Laa By Fatima Noor Readelle50338 Laa (Episode 8)
Rate this Novel
Laa (Episode 8)
Laa By Fatima Noor
” ایرک۔۔۔۔۔”
وہ چہرہ ایرک کا تھا ، وہ نیلی آنکھیں ایرک کیان کی تھیں ، اس کے ہونٹ صدمے سے کھل گئے، زہن میں جھکڑ سے چلنے لگے
ایرک نقاب اتارتا اپنے گال پر ہاتھ رکھے ہوئے تھا ، ہاتھ گال پر سے ہٹا کر دیکھا ، انگلی پر دو قطرے خون کے لگے تھے ، سیاہ اندھیرے میں سیاہ خون ، اس کا دماغ گھوما
” جنگلی بلی ۔۔۔۔۔” وہ تیزی سے اس تک آیا اور بازوں سے دبوچا ” کس قدر خونخوار عورت ہو تم “
” یہ تم ہو ؟”
وہ اب تک بے یقین تھی ، وہ قاتل تھا ؟ ایرک کیان قاتل تھا ؟
” ہاں ۔۔۔یہ میں ہوں “
” تم نے ۔۔۔ تم نے قتل کردیا ؟”
وہ ششدر تھی ، ہر خوف پر بے یقینی غالب آگئ ، ایرک کا منہ بگڑا ، اس کا بازوؤں چھوڑتے وہ پیچھے ہوا
” کس کا قتل ؟ اے ڈیوڈ اٹھو ، بہت ہوگیا “
اس نے نیچے پڑے لڑکے کو لات ماری ، ڈیوڈ نامی لڑکا کراہ کر اٹھا
” آرام سے برو ، تازہ تازہ مرا ہوں میں “
” مرا ہوں ؟ ایکٹنگ تک کرنی آتی نہیں تمہیں”
وہ کپڑے جھاڑتا اٹھ رہا تھا ، پیچھے والا سفید نقاب اتار رہا تھا ، جیسے نارمل سی بات ہو ،یوں جیسے کوئ ڈرامہ چل رہا تھا ،ڈائریکٹر کہے ” کٹ ” اور سین روک دیا جائے ، اداکار کردار سے نکل کر واپس زندگی میں آ جائیں اور تماشائ ۔۔۔۔ وہ تماشائ جو ایرک کے سامنے کھڑی تھی ، لاہور کی معطر صبا، اس کا چہرہ صدی کا حیران ترین چہرہ بن گیا
” یہ ۔۔۔کیا ہے یہ ؟”
” مزاق ۔۔۔ اور کیا ، زندہ ہے یہ ، لیکن میرا چہرہ “
صدمے سے اپنے گال پر ہاتھ رکھا ، کوئ چوڑی ٹوٹی ہوئ تھی جو اس کے چہرے پر نشان بنا گئ تھی ، اسے ٹوٹی چوڑی سے بنایا جانے والا نشان دکھ دے رہا تھا ، جس کی ٹوٹی چوڑی کا نشان لگا تھا اس کا ساکت وجود ہوش میں آیا ، یقین آنے لگا ، مذاق ؟ مزاق ؟ اس کی نظر ایرک کے ہاتھ پر گئ ،اسے اپنے گال کا غم تھا ، گن کہیں پھینک دی تھی ، نظر نیچے گئ ، جسے گولی لگی تھی وہ چھوٹا لڑکا سامنے ٹھہرا تھا ، جس نے ماری تھی وہ بھی سامنے ٹھہرا تھا ، یہ سب مزاق تھا ؟ مزاق ؟ مزاق ؟
اس کے اندر لاوا ابھرا ، کسی تیر کی طرح وہ ایرک تک پہنچی اور اسے دھکا دیا ، وہ لڑکھڑا گیا
” مزاق سمجھ رکھا ہے تم نے ؟”
وہ پوری قوت سے چلائ، پوری شدت سے ، ایرک نے کان پر انگلی رکھی
” آہستہ ۔۔۔۔۔”
” جہنم میں جاؤ تم ایرک ، جہنم میں جاؤ “
اس کا ضبط ٹوٹ گیا ، آنسو پوری قوت سے باہر نکلے
” مزاق تھا ، سریس کیوں لے رہی ہو ؟ ، ہم اسائنمنٹ کی تیاری ۔۔۔۔۔”
” مزاق ؟ تمہارے لئے ہر شے مزاق ہے ؟ ” اس نے چلا کر بات کاٹی ۔۔۔۔۔” اس قدر بے ہودہ مزاق ؟ ، میرا دل کانپ رہا تھا ،میرا جسم کانپ رہا تھا ، مجھے لگا میں مرنے لگی ہوں ، اور تم کہتے ہو مزاق تھا ؟”
وہ چیختی ہوئ آگے بڑھی اور اسے گریبان سے تھاما ، دونوں لڑکے فورا آگے بڑھے ، ایرک نے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا ، اس کا چہرہ لمحے میں سپاٹ ہوا تھا
” تم سریس ہوگئیں , یہ سب سچ نہیں تھا “
” تمہیں ہر شے مزاق کیوں لگتی ہے ؟ میری جاب چھڑوادی ، مجھے مینٹلی ڈسٹرب کرکے رکھ دیا ، میرے سٹور میں مجھے دھمکایا ، میرے ملک اور مذہب کے خلاف بات کی اور اب یہ سب ، میرا کیا قصور ہے ایرک ؟ صرف اتنا کہ تم سے ایک کافی کے پیسے مانگے تھے ؟”
دوپٹہ کاندھے پہ ڈھلک گیا تھا ، آنکھیں سوجی ہوئ تھیں ، ٹوٹی چوڑیاں جلد میں گھس رہی تھیں ، لندن کی سرزمین پہ ازلنگٹن کی گلیوں میں لاہور کی معطر صبا لندن کے ایرک کیان کا گریبان تھامے ٹھہری تھی ، وہ جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ باتیں زبان کی نوک پہ رکھتا ہے ، وہ خاموشی سے اسے سن رہا تھا
” ہمیں نہیں معلوم تھا کہ یہاں تم آؤگی “
” میں یہاں نا آتی تب بھی تم ایسا ہی کرتے ، تم میرے لئے قابل نفرت بن گئے ہو ایرک “
” آئ ایم سوری”
وہ جو کہا جاتا تھا کہ یا تو سورج مغرب سے طلوع ہوگا یا ایرک کسی کو سوری کہے گا ، وہ ایرک لاہور کی معطر صبا سے معافی مانگ رہا تھا
” سوری ؟ جہنم میں جاؤ سوری لے کر ، میں مرنے لگی تھی ایرک ، میں مرنے لگی تھی ، اور سوری ؟ تمہیں میرے علاوہ کوئ اور نہیں ملا ؟”
” ہم تمہارے ساتھ یہ نہیں کرنا چاہتے تھے ، یہ اتفاق تھا “
اس نے ناگریبان چھڑوایا نا آواز اونچی کی ، وہ جھٹکے سے پیچھے ہوئ
” تم جھوٹے ہو ایرک ، تم جھوٹے ہو “
آنسو صاف کرتی وہ پلٹی ، کاٹ دار نظر پیچھے ٹھہرے لڑکوں پر ڈالی ، ان کے سر جھکے ہوئے تھے ، وہ دونوں جیسے گونگے ہوگئے تھے ، اس نے نیچے پڑا موبائل اٹھایا ، پرس جھپٹا ، اسے اس وقت یہاں سے جانا تھا ، کہیں دور ، بس یہاں سے دور ،کہیں جانا تھا ، دوپٹہ درست کئے بغیر وہ آگے بڑھنے لگی جب ایرک سامنے آیا
” اس وقت اکیلے مت جاؤ ، ہم چھوڑ دیتے ہیں”
اس کے لہجے میں نرمی گھل گئ
” چھوڑ دو ، اب واقعی مجھے چھوڑ دو ایرک”
” میری بات سنو لیڈی ، ہاں ٹھیک ہے ہم سے غلطی ہوئ لیکن تم نے ہمیں بہت زیادہ سنا دیا ہے ، حالانکہ ہم یہ سب نہیں چاہتے تھے لیکن پھر بھی تمہیں سوری کہا “
” احسان کا شکریہ “
وہ غصے میں تھی ، طیش سے پورا جسم کانپ رہا تھا
” مس پاکستان ۔۔۔۔۔”
” میری نظروں سے دفع ہوجاؤ ایرک” وہ وہیں رکتی پوری شدت سے غرائ ، ایرک بے ساختہ دو قدم پیچھے ہوا ،پھر ہاتھ اٹھائے
” ٹھیک ہے ، ٹھیک ہے”
وہ بنا مزید کچھ کہے آگے بڑھ گئ ، سنسان گلیاں ، اجنبی راستے ، جانے کتنی دیر چلنے کے بعد وہ کسی پارک سے گزرتے ہوئے سامنے رکھے بینچ پر بیٹھی ، سر ہاتھوں میں گرایا اور پوری شدت سے رونے لگی ، مزاق ؟ اس لڑکے کے لئے سب مزاق تھا ؟ یوں بھی کوئ مزاق کرتا ہے ؟
ہونٹوں پر ہاتھ رکھتے وہ ہچکیوں سے روئے گئ ، ٹھنڈا آسمان ، اندر جھلستی آگ ، وحشت اور تنہائ ، اسے لگا دل پھٹنے کو ہے ، پھٹتے دل سے اس نے سر اٹھایا ، اکا دکا لوگ ، چند مرد ،چند عورتیں ، بڑی بڑی بلڈنگز ، بھاگتی دوڑتی زندگی ، سب جیسے جلدی میں تھے ،عجیب وحشت ، یہاں کوئ اپنا نہیں تھا ، یہاں کوئ ایسا نہیں تھا جس سے وہ کہتی کہ اسے اپنا ملک یاد آرہا ہے ، اسے لاہور کی تنگ گلیاں یاد آرہی ہیں ، اسے سڑک پر ٹھیلے لگا کر ٹھہرے سستے ملنے والے کھانے یہاں کے پیکڈ بریڈ سے زیادہ عزیز ہیں ، اسے اپنا ٹوٹا پھوٹا ملک یاد آرہا تھا ، اسے اپنے گھر والے یاد آرہے تھے ، وہی گھر والے جن کے لئے وہ اپنے ملک سے دور یوں اجنبی ملک میں بیٹھی تھی ، وہی اپنے جن کے لئے اسے لڑنا تھا ، اسے اس ملک سے وحشت ہوتی تھی ، اسے اس ملک کے لوگوں سے وحشت ہوتی تھی
