192.3K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Laa (Episode 25)

Laa By Fatima Noor

( اس ناول میں بیان کئے گئے تمام واقعات فرضی ہیں کسی حقیقی واقعے سے مماثلت محض اتفاق ہوگی )

” آپ اس سے کہیں صرف ایک بار مجھے سن لے “

بانو آپا نے تھک کر اپنے سامنے بیٹھے اس لڑکے کو دیکھا تھا

” وہ تمہیں نہیں سننا چاہتی “

” میری ہر کہانی اب اس سے جا کر جڑتی ہے آپا ۔ اسے ایک بار تو میری بات سن لینی چاہئے “

” وہ تمہاری طرف کی کہانی سننے کے لئے بہری ہوچکی ہے”

” وہ میرے ساتھ غلط کررہی ہے”

” آغاز کس نے کیا تھا ؟”

وہ کچھ دیر کو بالکل چپ رہ گیا پھر سر جھکا کر سفید جوگر دیکھے

” میں ہمیشہ غلط رہا ہوں ۔ میں سمجھتا رہا کہ میں صحیح ہوں ۔میں یہ سمجھنے میں بھی غلط تھا ۔ وہ مجھ سے ناراض ہے تو صحیح ناراض ہے لیکن اسے صرف ایک بار میری بات سن لینی چاہیے”

” تم دونوں بہت مختلف ہو “

” اس میں میرا قصور تو نہیں آپا ۔ میں اس کے ملک سے ہوتا ۔ہم دونوں کا مذہب ایک ہوتا تو ہماری کہانی مختلف ہوتی لیکن میرے دل نے اس سے محبت کرتے وقت نا اس کا مذہب دیکھا تھا نا اس کا ملک “

” تم اپنا دل برباد کررہے ہو ایرک “

اُنہیں افسوس ہوا ۔ کچھ عرصہ پہلے ہی کی بات تھی جب انہیں یہ لڑکا ہنستا مسکراتا ملا تھا ۔ کس قدر ظالم تھی یہ محبت

” ہاں ایسا ہی ہے لیکن یہ میرا دل ہی تھا جس کی وجہ سے سب شروع ہوا “

” اگر میں تمہیں اس کا ایڈریس دے دوں تو تم کیا کروگے ؟”

اس کا جھکا سر اٹھا

” میں اس کے ملک جاؤں گا ۔ اس کے شہر ۔ مجھے اس سے ایک بار ملنا ہے ۔ ہماری آخری ملاقات تلخ تھی ۔ مجھے اسے بتانا ہے کہ جو کچھ میں نے کہا وہ میں نہیں چاہتا تھا “

” اور پھر جانتے ہو کیا ہوگا ؟” ۔۔۔وہ صوفے پر آگے کو ہوئیں” تم پاکستان جاؤگے اس سے ملو گے ۔ بات کروگے اور واپس آجاؤگے لیکن تم نہیں جانتے تم اس کے لئے کیسی تباہی چھوڑو گے ۔ وہ جس معاشرے سے ہے وہاں ایک غیر مسلم کا اس کے لئے پاکستان جانا اسے معاشرے میں بدنام کردے گا ۔ اس کا باپ مر چکا ہے ایرک ۔ اور جن بیٹیوں کے باپ مرجائیں معاشرے کے دل سے ان کے لئے رحم مٹ جاتا ہے “

وہ کچھ کہے بغیر خاموشی سے اُنہیں دیکھتا رہا ۔ وہ مشرق کے اصولوں سے واقف نہیں تھا نا وہ مشرق کی روایات جانتا تھا

” آپ چاہتی ہیں میں اسے بھول جاؤں ؟”

” اگر اس سے سچی محبت کرتے ہو تو اس کے لئے مشکلات مت بڑھاؤ “

” اور میں اپنے دل کا کیا کروں ؟”

” اپنے دل کو سکھادو کہ معطر اور تم کبھی نہیں مل سکتے “

الفاظ زہر جیسے تھے ۔ اس کا اندر تک خالی ہوا ۔ الفاظ موت جیسے تھے اندر تک کسی نے جان کھینچ لی

تو یہ تھا دل کا قصہ ؟

تو یہ تھی دل لگانے کی سزا ؟

تو یوں کہانی ادھوری رہ جانی تھی ؟

اس کا دل اس ایک میں اٹکا اور ہر شے سے بے زار ہوگیا ۔ وہ ایک بار سن کر تو جاتی ۔ ایک بار اس کی طرف کی معذرت ۔ ایک بار اس کی طرف کی کہانی ۔ کچھ تو ۔ ادھوری ملاقاتوں کا غم اسے بھی برداشت کرنا ہوگا ؟

اور ایسا ہوا تو کیوں ہوا ؟ اسے اس سوال کا جواب چاہئے تھا اور وہ جانتا تھا اسے یہ جواب کہاں ملے گا

” مجھے فہد معظم سے ملنا ہے”

وہ سفید عمارت تھی جو اینجل اسٹیشن سے دس منٹ کے فاصلے پر بنی تھی ۔ عمارت کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا ۔ صحن کے ایک طرف مسجد اور دوسری طرف سینٹر

” آپ کا نام ؟”

” ایرک کیان”

” آپ ان کے کمرے میں انتظار کریں وہ نماز پڑھ کر آتے ہیں “

وہ سر ہلاتا نوجوان کی معیت میں آفس کی طرف گیا ۔ کرسی کھینچ کر بیٹھتے اس نے طائرانہ نگاہ سے پورے کمرے کا جائزہ لے لیا ۔ حجرہ نما کمرہ جس میں صرف صوفے اور چھوٹی سی کرسی اور میز پڑی تھی ۔ میز کے پیچھے ڈھیروں کتابیں ۔ وہ سربراہی کرسی کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گیا ۔ ٹانگ پر ٹانگ جمالی ۔ کرسی سے ٹیک لگاتے دو انگلیاں ہونٹوں پر جماتے دوسرے ہاتھ سے وہ میز پر رکھا پیپر ویٹ گھمانے لگا ۔ اسے صرف ایک سوال پوچھنا تھا ۔ اس ایک سوال سے ہزاروں سوال نکل آتے ۔ لیکن وہ آج یہاں سے اپنا سوال پوچھے بغیر جانے والا نہیں تھا

دفعتاً پیپر ویٹ گھماتی انگلیاں رکیں ۔ سینٹر کے ساتھ بنی مسجد سے اذان کی آواز آرہی تھی ۔ اذان مکمل ہونے تک اس کی انگلیاں رکی رہیں ۔ سماعت اسی طرف متوجہ رہی ۔ عجیب کیفیت ہونے لگی ۔ سر جھٹکتے اس نے توجہ اردگرد کرنا چاہی میز پر تھوڑا سا سامان رکھا تھا ۔ لیپ ٹاپ ۔ ایک نوٹ پیڈ ۔ پینسل اور

