا تو وہ اب بھی ہوگئے تھے ۔ اس کی نظر دروازے پر گئ ۔ وہاں مبشرہ سہمی سی ٹھہری تھی ۔ پھر صحن میں ٹھہرے عون پر ۔ ہاتھوں کو پھیلاتے اس نے ان دونوں کو اپنی طرف بلایا تو وہ اس کے ساتھ آلگے

” ہم تنہا نہیں ہے ۔ تم دونوں تنہا نہیں ہو ۔ یاد رکھنا مبشرہ عون ۔ ہمت بڑی رکھنی ہے ۔ قد بڑا ہونے سے کچھ نہیں ہوتا “

ان کی پیٹھ سہلائ تو وہ دونوں سر ہلا گئے ۔ اس نے دانیال کو دیکھا وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا پھر اس کی نظر دروازے کی طرف گئ ۔ وہ جانتی تھی امی نے سب سنا ہوگا ۔ وہ لوگ یوں ہوگئے تھے کہ سر سے آسمان کھینچ لیا گیا تھا ۔

بعض اوقات ہمت کرنے کے لئے بھی ہمت چاہئے ہوتی ہے

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

ہر وہ جگہ جہاں وہ اسے ڈھونڈ سکتا تھا اس نے ڈھونڈا تھا ۔ کیفے والوں کے پاس اس کا ایڈریس نہیں تھا ۔ مایا کے پاس صرف نمبر تھا اور نمبر اس کا بند جارہا تھا ۔ اسٹور میں جہاں وہ کبھی ملازمت کرتی تھی وہاں سے بھی اسے کچھ علم نہیں ہوسکا تھا ۔ اس کی سوشل میڈیا آئ ڈیز پر وہ میسج کرکے تھک چکا تھا لیکن کوئ رپلائے آرہا تھا نا وہ اس کے میسج دیکھ رہی تھی ۔ اگزیمز کے بعد اسے جاب مل گئ تو وہ کچھ مصروف ہوگیا ۔ ان سب میں سنان کی ڈائری ۔ حامد رئیسی کا کیس اور باقی سب زہن سے مکمل محو ہوچکا تھا ۔ خیال میں فقط ایک شے باقی تھی اور وہ تھی لاھور کی معطر صبا

اگر وہ اس کا ایڈریس جانتا ہوتا تو اب تک پاکستان جا چکا ہوتا لیکن سارا مسئلہ اس کے ایڈریس کا ہی تھا

” منع کیوں کیا ہوا اس نے شادی سے ؟”

وہ کسی ریسٹورنٹ میں رائن کے سامنے بیٹھا تھا ۔ سفید شرٹ کے بازوں موڑ رکھے تھے ۔ چہرے پر تھکن تھی ۔ وہ ایک مقامی نیوز چینل میں پرائم ٹائم شو کرتا تھا ۔ آہستہ ہی صحیح لیکن وہ میڈیا میں اپنا نام بنا رہا تھا

” کیونکہ وہ مسلمان ہے اور مسلمان عورت کسی غیر مسلم سے شادی نہیں کرسکتی “

” تو تم اس سے کہتے کہ وہ مذہب تبدیل کرلے “

اب وہ کیا بتاتا یہی کہہ کر تو اس نے سارا معاملہ بگاڑا تھا ۔ زبان کو قابو میں رکھتا تو بات اتنی آگے نا بڑھتی ۔ وہ اپنی کہانی اپنے ہاتھوں سے برباد کر بیٹھا تھا ۔ بعض اوقات اپنی کہانی کا سب سے ظالم کردار ہم خود ہوتے ہیں

” میں نے کہا تھا کہ میں اسلام قبول کرلیتا ہوں “

رائن جھٹکے سے سیدھا ہوا

” مزاق کررہے ہو ؟”

” میرے چہرے سے لگ رہا ہے ؟”

بے زاری سے اسے دیکھا

” تم چہرے کے تاثرات چھپا کر مزاق کرنے میں ماہر ہو “

” اس بار نہیں کررہا ۔۔۔۔ میں سنجیدہ تھا اور ہوں “

” سریسلی ایرک ؟ ٹھیک ہے تم اب مسلمانوں کے خلاف نہیں بولتے لیکن اسلام قبول کرنا ؟ یہ بہت بڑی بات ہے “

” اتنی بھی بڑی بات نہیں ہے ۔ ایک مذہب ہی تو تبدیل کرنا تھا “

” مذہب تبدیل کرنا بڑی بات نہیں ہے ۔ اسلام قبول کرنا بڑی بات ہے “

اس نے رک کر رائن کو دیکھا۔ پھر سیدھا ہوا

” اسلام میں ایسا کیا ہے جو یہ اتنی بڑی بات ہے ؟”

” یہ سوال تم کررہے ہو ؟ کم از کم تم جانتے ہو کہ اسلام کس طرح کا مذہب ہے “

رائن طنزیہ مسکرایا

” میں نہیں جانتا ۔ تم بتاؤ اسلام کس طرح کا مذہب ہے ؟”

” وہ شدت پسند لوگ ہیں ۔ دہ شت گرد ۔ انہیں صرف نفرت پھیلانا آتی ہے ۔ تم نے اسلامی ممالک دیکھے ہیں ؟ پسماندہ غریب ۔ ان کے لوگ دیکھے ہیں ؟ گویا وہ ہر کسی کو زبردستی پکڑ کر مسلمان کرنا چاہتے ہیں۔ یہ الارا اور باقی کیسز کے بعد کم از کم تمہیں ایسا نہیں کہنا چاہئے “