” آر یو اوکے گرل ؟”
اس نے جھٹکے سے مڑ کر دیکھا پھر ڈر کر اٹھی ، پیچھے بند ہوتی کھلتی آنکھوں سے کوئ مرد ٹھہرا تھا ، نشے میں جھولتا ہوا ، وہ ڈر کر دو قدم پیچھے ہوئ پھر پوری رفتار سے پیچھے کی طرف بھاگی ، دماغ سن ہونے لگا ، راستہ بھول گیا ، وہ کہاں تھی ؟ دماغ جیسے کچھ سمجھنے کی کیفیت میں نہیں تھا ، کیا کرے ؟
اسی سن ہوتے دماغ سے اس نے چند قدم خود کو گھسیٹا ، پھر یکدم جیسے کوئ خیال آیا ، اسے کسی کو فون کرنا چاہئے ، بانو آپا ، کوئ بھی ، کسی کو بلانا چاہئے ، بیگ کھولتے اس کی نظر چوڑیوں پر گئ ، پھر چوڑیوں کے ساتھ رکھے سفید کاغذ پر ، اس نے جھٹ وہ کاغذ اٹھایا
سنان
موبائل نکالتے اس نے نمبر ملایا ، بیل جانے لگی ، اس کا دل دھڑکن چھوڑنے لگا
” ہیلو ؟”
دوسری طرف اس کا محتاط لہجہ سنائ دیا
” سنان۔۔۔۔”
” معطر ؟”
وہ پہچان گیا تھا ، وہ بس ایک لفظ سے پہچان گیا ، اس نے ہونٹوں پر ہاتھ رکھا ، آنسو ابل کر نکلنے لگے
” معطر بات کررہی ہوں “
وہ تعارف کروارہی تھی ،جو ایک لفظ سے پہچان گیا تھا وہ اسے بتا رہی تھی کہ وہ کون تھی
” پہچان لیا ہے ، خیریت ؟”
” مجھے ۔۔۔مجھے لینے آسکتے ہیں ؟”
اس کی آواز بمشکل نکلی ، دل بند ہونے کو تھا
” کہاں پر ہیں آپ ؟”
وہ چونکا تھا
” پتا نہیں ، مجھے نہیں معلوم ، یہاں لوگ ہیں ، مجھے ان لوگوں سے وحشت ہورہی ہے ، پلیز آ جائیں “
وہ بنا آواز کے رو رہی تھی ، ڈر اندر تک چلا گیا تھا
” ریلیکس ۔۔۔ پرسکون رہیں ،مجھے لوکیشن سینڈ کریں ،میں آرہا ہوں “
” مجھے نہیں معلوم”
” اوکے ریلیکس ، میری بات سنیں ، پولیس کا نمبر ہے نا آپ کے پاس ؟ انہیں کال۔۔۔۔”
” مجھے کسی کو نہیں بلانا ، آپ آرہے ہیں یا نہیں ؟”
” دس منٹ لگیں گے مجھے ، آپ جہاں ہیں وہیں رہیں ، مجھے صرف یہ بتائیں اپنے سٹور سے کتنی آگے تک ہوں گی ؟ “
” پتا نہیں ۔۔۔ شاید دس منٹ۔۔۔ بیس ، میں نہیں جانتی “
” اوکے۔۔۔ پرسکون رہیں۔۔۔میں آرہا ہوں ۔۔۔دس منٹ صرف “
اس نے کال کاٹ دی، موبائل بیگ میں پھینکا ، گہری گہری سانس لیتے آنسو صاف کئے ، سوجی آنکھیں رونے کی چغلی کھانے لگیں ، اس کا دل ڈر کے مارے سکڑ گیا تھا ، جانے کتنی دیر گزری جب سیاہ کار جھٹکے سے اس کے سامنے رکی ، دروازہ کھولتا وہ باہر نکلا
” آپ ٹھیک ہیں ؟”
معطر نے سر اٹھا کر دیکھا ، وہ پریشان لگ رہا تھا ،کچھ بوکھلایا ہوا بھی ،سیاہ پینٹ ، سفید شرٹ ، وہ شاید کسی کام میں مصروف تھا ، اسے یکدم شرمندگی نے آن گھیرا
” جی۔۔۔۔۔”
” سب ٹھیک ہے نا ؟”
” جی “
” پھر۔۔۔۔؟” وہ رک گیا ، وہ غائب دماغ لگ رہی تھی ، سر جھٹکتے وہ کار تک گیا ، دروازہ کھولا
” بیٹھیں۔۔۔۔”
” میں چلی جاؤں گی “
بولنے کے بعد اسے احساس ہوا اس نے سنان کو یوں ہی بلا لیا تھا
” آپ ڈسٹرب لگ رہی ہیں معطر ، مجھ پر بھروسہ کرسکتی ہیں”
نرمی سے کہا تو وہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی پھر ایڈریس بتاتے سر ہلاتی گاڑی میں بیٹھی ، سنان دروازہ بند کرتا دوسری طرف آیا ، اس پر ایک نظر ڈالی
” کسی نے آپ کو تنگ کیا ہے ؟”
” نہیں “
وہ آنسو ضبط کررہی تھی
” معطر۔۔۔۔” اس نے رخ اس کی طرف موڑا، آنکھوں میں سختی سی تھی ” مجھے بتائیں کیا بات ہے”
” راستے میں ، کوئ مرد تھا ، میں ڈر گئ تھی بس “
لب کاٹتے بس وہ اتنا ہی کہہ سکی
” کون تھا ؟”
” میں نہیں جانتی “
” کچھ کہا اس نے آپ کو ؟”
اس کا سر نفی میں ہلا ” گھر چلیں سنان پلیز “
وہ چند لمحے اسے دیکھتا رہا پھر گہری سانس لیتے گاڑی سٹارٹ کردی
” گھر سے فاصلے پر روک دیجئے گا “
رخ مکمل گاڑی کی طرف موڑ لیا ، سنان نے کچھ نہیں کہا ، وہ خاموشی سے باہر دیکھتی رہی ، وہ ڈرائیو کرتا رہا ، چند لمحے بعد گاڑی بانو آپا کے گھر کے سامنے رکی تو وہ سیدھی ہوئ ، بیگ اٹھایا اور بنا اسے دیکھے اندر کی طرف بڑھ گئ ، سنان تب تک وہیں رہا جب تک وہ اندر غائب نا ہوگئ ، اس کے جانے کے بعد اس نے سر جھٹکتے گاڑی چلائ ، سارا راستہ زہن الجھا رہا ، اپنے اپارٹمنٹ پہنچنے تک سر درد سے پھٹنے کو ہوگیا ، دروازہ بند کرتے وہ کچن میں آیا ،چائے کے لئے پانی رکھا اور صوفے پر دھڑام سے بیٹھا ، بریف کیس سامنے ہی پڑا تھا ، وہ پورے دن کا تھکا ہارا اسی وقت اپارٹمنٹ آیا تھا جب معطر کی کال آئ ، اس نے بریف کیس کے ساتھ رکھی ڈائری اٹھائ ، سامنے سیاہ حروف بکھرے تھے
سنان سعدی خان
تاریخ : 8 نومبر 2025
مقام : برطانیہ ، ازلنگٹن
پانچویں ملاقات !
میرا خیال ہے انسان کو اتنا رحمدل نہیں ہونا چاہئے ، وہ خط بھیج کر مجھ سے معذرت کررہی تھی ، میں بہت رحمدل ہوں لہذا میں نے معذرت قبول کرلی ، وہ بھی بہت رحم دل ہے ، اس لئے اس نے چوڑیاں قبول کرلیں ، لکھنے والا اس سے زیادہ کچھ نہیں سوچ رہا ، پڑھنے والے کو تنبیہہ کی جاتی ہے وہ اس سے زیادہ کچھ مت سوچے
یہ پانچواں صفحہ ہے جو میں لکھ رہا ہوں اور میں صرف اسے ہی لکھ رہا ہوں ، وہ کہیں نقش ہورہی ہے ، کاغذ پر۔۔۔ زہن میں ۔۔۔۔یا شاید کہیں اور
وہ شاید مجھے ٹھیک ہی بنجارا کہہ گئ تھی۔۔۔۔
صفحہ آگے خالی تھا ، اس نے ٹیبل پر پڑا پین اٹھایا ، سفید کاغذ پر سیاہ نوک رکھی
” میں ایک لفظ میں اس کے پورے وجود کو پہچان گیا ،کیسے ؟ میں اس کے پورے وجود کو سیاہ اندھیرے میں بھی پہچان گیا ، کیوں ؟ وہ عورت مجھ پر اثر کررہی ہے ، اس کے آنسو مجھے تکلیف دے رہے ہیں ، اس کی آواز مجھے بے اختیار کررہی ہے …..میں نے آج جانا وہ زمین کے ایک کونے سے مجھے بلائے تو بھلے ہی میں زمین کے دوسرے کونے پر ہی کیوں نا ہوں ، میں اس کے لئے ضرور جاؤں گا “
اس نے پین رکھ دیا ، آنکھیں بند کرتے سر پیچھے کی طرف کرلیا ، روتی ہوئ معطر نظروں کے سامنے گزری، جانے وہ کیوں اس طرح پریشان تھی ؟
“بنجارے ته پر خپل زړه شک راغلی دی.