اس کی نظر سربراہی کرسی کے سامنے رکھی سیاہ کتاب پر گئ ۔ وہ کتنی ہی دیر وہیں دیکھتا رہا پھر دھیرے سے اٹھتے کرسی کے سامنے آیا

وہ قرآن کا انگلش ترجمہ تھا ۔ سیاہ خوبصورت جلد پر لکھا الہامی کتاب کا نام ۔ اس کے ہاتھ کتاب کی طرف بڑھے ۔ یونہی ہاتھ اس پر رکھتے اس نے درمیان سے کوئ صفحہ کھولا ۔ سامنے سیاہ عربی حروف درج تھے ۔ نیچے انگلش ترجمہ

“اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی سے قائم رہنے والے اور اللہ کے لیے سچی گواہی دینے والے بنو، چاہے وہ (گواہی) خود تمہارے اپنے خلاف ہو، یا والدین اور رشتہ داروں کے خلاف۔ خواہ وہ مالدار ہو یا فقیر، اللہ ان دونوں کا زیادہ خیر خواہ ہے۔ پس خواہش نفس کی پیروی نہ کرو کہ انصاف سے ہٹ جاؤ۔ اور اگر تم زبان مروڑو یا پہلو تہی کرو، تو یقیناً اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے۔”

( سورہ النساء: آیت نمبر 135 )

وہ کتنی ہی دیر اس آیت کو دیکھتا رہا ۔ ایمان والے ؟ وہ ایمان والا نہیں تھا ۔ خطاب اس سے نہیں کیا جارہا تھا پھر وہ کیوں مسحور ہورہا تھا ؟ کیفیت عجیب کیوں ہوئ تھی ؟ اس نے صفحہ آگے کرنے کے لئے ہاتھ بڑھایا ہی تھا جب دروازہ کھلا اور چالیس کے قریب کا کوئ شخص اندر آیا ۔ ایرک نے چونک کر سر اٹھایا

” السلام علیکم ۔ میں فہد معظم ہوں ۔آپ مجھ سے ملنا چاہتے تھے ؟”

سیاہ پینٹ پر انہوں نے سفید ٹی شرٹ پہن رکھی تھی ۔ چہرے پر مٹھی بھر داڑھی اور ہونٹوں پر مسکان سجائے وہ اندر آئے ۔ وہ جو کسی شلوار قمیص میں ملبوس لمبی سی داڑھی والے انسان کی توقع کررہا تھا کچھ مایوس ہوا ۔ یہ کیسے اس کے سوالوں کے جواب دیں گے ؟

” جی ۔۔۔ میں ایرک کیان ہوں “

” معذرت ۔ جماعت کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا اس لئے لیٹ ہوگیا ۔ آپ بیٹھئے “

اپنی کرسی کی طرف آتے اُنہوں نے ایرک کو اشارہ کیا تو وہ کچھ خفت سے پیچھے ہٹا

” آئ ایم سوری میں صرف یہ دیکھ رہا تھا “

وہ کرسی کی طرف واپس آیا

” معذرت کس لئے ؟ میری کتاب تو نہیں ہے ۔ یہ تو سارے عالم کی ہے ۔ آپ کے لئے بھی ۔ دیکھ سکتے ہیں پڑھ سکتے ہیں ۔ اٹھا سکتے ہیں “

وہ نرمی سے مسکراتے ہوئے کرسی پر بیٹھے

” یہ مسلمانوں کی نہیں ہے صرف ؟”

” ساری دنیا کے لئے ہے ۔ مانتے صرف مسلمان ہیں ۔ جیسے اللہ سب کا رب ہے ۔ لیکن مانتے صرف مسلمان ہیں “

اس نے کچھ نہیں کہا ۔ فہد معظم اب کریڈل سے کسی کو کافی لانے کا کہہ رہے تھے ۔ کریڈل رکھ کر اس کی طرف متوجہ ہوئے

” مجھے ہاشم بھائ نے آپ کی آمد کا بتایا تھا ۔ کس سلسلے میں ملنا تھا آپ کو ؟”

تو گویا اُنہیں یقین تھا کہ وہ اسلامک سینٹر جائے گا

” ایک سوال پوچھنا تھا “

” ضرور ۔۔ پوچھئے “

وہ کچھ دیر خاموش رہا ۔ الفاظ جوڑے پھر دونوں کہنیاں ٹیبل پر رکھے سیدھا ہوا

” میں ایک لڑکی سے محبت کرتا ہوں ۔ وہ مسلمان ہے اور میرے اسے پرپوز کرنے پر اس نے شادی کے لئے منع کردیا کیونکہ اس کے بقول ایک مسلمان عورت کسی غیر مسلم سے شادی نہیں کرسکتی ۔ میں اسلام کو زیادہ نہیں جانتا ۔ جتنا جانتا ہوں وہ تاثر ماضی میں اچھا نہیں رہا ۔ لیکن آپ سے یہ جاننا چاہتا ہوں کہ ہر حکم یا قانون کے پیچھے کوئ نا کوئ لاجک ہوتی ہے ۔ مجھے اس حکم میں لاجک نظر نہیں آرہی ۔ میں توہین نہیں کررہا آپ کے مذہب کی ۔ میرا سوال صرف یہ ہے کہ یہ حکم کیوں دیا گیا ہے ؟”

فہد معظم خاموشی سے اسے سنتے رہے پھر قرآن غلاف میں لپیٹتے دوسری طرف رکھا اور اسے دیکھا

” آپ کس مذہب کو مانتے ہیں ؟”

” ویسے تو کوئ نہیں لیکن آپ عیسائیت کہہ لیں “

” یعنی آپ ملحد ہیں ؟”

” میرے لئے مذہب کا ہونا نا ہونا برابر ہے ۔ لیکن میرے ڈاکیومنٹس پر عیسائیت لکھا ہوا ہے تو میں اسے اپنا مذہب کہہ دیتا ہوں “

اس نے کاندھے اچکائے

” آپ کے والد کا کیا مذہب ہے ؟”

” وہ کرسچن ہیں “

” اور والدہ ؟”

” جیوز ( یہودی ) “

وہ بنا اکتائے جوابات دیتا رہا ۔ فہد معظم اب دروازے کی سمت دیکھ رہے تھے جہاں سے کوئ لڑکا دو کافی کے کپ لا رہا تھا ۔ ایک ایرک اور دوسرا ان کے سامنے رکھتے وہ چلا گیا تو وہ دوبارہ ایرک کی طرف متوجہ ہوئے

” یعنی آپ کے والد عیسائ ہیں اور والدہ یہودی “

اس نے سر کو خم دیا

” اب میں آپ سے ایک سوال کرتا ہوں ایرک ۔ آپ کے ڈاکیومنٹس پر وہ مذہب کیوں لکھا ہوا ہے جو آپ کے والد کا ہے ۔ آپ کی والدہ کا مذہب کیوں نہیں ؟”

