192.3K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Laa (Episode 17)

Laa By Fatima Noor

اس نے یہ خبر گھر سے جاتے ہوئے بانو آپا کے منہ سے سنی تھی

جسٹس فار الارا گریس ٹوٹئر پر ٹرینڈ کررہا تھا

کھڑے کھڑے اس نے اس خبر کو دیکھا ، دل میں افسوس سا ابھرا

” کتنی پیاری لڑکی ہے “

” درندے کہاں کسی کا پیارا ہونا دیکھتے ہیں “

” قاتل کون ہے ؟”

” اس کا کوئ دوست ہے شاید، پولیس نے گرفتار تو کرلیا ہے “

اور بس اتنی ہی بات تھی جو اس کی اور بانو آپا کی اس معاملے پر ہوئ تھی ، بانو آپا حالات کی خرابی سے لاعلم تھیں ، وہ نا واقف ، کہ کل سنڈے تھا اور وہ دونوں پورا دن کام پر لگی رہی تھیں

یہ لا علمی ہاشم بن عبد اللہ ٹرسٹ جانے تک قائم رہی ، اسے بانو آپا کی رقم جمع کرانی تھی ، وہ جب تک ٹرسٹ پہنچی ہلکی ہلکی بارش تیز ہوچکی تھی ، پچھلے چند دن سے ازلنگٹن میں موسم شدید خراب تھا ، اندر آتے اس نے بالوں سے پانی جھٹکا ، آدھی تو وہ بھیگ گئ تھی ، گھر سے نکلتے وقت بادل بنے ہوئے تھے لیکن اس کا خیال تھا آج بارش نہیں آئے گی ورنہ چھاتا ہی لے لیتی

“السلام علیکم مرینا ، فنڈ جمع کرانا تھا “

مرینا کچھ چونکی پھر ہلکا سا مسکرائ

” وعلیکم السلام ، فاتح سر کے پاس چلی جائیں”

وہ سر ہلاتے دائیں طرف بنے کمرے تک گئ ، ساتھ والے کمرے کا دروازہ کھلا تھا ،وہ خالی تھا ، سنان اندر نہیں تھا یا شاید وہ آج آیا نہیں تھا ، وہ ہفتے میں دو تین دن چکر لگا لیتا تھا تو ممکن تھا کہ نا آیا ہو ، رقم جمع کراتے ، رسید لیتے اور باہر تک آنے میں اس نے وہاں صاف تناؤ محسوس کیا تھا ، جیسے کچھ تھا جو عجیب سا ہو

وہ باہر آئ تو بارش ابھی تک برس رہی تھی ، داخلی دروازے کے آگے چھوٹا سا برآمدہ تھا جو دائیں طرف مڑ کر بیک یارڈ کی طرف جاتا تھا ، برآمدے کے آگے تین سٹیپس بنے تھے پھر چھوٹا سا صحن تھا جس کے اردگرد باڑ لگائ ہوئ تھی ، سامنے سڑک جس پر بارش کی بوندیں گر رہی تھیں ، وہ وہیں داخلی دروازے کے ساتھ ٹیک لگا کر ٹھہر گئ ، ازلنگٹن پرسکون سا علاقہ تھا ، نا بہت زیادہ شور نا ہنگامے ، وہاں کی بارشیں بھی پیاری لگتی تھیں

” معطر ۔۔۔۔۔”

پیچھے سے آواز ابھری تو وہ چونک کر سیدھی ہوئ ، سنان جیبوں میں ہاتھ ڈالے اس کی طرف آرہا تھا ، سیاہ پینٹ پر گرے شرٹ پہنے ساتھ لمبا کوٹ ، ہلکی ہلکی شیو ، شہد رنگ نرم آنکھیں ، بال جیل سے پیچھے کو جمے تھے ، لبوں پر مسکراہٹ تھی

” مجھے لگا آپ یہاں نہیں ہیں “

” اسٹاف روم میں تھا ، آپ رقم جمع کروانے آئ تھیں ؟”

” جی ۔۔۔۔”

اس نے رخ واپس موڑ لیا ، سنان اسی کے انداز میں دروازے سے ٹیک لگا گیا ، رخ البتہ معطر کی طرف تھا جو بارش کو دیکھ رہی تھی

” پتا نہیں بارش کب رکے گی ، مجھے دیر ہوجائے گی “

” جب اس کا دل چاہے گا “

” بارش کے پاس دل بھی ہوتا ہے ؟”

” اس کے پاس صرف پانی اور برف ہوتی ہے “

وہ مسکرایا

” ازلنگٹن میں برف باری ہوتی ہے ؟”

” بہت کم ، اتنی کہ زمین پر جمتی بھی نہیں ہے “

” اس سال کیوں نہیں ہوئ پھر ؟”

اسے افسوس ہوا

” عموماً جنوری فروی میں ہوتی ہے ، فروری تک انتظار کر لیں “

” آپ نے تو بہت مرتبہ برف باری دیکھی ہو ، میں پہلی بار دیکھنے پر اکسائٹڈ ہورہی ہوں “

وہ ہلکا سا ہنسی

” دیکھی ہے ۔۔۔۔۔خیبر پختونخوا میں بہت برف باری دیکھی ہے ، ایک بار یہاں ازلنگٹن میں بھی دیکھنا چاہتا ہوں ، وہ بھی بہت بھاری “

” ازلنگٹن کی برف باری میں ایسا کیا خاص ہے ؟”

اس نے ہاتھ جیب میں گھسائے ، لندن کی سردی کسی دن اسے جما کر دم لے گی

” کچھ ہے خاص ،مجھے ازلنگٹن کی سڑکوں پر برف کی تہہ دیکھنی ہے ، بھاری تہہ جس پر بوٹ جم جائیں پھر مجھے اپنے قدموں کے نشان وہاں بنانے ہیں “

” بچوں جیسی خواہشات نہیں ہیں آپ کی ؟”