( بنجارے کو اپنے دل پر شک ہورہا ہے)”
وہ بند آنکھوں سے دھیرے سے بڑبڑایا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اگلے دن تک وہ کچھ سنبھل گئ تو سنان کو شکریہ کا میسج بھی کردیا
” آپ ٹھیک ہیں ؟”
اس نے شکریہ کا میسج نظر انداز کیا تھا
” جی ۔۔۔ ٹھیک ہوں “
اسے اب تک خفت تھی ،زہن جاگا تھا تو احساس ہوا وہ خواہمخواہ ڈر گئ تھی، وہ کبھی اتنی کمزور نہیں رہی تھی ،کبھی بھی نہیں، وہ تنہا راتوں میں اپنے باپ کو ہوسپٹل لے کر جاتی رہی تھی ، وہ دانیال کے ساتھ اپنے گھر کے وہ کام بھی کرتی تھی جو مرد کیا کرتے ہیں ،لیکن کل رات کا منظر ،گولی لگنے سے گرنے والا وجود ، خون ، خوف ، ازیت ،ہر شے نے زہن مفلوج کردیا تھا ، یہ وہی خوف تھا جس کی وجہ سے اس نے سنان کو کال کرلی اور اب شدید پچھتارہی تھی، جانے وہ کیا سوچتا ہوگا ؟ کتنی بزدل لڑکی ہے ؟
بانو کو اس نے کچھ نہیں بتایا تھا ، اس کی واپسی تک وہ سو چکی تھیں ، ایک ڈپلیکیٹ چابی اس کے پاس تھی جس سے دروازہ کھول کر وہ اندر چلی گئ تھی ، سنان کا ایک اور قرض اس کے سر چڑھ گیا ، خود پر غصہ اور ایرک پر حد سے زیادہ غصہ آیا ، کم از کم ایرک سے وہ یہ امید نہیں رکھتی تھی کہ وہ محض اسے تنگ کرنے کے لئے اس حد تک چلا جائے گا
” تم مجھے وضاحت کرنے کا موقع دو گی ؟”
وہ شام کو سنجیدہ چہرے کے ساتھ اس کے سٹور آیا
” مجھے کوئ وضاحت نہیں چاہئے ، تمہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے میں پولیس میں کمپلین نہیں کروں گی “
وہ بنا سر اٹھائے رجسٹر پر لسٹ تیار کرتی رہی ، ایرک کچھ دیر اسےدیکھتا رہا پھر کھٹاک سے اس کا رجسٹر بند کیا
” کیا بدتمیزی ہے ؟ “
وہ سیخ پا ہوئ
” چپ ۔۔۔۔ ” ایرک نے سختی سے انگلی اٹھا کر اسے دیکھا ، وہ خونخوار نظروں سے اسے گھور رہی تھی ” تمہاری چھٹی ہونے میں پندرہ منٹ باقی ہیں ، پندرہ منٹ بعد میں باہر ملوں گا ، خبردار جو مجھے ڈاج دینے کی کوشش کی ،کام ختم کرو اور باہر ملو “
حکم دیتا وہ باہر نکل گیا ، معطر خون کے گھونٹ پی کر رہ گئ ، اسے پندرہ منٹ میں آف مل گیا لیکن وہ آدھا گھنٹہ لگا کر باہر نکلی۔ ، اسے یقین تھا وہ چلا گیا ہوگا لیکن وہ باہر ٹھہرا تھا
” میرا پیچھا چھوڑدو “
وہ اس کے ساتھ چلنے لگا تو وہ سیخ پا ہوکر پلٹی
” چھوڑدوں گا ،پہلے مجھے وضاحت کرنے دو “
” ضرورت نہیں ہے”
وہ پیر پٹختی آگے بڑھ گئ ، کل کے بعد سے اس نے طے کرلیا تھا کہ بس سے چلی جایا کرے گا ، کل کے بعد جو ڈر اندر بیٹھا تھا وہ ساری زندگی ساتھ رہنے والا تھا
” تمہیں نہیں ہوگی، ویسے تو مجھے نہیں ہے لیکن میں پھر بھی وضاحت کرنا چاہوں گا ، تم شاید مجھے کوئ قاتل وغیرہ سمجھ رہی ہو “
” میں تمہیں فراڈ ، گھٹیا ، بکواس ، بدتمیز بھی سمجھ رہی ہوں “
وہ سامنے چلتی گئ ، بس جانے میں پندرہ منٹ دیر تھی ، اسے جلدی اسٹیشن پہنچنا تھا
” تمہاری گالیوں کی کلیکشن بہت بری ہے “
” مسئلہ کیا ہے تمہارے ساتھ ؟”
وہ یکدم رک گئ ، چہرے پر بے چارگی چھاگئ ، ایرک ہاتھ پیچھے کرتے ہٹا
” فلوقت تم ہو “
” دفع ہوجاؤ ایرک اس سے پہلے کہ میں چیخ کر سب کو اکٹھا کروں “
وہ گہری سانس لیتا دو قدم آگے بڑھا ،معطر ڈر کر پیچھے ہوئ ، وہ رک گیا
” مجھ سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے “
” جو کچھ تم نے کل کیا ہے اس کے بعد مجھے تمہارے سائے سے بھی ڈر لگنے لگا ہے “
” وہ صرف ایک مزاق تھا “
” مزاق ؟ تمہیں معلوم ہے جب تم نے اسے گولی ماری تب مجھے ایک لمحے کو لگا کہ میرے اندر سے جان نکل گئ ہے ، مجھے اس وقت سانس بھی نہیں آرہی تھی ، وہ رات میرے لئے بھیانک ترین رات بن گئ ہے ، تمہیں اندازہ ہے ایرک تمہارے اس مزاق نے میرے ساتھ کیا کیا ہے ؟”
اس کی آواز شدت غم سے اختتام پر کانپ گئ ، ایرک سنجیدگی سے اسے دیکھتا رہا
” مزید کچھ کہنا ہے ؟”
” سوائے اس کے کہ میرا پیچھا چھوڑ دو ، میں تمہارے مزاق برداشت نہیں کرسکتی ،میرا دل کمزور ہے ، میں اپنے دل سے زیادہ کمزور ہوں ، میرے اندر برداشت نہیں بچی ایرک ، بخدا میں اب تھک گئ ہوں “
اس کا لہجہ لاچاری سے بھر گیا ، ایرک نے سر ہلا دیا
” میں نے سب خاموشی سے سن لیا ، اب تم سنوگی ، اور چپ ” وہ جو منہ کھول رہی تھی اس کے جھڑکنے پر رک گئ ” وہ مزاق تھا ، صرف تمہارے ساتھ نہیں تھا ، ہمیں یونیورسٹی کی طرف سے اسائنمنٹ ملی تھی کہ ایک اصلی کرائم سین ریکارڈ کرکے اس کی رپورٹنگ کرنی ہے ، واقعہ ، تفصیل سب نیچرل ہونا چاہیے ، ایسا اسی صورت میں ممکن تھا جب ہم کسی اصلی مرڈر کا ڈرامہ کرکے کسی سویلین کے ذریعے یہ کام کرتے ، ہم وہاں کسی کا انتظار کررہے تھے جس کے ساتھ یہ نیچرل سین ریکارڈ کیا جاسکے ، وہ ” کسی ” تم ہو گی میں نہیں جانتا تھا ، ہمارا ساتھی پیچھے سب ریکارڈ کررہا تھا ، یہ صرف ایک اسائنمنٹ تھی مس پاکستان “
” اور تمہیں لگتا ہے میں اس کہانی پر یقین کرلوں گی ؟”
” اس کہانی پر یقین کرلو اس کے لئے میں اپنی سنائ گئ کہانی کا سکرپٹ لے کر آیا ہوں “
وہ بیگ سے کاغذ نکال رہا تھا ، سفید صفحات ، سیاہ حروف ، چند ڈائلاگز جو وہاں ان تینوں نے بولے تھے ، کاغذ اس کی طرف بڑھائے ، معطر نے وہ نہیں لئے
” کیا معلوم تم نے یہ ابھی بنائ ہو ؟”
وہ کچھ کہنے کی بجائے ابرو اچکائے اسے دیکھنے لگا یوں جیسے کہہ رہا ہو” واقعی خاتون ؟ یعنی تم ایرک کیان سے یہ توقع رکھتی ہو کہ تمہیں یقین دلانے کی لئے وہ اتنی محنت کرے گا کہ ایک دن میں اپنا سونے اور کھانے پر خرچ کیا جانے والا قیمتی وقت ضائع کرے ؟ خاتون تم کس صدی میں جی رہی ہو ؟ تم ایرک سے یہ توقع رکھتی ہو ؟ واقعی ؟؟
معطر نے ہونٹ بھینچ لئے ،چہرے پر سرخی پھیلی ، ٹھیک ہے اسائنمنٹ ہوگا ،لیکن ایک اسائنمنٹ ؟ بدتمیز نے ایک اسائنمنٹ کے لئے اسے مار ہی دیا تھا
” اگر میرا جگہ کوئ اور ہوتا تب بھی تم یہ سب کرتے ؟”
” میں یہی سب کرتا لیکن تمہاری جگہ کوئ اور ہوتا تو وہ یہ سب نا کرتا جو تم نے کیا ہے “
اس کی نظر ایرک کے گال پر گئ ، چھوٹے سے زخم پر اس نے دوائ لگائ ہوئ تھی ، اسے ہلکی سی شرمندگی نے آن گھیرا پھر یکدم وہ چونکی
