Laa By Fatima Noor Readelle50338 Laa (Episode 1)
Rate this Novel
Laa (Episode 1)
Laa By Fatima Noor
یہ سر زمینِ لاہور ہے
اندرون گلیوں میں چوبارے بنے ہیں
کسی چوبارے کے پاس مسجد ہے
سفید محرابوں والی مسجد
مسجد کی چھت سے سامنے والے گھر کا کمرہ نظر آتا ہے
جس کی کھڑکی کھلی ہے
کھلی کھڑکی سے چوڑیوں کی کھنک باہر نکلتی ہے
قالین پر سفید دوپٹہ پڑا ہے
سفید لباس والی الماری کے پاس ٹھہری ہے
جو اپنے آنچل میں ستارے باندھ کر چلتی ہے
جس نے پہاڑوں کے بنجارے کی چوڑیاں اپنی کلائی میں سجا رکھی ہیں
معطر صبا !
وہ بیڈ سے کپڑے ، سامان ، چیزیں اٹھاتی الماری میں رکھتی جارہی تھی ، سفید چہرے پر مٹے مٹے آنسو کے نشانات تھے ، بال بکھرے تھے ، سامان رکھ کر نیچے پڑا دوپٹہ جھپٹ کر اٹھایا
” تم کیا کہہ کر آرہی ہو معطر ؟ “
دروازے پر دانیال ٹھہرا تھا ، چہرے پر افسوس اور ملامت لئے ، اس نے نظریں چرا لیں
” تم وہیں تھے اور تم نے سن لیا تھا جو میں نے کہا “
” تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے”
” چند دن سے ۔۔۔۔۔ ہاں چند دن سے”
وہ اسی افسوس کے ساتھ اندر آیا
” یہ مت کرو “
” میں نے طے کرلیا ہے ،میں یہ کروں گی “
” تیمور بھائ کا ہی سوچ لو “
تیمور ،ہاں تیمور ایک اسی کا سوچتی تھی تو دل ڈگمگا جاتا تھا
” میں چاہتی ہوں اب وہ میرا سوچے “
” تم خود اپنا کہاں سوچ رہی ہو”
” اپنا ہی سوچ رہی ہوں “
اس نے گال پر پھسلتے آنسو ایک بار پھر صاف کئے ، بیڈ پر بکھرا فالتو سامان اٹھا کر بیگ میں ٹھونسا
” ہمیشہ قربانی دینے کی ضرورت نہیں ہوتی معطر”
” جب ہوتی ہے یہ وہی وقت ہے “
” خود کے لئے اتنی ظالم مت بنو ..”
اس کا سامان باندھتا ہاتھ رکا ، چند لمحے وہ وہیں ٹھہری رہی پھر جیسے آہستہ سے تھک کر نیچے بیٹھی ، آنسو پھسل کر گرنے لگے
” میں دوسروں کے لئے رحم دل بننا چاہتی ہوں دانیال ، دوسرے بھی کون ؟ میرے ماں باپ ، مجھ سے خود کے لئے رحم دل بننے کا مت کہو ، خود کے لئے رحم دل بن گئ تو ان کے لئے ظالم بن جاؤں گی “
دانیال دکھ سے اسے دیکھتا آگے کو ہوا
” یہ تمہارا فرض نہیں ہے ، تم اپنی خوشیوں کا سوچو “
” تم چاہتے ہو میں اپنے بستر مرگ پر پڑے باپ کو چھوڑ کر اپنی خوشیوں کا سوچوں ؟ اتنی بے حس لگتی ہوں تمہیں ؟”
نظریں اٹھا کر دکھ سے اسے دیکھا ، دانیال چند لمحے کو بالکل چپ رہ گیا ، پھر وہ فرش پر اس کے ساتھ بیٹھا
” میں ہوں نا “
