192.3K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Laa (Episode 15)

Laa By Fatima Noor

دوسری بار بیل بجنے پر اس نے دروازہ کھولا تو سامنے کھڑئ لوئ پورے دل سے مسکرائ

” ہیلو سنان برادر “

” ہیلو لوئ سسٹر “

” تم کیسے ہو ؟”

” جب صبح آفس جاتے ہوئے تم نے دیکھا تھا ویسا ہی ہوں “

” یعنی تم اچھے ہو “

” اور اس اچھے شخص سے تمہیں کیا کام ہے ؟”

وہ دروازہ کھلا چھوڑتا اندر آیا ، سادہ سا اپارٹمنٹ جہاں بس نام کا فرنیچر تھا ، اس کے اپارٹمنٹ کو دیکھ کر صاف لگتا تھا کہ وہ سادگی لیکن سلیقہ پسند تھا

” اس اچھے شخص سے مجھے کافی چاہئے ، کیا تمہارے پاس ہے ؟”

” تم جانتی ہوں میں کافی نہیں پیتا “

” میں جانتی ہوں لیکن میں یہ بھی جانتی ہوں کہ تمہارے کچن کی سائیڈ کیبنٹ جہاں چپس اور چاکلیٹ پڑے ہیں وہاں کافی بھی پڑی ہے جو یقیناً تم نے یہ سوچ کر لی ہوگی کہ ممکن ہے کبھی ضرورت پڑ جائے ، وہ ضرورت پڑ چکی ہے “

چائے کے لئے کپ رکھتے سنان نے بنا کچھ کہے کیبنٹ کھولی اندر سے چپس نکالی اور کھول کر اس کے سامنے رکھی

” شکریہ ۔۔۔۔ “

وہ اسی خاموشی سے چائے تک واپس گیا ، نیلی جینز پر اس نے سادہ سی سفید ٹی شرٹ پہن رکھی تھی ،بال گیلے تھے

” تم یہ اپنے گھر جا کر بھی کھا سکتی ہو “

وہ اس کی شڑ شڑ کو دیکھتا بولا

” مجھے کافی لینی ہے تم سے ۔۔۔ وہ لے کر گھر جاؤں گی “

” وہ ایکسپائرڈ ہے “

” اوہ ۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے میں چپس کھانے کے بعد ممی کو جا کر یہ بات بتا دوں گی “

سنان نے سر ہلاتے کپ میں چائے ڈالی

” تمہاری معطر کیسی ہے ؟”

اس کا سر بے ساختہ اٹھا

” میری معطر ؟”

” میں دوست کہنا بھول گئ ، تمہاری دوست معطر “

” وہ میری دوست نہیں ہے ، اور وہ ٹھیک ہے “

” اگر دوست نہیں ہے تو کیا ہے ؟”

وہ مسلسل چپس چبا رہی تھی

” پتا نہیں کیا ہے “

چائے کا کپ لیتے وہ صوفے پر آ کر بیٹھا ، لیپ ٹاپ ، فائلز ، ڈائری ، بسکٹس ، وہ گویا مصروف تھا

” تم اسے پسند کرتے ہو نا ؟”

اس کا لیپ ٹاپ کھولتا ہاتھ ایک بار کو تھم گیا پھر نظریں اٹھا کر لوئ کو گھورا

” چھوٹے بچے ایسی باتیں نہیں کرتے “

” میں دو دن پہلے دس سال کی ہوئ ہوں “

” دس سال بعد جب بیس کی ہو جاؤ گی تب یہ سوال پوچھنا “

” تب تک تم پاکستان جا چکے ہوگے “

” کال کرکے پوچھ لینا ۔۔۔۔۔”

اس نے فائل کھول لی ، کپ ہونٹوں سے لگایا ، ایک جگہ فائل پر نظریں جمائے چند لمحے وہاں دیکھتا رہا پیچھے سے لوئ کی شڑ شڑ اب بھی جاری تھی

” تمہیں ایسا کیوں لگا کہ میں اسے پسند کرتا ہوں ؟”

وہ فائل کو دیکھتا آہستہ سے بولا تھا ، گول چیئر پر بیٹھی لوئ نے کرسی گھمائ

” تم معطر کی فکر کرتے ہو ، تم اس سے مل کر آؤ تو تمہارے چہرے سے پتا چل جاتا ہے اور تم اس کا نام سن کر مسکراتے ہو “

وہ جو مسکرانے لگا تھا فوراً سے مسکراہٹ سمیٹی

” ضروری تو نہیں یہ اس لئے ہو کہ میں اسے پسند کرتا ہوں ؟ “

” پچھلے چند دنوں میں تم کئ بار مجھے سکول چھوڑنے گئے ہو حالانکہ تم مجھ سے تنگ تھے ، کیا تمہیں لگتا ہے میں نہیں سمجھتی کہ تم وہاں کیوں جاتے ہو ؟”

اس کے لبوں کے کنارے ہلکے سے مسکرائے ، فائل واپس رکھتے لوئ کو دیکھا

” یہ تمہاری رائے ہے ۔۔۔۔ اور میں اس سے متفق ہوں یہ ضروری تو نہیں”

” تو پھر انکار کردو “

” میں متفق نا ہوں یہ بھی ضروری نہیں “

” یعنی میں صحیح سوچ رہی ہوں “

” فرض کرو۔۔۔۔ ” وہ گلا کھنکارتا آگے کو ہوا ” اگر ایسا ہے ، صرف فرض کرو ، تو مجھے کیا کرنا چاہئے ؟”

” اسے بتادو …”

لوئ نے کاندھے اچکائے

” وہ مجھے ایک تھپڑ ماردے گی “

” پھر نا بتاؤ “

” یعنی میں ساری عمر اکیلا چائے پیتا رہوں “

وہ بدمزہ سا کہتا پیچھے کو ہوا

” تم تو کہہ رہے تھے فرض کرو ۔۔۔ کیا تم سچ میں اسے پسند کرتے ہو ؟”

” تم سب قیاس لگاتے رہو “

سنان نے خفگی سے رخ موڑ لیا ، مورے بھی کل پوچھ رہی تھیں کہ کسی کو پسند تو نہیں کرلیا جو واپس نہیں آرہے ، پریزے تو صاف صاف کہہ رہی تھی وہ معطر کو پسند کرتا ہے اور اب لوئ ، یعنی پوری دنیا کو علم تھا سوائے اس کے جسے ہونا چاہئے تھا ، سوائے معطر صبا کے

” ویسے میں تمہاری مدد کرسکتی ہوں “

” کیا مدد کروگی ؟”

” میں رضاکارانہ طور پر کوئ بھی مدد کرسکتی ہوں ، تم بتاؤ بس “

” رضاکارانہ طور پر ؟”

” یقیناً ۔۔۔ بدلے میں نا کوئ چپس نا کوئ چاکلیٹ “

” مجھے یقین کیوں نہیں آرہا ؟”

کھلے دروازے سے کوئ لوئ کو پکارتا اندر داخل ہوا تھا

” یہاں کیا کررہی ہو تم ؟”

اندر داخل ہوتے مسز ڈیزی نے لوئ کو گھرکا تو وہ جھٹ گول کرسی سے اتری

” میں سنان کے اپارٹمنٹ کے سامنے سے گزر رہی تھی تو اس نے کہا کہ اس کے پاس چپس پڑے ہیں جو ایکسپائر ہونے والے ہیں اگر میں وہ کھانا چاہتی ہوں تو کھا سکتی ہوں ، میں اس کا نقصان کیسے ہونے دیتی ممی ؟ وہ ہمارا پڑوسی ہے “