” تم لوگوں نے اس سب کی ویڈیو بنائ تھی ؟”
” آاااا۔۔۔۔ ویل ، ہاں “
” ڈلیٹ کرو اسے “
وہ تیزی سے بولی
” وہ نہیں ہوسکتی “
” ایرک ، میں نے کہا ڈلیٹ کرو اسے “
” میں نے کہا وہ اب ڈیلیٹ نہیں ہوسکتی “
لاپرواہی سے شانے اچکائے
” کیوں ؟’
” وہ ہم کل جمع کروانے والے ہیں “
” میری اجازت کے بغیر ویڈیو بنانے پر میں تم پر کیس کردوں گی “
” تم کتنی نا شکری ہو “….افسوس سے اسے دیکھا ” میں تمہیں اپنی یونیورسٹی میں مشہور ہونے کا موقع دے رہا ہوں اور تم ہو کہ مجھے ہی دھمکی دے رہی ہو “
” جس یونیورسٹی میں تم بدنام ہو مجھے وہاں مشہور نہیں ہونا “
وہ تپ کربولی
” بدنام ؟ ایک تو مجھے سمجھ نہیں آتی مجھ سے سب جلتے کیوں ہیں ؟ خواہمخواہ بدنام کررکھا ہے مجھے حالانکہ میں انتہائ معصوم انسان ہوں “
” معصومیت یہ سننے کے بعد خود کشی کرلے گی “
” تمہاری زبان کتنی تیز چلتی ہے “
” میرے ہاتھ اس سے زیادہ تیز چلتے ہیں ، تم کل رات دیکھ چکے ہو ، ویڈیو ڈلیٹ کرو میری “
” اگر میں شرمندہ نا ہوتا تو اس زخم پر تمہیں سزا دیتا “
شرمندہ ؟ وہ شرمندہ تھا ؟ یہ کون سی شرمندگی تھی ؟
” تمہاری موجودگی سے بڑی سزا دنیا کے لئے کوئ نہیں ہے “
وہ ہاتھ جھلاتی آگے بڑھنے لگی ، اس انسان سے بحث کرنا فضول تھا ، ایرک چند لمحے وہاں ٹھہرا رہا پھر وہ تیزی سے اس کے پیچھے آیا
” تم بس سے جاؤگی ؟”
” خوش قسمتی سے لندن میں میرے باپ کی ٹرینین نہیں چل رہیں ، بدقسمتی سے تم مجھے کل اچھا خاصا خوف زدہ کرچکے ہو اس لئے میں اکیلے جانے کا رسک نہیں لے سکتی “
” کل جس لڑکے کے ساتھ تم گئ تھیں وہ کون تھا ؟”
وہ جھٹکے سے رکی
” تمہیں کیسے معلوم یہ بات ؟”
” دیکھو ۔۔ میں بہت برا ہوں ، اور سچ ہے کہ میں ہوں ، لیکن میرے اندر دو چار اچھے جراثیم ہیں جنہوں نے کل رات مجھے مجبور کیا کہ تمہارا پیچھا کروں تاکہ تم بحفاظت اپنے ہوسٹل پہنچ جاؤ ، تم نے کسی لڑکے کو کال کرکے بلایا تھا ، کیا وہ تمہارا بوائے فرینڈ تھا ؟”
اس کے کان کی لوئیں تک سرخ پڑیں، ایرک نے دلچسپی سے اس منظر کو دیکھا تھا ، انٹرسٹنگ !!
” تمیز سے ۔۔۔۔”
“سوال تھا ، تم غصہ کیوں کررہی ہو ، میں سوال تبدیل کردیتا ہوں، کیا وہ تمہارا بھائ تھا ؟”
” نا وہ میرا بھائ تھا نا بوائے فرینڈ، تم کتنا واحیات سوچتے ہو”
اس کے گال ابھی تک سرخ تھے
” میں تمہاری سوچ سے زیادہ واحیات سوچتا ہوں “
اس کی نظر پیچھے گئ ، لبوں پہ خباثت بھری مسکراہٹ ابھری
” تمہاری بس چلی گئ “
وہ کرنٹ کھا کر پلٹی ، پیچھے اسٹیشن سے میٹرو بس ابھی ابھی نکلی تھی ، اسے صدمے نے آن گھیرا پھر وہ تپ کرپلٹی
” تم اسی لئے میرا سر کھا رہے تھے ؟”
” جیسا کہ میں نے کہا میرے اندر صرف دو فیصد اچھے جراثیم ہیں ، باقی اٹھانوے فیصد میں ایک برا انسان ہوں”
” ان دو فیصد جراثیم کو ڈوب کر مر جانا چاہئے “
وہ دبی دبی آواز میں چلائ ، بس کا کرایہ ٹیوب سے کم تھا ، اکیلے جانے کا رسک وہ اگلے کئ دن تک نہیں لے سکتی تھی ، یہ انسان !!
” پھر میں دنیا کا جینا حرام کردوں گا , زمہ دار تم ہوگی ، معاا طر صبا “
وہ معطر کا الف لمبا کھینچ رہا تھا ، اس کا دل کیا اس کا دوسرا گال بھی زخمی کردے
” یہ معطر ہے ، درست کرو “
” یہ ایرک ہے ، اس کی موجودگی پر فخر کرو”
” دفع ہو جاؤ تم ایرک “
وہ غصے سے کھولتی آگے بڑھ گئ ، بس کے بعد وہ ٹیوب مس نہیں کرنا چاہتی تھی ، ایرک اس کے پیچھے نہیں آیا تھا ، غالباً اسے بھی کہیں پہنچنا تھا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
” دن کے چند گھنٹے مجھے دے سکتی ہیں ؟ انتہائ عاجزانہ درخواست !”
سنان کا میسج اسے صبح ملا تھا ، وہ دوپہر تک فری تھی لیکن پھر بھی اسے منع کردیا
” بانو آپا کو اچھا نہیں لگے گا “
وہ لڑکوں کے ساتھ گھومنے پھرنے کے سخت خلاف تھیں
” میں ان سے بات کرسکتا ہوں “
وہ کتنی ہی دیر اس میسج کو دیکھتی رہی
” آپ ایڈریس بھیج دیں ،میں آجاؤں گی “
وہ محسن تھا ، وہ احسان فراموش نہیں تھی ، کمرے کو لاک کرکے نیچے آئ تو بانو آپا صوفے پر بیٹھی تھیں
” بانو آپا ، سنان نے کہیں ملنے کے لئے بلایا ہے ،میں چلی جاؤں ؟”
” مجھ سے کیوں پوچھ رہی ہو ، تم خود بہتر جانتی ہو “
وہ آنکھوں پر چشمہ لگائے کسی فریم پر کشیدہ کاری کررہی تھیں
” آپ کی اجازت کے بغیر کیسے جاؤں ؟”
” میری اجازت لو گی تو میں منع کردوں گی ، جانا ہے تو چلی جاؤ، لیکن واپسی پر اس لڑکے کو یہاں لے کر آنا مجھے اس سے ملاقات کرنی ہے “
وہ کچھ اچھنبے کا شکار ہوئ لیکن پھر سر ہلادیا ، البتہ اس کا کوئ ایسا ارادہ نہیں تھا ، خواہ مخواہ سنان عجیب طرح سے سوچتا ، وہ اوپر واپس آئ تو سنان کا میسج آیا ٹھہرا تھا ، اس نے کیمڈن پیسیج کا ایڈریس بھیجا تھا ، ڈھنگ کا سوٹ نکال کر بال گول مول باندھ کر بنا کوئ مزید تیاری کئے اس نے کوٹ پہن لیا ، ازلنگٹن میں موسم سرد تھا اور اسے کچھ زیادہ ہی سرد لگتا تھا، ایک واحد سنگھار جو وہ کرتی تھی وہ اس کی چوڑیاں تھیں ، ازلنگٹن کو اور اس کے باسیوں کو جانے اس کی چوڑیوں سے کیا مسئلہ تھا ، اب تک جانے کتنی ہی چوڑیاں ٹوٹ چکی تھیں ، سامنے ڈریسنگ ٹیبل پر سنان کی دی ہوئ پڑی تھیں تو وہی اٹھا کر پہن لیں
فنسبری پارک سے کیمڈن پیسیج تک وہ نادرن لائن کے ذریعے اینجل اسٹیشن تک آئ تھی ، وہاں سے کیمڈن پیسیج واکنگ ڈسٹینس پر تھا تو وہ آرام سے چل لیتی ، سنان نے گو اسٹیشن پر ملنے کا کہا تھا لیکن وہ تھوڑا جلدی آگئ تھی تو آگے واک کرتے ہوئے جانے کا ارادہ تھا
اسٹیشن سے اترتی وہ ابھی چند قدم ہی چلی ہوگی جب سامنے وہ نظر آیا ، بلیو جینز پر سیاہ جیکٹ پہن رکھی تھی ،نیچے سیاہ شرٹ جھانک رہی تھی ،بال پیچھے کو جما رکھے تھے ، ڈیسنٹ ، ڈیشنگ سا سنان سعدی، ان تمام دنوں میں یہ پہلی بار تھا جب وہ اسے عام سے حلیے میں دیکھ رہی تھی ورنہ تو ہمیشہ سوٹس میں ہی ملتا تھا
” سلامتی قبول کریں “
اس نے سر ہلادیا
” آپ جلدی آگئے ؟”
” میں نے سوچا آپ کو انتظار نا کرنا پڑے “