” تمہارا ہونا کافی نہیں ہے, بابا کو، امی کو میری ضرورت ہے ، ایسے میں شادی کے لئے کیسے ہاں کردوں ؟ تیمور کچھ عرصہ انتظار کرلے گا ، کچھ عرصہ تو کرہی لے گا “
” پھپھو نہیں کریں گی معطر “
وہ چپ رہ گئ ، سر گھٹنے پر ٹکا لیا ، آنکھ رو رو کر سوج گئ تھیں
” تیمور منا لے گا انہیں “
اس کی آواز کھوکھلی تھی ،لہجہ بے جان تھا ، دانیال تلخی سے مسکرایا
” وہ پھپھو کی اجازت کے بغیر سانس نا لیں ، پھپھو کو منائیں گے ؟”
وہ کچھ کہے بغیر سامنے دیکھتی رہی اور دانیال اسے
” وہ میری مجبوریاں سمجھتا ہے دانیال ، وہ میری خاطر پھپھو کو منا لے گا ، وہ محبت کا دعوے دار ہے ، جو محبت کا دعویٰ کرتا ہے وہ نبھاتا بھی ہے ” وہ سامنے دیکھتے بڑبڑائ تھی ،اور پھر اٹھ کھڑی ہوئ ” بابا کو دوائ دے دوں “
وہ دانیال کا جواب نہیں سننا چاہتی تھی ، وہ کہتا تھا تیمور اس سے محبت نہیں کرتا ، اور وہ یہ جملہ نہیں سننا چاہتی تھی
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
امی بڑبڑاتی ہوئ اسی چارپائ پر بیٹھی تھیں جس پر وہ انہیں چھوڑ کر گئ تھی ، بابا بھی وہیں تھے ، حسن چاچو بھی ، پھپھو اس کی موجودگی میں ہی چلی گئی تھیں ، وہ شادی کی تاریخ لینے آئ تھیں ، اس کے انکار پر سب سے پہلے اٹھ کر وہی گئ تھیں ، وہ بے تاثر چہرے کے ساتھ دوائ لائ ، پانی بھرا اور بابا کے سامنے کیا ، انہوں نے بنا کچھ کہے دوائ اٹھا لی
” تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے معطر”
سب سے پہلے حسن چاچو کی آواز سنائ دی
” میں صرف سب کا بھلا سوچ رہی ہوں چاچو “
” اسے بھلا نہیں بیوقوفی کہتے ہیں”
وہ لب بھینچتی خود کو کچھ کہنے سے باز رکھ گئ
” تم ہی کچھ سمجھاؤ حسن ، رضیہ کا مزاج کیسا ہے سب جانتے ہیں ، تیمور کے مجبور کرنے پر وہ شادی کررہی تھی اب بہانہ مل گیا اسے بھی “
” میرے سمجھانے کا کب اثر ہوتا ہے اس پر بھابھی ؟ آپ لوگوں نے ہی سر پر چڑھا رکھا ہے “
وہ حلق میں اٹکتے آنسو کے ساتھ کچن کی طرف جانے لگی ، راستے میں سیڑھیوں کے پاس دانیال ٹھہرا تھا ، لمحہ بھر کو وہ رک گئ ، دانیال کی نظر اس کی آنکھوں پر گئ ، پھر پیچھے بیٹھے حسن چاچو پر ، وہ لب بھینچے آگے بڑھا ، معطر کچھ بے بسی سے کچن میں گئ ، ٹرے رکھ کر ہاتھ سلیب پر رکھ لئے ، وہ آگے کا منظر جانتی تھی
” اتنی ہی آپ کو معطر کی فکر ہورہی ہے تو آپ لوگ ہماری مدد کیوں نہیں کرتے ؟”