سنان اسے دیکھ کر رہ گیا

” ہاں۔۔۔ جس لمحے تم گزر رہی تھیں اسی لمحے اسے اپارٹمنٹ کا دروازہ کھولنے کا خیال آیا نا ؟”

” آپ کو لگ رہا ہے میں یہاں خود آئ ہوں؟”

” مجھے یقین ہے ،گھر چلو اور ہوم ورک کرو اپنا ،۔۔۔” اسے گھرکتے وہ سنان کی طرف متوجہ ہوئیں ” آئ ایم سوری یہ تمہیں بہت تنگ کردیتی ہے “

” اٹس اوکے مسز ڈیزی “

وہ نرمی سے مسکرایا تو وہ لوئ کا ہاتھ تھامتی آگے بڑھیں

” ممی ، مجھے چپس تو لینے دیں ، وہ ضائع ہو جائیں گے “

ہاتھ چھڑاتی وہ فوراً کچن کاؤنٹر تک گئ ، چپس اٹھائ اور دروازے میں ٹھہری مسز ڈیزی کی طرف بڑھ گئ ، سنان نے سر جھکٹتے فائل آگے کی لیکن زہن منتشر ہوگیا تھا

کیا وہ معطر کو بتا دے ؟ مگر کیسے ؟

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

قدرے جلدی میں دروازہ کھولتے اس نے” کون ؟” پوچھنے کے لئے منہ کھولا ہی تھا جب ” کون ” پر نظر گئ ، منہ بند ہوگیا ، آنکھوں میں پہلے حیرت ابھری پھر بے یقینی

” سلام علیکم ، کییسا لگ را اوں ؟”

وہ پشت پر ہاتھ باندھے ٹوٹی پھوٹی اردو میں پوچھ رہا تھا، سفید شلوار قمیص پہنے سامنے کھڑا ایرک ، سیاہ شلوار قمیص پہنے معطر یک ٹک اسے دیکھ رہی تھی ، اس نے کچھ جھینپنے کی اداکاری کی

” جانتا ہوں ہینڈسم لگ رہا ہوں ، نظر مت لگائو بلکہ نظر اتارو “

جسے نظر اتارنے کا کہا گیا تھا اس نے نظریں سر تا پیر گھما کر اسے دیکھا ، پھر صحن میں اس کا فلک شگاف قہقہہ گونجا ، جس نے نظر اتارنے کا کہا تھا اس کی آنکھوں میں حیرانی ابھری پھر خفگی

” ہنس کیوں رہی ہو ؟”

سوال کرنے والے نے دنیا جہاں کی خفگی لہجے میں بسائ ، جواب دینے والی پیٹ پر ہاتھ رکھے ابھی تک ہنس رہی تھی

” ایرک۔۔۔۔ اوہ ایرک”

اس کا چہرہ سرخ ہورہا تھا ، پھر اس نے منہ پر ہاتھ رکھ کر سامنے دیکھا ، وہ ہنوز خفگی سے اسے دیکھ رہا تھا ، وہ ہنوز ہنس رہی تھی

” یہ ۔۔۔۔ اللّٰہ میرے “

اس کی ہنس نہیں رک رہی تھی ، عرصے بعد وہ یوں ہنسی تھی ، اماں ہوتیں تو صدقہ اتارتیں ، بابا ہوتے تو دعائیں دیتے

” میں جارہا ہوں “

جس پر ہنسا جارہا تھا اسے برا لگ گیا ، جو ہنس رہی تھی وہ ہنسی روکتی جھٹ سے اس کے سامنے آئ

” آئے کیوں تھے ؟”

” میں جواب نہیں دوں گا “

” میرا ہنسنا برا لگا ؟”

وہ پھر سے ہنسنا چاہتی تھی ، ایرک نے رک کر اسے دیکھا ، اسے احساس ہوا ، اس کا ہنسنا برا نہیں لگا تھا

” مجھ پر ہنسنا برا لگا “

” تم نے یہ کیوں پہنا ہے ؟”

اس کا دل کیا وہ پھر سے ہنسے ، مگر ایرک کے تاثرات

” تمہیں دکھانے کو ۔۔۔”

اسے دکھانے کو ؟ ہنسی غائب ہوئ ،چہرہ سنجیدہ ہوگیا

” مجھے کیوں دکھانا تھا ؟”

” پوچھنا تھا میں پاکستانی لباس میں کیسا لگتا ہوں “

” مضحکہ خیز لگتے ہو “

” تم اپنے ملک کے لباس کی توہین کررہی ہو “

“درستگی کرو ، میں تمہاری توہین کررہی ہوں “

” میں اس توہین پر ناراض ہوتا ہوں “

” میں اس ناراضگی پر معذرت کرتی ہوں “

” معذرت قبول کی “

وہ کھلے دل سے مسکرا دیا ، وہ مشکوک ہوئ

” اب ؟”

” اب کیا ؟”

” جائو یہاں سے “

ابرو سے باہر کی طرف اشارہ کیا

” میں جانے کے لئے نہیں آیا “

” پھر کس لئے آئے ہو ؟”

” میں پاکستانی لباس میں پاکستانی کھانا کھانے آیا ہوں “

” ہم نے کھانا نہیں بنایا ، ہم آج رات بھوکے سوئیں گے “

” میں چائے بھی پی سکتا ہوں “

” میں تمہیں کچھ نہیں پلانا چاہتی ، براہ مہربانی جائو یہاں سے “

وہ پیچھے گئ ، وہ اس سے پہلے کھلے دروازے سے اندر پہنچا ، معطر کا منہ کھلا

” تمہیں اخلاقیات سیکھنی چاہئے “

” میں بد اخلاق کہلائے جانے پر راضی ہوں “

وہ تلملاتی اندر آئ ، وہ صوفے پر بیٹھی بانو آپا کو اسی ٹوٹی اردو میں سلام کررہا تھا ، وہ کچھ حیران ہوئیں

” تم بد اخلاق ہونے کے ساتھ ساتھ بدتمیز بھی ہو “

” تصحیح کرو ، میں بدتمیز ، بے شرم ، بد تہذیب ، بد اخلاق ، بد لحاظ بھی ہوں ، تم اس کے علاوہ بھی سارے بد ساتھ لگا لو “

وہ اپنی ازلی ڈھٹائ کے ساتھ صوفے پر بیٹھ چکا تھا

” معطر ۔۔۔۔”

بانو آپا نے اسے گھورا تو وہ ایرک کو خفگی سے دیکھتی صوفے پر بیٹھی ، اس کے پاؤں کی موچ بہتر تھی لیکن پھر بھی درد تھا

” تم کیسے آئے ہو ایرک ؟”

وہ اب ایرک سے پوچھ رہی تھیں ، معطر کی نظر دوبارہ اس پر گئ ، اس کا دل دوبارہ ہنسنے کو چاہا ، مسئلہ یہ نہیں تھا کہ اس نے شلوار قمیص پہنی ہوئ تھی ،مسئلہ یہ تھا کہ جو شلوار قمیص اس نے پہنی ہوئ تھی وہ اسے بہت زیادہ کھلی تھی ، لمبی قمیص اور بہت کھلے بازوں جو اس نے فولڈ کرکے جما رکھے تھے پھر بھی لٹک رہے تھے