” مجھے حیرت ہے اگر سنان سعدی والے واقعے کے بعد بھی تمہارے خیالات تبدیل نہیں ہوئے “

اور اسے یکدم وہ سرخ ڈائری یاد آئ ۔ ساتھ اور بھی بہت کچھ

” اوہ کم آن ۔۔ وہ سب مذہبی وجہ سے نہیں ہوا تھا ۔ وہ مشتعل جتھہ تھا اور ان کا رخ ویسے بھی سنان کے ٹرسٹ کی طرف نہیں تھا ۔ یہ تو بائے چانس وہ اس طرف چلے گئے تو یہ حادثہ ہوگیا “

ایرک رک کر اسے دیکھتا رہا ۔ یک ٹک ۔ بنا سانس لئے ۔ بنا پلک جھپکے ۔ رائن کا جوس منہ کی طرف جاتا ہاتھ رکا

” کیا ہوا ؟”

” ہاں ؟”

وہ چونکا

” ایسے کیا دیکھ رہے ہو ؟”

” تمہیں ۔۔۔ تمہیں کیوں لگا کہ وہ ہجوم ٹرسٹ کی طرف نہیں جارہا تھا بلکہ کسی اور طرف جارہا تھا ؟”

اس کا دماغ تیزی سے چل رہا تھا ۔ کچھ تھا جو سمجھ آرہا تھا ۔ کچھ تھا جو دماغ میں پھنس رہا تھا

” ویڈیوز میں دیکھا تھا ۔ ہجوم پہلے مارکیٹ کی طرف جارہا تھا پھر ان کا رخ تبدیل ہوا ۔ تم نے نہیں دیکھی وہ ویڈیو ؟”

اس نے دیکھی تھی لیکن اس نے یہ چیز نظر انداز کردی تھی ۔ جیسے اب رائن کررہا تھا ۔ لیکن اس کا پورا دماغ اسی ایک جگہ جم گیا ۔ تو یہ وہ چیز تھی جو کھٹک رہی تھی ۔ یہ بھی اور ۔۔۔

وہ جھٹکے سے اٹھا ۔ والٹ اٹھایا اور تیزی سے باہر کی طرف بڑھا ۔ رائن پیچھے اسے بلا رہا تھا لیکن اس نے نہیں سنا ۔ اسے کچھ اور پتا لگانا تھا

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

گاڑی ٹرسٹ کے باہر رکی تو وہ کچھ دیر یونہی بیٹھا رہا ۔ اندر جائے یا نہیں ؟ جا کر کیا کہے گا ؟ ممکن ہے وہ خواہ مخواہ اس رخ میں سوچ رہا ہو ۔ ممکن ہے یہ سب اس کا وہم ہو ۔ ایک چھوٹا سا نقطہ ہی تھا ۔ وہ اتنا الجھ کیوں رہا تھا ؟

گہری سانس لیتے اس نے سر جھٹکا پھر دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا ۔ ایک نظر بلڈنگ پر ڈالی ۔ چھوٹی سی عمارت تھی جو سفید رنگ کی تھی ۔ صحن کے اختتام پر سفید بلڈنگ شروع ہوتی ۔باہر کیمرے لگے تھے اور اوپر ۔ اس کا سر اوپر اٹھا ۔ چند لمحے وہاں دیکھتا رہا پھر دروازے کو دیکھتے اس نے قدم اندر بڑھائے ۔ اپنا کارڈ اس نے جیب میں ڈال لیا تھا کہ اگر تعارف مانگا گیا تو وہ بتادے گا کہ وہ اینکر پرسن تھا کسی سلسلے میں ٹرسٹ کے اونر سے ملاقات کرنی تھی

” کیا میں ٹرسٹ کے اونر سے مل سکتا ہوں ؟”

کاؤنٹر پر سیاہ حجاب میں تیس کے قریب کی کوئ عورت بیٹھی تھی ۔ اس کی آمد پر مسکرا کر خوش آمدید کہا تو اس نے سر کو خم دیتے سیدھا مدعے کی بات کی

” میں ہاشم بھائ سے پوچھتی ہوں۔ آپ کا نام کیا ہے ؟”

” ایرک کیان “

کیا وہ یہ بتائے کہ وہ میڈیا سے تھا ؟ ۔ خاتون کریڈل اٹھاتے اب کال ملا رہی تھیں ۔ وہ اردگرد دیکھتا منتظر ٹھہرا رہا

” آپ چلے جائیں ۔ یہاں سے سیدھا پھر دائیں مڑ جائیں ۔”

اس نے شکریہ کہتے سر کو خم دیا پھر خاتون کے بتائے گئے راستے پر چلتے اس کمرے کی طرف گیا ۔ لکڑی کے دروازے پر دستک دیتے کھولا تو اندر کا منظر واضح ہوا

سامنے سٹینڈ پر لٹکا کوٹ ۔ دائیں طرف صوفے اور بائیں جانب میز کے پار بیٹھا شخص

ہاشم بن عبد اللہ

ایرک جیب میں ہاتھ ڈالے ان کی میز کے سامنے رکا

” سلام علیکم ۔۔ میں ایرک کیان ہوں “

اُنہوں نے سر کو خم دیا پھر بیٹھنے کا اشارہ کرتے کرسی سے ٹیک لگائ

” آپ مجھ سے ملنا چاہتے تھے ؟”

” جی ۔۔۔ کچھ بات کرنی تھی “

وہ بیٹھتا ان کو دیکھ کر بولا

” کس متعلق ؟”