چاچو نے چونک کر سر اٹھایا پھر اپنے سامنے کھڑے بیس سالہ دانیال کو دیکھا ، آنکھوں میں ناگواری ابھری
” تم دور رہو اس معاملے سے “
” میرے گھر کا معاملہ ہے چاچو ، جسے آپ باتیں سنارہے ہیں وہ میری بہن ہے “
” تو جا کر سمجھاؤ اپنی بہن کو کہ یہ بیوقوفی نا کرے “
وہ غصے میں آتے کھڑے ہوگئے ، دانیال نے لب بھینچ لئے
” وہ یہ بیوقوفی نہیں کرے گی اگر آپ لوگ بابا کا احساس کرلیں ، وہ یہ بیوقوفی نہیں کرے گی اگر آپ دکان سے آنے والی کمائ کا آدھا حصہ بھی بابا کی دوائیوں کے لئے دے دیا کریں ، وہ یہ سب صرف اسی وجہ سے کررہی ہے کیونکہ وہ اپنی شادی پر ہونے والے اخراجات سے بابا کو بچانا چاہتی ہے تاکہ وہ پیسے بابا کے کینسر کے علاج پر لگ سکیں “
لمحے بھر کو صحن میں سناٹا چھا گیا ، افتخار صاحب کا سر مزید جھک گیا ، فرخندہ کے لب ساکت ہوگئے ، معطر نے سلیب مضبوطی سے پکڑ لی، تھکی چکی آنکھیں مزید نہیں رونا چاہتی تھیں لیکن بے قابو آنسو پھسلنے لگے
” مجھ سے جو ہوتا ہے وہ کرتا ہوں دانیال ، ساری ذمہ داری میری نہیں ہے ، جو ہے وہ میں نبھا رہا ہوں “
حسن چاچو کو غصہ آیا
” اور جو آپ نہیں نبھارہے وہ معطر نبھا رہی ہے ، وہ اس گھر کی بڑی بیٹی نہیں بڑا بیٹا بھی ہے “
” تم اب مجھ سے زبان چلاؤگے ؟ تم خود کیا کررہے ہو ؟ چھوڑ دو پڑھائ اگر اتنی ہی فکر ہے اس کی تو ؟”
” آپ کی اطلاع کے لئے پارٹ ٹائم جاب کرتا ہوں میں ، اپنا خرچہ خود برداشت کررہا ہوں ، جو چند پیسے بچ جاتے ہیں وہ گھر لاتا ہوں آپ کی طرح نہیں ہوں جو ہمارے حق پر بھی ڈاکہ ڈال کر بیٹھے ہیں “
صحن میں زوردار تھپڑ کی آواز گونجی ، وہ سلیب سے ہاتھ ہٹاتی جھٹکے سے باہر گئ ،صحن کے دہانے پر قدم رک گئے ، بابا ششدر سے حسن چاچو کو دیکھ رہے تھے ، اماں بے یقینی سے ، اور دانیال۔۔۔۔۔ دانیال منہ پر ہاتھ رکھے سرخ پڑتی آنکھوں میں غصہ لئے انہیں گھور رہا تھا
” یہ تربیت ہے تمہاری ؟ چچا کے آگے زبان چلائوگے اب ؟ “
” آپ کی ہمت کیسے ہوئ ۔۔۔۔”
” دانیال ۔۔۔۔”
وہ جھٹ سےآگے آئ اور اسے تھاما ، دانیال کے الفاظ منہ میں رہ گئے
” تم جاؤ یہاں سے “
اس کے بازوں کو تھام کر پیچھے کیا ، آنکھوں میں ڈھیروں التجا تھی ، نم آنکھیں
” چاچو کہلوانے کے بھی حقدار نہیں ہیں آپ ، اس سے اچھا آپ یہاں آیا ہی نا کریں۔۔۔۔۔”
وہ چلایا
” تم چپ کرجائو ورنہ ۔۔۔۔”
وہ غصے سے کھولتے اس کی طرف بڑھے جب وہ بیچ میں آ گئ