” معطر ہوتی تو میں کہتا کہ اس کی یاداشت کمزور ہے ، آپ ہیں تو میں کہوں گا کہ آپ کام کی وجہ سے بھول گئ ہوں گی ، کیا آپ کو یاد نہیں کل آپ نے مجھے دعوت دی تھی ؟”

” پاکستان میں گھر آؤ کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ واقعی گھر کے اندر آجاؤ ۔۔۔۔ یہ صرف مروت میں کہا جاتا ہے”

ایرک نے بانو آپا پر سے نظریں ہٹا کر اسے دیکھا

” میں مروت میں کہی گئ باتیں بھی سریس لے لیتا ہوں “

” میں نے واقعی دل سے کہا تھا “

بانو آپا نے معطر کو گھورا تو وہ بدمزہ ہوتی پیچھے کو ہوئ

” میں نے بھی دل سے ہی قبول کیا تھا ، اس لئے تو یہاں ہوں “

وہ مسکرا رہا تھا ، وہ مشکوک ہورہی تھی ، ایک دو بار بانو آپا کو بھی دیکھا ، جو انگریزوں کی برائیاں کرتے نہیں تھکتی تھیں وہ ایک انگریز کو سامنے بٹھائے بیٹھی تھیں

” معطر ۔۔۔ جا کر کھانا لگاؤ “

” یہ پاکستانی کھانا کھا لے گا ؟”

” کھانا صرف کھانا ہوتا ہے ۔۔۔۔ اس کا کوئ مذہب ، ملک یا ذات نہیں ہوتی “

” اس کا ذائقہ ضرور ہوتا ہے ، تم مصالحوں والا کھانا کھا لو گے ؟”

” میں کھا لوں گا ، تم اگر مجھے صرف اس پانی پر ٹرخانا چاہتی ہو جو تم نے مجھے ابھی تک نہیں دیا تو تم غلط فہمی کا شکار ہو “

وہ منہ بناتی اٹھی ، قدم کچھ آہستہ رکھے کہ پاؤں کی موچ زیادہ تو نہیں تھی لیکن پھر بھی تھی

” تم نے ڈاکٹر کو چیک نہیں کروایا ؟”

وہ اس کے پاؤں کو دیکھ رہا تھا ، بانو آپا نے رخ موڑ کر معطر کو دیکھا پھر ایرک کو ، پھر معطر کو

” اتنی چوٹ بھی نہیں تھی “

” تم ایک لاپرواہ لڑکی ہو “

سر افسوس سے ہلاتے تبصرہ کیا ، وہ بنا غور کئے کچن کی طرف گئ ، سالن گرم کیا ، روٹیاں پکا رکھی تھیں انہیں دوبارہ گرم کیا ، ٹیبل پر لگایا ، گلاس رکھے اور وہیں کھڑے کھڑے ان دونوں کو آواز دی ، ایرک تب تک بانو آپا کو متاثر کرنے کی پوری کوشش کررہا تھا

” تم بہت بولتے ہو ایرک ، اگر اچھا نا بولتے تو میں تم سے تنگ آ جاتی “

وہ اس کے کسی قصے پر ہنس رہی تھیں ، معطر رک کر انہیں دیکھے گئ ، عرصے بعد وہ ہنسی تھیں ، عرصے بعد وہ خود ہنسی تھی ، ایرک کے بارے میں رائے تھوڑی سی دوبارہ تبدیل ہوئ ، اتنا برا بھی نہیں تھا

” معلوم نہیں یہ کیا تھا لیکن میں نے تعریف ہی مراد لی ہے”

وہ بانو آپا کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ رہس تھا ،معطر خاموشی سے اس کے سامنے بیٹھ گئ

” تعریف ہی تھی “

اس نے مسکراتے ہوئے ایک نوالہ لیا ، منہ میں رکھا ، چبایا ، معطر کو دیکھا پھر بانو آپا کو

” کیسا لگا۔۔۔۔۔؟”

وہ تھوڑی تلے ہاتھوں کی مٹھی رکھے اسے دلچسپی دیکھ رہی تھی

” یہ ۔۔۔۔ اہمم۔۔۔اچھا ہے ۔۔۔”

نوالہ چباتے وہ بہت کوشش سے مسکرایا ، معطر نے مسکراہٹ دبائ

” اور لو نا۔۔۔۔”

آگے ہوتے اس کی پلیٹ میں گوشت کا سالن ڈالا ، ایرک نے سر ہلایا پھر پانی کا گلاس اٹھا کر لبوں سے لگایا

” میں آپ سے ایک اجازت لینے آیا تھا “

وہ اب بانو آپا سے مخاطب تھا

” کیسی اجازت ؟”

” دراصل ۔۔۔۔” گلا کھنکارا ” کل رات ہماری یونیورسٹی کی طرف سے کلچرل ایونٹ منعقد کیا جارہا ہے ، میں دو دن پہلے پاکستان پر ڈاکیومنٹری بنا چکا ہوں تو مجھے پاکستانی کلچر کو ریپریزنٹ کرنا ہوگا ، ایک طرح سے فنکشن ہے ، تو ۔۔۔” محتاط نظروں سے دونوں کو دیکھا ” آپ معطر کو میرے ساتھ جانے کی اجازت دے سکتی ہیں ؟، مجھے ایک خاتون کی ضرورت ہے پاکستانی لباس اور ثقافت کو دکھانے کے لئے، اور میں صرف معطر کو جانتا ہوں “

لمحہ بھر کو بانو آپا چپ رہ گئیں ، معطر نے گھور کر اسے دیکھا ، صرف معطر کو ؟ اس کی یونیورسٹی میں کئ پاکستانی لڑکیاں تھیں ، جھوٹا انسان

ایرک اسے نظر انداز کرتا ڈھٹائ سے بانو آپا کو دیکھ رہا تھا

” کتنے بجے ہے ایونٹ ؟”

” نو سے بارہ ۔۔۔۔ “

” دیر ہوجائے گی”

وہ متذبذب تھیں

” میں ذمہ داری لیتا ہوں ، لینے اور چھوڑنے کا کام میرا ہوگا “

” میں نے ہاں کب کی ؟”

ایرک نے رخ اس کی طرف موڑا

” دو دن پہلے ٹیوب پر سفر کرتے ہوئے جب تم نے مجھ سے ایک کام کہا تھا تو جوابا تم نے میری مدد کی حامی بھری تھی۔۔۔ کیا تم بھول گئیں ؟”

” کون سا کام ؟”

اس کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا ، سر نفی میں ہلاتے ایرک کو دیکھا جو بانو آپا کے سوال پر ان کی طرف متوجہ ہوا تھا

” ایکچولی۔۔۔۔ تیم۔۔”

” ٹھیک ہے۔۔۔ میں تیار ہوں “

اس کی زبان مزید کھلتی وہ تیزی سے بولی ، ساتھ دو سو بار خود کو کوسا ، پورے برطانیہ میں یہی ملا تھا کام کے لیے ؟ ، جو رائے بدلی تھی وہ دوبارہ بدل گئ ، وہ اس کی سوچ سے زیادہ برا تھا

