Laa By Fatima Noor Readelle50338 Laa (Episode 27)
Rate this Novel
Laa (Episode 27)
Laa By Fatima Noor
وہ آٹھ سال کا تھا جب پہلی بار اس کے ماں باپ میں جھگڑا ہوا ۔ وجہ سے وہ لاعلم تھا ۔ جھگڑا اس کے سامنے ہوا تھا ۔ وہ ٹکر ٹکر دونوں کا چہرہ دیکھتا رہا ۔ گالیاں۔ بہتان ۔ الزام تراشی ۔ اور اختتام پر اس کے ماں باپ اپنے اپنے کام پر چلے گئے ۔ اور ٹھہرا وہ تو اسے بھی سکول جانا تھا لیکن زہن وہیں لاؤنج میں اونچی آوازوں کے درمیان اٹک گیا
اس کے بعد یہ جھگڑے معمول بنتے گئے ۔ پورے دو سال ہیزل اور کیان کا تعلق پیچیدہ رہا اور پورے دو سال اس نے پڑھائ ، دوست ، کھیل کھود چھوڑ دیا ۔ فرق کسے پڑا تھا۔؟ صرف اسے
دو سال بعد ان دونوں کی طلاق ہوگئ اور ایرک کیان دو حصوں میں بٹ گیا ۔ ہیزل اسے اپنے ساتھ امریکہ لے گئیں ۔ سکول میں ایڈمیشن کرایا ۔ یہودیوں کی عبادت گاہ بھیجا اور یہودی تعلیم کی طرف راغب کیا
” مگر مام میں تو بائبل پڑھتا تھا “
” اب یہ پڑھوگے “
” لیکن یہ مختلف ہے “
” یہ قدیم حصہ ہے ، وہ جدید تھا ،دونوں ایک ہی ہیں “
” لیکن یہ مختلف ہے “
” اوفوہ ایرک ۔ کیوں تنگ کررہے ہو ؟”
وہ تنگ آکر اسے عبادت گاہ لے گئیں اور ربی ( را پر زیر کے ساتھ ، یہودیوں کے مذہبی پیشوا کو کہتے ہیں) کے حوالے کردیا ۔ جہاں اسے بتایا گیا کہ خدا نے اسے ” چنی گئ قوم ” کا حصہ بنایا ہے
” آپ کو یہ خدا نے بتایا ہے ؟”
” ہم نے کتابوں میں پایا ہے “
اسے پڑھنے کو تورات دی گئ
” بائبل دو کیوں ہیں ؟”
” بائبل ایک ہی ہے ۔ جو تم نے پہلے پڑھا وہ جدید حصہ ہے اور ہم اسے الہامی نہیں مانتے “
” لیکن پھر ایک کتاب جو الہامی ہو اس کا ایک حصہ الہامی اور دوسرا غیر الہامی کیسے ہوسکتا ہے ؟”
ربی اس تیرہ سالہ بچے کو گھور کر رہ گیا ۔ ایرک کا دماغ قدیم اور جدید عہد نامہ میں پھنس گیا ۔ اس نے عبادت گاہ جانا چھوڑ دیا ۔ ہیزل اس کی طرف سے لاپرواہ ہوگئ تھیں ۔ وہ اسے دوسری کتابیں لا کر دے دیتیں جو وہ یوں ہی رکھ دیتا ۔ اس نے عہد نامہ قدیم پڑھنے سے صاف انکار کردیا تھا
اسے یہ کتابیں نہیں پڑھنی تھیں ۔ اسے امریکہ میں رہنا بھی نہیں تھا ۔ اسے واپس انگلینڈ جانا تھا ۔ اب تو زندگی میں کچھ سکون آیا تھا ۔ اب روز جھگڑے نہیں ہوتے تھے ۔ وہ سکول بھی جارہا تھا ۔ بھلے دو سال پیچھے لیکن وہ دوبارہ سے پڑھائ شروع کرچکا تھا ۔ گیارہ سال کی عمر میں اس نے زندگی کا پہلا سبق سیکھا تھا کہ اگر میاں بیوی کی نہیں بن رہی تو بچے کے لئے خود کو ساتھ گھسیٹنے کی بجائے علیحدہ ہوجائیں۔ کم از کم اس کے نزدیک یہ درست تھا ۔ وہ گھر میں ذہنی ٹارچر برداشت کرنے کی بجائے اسی بات کو ترجیح دیتا
ہیزل نے نئ زندگی شروع کردی ۔ وہ مذہب سے لا تعلق خاتون تھیں ۔ ایرک کو یہودی بنا کر خود کو گلٹ سے نکالنا چاہتی تھیں کہ کیوں اپنا مذہب چھوڑا ۔ وہ پندرہ سال کا تھا جب پہلی بار سکول سے واپسی پر اس نے مسلمانوں کے خلاف کوئ مظاہرہ دیکھا تھا
” تم لوگ ان کے خلاف کیوں بول رہے ہو ؟”
” کیونکہ وہ دہ شت گرد ہیں ۔ برے ہیں ۔ ظالم ہیں ۔ تم ان سے نفرت کرو “
ٹھیک ہوگیا ۔ یعنی مسلمان نفرت کے قابل ہیں۔ یہ دوسرا سبق تھا جو اس نے پندرہ سال کی عمر میں سیکھا تھا ۔ مسلمانوں سے نفرت کا
وہ یہودی تعلیمات حاصل کررہا تھا ۔ بے دلی یا دل سے لیکن کررہا تھا اور انہی دنوں اس کے ڈیڈ نے اسے واپس بلا لیا ۔ اسے کوئ اعتراض نہیں تھا ۔ وہ انگلینڈ چلا گیا لیکن مسئلہ تب شروع ہوا جب اس کے باپ نے اسے ایک بار پھر عیسائیت کی تعلیم لینے کے چرچ بھیجنا شروع کردیا
عیسائ۔۔۔ یہودی۔۔۔ عیسائ
اس کے ماں باپ نے اپنے اپنے مفاد کے لئے اس کے زہن کے ساتھ بری طرح کھلواڑ کیا تھا ۔ اس کا زہن انتشار کا شکار ہوگیا ۔ اگر خدا ایک تھا تو مذہب اتنے زیادہ کیوں تھے ؟ اور مذہب کو ماننا بھی آخر ضروری کیوں تھا ؟ وہ کنفیوژ ہوا اور پھر کافی حد تک بے دین ۔ یونیورسٹی میں آنے کے بعد اس نے اکثر برطانوی نوجوانوں کی طرح لا دینیت اختیار کرلی ۔ ضروری تو نہیں کہ کسی مذہب کو مانا جائے ۔ جو نہیں مان رہے تھے وہ بھی تو زندہ تھے ۔ جو مانتے تھے وہ بھی مر جاتے تھے ۔ اگر مذہب آپ کو موت سے نہیں بچا سکتا نا لمبی زندگی دے سکتا ہے تو مذہب کو ماننا ضروری تو نہیں ؟
کیان چاہتے تھے وہ وکیل بنے ۔ ہیزل چاہتی تھیں وہ ڈاکٹر بنے ۔ وہ اس کی زندگی تھی اور ماں باپ کی محبت میں وہ اسے برباد نہیں کرسکتا تھا ۔ اسے ٹی وی پر بیٹھ کر تیز تیز بولتے اینکر متاثر کرتے تھے ۔ ان سے متاثر ہوتے لوگوں کو وہ غور سے دیکھتا ۔ اسے یہی اینکر بننا تھا جس سے لوگ متاثر ہوں ۔ اسے دولت کی خواہش تھی۔ شہرت کی اس سے زیادہ تھی ۔ سو اس نے اینکر بننے کا فیصلہ کرلیا ۔ سیاست ، جرائم ، جھوٹ ،سچ ،سنسنی ، دلچسپ !