” سنان سعدی کے متعلق “

ان کے چہرے پر لمحہ بھر کو کچھ ابھرا پھر اُنہوں نے سر کو خم دیا

” سنان کے کیا لگتے ہیں آپ ؟”

وہ کیا لگتا تھا ؟ سنان سے تعلق جس کی وجہ سے تھا اس کا حوالہ دیتا یا کچھ اور کہتا ؟

” میں اینکر پرسن ہوں ۔ سنان کے کیس پر تحقیقات کررہا ہوں ۔ اسی سلسلے میں ملاقات کرنی تھی “

کچھ محتاط انداز میں کہتے اس نے وضاحت دی

” سنان کے کیس کے سلسلے میں پانچ ماہ بعد کیسی تحقیقات کرنا چاہ رہے ہیں آپ ؟”

وہ ٹھٹکے

” اس کی زندگی اور اس کی موت سے متعلق “

” قتل ۔۔۔ اس کا قتل ہوا تھا “

” آااا رائٹ ۔۔۔ قتل ۔۔۔۔اس کے گھر والوں نے کیس فالو کیوں نہیں کیا ؟”

وہ کچھ اور پوچھنا چاہتا تھا لیکن پتا نہیں یہ سوال کیوں کر بیٹھا

” آپ اینکر پرسن ہیں ایرک صاحب ۔ لاعلمی کا ناٹک کررہے ہیں یا لاعلم ہیں ؟”

” لا علم ہوں۔ “

” سنان کے خاندان پر حکومتی دباؤ تھا ۔ پاکستان کی گورنمنٹ نے ان سے کہا تھا کہ معاملہ برطانوی حکومت دیکھ لے گی اس لئے وہ خاموش رہیں۔ اب ظاہر ہے پاکستان کی حکومت اگر یہ بات کررہی ہے تو یہ دباؤ برطانیہ کی طرف سے ہی ڈالا گیا ہوگا “

انہوں نے کاندھے اچکائے ۔ ایرک آگے کو ہوا

” آپ برطانیہ سے متنفر دکھائ دیتے ہیں “

” میں مغرب سے متنفر ہوں “

” وجہ کیا ہے اس کی ؟”

” آپ ایک ایسے شخص سے اس کی وجہ پوچھ رہے ہیں جس نے اپنا سب کچھ اسی مغرب کی وجہ سے کھویا تھا “

” مطلب ؟”

ہاشم بن عبد اللہ کچھ دیر اسے دیکھتے رہے پھر وہ میز پر ہاتھ رکھتے آگے کو ہوئے

” میں افغانستان سے ہوں ایرک ۔۔ اس افغانستان سے جس پر کئ سال قبل امریکی حملوں میں میں نے اپنا پورا خاندان کھو دیا تھا ۔ میری چھوٹی بہن۔ میرا مزدور باپ اور بیمار ماں ان حملوں میں مارے گئے ۔ میں کئ سال پاکستان میں پناہ گزین بن کر رہا ہوں ۔ پھر کئ سال یہاں کے دھکے کھائے ہیں ۔ وجہ جانتے ہو؟ یہ مغربی نظام ۔۔ تمہارے مغربی نظام کو کون اجازت دیتا ہے کہ تم لوگ اٹھ کر ہر دوسرے مسلمان ملک پر حملے شروع کردو ؟ تمہارا نظام تمہیں کیوں کہتا ہے کہ فلسطین میں بھوک اور افلاس سے مرتے بچوں پر میزائل داغ دو ۔ کون سا نظام صرف مفروضے پر عراق کو تباہ کرنے کا حق دیتا ہے ؟ یہ کس انسانی حقوق کی علمبرداری ہے جو تم لوگ کررہے ہو ؟”

” یہ سب امریکن پالیسز اور فیصلے تھے ۔ باقی مغرب کا ان سب سے کیا تعلق ؟”

” ہاں ۔۔۔” انہوں نے طنزیہ سر جھٹکا ” ۔۔ امریکن فیصلے ۔ تو جب کسی مسلمان ملک کو نوچا جاتا ہے تو گوشت سارا مغرب کیوں کھاتا ہے ؟ سلطنت عثمانیہ کے حصے برطانیہ نے کئے تھے تو علاقوں کی تقسیم ہر ملک کے بیچ کیوں ہوئ ؟ تم مان لو کہ تم سب کافر مسلمانوں کے خلاف اکٹھے ہو چکے ہو “

” آپ یہاں نا انصافی کررہے ہیں ۔ یہ حکومتی پالیسیز ہیں اور عام عوام کا ان سب سے کوئ تعلق نہیں ہے “

” پھر سنان کے متعلق کیا کہو گے ؟ “

وہ لمحہ بھر کو چپ رہ گیا ۔ ہاشم بن عبد اللہ کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ آئ

” تمہیں علم ہے ایرک جس میڈیا کا تم حصہ ہو اس کا بڑا حصہ کون سی خبریں دیتا ہے ؟ مسلمانوں کی شدت پسندی اور ظالم ہونے کی ۔ تم ٹھیک کہتے ہو تمہاری عوام کا اتنا قصور نہیں ہے جتنا تمہارے نظام کا ہے ۔ یہ سب مغربی سازشیں ہیں جنہوں نے مسلمانوں کو اس لائق بھی نہیں چھوڑا کہ وہ اپنے حق کے لئے بول سکیں “

” تو پھر آپ کو سارا الزام مغرب پر تو نہیں لگانا چاہئے ۔ کچھ قصور تو مسلمان ممالک کا بھی ہے “