” پلیز ۔۔۔۔ چاچو پلیز “
بے بسی سے ان کو دیکھا
” زبان قابو میں رکھو اس کی ، میرے پیسوں سے گھر چلتا ہے اور مجھ پر ہی بھونک رہا ہے “
وہ غصے سے کھول رہے تھے
” مجھے آپ سے زیادہ زبان چلانی ۔۔۔۔۔”
” دانیال چپ کر جاؤ ، خدا کا واسطہ ہے چپ کرجائو ، خدا کا واسطہ جاؤ یہاں سے “
اس تک آتے اسے دھکا دیا ، دانیال نے حسن چاچو سے نظریں ہٹا کر اسے دیکھا ، گہری دھونکنی کی مانند چلتی سانسوں سے وہ چند لمحے اسے گھورتا رہا پھر باہر کی طرف بڑھ گیا
” اسی دن کے لئے کہتا تھا کہ کنٹرول کریں اس پر ، دیکھیں کیسے۔۔۔۔”
اس نے مزید نہیں سنا ، جھٹکے سے بابا کی طرف گئ ، وہ سینے پر ہاتھ رکھے ہوئے تھے ، آنکھیں بند ہورہی تھیں
” بابا ۔۔۔۔۔”
اس کی چیخ صحن میں گونجی
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
چائے کا پانی ابل ابل کر سیاہ ہوگیا تھا لیکن وہ اسی طرح ساکت ٹھہری تھی جب کسی نے آکر گیس بند کی
” کس کے حصے کی سزا اس بچاری کو دے رہی ہو ؟”
چونک کر سر اٹھایا اور جیسی کچن کی باسی فضا میں گلاب کی مہک پھیل گئ
” تیمور ۔۔۔۔ “
وہ سامنے ٹھہرا تھا ، نیوی بلیو پینٹ پر سفید شرٹ پہنے غالباً آفس سے سیدھا یہیں آیا تھا ، خوش شکل ، لمبے قد والا تیمور حیدر
” تمہیں تو یاد آئ نہیں سوچا میں ہی مل آؤں “
وہ مسکرا کر کہتا سامنے سلیب سے ٹیک لگا گیا
” بابا کی طبیعت خراب ہوگئ تھی”
اس نے چولہا بند کردیا
” امی بتارہی تھیں “
چہرہ سنجیدہ ، آواز ہموار ہوگئ ، اس نے پیچھے ہوتے کرسی سے ٹیک لگالی
” تم ان سے ملنے آئے ہو ؟”
” ہاں۔۔۔۔ “
کچھ لمحے وہ دونوں خاموش ہو گئے
” شادی سے انکار کیوں کیا ہے تم نے ؟”
” انکار نہیں کیا ، فلوقت شادی سے انکار کیا ہے”۔تصحیح کی
” وجہ ؟”
” تم جانتے ہو “
” تمہارے پاس دو سال سے یہی وجہ ہے معطر”
” میرے پاس صرف ایک یہی وجہ ہے تیمور “
” ان کا علاج ہورہا ہے ، وہ ٹھیک ہوجائیں گے “
تسلی دی
” جب تک وہ ٹھیک نہیں ہوتے تب تک تم مجھے وقت نہیں دے سکتے ؟”
” میں تمہارے کہنے پر دو سال امی کو روک چکا ہوں ، تب ابھی ماموں کا کینسر ڈائگناز ہوا تھا ، اب مزید نہیں”
وہ کچھ بے بسی سے اسے دیکھنے لگی ، تیمور نے شانے ڈھیلے چھوڑے
” یوں مت دیکھو معطر صبا “
” یوں مت کرو تیمور حیدر “
” آخر کیوں ؟”
” تم ہمارے حالات سے واقف ہو تیمور ، بابا کے علاج پر سارا پیسہ لگ رہا ہے ، میں جو تھوڑا بہت کماتی ہوں وہ بھی ، جو تھوڑا بہت حسن چاچو دیتے ہیں وہ بھی ، ہمارے حالات ایسے نہیں ہیں کہ میری شادی پر خرچہ کیا جاسکے “