وہ یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس میں مشہور اور پھر بدنام والا مشہور انسان بنتا گیا ۔ زندگی ایک ہی بار ملی تھی تو ماضی کا غم منا کر اسے برباد کرنے کا کیا فائدہ ؟ اس کے بچپن کے ٹراماز بچپن میں رہ گئے تھے تو اسے بھی آگے بڑھ جانا چاہیے ۔ یہ الگ بات تھی کہ اسے پڑھائ سے خاص دلچسپی نہیں تھی ۔ مارے باندھے پورا سال گزارنے کے بعد وہ آخری دو ماہ میں محنت کرکے پیپر دے دیتا اور معلوم نہیں کیسے ٹاپ بھی کرلیتا ۔ اس نے زندگی اپنے مطابق گزارنا شروع کردی ۔ شہرت کی خواہش بڑھتی گئ ۔ کیان اور ہیزل سے ملنے والی رقم اس نے بچانا شروع کردی ۔ جب زندگی دوسروں کی رقم پر گزاری جا سکتی ہے تو اپنا نقصان کرنا ضروری ہے ؟
اس نے بڑے بڑے نیوز چینلز کو متاثر کرنے کے کالمز میں مسلمانوں کے خلاف لکھنا شروع کردیا ۔ دور اندر مسلمانوں سے نفرت کا دعویٰ نا کرنے والا ایرک کیان جانتا تھا کہ وہ مسلمانوں کو پسند نہیں کرتا ۔ جن کو پسند نہیں کرتا تھا ان کا امیج خراب کرنے میں کیا حرج تھی ؟ ویسے بھی وہ صرف سچ لکھتا تھا
سچ جو جھوٹ تھا ۔ یہ سوچ اس کی معطر اور سنان سے ملاقات کے بعد تبدیل ہوئ
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اینکر پرسن ایرک کیان پر قاتلانہ حملہ !
یہ خبر اس کے ایکسیڈنٹ کے ایک دن بعد اس کے چینل کی جانب سے دی گئ تھی ۔ سنان کی خبر کے ساتھ اس خبر کا آنا وہ بھی اس وقت جب ایرک کیان سنان سعدی کے کیس میں اہم ترین کردار ادا کررہا تھا ۔ اس کا مطلب صاف تھا
حملہ ان لوگوں کی جانب سے کرایا گیا تھا جو دنیا کی چودھراہٹ سنبھالے بیٹھے تھے
برطانیہ میں سنان کے معاملے پر خاموشی اختیار کرنے والے برطانوی افراد ایرک کیان کے لئے اٹھے اور معاملہ پہلے سے زیادہ شدت اختیار کر گیا ۔ میڈیا کے لئے یہ ان پر حملہ تھا تو پورا میڈیا بیک وقت صاحب اقتدار لوگوں پر حملہ آور کی گرفتاری کے لئے حکومت پر دباؤ ڈالنے لگا ۔ کچھ میڈیا ہاؤسز نے سارا الزام حکومت پر ڈال دیا ۔ یہ وہ بدترین شے تھی جو ہو سکتی تھی اور اس کا خمیازہ احتجاج کی صورت سامنے آیا ۔ عوام نے کھلے عام حکومت سے استعفی کا مطالبہ کردیا ۔ جو مصیبت اوپر کے لوگ اپنے سر سے ٹالنا چاہتے تھے وہ ان کے گلے پڑ گئ تھی ۔ اُنہوں نے سوچا تھا کہ ایرک کیان مر جائے گا تو وہ اسے تیز رفتاری اور خراب سڑک پر خراب موسم میں سفر کا نتیجہ قرار دے دیں گے ۔ ایسا ہوجاتا تو یہ بہت آسان تھا ۔ ہر کوئ یقین کرلیتا ۔ لیکن انہوں نے یہ نہیں سوچا تھا کہ اگر ایرک کیان بچ جاتا تو کیا ہوتا ؟
ہیزل نے ایرک سے رابطہ منقطع ہونے پر کیان سمتھ سے رابطہ کیا تھا وہ لندن میں تھے اور ایرک کی تلاش فوراً شروع کردی گئی ۔ اس کے جی پی ایس کے ذریعے اس کی لوکیشن معلوم کرنا مشکل نہیں تھا ۔ وہ اسے لندن سے دور انتہائ زخمی حالت میں ملا تھا ۔ اگر اسے فوراً طبی امداد نا دی جاتی تو اس کا بچنا مشکل تھا
حادثہ قرار دینے کی پوری تیاری کرکے بیٹھے اوپر کے لوگ تب بوکھلائے جب ہیزل واٹسن نے ایرک کے ساتھ اپنی آخری گفتگو میڈیا پہ شیئر کی جس میں وہ صاف کہہ رہا تھا کہ کوئ پیچھے سے اس کی گاڑی کو ٹکر ما رہا ہے ۔ مسلمانوں نے سارا الزام ان لوگوں پر لگا دیا جو سنان کے قتل کے زمہ دار تھے کیونکہ اس وقت واحد انسان ایرک کیان تھا جو سنان کے قاتلوں کی گرفتاری پر کھلے عام بات کررہا تھا ۔ جو پہلے چند حلقوں کی جانب سے ایک مسلمان کے لئے بولنے پر تنقید کی زد میں تھا وہ بیک وقت ہیرو بن گیا ۔ کل تک جسے مسلمان عوام ایک مسیحا سمجھ رہے تھے وہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے لئے ایک سٹار بن گیا ۔ خاص کر پاکستان کے لوگوں کے لئے ۔ اس کی سلامتی کے لئے ڈھیروں دعاؤں کے ساتھ تحفے اس کے اپارٹمنٹ اور ہاسپٹل کے باہر بھیجے گئے ۔ مسلم دنیا میں اسے مغربی معاشرے میں روشنی کی کرن قرار دیا گیا جو کم از کم اپنے نظام کے خلاف لڑنے کی کوشش کررہا تھا ۔ سوشل میڈیا پر اس کے لئے پیغامات شیئر کئے گئے اور اس کی جلد صحت یابی کی دعا کی گئ ، ایرک کیان کا نام پوری دنیا کے لئے اب نیا نہیں رہا تھا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ہاسپٹل کے کمرے میں بیٹھے اس نے یہ ساری خبریں سنی تھیں اور پچھلے دو دن سے سن رہا تھا ۔ اس کا سر زخمی تھا ۔ چہرے پر چوٹوں کے نشانات تھے ۔ ایک بازوں ٹوٹنے سے تقریبا بچ گیا تھا ۔ باقی جسم پر خراشیں تھیں
” بہادروں کو بہادری کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے”
ٹی وی سکرین سے نظر ہٹا کر اس نے بیڈ کے ساتھ رکھی کرسی پر بیٹھے ہاشم بن عبد اللہ کو دیکھا
“یہ بزدل بن کر جینے سے زیادہ اچھا ہے”
” یہ بہادری کہاں سے آئ تمہارے اندر ؟”
وہ واقعی جاننا چاہ رہے تھے ۔ اُنہوں نے آج تک مغربی نظام پر تنقید کی تھی لیکن ایرک کی طرح کھلے عام اُنہیں للکارا نہیں تھا ۔ ایرک نے ٹی وی بند کرتے سر تکیے پر رکھا ۔ آنکھوں کے سامنے سیاہ جلد والی کتاب لہرائ ۔ انصاف کے لئے لڑنے کا حکم دیتی