جانے گفتگو کس سمت چلی گئ تھی ۔ وہ یہاں کسی اور کام سے آیا تھا اور اب یہ بحث چھیڑ بیٹھا تھا

” ظاہر ہے آدھا قصور مسلم ممالک کا بھی ہے ۔ مغرب نے سالوں ہم پر خرچ کئے ہیں ۔ آہستہ آہستہ زہر کی طرح ہمارے اندر اپنا نظام ڈالا گیا ۔ ہمیں اسلام سے دور کیا گیا ۔ ہمیں اس قدر لاچار کیا گیا کہ ہم خود پر ہوئے مظالم کے خلاف بھی نہیں لڑ سکتے ۔ تم نے عراق ، شام ، لبنان ، افغانستان کے حالات دیکھے ہیں ۔ یہ سالوں کی پلاننگ ہے ۔ صدیوں کا بغض ہے ۔ اس نظام نے اپنا قیمتی وقت اور روپیہ ہم پر خرچ کیا ہے ۔ اور ہمارے مسلمان حکمرانوں نے یہ ہونے دیا ۔ ان پر تو لعنت بھیجنے کا بھی دل نہیں کرتا “

وہ صاف گو تھے اور حد سے زیادہ تھے ۔ اگر اس کی جگہ یہاں کوئ اور بیٹھا ہوتا تو وہ تصور کرسکتا تھا کہ صورتحال کیا ہوتی

” کچھ عرصہ قبل میں اسلاموفوبیا کا شکار تھا۔ میرا خیال تھا مسلمان شدت پسند ہوتے ہیں ۔ میڈیا جھوٹ تو نہیں بولتا ہوگا نا لیکن پھر میری رائے بدل گئ ۔لیکن آپ کی اس بات پر کہ یہ سب تباہیاں مغربی نظام کی مرہون منّت ہیں میری رائے اس پر محفوظ ہے ۔ میں دلائل سے قائل ہونے والا انسان ہوں جب تک مشاہدہ نا کرلوں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا “

اس نے کاندھے اچکائے ۔ ہاں ٹھیک ہے وہ جانتا تھا کہ میڈیا لوگوں کی زہن سازی کرتا ہے لیکن ابھی وہ اتنا بے وقوف بھی نہیں تھا کہ سر عام اس کا اظہار کردیتا ۔ میڈیا پرسن ہونے کے ناطے کچھ زمہ داری اس کی بھی تھی

” مجھے حیرت نہیں ہوئ کہ تم اپنے معاشرے کا دفاع کررہے ہو ۔ تمہیں اپنی نوکری عزیز ہے یقیناً ۔ بہرحال ہم موضوع سے ہٹ رہے ہیں سنان کے سلسلے میں کس طرح کی مدد چاہئے میری ؟”

ایرک نے سر کو خم دیتے کہنیاں میز پر جمائیں ( کیا یہ بعزتی تھی ؟)

” مجھے آپ کے ٹرسٹ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چاہئے تھی “

” وہ ہم پولیس کو پہلے ہی دے چکے ہیں”

” مجھے مکمل فوٹیج چاہئے تھی سر “

” ہم نے مکمل فوٹیج ہی دی تھی “

” تو پھر۔۔۔” کہنیاں میز پر جمائے وہ آگے کوا ہوا ” جو کیمرہ چھت پر ڈیزائننگ کے درمیان فکس کیا گیا ہے اس کی فوٹیج کہاں ہے ؟”

ہاشم بن عبد اللہ تھوڑی دیر کو بالکل چپ رہ گئے

” آپ کو کوئ غلط فہمی ہوئ ہے”

” میری نظر دھوکہ نہیں کھاتی ۔ آپ ایک ایسا ٹرسٹ چلا رہے ہیں ہاشم صاحب جو اسلاموفوبیا کے خلاف کام کرتا ہے ۔ آپ سر عام مغربی نظام پر تنقید کرتے ہیں ۔ اور آپ کو لگتا ہے میں یقین کرلوں گا کہ آپ نے اپنے ٹرسٹ کی سکیورٹی کے لئے صرف دو چار کیمرے باہر لگانے پر اکتفاء کیا ہوگا ؟ میرا نہیں خیال میں شکل سے بیوقوف نظر آتا ہوں “

وہ چبھتے انداز میں ان سے کہہ رہا تھا ۔ ہاشم بن عبد اللہ نے گہری سانس لی

” ہمیں محتاط رہنا پڑتا ہے ۔ لیکن وہ کیمرے خراب ہیں “

” ایک اور جھوٹ “

” میں جھوٹ نہیں بول رہا ۔ میں تمہیں فوٹیج دے دیتا ہوں لیکن مجھے بتایا گیا تھا کہ وہ کیمرے خراب ہوگئے ہیں ۔ میں نے فاتح سے ان کو ریپیئر کرنے کا کہا تھا لیکن اس کا کہنا کہ اس نے یہ نہیں کروائے “

وہ کچھ مایوس ہوا لیکن پھر سر جھٹک دیا

” میں دیکھ لوں گا ۔ آپ ان کی فوٹیج مجھے دے دیں “

انہوں نے سر کو خم دیتے کسی کو کال کی ۔ فوٹیج لانے کا کہا اور ایرک کی طرف متوجہ ہوئے

” آپ کیا کرنا چاہ رہے ہیں ؟”

” میں سچ جاننا چاہ رہا ہوں “

” کیسا سچ ؟”