وہ کچھ دیر کو چپ رہ گیا

” شاید اس لئے کہ جب میرے ڈاکیومنٹس بنے تو میں ڈیڈ کے ساتھ رہتا تھا “

” یعنی اگر آپ اپنی والدہ کے ساتھ ہوتے تو آپ کے ڈاکیومنٹس پر آپ کا مذہب یہودیت ہوتا ؟”

” شاید نہیں ۔۔۔ تب بھی وہ ڈیڈ کی مرضی سے لکھا جاتا “

وہ پہلی بار الجھا

” اس کی وجہ کیا ہے ؟”

” ڈیڈ مذہب کو لے کر تھوڑے سے سخت ہیں ۔ اس لئے مام سے شادی کرتے وقت اُنہوں نے اپنا مذہب تبدیل نہیں کیا تھا ۔ بلکہ مام نے تبدیل کیا تھا “

” آپ کی والدہ نے آپ کے والد کے لئے اپنا مذہب تبدیل کیا تھا ؟”

اس نے سر ہلادیا ۔ یہی تو وہ سوچ تھی جو اس سے اتنی بڑی غلطی کرواگئ تھی ۔ مام کرسکتی ہیں تو کوئ بھی کرلے گا

” ٹھیک۔۔ اب آپ کے سوال کی طرف آتے ہیں کہ اسلام عورت کو غیر مسلم سے شادی کی اجازت کیوں نہیں دیتا ۔۔۔ ویسے تو ہم لوگ سمعنا و اطعنا والے لوگ ہیں لیکن آپ کیونکہ لاجک جاننا چاہ رہے ہیں تو آپ کے لئے لاجک سے جواب دے دیتے ہیں تو بات یوں ہے ایرک آپ کا جواب آپ کے دیئے گئے جوابات میں ہی چھپا ہے ۔۔۔”

” کیسے ؟”

” آپ نے کہا کہ آپ مذہب کو نہیں مانتے لیکن اگر چننا پڑا تو آپ عیسائیت چنیں گے کیونکہ یہ آپ کے والد کا مذہب ہے ۔ اب فرض کریں کسی مسلمان عورت کی غیر مسلم سے شادی ہوجاتی ہے ۔ ان کی اولاد ہوتی ہے ۔ گھر میں دو مختلف مذہب ہیں تو اولاد کس مذہب کی طرف زیادہ متوجہ ہوگی ؟ یقیناً اسی مذہب کی طرف جو ان کے والد کا ہے جس طرح آپ کے معاملے میں ہوا ۔ عورت گھر میں مرد کی نسبت کم اثر ورسوخ رکھتی ہے ۔ وہ اپنی اولاد کو ایسا کرنے سے نہیں روک پائے گی اور نتیجتاً ایک مسلمان عورت کی اولاد غیر مسلم کے طور پر پروان چڑھے گی ۔ اسلام اپنے ماننے والوں کو ہر معاملے میں بہت سہولت دیتا ہے لیکن آپ اسلام سے یہ توقع کیسے رکھ سکتے ہیں کہ وہ اپنے ماننے والوں کو یوں اپنا مذہب تبدیل کرنے دے ؟ اور خود کو آگ میں جلانے دے؟ ۔ اس کے علاوہ عورتیں جذباتی ہوتی ہیں ۔ یہاں بھی آپ کی مثال لے لیتے ہیں ۔ شادی کے وقت آپ کے والد نے مذہب تبدیل نہیں کیا بلکہ والدہ نے کیا ۔ اس طرح اس بات کے بھی چانسز ہیں کہ ایک مسلمان خاتون شادی کے بعد اپنے شوہر کو خوش کرنے کے لئے اپنا مذہب تبدیل کرلے ۔ یہ بھی خود کو تباہ کرنا ہے ۔ آپ اسلام سے اس چیز کی توقع رکھتے ہیں ؟”

وہ ہلکا سا مسکرائے ۔ ایرک کیان وہیں تھم گیا ۔ سامنے کی آسان سی شے تھی جو نظروں سے اوجھل تھی ۔ پھر وہ کھنکھارتے ہوئے آگے کو ہوا

” لیکن معاملہ اس کے برعکس بھی تو ہوسکتا ہے ؟ جیسے ممکن ہے وہ غیر مسلم مرد اسلام سے متاثر ہو کر اسلام قبول کرلے ؟”

” چانسسز ہیں لیکن بہت کم ۔ یوں کہہ لیں تیس فیصد ۔ اب صرف تیس فیصد کے چانس پر اتنا بڑا حکم تبدیل نہیں کیا جاسکتا “

” میں نے اس لڑکی سے کہا تھا کہ اگر وہ چاہے تو میں اس کے لئے اسلام قبول کرسکتا ہوں “

وہ بے ساختہ بولا

” ان خاتون کے لئے ؟”

ایرک نے صرف سر ہلایا

” آپ اپنی ہجرت دنیا کے لئے کرنا چاہتے تھے ؟” وہ سر جھٹکتے مسکرائے پھر اسے دیکھا ” خاتون نے کیا کہا ؟”

” اس نے کہا کہ مجھے یہ فیصلہ اس کے لئے نہیں لینا چاہئے”

” بالکل صحیح کہا اُنہوں نے ۔ اسلام صرف مذہب نہیں ہے ایرک ۔ ہمارے لئے ہماری پوری زندگی اسی کے گرد گھومتی ہے ۔ ۔ آپ اس سفر کا آغاز ہی دنیا کے لئے کررہے تھے تو آگے آپ اس سفر میں کبھی بھی چل نا پاتے ۔ دل کے تقویٰ کی بجائے آپ نفس کی خواہش پر یہ فیصلہ لے رہے تھے ۔ آپ کو منع نہیں کیا جائے گا لیکن یہ پسندیدہ بھی نہیں ہے “

اور یہاں آ کر وہ رک جاتا تھا ۔ اتنی بڑی بات تو نہیں تھی یہ ۔ عورت کے لئے ہی صحیح وہ اسلام تو قبول کررہا تھا نا ۔ لیکن اس نے مزید کچھ نہیں کہا ۔ اب ان سوالوں کا مقصد ہی ختم ہوگیا تھا ۔لیکن اسے کچھ اور پوچھنا تھا

” میں ایک بات اور پوچھنا چاہتا ہوں “

” جی ؟”

” اگر میں یوسف اور یعقوب کا قصہ پڑھنا چاہوں تو مجھے یہ کہاں ملے گا ؟”

فہد معظم ہلکا سا مسکرائے

” ایک کتاب ہے جس میں یہ قصہ مذکور ہے ۔ وہ کتاب میں آپ کو دے دیتا ہوں وہاں سے پڑھ لیجئے گا “

وہ اپنی دائیں طرف پڑا قرآن اٹھا رہے تھے ۔ ایرک کی نظر غلاف میں لپٹے قرآن پر گئ

” اس میں ؟”