” میں نہیں جانتا “
وہ چھت کو دیکھ رہا تھا ۔ اس کی نیلی آنکھیں اپنی روشنی کھو چکی تھیں ۔ ہاشم بن عبد اللہ اسے دیکھتے رہے ۔ ایرک چپ تھا ۔ یہ دوسرا دن تھا جب وہ اس کے پاس آرہے تھے اور وہ چند الفاظ کے سوا کچھ نہیں بولا تھا
” تمہیں کیا ہوا ہے ایرک ؟”
” میں زخمی ہوں “
” جسم کے زخم مجھے بھی دکھ رہے ہیں تم اندر کے زخموں کا بتاؤ “
وہ چھت کو دیکھتا رہا پھر دھیرے سے بولا
” آپ نے کبھی وہ شخص دیکھا ہے ہاشم صاحب جس کی سب سے بڑی خواہش پوری ہوجائے اور اس کا دل چاہ رہا ہو کہ کاش اس نے کبھی یہ خواہش ہی نا کی ہوتی “
” نہیں۔۔۔”
” میں نے دیکھا ہے ۔۔۔” وہ گہری سانس لے کر بولا پھر آنکھیں بند کیں ” میں آرام کرنا چاہتا ہوں “
یعنی وہ چاہتا تھا کہ وہ یہاں سے چلے جائیں ۔ اُنہوں نے سر کو خم دیا پھر کرسی سے اٹھے
” اللہ تمہارا خیال رکھے “
وہ آنکھیں بند کئے لیٹا رہا ۔ قدموں کی آواز آئ ۔ پھر دروازہ کھلنے کی اور پھر بند ہونے کی ۔ اس نے آنکھیں کھولیں۔ کمرے میں بہت کم روشنی تھی ۔ اردگرد پھولوں کی خوشبو بکھری تھی ۔ وہاں اس کے لئے کئ پھول بھیجے گئے تھے ۔ کئ دعائیں بھی، کئ محبتیں بھی ، لیکن وہ اپنے دل کا کیا کرتا جس کے اندر وحشت تھی ؟ جسے یہ سب تکلیف دے رہا تھا ؟ ایک وقت تھا جب وہ ان سب چیزوں کی خواہش کرتا تھا ۔ شہرت ۔ عزت ۔ دولت ۔ نام۔ رتبہ اور اب جب سب پاس تھا تو اسے کیا چاہئے تھا ؟ سکون ؟ گمنامی ؟ کھو چکا پرانا ایرک ؟ اپنی لاپرواہ زندگی۔ اور وہ سوال ۔ ان سب میں ایک وہی سوال جو سوتے جاگتے زہن کو جھنجھوڑ رہا تھا
اس کا خدا کون تھا ؟
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
جوزف مارگریٹ کو امریکی پولیس نے گرفتار کر کے انٹرپول کے حوالے کردیا تھا ۔ پولیس نے باقاعدہ پریس کانفرنس کر کے جوزف کی گرفتاری کی اطلاع دی اور اس کا اقبال جرم سنایا جس میں اس نے اقرار کیا تھا کہ سنان کا قتل اس نے ہی کیا تھا اور یہ اس کا ذاتی فعل تھا ۔ اس میں نا پولیس کا کوئ کردار تھا نا کسی اور کا ، اس نے اقرار کیا کہ وہ سنان سے اس کے مسلمان ہونے کی وجہ سے نفرت کرتا تھا ، اس کی کاوشیں نا پسند کرتا تھا ، اس کے بیانات پر مشتعل تھا اور اسی اشتعال میں اس نے سنان کو قتل کردیا ، ملک سے باہر وہ قرضہ لے کر گیا تھا
یہ ایک بھونڈی سی کوشش تھی جو کی گئ تھی ۔ بہت سارے جھول باقی رہنے دیئے گئے اور گویا ایک کردار کو لا کر کھڑا کر دیا گیا جس نے اقبال جرم کرلیا ۔ برطانوی حکومت نے سنان سعدی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اسے اعزاز سے نوازا اور اس کے نام کا ادارہ قائم کرنے کا اعلان کیا جو اسلاموفوبیا کے خلاف مغربی ذہنیت بدلنے کی کوشش کرے گا ۔ ایرک کیان پر ہونے والے حملے سے لا تعلقی کا اظہار کردیا گیا اور اس کی صحت یابی کے لئے دعا کی گئ نیز اسے بہادری پر سلیوٹ دیا گیا ۔ اور بس
گویا اصل قاتل جوزف مارگریٹ تھا جسے گرفتار کر لیا گیا اور اب سب کچھ نارمل ہوجانا چاہئے ۔ سو برطانوی عوام نے بھی گویا ہاتھ صاف کرتے پیچھے ہٹ جانے میں بہتری سمجھی ۔ اصل قاتل پکڑا گیا تھا اب مظاہروں کا فائدہ ؟ جب وہ کہہ رہا تھا کہ قاتل وہی تھا تو وہی ہوگا
یہ وہ ذہنیت تھی جو مغرب سالوں سے پروان چڑھا رہا تھا ۔ یہ وہ معاشرہ تھا جس نے اسی طرح رہنا تھا ۔ کسی ایک شخص کے اٹھنے سے کسی ایک شخص کو انصاف ملتا تھا ۔ اور وہ بھی ناقص ۔ اصل قصوروار ۔ اصل پلینر بچ جانے والے تھے، ابابیل جھنڈ کی صورت آتے تھے ۔ ایک ابابیل کچھ نہیں کر سکتا تھا ۔ یا تو وہ مار دیئے جاتے یا مارنے کی کوشش میں چپ کرادیئے جاتے ۔ کسی مسیحا کے منتظر ۔ امام مہدی کا انتظار کرنے والے مسلمان اس امید پر ہیں کہ وہی آ کر سب ٹھیک کریں گے ۔ جنگ ہونی ہے تو تب تک ہم ظلم سہہ لیتے ہیں ۔ القدس فتح ہونا ہے تو ہوجائے گا ۔ ہم کوشش کرکے کیا کریں گے ؟ وہ احادیث کی پیشن گوئیوں کو اپنی مرضی کے معنیٰ پہنا کر خاموشی سے بیٹھ گئے ہیں اور اُنہوں نے طے کرلیا ہے کہ سب امام مہدی اور عیسیٰ علیہ السلام آ کر درست کریں گے ۔ مسیحا کا انتظار کرنا ہماری پرانی عادت ہے لیکن مسلمان یہ بھول گئے ہیں کہ
اللہ کسی قوم کے حالات تب تک نہیں بدلتا جب تک وہ اپنے حالات خود نا بدلیں
ایرک کیان نے سنان سعدی کے لئے نتیجے سے بے نیاز ہو کر کوشش کی تھی ۔ اور وہ جانتا تھا اس کی کوشش ناقص رہی ہے ۔ اپنے کمرے میں بیٹھ کر وہ پریس کانفرس سننے کے بعد اس نے پوری قوت سے ریموٹ ٹی وی پر مارا تھا ۔ غصہ ابل ابل کر آرہا تھا ۔ کیا فائدہ نکلا ان سب کوششوں کا ؟ جن کے خلاف وہ لڑرہا تھا اُنہوں نے ایک لمحے میں اس کی ساری محنت برباد کردی ۔ سنان کے خون کا کیا ؟ اس کی ماں کے آنسو کا کیا ؟ باپ کے درد کا ، بہن کی اذیت کا کیا ؟ کس قدر منافق اور دغا باز تھا یہ معاشرہ ۔ وہ کیسے لڑتا ان سے ؟ وہ کیسے بدلتا یہ نظام ؟