یہ تو وہ بھی نہیں جانتا تھا بس کچھ تھا جو کھٹک رہا تھا ۔ اسے وہی چیز جاننی تھی

” یہ میں آپ کو سچ جاننے کے بعد بتاؤں گا “

وہ کچھ دیر اسے دیکھتے رہے

” معطر کیسی ہے ؟”

ایرک کیان کے حلق سے الفاظ کھینچ لئے گئے

” کون معطر؟ “

” وہ تمہارے ساتھ اس دن یہاں آئ تھی نا جب سنان کا قتل ہوا تھا ۔ میں اسی کی بات کررہا ہوں “

” وہ پاکستان جا چکی ہے اور میرا اس سے رابطہ نہیں ہے ۔ ویسے بھی وہ میرے صرف جاننے والوں میں سے تھی “

وہ بے نیاز نظر آنے لگا ۔ اسے معطر کو ان سب سے دور رکھنا تھا ۔یہ حکومتی اور عالمی جنگیں تھیں وہ اس کا نام نہیں آنے دینا چاہتا تھا

” وہ آخری بار یہاں آئ تھی تو کہہ رہی تھی کہ سنان اس کا یوسف تھا ۔ وہ ہم سب کا یوسف تھا ۔ وہ واقعی واپس نہیں آئے گا “

ان کا چہرہ غمگین ہو گیا ۔ ایرک کے گلے میں گلٹی ابھری ۔ وہ کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن دروازے پر دستک دے کر فاتح بھائ اندر آئے

” آپ نے فوٹیج منگوائ تھی “

ہاشم بھائ کے اشارے پر انہوں نے وہ ایرک کو دی تو وہ اسے تھامتا اٹھا

” آپ نے چیک کی ہے کیا کیمرے چل رہے ہیں ؟”

” نہیں ۔ مجھے لڑکے نے آ کر یہ فوٹیج دی ہے ۔ میرا نہیں خیال کیمرے اس دن چل رہے تھے ۔ ہاشم بھائ نے بنوانے کا کہا تھا لیکن میرے دماغ سے نکل گیا ۔ پھر سنان بھی ان دنوں مصروف تھا ورنہ وہ بنوالیتا”

وہ کچھ شرمندگی سے کہہ رہے تھے

” تم جاؤ فاتح “

وہ سر ہلا کر چلے گئے ۔ ایرک وہ سفید یو ایس بی دیکھتا واپس ہاشم بن عبد اللہ کی طرف مڑا

” آپ کا شکریہ ۔ میں چلتا ہوں “

انہوں نے بس سر کو خم دیا ۔ ایرک موبائل اٹھاتا دروازے تک گیا پھر وہاں رکا

” ایک سوال پوچھ سکتا ہوں ؟”

” پوچھو ۔۔۔”

وہ فائل کھولتے رکے

” اگر مجھے یوسف اور یعقوب کا واقعہ جاننا ہو تو کہاں سے جان سکتا ہوں ؟”

اس کے چہرے پر کچھ تھا کہ ہاشم بن عبداللہ لمحہ بھر کو اسے دیکھتے رہے

” تم ازلنگٹن میں اسلامک سنٹر چلے جاؤ ۔ وہاں فہد معظم نام کے آدمی سے ملنا ۔ اس سوال کا جواب وہ تمہیں دیں گے “

” آپ نہیں دے سکتے ؟”

” ویسے نہیں دے سکتا جیسے وہ دیں گے ۔ میرا خیال ہے تم شاید کچھ اور بھی پوچھنا چاہتے ہو ۔ تمہیں تمہارے ہر سوال کا جواب وہیں مل جائے گا “

وہ انہیں دیکھتا رہا پھر دروازے سے باہر کی طرف بڑھا ۔ اس کے پاس واقعی سوال تھے کیا وہ ایک بار اسلامک سنٹر چلا جائے ؟

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

” اگر اُنہوں نے کیس کردیا تو ہم کیا کریں گے آپی “

عون اس کے ساتھ بیٹھا پڑھ رہا تھا جب بیٹھے بیٹھے سر اٹھا کر اسے دیکھا ۔ سبزی بناتے اس کے ہاتھ تھمے

” ہم ان کا سامنا کرلیں گے عون “

اس کی نظر کچن کی طرف گئ ۔ مبشرہ اور امی کچن میں تھیں ۔ اس کی امی سے کوئ بات نہیں ہوئ تھی ۔ وہ اور دانیال ہی سر جوڑے بیٹھے رہتے تھے

” لیکن کیسے ؟ کیا وہ ہمیں گھر سے نکال دیں گے ؟”

وہ خوفزدہ تھا ۔ معطر نے چھری رکھتے اس کی طرف رخ موڑا

” یہ ہمارا گھر ہے عون ۔ ہم یہاں سے کہیں نہیں جائیں گے”

” اسے بہادری کا سبق مت پڑھاو معطر “

اس نے امی کی آواز پر ان کی طرف دیکھا ۔ سر پر دوپٹہ اوڑھے پژمردہ چہرے کے ساتھ وہ اسے دیکھ رہی تھیں

” آپ چاہتی ہیں میں اسے بزدلی کا سبق سکھاؤں ؟”

” میں چاہتی ہوں تم اسے بس اتنا سکھا دو کہ اگر جینے کے لئے اپنا حق چھوڑنا پڑے تو چھوڑ دینا چاہئے “

” اور بابا کہتے تھے کہ اگر اپنے حق کے لئے مرنا پڑے تو مرجاؤ “

” تمہارا باپ زندگی کے آخری دنوں میں ہر سبق بھول گیا تھا ۔ اس کا دل کمزور ہوگیا تھا “