وہ تھوڑے سے فاصلے پر ساتھ چلنے لگا، نظر اٹھا کر اسے دیکھا ، سیاہ شلوار قمیص ، سیاہ لمبا کوٹ ، اور کلائ۔۔۔۔ ، اس کی نظر کلائی پر ٹھہر گئ ، سیاہ چوڑیاں جو وہ دو دن جیب میں لے کر گھوما تھا ، اور جس کے بارے میں اس کا خیال تھا کہ وہ پھینک دے گی ، وہ چوڑیاں ان کلائیوں میں تھیں ، ان چوڑیوں کی کھنک اس پر بہت بھاری تھی
” بلایا کس لئے تھا ؟”
معطر کی آواز پر نظر اس کے چہرے پر گئ
” آپ ڈیڑھ مہینے سے یہاں ہیں ، سوچا آپ کو ازلنگٹن گھمایا جائے “
وہ یوں ظاہر کررہا تھا جیسے چند دن پہلے کچھ ہوا ہی نہیں تھا ، کسی رات معطر نے اسے کال کرکے بلایا ہی نہیں تھا ،جیسے ایسا کوئ دن اس کی یاداشت میں محفوظ نہیں تھا
” میرا ازلنگٹن نہیں کہیں گے ؟”
وہ مسکرایا
” میرا صرف پشاور ہے ، میں اپنی پسندیدہ چیزوں کے معاملے میں تھوڑا خود غرض واقع ہوا ہوں ، ازلنگٹن جس کا ہے اسی کا رہنے دیں “
جس کا ازلنگٹن تھا اس کا بس چلتا تو پوری دنیا پر قبضہ کرلیتا ، اسے یونہی خواہ مخواہ ایرک یاد آگیا، حلق تک کڑوا ہوگیا
” مجھے ویسے ازلنگٹن گھومنے کا کوئ خاص شوق نہیں ہے “
” کیمڈن پیسیج گھومنے کے بعد آپ اپنی رائے پر نظر ثانی کریں گی “
چند منٹ کا فاصلہ تھا تو وہ جلدی طے ہوگیا ،
کیمڈن پیسیج ازلنگٹن میں اینجل کے قریب واقع تاریخی گلی تھی جو اپنے ثقافتی عمارتوں ،کیفے اور نوواردات کے لئے مشہور تھی ، 1950 تک یہ عام سا علاقہ تھا لیکن بعدازاں اس کی تاریخی اور قدیم اہمیت کی وجہ سے اسے لندن کے اہم ترین سیاحتی مقامات میں شمار کیا جانے لگا ، یہاں بعض عمارتیں انیسویں صدی سے موجود تھیں جو قدیم دور کا تاثر دیتیں عجیب انداز سے اپنی طرف کھینچتی تھیں، گلی واک فری تھی، گاڑیوں کی گنجائش نہیں تھی ، البتہ چند سائیکلز نظر آرہی تھیں ، وہ دونوں ساتھ چلتے ہوئے اندر داخل ہوئے تو وہ پل بھر کو تھم گئ ، قدیم زمانے کی کوئ گہری چھاپ تھی جو وہاں نظر آتی تھی ، لمبی گلی کے اردگرد سٹالز لگا رکھے تھے جن پر نوواردات ، اور دوسری چیزیں تھیں ،یوں جیسے پاکستان میں عام بازاروں میں ریڑھی پر سامان بکتا ہے البتہ وہاں صاف صفائ تھی
” یہ تو اتوار بازار جیسا لگتا ہے “
لبوں سے بے ساختہ پھسلا ، سنان ہنس دیا
” ہفتہ بازار کہہ لیں ، عام دنوں میں صورتحال تھوڑی مختلف ہوتی ہے ، بدھ جمعہ اور ہفتے کے روز یہاں اینٹیک مارکیٹ لگتی ہے ، میں کل لے آتا آپ کو لیکن آج یہاں منظر مختلف ہوتا ہے “
وہ اسے سنتی ایک سٹال پر آئ ، قدیم طرز کے برتن جن پر جدید کشیدہ کاری کئ گئ تھی ، چند پرانی کتابیں ، پیچھے دکانوں پر ملبوسات ، قدیم عمارتیں
” کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ کتنا اچھا ہوتا نا سنان اگر ہم قدیم دور میں پیدا ہوتے ، پرانا دور ہم جیسوں کے لئے زیادہ اچھا تھا ، ہم دیر سے دنیا میں آئے ، یہ دنیا بہت تیز ہے ، ہم جیسے دھیمے لوگ جنہیں یہ تیزی وحشت میں مبتلا کرتی ہے ، ہم پرانے دور میں زیادہ اچھے سے رہ لیتے ، “
عمارتوں کو دیکھتے وہ جانے کس احساس کے تحت بولی
” ممکن ہے تب ہماری سوچ مختلف ہوتی، اس دور میں ہم کسی اور دور میں پیدا ہونا چاہتے “
وہ شاید اس کی رائے سے متفق نہیں تھا ،معطر نے بحث نہیں کی ، وہ ایک پرانے دور کا تاثر دیتا بھورا خط اٹھائے ہوئے تھی، محبت نامہ ، محبت نامے سے اسے کوئ اور یاد آیا تھا ، چھت پر ٹھہرے مجسمے ، زرد پھول ، اس کا دل وحشت کا شکار ہوا ، اس نے خط چھوڑدیا
” میں چاہتی ہوں ایسا ہی ہوتا ، کچھ لوگوں سے ہم کبھی نہیں ملنا چاہتے ، ان لوگوں کو ہم سے پہلے یا ہمیں ان سے پہلے دنیا میں آنا چاہئے تھا ، ہماری آمد کا وقت ایک ٹھہرا ، وقت نے غلط کیا “
سنان کی نظر ان آنکھوں پر گئ ،پھر کلائ پر
” اگر ایسا ہوتا تو شاید ہم بھی نا مل پاتے “
نظریں اردگرد گھماتے اس نے کچھ دھیمے لہجے میں کہا تھا ، معطر کا بیگ درست کرتا ہاتھ تھما ، نظریں سنان پر گئیں ، وہ کیا سوچ رہا تھا ؟
،” جن کا ملنا مقدر ہو مل جاتے ہیں ، خیر میں چلتی ہوں “
” اتنی جلدی ؟ ہرگز نہیں ، ہم یہاں سے کچھ لیں گے ، پھر کچھ کھائیں گے ، اور پھر میں آپ کو اسٹور چھوڑدوں گا “
” سنان۔۔۔۔”
” بحث مت کریں خاتون ” وہ ہاتھ اٹھاتا پیچھے کی طرف گیا ، وہاں خواتین کے لئے زیورات وغیرہ رکھے تھے ، وہ کچھ بے بسی اس تک آئ
” یہ کس کے لیے لینا ہے ؟”
” مورے ، پریزے ، اور کسی اور کے لئے “
” پریزے کون ہے ؟”
اتنا تو وہ جانتی تھی پشتو میں ماں کو مورے کہا جاتا ہے ، اس نے کسی اور کا نہیں پوچھا ، ہوگا کوئ
” میری چھوٹی بہن ۔۔۔”
وہ محبت سے مسکرایا ، پھر سر جھٹکا ” اسے زیورات کا بہت شوق ہے ،لیکن مسئلہ یہ ہے کہ میں خواتین کی شاپنگ کے معاملے میں نالائق ہوں ، کیا آپ کچھ مدد کردیں گی ؟”
” ہاں ۔۔ضرور ۔۔۔”
وہ گہری سانس لیتی سٹال تک آئ ، جھمکے ، چوڑیاں ،بریسلٹ ، چند شال
” اسے کیا پسند ہے ؟”
” کوئ بھی زیور ۔۔۔۔”
معطر نے سر ہلادیا ، کچھ جھک کر وہ نیچے رکھے جھمکے دیکھنے لگی ، سیاہ ریشمی بال پھسل کر دائیں طرف آئے ، بائیں ہاتھ سے انہیں سیدھا کرتے ہوئے اس نے ایک جھمکا اٹھایا ، چوڑیوں کا ساز بج اٹھا ، ساتھ ٹھہرے بنجارے کی نظر ان چوڑیوں پر گئ ،پھر چوڑیاں پہننے والی پر ، وہ ہونٹی کانٹتی سوچتے ہوئے جھمکے دیکھ رہی تھی ، وہ کئ لمحے اس چہرے کو دیکھتا رہا ، کچھ بے خیالی ،کچھ بے اختیاری میں
” سنان۔۔۔۔”
چونک کر وہ ہوش میں آیا ، معطر دو جھمکے کے سیٹ اٹھائے اسے دکھا رہی تھی
” یہ کیسے ہیں ؟”
سفید رنگ کے ہلکے سے جھمکے ، اس نے بس سر ہلادیا ، معطر نے وہ دکان دار کی طرف بڑھا دیئے
” کچھ اور لینا ہے ؟”
” جی “
” کیا ؟”
” کسی کے لئے کسی کی طرف سے کچھ لینا ہے “
” کس کی طرف سے کس کے لئے ؟”
” جس کی طرف سے لینا ہے وہ بتانا نہیں چاہتا ، جس کے لئے لینا ہے بتادیا تو وہ لے گی نہیں ، آپ یوں ہی پسند کرلیں “
” ہر کسی کی پسند مختلف ہوتی ہے ،میں کیسے لوں ؟”
وہ متذبذب تھی
” لے لیں معطر، اسے پسند آجائیں گی “
وہ بھنویں سکیڑتی اسے دیکھنے لگی
” یہ آپ کی کوئ خاص ہیں کیا ؟”
سنان نے مسکراہٹ دبائ
” اگر ہیں تو ؟”
” تو اس کے لئے اپنی پسند سے لیں “
” فلحال آپ کی پسند سے لے لیتا ہوں “
” میرا پسند کیا گیا انہیں پسند نا آیا تو ؟”
” آجائے گا”