سر دونوں ہاتھوں میں گرائے وہ اس وقت شدید ترین فرسٹریشن ، دکھ ، اذیت سے گزر رہا تھا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
” یہ ایک بیوقوفانہ حرکت تھی اور تمہیں اس کا یہی نتیجہ ملنا تھا “
اس نے بے زاری سے صوفے کی دائیں طرف بیٹھے کیان سمتھ کو دیکھا
” اگر یہ تعریف ہے تو شکریہ “
” تم سنجیدہ کب ہو گے ایرک ؟”
” جتنا میں سنان کے معاملے میں سنجیدہ تھا آپ نے غالباً وہ نہیں دیکھا “
” کامیابی پر مبارک ہو “
اب کے آواز بائیں طرف سے آئ تھی ۔ وہ کچھ اور اکتایا
” آپ دونوں مل کر مجھے ٹارچر کرنے آئے ہیں ؟ میں بیمار ہوں مجھے تنہا چھوڑدیں “
وہ پچھلے ایک گھنٹے سے ان کی ملامتیں سن رہا تھا ۔ کیا فائدہ اتنی محنت کا ؟ موت سے لڑ کر واپس آنے کا ؟ پولیس نے ایک شخص کی قربانی دے کر معاملہ ٹھنڈا کردیا تھا
” مجھے تم سے ہمدردی ہے ایرک “
اب کے اس کی نظر کچن ٹیبل پر بیٹھی سوزین پر گئ
” اسے کیوں لے کر آئے ہیں ؟”
وہ چڑ گیا ۔ بدتمیز کب سے مسکرائے جارہی تھی
” تمہاری بہن تمہاری خیریت پوچھنے آئ ہے “
” سوزی تم کب میری خیریت پوچھو گی ؟”
” جب تمہاری مام اور میرے ڈیڈ تمہاری خیریت پوچھ لیں گے “
پونی ٹیل بنائے وہ سیاہ جینز پر ریڈ شرٹ پہنے سولہ سال کی بچی تھی
” پھر اپنے ڈیڈ کو یہاں سے لے کر جاؤ ۔ اپنی مام کو میں خود بھیج دوں گا ۔ ان دونوں کے ہوتے ہوئے میں ٹھیک نہیں ہوسکتا “
ہیزل اور کیان دونوں نے بیک وقت اسے گھورا
” ہم تمہاری فکر کررہے ہیں”
” آپ دونوں دراصل مجھے ذہنی طور پر ٹارچر کررہے ہیں ۔۔۔” وہ سیدھا ہوا ” آپ دونوں مجھے بار بار یہ باور کروارہے ہیں کہ میں جیت کر بھی ہار چکا ہوں۔ آپ کی آنکھوں کا تمسخر میں دیکھ رہا ہوں جو صاف کہہ رہا ہے کہ اس نظام سے لڑنا بے وقوفی تھی جس کا نتیجہ میرے جسم پر نظر آرہا ہے”
” بالکل ایسا ہی ہے “
اس نے ضبط سے گہری سانس لی
” بے وقوفی تھی تو تھی کم از کم میں مطمئن ہوں کہ میں نے کوشش کی ہے ۔ کامیابی نا بھی ملی ہو لیکن میں نے اس نظام پر ایک ہتھوڑا ضرور مارا ہے اور اب آپ دونوں براہِ مہربانی یہاں سے چلے جائیں کیونکہ میں اس وقت چڑچڑا ہورہا ہوں اور آپ دونوں سے بدتمیزی نہیں کرنا چاہتا”
وہ صوفے سے اٹھا اور آہستہ قدموں سے کمرے کی طرف بڑھا ۔ اس کی ٹانگ پر چوٹ لگی تھی ۔ کمرے میں پہنچ کر اس نے ٹھا سے دروازہ بند کیا ۔ کل کیان اور آج دونوں نے آ کر اسے خوب سنائ تھی ۔ تھک کر وہ بیڈ پر بیٹھا اور سر دونوں ہاتھوں میں تھام لیا ۔ سچ ہی تو تھا ۔ ملا کیا تھا اس سب سے ؟ کیا یہ ایک فضول جنگ تھی ؟ وہ سنان کے گھر والوں سے ، مسلمانوں سے اتنا شرمندہ تھا کہ دو دن سے موبائل تک آف کر رکھا تھا
” کیا میں اندر آ سکتی ہوں ؟”
دروازے پر آواز ابھری تو اس نے گہری سانس لیتے سر اٹھایا ۔ اب یہ اس کا سر کھائے گی
” آجاؤ سوزی “
دروازہ کھلا ۔ پہلے اس کا سر پھر وہ خود اندر آئ ۔ بیڈ کے سامنے رکھی چیئر گھسیٹی اور ایرک کے سامنے رکھی
” تم ہرٹ ہو ؟”
وہ بڑی بہن کی طرح پوچھ رہی تھی
” ہاں ۔۔۔”
وہ چھوٹے بھائ کی طرح کہہ گیا
” یہ زخم ٹھیک ہو جائیں گے”
” ایک دن سوزی۔۔۔ لیکن میں اندر سے ہرٹ ہوں “
” تمہیں ڈیڈ اور ہیزل آنٹی کی باتوں کا برا لگا ؟”
” وہ سچ کہہ رہے ہیں میں نے اپنی پوری کوشش کی اور نتیجہ دیکھو ۔ کچھ بھی نہیں ملا “
” کسی زمانے میں تم مجھے کہا کرتے تھے کہ کوشش معنی رکھتی ہے نتیجہ نہیں “
” میں یہ تمہیں تمہارے رزلٹ کے بارے میں کہا کرتا تھا جب تم فیل ہو کر آتی تھیں “
” ٹیچر فیل کرتی تھی “
” دونوں میں فرق کیا ہے ؟”
” وہی جو تمہاری کہانی میں ہے ۔ تمہیں بھی تو فیل کیا گیا ہے حالانکہ تم پاس ہوچکے ہو “
وہ تپ گئ ۔ ایرک کچھ لمحے اسے دیکھتا رہا ۔ خاموشی سے پھر آگے کو ہوتے اس کی جینز کی پاکٹ سے جھپٹ کر کچھ نکالا
” چوری کرنا کب چھوڑو گی تم ؟”
اس کے ہاتھ میں بٹوہ تھا ۔ سوزین کو مزید تپ چڑھی
” میری بھائ کی جائیداد ہے اِدھر دو “
” شکل گم کرو اپنی ۔ تمہاری مام مجھے اپنے گھر سے ایک کافی تک نہیں دیتیں اور ان کی اولاد میرے پیسے چوری کررہی ہے “
” وہ تمہاری بھی مام ہیں “
” وہ میرے باپ کی بیوی ہے “
” میں ممی کو بتاؤں گی ایرک “
” دیکھو میں کتنا خوفزدہ ہوں ۔ تمہیں میرے چہرے پر ڈر نظر آرہا ہے نا ؟”
عرصے بعد وہ کسی سے یوں زبان لڑا رہا تھا ۔ سوزی کا چہرہ غصے سے سرخ ہوا
” تم کتنے کنجوس ہو “
” فلوقت ہوں “
” شہرت نے بھی تمہیں کوئ فائدہ نہیں دیا “
” شہرت ملی ہے ۔ دولت نہیں ۔ میری گاڑی تک پچک کر رہ گئ ، نئ لینی پڑے گی ۔ تم جا کر اپنے باپ کی جائیداد پر عیش کرو “
” ہم دونوں کا باپ ایک ہے۔ شرم کرو “
” اسی باپ سے کہو تمہیں لے کر جائے یہاں سے “
وہ بٹوہ جیب میں ڈالتا سلگ کر کہتا پیچھے ہوا ۔ آہ ٹانگ اندر تک درد کررہی تھی ۔ دیکھ لے گا وہ اس ڈمپر والے کو
” میں تمہیں ڈیڈ کی جائیداد سے عاق کروادوں گی ۔ تمیز سے بات کرو مجھ سے “