” جی سورہ یوسف میں یعقوب علیہ السلام اور یوسف علیہ السلام کا واقعہ مذکور ہے ۔ آپ کو یہیں مل جائے گا “

وہ اب قرآن اس کی طرف بڑھائے ہوئے تھے ۔ ایرک کے ہاتھ اسے اٹھانے سے انکاری ہو گئے ۔ عجیب وحشت اور کیفیت ہوگئ

” کہیں اور نہیں ملے گا ؟”

” مل جائے گا۔ احادیث میں ۔ قصص الانبیاء نام کی کتاب میں ۔ لیکن سب سے بہترین انداز بیان میں آپ کو یہ واقعہ یہاں ملے گا “

اس نے بمشکل اپنے ہاتھ قرآن کی طرف بڑھائے ۔ دونوں ہاتھوں سے اسے تھاما ۔ اندر باہر کچھ عجیب بھر گیا

” اگر مجھے یہ قصہ سمجھ نا آیا تو ؟”

” دنیا میں اس کتاب سے زیادہ آسان اور کوئ کتاب نہیں ۔ یہ نا ممکن ہے کہ آپ کو یہ سمجھ نا آئے “

ایرک کیان کے گلے میں گلٹی ابھری ۔ اسے یہ کتاب رکھ دینی چاہئے ۔ وہ اس کے ہاتھ پر بھاری پڑ رہی تھی لیکن وہ واپس نہیں کرسکا ۔ ان سے ملتے ۔ کمرے سے باہر نکلتے ۔ گاڑی تک آتے ہاتھ کے ساتھ ساتھ دل بھی بھاری ہونے لگا ۔ گاڑی کے دروازہ کھولتے اس نے احتیاط سے ڈیش بورڈ پر وہ کتاب رکھی پھر جھٹکے سے سیدھا ہوتے گہرا سانس لیا ۔ عجیب کیفیت تھی

” ایرک ۔۔۔”

وہ بے اختیار پلٹا ۔ پیچھے شایان ٹھہرا تھا ۔ وہ دروازہ بند کرتے اس تک آیا اور ہاتھ ملایا

” تم پاکستان نہیں گئے ؟”

وہ حیران ہوا

” جارہا ہوں ۔ کل فلائٹ ہے لاھور کی “

لاھور ۔ شہر محبت ۔ شہر محبوب

” تم لاھور سے ہو نا ؟”

” ہاں “

وہ کچھ تذبذب میں لگ رہا تھا جیسے کچھ کہنا چاہتا ہو

” وہاں کسی ایسی جگہ کو جانتے ہو جہاں مسجد کے سامنے کوئ گھر ہو اور مسجد کی چھت سے کسی کمرے کی کھڑکی نظر آتی ہو ؟”

تو کیا اب وہ رک رک کر ہر کسی سے پوچھتا پھرے گا ؟

” وہاں ہر دوسرے محلے میں مسجد کے سامنے گھر ہے ۔ تم کیوں پوچھ رہے ہو ؟”

وہ الجھا ۔ ایرک نے سر جھٹکا ۔ مسجد کے سامنے کا گھر ۔ جس کی چھت سے کمرہ نظر آتا تھا ۔ اس کمرے کی کھڑکی پر کسی نے چوڑیاں لگا رکھی تھیں ۔ وہ یہ پوچھتا بھی تو کیسے ؟

” ویسے ہی پوچھ رہا تھا “

” تم یہاں کیا کررہے ہو ؟”

اس نے رخ موڑ کر عمارت کو دیکھا

” کچھ کام تھا ۔ چلتا ہوں اب “

وہ مڑنے لگا جب پیچھے سے شایان کی آواز ابھری

” مجھے تمہیں کچھ بتانا تھا “

ایرک پلٹا

” کیا ؟”

” ایکچولی ۔ جس آدمی کے خلاف تم نے خبر چلوائ تھی اسے علم ہوگیا ہے “

وہ جو بے زاری سے ٹھہرا تھا سیدھا ہوا

” تیمور حیدر ؟”

” ہاں وہی ۔ وہ میرے ڈیڈ کے پاس آیا تھا انہیں ڈرایا دھمکایا “

” اور تمہارے ڈیڈ نے بتا دیا کہ خبر میں نے چلوائ تھی ؟”

وہ نا غصہ ہوا نا کچھ اور ۔ بس وہی اکتایا انداز

” وہ ڈیڈ کو مارنے کی دھمکی دے رہا تھا ۔ آئ ایم سوری “

” چھوڑو یارر ۔ میں تو جیسے ڈر گیا ہوں نا “

ایرک سر جھٹکتے پلٹنے لگا لیکن پھر یکدم جیسے کوئ خیال سا آیا

” یہ کب کی بات ہے ؟”

” ہمارے اگزیمز سے بارہ دن پہلے ۔ یعنی چار ماہ پہلے ۔ مجھے تاریخ یاد رہ گئ کیونکہ ڈیڈ بہت پریشان تھے اس معاملے کو لے کر “

چار ماہ پہلے جب معطر یہاں سے گئ تھی ۔ تب ؟ اس کا دماغ الجھا

” تمہارے ڈیڈ کیوں پریشان تھے ؟”

” وہ مجھے اور تمہیں نقصان پہنچاتا “

” مجھے کوئ خطرہ نہیں تھا اس سے ۔ البتہ تم اب دھیان رکھنا “

سنجیدگی سے کہتے وہ کار کی طرف گیا۔ دروازہ کھولا اور سٹارٹ کردی ۔ چار ماہ پہلے معطر کے بابا کی وفات سے دو دن پہلے ؟ کیا یہ سب اتفاق تھا ؟

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

لیپ ٹاپ سامنے رکھے وہ تین گھنٹے سے وہی ویڈیوز دیکھ رہا تھا ۔ ایک بار دو بار ۔ کئ بار ۔ حامد رئیسی کے کیس سے لے کر سنان کے کیس تک ہر شے ۔ ایک دوبار جا کر معطر کا اکاؤنٹ چیک کیا وہ بند تھا ۔ وہ یا تو ڈلیٹ کرچکی تھی یا ڈی ایکٹیویٹ ۔ اس کے میسجز سین ہوچکے تھے لیکن جواب نہیں آیا تھا ۔ تو یعنی طے ہوگیا کہ وہ اس کی زندگی سے جا چکی تھی