” میں ان کے سکھائے گئے سبق زندگی کے آخر تک یاد رکھوں گی ۔ میرا دل پہلے سے زیادہ مضبوط ہوگیا ہے”

اس کے حلق میں کچھ اٹک رہا تھا لیکن اسے رونا نہیں تھا

” یہ بہادری کہاں سے لائ ہو ؟”

وہ تھک کر تخت پر اس کے ساتھ بیٹھیں

” بزدلی لندن میں چھوڑ آئ ہوں امی ۔ وہاں سے سیکھ کر آئ ہوں کہ ڈرنے والے مار دیئے جاتے ہیں”

لندن سے اسے کوئ اور یاد آیا ۔ پشاور کا سنان۔ ازلنگٹن کا ایرک

ایک اچھے دنوں کا ساتھ ۔ ایک برے دنوں کا خیال

” اپنی بہادری یہاں مت دکھاؤ ۔ ہم تنہا ہو جائیں گے ۔ سارا خاندان حسن اور تیمور کے ساتھ ہوجائے گا ۔ وہ حق پر نہیں ہیں لیکن پھر بھی ہم تنہا رہ جائیں گے “

” مجھے ایسا خاندان اب چاہئے بھی نہیں ۔ دانیال ٹھیک کہتا تھا امی ۔ ہم پر برا وقت آیا تو کوئ ہمارے ساتھ نہیں تھا ۔ اچھا وقت آئے گا تو ہمیں کسی کے ساتھ کی ضرورت نہیں پڑے گی “

” اچھا وقت تو تمہارا باپ اپنے ساتھ لے گیا ہے “

برآمدے میں خاموشی چھائ ۔ عون کا سر کتاب پر جھک گیا ۔ معطر امی کو دیکھتی رہی پھر وہ آگے کو ہوتی ان کے ساتھ لگی

” امی ۔ ہمارے پاس صرف ہم پانچ ہیں ۔ چھٹا چلا گیا ہے ۔ میں آپ کو اپنا دل نہیں دکھا سکتی ورنہ میں اسی دن مر گئ تھی ۔ آپ مجھے اپنا دل نہیں دکھا سکتیں ورنہ میں جانتی ہوں آپ کا دل بھی اسی دن مر گیا تھا ۔ ہمارے پاس صرف ہم ہیں ۔ یہ گھر اور بابا کی یاد ۔ مجھے ان کے لئے لڑنے دیں “

بہت کوشش کے باوجود بھی وہ اپنے آنسو نہیں روک پائ تھی ۔ بہت ضبط کے باوجود بھی وہ بہہ نکلے تھے ۔ ساجدہ نے اس سے الگ ہوتے اپنا چہرہ صاف کیا

” تمہارے بابا کی وفات سے دو دن پہلے تیمور یہاں آیا تھا”

وہ چونکی

” کس لئے ؟”

” یہی گھر کی بات کرنی ہوگی ۔ رضیہ نے اپنے شوہر کے مجبور کرنے پر رقم لی تھی ورنہ وہ تو اس گھر میں حصہ چاہتی تھی ۔ حسن کو تو ویسے ہی پیسوں کی ضرورت پڑی رہتی تھی ۔ اب ان دونوں کو پھر سے لالچ آ گیا ہوگا “

” بابا نے آپ سے کچھ کہا تھا کہ تیمور کیوں آیا تھا ؟”

” اُنہوں نے زکر نہیں کیا تھا ۔ میں حسن کے نئے گھر سے آرہی تھی تو اسے جاتے دیکھا تھا ۔ تمہارے بابا کچھ پریشان لگ رہے تھے اس کے بعد ۔ اب علم ہوا کہ وہ مکان سے متعلق ہی بات کرنے آیا ہوگا “

” کس قدر لالچی ہے یہ انسان “

اسے افسوس ہوا

” میرے پاس گھر کے کاغذات پڑے ہیں ۔ رقم منتقلی کے وقت تمہارے بابا کو اپنے بہن بھائ پر بھروسہ تھا اس لئے رقم کا کوئ ثبوت انہوں نے نہیں رکھا لیکن گھر کے کاغذات پر ان دونوں کے دستخط ہیں ۔ رات کو آنا تمہیں دے دوں گی”

” امی۔۔۔۔” اسے صدمہ سا ہوا ” آپ نے پہلے کیوں نہیں بتایا ؟”

” کیونکہ میں چاہ رہی تھی کہ وہ کچی ڈور نا ٹوٹنے دوں جو تمہارے باپ کی اپنے رشتوں سے جڑی تھی ۔ لیکن اب خیال آیا اس ڈور کو دیمک چاٹ چکی ہے”

وہ آنسو صاف کرتی اندر کی طرف بڑھیں ۔ معطر کتنی ہی دیر وہیں بیٹھی رہی

” آپی ؟”

” جی “

اس نے چونک کر عون کو دیکھا

” آپ کا فون بج رہا ہے”

اس نے اردگرد دیکھا ۔ کہیں سے رنگ ٹون بج رہی تھی ۔ عون کی کتابیں اِدھر اُدھر کیں تو نیچے سے موبائل نکلا ۔ کال آن کرتے وہ صحن کی طرف گئ

” السلام علیکم آپا ۔۔۔کیسی ہیں ؟”

٫ وعلیکم السلام بیٹا ۔۔ تم کیسی ہو ؟”