وہ ہلکا سا ہنسا

” شاید۔۔۔۔۔”

اگلے چند لمحے وہ خاموشی سے بارش دیکھتی رہی اور وہ اسے ، نظریں گستاخ ہوتی جارہی تھیں ، اس ایک عورت پر سے ہٹنے کا نام ہی نا لیتیں ، وہ لاکھ کوشش کرتا بھٹک بھٹک کر اسی پر جم جاتیں ، وہ اسے نا ملی تو وہ کیا کرے گا ؟

” میں پاکستان جارہا ہوں “

معطر چونکی

” کب ؟”

” یکم فروی کی فلائٹ ہے “

” کتنے دن کے لئے جارہے ہیں ؟”

” طے نہیں کیا ، جس کام کے لئے جارہا ہوں دیکھیں کتنا وقت لیتا ہے “

” کس کام کے لئے جا رہے ہیں ؟”

وہ سردی سے کانپ رہی تھی

” کچھ کہانیاں ادھوری ہیں وہ مکمل کرنی ہیں “

وہ اسے دیکھتا سیدھا ہوا پھر ایک منٹ کا کہتا اندر گیا ، واپس آیا تو ایک شال اٹھا رکھی تھی ، اس کی طرف آتے وہ بڑھائ

” میں ٹھیک ہوں “

” اسی لئے کانپ رہی ہیں “

معطر نے جھینپتے ہوئے شال پکڑی پھر غور سے دیکھی ، وہ کریم کلر کی سادہ سی شال تھی جس پر ہلکی ہلکی گلابی رنگ سے کڑھائ کی گئ تھی

” کس کی ہے ؟”

” مورے کے لئے لی تھی کل ، واپسی پر یہاں آیا تو یہیں بھول گیا “

” پھر میں کیسے لے سکتی ہوں”

اس نے جھٹ شال واپس بڑھائ

” آپ لے لیں ، میں ان کے لئے نئ لے لوں گا ” رسان سے اسے کہا تو وہ کچھ دیر متذبذب سی اس شال کو دیکھتی رہی پھر سیدھی کرتے پھیلائ ، اسے سردی نہیں ، شدید سردی لگ رہی تھی

” یہ میں آپ کو بارش رکتے ہی واپس کردوں گی “

” نا بھی کریں تو کوئ بات نہیں “

معطر کپکپاتے ہونٹوں سے شال سیدھی کرتی سر پر اوڑھ رہی تھی ، ٹھنڈی ہوا کانوں میں گھس رہی تھی ، سر پر جماتے اس نے شال کا پلو گھما کر پیچھے کرلیا ، وہ اسے دیکھتا رہا ، دوپٹے کے ہالے میں موجود پرکشش چہرہ ، کپکپاتا وجود ، وہ ہاتھ رگڑ رہی تھی لیکن پھر بھی یہیں ٹھہری تھی

” چادر میں اچھی لگ رہی ہیں ، فلرٹ نہیں ہے ، احتراماً کہہ رہا ہوں “

وہ کچھ خائف ہوئ

” میرے سر سے پھسل جاتا ہے “

اس نے کچھ نہیں کہا بس مسکراتے ہوئے دیکھتا رہا ، دس دن بعد ،پھر چند دن ، اور پھر شاید آگے کے لئے وہ ساتھ ہوتے ، تب وہ اس سے وہ سب کہہ سکتا جو وہ چاہتا تھا

” پشتو غزل سناؤں آپ کو جب تک بارش نہیں رکتی ؟”

” سمجھ نہیں آئے گی مجھے “

” ترجمہ کرنے والا موجود ہے “

اس نے جیب سے ہاتھ نکالتے سینے پر رکھا

” سنادیں۔۔۔۔”

اسے کون سا سمجھ آ جانی تھی تو سر ہلادیا

” عرض کیا ہے۔۔۔۔ ” وہ کھنکارا

ستا د نوم ګل مې کتاب کې ساتلی

هر ورق ته یې خوشبويي خپره ده

ستا د مینې ګل مې زړه ته وکره

او د ژوند هر رنګ پکې تازه ده

ته چې مسک شي، ګلونه مسک شي

زه ستا د خندا په انتظار ولاړ یم

( تمہارے نام کا پھول میں نے اپنی کتاب میں رکھا ہے

اس کی خوشبو ہر صفحے پر پھیلی ہوئی ہے

تمہاری محبت کا پھول میں نے دل میں بویا ہے

اور زندگی کے سب رنگ اس میں تازہ ہو گئے ہیں

جب تم مسکراتی ہو، پھول بھی مسکراتے ہیں

میں تمہاری ہنسی کا منتظر کھڑا ہوں )

” ترجمہ ؟”

” آپ کوشش کریں شاید ترجمہ کرسکیں اس کا ؟” اس نے مسکراہٹ دبائ

” مجھے ایک لفظ بھی سمجھ نہیں آیا “

کوٹ سے ہاتھ باہر نکالتے اس نے جھلایا

” کسی کا تو آتا ہوگا “

” ترجمہ نہیں آتا ، لیکن پشتو کا ایک جملہ آجاتا ہے “

” کون سا ؟”

” ذہ تاسرہ مینہ کوم “

وہ چند لمحے اسے دیکھتا رہا پھر ہنس دیا ، پورے دل سے

” کیا ہوا ؟”

اسے سنان کے ہنسنے کی وجہ سمجھ نہیں آئ تھی

” آپ کو اس کا مطلب معلوم ہے ؟”

” نہیں ۔۔۔ یونیورسٹی میں کسی سے سنا تھا تو حفظ ہوگیا ، کیا مطلب ہے اس کا ؟”