چار گھنٹے تک جب اسے ان ویڈیوز اور کیس میں کچھ نظر نا آیا تو وہ تھک کر صوفے پر لیٹا اور اردگرد دیکھا ۔ چھوٹا سا دو بیڈرومز کا اپارٹمنٹ تھا جو اس نے حال میں کرائے پر لیا تھا ۔ وہ آج کل لندن میں رہ رہا تھا اور یہاں تنہای اور وحشت کے سوائے کچھ نہیں تھا ۔ اردگرد پھر سے وحشت ابھری تو اس نے دوبارہ سے لیپ ٹاپ سینے پر رکھا اور فائل کھولی ۔یہ سب حامد رئیسی کے کیس سے لے کر سنان کے کیس تک ساری معلومات تھیں ۔ اس کے زہن میں ہزاروں سوالات تھے ۔ حامد کو ثبوت نا ملنے کی بنا پر فلوقت رہا کردیا گیا تھا لیکن کیس جاری تھا۔ اگر پولیس کو اس کے قاتل ہونے سے متعلق ثبوت نہیں ملا تھا تو کیس خارج کیوں نہیں کردیا جاتا تھا ؟ اور سنان کے کیس میں جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا ان میں سے اب تک قاتل کی نشاندہی کیوں نہیں کی جاسکی تھی ؟ یہ سب پیچیدہ تھا یا بنایا جا رہا تھا ؟

فنسبری پارک سے لی گئ اور مارکیٹ کے راستے سے لئے گئے کیمرہ ریکارڈنگ سے اسے اتنا تو معلوم ہو گیا تھا کہ ہجوم کا رخ مارکیٹ کی طرف تھا لیکن بعد میں غیر متوقع طور پر ٹرسٹ کی طرف مڑ گیا تھا ۔ بظاہر عام سی بات تھی لیکن کچھ تو عجیب تھا

وہ اٹھ کر کمرے میں گیا اور واپسی پر اس کے ہاتھ میں سفید یو ایس بی تھی ۔ ہاشم بن عبد اللہ ٹرسٹ کے اس کیمرے کی ویڈیو جو چھت کے اوپر فکس کیا گیا تھا ۔ ہاشم بن عبد اللہ کے کہنے پر کہ وہ کیمرے خراب تھے اس نے یہ ریکارڈنگ چیک نہیں کی تھی ۔ وہ لوگ کیمرہ ریکارڈنگ ڈلیٹ کردیا کرتے تھے لیکن بقول ہاشم بن عبد اللہ کے اس کیمرے کی ریکارڈنگ چھ ماہ تک سیو رکھی جاتی تھیں ۔ وہ دو کمیراز کی ریکارڈنگ تھیں ۔ ایک عمارت کے بالکل اوپر لگا تھا جس سے صحن اور سڑک نظر آتی تھی ۔ دوسرا داخلی دروازے کے اوپر بنے ڈیزائن کے بیچ فکس کیا گیا تھا جہاں سے برآمدے کا منظر نظر آتا تھا

لیپ ٹاپ کے ساتھ یو ایس بی کنیکٹ کرتے اس نے فائل کھولی تو پل بھر کو ہاتھ تھمے پھر وہ چونک کر سیدھا ہوا ۔ وہاں دو ویڈیوز موجود تھیں ۔ تو یعنی کیمرے کام کررہے تھے ؟ اس نے تیزی سے وہ ویڈیوز کھولیں ۔ پہلی ویڈیو صبح سے لے کر ایک بجے تک کی تھی اس میں بظاہر سب عام تھا ۔ کوئ ایک بھی چونکانے والی بات نہیں تھی سوائے اس سرخ سوئیٹر والے آدمی کے جو دو مرتبہ ٹرسٹ کے باہر سے گزرا تھا اور دونوں مرتبہ سرسری سی نظر ٹرسٹ پر ڈالی تھی ۔ دوسری ویڈیو دوپہر ایک سے رات سات بجے تک کی ریکارڈنگ کی تھی ۔ وہ ویڈیو اس نے مکمل توجہ سے دیکھی تھی ۔ قریب دو بجے ٹرسٹ کے قریب ہجوم جمع ہونے لگا پہلے چند لوگ پھر زیادہ ۔توڑ پھوڑ ۔ اسلام کے خلاف نعرے ۔ مسلمانوں کے خلاف بیان بازی ۔ وہ ہاتھ ہونٹوں پر رکھے وہ سب دیکھتا رہا ۔ پندرہ بیس منٹ تک توڑ پھوڑ ہوتی رہی اور اندر سے کوئ باہر نا نکلا ۔ کیا ان لوگوں نے پولیس کو کال نہیں کی ؟ اس نے خود میٹرو بس پر بیٹھتے وقت پولیس کو ٹرسٹ پہنچنے کے لیے کال تھی ۔ پھر پولیس کہاں تھی ؟ وہ لوگ جب وہاں پہنچے تھے ان کے ساتھ ہی پولیس کی گاڑیاں رکی تھیں ۔ اتنی دیر عام بات تو نہیں تھی ؟ گو بعد میں پولیس کی طرف سے وضاحت کی گئ تھی کہ ہجوم کی وجہ سے انہیں دیر ہوگئ تھی لیکن وہ اس وضاحت سے مطمئن نہیں تھا

زہن سے خیالات جھٹکتے اس نے توجہ ویڈیو کی طرف کی ۔ حملے کے پندرہ منٹ بعد پولیس کی آمد پر اندر کا دروازہ کھلا تھا اور فاتح بھائ تیزی سے برآمدے سے گزرتے پچھلے راستے کی طرف گئے ۔ ان کے بعد سٹاف کے دو چار اور لوگ اور آخر میں سنان اور ہاشم بن عبد اللہ ۔ ہاشم بن عبد اللہ سنان سے آگے تھے ۔ برآمدے سے پیچھے کی طرف جاتے سنان لمحہ بھر کو رکا تھا وہ جانتا تھا وہ معطر کو دیکھ کر رکا تھا اور یہی وہ لمحہ تھا جب دو گولیاں عین اس کے دل کے مقام پر لگیں ۔ اس کے فوراً بعد ایک اور گولی چلی تھی لیکن چوک گئ ۔ آگے کا سارا منظر اس کے زہن میں تازہ تھا ۔ معطر کا سنان کے سامنے بیٹھنا ۔ اس کی آخری سانسیں ۔ میڈیکل سٹاف کی آمد۔ پولیس کا آنا ۔گرفتاریاں سب ایک دو گھنٹے میں نبٹ گیا تھا۔ وہ معطر کو بانو آپا کی طرف چھوڑ کر ہوسپٹل گیا تھا ۔ کلیئرنس کی ساری ذمہ داری اس نے نبھائ تھی

سر جھٹکتے اس نے وہ تکلیف کم کرنی چاہی ۔ وہ سنان سے بغض نہیں رکھتا تھا وہ اسے نا پسند بھی نہیں کرتا تھا ۔ اس ایک شخص کے جانے سے اس کا دل کا ایک حصہ خالی رہ گیا تھا