” ٹھیک ہوں “

” گھر میں سب کیسے ہیں ؟”

” جیسے بابا چھوڑ کر گئے تھے “

” صبر کرو بچے “

” وہی کرر رہی ہوں آپا ۔ ورنہ میرے دل کا غم دنیا دیکھتی “

دوسری طرف وہ کچھ خاموش ہوگئیں

” آپ بتائیں ۔ ازلنگٹن میں سب ٹھیک ہے ؟”

” ازلنگٹن کا ایک باسی میرے گھر آتا ہے “

” کون ؟”

” وہ ہر دوسرے روز میرے گھر کے باہر ٹھہرتا ہے ۔ دروازہ کھٹکتاتا ہے ۔ صرف اتنا پوچھتا ہے کہ معطر سے کوئ رابطہ ہوا اور میرے ناں کہنے پر چلا جاتا ہے ۔ میں اس کے سوال سے نہیں تھکی لیکن اپنے جواب سے تھک گئ ہوں “

” کس کی بات کررہی ہیں ؟”

اور بولنے کے بعد اسے یاد آیا ۔ ازلنگٹن میں کون اس کا پوچھ سکتا تھا ۔ چہرہ سپاٹ ہوا

” ایرک ۔۔۔۔ وہ ہر دوسرے روز یہاں آتا ہے معطر ۔۔۔ میں ہر مرتبہ جھوٹ بولتی ہوں ۔ اس کی آنکھیں ہر مرتبہ امید کھوتی ہیں۔ میں اس کی آنکھوں کو دیکھ کر بھی تھک گئ ہوں ۔ مجھے لگتا ہے اس کے بعد وہ نہیں آئے گا لیکن اگلے دن پھر میرے گھر کے باہر کھڑا ہوتا ہے ۔ وہ اتنا مستقل مزاج تو نہیں لگتا تھا “

” آپ نے اسے بتایا تھا کہ میں کیوں واپس آئ ہوں ؟”

” ہاں۔۔۔ اس نے مجھ سے کہا تھا کہ اگر میرا تم سے رابطہ ہو تو تم تک اس کا اظہارِ افسوس پہنچا دوں “

” مجھے اس کے اظہارِ افسوس کی ضرورت نہیں ہے آپا ۔ وہ آئندہ آئے تو آپ اسے گھر سے نکال دیجئے گا “

اس کا لہجہ بے تاثر تھا ۔ آخری بار کی ملاقات یاد آئ

” وہ یہاں آنا نہیں چھوڑے گا ۔ میں جان گئ ہوں “

وہ کچھ دیر درخت پر لٹکے پنجرے کو دیکھتی رہی پھر کوئ فیصلہ کن سانس لی

” ایک کام کریں گی پھر ؟”

” کیا ؟”

اس کے اگلے الفاظ پر دوسری طرف کچھ دیر کو خاموشی چھا گئ

” اس کے ساتھ یہ مت کرو معطر “

” مجھے اس کے ساتھ کوئ رابطہ نہیں رکھنا آپا ۔ یہی طریقہ بہتر ہے ۔ آپ اسے میرا ایڈریس نہیں دیں گے نا نمبر ۔ اسے بھول جانا چاہئے کہ لاھور کی کوئ لڑکی ازلنگٹن کے کسی ایرک سے ملی تھی “

” وہ تمہارے لئے بدلنا چاہتا تھا “

” یہی تو دکھ ہے ” اس نے ایک تکلیف دہ سانس اندر کھینچی پھر یکدم ٹھٹکی ” آپا میں سنان کی ڈائری ازلنگٹن میں بھول آئ تھی ۔ وہ کہیں سے ڈھونڈ دیں مجھے وہ پریزے تک پہنچانی ہے “

” ازلنگٹن میں کہاں ؟”

” معلوم نہیں ۔۔ آخری بار جب ایرک سے ملی تھی تو وہیں رہ گئ تھی ۔ آپ اس سے پوچھیں گی تو شاید اسے علم ہو “

اسے بے چینی سی ہوئ ۔ یا اللہ وہ ڈائری امانت تھی

” اور میں اس سے کیا کہوں گی کہ مجھے ڈائری کیوں چاہئے ؟”

” آپ کہئے گا کہ ۔۔۔۔”

وہ یکدم رکی ۔ وہ کیا کہیں گی ؟ ایرک کو شک ہوجاتا

” مجھے وہ چاہئے تھی آپا “

وہ بے بس ہوئ

” اگر وہ تمہارے مقدر میں لکھی ہوگی تو مل جائے گی معطر ۔۔۔۔ جو چیز مقدر میں نا لکھی ہو وہ ہماری لاکھ کوششوں کے باوجود بھی نہیں ملتی اور جو مقدر میں لکھی ہو وہ کسی کی لاکھ کوششوں سے بھی ہم سے دور نہیں رہتی “

اسے نے سر جھٹکا ۔ وہ ڈائری کا کہہ رہی تھیں یقیناً ۔ بانو آپا کو الوداعی کلمات کہتے اس نے کان سے فون ہٹا کر اپنا سوشل میڈیا اکاؤنٹ کھولا ۔ فیسبک ۔ انسٹاگرام ۔ وہاں ایرک کے میسجز آئے ہوئے تھے ۔ اس نے بنا سین کئے اپنے دونوں اکاؤنٹ ڈلیٹ کردیئے ۔ اسے کسی ایرک کیان سے رابطہ نہیں رکھنا تھا