وہ مطمئن تھا ، وہ گویا ہار مانتی واپس پلٹی
” کیا پسند ہے انہیں “
” چوڑیاں۔۔۔۔”
وہ ٹھٹکی ، رک کر اسے دیکھا، وہ اسی پرسکون چہرے کے ساتھ ٹھہرا تھا ، جیسے وہ نا جانتا ہو وہ کیوں رکی تھی ،وہ سر جھٹکتے سٹال کی طرف مڑی ، دو سیٹ لے کر سنان کو دے کر وہ دور ہٹ گئ ، جیسے زمہ داری پوری ہوگئ ہو ، سنان پیمنٹ کرتا پلٹا تو وہ جو ایک دکان کو دیکھ رہی تھی اس کے پلٹنے پر اندر کی طرف گئ ، لمبی اور وسیع دکان جہاں کتابوں کا قدیم زخیرہ موجود تھا ، قدیم برطانوی مصنفین سے لے کر جدید مصنفین تک کی کئ کتابیں ، وہ ریکس کو دیکھتی ایک جگہ پر رکی ، ریک سے کتاب نکال کر ہاتھ میں تھامی ، سنان نے جھک کر کتاب کا نام پڑھا
“Islamophobia in Britain ‘ the making of a Muslim enemy”
نیچے برطانوی مصنفہ leaoni. B Jackson ” کا نام لکھا تھا
” آپ کو سیاست میں دلچسپی ہے ؟”
وہ حیران ہوا تھا
” نہیں ہونی چاہئے ؟”
” ہوسکتی ہے ” وہ رکا پھر مسکراہٹ دبائ ” ویسے میں نے کہیں پڑھا تھا کہ جو عورت چوڑیاں پہنتی ہو اور سیاست پر بحث کرتی ہو اس سے ہر مرد کو پناہ مانگنی چاہئے ، وہ اپنے زہن اور دل دونوں سے تمہیں متاثر کردے گی “
وہ کتاب لیتی دکاندار کی طرف جارہی تھی، اس نے لفافے میں ڈال کر معطر کو دی تو وہ سنان کی طرف مڑی
” اور اس کتاب کے مصنف کا نام سنان سعدی ہے ۔۔۔ رائٹ ؟”
وہ ہلکا سا ہنس دیا
” میں اتنا زہین کہاں ۔۔۔۔ “
وہ جیب سے والٹ نکالتے ہوئے اس میں سے پاؤنڈز نکال رہا تھا ،معطر کی نظر والٹ پر گئ پھر اس نے ہاتھ میں تھامی کتاب دکان دار کی طرف واپس بڑھائ ، سنان رکا
” آپ نہیں لے رہیں ؟”
” اگر قیمت آپ دیں گے تو ہاں “
لہجہ پرسکون تھا
” میرے ہوتے ہوئے آپ قیمت دیں یہ مجھے منظور نہیں”
” میں اپنی لی گئ چیز کی قیمت خود دے رہی ہوں سنان ، آپ کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے “
” میری غیرت ۔۔۔۔۔”
” اپنی غیرت سے کہیں میرے اصولوں کے بیچ نا آئے “
سنان کا ہاتھ جیب کی طرف گیا، والٹ جیب میں ڈالتے وہ کچھ خفگی سے اسے دیکھنے لگا ،اس نے بنا پرواہ کئے قیمت ادا کی اور دروازہ کھولتی آگے بڑھی
” یہ بہت غلط بات ہے ویسے “
” میرا اصول سمجھ لیں ، میں تحفے قبول کرلیا کرتی ہوں ، وہ تحفے جو کوئ بنا مجھے بتائے میرے لئے لے کر آئے ، اگر آپ مجھے بتا کر میرے لئے کچھ لے رہے ہیں یا میں اپنے لئے کچھ لے رہی ہوں اور آپ اس کی قیمت ادا کرنا چاہ رہے ہیں تو مجھ سے یہ توقع مت رکھیں کہ میں آپ کو ایسا کرنے دوں گی “
وہ دونوں ساتھ ساتھ چلتے آگے بڑھ رہے تھے ، گلی پتھروں والی تھی ، قدیم دور کے راستوں جیسی ، اردگرد چند اونچے لیمپ بھی تھے ، اونچی عمارتیں تھیں ، چند پر مختلف رنگ کا پینٹ کیا گیا تھا ،یوں جیسے کسی نے سفید اور سیاہ چننے کی بجائے رنگوں کو منتخب کیا ہو ، جیسے اہل برطانیہ نے رنگ چنتے وقت کہا ہو زمین کے سات رنگ ہیں زمین والے خود جو رنگ پہنتے ہیں وہ عمارتوں کو کیوں نہیں پہناتے ؟ ، اسے وہ رنگوں سے سجی عمارتیں زیادہ پیاری لگیں
” کوئ مرد آپ کا بل بھرنا چاہ رہا ہے تو میرا نہیں خیال اس میں کچھ برا ہے جب کے آپ اس کے ساتھ ہیں “
” اگر قیمت ادا کرنے والا آپ کا بھائ یا والد ہو تو ، دوسرے ہر مرد کے ساتھ خریدی جانی والی چیز کی قیمت عورت کو خود دینی چاہئے ،تاکہ ہر مرد آپ کو میسر نا سمجھنے لگے ، جو مرد آپ کی خریدی گئ چیزوں کی قیمت ادا کررہا ہے آپ اپنے آپ کو اس کے لئے میسر بنا رہی ہیں ، وہ سوچے گا کہ وہ جب چاہے آپ کو صرف چند نوٹوں کے بدلے متاثر کرسکتا ہے ، موجود رہیں میسر نہیں “
” آپ میرے بارے میں ایسا سوچ رہی ہیں ؟”
” میں نے آپ کا نام تو نہیں لیا “
وہ ایک شاپ کے سامنے رک گئ ، اندر پرانے دور کے چند ملبوسات ٹھہرے تھے ، کچھ قدیم دور کی شہزادیوں جیسے ، کچھ ویٹیکن زمانے کے
” آپ نے کبھی برطانوی شہزادیوں کے بارے میں پڑھا ہے سنان ؟”
” مجھے ان خواتین سے کوئ خاص دلچسپی نہیں ہے “
اس نے کاندھے اچکائے
” میں انہیں پسند کرتی ہوں ، ملکہ وکٹوریا کو ، مجھے اس عورت کا تاریخ میں کردار پسند ہے ، باوجود اس کے کہ میں اس کے اعمال کو پسند نہیں کرتی ، میں اس کی سیاسی حکمت عملی کے بھی خلاف ہوں، بطور اس ملک کا باشندہ ہونے کے بھی جس پر اس نے قبضہ کیا تھا میں اسے ناپسند کرتی ہوں ،لیکن مجھے تاریخ میں یہ عورت ہمیشہ پسند رہی ہے ، اس ایک عورت نے ہندوستان کے مرد حکمرانوں کو اکیلے ہرایا ، وہ ملکہ تھی ، اس کا تخت اسے ملکہ نہیں بناتا تھا ، اس کا عمل بناتا تھا ، وہ ایک اچھی عورت نہیں تھی لیکن وہ ایک عظیم ملکہ تھی “
کوٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے وہ سامنے دیکھ رہی تھی ،نظر سامنے رکھ تاج پر تھی ، سنان رخ موڑے اسے دیکھ رہا تھا
” اس کی جگہ کوئ بھی ہوتا تو یہی کرتا ، اس کے سر پر تخت رکھا گیا تھا اسے ملکہ بننا پڑا “
“اور ہم اس دور میں ہیں جہاں عورت کو تاج نہیں اس کا عمل ملکہ بناتا ہے ، اٹھی گردن ، مضبوط آواز ، دو ٹوک اصول ، ہر وہ عورت ملکہ ہے جو دنیا کو اپنے جوتے کی نوک پر رکھنا جانتی ہے “
” آپ ایسی ہی عورت ہیں “
معطر نے رخ موڑ کر اسے دیکھا ، وہ چہرے پر سادگی لیکن آواز مضبوط تھی
” کاش میں ایسی عورت ہوتی ،لیکن میں اتنی مضبوط نہیں ہوں ،،،،، چلیں ؟”
وہ بیگ سیدھا کرتی آگے بڑھ گئ
” آپ مزید کچھ نہیں لیں گی ؟”
” میری پسند کا یہاں مزید کچھ نہیں ہے “
” چوڑیاں بھی نہیں ؟”
” آپ کو لگتا ہے مجھے صرف چوڑیاں پسند ہیں ؟” ۔وہ ہلکا سا مسکرائ
” اب تک ۔۔۔ ہاں “
” چوڑیوں کے علاوہ بھی اور چیزیں ہیں دنیا میں “
” جیسے کہ ؟”
وہ ساتھ چل رہا تھا ، اسے لمحے اسے احساس ہوا ، ان دونوں کا لباس ایک رنگ کا تھا ، اسے ان رنگی برنگی عمارتوں میں سیاہ عمارتیں زیادہ پیاری لگیں
” جیسے کہ سبز پہاڑوں پر گرتی برف ، کسی ندی کا ٹھنڈا پانی اور اس میں پاؤں ڈال کر بیٹھنا ، کسی سنسان گلی میں بجتا مدھر سا ساز۔ کوئ ٹھنڈی نرم پشاوی چادر ، چند محبت بھرے بول ،لمبی فہرست ہے “
” خاصی رومان پرور ہیں آپ “
” میں صرف ایک مشرقی لڑکی ہوں “