اگلے دو گھنٹے میں اس نے وہ ویڈیو کئ بار دیکھی ۔ چھت کے اوپر لگے ہونے کی وجہ سے پورے لان اور سڑک کا منظر صاف نظر آرہا تھا ۔ پولیس کو جو ویڈیوز ملی تھیں وہ مخصوص مقامات کی تھیں ۔ کچھ کیمروں کے رخ کسی اور طرف تھے کچھ کے کسی اور طرف ۔ لیکن یہاں جیسے ہر شے واضح نظر آرہی تھی ۔ ایک بار دو بار ۔ تین بار اور چوتھی بار ویڈیو دیکھنے پر دماغ میں کچھ کلک ہوا ۔ ویڈیو ریوائنڈ کرتے اس نے وہاں سے شروع کی جب سنان عمارت سے نکلتے چند سیکنڈز کے لئے رکا تھا ۔ ایرک کی آنکھیں سکیڑ گئیں ۔ دو سیکنڈز کی بات تھی صرف دو سیکنڈز کی لیکن سنان کی سفید سوئیٹر پر سرخ نقطہ ابھرا تھا ۔ ایک ہی مقام پر دو سیکنڈ کے لئے ۔ اگر سنان کو گولی اتفاقاً لگی تھی جیسا کہ پولیس کہہ رہی تھی کہ وہ ایک مشتعل شہری کی طرف سے غصے میں چلائ گئ تھی تو نشانہ باندھ کر چلانے کی کیا تک بنتی تھی ؟

اس نے صحن کے کیمرے کی ویڈیو کھولی ۔ لوگ ۔ہجوم ۔ مشتعل افراد ۔ وہ افسوس سے یہ سب دیکھتا رہا ۔ اسلاموفوبیا کا شکار شہری جن کے زہنوں پر مسلمانوں کے خلاف تعصب ڈال دیا گیا تھا ۔ یہ سب وہاں نا جاتے تو ۔۔۔۔

اور تبھی کئ کڑیاں بیک وقت اپنی جگہ پر آ گئیں

ہجوم کا رخ مارکیٹ سے ٹرسٹ کی طرف ہونا

سنان پر فوکس کر کے نشانہ باندھنا

دوسری گولی کا چوک جانا

اور یہ اسی وقت تھا جب اس پر انکشاف ہوا کہ یہ گولی اتفاقاً سنان کو نہیں لگی تھی ۔ اسے باقاعدہ پلینگ کرکے ماری گئی تھی ۔ وہ بے یقینی وے پیچھے ہوا ۔ پولیس اندھی تھی ؟ یا اُنہوں نے زیادہ غور نہیں کیا تھا ؟ اسے چند گھنٹے لگے تھے کڑیاں ملانے میں اور اوپر بیٹھے لوگ ان سب سے نا واقف تھے ؟

اور وہ آدمی ۔ کس تنویمی حالت میں اس نے صحن کی ویڈیو کھولی ۔ سرخ سوئیٹر والا آدمی پرتشدد ہجوم کے بیچ چپکے سے پیچھے کی طرف کھسکا تھا ۔ ان سب میں اس کا ہاتھ اپنی جیب پر تھا ۔ اور اسے لمحہ لگا سمجھنے میں کہ اس کی جیب میں کیا تھا ۔ وہ پسٹل اٹھائے ہوئے تھا ۔ زوم کرتے اس نے اس کی جیب کی طرف دیکھا ۔ ہلکا سا سیاہ رنگ کا پسٹل جو بہت غور کرنے پر نظر آتا تھا

اپنے موبائل میں ویڈیو بھیجتے اس نے سکرین شاٹ لے کر وہ ایک نمبر پر سینڈ کی اور کال ملائ ۔ اس کا دماغ ساکت ہورہا تھا۔ جو خیال آرہا تھا وہ نا قابلِ یقین تھا

” ہیلو ہیری “

دوسری طرف کچھ کہا جارہا تھا اس نے نہیں سنا

” تمہیں ایک آدمی کی تصویر بھیجی ہے ۔ مجھے پتا لگوا کر بھیج سکتے ہو کہ یہ کون ہے ؟”

اس کی نظر سرخ سوئیٹر والے پر گئ ۔ ادھیڑ عمر چست اور لمبے قد والا انسان

” ہے کوئ ۔ جتنی جلدی ہو سکے پلیز “

کال کاٹتے وہ صوفے پر آگے کو ہوا ۔ ہونٹوں پر مٹھی رکھ لی ۔ دوسرے ہاتھ سے دوبارہ وہ ویڈوز کھولیں ۔ سنان کو گولی لگنے کے بعد ایک اور گولی بھی چلی تھی ۔ بدقسمتی یا شاید کوئ اور وجہ لیکن وہ گولی چوک گئ تھی

ایرک جانتا تھا کہ وہ دوسری گولی ہاشم بن عبد اللہ کے لئے چلائ گئ تھی ۔ ان کی خوش قسمتی کے وہ بچ گئے تھے ۔ سنان کی بد قسمتی کہ وہ نہیں بچ سکا تھا

لیکن ان سب میں سوال یہ تھا کہ اب وہ کیا کرے گا ؟ کیا وہ یہ ساری باتیں پولیس کو بتائے تاکہ وہ مجرم کو گرفتار کرسکیں ؟ یا وہ کچھ اور کرے ؟ کیا پولیس یہ نہیں پوچھے گی کہ یہ کیمرے اب تک کہاں تھے ؟ اور ایک سوال جو اب بھی اس کے زہن میں تھا کہ ہاشم بن عبد اللہ جھوٹ بول رہے تھے یا کیمرے واقعی میں خراب تھے ؟

وہ نہیں جانتا تھا کہ سنان سعدی اپنی موت سے قبل وہ کیمرے بنوا کر گیا تھا

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

وہ اگلے دن شو سے پیک اپ کرکے گاڑی میں بیٹھ ہی رہا تھا جب اسے ہیری کی کال آئ

” یہ جوزف مارگریٹ ہے ۔ دس سال پہلے پولیس میں تھا ۔ بد عنوانی کے جرم میں پکڑا گیا ۔ پانچ سال قید میں رہا پھر باہر آیا تو چھوٹی موٹی نوکریاں کیں لیکن مستقل مزاجی کی وجہ سے ایک جگہ ٹک نہیں سکا ۔ اس کے بعد یہ ایک سال سے لا پتا تھا ۔ کچھ دن پہلے منظر عام پر آیا اور اب گمنامی کی زندگی گزار رہا ہے”

” اس وقت کہاں ہے ؟”

” ملک سے باہر ہے “

” اوکے ۔۔ تھینکس “

اس نے بمشکل کال کاٹی ۔ پولیس ۔ پولیس اور پولیس ۔ ان سب میں سب سے بدترین کردار پولیس کا رہا تھا لیکن اب اس پر واضح ہوا تھا کہ ان سب میں اہم ترین کردار بھی پولیس کا ہی تھا

اس کی گاڑی معلوم راستوں سے گزرتی فنسبری پارک پھر وہاں سے ٹرسٹ کے سامنے رکی ۔ زہن میں جھکڑ سے چل رہے تھے ۔ جو انکشاف ہوا تھا اور جو ہورہا تھا اس پر یقین کرنے میں صرف ایک سوال کا فاصلہ تھا

” ہاشم بن عبد اللہ اندر ہیں ؟”