ناسمجھی سے اسے دیکھا جو مسکراہٹ ضبط کررہا تھا

” اس کا مطلب ہے ۔۔۔۔” رخ مکمل معطر کی طرف موڑتے اس نے دونوں ہاتھ جیب میں ڈالے ، نظر اس کے چادر کے ہالے میں چمکتے چہرے پر گئ ،پھر کلائ پر ، پھر اس کی آنکھوں پر ” میں آپ سے محبت کرتا ہوں “

باد نسیم زور سے چلی تھی ، ٹھنڈی یخ ہوا ، بارش کے قطرے دھیمے ہوئے ، باغیچے کے پھولوں کی خوشبو دروازے میں ٹھہرے دو مجسموں پر گئ ، ایک وہ جو پشاور سے تھا جو پشتو میں کچھ کہتا تھا ، دوسری وہ جو لاہور سے تھی ، جو اسے رک کر سنتی تھی ، ایک وہ جو لفظ محبت پڑھتا تھا اور اسے دیکھتا تھا ، ایک وہ جو اس لفظ کی مہک سے نا آشنا لگتی اور اسے تکتی تھی ، پھر اس کی آنکھوں میں بے یقینی سی اتری پھر چہرے پر سرخی اور پھر وہ ہنس دی

” مجھے علم نہیں تھا “

سنان مسکرایا ، پھر سر جھٹکا ، وہ نہیں سمجھی تھی

” سنان ۔۔۔۔۔”

پیچھے سے فاتح بھائ کی آواز ابھری تو وہ دونوں ان کی طرف متوجہ ہوئے

” جی “

” ہاشم بھائ کا فون آیا تھا ، حامد کے کیس کے سلسلے میں وہ واپس آرہے ہیں تم لندن چلے جانا یہاں سے ، وکیل سے مل لو ، باقی سب ہاشم بھائ آ کر دیکھ لیں گے “

اس نے سر ہلادیا ، بارش دھیمی ہورہی تھی

” حامد رئیسی ؟ یہ وہی ہے نا جس پر الارا کے قتل کا الزام ہے ؟”

” جی۔۔۔”

اس کا چہرہ اب سنجیدہ ہوچکا تھا

” آپ لوگ اس کا کیس لڑ رہے ہیں ؟ “

” آپ شاید کہنا چاہ رہی ہیں ایک قاتل کا ۔۔۔۔ ابھی کچھ ثابت نہیں ہوا ، اور ۔۔۔۔ ” رک کر معطر کو دیکھا ، چہرے پر ہلکی سی فکر ابھری ” آپ کچھ دن جاب پر مت جائیں تو بہتر ہوگا “

” کیوں ؟”

” برطانیہ میں مظاہرے ہورہے ہیں ، ازلنگٹن میں بھی شاید آپ کو ان سب کا سامنا کرنا پڑے ، بہتر ہوگا کچھ دن کی چھٹی لے لیں “

” کچھ نہیں ہوتا سنان ۔۔۔۔” وہ لاپرواہ تھی ” مجھے کسی نے کیا کہنا ہے ؟ زبان سے یہ سب سننے کی تو ہمیشہ سے عادت ہے “

” معاملہ بہت زیادہ خراب ہے معطر “

” جو ہوگا دیکھا جائے گا ، فلوقت مجھے دیر ہورہی ہے ، آپ کی شال ۔۔۔۔”

وہ چادر اتارہی تھی

” آپ یہ رکھ سکتی ہیں “

” جتنی دیر ضرورت تھی اتنی دیر رکھ لی ہے ، شکریہ “

مسکراتے ہوئے وہ آگے کو ہوئی ، باہر اب صرف ہلکی ہلکی بوندیں گررہی تھیں ، اسے جلدی تھی ورنہ سنان سے اس موضوع پر مزید بات کرتی ، اس سے حامد رئیسی کے متعلق پوچھتی ، اور وہ پوچھتی تو شاید سنان بتادیتا کہ وہ ہاشم بن عبد اللہ ٹرسٹ کا ایک کارکن تھا

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

سنان یوں ہی پریشان ہورہا تھا ، وہ ٹیوب سے کیفے گئ ، سامان رکھا ، کیپ پہنی اور کسٹمر اٹینڈ کرنے لگی ، سب ٹھیک تھا ، نارمل تھا ، شاید ہنگامے اور مظاہرے ازلنگٹن تک نہیں آئے تھے ، اس کا یہ خیال کچھ دیر میں ہی غائب ہوگیا جب کسی کسٹمر نے کافی اس کے ہاتھ سے لینے سے صاف انکار کردیا

” یہ مسلمان ہے “

تو کیا اس نے زہر ملایا تھا کافی میں ؟

” مذہب سے کیا فرق پڑتا ہے سر ؟”

مایا نے بات سنبھالنی چاہی

” کیا یہ حامد کا مذہب ہی نہیں تھا جس کی وجہ سے اس نے الارا کو مارا ؟”

” یہ اس کا ذاتی فعل تھا سر ، اسلام کو بیچ میں مت لائیں “

اس کی برداشت یہی تک تھی

” وہ مسلمان تھا ، تم لوگ اپنے مذہب کی وجہ سے پہچانے جاتے ہو ، تم لوگ اپنے مذہب کی وجہ سے بدنام ہو “

” آپ اس کے عمل کو ایک انسان کے عمل کے طور پر دیکھیں تو بہتر ہوگا “

” وہ انسان مسلمان ہے “

اس کی تان بار بار ” وہ مسلمان ہے ” پر آ کر ٹوٹ رہی تھی

” اوکے سر ۔۔۔ریلیکس میں کافی دیتی ہوں آپ کو “

بمشکل مایا نے انہیں پرسکون کیا ، وہ خاموشی سے سرخ پڑتے چہرے کے ساتھ پیچھے ہٹ گئ ، اسے غصے سے گھورتے نوجوان نے کافی لی اور چلا گیا ، کچھ دیر بعد ایک خاتون نے کافی لینے کے بعد پیسے پٹخ کر ہتک کے ساتھ اس کے سامنے رکھے اور چلی گئیں