” ہم سادگی سے سب کرلیں گے “
” پھپھو نہیں چاہیں گے سادگی سے ، وہ دھوم دھام سے سب چاہتی ہیں ، شادی کے بعد وہ میری جاب کے حق میں نہیں ہیں اور میں جاب نہیں چھوڑنا چاہتی “
” مجھے تمہاری کمائ کی ضرورت نہیں ہے “
” اس گھر کو ہے، میں شادی کے بعد بھی اپنے خاندان کو سپورٹ کرنا چاہتی ہوں “
اس کی آواز میں شدید ترین بے بسی کوٹ آئ ، تیمور نے گہری سانس لی
” تم کیا چاہتی ہو ؟”
” کچھ وقت دے دو صرف کچھ وقت “
تیمور کچھ دیر اسے دیکھتا رہا
” کتنا وقت ؟”
اس کے پاس جو جواب تھا وہ بھاری تھا لیکن اسے دینا تھا
” جب تک میں واپس نہیں آجاتی “
” واپس ؟”
وہ چونکا ، وہ اگلے کئ لمحے اسے دیکھتی رہی ، جواب مشکل نہیں تھا لیکن اسے تیمور کو یہ جواب دینا مشکل لگ رہا تھا
” میں نے انگلینڈ کے ویزے کے لئے اپلائے کیا تھا “
” واٹ ؟”
وہ بے یقینی سے کہتا سیدھا ہوا
” نادر بھائ نے ایک جاب کا بتایا تھا ، ان کے دوست کو کچھ لڑکیوں کی کام کے لئے ضرورت ہے ، یہاں اتنے پیسے نہیں ملتے کہ میں بابا کا علاج کرواسکوں ، میں باہر جانا چاہتی ہوں تیمور “
وہ تیزی سے کہتی وضاحت دینے لگی ، اسے ڈر تھا وہ ناراض ہو جائے گا
” دماغ ٹھیک ہے تمہارا ؟ کس کی اجازت سے یہ حرکت کی تم نے ؟”
وہ لمحوں میں اس کے سر پر پہنچا
” ابھی کسی کو نہیں بتایا ، صرف تمہیں بتارہی ہوں “
” بتارہی ہو ؟ یعنی پوچھ بھی نہیں رہیں ، واللہ معطر صبا ، واللہ “
وہ بے یقین تھا
” میں مجبور ہوں تیمور ۔۔۔” اس کے آنسو بہہ نکلے ، اپنی بے بسی ، اپنی حالت پر جی بھر کر رونا آیا ” میں اپنے باپ کو مرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی ، ہمارے پاس مزید کچھ نہیں بچا جو بیچ سکیں ، کچھ نہیں بچا جو میں اپنے باپ کو بچانے کیلئے دے سکوں ، میرے پاس پوری دنیا ہوتی تو اپنے باپ کے لئے وہ بھی دے دیتی ،لیکن میرے پاس پوری دنیا نہیں ہے ، جو ہے وہ میں دے رہی ہوں “
” بس کردو یہ ذمہ داری کے بہانے معطر ، ایک تم نہیں ہو اس گھر میں ، دانیال بھی ہے ، اس پر بھی کچھ ذمہ داری آنے دو “
اسے ان آنسو پر رحم نہیں آیا تھا ، غصہ ہر شے پر غالب تھا