کاؤنٹر پر آج کوئ لڑکا تھا

” جی لیکن وہ بس جارہے ہیں ۔ سر کہاں جارہے ہیں آپ ۔ رکیں “

وہ اس کی آوازیں نظر انداز کرتا راہداری سے گزرتا ان کے کمرے کی طرف آیا ۔ بنا دستک کے دروازہ کھولا تو میز کی دوسری پار کھڑے ہاشم بن عبد اللہ چونکے

” ایرک …”

” بات کرنی ہے آپ سے “

وہ سرخ پڑتی آنکھوں کے ساتھ ان کے سامنے ٹھہرا تھا

” اس وقت ؟”

” مجھے ابھی اور اسی وقت بات کرنی ہے “

میز پر دونوں ہاتھ رکھے وہ ہلکا سا جھکا ۔ چہرہ سخت تھا ۔ ہاشم بن عبد اللہ ٹھٹکے پھر دروازے کی سمت دیکھا

” ہاشم بھائ یہ زبردستی آ گئے تھے “

وہ لڑکا جھنجھلایا ہوا لگ رہا تھا ۔ انہوں نے ایرک پر ایک نظر ڈالتے لڑکے کو سر کا اشارہ کیا تو وہ باہر چلا گیا ۔ ایرک اس کے جانے کے بعد کرسی گھسیٹتا بیٹھا ۔ نظریں ان پر جما رکھی تھیں

” یہ میرے گھر جانے کا وقت ہے لیکن۔۔۔۔ “

” سنان کیا کرتا تھا ؟”

وہ ان کی بات کاٹ کر بولا تو وہ رکے ۔ ابرو تعجب سے اٹھے

” مطلب ؟”

” سنان سعدی کیا کام کرتا تھا ؟”

” وہ ایک کمپنی میں جونیئر مینیجر تھا “

” میں نے اس کا نہیں پوچھا ۔۔۔ وہ آپ کے پاس کیا کام کرتا تھا ؟”

اس نے چبا چبا کر ایک لفظ ادا کیا ۔ بس ایک جواب اور اس کا سارا بھرم ۔ سارا فخر ٹوٹ جائے گا

” وہ ٹرسٹ کی فنڈنگ کے لئے کام کرتا تھا “

” بس۔۔۔؟”

” اسلاموفوبیا کے خلاف ہماری مرکزی برانچ کا ہیڈ تھا”

ایرک اُنہیں دیکھتا رہا پھر وہ پیچھے کو ہوا ۔ بھرم ٹوٹا ۔ فخر خاک ہوا ۔ کسی نے زندگی کے پچیس سال کا غرور راکھ میں بدل دیا تھا

” وہ آپ کی اسلاموفوبیا کے خلاف کام کرنے والی برانچ کا ہیڈ تھا ؟”

” بالکل “

” وہ کتابیں جو آپ کے ٹرسٹ کی طرف سے لکھی گئیں جو مسلمانوں کے خلاف مغربی پالیسیز پر تنقید کرتی ہیں ان میں سے کوئ کتاب سنان نے لکھی تھی ؟”

” اس کی دو کتابیں ہیں لیکن وہ اپنے نام سے نہیں لکھتا تھا “

کوئ تھا جو اس کے اندر کچھ ختم کررہا تھا

” غیر ملکی اسلام مخالف پالیسز کے خلاف ہونے والی تحریکوں میں وہ شامل تھا ؟”

” بالکل ۔ میرے پیچھے سارا کام وہی دیکھتا تھا ۔ اسرائیلی پالیسیز کے خلاف تنقید ۔ امریکی نظام اور برطانوی پالیسز ان سب پر اس کے درجنوں کالمز ہیں “

وہ کچھ حیرانی سے ایرک کو دیکھ رہے تھے

” وہ پاکستان بھی اسی وجہ سے واپس نہیں جارہا تھا ؟”

” اس نے کبھی اقرار نہیں کیا لیکن ایسا ہی ہے “

اگلے کئ لمحے وہ خاموش رہا ۔ چہرے پر کچھ ٹوٹنے کی اذیت تھی ۔ کچھ تھا جو خاک میں ملا تھا

” تم یہ سب کیوں پوچھ رہے ہو ؟ یہ سب باتیں اکثر لوگوں کو معلوم ہیں ۔ ان میں کچھ چھپا ہوا تو نہیں ہے “

وہ یہ سب نہیں جانتا تھا ۔ اسے یہ سب جان کر فرق بھی نا پڑتا اگر اس پر تھوڑی دیر پہلے کا انکشاف نا ہوتا ۔ گلے میں ابھرتی گلٹی کے ساتھ وہ سیدھا ہوا

” آپ ٹھیک کہہ رہے تھے سنان کا قتل ہوا ہے لیکن قاتل جانتے ہیں کون ہے ؟”

ہاشم بن عبد اللہ کا سر نفی میں ہلا ۔ ایرک کے اندر کچھ ٹوٹا

” مغربی نظام کے وہ لوگ جو اسلام کے دشمن ہیں ۔ وہی طاقتور لوگ جن پر آپ مسلمانوں کی تباہی کا الزام لگاتے ہیں “

کمرے میں خاموشی چھا گئ ۔ اسے کڑیوں سے کڑیاں ملاتے اور اصل نتیجے پر پہنچنے میں صرف چند سوال درکار تھے ۔ معطر ٹھیک کہتی تھی سنان اسلام کے نام پر مارا گیا تھا ۔ وہ اسلام کے لئے لڑتے ہوئے مارا گیا تھا ۔ وہ مغربی نظام کا ناقد تھا ۔ وہ اس تنقید کے جرم میں مارا گیا تھا ۔ وہ اسلاموفوبیا کے خلاف کام کرتا تھا اسے اسی چیز کی سزا ملی تھی ۔ اس کا دل کیا وہ اس وقت پوری دنیا کو تباہ کردے ۔ اپنی زندگی کا بڑا عرصہ اس نے اس نظام کے دفاع میں خرچ کیا تھا ۔ وہ یونیورسٹی کا برائٹ سٹوڈنٹ مسلمانوں کے خلاف اور مغربی نظام کے حق میں بولنے کے لئے آگے آگے رہتا تھا ۔ وہ اس نظام کے لئے ہر ایک مسلمان سے لڑا تھا اور اب اس کا دل کررہا تھا وہ اس نظام کو تہس نہس کردے ۔ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ یہ صرف ایک نہیں کئ نظاموں کی شراکت تھی ۔ سنان صرف ایک نظام نہیں دنیا میں چودھراہٹ سمجھے جانے والے نظام کے خلاف لڑ رہا تھا

” تمہیں یہ سب کیسے پتا چلا ؟”

ہاشم بن عبد اللہ ششدر تھے

” کاش نا پتا چلتا ۔ ” اس نے سرخ پڑتی آنکھیں بند کرتے انگلیوں سے انہیں مسلا ” ٹرسٹ کی ویڈیوز میں ایک سرخ سوئیٹر۔۔۔۔”