اس نے ہنہہ کرتے پلیٹ آگے کی ، اور پھر وہ کہتا تھا کہ وہ اس کے بارے میں اپنی رائے بدل کیوں نہیں لیتی ؟ کارنامے دیکھے تھے اس نے اپنے ؟

” تم کیا کہہ رہے تھے ؟”

بانو آپا نے جیسے ان دونوں کی بحث نظر انداز کی تھی

” ایک لڑکا ہے جو معطر کو تنگ کررہا تھا ، اسی کو سمجھایا تھا میں نے اپنی زبان میں “

” کون لڑکا ؟ تم نے بتایا نہیں مجھے ؟ کس کی ہمت ہوئ تمہیں تنگ کرنے کی ؟”

” ریلیکس آپا ۔۔۔۔۔۔” آپا ؟ معطر نے بھنوویں سکیڑیں ” وہ اب معطر کے آس پاس بھی نظر آیا تو میں برطانیہ میں اسے رہنے کے قابل نہیں چھوڑوں گا “

اس کا دل کیا سالن کا پورا باؤل اٹھا کر ایرک کے سر پر دے مارے لیکن ضبط سے مسکراتے بانو آپا کو دیکھا

” زیادہ تنگ نہیں کیا ، ایرک نے سنبھال لیا تھا “

” اوہ اچھا۔۔۔۔۔”

” پھر میں ہاں سمجھوں ؟”

” معطر کی مرضی ہے وہ جانا چاہتی ہے تو میری طرف سے اجازت ہے لیکن ۔۔۔۔” چہرے پر سختی لئے ایرک کو دیکھا ” اسے صحیح سلامت اسٹیشن سے لے کر اور چھوڑ کر جانے کی زمہ داری تمہاری ہوگی “

وہ جھنجھلائ ، یہ انسان زمہ داری اٹھانے کے قابل تھا ؟ وہ اتنی بھی کوئ کمزور نہیں تھی جو اکیلے سفر نا کر پاتی ، اور بانو آپا ؟ کہاں مرد کو ناقابلِ بھروسہ کہنے والی ، سنان پر اعتراض کرنے والی اس آدمی پر بھروسہ کررہی تھیں ، پتا نہیں ایرک کیان اتنی چرب زبانی کہاں سے سیکھ لایا تھا ؟ پتا نہیں اسے لوگوں کو قائل کرنا کیسے آتا تھا ؟

” آپ بے فکر رہیں ، میں خود لے جاؤں گا اسے اور چھوڑ بھی جاؤں گا “

پھر وہ کچھ دیر وہاں بیٹھا رہا ، پتا نہیں کون کون سے افسانے بانو آپا اور وہ مل کر چھیڑ بیٹھے تھے ، وہ برتن دھوتی ، سارا سامان سمیٹتی لاؤنج میں آئ تو وہ اٹھ رہا تھا

” کھا لیا پاکستانی کھانا ؟”

وہ اسے باہر چھوڑنے آئ تو مسکراہٹ دباتے اسے دیکھا

” آج کے کھانے کے بعد میں سمجھ گیا ، اسی لئے تم لوگوں کی زبانیں اتنی تیز ہیں “

” اور تم لوگ کیا کھاتے ہو جو تم لوگوں کی زبانیں اتنی تیز ہیں ؟”

” کم ازکم پوری دنیا کے مصالحے ایک ہی ڈش میں نہیں ڈال دیتے “

” مشرقی کھانوں کی توہین مت کرو “

” مشرقی عورت مجھے دھمکی دے رہی ہے ؟”

” میں عمل بھی کرسکتی ہوں “

” احتیاط کرو ، میرے پاس تمہارا راز ہے “

” تم مجھے بلیک میل کروگے اب ایرک ؟ “

اس کی آنکھوں میں صدمہ اترا ، ایرک چند لمحے کو اسے دیکھتا رہا پھر وہ سر جھٹکتے بہت ہلکا سا مسکرایا، پھر سر اٹھا کر معطر کو دیکھا

” تم کل آجاؤ گی نا ؟ “

” میں زبان سے پھر جایا کرتی ہوں لیکن احسان سے نہیں ، تمہارا احسان نا ہوتا تو فوراً گھر سے باہر نکالتی میں تمہیں “

” میں یہیں سے پک کرلوں گا تمہیں “

” اسٹیشن پر آ جانا اور یہ لباس درست کرکے آنا اپنا ، اس طرح تم مشرقی مرد کم مشرقی غنڈے زیادہ لگتے ہو “

” دوست سے لیا تھا “

اس نے ناک سے مکھی اڑائ

” تمہارے دوست اتنے ہیلدی ہیں ؟”

” میرے دوست کمزور بھی ہیں ، تمہارا وزن کتنا ہوگا ؟”

” تمہارے دماغ سے زیادہ ہی ہوگا “

وہ تپی ، پتا نہیں یہ انسان تھا کیا ؟ زہن یوں گھمادیتا تھا کہ اس کا دل چاہتا کہ گردن تو مروڑ ہی دے ایرک کی ، ایک سنان تھا کتنا دھیما بولتا تھا ، نا غصہ آتا نا برا لگتا

” تم سنان سے بات کیوں نہیں کرتے ؟”

اسے کوئ خیال سا آیا تھا

” سنان سے کیا بات کروں ؟”

اس وقت سنان کا زکر وہ بدترین شے تھی جو وہ سننا چاہتا تھا ، موڈ بگڑا

” وہ مشرقی مرد کی شخصیت پر بالکل پورا اترتا ہے ، اس سے کہو وہ آجائے “

” یعنی تم چاہتی ہو کہ تمہارا اس کے ساتھ کپل بنے ؟”

” لا حول ولا قوہ الا باللہ ۔۔۔۔ کس قدر بکواس سوچ ہے تمہاری “

” یہ سوچ واقعی بکواس ہے ، میرے ساتھ کیا مسئلہ ہے تمہیں ؟”

اس کی آنکھوں میں خفگی ابھری ، وہ صرف خفگی نہیں تھی

” بہت سے ہیں ۔۔۔۔ گنواؤں ؟”

” کل کیا مسئلہ ہے ؟ “

” تم کہاں سے مشرقی مرد لگتے ہو ؟ سنان ہوتا تو اچھا رہتا ، اور یہ کپل کس کا کہہ رہے ہو میں تمہاری بہن بن کر جاؤں گی وہاں پر “

اور بس اس کے سر پر لگی تلوؤں پر بجھی ۔۔۔۔ بہن ؟؟

” اس سے بہتر ہے نا جاؤ تم ، میری اس دنیا میں صرف ایک بہن ہے اور میں اس کے علاوہ کسی کو بہن بنانے پر راضی نہیں ہوں “

” غصہ کیوں ہورہے ہو ؟ “

وہ خائف ہوئ

” اور کیا کروں ؟ سنان کا یہاں کیا زکر بنتا ہے ؟ ڈاکیومنٹری میری ہے ، کلچرل ایونٹ بھی میری یونیورسٹی کا ہے ، اس سب میں سنان کیوں آرہا ہے بیچ میں ؟”

” ویسے ہی کہہ دیا ۔۔۔۔ اور لہجہ درست کرو اپنا ، تمیز سے بات کرو مجھ سے ورنہ کل نہیں آرہی میں “