وہ خاموشی سے اپنا کام کرتی رہی ، کیفے کے بعد اسٹور ، اسٹور سے گھر ، اور اس کا جسم جیسے تھک گیا

” یہ لوگ اتنے شدت پسند کیوں ہیں بانو آپا ؟”

وہ پورا دن آج حامد رئیسی اور الارا کیس کو سرچ کرتی رہی تھی ، معاملہ خراب تھا اور مزید خراب ہورہا تھا ، پورے ملک میں یونیورسٹی سٹوڈنٹس احتجاج کررہے تھے ، بات اتنی ہی رہتی تو ٹھیک تھا ،بات اسلاموفوبیا سے جڑ گئ تھی اور اسے لگ رہا تھا کہ شاید یہ سب چند دن کا قصہ ہو ، ایک دن ۔۔دو دن ۔۔۔ یا شاید تین دن

” عام دنوں میں برطانیہ مسلمانوں کے لئے ٹھیک رہتا ہے ، لیکن اس طرح کے کسی واقعے کے بعد حالات یوں ہی خراب ہوجاتے ہیں”

” یہ سب کب ٹھیک ہوگا ؟ “

وہ پہلے ہی دن تھک گئ تھی ، اسٹور میں آنے والے کسٹمرز کی نظریں پہلی بار اسے عجیب لگیں

” ابھی تو کچھ نہیں کہہ سکتے ، تم چھٹیاں لے لو معطر “

” آپ مجھے ڈرنے کا کہہ رہی ہیں ؟”

” ہاں۔۔۔۔ کیونکہ میں تمہیں لڑنے کا نہیں کہہ سکتی “

” کسی نا کسی کو تو اصلاح کا آغاز کرنا ہوگا نا ، کیا ہم لوگ سب کی طرح ڈر کر بیٹھ جائیں ؟”

” وہ ” کسی ” تم مت بنو ، کیونکہ تم یہ نہیں کرسکتیں، یہ آج کا قصہ نہیں ہے جو اتنی آسانی سے حل ہوجائے ، ان گوروں کے ذہن آج بھی صلیبی جنگوں میں اٹکے ہیں معطر ، تمہیں لگتا ہے یہ عوام ہے ؟ نہیں یہ ان کے حکمران ہیں ،انہوں نے صدیاں لگا کر اپنی عوام کی مسلمانوں کے حوالے سے زہن سازی کی ہے ، عرصہ ان کے دل میں زہر گھولا ہے ، یہ سب شروع سے طے کیا گیا تھا ،یہ سب ایسے ہی ہونا تھا ، انہوں نے اپنی طاقتیں اور پیسہ خرچ کیا ہے مسلمانوں کے خلاف ، تم ایک کیا کرلو گی ؟”

وہ جانتی تھی وہ ٹھیک کہہ رہی ہیں ، وہ ایک تھی ، اس کا عمل ناکافی تھا ، فلوقت تو اسے اپنی بقا کی فکر تھی ، فلوقت تو اسے ان سب کی سمجھ ہی نہیں آرہی تھی

یہ کیفے میں اگلے دن کی بات تھی جب کافی مانگنے پر وہ ڈسپوزیبل کپ لینے گئ تو دو منٹ دیر ہوگئ

” تمہیں وقت کا احساس ہے ؟ میں پانچ منٹ سے یہیں ٹھہرا ہوں “

بزرگ آدمی غصہ ہوگئے

” سر میں لا ہی رہی تھی ، مشین میں کچھ خرابی آ گئ تھی “

اس نے حد درجہ تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہا

” تم لوگ مشین پہلے سے بنوا کر نہیں رکھ سکتے ؟”

” خرابی اچانک ہوئ ہے “

” تم اب مجھ سے بحث کرو گی لڑکی ؟”

اس نے ضبط سے سامنے کھڑے ادھیڑ عمر شخص کو دیکھا

” میں صرف سمجھا رہی ہوں “

” کیا تمہیں میں بیوقوف نظر آتا ہوں ؟ نوکری پر کس نے رکھا ہے تمہیں ؟ مینیجر کو بلاؤ کوئ “

ساتھ کھڑا ویٹر دوڑ کر ولیم سر کو بلانے گیا ، اس کا دماغ گھوم گیا ، ایسی بھی کیا بات تھی جو وہ اتنا شدید رئیکٹ کررہے تھے ؟ مینیجر آیا ، ان کی بات سنی ، وہ چلاتے رہے ،کیسے کیسے لوگ ہیں اس کیفے میں ، نا بولنے کا طریقہ آتا ہے نا لباس پہننے کا ، پندرہ دس منٹ کی بحث ہوئ اور وہ آدمی غصے سے سرخ چہرہ لئے بڑھ گیا ، مینیجر گہری سانس لیتا واپس آیا ، اس کا خیال تھا وہ اب ڈانٹیں گے

” زیادہ بدتمیزی تو نہیں کی اس نے ؟”

” نہیں سر ۔۔۔”

” ٹھیک ہے کام کرو تم اپنا ، پتا نہیں کیا ہوگیا ہے ان لوگوں کو ، پچاس کے بعد لوگوں کی عقل خارج ہوجاتی ہے”

وہ افسوس سے سر ہلاتے آگے بڑھ گئے نا اس سے کچھ کہا ، نا سنایا ، معطر واپس کاؤنٹر تک گئ ، یہ پہلی بار تھا جب اسے خوف محسوس ہوا ، پہلی بار اسے لگا کہ برطانیہ میں اب تک جس لحاظ سے وہ خود کو محفوظ تصور کررہی تھی وہ صرف اس کا خیال بننے والا تھا ، الارا گریس کا کیس اس کے لئے مشکل کھڑی کرنے والا تھا