” وہ پڑھ رہا ہے تیمور ، جو کرسکتا ہے کر رہا ہے ، مجھے بتاؤ میں کیا کروں ؟ جو بابا کی پینشن ہے ، جو میری تنخواہ ہے ، وہ سب دے کر بھی میں انہیں نہیں بچا پارہی ،…..” وہ وہیں کرسی پر بیٹھتی چلی گئ ،تیمور غصے سے اسے گھور رہا تھا” تم اس اذیت کو نہیں سمجھ سکتے ، تم نہیں سمجھ سکتے جب آپ کو لگے آپ کا عزیز ترین شخص آپ سے چھینا جارہا ہے اور آپ اسے بچانے کیلئے کچھ نہیں کرسکتے ، “
وہ اس کی کرسی کے سامنے آیا
” مجھ سے وہ مت مانگو معطر جو میں نہیں دے سکتا ، میں جتنا کرسکتا تھا کرلیا ، جتنا تمہیں سپورٹ کرسکتا تھا کرلیا ،لیکن تمہارے نزدیک ہر شے اہم ہے سوائے تیمور حیدر کے ، میں نے تم سے پہلے دن سے کہا تھا کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں لیکن میری انا مجھے زیادہ عزیز ہے ، تم میری انا کو ٹھیس پہنچا رہی ہو، اتنا بڑا فیصلہ ؟ بنا پوچھے ؟ “
” تم منع کردیتے …”
” یقیناً کردیتا ، اب بھی کررہا ہوں، تم نہیں جاؤگی یاد رکھنا “
لہجہ سخت ترین ہوگیا
” میں مجبور ہوں تیمور “
وہ سمجھتا کیوں نہیں تھا ؟ وہ اتنا خود غرض کیوں بن رہا تھا ؟
” یہ لفظ میں دو سال سے سن رہا ہوں ، دو سال سے میں تمہاری مجبوری کی وجہ سے امی کو روکے ہوئے ہوں ، اب مزید نہیں ، تم خود طے کرلو ، میں یا تمہاری مجبوریاں ، فیصلہ تمہارا ہوگا ، جو ہوگا بتادینا ،لیکن اب مزید نہیں”
وہ غصے سے چبا چبا کر کہتا جھٹکے سے باہر چلا گیا ، معطر نے جھکا سر نہیں اٹھایا ، اس کے دل میں بہت تکلیف اٹھ رہی تھی
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
اور پھر تیمور نے سب کو بتادیا کہ وہ انگلینڈ جانے کا سوچ رہی ہے ، گھر میں سب سے پہلے طوفان حسن چاچو لے کر آئے ، وہ غیرت کی اس مٹی سے بنے تھے جن کے نزدیک عورت صرف گھر چلانے کا کام کرسکتی ہے ، اسی غیرت میں آکر سب کے سامنے اسے جانے کیا کیا کہا
” کس سے پوچھ کر اتنا بڑا فیصلہ لے رہی ہو ؟ مر گیا ہوں کیا میں ؟ بھائ مرگیا ہے تمہارا ؟ “
” تو پھر اٹھائیں خرچ ، ہر ماہ ان کی دوائ آتی ہے ، ہر تین ہفتے بعد ایک ڈوز لگتا ہے، اس ایک ڈوز کی قیمت لاکھوں میں ہے ، بتائیں دے سکتے ہیں اتنا پیسہ ؟ “
وہ تنک کر کہتی ان کے سامنے آئ ، بہت ہوا ، اب خود کے لئے خود ہی بولنا تھا
” اب تم بھی میرے سامنے آجاؤ “
” میں سامنے نہیں آرہی ، آپ کو اتنا ہی شوق ہے تو بھریں بابا کی دوائ کے پیسے “
” بس کردو تم دونوں ۔۔۔۔ “
صوفے پر سفید شلوار قمیض پہن کر بیٹھے افتخار صاحب چلائے ” سارا جھگڑا میری وجہ سے لگا رکھا ہے ، اس سے اچھا تو میں …..”