وہ انہیں بتاتا گیا ۔ جو کچھ اسے علم ہوا تھا جیسے علم ہوا تھا ۔ کرب سا اندر بھرتا گیا ۔ اذیت سے ہوتی رہی

” اور وہ آدمی ؟”

ان کا ماؤف دماغ کچھ جاگنے لگا

” اس پولیس سے نکالے جانے والے کے پاس زندہ رہنے کے لئے رقم نہیں تھی وہ بیرون ملک کا سفر کس طرح کررہا ہے ؟ صاف ظاہر ہے اسے منظر سے غائب کردیا گیا ہے “

” یہ سب ۔۔۔”

انہیں سمجھ نہیں آئ وہ کیا کہیں

” آپ کو اتنی حیرانی کیوں ہورہی ہے ؟ آپ سر عام معربی نظام پر تنقید کرتے رہے ہیں اور آپ توقع کرتے ہیں کہ اوپر کے لوگ یہ برداشت کرلیں گے ؟”

” تو پھر یہ سب مجھ پر گزرنا چاہئے تھا ۔ وہ معصوم لڑکا کیوں نشانہ بنا ؟”

” آپ بھی نشانہ تھے “

اب کی بار وہ بری طرح چونکے

” کیسے ؟”

” سنان کو گولی لگنے کے بعد ایک اور گولی بھی چلی تھی ۔ آپ کی قسمت اچھی تھی کہ آپ دوسری طرف مڑ گئے تھے ورنہ میں یہاں بیٹھ کر آپ دونوں پر تحقیقات کررہا ہوتا۔ “

اس نے طنزیہ سر جھٹکا ۔ ہاشم بن عبد اللہ اگلے کئ لمحے اسے دیکھتے رہے پھر وہ جھٹکے سے اٹھے

” تو یہ ہے تمہارا وہ نظام جس کی تم حمایت کررہے تھے ؟ یہ نظام ایرک کیان ؟ جو اپنے اوپر ہونے والی حق تنقید بھی برداشت نہیں کرسکا ؟ کس قدر بزدل ہو تم لوگ “

وہ پھنکارے ۔ ایرک اسی طرح کرسی پر بیٹھا رہا

” میں سن رہا ہوں ۔ آپ اپنا غصہ نکال سکتے ہیں “

” غصہ ؟ تم مجھ سے پوچھو میں کیا کیا اندر رکھے ہوئے ہوں ۔ مزید کتنا گروگے تم لوگ ؟ اس بچے کا قصور کیا تھا ؟ صرف یہی کہ وہ اپنے دین کا امیج بہتر کررہا تھا ؟ اور تمہارے لوگوں سے یہی برداشت نہیں ہوا “

ان کا چہرہ غضب سے سرخ پڑ رہا تھا

” آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں “

اس نے بس سر کو خم دیا

” یا میرے اللہ ۔ میں کیا کروں ” وہ تھک کر کرسی پر بیٹھے ۔ آنکھیں نم ہو گئیں ” میں اس بچے کو کیسے واپس لاؤں ؟ کاش میں نے یہ سب شروع ہی نا کیا ہوتا “

پچھتاوا ۔ کرب ۔ اذیت ۔وہاں ہر شے گھل گئ ۔ ایرک کے گلے میں کچھ اٹکا ۔ کوئ روتی ہوئ آنکھیں یاد آئیں ۔ کسی یوسف کا زکر ۔ کسی یعقوب کا غم ۔ وہ ابھی تک نہیں جان پایا تھا کہ آنکھیں کیسے بینائ کھو دیتی ہیں

” ہم اسے واپس نہیں لا سکتے “

” کاش وہ جاتا ہی نا ۔ کس قدر کرب ہے دل میں ۔ میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا “

سر اٹھا کر اسے دیکھا ۔ تنفر اور حقارت سے۔ ایرک گہری سانس لیتا اٹھا پھر دونوں ہاتھ میز پر رکھے

” پہلی بات تو یہ کہ ان سب میں میرا قصور نہیں تھا اس لئے مجھ پر الزام مت لگائیں ۔ میں صرف اپنے نظام کو ڈیفینڈ کرتا رہا ہوں ۔میری جگہ ہوئ بھی ہوتا وہ یہی کرتا اور یہ غلط نہیں تھا ۔ جیسے آپ کے ملک کے سیاستدان اور صاحب اقتدار لوگوں کی پالیسیز کے پیچھے آپ اپنے ملک سے نفرت نہیں کرسکتے ویسے ہی میں بھی نہیں کر سکتا ۔ مسئلہ ملک میں نہیں ان لوگوں میں ہوتا ہے جو اسے چلاتے ہیں ۔ اس لئے آپ کی باتوں میں آ کر میں نا ہی خود کو کمرے میں بند کرکے بیٹھوں گا اور نا ہی آپ کی طرح سر پکڑ کر بیٹھوں گا کہ میں کیا کروں ۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ میں بہت کچھ کرسکتا ہوں ” وہ سیدھا ہوا پھر ایک زکام زدہ سانس اندر کھنچی کر ہاتھ جیبوں میں ڈالے ” میں اپنے اپارٹمنٹ پہنچنے کے ایک گھنٹے بعد آپ کو چند ویڈیوز بھیجوں گا ۔ اگر مجھے کچھ ہوجائے تو میں چاہوں گا کہ آپ سنان کے لڑیں “

” کیا مطلب ؟”

” میں نے اپنی زندگی کا آدھا حصہ گزارا ہے ہاشم صاحب ۔ یہ آدھا حصہ میں اسی نظام کا دفاع کرتا رہا ہوں جس نے مجھے آج منہ کے بل گرایا ہے ۔ میں اتنی طاقت نہیں رکھتا کہ اس نظام کو ختم کرسکوں جو ظالم بن گیا ہے لیکن میں اتنی طاقت ضرور رکھتا ہوں کہ ایک مظلوم کا بدلہ لے سکوں ۔ میں آپ کے رب پر یقین نہیں رکھتا لیکن میں اس انصاف پر یقین رکھتا ہوں جس کا حکم آپ کا رب دیتا ہے۔ پھر چاہے وہ انصاف میرے خلاف ہو یا میرے نظام کے خلاف چاہے وہ کمزور کے خلاف ہو یا طاقتور کے خلاف میں اس انصاف کے لئے لڑوں گا “

وہ ان پر ایک آخری نظر ڈالتا دروازے کی طرف بڑھا جب پیچھے سے آواز آئ

” تم کیا کرنے جارہے ہو ؟”

ایرک لمحہ بھر کو وہیں رکا رہا ۔ گلے میں گلٹی ابھری ۔ آنکھوں میں سختی

” میں ایک جنگ شروع کرنے جا رہا ہوں “

وہ دروازہ کھولتا باہر کی طرف بڑھ گیا

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