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

اسی دن وہ کیفے سے واپسی پر اسٹور جانے کی بجائے ایرک کی یونیورسٹی چلی گئ ، دو دن سے وہ غائب تھا ، نا کوئ رابطہ کیا تھا نا کوئ ملاقات ، اسے اپنی بالی کا پوچھنا تھا کہ اگر وہ ایرک کو نہیں ملی تھی تو وہ خود ہی جا کر ڈھونڈ لے

یونیورسٹی کا ماحول عجیب سا تھا ، ہر طرف جینز پر ایک ہی رنگ کی شرٹ پہنے لڑکے اور لڑکیاں گھوم رہے تھے

” ایرک کیان کہاں ملے گا ؟”

اس نے باہر گراؤنڈ میں کتاب کھول کر بیٹھے لڑکے سے پوچھا تو اس نے کتاب بند کرتے سر اٹھایا

” اپنے کیمپس میں ہوگا “

وہ سر ہلاتی جانے لگی جب یکدم رکی

” ان سب نے سفید شرٹ کیوں پہن رکھی ہے ؟”

” یہ ؟ مسلمانوں کے خلاف مظاہرہ ہورہا ہے لندن آئ پر وہیں جارہے ہیں سب “

لمحہ بھر کو وہ وہیں جم گئ ، نظریں اردگرد گئیں ، سفید شرٹ میں ملبوس ایک ہجوم سا تھا

” تمہارا مطلب ہے حامد رئیسی کے خلاف مظاہرہ ؟”

” اس کے خلاف اب کیوں مظاہرہ کریں گے ؟۔ ” لڑکے نے بے زاری سے ہاتھ جھلایا ، وہ ان سب سے بے نیاز نظر آتا تھا ” وہ تو پکڑا جا چکا ، ٹرائل ہوگا ، تحقیات ہوں گی اور پھر کوئ فیصلہ ہوگا ، یہ سب تو حامد رئیسی کے نام پر مسلمانوں کے خلاف مظاہرے میں شرکت کریں گے ، نام نہاد انصاف پسند انگریز “

اس نے بے زاری سے سر جھٹکا ، معطر ساکت دماغ کے ساتھ وہاں سے ہٹی ، اسے لگا ہر شخص اسے دیکھ رہا ہے ، وہ سفید شلوار قمیص پہنے ہوئے تھی ، وہاں ہر شخص اسے بھی دہ شت گرد سمجھ رہا ہوگا ، بیگ پر گرفت مضبوط ہوگئ ، چہرہ سرخ پڑنے لگا ، دماغ کھولنے لگا ، ضبط سے پرسکون سانس لی ، ایرک جرنلزم ڈیپارٹمنٹ میں ہوتا تھا ، اندر جانے کی اجازت نہیں تھی تو وہ اس کے ڈیپارٹمنٹ کے باہر رک گئ ، موبائل نکالتے اسے کال کی ، پاس سے گزرتے لڑکوں نے اسے عجیب نظروں سے دیکھا ، اس کے ہاتھ کپکپانے لگے ، جانے وہ غصہ تھا یا کیا

” ہیلو معطر ؟”

” باہر آ سکتے ہو ؟”

” تم کہاں ہو ؟”

وہ چونکا

” تمہارے ڈیپارٹمنٹ کے باہر ہوں “

” یہاں کیا کررہی ہو تم ؟”

” باہر آؤ بتاتی ہوں “

اس نے کال کاٹ دی ، دو منٹ گزرے جب اسے سامنے سے وہ آتا دکھائ دیا ، موبائل جیب میں ڈالتے ، سفید جوگر پر نیلی جینز اور سر پر سیاہ کیپ ، تیزی سے اس کی طرف قدم بڑھاتا ، معطر کی نظر اس کی شرٹ پر جم گئ

” خیریت تھی ؟”

وہ چونکی ، نظر اٹھا کر اس کی کیپ کو دیکھا جس پر جسٹس فار الارا کا ہیش ٹیگ تھا ،پھر اس کی شرٹ کو دیکھا

” تم مظاہرے میں شرکت کرنے جارہے ہو ؟”

ایرک نے بے ساختہ اپنی شرٹ کو دیکھا پھر معطر کو

” ہاں یہ حامد رئیسی والے کیس کا تمہیں علم ہوگا , اسی کے خلاف “

” حامد رئیسی کے خلاف ؟”

” ہاں ۔۔۔”

” اور تمہیں لگتا ہے میں یقین کرلوں گی ؟”

” کیا مطلب ؟”

ایرک نے نا سمجھی سے اسے دیکھا

” تم لندن میں مسلمانوں کے خلاف ہونے والے مظاہرے میں شرکت کرنے جارہے ہو نا ؟ خبردار جو جھوٹ بولا “

وہ جو کچھ کہنے لگا تھا معطر کی سخت آواز پر رکا ، چہرہ سپاٹ ہوا

” ہاں “

” تم ایسا کیسے کرسکتے ہو ایرک ؟”

اسے صدمہ ہوا

” ویسے ہی جیسے تم لوگوں کا وہ مسلمان حامد الارا کا قتل کرسکتا ہے “

” تم اس کا صرف نام بھی لے سکتے ہو “

” کیا تم اس کا مذہب اس سے علیحدہ کررہی ہو ؟”

” میں اس کے عمل کو اس کے مذہب سے علیحدہ کررہی ہوں ، اس کا عمل اس لئے نہیں تھا کہ وہ مسلمان ہے “

” وہ انسان کہلانے کے لائق بھی نہیں ہے ، جس لڑکی کو اس نے مارا ہے وہ اس سے محبت کا دعویٰ کرتا تھا ، جس کی زندگی اس نے ختم کی ہے وہ ایک سوشل ورکر تھی ، اسی اسلاموفوبیا کے خلاف لڑتی تھی جس اسلام کے ماننے والے نے اس کی زندگی چھین لی “

” اگر یہ کسی غیر مسلم نے کیا ہوتا پھر ؟”