” تم وہ جائیداد چوری کرکے بھی مجھ سے چھین لو گی ۔ میں چار تک گنوں گا میرے کمرے سے دفع ہوجاؤ “
سوزی سرخ چہرے سے اسے دیکھتی رہی پھر اٹھی دروازہ کھولا اور ٹھاہ سے بند کرتے باہر بڑھی ۔ ایرک زیر لب بڑبڑاتا سیدھا ہو کر لیٹ گیا۔ چند لمحے یونہی لیٹا رہا پھر لبوں پہ مسکراہٹ ابھری ۔ سوزی بھی نا ۔ اب اسے منانے کے لئے اچھا خاصا خرچہ کرنا پڑے گا ۔ اس کی بلا سے ناراض ہی رہے ۔اور اسی لمحے اسے پریزے کا چہرہ یاد آیا ۔ مسکراہٹ غائب ہوئ ۔ موبائل اٹھاتے اس نے درخزئ کا نمبر کھولا
” پریزے سے سوری کہہ دینا ۔ اس کا بھائ اس کے بھائ کو انصاف نہیں دلا سکا “
میسج بھیجتے وہ ایک بار تھک کر لیٹا ۔ اندر باہر فرسٹریشن بھری تھی ۔ اذیت ۔ بے زاری ۔ کچھ عجیب۔ کچھ نا محسوس سا ۔ اسے وہیں لیٹے لیٹے نیند آگئ
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
رات کا جانے کون سا پہر تھا جب آنکھ کھلی ۔ سر کے پچھلے حصے میں شدید درد ہورہا تھا ۔ وہ بمشکل اٹھا ۔ سر کے پچھلے حصے پر دونوں ہاتھ رکھے ۔ پٹی ابھی تک کر رکھی تھی ۔ ڈاکٹر نے سختی سے منع کیا تھا کہ بے احتیاطی نہیں کرنی ۔ وہ گہری سانسیں لیتا رہا پھر اٹھ کر ساتھ رکھی میز کا سہارا لیتے واش روم تک گیا ۔ لائٹ آن کی اور آئینے کے سامنے جا کر چہرہ دیکھا ۔ دائیں گال پر لگا کٹ بھر رہا تھا ۔ ماتھے پر بھی نشان غائب تھا ۔ چہرہ پہلے سے کچھ بہتر تھا اور آنکھیں ۔ وہ اپنی آنکھوں کو دیکھتا رہا ۔ کیا تھا جو اب ان میں نہیں تھا ؟ ان آنکھوں سے کیا غائب ہوا تھا ؟
سر جھٹکتے وہ واش بیسن پر جھکا۔ پانی لے کر منہ پر کئ چھینٹے مارے ۔ درد مزید بڑھ گیا ۔ کیان نے کہا بھی تھا کہ وہ ان کے ساتھ چلے لیکن اس کی انا آڑے آرہی تھی ۔ بمشکل کمرے میں واپس آتے اس نے وارڈروب کھولی ۔ دوائیاں یہیں کہیں رکھی تھیں ۔ نیند کی گولی بھی وہیں ہوگی ۔ لائٹ مدھم تھی ۔ اس کی آنکھیں اب درد سے بند ہورہی تھیں ۔ ہاتھ اِدھر اُدھر مارتے وہ کچھ جھنجھلایا
” کیا مصیبت ہے “
اسے غصہ آیا ۔ سوزی کو کہا بھی تھا ٹیبل پر رکھ دے لیکن یہ لڑکی اسے تنگ کرنے کا کوئ موقع جانے دے۔ ؟ہو ہی نہیں سکتا۔ نیچے کی سائیڈ سے دراز کھولتے اس نے آنکھیں پوری کھولیں تو پل بھر کو اردگرد سب تھم گیا ۔ وہاں نیچے سیاہ غلاف میں لپٹا قرآن رکھا تھا ۔ اسے نا وقت مل سکا تھا نا ہمت کہ وہ یہ کھول کر پڑھتا ۔ ہاتھ بے ساختہ قرآن کی طرف گیا ۔اسے اٹھاتے وہ بیڈ پر آیا ۔ ہاتھ کانپ رہے تھے ۔ جسم بخار میں پھنک رہا تھا ۔ سر درد سے پھٹنے کو تھا ۔ سائیڈ لیمپ جلاتے وہ بیڈ پر بیٹھا ۔ قرآن سامنے رکھ لیا
اللہ
اللہ
اللہ
یہ وہ واحد لفظ تھا جو پچھلے ایک ہفتے سے زہن میں گونج رہا تھا۔ یہ واحد لفظ تھا جو اس کے سارے الفاظ چھین کر لے گیا تھا ۔ اس انجان سڑک پر نیم مردہ حالت میں اس نے کس خدا کو پکارا تھا ؟ وہ جسے وہ بچپن میں جانتا تھا ؟ یا وہ جسے بچپن سے جانتا تھا ؟ یا وہ خدا جس سے اس کا تعارف جوانی میں ہوا تھا ۔ اس نے کئ بار معطر کے منہ سے یہ نام سنا تھا ۔ اسے جب جب چوٹ لگتی وہ یہی ایک لفظ بولا کرتی تھی ۔ اس نے سنان کے منہ سے یہ لفظ مرتے وقت سنا تھا ۔ اور اب اگر اس سے کہا جاتا کہ وہ کوئ ایک لفظ بولے ۔ تو وہ یہی نام لیتا
کانپتے ہاتھوں سے اس نے وہ غلاف اتارا ۔ اسے ٹھنڈ لگ رہی تھی ۔ اسے گرمی بھی لگ رہی تھی ۔ اسے دوائ لینی چاہئے ۔ اسے سو جانا چاہئے ۔ وہ پچھلے ایک ماہ سے جاگ رہا تھا ۔ اسے نیند کی ضرورت تھی ۔ وہ یہ کیا کررہا تھا ؟
بالکل درمیان سے کوئ صفحہ کھولتے اس نے پڑھنا شروع کردیا
“یہ (قرآن) تو صرف تمام جہان والوں کے لیے نصیحت ہے۔اس کے لیے جو تم میں سے سیدھی راہ اختیار کرنا چاہے۔اور تم کچھ بھی نہیں چاہ سکتے مگر یہ کہ اللہ، جو رب ہے تمام جہانوں کا، چاہے۔تو پھر تم کہاں جا رہے ہو؟”
سورۃ التکویر : 25ــ28
کانپتے ہاتھ دوسرے صفحے کی طرف گئے ۔ سر کا درد دل میں منتقل ہوگیا ۔ ہاتھوں کی کپکپاہٹ پورے جسم تک پھیل گئی ۔ وہ درمیان درمیان سے قرآن کھول رہا تھا
کہہ دو (اے نبی): اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے! اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو جاؤ، بے شک اللہ سب گناہ معاف کر دیتا ہے۔ بے شک وہی ہے بخشنے والا، مہربان۔
(سورۃ الزمر: 53)
کتاب پر جھکی آنکھوں نے دیکھا وہاں ایک سفید قطرہ آ کر گرا تھا ۔ جیسے آنسو ہو ، جیسے ندامت ہو ۔ جیسے کچھ تھا جو دل سے ختم ہورہا تھا جیسے کچھ تھا جو دل میں جمع ہورہا تھا ۔ کچھ تھا جو زہن سے نکل رہا تھا ۔ کچھ تھا جو زہن کو سمجھ آرہا تھا
“اور (یاد کرو) جب تمہارے رب نے اولادِ آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا اور انہیں خود ان پر گواہ بنایا (اور پوچھا): ‘کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟’ انہوں نے کہا: ‘کیوں نہیں، ہم گواہی دیتے ہیں۔’ (یہ اس لیے کیا) کہ قیامت کے دن تم یہ نہ کہو کہ ہمیں تو اس کی خبر ہی نہ تھی۔”
سورہ الاعراف : آیت 172
اللہ !