” تمیز میری وہ محبوبہ ہے جس سے میں سالوں پہلے بریک اپ کرچکا ہوں “

وہ تپا ہوا تھا

“تمہارا یہی رویہ رہا تو میں منع کردوں گی “

وہ تڑخ کر گویا ہوئ ، ایک تو احسان کررہی تھی اوپر سے نخرے دکھا رہا تھا

” تم منع کرو میں اس بار واقعی پورا ازلنگٹن لے آؤں گا ۔۔۔۔ “

” تمہارے پورے ازلنگٹن کو میں دیکھوں بھی نا “

غصے سے کہتے اس نے کھڑاک سے دروازہ اس کے منہ پر بند کیا ، ایرک نے ضبط سے آنکھیں بند کیں پھر خود کو پرسکون کرتے آنکھیں کھولیں ، دروازہ کھٹکٹانے کا سوچا لیکن پھر اسے یاد آیا دروازے کے بالکل ساتھ ایک گملا پڑا تھا ، وہ اس کے سر پر لگتا تو اس کا بچنا مشکل تھا ، سر جھٹکتے وہ واپسی کی طرف بڑھ گیا ،ماتھے پر بل تھے

سنان کے زکر پر پتا نہیں کیوں اسے غصہ چڑھ جاتا تھا

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

اینجل اسٹیشن پر روٹ کے بالکل سامنے ٹکٹ کاؤنٹر کی دیوار کے ساتھ وہ ٹھہرا تھا ،جس نے سرمئ شلوار قمیض پہن رکھی تھی ، گلے میں سیاہ مفلر تھا ، سیاہ کوٹ بازوں پر تھا ، بھورے بال پیچھے کو جمے تھے ، نیلی آنکھیں موبائل پر تھیں ، وہ جس کی سیٹی کی دھن اسٹیشن پر گونجتی تھی ، وہ جو یوں مشرقی لباس پہنے مشرق میں جاتا تو لاہور کے پرانے گلیوں کے چوباروں میں عورتیں نکل کر اسے دیکھتیں، انار کلی بازار میں چوڑیاں پہنتی لڑکیاں مغرب سے آنے والے برطانوی شہزادے کو دیکھتیں اور سوچتیں یہ مشرقی لباس میں دھڑکنیں روکتا شخص کون ہے ؟ ، وہ جب بے نیازی سے چلتا تو اس کی بے نیازی پر آہیں بھری جاتیں ، وہ جب آنکھیں گھماتا تو دنیا ان آنکھوں کے گرد گھوم جاتی

وہ جس کی آنکھیں فلوقت اٹھ کر روٹ کی سمت جاتیں جہاں سے ٹیوب نے آنا تھا ، چند لمحے سرکے ، اس کے لبوں پہ موجود سیٹی تبدیل ہوئ ، سامنے پڑے روٹ پر ٹیوب کی آواز ابھری اور ٹیو رکی ، دروازے کھلے وہ اسی طرح دیوار سے لگ کر ٹھہرا سامنے ٹیوب کو دیکھتا رہا ، لوگ اترتے بکھرتے گئے لیکن معطر نیچے نا اتری ، اس نے ایک بار گھڑی کو بھی دیکھا

یہ لڑکی نا آئ تو ؟

وہ مشرقی لڑکی نا آئ تو وہ مشرقی لگتا مغربی مرد اس بار واقعی پورا ازلنگٹن اس کے خلاف اکٹھا کرلیتا ، اس کے ابرو سکڑے ، چہرے پر دبا دبا غصہ ابھرا ، پھر موبائل کو دیکھا

” اپنی نظر اتار لو ،کیونکہ تم اب خطرے میں پڑنے والی ہو “

ٹائپ کیا گیا میسج بھیجنے سے پہلے سامنے سے کھنک ابھری ، چوڑیوں کا ساز ، اس کا سر اٹھا ،پھر نظریں سامنے جمیں ، گول گھومنے والی آنکھیں ایک ہی مقام پر رک گئیں ، جس دنیا کو اس کی آنکھیں گھمانے پر رکنا تھا وہ اس کی آنکھوں کے ساتھ رک گئ ، آنکھوں کا اور پوری دنیا کا محور ایک شخص ہوا

مشرقی لڑکی ۔۔۔۔۔ معطر صبا

وہ سامنے سے آرہی تھی ، سرخ رنگ کا لباس پہنے ، گوٹے کناری والا دوپٹہ گردن میں تھا یوں کہ پیچھے کی طرف اس کی دونوں سائیڈ لٹک رہی تھیں ، گھٹنوں تک آتی قمیص نیچے سادہ سی شلوار ، چہرے پر ہلکا سا میک اپ اور کانوں میں پہنی بالیاں، چوڑیوں کے علاوہ واحد زیور جو وہاں نظر آتا تھا ، بیگ کاندھے پر لٹکائے ایک ہاتھ میں کوٹ تھامے مشرقی لڑکی مغربی مرد کی طرف آرہی تھی ، جس کی آنکھیں اسی ایک مقام پر جمی ہوئی تھیں ، جمی ہوئ آنکھوں میں کچھ اور بھی تھا ، گلے میں گلٹی سی ابھرتی تھی

” چلیں ؟”

اس کے پاس آتے پوچھا تو وہ چونکا ، چند لمحے لگے واپس دنیا میں آنے کو ، رک چکی دنیا چلنے لگی ، رک چکا دل دھڑکنے لگا ، وہ ہاتھ اٹھائے دوپٹہ جوڑ رہی تھی ، چوڑیوں کا ساز بج رہا تھا ، ایرک کیان کو بھول گیا وہ کیا ساز گنگنا رہا تھا ، ہر ساز اس کی چوڑیوں کی آواز میں گم ہو گیا

” ایرک ۔۔۔۔”

اس کے سامنے چٹکی بجائ ، وہ ہوش میں آیا ، نظر موبائل پر گئ

” اپنی نظر اتار لو ،کیونکہ تم اب خطرے میں پڑنے والی ہو “

نظر اٹھا کر اسے دیکھا

” اسے واقعی نظر اتارنی چاہئے لیکن خطرہ اب مجھے ہے “

گہری سانس لیتے سر جھٹکا پھر موبائل جیب میں ڈالتے کوٹ پیچھے کی طرف کاندھے پر رکھا

” کتنی دیر لگے گی پہنچنے میں ؟”

” واکنگ ڈسٹینس پر ہے ، پانچ منٹ لگیں گے”

معطر نے سر ہلادیا پھر غور اسے دیکھا

” کس کا سوٹ پہنا ہے آج ؟”

” خود بنوایا ہے ، ۔۔۔” وہ رکا ” کیسا لگ رہا ہوں ؟”

” اچھے لگ رہے ہو “

” سنان سے بھی زیادہ ؟”

وہ نہیں جانتا تھا اس نے یہ کیوں پوچھا تھا، معطر نے ٹھٹھک کر اسے دیکھا

” اس سے کیوں مقابلہ کررہے ہو ؟”

” موازنہ کررہا ہوں ۔۔۔۔ بتاؤ “

” وہ اپنی جگہ اچھا لگ رہا تھا تم اپنی جگہ ، مجھے نہیں معلوم “

وہ جھنجھلا ئ ، بانو آپا نے پکڑ کر 1990 کا اپنے جہیز کا کوئ سوٹ نکال کر پہنا دیا تھا ، اوپر سے میک اپ بھی کردیا تھا ، وہ خود کو خود ہی عجیب لگ رہی تھی ، ایسا تھا تو اسے کسی اور سے پوچھنا چاہئے تھا