” یہ کسی غیر مسلم نے نہیں کیا “

” اگر کیا ہوتا پھر ؟ جانتے ہو پھر کیا ہوتا ؟ تم لوگ اس طرح باہر نا نکلتے ، نا یہ مظاہرے کرتے ، نا اس کے مذہب کا نام اس کے ساتھ جوڑا جاتا “

” اگر معطر۔۔۔۔ اگر ایسا ہوتا ۔۔۔۔ لیکن ایسا نہیں ہے ، وہ مسلمان ہی ہے “

اس کے چہرے پر سختی ابھر رہی تھی ،معطر کا چہرہ پہلے ہی سخت تھا ، ان کی بحث پر اردگرد چند سٹوڈنٹ رک گئے تھے

” اس نے یہ اسلام کے نام پر نہیں کیا ، کب تک تم لوگ اس طرح مسلمانوں کو ٹارگٹ کروگے ؟ اور ویسے بھی ابھی تک یہ ثابت بھی نہیں ہوا کہ یہ سب اسی نے کیا ہے یا نہیں”

” سریسلی معطر ؟ ۔۔۔” وہ بے یقین ہوا …” ” تم ایک ریپسٹ کو ڈیفینڈ کررہی ہو ؟”

” ڈیفینڈ نہیں کررہی ، صرف یہ بتانے کی کوشش کررہی ہوں کہ اس کا عمل ہر مسلمان کا عمل نہیں ہے “

” لیکن الارا کا دکھ ہر برطانوی شہری کا دکھ ضرور ہے “

ایرک کے بالکل پیچھے سے رائن اور دو اور لڑکے سامنے آئے تھے ، ان میں سے جمی کو وہ جانتی تھی دوسرے کو اس نے پہلی بار دیکھا تھا ، ان تینوں کی چبھتی نظریں اسی پر تھیں

” اس کا دکھ مجھے بھی ہے “

” اگر ہوتا تو تم یہاں ٹھہر کر اس۔۔۔۔۔کی سائیڈ نا لے رہی ہوتیں “

اس کی زبان سے انتہائ نا زیبا گالی نکلی تھی ، معطر کا چہرہ سرخ ہوا ، ایرک نے رخ گھما کر تیسرے لڑکے کو گھورا

” زبان سنبھال کر بات کرو جارڈن “

” الفاظ سخت لگے ؟ یہ اس حامد کے عمل کے بارے میں کیا کہے گی ؟”

” تم لوگوں کو اس کا عمل نظر آرہا ہے باقی مسلمان نظر کیوں نہیں آرہے جن کو تم لوگ ذہنی اذیت دے رہے ہو ؟”

” ذہنی اذیت ؟”…. جارڈن ہنسا ” تم اس لڑکی کی اذیت سمجھ سکتی ہو ؟ جس کے پاس اس کی پوری زندگی تھی اور اسے تمہارے شدت پسند حامد نے جینے نہیں دیا “

” اس پر ابھی کچھ ثابت نہیں ہوا “

اس کا لہجہ کانپ گیا ، یکدم احساس ہوا وہ بھرے برطانیہ میں تنہا تھی ، سامنے چار لڑکے ٹھہرے تھے ، ایک جیسے لباس میں ایک جیسے زہن کے ساتھ ، ایک ہی احساس لئے ، نفرت ، وہی نفرت جو وہ ان کی آنکھوں میں اپنے لئے دیکھ سکتی تھی ، اس نے ایرک کی آنکھوں میں دیکھنے کی ضرورت نہیں سمجھی تھی وہ فلوقت اسے بھی ان کا ساتھی سمجھ رہی تھی

” اب تم اسے ڈیفینڈ کرو گی ؟”

پیچھے سے وہی لڑکا آگے کو ہوتا کچھ غصے اس کی طرف بڑھنے لگا جب ایرک رخ موڑتا اس کے سامنے آیا ، معطر کے بالکل سامنے ، وہ اس کے لمبے قد کے پیچھے چھپ گئ ، تنہا برطانیہ میں کوئ سایہ سامنے آیا ، سامنے تین لڑکے ٹھہرے تھے ، وہ انہیں دیکھ رہی تھی ، اس نے اب بھی ایرک کی آنکھوں کو نہیں دیکھا تھا ، وہی ایرک جو جارڈن کو سخت نظروں سے دیکھ رہا تھا

” یہ میرا اور معطر کا معاملہ ہے ، تم لوگ جاؤ یہاں سے “

” تم اب اس مسلم کی سائیڈ لوگے ؟”

جارڈن کا چہرہ غصے سے سرخ پڑا

” اس کا حامد کے عمل سے کوئ تعلق نہیں ہے”

” پھر باقی مسلمانوں کے خلاف کیوں مظاہرہ کرنے جارہے تھے ؟ تعلق تو ان کا بھی نہیں ہے “

لمحہ بھر کو وہ بالکل چپ رہ گیا ، پھر جیبوں میں ہاتھ ڈالے وہ چل کر دو قدم جارڈن کے سامنے آیا

” مجھ سے جواب طلب مت کرو جارڈن کیونکہ میں تمہیں جواب دہ نہیں ہوں “

” تم اس لڑکی کے لئے ہم سے لڑرہے ہو ؟”

” میں اس لڑکی کے لئے پوری دنیا سے لڑ سکتا ہوں “

اس کی آواز آہستہ لیکن سخت تھی ، وہ دور تھا تو معطر تک اس کی آواز نہیں پہنچی تھی

” اتنی ہمدردی کیوں چڑھ رہی ہے ؟ کیا ہو اگر کوئ اسے بھی الارا کی طرح۔۔۔۔”

” خبردار ۔۔۔۔” اس نے انگلی جارڈن کے سینے پر رکھی ، چہرہ سخت تر ہوگیا ، آواز بلند ” تم نے ایسا کچھ کہا تو میں تمہیں اس دنیا میں رہنے لائق نہیں چھوڑوں گا “