کتاب بند کرتے اس نے شروع سے کھولی ۔ بالکل پہلے صفحے سے ۔ آغاز سے ۔ افتتاح سے ۔گھڑی کی سوئ ہلتی رہی ۔ باہر ہوا چل رہی تھی ۔ وہ تیز ہوئ پھر ہلکی ہوئ ۔ اندر آگ جل رہی تھی ۔ وہ ہلکی تھی پھر تیز ہوئ ۔ منٹ بدلے ۔ پھر گھنٹے ۔ پھر رات صبح میں تبدیل ہوئ ۔ اور یہ تبھی تھا جب ستارے آسمان سے غائب ہورہے تھے اور سحر کی روشنی پھیل رہی تھی جب اس نے قرآن بند کیا ۔ اس کا سر درد کب غائب ہوا علم نہیں ۔ دل کا درد کب بڑھا یاد نہیں ۔ اسے یاد تھا تو اتنا کہ وہ مٹی ہورہا تھا ۔ وہ خاک بن گیا تھا ۔ قرآن اٹھائے سینے سے لگائے وہ بیڈ سے اٹھا پھر تھک کر نیچے گرا ۔ گھٹنوں کے بل ۔ کچھ دیر وہ وہیں بیٹھا رہا ۔ گہرے سانس لئے ۔ کئ آنسو زمین پر گرے ۔ اس نے کہنی سے انہیں صاف کیا ۔ پھر گہرا سانس لیا ۔ چند آنسو مزید گرے ۔ اس نے آنکھیں بند کیں پھر کھولیں اور وہ رو دیا ۔ آہستہ پھر زور سے ۔ اونچی آواز میں بچوں کی طرح ۔ سسکیوں سے ۔ آواز سے ۔ بنا یہ سوچے کہ کوئ دیکھ لے گا تو کیا کہے گا ۔ صرف یہ سوچے کہ جو دیکھ رہا تھا وہ کیا سوچ رہا ہوگا
” اللہ ۔۔۔۔ میں آپ کو پکارلوں ؟ میں مسلمان نہیں ہوں لیکن میں آپ کو بلا لوں ؟ میرا دل آپ کو یاد کررہا ہے ۔ میں آپ کا نام لے لوں ؟”
وہ رو رہا تھا ہچکیوں سے ۔ آواز سے
“آپ میرے رب کیوں نہیں بنے ؟ مجھے کیوں کسی اور خدا کی طرف جانے دیا ؟ مجھے آپ کی طرف کیوں نہیں آنے دیا ؟ میں اب کہاں جاؤں ؟ مجھے اپنے پاس بلا لیں “
سورج کی پہلی کرن اس کے کمرے کی کھڑکی پر پڑی ۔ وہ اندھیرے میں بیٹھا رہا
” میں آپ کا بندہ بن سکتا ہوں ؟ کیا اب بن سکتا ہوں ؟ پچیس سال بعد کیا میں آپ کو اپنا رب کہہ لوں اللہ ؟ آپ کا نام کتنا پیارا ہے۔ میں یہ کہتا ہوں تو میرا دل پگھل جاتا ہے ۔ آپ کتنے عظیم ہیں۔ مجھے اپنا بندہ بنا لیں ۔ میں مٹی کے برابر ہو رہا ہوں مجھے ڈھیر بننے سے پہلے کھڑا کرلیں “
وہ روئے گیا ۔ پچیس سال کے آنسو بہتے گئے ۔ زمین پہ کچھ پھیل رہا تھا ۔ کوئ نور جو آسمان سے آتا ہے ۔ کوئ روشنی جو زمین پہ پھیلتی ہے ۔ کچھ تھا جو بدل گیا تھا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
” مجھے آپ سے بات کرنی ہے”
وہ سیدھا مسجد گیا تھا ۔ سینٹر میں فہد معظم نہیں تھے
” اوہ ایرک…کیسے ہیں آپ ؟ “
وہ پہلے کی نسبت گرمجوشی سے ملے ۔ وہی گرمجوشی جو باہر سے اندر آتے ہوئے اسے کئ لوگوں نے دکھائ تھی
” میں ٹھیک ہوں۔ مجھے آپ سے بات کرنی ہے”
وہ مضطرب لگ رہا تھا ۔ بے چین۔ بے سکون
” آئیں آفس چلتے ہیں”
ہاتھ سے اشارہ کرتے وہ سینٹر کی طرف جارہے تھے جب رکے ۔ ایرک وہیں ٹھہرا تھا
” کیا ہوا ؟”
” کیا ہم یہیں بات کر سکتے ہیں ؟”
” آااا… ضرور”
نیچے بٹھنے کا اشارہ کرتے وہ خود بھی نیچے بیٹھ گئے ۔ ایرک آلتی پالتی مارے ان کے سامنے بیٹھا ۔ اس نے سیاہ جینز پر سفید ڈھیلی سی ٹی شرٹ پہن رکھی تھی ۔ ماتھے کی پٹی غائب تھی ۔ چہرہ سرخ آنکھیں اس سے زیادہ سرخ
” میں سن رہا ہوں “
وہ جو زمین کو دیکھ رہا تھا چونکا ۔ سر اٹھا کر اُنہیں دیکھا پھر کتنی ہی دیر دیکھتا رہا
” آپ نے اس دن کہا تھا کہ میں اپنی ہجرت عورت کے لئے کررہا تھا….میں یہ بات نہیں سمجھا تھا “
” آپ اس کا مطلب پوچھنا چاہتے ہیں ؟”
اس نے صرف سر ہلا دیا
” حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص کی ہجرت اللہ کے لئے ہوگی اس کی ہجرت اللہ کے لئے ہی شمار کی جائے گی ۔ جس کی ہجرت دنیا کے لئے ہوگی یا کسی عورت کے لئے تاکہ اس سے نکاح کرے تو اس کی ہجرت اسی چیز کے لئے شمار ہوگی ” وہ زرا دیر کو رکے پھر دوبارہ سے کہنا شروع کیا ” آپ کفر سے اسلام کی طرف ہجرت کرنا چاہتے تھے لیکن ایک عورت کے لئے ۔ قیامت کے دن جب اعمال تولے جائیں گے تو آپ کا اسلام اللہ کے لئے نہیں ایک عورت کے لئے شمار کیا جاتا “
اس کا سر نیچے جھکا ۔ انگلی سے نیچے ڈیزائن بناتے وہ کچھ دیر چپ رہا ۔ کئ ساعت ۔ کئ لمحے ۔ کوئ آواز حلق میں اٹک رہی تھی ۔ کوئ جملہ تھا جو دل سے نکلنا تھا ۔ اسے بہت ہمت چاہئے تھی ۔ پھر اس نے اپنی زندگی بھر کی ہمت اکٹھی کی
” میں اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں “
اس نے کہہ دیا ۔ زبان سے کوئ بوجھ ہٹا ۔ دوسری طرف خاموشی تھی ۔ اس نے سر اٹھا کر فہد معظم کو دیکھا ۔ اس کا خیال تھا وہ خوش ہوں گے لیکن وہ خاموشی سے اسے دیکھ رہے تھے