” مشرق کا حسن “
وہ رک کر اسے گھورنا چاہتی تھی جب موبائل بجنے کی آواز پر رک گئ ، بیگ میں ہاتھ ڈال کر موبائل نکالا اور نمبر پر نظر پڑتے چہرہ زرد ہوا
تیمور کالنگ
اسے یاد آیا وہ نمبر ڈلیٹ کرنا بھول گئ تھی ، اسے یاد آیا اس نے یہ بھول جان بوجھ کر کی تھی ، اسے یہ بھی یاد آیا کہ وہ سرخ اینٹوں والی گلی میں کسی اور کے ساتھ ٹھہرا تھا ، کسی اور کو دیکھ رہا تھا ، کسی اور کے ہوتے ہوئے وہ اسے کیوں کال کررہا تھا ؟
اس کا ہاتھ ہلکا سا کپکپایا ، سنان اسے ہی دیکھ رہا تھا
” سب ٹھیک ہے ؟”
وہ چونکی ، سر اٹھا کر اسے دیکھا ، پھر نمبر کو ، کسی شے کے زیر اثر اس نے کال اٹھاتے فون کان سے لگایا ، دوسری جانب خاموشی تھی ، وہ اس خاموشی کو بھی سن سکتی تھی
” معطر۔۔۔۔۔”
وہ لہجہ ، وہ نام ، وہ آواز ، اس نے چار سال اس نام کو دیئے تھے، آنکھیں جلنے لگیں
” کیسی ہو ؟”
وہ کہنا چاہتی تھی جس حال میں وہ چھوڑ کر گیا تھا وہ اس حال میں تھی ، جن مقام پر وہ چھوڑ کر گیا تھا وہ اسی مقام پر اٹک گئ تھی ، لیکن زبان آج الفاظ بھول گئ ، وہ یہ بھی بھول گئ کہ وہ کیمڈن پیسیج کی گلی میں کسی پشاور کے سنان سعدی کے ساتھ ٹھہری تھی ، وہی سنان سعدی جو لاہور کی معطر صبا کے چہرے کو بغور دیکھ رہا تھا
” کیا ہم چند منٹ بات کرسکتے ہیں ؟”
اسے آخری نظر یاد آئ پھر اس نے گہری سانس لی
” آئندہ مجھے کال مت کرنا ، تمہارا نمبر بلاک کررہی ہوں “
کال کاٹتے اس نے وہیں کھڑے کھڑے نمبر بلاک کردیا ، زندگی سے وہ پہلے ہی جا چکا تھا
” کیا کوئ آپ کو تنگ کررہا ہے ؟”
سنان فکرمندی سے پوچھ رہا تھا
وہ کہنا چاہتی تھی کہ ہاں
سینے کے بائیں جانب
جہاں دل تھا
اس دل کو کوئ تنگ کررہا تھا
” نہیں۔۔۔۔”
” آپ جانتی ہیں اسے ؟”
اس نے یقیناً دیکھا تھا کہ نمبر سیو تھا
” جانتی ہوں “
وہ بیگ میں موبائل ڈالتی دھیمے سے آگے بڑھنے لگی
” کون تھا “
” تیمور حیدر ۔۔۔۔”
سنان کے قدم تھمے ، اس نے ان قدموں کا تھمنا نہیں دیکھا تھا ، وہ آگے چل رہی تھی ، کیمڈن کی ساری رونق ماند پڑگئ تھی ، ہر شے نے طلسم کھو دیا تھا ، جو سینے کی بائیں جانب تنگ کررہا تھا اس نے سینے میں دھواں بھردیا تھا ، وہ اسٹیشن کی طرف جارہی تھی ، جو اس کے ساتھ تھا اس نے دیکھا اس کے قدم مضبوط تھے، وہ لڑکھڑائ نہیں تھی ، اسے یاد آیا چند روز قبل ازلنگٹن کی گلیوں میں جب وہ اس کے ساتھ ٹھہری تھی تو اسی نام پر اس کا چہرہ زرد پڑا تھا ، تیمور حیدر ۔۔۔۔ کون تھا یہ ؟
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
تیمور حیدر ، وہ محبت نہیں رہا تھا تو زخم کیوں بن گیا تھا ؟ زخم تھا تو بھر کیوں نہیں جاتا تھا ؟ وہ آگے بڑھ گیا تھا تو اسے کیوں یاد کررہا تھا ؟ دو دن تک فون سے دور بھاگتی رہی ، پاکستان سے آنے والی ہر کال اسے ایک اسی کال کی یاد دلانے لگی تھی، وہ ہر کال نظر انداز کرنا چاہتی تھی
لیکن وہ کال پاکستان سے نہیں تھی ، وہ اسی اجنبی ملک سے تھی ، کیفے کے میجر ولیم کی کال
” معطر کیا تم کیفے دوبارہ جوائن کرسکتی ہو ؟”
” جی ؟”
وہ سٹپٹا گئ
” میں تمہیں زیادہ اچھی سیلری کے ساتھ جاب دوبارہ آفر کررہا ہوں ، کیا تم یہ آفر قبول کرسکتی ہو ؟”
” میں۔۔۔ میں بتاتی ہوں “
” ضرور لیکن پلیز مجھے مایوس مت کرنا “
یہ معجزہ کیسے ہوگیا تھا ؟ اپنے پیارے ایرک کی وجہ سے اسے جاب سے نکالنے والے ولیم کو یکدم اس کی ضرورت کیسے پڑ گئ ؟ اس نے بانو آپا کو بتایا تو وہ ہتھے سے اکھڑ گئیں
” لعنت بھیجو اس پر ، کم ظرف انگریز ، اب کیوں یاد آگئ اسے ؟ “
انہیں گویا تپ چڑھ گئ تھی ، وہ بتا کر شدید پچھتائ ،پھر سوچا جا کر ایک بار ملنے میں کوئ حرج نہیں ، سو وہ اس صبح کیفے چلی گئ ، مایا وہیں تھی اسے دیکھ کر یکدم آگے بڑھتے گلے لگا لیا
” میں تمہیں واپس دیکھ کر تم سے زیادہ خوش ہوں “
وہ نروس سا مسکرائ ، آفس میں گئ تو ولیم سر خود اٹھ کر استقبال کے لئے آئے ، وہ مزید حیران ہوئ
” آئ ایم سوری معطر ۔۔ مجھے تمہیں سننا چاہئے تھا ، میں شرمندہ ہوں “
وہ شرمندگی کی ایکٹنگ اچھی کررہے تھے ، اس نے سر ہلادیا
” دیکھو۔۔ اب سب بھول جاؤ ، ہم نئے سرے سے تمہیں جاب آفر کرتے ہیں ، یوں سمجھو کچھ ہوا ہی نہیں “
” میں جاب نہیں کرسکتی سر “
وہ سنجیدہ تھی
” ایسا مت کہو ، تم کہو تو میں سب کے سامنے جاکر تم سے معافی مانگ لوں گا “
” اس کی ضرورت نہیں “
” نہیں ، ہے ضرورت ، ایسا کرو چلو باہر چلتے ہیں ، اٹھو “
وی اٹھے کھڑے ہوئے
” سر ۔۔پلیز بیٹھ جائیں ، مجھے کوئ سوری نہیں سننا ، مجھے کوئ شکوہ نہیں “
” پھر جاب قبول کرلو “
” سر۔۔۔۔”
” دیکھو معطر ۔یوں سمجھو میں کنگال ہو جاؤں گا ، پلیز مجھے کنگال ہونے سے بچالو ، “
وہ متذبذب تھی لیکن اس نے آفر قبول کرلی ، مسئلہ ان کا نہیں اس کا اپنا تھا ، اسے فلوقت دوسری جاب کی اشد ضرورت تھی، اسٹور کی ٹائمنگ شام تک تھی ، کیفے کی صبح تو وہ مینیج کرلیتی ، یوں لگا جیسے کوئ بوجھ کاندھوں سے سرکا ہو
، وہ باہر آئ تو مایا آخری کسٹمر نپٹاتی اس کے ساتھ ہی باہر آگئ
” یہ ولیم سر کو کیسے رحم آگیا ؟”
” رحم ؟ ان پر تو رحم کا کبھی گزر بھی نہیں ہوا ، وہ ایک مفاد پرست انسان ہیں “
” مجھے واپس رکھنے میں کیسا مفاد ؟”
وہ حیران تھی، مایا یکدم رکی پھر اِدھر اُدھر دیکھا ، اس کے چہرے پر بے چینی تھی جیسے کچھ بتانے کے لئے متذبذب ہو
” انہیں ایرک نے کہا تھا “
” کیا ؟”
اس کا صدمے سے منہ کھل گیا
” افف ، آہستہ بولو ، میں بتاتی ہوں کیا ہوا ” وہ پکڑتی بینچ پر بیٹھ گئ ” کل ایرک آیا تھا اس نے دھمکی دی کہ اگر معطر کو واپس نا رکھا تو اس بار وہ اخبار میں ایسی ایسی خبریں چھاپے گا کہ ہیلتھ اتھارٹی والے خود آکر یہ کیفے بند کریں گے ، ولیم سر ہیلتھ اتھارٹی والوں سے نہیں اخبار والوں سے ڈرتے ہیں ، کیفے بند ہوجاتا “
اسے کوئ نیل کے سمندر میں ڈبو دیتا تب بھی وہ یقین نا کرتی ، ایرک کیان اور اس پر اس قدر مہربان ؟ اس کا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا تھا ؟ یا پھر وہ اس سے بدلہ لینے کا کوئ پروگرام بنا رہا تھا ؟ اسے یکدم فکر سی ہوئ