” تم سیاسی بیان دے رہی ہو “

” میں صرف تم دونوں کا دل نہیں توڑنا چاہتی “

” سنان یہاں نہیں ہے ، تم مجھے منتخب کرسکتی ہو “

” یہاں نہیں ہے لیکن وہ ہے تو صحیح نا ؟”

ایرک اسے دیکھتا رہا پھر اس کے کاندھے ڈھیلے پڑے ، وہ تھا ، وہ وہاں نا ہو کر بھی تھا لیکن اس کے ہونے سے ایرک کیان کو کیا مسئلہ ؟

” میں صرف ایک گھنٹہ رکوں گی ، اس سے زیادہ نہیں “

” آدھا گھنٹہ بھی کافی ہوگا “

” تیس منٹ بعد مجھے اسٹیشن پر چھوڑ جانا “

” آفر نہیں کی ، معلومات دی ہیں “

اسٹیشن سے کچھ فاصلے پر گارڈن تھا جہاں باہر صحن میں کرسیاں اکٹھی کی گئ تھیں ، وہ ایک ساتھ اندر داخل ہوئے تو معطر نے بے اختیار سکون کا سانس لیا ، اسے خواہ مخواہ لگ رہا تھا کہ وہ کچھ زیادہ ہی تیار ہو گئ ہے یہاں تو سب گویا شادی پر آگئے تھے ، یوں لگتا تھا ہر ملک سے ایک ایک بندے کو پکڑ کر ثقافتی تقریب منائ گئ تھی ، وہ سٹی یونیورسٹی آف لندن کے زیر اہتمام کیا جانے والا ایونٹ تھا جہاں یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء و طالبات کو ثقافتی میل جول بڑھانے کا موقع فراہم کیا گیا تھا ، یوں بھی نہیں تھا کہ پابند کردیا گیا تھا کہ اپنے ملک کا لباس ہی پہننا ہے ، وہاں سیاہ فام گورے امریکی بن کر گھوم رہے تھے ، ترک افریقی ، بنگالی ملائشین بن کر اور انگریز ایرک پاکستانی بن کر

” میرے ساتھ رہنا “

اپنے دوستوں کی طرف جاتے ہوئے ایرک نے سرگوشی کی ، اس نے سیاہ کوٹ پہن لیا تھا

” اب کیا ہر وقت تمہارے ساتھ چپکی رہوں ؟”

” کم از کم سب کی نظر پڑنے تک ہاں “

معطر نے ہاتھ جھلا دیا ، زرا ایرک کی نظر تو ہٹے اس نے اِدھر اُدھر ہو جانا تھا۔۔۔۔۔۔اور ایرک کی نظر ہٹ کہاں رہی تھی ؟

وہ وہیں صوفے پر بیٹھ گئ ، ایرک سامنے ٹھہرا تھا ، اسے بیٹھتے دیکھ ابرو اچکائے

” کیا …؟”

” ریمپ واک ؟”

معطر کی نظر سامنے گئ ، ہر ملک کا ایک ایک جوڑا سامنے ریمپ پر واک کررہا تھا ، وہ بدک گئ

” تم یہ تو توقع ہی مت رکھنا “

” صرف چلنا ہی تو ہے”

” وہ دیکھو ، ہاتھ پکڑ کر چل رہے ہیں”

” تم ہاتھ مت پکڑنا “

” تم میرے پاس بھی مت بھٹکنا اگر آج مجھے اس ریمپ پر چلنے کا کہا تو “

” میں ہار جاؤں گا “

وہ جھنجھلایا

” ہار جاؤ ۔۔۔۔۔”

” اس ایک مقام پر مجھے ہار نامنظور ہے “

” اس ایک مقام پر تم جیتنے کا سوچنا بھی مت “

” اس سے اچھا تم آتی ہی نا ، میں قاریہ ، یا کنرہ سے کہہ دیتا “

وہ خفا ہوا

” ابھی بھی کہہ دو “

” تپ کیوں رہی ہو”

” بحث کیوں کررہے ہو ؟”

ایرک اسے خفگی سے دیکھتا رہا پھر پلٹ گیا ، اس کے بلا سے وہ ناراض ہو یا جو بھی ، وہاں ایک دو میڈیا والے بھی تھے ، وہ یہ حماقت نہیں کرسکتی تھی پہلے پتا ہوتا تو یہاں آتی ہی نا ، جلتے کڑھتے وہ اسٹیج سے دور رکھے صوفے پر جا بیٹھی ، ایک تو ایرک سے پچھلے چند دنوں میں چند کام پڑ گئے تھے تو مجبوراً ہاں کرنی پڑی ورنہ اسے کوئ شوق نہیں تھا یوں کسی ثقافتی تقریب کا حصہ بننے کا

موبائل نکالتے میسجز چیک کئے ، اس مرتبہ تنخواہ میں سے بھی اپنے لئے بہت کم رقم رکھی تھی ورنہ سوچا تھا نیا کوٹ ہی لے لیتی ، باقی سارے پاکستان بھیج دیئے تھے ، بابا کا علاج ،مبشرہ اور عون کے اخراجات گھر کے اخراجات ، موبائل کھولتے اس کے اردگرد سے لندن غائب ہوجاتا اور وہ پاکستان پہنچ جاتی ،جہاں برآمدے میں بیٹھ کر وہ اور دانیال گھر کا بجٹ بناتے تھے ، ایک ایک روپے کی بچت ، اب ایک ایک پاؤنڈ کی بچت ، برطانیہ کا پاؤنڈ پاکستانی روپے میں تبدیل ہوجاتا۔۔۔۔۔۔۔اور برطانیہ

اس نے سر اٹھا کر کھلے آسمان کو دیکھا ، لوگوں کو لگتا ہے برطانیہ خوابوں کو پورا کرنے کی سر زمین ہے ، ایک بار جانے کا موقع مل جائے گویا زندگی سنور جائے گی ، اور اس کا دل چاہتا تھا وہ یہاں آنے والے ہر شخص کو روک دے ، وہ انہیں بتائے کہ برطانیہ آپ کو اپنے اندر ایسا قید کردیتا ہے کہ رہائ ناممکن بن جاتی ہے ، وہاں بچت صرف خیال ، کامیابی صرف خواب بن جاتی ہے ، وہاں غریب ساری زندگی بچت کرتے رہ جاتے پھر بھی زندگی کے اختتام پر ان کے پاس سوائے چند پاؤنڈز کے کچھ نہیں بچتا تھا ، برطانیہ تیز دوڑتی زمین تھی ، ہر شخص جلدی میں تھا ، ہر شخص کو کہیں پہنچنے کی جلدی تھی ، کسی کے پاس رکنے کا وقت نہیں تھا ، کسی کو سننے کی خواہش نہیں تھی ، وہاں لوگ ایک دوسرے سے بے نیاز اور بے زار تھے ، اسے برطانیہ قید خانہ لگتا تھا ، اس نے سر اردگرد گھمایا ، اور اس قید خانے میں اس کو ملنے والا قیدی جانے کہاں گیا تھا

وہ اسٹیج سے فاصلے پر بیٹھا تھا ، صوفے کے ہتھے پر کہنی جمائے ، دو انگلیاں ہونٹوں پر رکھے سامنے گھورے جارہا تھا ، سامنے جہاں معطر بیٹھی تھی