” کچھ کہیں گے نہیں ؟”
” سوال کرنا چاہتا ہوں “
” جی…”
” آپ یہ اس لڑکی کے لئے کرنا چاہتے ہیں ؟”
” ہرگز نہیں….” وہ تیزی سے بولا ” میں یہ اللہ کے لئے کرنا چاہتا ہوں ۔ اس فیصلے کے پیچھے نا دنیا ہے نا کوئ عورت “
” اس فیصلے کی وجہ جان سکتا ہوں ؟”
اس نے لب کا کنارہ کاٹا پھر سر جھٹکا
” میں اس دن آپ کے آفس میں تھا تو میں نے قرآن کی آیت پڑھی ۔ سب مجھ سے پوچھتے ہیں میں اتنی بے وقوفی بھری ہمت کہاں سے لایا ہوں کہ سرعام ایک طاقتور نظام کو للکار بیٹھا ہوں ۔ میں اُنہیں بتا نہیں سکتا کہ یہ ہمت مجھے قرآن کی ایک آیت سے ملی تھی ۔ وہ کتاب پہلے تعارف سے ہی مجھے مسحور کرگئ تھی ۔ پھر چند دن پہلے جب میں اس سڑک پر مررہا تھا تو میں نے سوچا کہ میں کس خدا سے زندگی مانگوں ؟ میرے پاس کوئ خدا تھا ہی نہیں ۔ میں ہمیشہ سوچتا رہا کہ دین کا ہونا نا ہونا برابر ہے ۔ خدا کو ماننا نا ماننا برابر ہے ۔ اس رات سڑک پر پڑے آسمان کو دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ ایک خدا تو سب کے پاس ہونا چاہئے جسے ہم مشکل میں بلا سکیں ۔ خوشی میں اس کا شکر ادا کرسکیں۔ میرے پاس کوئ خدا نہیں تھا۔ میں کس سے مدد مانگتا ؟ پھر میں نے اس خدا کو پکارا جس کا نام میں نے دو لوگوں کے منہ سے سنا تھا ۔ ایک مصیبت آنے پر اسے پکارتی ۔ دوسرے نے موت آنے پر اسے پکارا ۔ مجھ پر موت اور مصیبت دونوں ایک ساتھ آئ تھیں ۔ اس لمحے میں نے اللہ کو پکارا ۔ میں نے زندگی میں پہلی بار اس رب کو پکار کر اس سے زندگی کی دعا مانگی ۔ مجھے فی الحال نہیں مرنا تھا ۔ مجھے اس نظام کے خلاف لڑنا تھا ۔ کچھ سال بعد موت آتی تو منظور تھا لیکن فی الحال نہیں ۔ مجھے فی الحال زندگی چاہئے تھی تو میں نے اللہ سے زندگی مانگی ۔ اللہ نے مجھے زندگی کے ساتھ ساتھ اپنا آپ بھی دے دیا ۔ اس رات موت کے قریب میں نے اللہ کو پالیا “
وہ جھکے سر کے ساتھ کہہ رہا تھا ۔ آواز بھاری ہوگئ ۔ لہجہ نم
” یعنی آپ اسلام اللہ کے لئے قبول کررہے ہیں ؟”
” صرف اللہ کے لئے “
اس کا لہجہ مضبوط تھا ۔ فہد معظم نے پر سکون سانس لی
” میں آپ کو کلمہ پڑھا دیتا ہوں ایرک لیکن میں چاہوں گا آپ پہلے کلمے کو سمجھ لیں ۔ کلمے کے صرف پہلے لفظ کو ہی سمجھ لیں “
” کون سا لفظ ؟”
” لا…”
” لا ؟”
” لا…..” اُنہوں نے سر کو خم دیا ” کلمے کا پہلا لفظ ” لا ” جسے ادا کئے بغیر آپ ” الہ ” تک پہنچ سکتے ۔ جسے سمجھے بغیر آپ اللہ کو نہیں پاسکتے “
” کیا مطلب ہے اس لفظ کا ؟”
وہ نا سمجھی سے اُنہیں دیکھنے لگا
” یہ ایک صوفی ٹرم ہے۔ لیکن یہاں یہ کلمے کا پہلا اور بنیادی حصہ ہے ۔ جب آپ یہ ادا کرنے جارہے ہیں تو آپ اسے الہ سے پہلے کہنے جارہے ہیں ۔ الہ بعد میں آرہا ہے ” لا ” پہلے آرہا ہے ۔ اس کی گہرائ جانتے ہیں آپ ؟”
اس کا سر نفی میں ہلا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
” لا عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہے ” نہیں ” کلمے کا پہلا لفظ ۔پہلے حصے کا پہلا آغاز ۔ ” الہ ” کا معنی ہے ” وہ جس کی عبادت کی جائے ، جسے معبود کا درجہ دیا جائے ” جب آپ ایک ” الہ ” کی تصدیق کرنے جارہے ہیں تو آپ ہر ” الہ ” کو ” لا ” کہنے جارہے ہیں”
( وہ ڈھیروں ہجوم کے ساتھ چل رہا تھا ۔ پوسٹرز اٹھائے ۔ نعرے لگاتے ۔ کچھ غصے میں ۔ کچھ اس کی طرح غصے کا دکھاوا کرتے ۔ مسلمانوں کے خلاف اکٹھا ہونے والا ہجوم )
” اور لوگ سمجھتے ہیں” الہ ” صرف وہ ہے جسے ہم خدا کا درجہ دے کر اس کی عبادت کرتے ہیں ۔ قرآن کہتا ہے ” اس نے اپنی نفسانی خواہش کو اپنا خدا بنا لیا ” انسان کا ” الہ ” صرف خدا نہیں ۔ اس کا نفس بھی ہوتا ہے ۔ جب آپ ” لا ” پڑھنے جارہے ہیں تو آپ نفس کو خدا بنانے سے انکار کررہے ہیں”
( اس نے معطر سے محبت کی اور اس کی محبت کو اپنا خدا بنانا چاہا ۔ وہ اپنا دین اس کے لئے بدلنے پر تیار ہوگیا ۔ اس کا نفس اس پر غالب آ گیا ۔ ایک عورت نا ملی تو وہ کیا کرے گا ؟ ایک عورت کی محبت )
” جب آپ ” لا ” کہنے جارہے ہیں تو آپ دنیا کو بھی ” لا ” کہنے جارہے ہیں ۔ دنیا کا خوف اور مستقبل کی محبت انسان کا خدا بن جاتی ہے ۔ وہ دنیا کے خوف سے سچ چھوڑ دیتا ہے مستقبل کے خوف سے حق چھپا لیتا ہے ۔ آپ اسلام قبول کرتے ہیں تو کلمے کا پہلا لفظ آپ کو اس خوف سے آذاد کردیتا ہے ۔ کلمے کا پہلا لفظ یعنی ” لا ” …..”