معطر نے کچھ چونک کر اسے دیکھا ، ابھی اس کے خلاف لڑ رہا تھا ، ابھی اس کے لئے لڑ رہا تھا ، عجیب شخص تھا

” ایرک۔۔۔۔” رائن یکدم ایرک اور جارڈن کے بیچ آیا ” پرسکون رہو ۔۔۔”

” اس سے کہو میرے منہ نا لگے ، بنا لحاظ کئے میں اس کا منہ توڑوں گا”

وہ جارڈن کو گھورتے معطر کی طرف گھوما ، نگاہوں میں اب غصہ تھا

” چلو میرے ساتھ “

وہ تیزی سے باہر کی طرف جارہا تھا ، معطر کچھ جھنجھلا کر اس کے پیچھے گئ ، تیز قدموں اور کچھ غصے سے لمبے لمبے قدم اٹھاتا وہ گیٹ کی طرف جارہا تھا

” تم آہستہ نہیں چل سکتے “

وہ اس کے پیچھے سے چلتے تڑخ کر گویا ہوئ ، ایرک جھٹکے سے رکا ، وہ بروقت نا رکتی تو یقیناً اس سے ٹکرا جاتی

” اور تم سوچ سمجھ کر نہیں بول سکتیں ؟”

” ایسا بھی کیا کہہ دیا ہے میں نے ؟”

” تمہیں اندازہ ہے اس وقت سب سٹوڈنٹس کس قدر غصے میں ہیں ؟ اور تم بیوقوف وہاں سب کے سامنے حامد کی سائیڈ لے کر آرہی ہو “

” مجھے بیوقوف مت کہو “

” ہاں اس کام پر تو تمہیں گارڈ آف آنر ملنا چاہئے نا “

وہ غصے میں تھا ، کیوں تھا وہ خود لاعلم تھا ، بس دماغ کھول رہا تھا

” طنز مت کرو ، میں صرف حق بات کہہ رہی ہوں ، ابھی ٹرائل ہونا باقی ہے اور صرف ایک مفروضے کی بنا پر تم لوگ اٹھ کر مسلمانوں کے خلاف ہوگئے ہو “

” تم پھر اس کی سائیڈ لے رہی ہو ؟”

” یا اللہ ۔۔۔۔ تم میرا دماغ خراب کررہے ہو ، یوں کرو جاؤ اپنے دوستوں کے ساتھ اور مسلمانوں کے خلاف مظاہرہ کرو ، یاد رکھنا ان میں میں بھی شامل ہوں “

وہ تپی ہوئ تھی ، ایرک کا غصہ ٹھنڈا ہوا

” میں تمہیں تو ان سب میں شامل نہیں کررہا “

” پھر باقی سب کو کیوں کررہے ہو ؟”

” باقی سب تمہارے جیسے تو نہیں ہیں “

” میرے جیسے ہی ہیں۔۔۔ سب مسلمان میرے جیسے ہی ہیں ، جو تم انہیں سمجھ رہے ہو وہی مجھے سمجھو “

” اچھا غصہ مت کرو “

” غصہ مت کرو ؟ تمہیں علم ہے برطانیہ میں سب مسلمان کس قدر تکلیف میں ہیں ؟ تمہیں احساس ہے ہم سب کیا کیا برداشت کررہے ہیں ؟ “

” تمہیں کسی نے کچھ کہا ہے ؟”

وہ چونکا

” تم یہ توقع رکھتے ہو کہ تم مسلمانوں کو ہراس کرو گے اور کوئ مجھے آ کر ہراس نہیں کرے گا ؟”

” تم ۔۔۔ تم ایسا کرو کچھ دن کے لئے جاب پہ مت جاؤ ، اسٹور کیفے ہر جگہ سے چھٹی کرلو “

” میں تم لوگوں کے ڈر سے خود کو قید نہیں رکھ سکتی ، ڈرتی نہیں ہوں کسی سے “

” بہادر بننے کی بھی ضرورت نہیں ہے ، فلوقت سب غصے میں ہیں ، کوئ کچھ کہہ دے گا “

وہ جھنجھلایا

” کہنے دو ، ہم مسلمانوں کو تو عادت ہے “

” معطر۔۔۔۔۔ “

” مر گئ معطر ۔۔۔۔”

اس نے وہاں کھڑے کھڑے چند گہرے سانس لئے ، کاٹ دار نظر ایرک پر ڈالی اور پیچھے مڑ گئ ، وہ اس کے پیچھے جانا چاہتا تھا لیکن باقی سب لندن جا رہے تھے ، باقی سب میں اس کے دوست بھی تھے ، وہ سر جھٹکتے ان کی طرف مڑ گیا ، ان دوستوں میں جارڈن نہیں تھا

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

شرٹ کا اوپری بٹن کھولتے اس نے ایک ہاتھ ریلنگ پر رکھ کر نیچے جھانکا ، سٹاف ، اردگرد بھاگتے لوگ اور وہ ان سب سے بے نیاز ساری توجہ کان پر لگے موبائل کی طرف کئے ہوئے تھا ، صبح یونیورسٹی پھر مظاہرے میں شرکت پھر جاب ، اور اب وہ واپس ہوسٹل جانے والا تھا ، تھکن بے زاری اور فرسٹریشن ، ان سب میں پورا دن دماغ میں وہی گھومتی رہی ، غصے سے گھورتی معطر صبا

” ہیلو “

” میرا خیال تھا تم اگلے سال کال اٹھاؤ گی “

” کس لئے کال کی ہے ؟”

ایرک نے رخ ریلنگ کی طرف سے موڑتے سامنے دیکھا ، شو ختم ہوچکا تھا اور وہ بد دماغ اینکر اب اپنا سامان سمیٹ رہا تھا

” ناراض ہو ؟”

” تم سے میں کیوں ناراض ہونے لگی ؟”