” تم اسے کیوں دیکھ رہے ہو ؟”

رائن دھڑام سے اس کے ساتھ بیٹھا

” دیکھنا منع ہے ؟”

” جیسے تم دیکھ رہے ہو ویسے دیکھنا منع ہے “

” میں کیسے دیکھ رہا ہوں ؟”

” With some different eyes “

” ایسا کچھ نہیں ہے “

آنکھیں گھماتے رخ موڑ لیا

” تم ریمپ پر نہیں جا رہے ؟”

” معطر نہیں جانا چاہتی “

” تم اس کی بات مان رہے ہو ؟”

” اس کی بات نا مان کر زبردستی اسے لے کر جاؤں ؟”

” معطر اچھا آپشن نہیں تھی ، کنزہ بہتر رہتی “

ایرک کی نظر ان سے چند کرسیاں دور ٹھہری کنزہ پر گئ ، سرخ وسفید رنگت ، بالوں کو پیچھے کی جانب کھلا چھوڑے وہ سیاہ ساڑھی میں ملبوس تھی ، پھر اس کی نظر معطر پر گئ ، بالوں کو جوڑے میں باندھے وہ موبائل دیکھ رہی تھی ، چند لٹیں چہرے پر آرہی تھیں

” وہ معطر نہیں ہے “

اس نے سر نفی میں ہلایا

” تم نے معطر کا کیا کرنا تھا ؟, اس جیسی بھی چل جاتی “

” وہ معطر جیسی بھی نہیں ہے “

رائن کے ہاتھ میں تھاما سرخ مشروب لیتے ہونٹوں سے لگایا ، نظریں اب بھی معطر پر جمی تھیں ، اس جیسا کوئ کہاں تھا ؟ اس جیسا اب کوئ رہا کہاں تھا ؟

” اتنی کوئ خاص بھی نہیں ہے معطر “

” اتنی عام بھی نہیں ہے “

گھونٹ گھونٹ بھرتے اس نے وہ گلاس خالی کردیا

” تم کیا سوچ رہے ہو ایرک ؟”

” میں جو سوچتا ہوں وہ تم سوچ بھی نہیں سکتے “

وہ اٹھ کھڑا ہوا ، وہ سامنے نظریں سامنے رکھے ہوئے تھی ، ایرک کی نظر سامنے گئ ، چند لڑکوں کے ہاتھ میں وہی سرخ مشروب تھا ، وہ رکا ، وہ لڑکوں کو نہیں مشروب کو دیکھ رہی تھی اور ناگواری سے دیکھ رہی تھی ، اس نے اردگرد دیکھا ، جمی پاس ٹھہرا تھا اس کے ہاتھ میں سگریٹ تھی ، اس آگے بڑھتے وہ جھپٹی

” کبھی کچھ اپنا بھی لیا ہے ؟”

جمی تپا

” وہ کیمرہ جس میں تمہاری دو چار تصویریں ہیں ، اس لئے زبان قابو میں رکھو اپنی “

وہاں ٹھہرے ٹھہرے دو چار کش لئے پھر سگریٹ اس کے ہاتھ میں رکھتے منہ کھول کر ہوا اندر اتاری ، چہرے پر ہاتھ پھیرا اور گلا کھنکھارتے معطر کی طرف گیا

” کچھ کھاؤگی ؟”

وہ چونکی پھر بیگ پر ہاتھ رکھتی اٹھی

” مجھے واپس جانا ہے “

” اتنی جلدی ؟”

” تم نے کہا تھا آدھا گھنٹہ کافی ہوگا “

” یہ نہیں کہا تھا کہ تم واقعی آدھے گھنٹے بعد چلی جانا ، ابھی تو سب سے ملنا ہے ، ثقافتی چلینجز پر خطاب وغیرہ ہوگا ، ثقافتی اشیاء کی رونمائ وغیرہ اور ۔۔۔۔”

اس نے ایرک کی بات کاٹ دی

” مجھے مزید نہیں رکنا “

” وجہ جان سکتا ہوں ؟ “

وہ اس سے کچھ زیادہ ہی فاصلے پر ٹھہرا تھا

” مجھے وحشت ہورہی ہے یہاں پر “

” ڈنر تو کرلو “

” بھوک نہیں ہے ، تم نے سگریٹ پی ہے ؟ “

آنکھوں میں ناگواری ابھری ، ایرک نے بالوں پر ہاتھ پھیرا

” اس کی سمیل اچھی ہے نا ؟”

” زہر جیسی ہے ، فاصلے پر رہو مجھ سے ، “

ناک پر ہاتھ رکھا ، ایرک نے سر ہلاتے رائن کو ہاتھ ہلایا کوئ اشارہ کیا اور اس کے آگے چلنے لگا

” تم کہاں جارہے ہو اب ؟”

” تمہیں چھوڑنے “

” بچی نہیں ہوں “

” بچی نہیں ہو اسی لئے تو جارہا ہوں “

” میں اکیلی چلی جاؤں گی “

” جانتا ہوں ، لیکن اگر میں جاؤں گا تو مجھے تسلی رہے گی ، تمہاری بانو آپا سے وعدہ کیا تھا “

وہ سنجیدہ تھا ،نا مزاق نا کچھ اور معطر سر جھٹکتے آگے بڑھی ، کوٹ اس نے پہن لیا تھا ، گارڈن سے نکلتے سامنے سڑک تھی ، لندن کی اونچی عمارتوں کے بیچ سیاہ سڑک جس پر وقفے وقفے سے ٹریفک گزر رہی تھی ، وہ دونوں فٹ پاتھ پر چلنے لگے

” تم آج پیاری لگ رہی ہو “

معطر نے نظر گھما کر ایرک کو دیکھا ، اس کا کوٹ جانے کہا تھا ، سیاہ مفلر اب بھی پہن رکھا تھا ، وہ ازلنگٹن کے سرد موسم کا عادی تھا ، وہ نہیں تھی ، اسی لئے کوٹ کے بٹن بھی بند کرلئے تھے

” تم بھی ۔۔۔۔”

” مشرقی مرد لگ رہا تھا ؟”

” تمہیں تو مشرق ناپسند نہیں تھا ؟”

” مجھے تو تم بھی نا پسند تھیں “

” وہ تو غالباً اب بھی ہوں “

وہ ہلکا سا ہنسی ، بازوں کوٹ میں ڈالے ، چوڑیوں کا ساز ہنسی کے ساتھ شامل ہوا

” میری رائے محفوظ ہے “

بے نیازی سے کاندھے اچکائے

” جاب کا کیا بنا تمہارا ؟”

” مل گئ ہے”

وہ جھٹکے سے رکی

” واقعی ؟ تم نے بتایا کیوں نہیں ؟”

ایرک وہیں رک گیا ، لمحہ بھر کو اسے سمجھ نہیں آئ وہ کیا رئیکشن دے ، معطر یوں خوش ہوئ تھی جیسے اس کی خود کی جاب لگی ہو

” بتانا تھا ؟ “

” ظاہر ہے۔۔۔ تمہارے مام ڈیڈ کا کیا رئیکشن تھا وہ تو بہت خوش ہوں گے ؟”

وہ پرجوش ہورہی تھی

” انہیں بھی نہیں بتایا ، مام ڈیڈ میرے میڈیا میں جانے کے خلاف تھے “

” کیوں ؟”