ان کا جسم کھانسی کے باعث جھٹکے کھانے لگا ، وہ تیر کی تیزی سے ان تک پہنچی
” بابا ، آپ تو ٹینشن نا لیں “
” ضد چھوڑدو معطر ، مت کرو اتنا سب ، کیوں میرے سر پر بوجھ لاد رہی ہو “
وہ کھانسنے کے بیچ بمشکل بولے ، اس نے حلق میں اٹکتے آنسو اندر دھکیل دیئے ، ان کا ہاتھ تھاما
” مجھے مت روکیں بابا ، آپ کا کوئ احسان یا قرض مجھ پر نہیں ہے لیکن مجھے اپنا فرض تھوڑا سا تو ادا کرنے دیں “
” کیوں کررہی ہو اتنا سب ؟”
” کیوں کہ میں آپ کو مرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی “
بہت دکھ اور بے بسی سے کہا ،ان کا پورا کا پورا وجود ساکت ہوا ” میرا دل اس خیال سے مرنے لگتا ہے ،میں صرف آپ کو نہیں خود کو بھی بچانا چاہتی ہوں بابا “
افتخار صاحب کے کاندھے ڈھیلے پڑے
” ہمارے خاندان میں لڑکیوں کو دوسرے شہر جانے کی اجازت نہیں ہے معطر ، تم دوسرے ملک جانے کی بات کررہی ہو ؟ “
” یہاں کچھ نہیں ہوسکتا بابا ، نادر بھائ کہہ رہے تھے کہ بہت اچھی جاب ہے ،میں وہاں کچھ نا کچھ اور بھی کرلوں گی ، یہاں رہی تو کچھ نہیں ہوپائے گا ، مجھے یہ کرنے دیں “
” پیسے کہاں سے آئے تمہارے پاس ؟”
خاموشی سے روتی امی نے پہلی بار سر اٹھا کر اسے دیکھا ، اس کا ہاتھ بابا کے ہاتھ سے نکل گیا ، کھڑے ہوتے اس نے سب پر ایک نظر ڈالی ، بابا ، امی ، چاچو ، چاچی ، دانیال گھر سے غائب تھا ، وہ ہوتا تو وہ اکیلی نا کھڑی ہوتی
” میں نے زیور بیچ دیا “
بیٹھک میں موت سا سناٹا چھا گیا
” کون سا ۔۔۔۔ کون سا زیور ؟”
اس نے لب کاٹتے امی کو دیکھا
” میرے جہیز کے لئے جو آپ نے رکھا تھا ، وہی “
یہ دوسرا دھماکہ تھا جو اس نے کیا تھا ، بیٹھک میں اتنی خاموشی چھائ کہ سوئ گرنے کی آواز بھی سنائ دے جاتی
” تم اتنی بڑی کب سے ہو گئیں کہ اتنے بڑے فیصلے لیتی پھرو ؟ یا خدایا ، وہ زیور میں کئ سالوں کے بعد بنا پائ تھی معطر “
وہ گویا ہاتھ پیر چھوڑتی وہیں بیٹھ گئیں ، حفصہ چاچی کا منہ صدمے سے کھل گیا تھا ، زیور ؟ وہ زیور ؟
” آپ نے میرے لئے ہی بنوایا تھا امی “
” تمہارے لئے بنوایا تھا لیکن اس لئے نہیں کہ بیچ دو ، یہ کیا کیا تم نے ؟”
” ساری شے نادر نے دی ہے اسے ، میں بلاتا ہوں اسے “
حسن چاچو غصے سے اسے گھورتے نادر بھائ کو کال ملانے لگے وہ انگلیاں مروڑتی وہیں ٹھہری رہی ، پچھلے دو سال میں اسے لگا تھا وہ اس گھر کا بڑا بیٹا ہے ، اسے فیصلے لینے کا حق تھا ، اسی سوچ نے اس سے اتنا بڑا فیصلہ کروادیا ، لیکن اب دل ڈر رہا تھا
چند لمحوں میں نادر بھائ وہاں آن موجود ہوئے ، وہ اس کی کزن کے شوہر تھے ، کسی ٹریول ایجنسی میں کام کرتے تھے جو بیرون ملک مسافروں کے لئے ویزے لگواتی تھی
” معطر نے خود مجھ سے کہا تھا کہ اسے کسی اچھے کام کی تلاش ہے چاچو ، میرا دوست انگلینڈ میں ہوتا ہے اسی نے بتایا تھا کہ اسے چند ورکرز کی ضرورت ہے ، تنخواہ کافی اچھی ہے ،کم از کم اتنی ہے کہ افتخار چچا کے علاج میں آسانی ہو جائے گی، میں صرف اس کی مدد کرنا چاہتا تھا”
انہوں نے کاندھے اچکادیئے ، حسن چاچو جوابا کچھ کہنے لگے ،وہ کچن کے دروازے میں ٹھہری سب سنتی رہی ، اسے کسی کا ڈر نہیں تھا ، اگر بابا مان جاتے ، اگر تیمور منع نا کرتا ، وہ دو لوگ اس کے لئے اہم تھے ، وہ ان دو لوگوں کو ناراض نہیں کرنا چاہتی تھی !!
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