” مجھ سے تم پہلے بھی ناراض ہوچکی ہو “

” وہ خفگی تھی “

” یہ بھی خفگی ہے۔۔۔ کیا ہم سیاست کو ہمارے درمیان سے علیحدہ نہیں رکھ سکتے معطر ؟”

” تمہارے لئے سیاست ہوگی میرے لئے مذہب کا معاملہ ہے”

” میں نے اب ایسا بھی کچھ نہیں بولا تھا “

اسے دوسری طرف سے کچھ آوازیں آرہی تھیں ، یقینا وہ اسٹور سے واپس جارہی تھی

” میرے مذہب کے خلاف بات کرتے ہو اور پھر کہتے ہو ایسا بھی کچھ نہیں کہا تھا “

” میں نے تمہیں کچھ نہیں کہا تھا معطر ، میں نے تمہیں ان سب سے ہمیشہ علیحدہ ہی رکھا ہے “

دوسری طرف پل بھر کو خاموشی چھائ

” ہیلو ……؟”

” ہاں۔۔۔۔۔”

وہ چونکی تھی

” کیا ہوا ؟”

” کچھ نہیں ۔۔۔۔ , تم کیا کہہ رہے تھے ؟”

” میں تمہاری خفگی کا جواب دے رہا تھا “

” وہ خفگی بھی نہیں تھی ایرک اور اب میری بات سنو یہ آخری بات تھا جب میں نے تمہاری باتیں اسلام کے بارے میں برداشت کی ہیں ، آئندہ ایسا نہیں ہوگا “

” آئندہ کیا کرو گی تم ؟”

” میں وہ لڑکی ہوں ایرک جس نے اپنی عزت نفس کے لئے اپنے گھر والوں سے دور یہاں رہنا منظور کیا ، مجھے اپنے باپ کے لئے اپنے خاندان والوں کی ترس کھا کر دی گئ رقم لینا منظور نہیں تھا چاہے مجھے یوں غیر ملک میں مزدوری کیوں نا کرنی پڑے ، میں وہ لڑکی ہوں ایرک کہ جس انسان سے میں محبت کرتی تھی اس پر بھرے مجمعے میں لعنت بھیج کر آئ ہوں تم سوچو کہ اگر آئندہ تم میرے دین کے خلاف بولو گے تو میں تمہاری طرف دیکھنا بھی پسند نہیں کروں گی جبکہ تم میرے لئے کوئ معنی بھی نہیں رکھتے “

کسی نے اس کا دل دو ٹکڑے میں کاٹا ، وہ سب کہہ دیتی لیکن وہ آخری جملہ نا کہتی

” میں تمہارے لئے کوئ معنی نہیں رکھتا ؟”

” کم از کم جہاں بات میرے دین کی آجائے تو میں ہر کسی کو چھوڑنے کی ہمت رکھتی ہوں “

ایک لمحہ کو اس کی طرف پھر خاموشی چھائ ، شاید وہ رک گئ تھی ، ایرک نے آنکھیں بند کرتے کھولیں ، ٹوٹے دل کو جمع کیا

” پھر میں اسی لئے کہتا ہوں کہ تم لوگ شدت پسند ہو “

” اب تم پھر سے بات ۔۔۔”

وہ ایک بار پھر رک گئ ، ایرک ٹھٹکا

” تم بار بار رک کیوں جاتی ہو ؟”

” آ ۔۔۔۔ کچھ نہیں ، مجھے لگا شاید کوئ میرے پیچھے ہے “

وہ جھٹکے سے سیدھا ہوا

” کون ؟”

” پتا نہیں ۔۔۔ شاید کوئ تھا “

” تم کہاں پر ہو ؟”

” اسٹور سے گھر جارہی تھی ، شاید میرا وہم ہے “

” معطر لوکیشن بھیجو اپنی “

“میں نے کہا نا۔۔۔۔” اس بار خاموشی کا وقفہ طویل تھا ، ایرک اضطراری انداز میں لفٹ کی طرف بڑھا ، کچھ غلط تھا

” معطر۔۔۔۔۔”

وہ کچھ نہیں بول رہی تھی

” تم سن رہی ہو ؟”

” وہ میرا پیچھا کررہا ہے “

اس کا پورا وجود ساکت ہوا ، لفٹ میں داخل ہوتے اس نے جھٹکے سے بٹن دبایا ، لفٹ چلنے لگی

” تم پولیس کو کال کرو “

” میں نہیں جانتی ، کوئ ہیولہ ہے “

اس کی آواز کپکپائ

” معطر ، اپنی لوکیشن بھیجو مجھے فوراً”

لفٹ میں ادھر اُدھر چلتے وہ پریشان لگ رہا تھا ، گردن پر ہاتھ پھیرا

” میں۔۔۔ ٹھیک ہوں۔۔۔”

” میں نے کہا لوکیشن بھیجو ، تمہیں سمجھ نہیں آرہی ؟”

” لوکیشن ۔۔۔۔ میں “

اس کی آواز کٹ رہی تھی ، شاید وہ تیز چل رہی تھی ، شاید وہ بھاگ رہی تھی ، ایرک کے ماتھے کی رگیں ابھرنے لگیں

” معطر…”

” میں۔۔۔ اسٹیشن ۔۔۔۔”

آواز کٹ گئ ، دوسری جانب خاموشی تھی ، اسے کوئ آواز نہیں آرہی تھی ، لفٹ کا دروازہ کھل رہا تھا ، ایرک باہر نہیں نکلا

” معطر۔۔۔۔”

دوسری طرف خاموشی تھی

” معطر تم مجھے سن رہی ہو ؟”

اس کی آواز کانپ گئ ، بمشکل قدم لفٹ سے باہر نکالا ، سر گھوم رہا تھا اور اسی لمحے اسے کسی کی چیخ سنائ دی ، موبائل سے آتی معطر کی آواز اور فون بند ہوگیا

ایرک کیان کے وجود سے کسی نے روح کھنچ لی

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