” ڈیڈ چاہتے تھے میں ان کی طرح وکیل بنوں ، مام چاہتی تھیں میں ان کی طرح ڈاکٹر بنوں ، میں کسی کی مرضی پر نہیں چلا کرتا تو میں اپنی مرضی سے اینکر بنوں گا “

” گڈ ۔۔۔۔ تمہارا شو آئے گا تو میں پاکستان میں بیٹھ کر ٹی وی پر دیکھوں گی ، پھر سب کو بتاؤں گی مشہور زمانہ اینکر پرسن ایرک کیان کسی صدی میں میرے ساتھ ازلنگٹن کی سڑکوں پر چلے تھے “

وہ مسکرایا

” میں اپنے شو پر سب سے پہلے تمہاری خبر دوں گا “

” کیا ؟”

” یہی کہ ازلنگٹن کی سڑکوں پر چلتے ہوئے مادام معطر صبا کسی سائیکل کے نیچے آ کر جاں بحق ہو گئیں “

وہ جو کوئ اچھی چیز سننے کی منتظر تھی ماتھے پر بل پڑے ، آنکھیں سکڑ گئیں

” تم اس لائق ہو ہی نہیں کہ تمہا ری خوشی پر خوش ہوا جائے “

” میں ایک سچا نیوز اینکر بنوں گا “

جیبوں میں ہاتھ ڈالے اس نے کوئ سیٹی گنگنائ ، معطر نے رخ موڑا پھر دوبارہ اسے دیکھا

” یہ بتاؤ ۔۔۔۔ تم شراب پیتے ہو ؟”

اس کا منہ فوراً بند ہوا ، سیٹی کا ساز بھول گیا ، غیر محسوس انداز میں تھوڑا سا مزید فاصلے پر ہوگیا

” یہ سوال کیوں کررہی ہو ؟”

” وہاں سب پی رہے تھے ، سب میں تمہارے دوست بھی شامل ہیں ، دوستوں کی صحبت میں تم بھی پیتے ہو گے ؟”

اس نے دو قدم چلے ، دو قدم پانچ سیکنڈ لیتے تھے ، پانچ سیکنڈ میں اسے معطر کی آنکھوں ناگواری یاد آئ ، چھٹے سیکنڈ میں اس نے بول دیا

” کبھی کبھی پی لیتا ہوں “

وہ کہہ نا سکا وہ ابھی ابھی پی کر آ رہا تھا

” تمہیں پتا ہے عیسائیت میں بھی یہ حرام ہے ؟”

” میں مذہب کا حصہ نہیں کلچر کا حصہ سمجھ کر پیتا ہوں “

” حالانکہ جتنا تم مسلمانوں کے خلاف بولتے ہو مجھے مذہبی لگتے ہو ، یعنی پکے عیسائی”

” ایسی کوئ بات نہیں ہے ۔۔۔ یو نو میرے ڈیڈ عیسائ ہیں ،مام یہودی تھیں پھر ڈیڈ کے لئے مذہب تبدیل کرلیا ، اب وہ پتا نہیں کیا ہیں ،کبھی پوچھا نہیں میں نے ، لیکن میں دونوں کے بیچ کا کچھ ہوں ، انفیکٹ کبھی کبھی تو مجھے شک ہوتا ہے کوئ خدا ہے بھی یا نہیں”

معطر رکی

” تم ایتھیسٹ ہو ؟”

” نہیں بھئ۔۔۔۔ پتا نہیں کیا ہوں ، کیا ہم کچھ اور ڈسکس کرسکتے ہیں ، مجھے مذہب ٹائپ چیزیں بے زار کردیتی ہیں “

وہ جو کہنا چاہتا تھا کہہ دیتا تھا ، وہ سچا نہیں منہ پھٹ تھا

” مذہب زندگی کا لازمی حصہ ہے “

” مسلمانوں کے لیے ہوگا ۔۔۔ یہاں برطانیہ میں تم کسی کو پکڑ کر اس سے بائبل کی کوئ آیت پوچھ لو کسی کو بھی نہیں آتی ہوگی، ان میں ، میں بھی شامل ہوں “

وہ اسٹیشن میں داخل ہورہے تھے ، ٹرین آنے ہی والی تھی

” میری رائے تمہارے بارے میں دوبارہ سے بدل گئ ہے “

” یقیناً یہ تبدیلی اچھی تو نہیں ہوگی “

” معلوم نہیں کیسی ہے لیکن تم صرف اسلاموفوبیا کا نہیں مذہبی بے زاری کا بھی شکار ہو ، اور تم ٹھیک کہہ رہے ہو برطانیہ میں یہ واقعی عام ہے ، تم لوگ مذہبی لحاظ سے زوال پذیری کا شکار ہو “

ایرک نے کچھ نہیں کہا ، بس گردن پر ہاتھ پھیرتے کاندھے اچکائے ، پھر جیب میں ہاتھ ڈالتے اندر سے موبائل نکالا کر وقت دیکھا

” تمہارے کزن کا کیا بنا ؟”

” وہ جیل میں ہے ابھی تک “

” ساری زندگی رہے تو اچھا ہے “

وہ کچھ دیر خاموش رہی ، ایرک کا سر موبائل پر جھکا ہوا تھا جب اسے معطر کی آواز آئ

” اس کی زندگی تباہ ہوجائے گی “

جھکا سر بے ساختہ اٹھا ، وہ سامنے دیکھ رہی تھی

” تمہاری نہیں ہوئی ؟”

” جس نے کی وہ محبت نہیں کرتا تھا ، میں تو کرتی تھی نا ، کیا میں نے صحیح کیا ایرک ؟”

رخ موڑ کر اسے دیکھا

” تم پچھتا رہی ہو ؟”

” میرے دل کا وہ حصہ پچھتا رہا ہے جو اس سے محبت کرتا تھا “

” اپنے اس حصے کی سنو جو اس سے محبت نہیں کرتا “

” اسی کی تو سنی ہے “

ٹیوب تیزی سے آتی رک رہی تھی ، معطر سیدھی ہوئ ، اس کا جوڑا ڈھیلا پڑ رہا تھا ، بال چہرے پر آرہے تھے ، ایک ہاتھ سے اس نے بال پیچھے کئے ، ایرک کی نظر اس کے کانوں میں پہنی بالیوں پر گئ ، وہ جھول رہی تھیں ، معطر بنا ایرک کی طرف دیکھے آگے بڑھی ، وہ ٹیوب پر پیر رکھ رہی تھی جب پیچھے سے آواز آئ

” تیمور حیدر کو ساری ذندگی افسوس کرنا چاہئے “

معطر نے رک کر اسے دیکھا ، وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا

” کس لئے ؟”

” معطر صبا کے نا ملنے پر ۔۔۔۔۔”

” معطر صبا کے نا ملنے پر کون افسوس کرے گا ؟”

” ممکن ہے کوئ ہو جسے معطر صبا عزیز ہو ، اور جسے معطر صبا نا ملے تم اس سے اس کا خسارہ پوچھنا “

وہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی پھر سر جھٹکتے ٹیوب کے اندر داخل ہو گئ ، ایرک وہیں ٹھہرا رہا ، ٹیوب آہستہ پھر تیزی سے چلی اور اس کی نظروں کے سامنے سے گزر گئ ، اس نے گہری سانس لیتے رخ واپسی کی طرف موڑ لیا

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