” میں منع کردیتی ہوں جاب کے لئے”
یہی صحیح تھا
” پاگل مت بنو ، آسان ٹائنمنگ ہے اور بہترین سیلری ، موقع ضائع مت کرو “
یہ ٹھیک تھا ، سب ٹھیک تھا لیکن ایرک ؟ اسے خدشات تھے اور بدترین تھے
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اگلے دن اس نے دوبارہ کیفے جوائن کرلیا ، دوپہر دو تک اسے اسٹور پہنچنا تھا ، رات آٹھ کی شفٹ تھی ، زندگی یکدم مصروف ہوگئ تھی ، اسے اس مصروف زندگی سے کوئ شکوہ نہیں تھا
” اوہ ، تم واپس آگئیں ؟”
وہ کپ واپس رکھ کر پلٹی تو وہ سامنے سے آرہا تھا ، نیلی جینز ، سبز شرٹ ، کیمرہ گلے میں، کاندھے پہ بیگ ، ایرک کیان
” تمہیں دکھ ہوا ؟'”
” تم مجھے کتنا غلط سمجھتی ہو ” اسے افسوس ہوا ” میں ہر کسی کی خوشی میں خوش ہوتا ہوں سوائے ان کے جنہیں مجھ سے زیادہ خوشی ملے “
” کتنے خود غرض ہو تم “
” کتنا سچ بولتا ہوں میں ، مجھ سے منافقت نہیں ہوتی ، میں ایک اور سچ بولنا چاہتا ہوں ،مجھے تمہیں دیکھ کر واقعی خوشی ہوئ ہے “
” بالکل ، اسی لئے تم نے مجھے جاب پر واپس رکھوایا ہے تاکہ مجھے تنگ کرو اور مزید خوش ہوسکو “
وہ چند لمحے کو چپ رہ گیا
” لوگوں کو باتیں پیٹ میں رکھنی آنی چاہئیں “
” میری مدد کیوں کی ہے؟”
وہ غصے سے اسے گھورتی آگے کو ہوئ
” دیکھو ، تمہیں جاب سے میں نے نکلوایا تھا ، گو مجھے بالکل بھی احساس نہیں ہے کہ میں نے غلط کیا تھا ، لیکن تمہاری غلطی کی اس سے چھوٹی سزا ہوسکتی تھی ، مجھے تمہیں وہ دینی چاہئے تھی”
” اور کیا ہے وہ چھوٹی سزا ؟”
اس کا ماتھا ٹھنکا
” کیا میں تمہیں بیوقوف لگتا ہوں کہ تمہیں اس سزا کا بتاؤں گا ؟”
” ایرک ۔۔۔ میں یہ جاب چھوڑدوں گی اگر تم نے مجھے تنگ کیا تو “
” بائے گاڈ ، میرا یقین کرو اتنا برا نہیں ہوں میں ” اس نے آنکھیں گول گول گھمائیں ، معطر خفگی سے پیچھے ہوئ
” اچھا ایسا ہے کہ اب کیونکہ ہماری صلح ہوچکی ہے تو تعارف کروادیتے ہیں “
وہ کرسی کھینچتا سامنے بیٹھ گیا ،گویا فراغت سے تھا
” کس نے کہا ہماری صلح ہوچکی ہے ؟”
” میں نے ۔۔۔ تمہیں نہیں کرنی تو ٹھیک ہے لیکن میں تم سے صلح کرتا ہوں “
اس نے کچھ نہیں کہا یہ وہ انسان تھا جس کی دشمنی بھی بری تھی ، دوستی بھی
” آغاز میں کرتا ہوں ،میں ایرک کیان ہوں ، جرنلزم میں گریجویشن کررہا ہوں، تم مجھے مستقبل میں نیویارک ٹائمز میں ، بی بی سی میں دیکھو گی ، اگر تم چاہو تو ابھی آٹوگراف لے سکتی ہو،میں مشہور ہونے کے بعد تمہیں پہچاننے سے انکار کردوں گا “
کتنا خوش فہم تھا وہ
” تمہارے خواب تمہیں مبارک ہوں “
” میرے خواب مجھے مبارک ، اب تم اپنا انٹروڈکشن کرواؤ “
” میں معطر صبا ہوں ، “
” واؤ ،مجھے تو علم ہی نہیں تھا”
اس نے سامنے آتے کسٹمر کو کافی کا کپ پکڑاتے ہوئے اسے گھورا
” اس کے علاؤہ کیا جاننا ہے تمہیں ؟”
” اس کے علاوہ سب جاننا ہے مجھے “
وہ کچھ بے زاری سے کاؤنٹر سے ٹیک لگا گئ ، جب تک اسے جواب نا دیا جاتا وہ وہیں چپکا رہتا وہ جانتی تھی
” میں پاکستان میں پنجاب سے ہوں “
” خوش قسمت پنجاب ، پنجاب میں کہاں سے ؟”
” لاہور ۔۔۔۔”
” لاہور کو مبارک ، تھوڑا مزید بتاؤ، لاہور میں کہاں سے ؟ “
اس نے سامنے کھڑے لڑکے کو گھورا
” تمہیں کیوں میرے گھر کا ایڈریس جاننا ہے ؟”
” کیونکہ ممکن ہے میں کسی دن تمہارے گھر آؤں “
” میں تمہارا استقبال نہیں کروں گی “
” میں زبردستی آجاؤں گا “
وہ مسکرایا
” مجھ سے اچھائ کی امید مت رکھنا ، میں تمہیں باہر نکال دوں گی “
” کیا پاکستان میں سب اتنے ہی بے مروت ہیں ؟”
” جو ہیں میں ان میں سے ہوں “
” جو نہیں ہیں ،میں ان کے گھر ٹھہر جائوں گا “
” ہم زبردستی کے مہمانوں کو پسند نہیں کرتے “
” میں پہلے پسند آنے کی کوشش کروں گا پھر مہمان بنوں گا “
افف انگریزوں کی زبان
” کیا تم جانتے ہو تم کتنا زیادہ بولتے ہو ؟”
” کیا تم جانتی ہو تم کتنا بے مقصد بولتی ہو ؟ پانچ منٹ میں ایک گھر کا پتہ تم نہیں بتاسکیں “
” پانچ منٹ میں تم یہ نہیں جان سکے کہ میں تمہیں ایڈریس نہیں بتانا چاہتی ؟”
” اور پانچ منٹ میں کیا تم یہ نہیں جان سکیں کہ میں ایڈریس جانے بغیر نہیں جائوں گا ؟،کیا تم جانتی نہیں ہو میں کتنا ڈھیٹ ہوں “
افف انگریزوں کی ڈھٹائ
” دماغ مت کھائو “
” میں بدمزہ چیزیں نہیں کھاتا “
اللہ یہ شخص گویا جملے زبان پہ رکھتا تھا
” تم ہر شے کھاجاتے ہو ، اس لئے کسی اور کا دماغ جا کر کھاؤ “
وہ ہاتھ جھلاتی مڑ گئ ، ایرک اٹھتا دوبارہ کاؤنٹر تک آیا
” یہ بتاؤ تم لاہور والے زندہ کیسے رہ لیتے ہو ؟”
” کیا مطلب ؟”
” مطلب یہ کہ لاہور میں سردی میں آخری مرتبہ ایئر کوالٹی انڈیکس 1165 ریکارڈ کی گئ تھی ، عالمی ادارہ صحت کے مطابق سب سے خطرناک حد بھی 300 ہے ، تم لوگ کس سیارے کی مخلوق ہو ؟”
جانے وہ تعریف کررہا تھا یا طنز لیکن اسے بیک وقت سبکی اور تھوڑے سے فخر کا احساس ہوا
” تمہیں کیسے معلوم ؟ ، یہ سب جھوٹ ہے، لوگ لاہور کو بدنام کرنا چاہتے ہیں “
” میں ایک جرنلسٹ ہوں ، تم مجھ سے باتیں نہیں چھپا سکتیں “
” یہ سب جھوٹ ہے سمجھے ، اور ٹھیک ہے ، ہر جگہ برائ ہوتی ہے ، ازلنگٹن بھی خاصہ ترقی یافتہ ہونے کے باوجود کرائم ریٹ میں لندن کے دیگر علاقوں سے زیادہ ہے ، لاہور میں بھی چند زیادہ نہیں چند برائیاں ہوں گی ، اب تم بھاگو یہاں سے “
وہ سختی سے کہتی اپنے کام کی طرف متوجہ ہوگئ
” یہ اچھا تو نہیں لیکن برا طریقہ بھی نہیں ہے کہ سوال کرنے والے کی برائیاں بتائ جائیں تاکہ وہ تمہاری برائیوں پر سے نظر ہٹا لے “
وہ چند لمحے رک کر اس کے تبصرے کا انتظار کرتا لیکن وہ گویا مصروف تھی ایرک کاندھے اچکاتا باہر کی طرف بڑھا ، دروازہ کھول کر نکلتے ہوئے وہ یونہی رکا ، رخ موڑ کر اسے دیکھا ، وہ رجسٹر پر شاید کوئ حساب کتاب چیک کررہی تھی ، سیاہ ایپرن سر پر مخصوص سیاہ کیپ ، ایک لٹ باہر نکل رہی تھی ، اس کا ہاتھ کیمرے کی طرف بڑھا ، آنکھوں پر رکھ کر فوکس کیا اور یونہی بے ارادہ اس کی دو تصویریں اتار لیں ، کیمرے کو واپس گلے میں ڈالتے ہوئے وہ ہونٹوں پر سیٹی کی کوئ دھن بجاتا باہر بڑھ گیا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