اس نے آج اپنی زندگی سے ایک باب بند کیا تھا

ایک قصہ ختم کیا تھا

اور معطر صبا کی کہانی چند لمحوں کے لئے یہی رک گئ ۔ کسی ساحر نے کلمات پھونک کر اس کہانی کو نظروں سے اوجھل کردیا ۔ وقت کا قلم سات سمندر پار کے باسی کی طرف مڑ گیا تھا

وہاں جہاں وہ ادھورے دل والا لڑکا رہتا تھا

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

وہ لڑکا سرخ دروازے کے سامنے کھڑا تھا ۔ جینز پر سفید ٹی شرٹ پہن رکھی ۔ وہ جیبوں میں ہاتھ ڈالے دروازے کے سامنے چکر لگا رہا تھا جب دروازہ کھلا اور بانو آپا باہر نکلیں ۔ اس کے قدم رک گئے

” تم کب یہاں آنا بند کروگے لڑکے ؟”

” جب میں وہ جان لوں گا جو میں جاننا چاہتا ہوں “

” تم سوال غلط جگہ پوچھ رہے ہو “

” میرا جواب یہیں ہے ۔ معطر سے رابطہ ہوا آپ کا ؟”

” ہاں ۔۔۔”

جواب خلاف توقع ملا تھا ۔ وہ پل بھر کو تھم گیا پھر تیزی سے پہلی سیڑھی پر آیا

” آپ نے اسے بتایا کہ میں یہاں آتا ہوں ؟”

” بتایا تھا”

” کیا کہا اس نے ؟ اس سے کہیں ایک بار مجھ سے رابطہ کرلے ۔ صرف ایک بار ۔ یا پھر اپنا ایڈریس سینڈ کردے “

” اس نے کہا کہ میں اس کا ایک پیغام تم تک پہنچا دوں “

خطوط کا زمانہ گزر چکا ۔ قاصد پیغام جدید دور میں لایا تھا ۔ پتھر کی سیڑھی پر کھڑا شخص متوجہ تھا ۔ قیدی کے لئے رہائ کا پروانہ آیا ہوگا

” کیا پیغام بھیجا ہے اس نے ؟”

اس نے اپنی سماعت ہر جگہ سے ہٹا کر ان کی طرف متوجہ کرلی

” اس نے کہا ہے کہ اس کا انتظار چھوڑ دو ۔ وہ کسی اور کے نام لکھی جا چکی ہے “

پتھر کی سیڑھی پہ کھڑا شخص پتھر ہوا ۔ قیدی کو رہائ کا پروانہ نہیں ملا تھا اسے موت کا پیغام ملا تھا

” وہ جھوٹ کہہ رہی ہے “

سر نفی میں ہلا ۔ اس نے اپنی سماعت اس جگہ سے ہٹا لینی چاہی

” وہ اپنے بابا کی وجہ سے شادی نہیں کررہی تھی ۔ اس کے گھر والوں نے اب اس کا رشتہ طے کر دیا ہے ۔ چند ماہ تک شادی بھی کردیں گے “

قدیم دور کے باسی کی آنکھوں سے کسی نے زندگی چھین لی ۔ آنکھیں یوں بھی مردہ ہوتی ہیں ؟

” پلیز آپا ۔۔۔۔”

یوں جیسے وہ ان کے ہاتھ میں تھا کہ اس کا دل ٹوٹنے سے بچا لیا جائے

” اس نے اپنا نمبر تبدیل کرلیا ہے ۔ وہ تمہیں بھلانے جارہی ہے ایرک ۔ اس نے کہا کہ اس سے کہئے گا مشرق کی معطر صبا مغرب کے ایرک کیان کی یاداشت سے محو ہونا چاہتی ہے ۔ اسے بھلا دو “

جسے بھلانے کا کہا جارہا تھا اس کی یاداشت میں فقط ایک نام محفوظ تھا ۔ اس نے سر نفی میں ہلایا

” یہ نا ممکن ہے “

” اسے بھول جاؤ ایرک “

” اسے زہن میں حفظ نہیں رکھا تھا ۔ دل میں حفظ کیا تھا ۔ دل کی یاداشت کیسے مٹاؤں ؟”

وہ ایک قدم نیچے ہوا ۔ پاتال کی طرف

” مشرقی لڑکیوں کی بڑی مجبوریاں ہوتی ہیں ایرک ۔ تم دونوں کے بیچ ملک کا ۔ مذہب کا ۔ سوچ کا ۔ نظریئے کا فرق ہے ۔ تم غلط انسان کو دل میں بسا بیٹھے ہو “

” میں نے سوچ کر تو محبت نہیں کی تھی نا آپا “

وہ بے بس ہوا ۔ دل کا حال بے حال تھا

” غلط کیا تھا بچے ۔ یہ زہر مار دیتا ہے “

” مار رہا ہے ۔۔”

وہ نیچے ٹھہرا تھا ۔ گہری زکام زدہ سانس اندر کھینچی پھر دھیمے شکستہ قدموں سے باہر کی طرف بڑھا ۔ آہستہ قدم جیسے وہ گن رہا تھا اور چل رہا تھا ۔ بانو آپا اسے دیکھتی رہیں

وہ مشرق سے تھی جس کی چوڑیوں میں کسی کا دل اٹکا رہتا تھا

وہ مغرب سے تھا جس کا دل کوئ مشرق کی باسی ساتھ لے گئ تھی

اور ایک شخص تھا ۔ جسے اظہار کی مہلت بھی نہیں دی گئ تھی

قسمت محبت کے معاملے میں ان تینوں پر ظالم واقع ہوئ تھی

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