( اسے شہرت کی خواہش تھی ۔ اس نے اس شہرت کے لئے اسلام کے خلاف لکھنا شروع کردیا ۔ جو نفرت دل کے اندر چھپی تھی اسے صفحات پر درج کرنا شروع کردیا ۔ وہ مسلمانوں کو برا سمجھنے میں خود کو حق بجانب سمجھتا رہا ۔ ان کے خلاف لکھنے کو صحیح سمجھتا رہا ۔ دور اندر دل کے کسی کونے میں یہ شہرت کی خواہش تھی ۔ اسے مشہور ہونے کا جنون تھا “
” جب آپ ایک ” الہ ” کی تصدیق کرنے جارہے ہیں تو آپ ہر دنیاوی خدا کو انکار کررہے ہیں ۔ ہر زمینی خدا کا خوف دل سے نکال رہے ہیں۔ آپ صرف ایک اللہ سے ڈریں گے ۔ ایک الہ کے لئے سچ بولیں گے ۔ ایک الہ کے لئے حق بولیں گے۔ آپ ” الہ ” سے پہلے ” لا ” کے زریعے دنیاوی خداؤں کے خوف سے ۔ دنیاوی خداؤں کی محبت سے خود کو آزاد کررہے ہیں “
( وہ اس نظام کی حمایت میں رہا تھا ۔ جو نظام خود کو خدا سمجھ کر بیٹھے لوگوں نے بنایا تھا اس نظام کے دفاع میں اس نے اپنی زندگی کا آدھا حصہ لگا دیا ۔ وہ اپنے ایڈیٹر کو اپنے حکمرانوں کو اپنا دنیاوی خدا بنا بیٹھا )
” جب آپ اسلام قبول کرتے ہیں تو آپ ” الہ ” سے پہلے ” لا ” کہتے ہیں ۔ آپ خود کو نفس کی قید سے آزاد کردیتے ہیں ۔ خود کو شہرت کی خواہش بدنامی کے خوف سے آزاد کر دیتے ہیں ۔ آپ خود کو دنیاوی خداؤں سے۔ دنیا سے آذاد کردیتے ہیں ۔ ہر خدا کو ” لا “کہنے کے بعد ایک ” الہ ” کی تصدیق آپ کو ہر شے سے آذاد کرنے جارہی ہے”
( وہ زمین پہ پشت کے بل گرا ہوا تھا ، نگاہیں آسمان پر تھیں ، آنکھیں ساکت تھیں ،لب پھڑپھڑا رہے تھے ، وہ کسی کو پکارنا چاہ رہا تھا ، کوئ خدا جس سے وہ زندگی مانگتا ، کوئ خدا جس سے وہ آسان موت مانگتا ، لب پھڑپھڑائے ، ہونٹوں سے کوئ لفظ نکلا…….اللہ !” )
” ایک الہ یعنی ” اللہ ” ، آپ جب ” الا اللہ” کا لفظ کہیں گے تو آپ اپنی روح کو اپنے جسم کو اپنے دل کو اپنے زہن کو بتارہے ہیں کہ آپ کا ” الہ” صرف اللہ ہے ، آپ صرف اسی کی عبادت کریں گے ، اسی سے ڈریں گے ، اسی کے لئے محبت رکھیں گے ،نفرت کریں گے ، آپ ہر دنیاوی خدا کو ” لا” کہہ کر صرف ایک اللہ کو ” ہاں ” کہہ رہے ہیں ، آپ کا ایک ” لا ” آپ کو ہر خوف سے آزاد کردے گا ……آپ یہ لفظ کہنے کے لئے تیار ہیں ؟”
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
” آپ کے یہ لفظ کہنے کے لئے تیار ہیں ایرک ؟”
وہ سامنے بیٹھے پوچھ رہے تھے ۔ ایرک کے گلے میں گلٹی ابھر رہی تھی ۔ وہ ان سے کہنا چاہتا تھا کہ اب معطر اسے ملتی یا نا ملتی وہ اس کا دکھ ساری زندگی ساتھ لے کر چلتا ۔ وہ اسے اپنے دل سے نہیں نکال سکتا تھا لیکن وہ اسلام اس کے لئے قبول نہیں کرریا تھا
وہ کسی زمانے میں شہرت کا متمنی ہوتا تھا لیکن اب وہی شہرت اس کے قدموں میں پڑی تھی اور وہ اسی شام جب اس سینٹر سے نکلا تھا تو اپنے اندر کی خواہش یہیں چھوڑ گیا تھا ۔ قرآن نے اس کی ذندگی اسی دن بدل دی تھی
وہ دنیا خداؤں سے خوفزدہ نہیں تھا ۔ اسے سچ کے لئے لڑنے کی ہمت بھی اسی قرآن نے دی تھی ۔ اس ایک ” لا ” نے اس کی زندگی کئ دن پہلے ہی بدل دی تھی ۔ وہ اس ” لا ” کے ذریعے اپنی ذندگی ایک بار پھر بدلنا چاہتا تھا
” میں کلمہ پڑھنا چاہتا ہوں فہد بھائی ۔ میں اس ایک الہ کے لئے ہر الہ کو ” لا ” کہنے کی ہمت پاتا ہوں ۔ میں مستقبل نہیں جانتا لیکن مستقبل میں بھی میں کبھی کسی دنیاوی خدا کے آگے نہیں جھکوں گا “
اس کی آواز مضبوط تھی ۔ کوئ خوف نہیں ۔ کوئ پشیمانی نہیں ۔ فہد معظم ہلکا سا مسکرائے پھر اٹھے ۔ ایرک بے ساختہ ان کے ساتھ اٹھا
” آپ میرے ساتھ آئیں ۔ وضو کرلیں پہلے “
وہ آگے جارہے تھے ۔ ایرک ان کے پیچھے چلا ۔ کسی ٹرانس سی کیفیت میں اس نے وضو کیا ۔ ہر عضو دھونے کے ساتھ کچھ تھا جو دھل رہا تھا ۔ کچھ تھا جو مٹ رہا تھا۔ ان کے ساتھ واپس آنے ۔ چند مزید لوگوں کے ساتھ بیٹھنے ۔ کسی کے اذان کہنے تک زہن میں سب ساکت رہا ۔وہ چونکا تب جب اسے فہد بھائ کی آواز سنائ دی
” میرے ساتھ دہرائیں ” ۔اس کاسر ہلا
” اشھہد “
” اشھہد “
گواہی ۔ دل سے نکل کر کراما کاتبین کے قلم پر درج ۔ وہ گواہ تھا ۔ وہ گواہ بن رہا تھا
” ان لا “
” ان لا “
اس نے ہر دنیاوی خدا کو زہن میں رکھا…نفس…دنیا…خوف
” الہ الا اللہ “
” الہ الا اللہ “
اس نے ہر دنیاوی خدا کو دل سے نکال دیا ۔ صرف ایک خدا ہے ۔ ایک ہی رہے گا ۔۔۔۔۔اللہ !
” و اشھد ان محمد “
” و اشھد ان محمد”
وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا صرف نام جانتا تھا
” عبدہ ورسولہ”
” عبدہ ورسولہ”
اور اب وہ اس نام پر مر مٹنے کو تیار تھا
” اللہ آپ کو یہ سفر مبارک کرے “
” آمین ۔۔۔۔”
اس کی آواز کانپ گئی ۔ اردگرد کے لوگ ۔ فہد بھائی اسے مبارک دے رہے تھے۔ وہ اسے گلے لگا رہے تھے ۔ اس کا پورا جسم کانپ رہا تھا ۔ پوری روح کانپ رہی تھی
” فہد بھائ۔۔۔”
کھڑا ہوتے وہ ان کے سامنے آیا ” میرے۔۔۔میرے گناہ ؟ کیا اللہ وہ معاف کردے گا ؟ میں نے اب تک زندگی میں بہت گناہ گئے ۔ وہ بھی جو اللہ کو ناپسند ہیں ۔ وہ بھی جن سے اسلام منع کرتا ہے ۔ ان کا کیا ؟”
وہ اس بچے جیسا ہوگیا جسے دنیا میں صرف ایک خوف ہوتا ہے کوئ اس کی من پسند چیز نا چھین لے
” آپ نے جس وقت کلمہ پڑھا ہے اس وقت آپ یوں ہوگئے گویا آج ہی پیدا ہوئے ہیں ۔ ہر گناہ ختم…ہر گناہ ختم ..آپ کے پاس آج سے نیا نامہ اعمال ہے ۔ اس پر آپ اب نئ زندگی شروع کرنے جارہے ہیں ۔ اللہ یہ نئ زندگی برکت والی بنائے “
ساتھ ڈھیروں آمین ابھرے ۔ اس نے صرف سر ہلا دیا ۔ اس کے حلق میں بہت سے آنسو اٹکے تھے
” فہد بھائ نام تو دیں لڑکے کو کوئ اچھا سا “
” اوہ ہاں۔۔۔۔” وہ چونکے ” آپ نام تبدیل کرنا چاہیں گے ایرک ؟”
” جی…مجھے پرانی زندگی کا کچھ نہیں چاہئے۔۔۔مجھے نئ زندگی میں نیا نام چاہئے “
وہ بہت دقت سے بول پایا تھا
” چلیں پھر …میں آپ کو روئے زمین پر آنے والے پہلے انسان کا نام دیتا ہوں… اللہ کا اقرار کرنے والے پہلے انسان کا …الہ کو پہچاننے والی پہلی ہستی کا۔۔۔ہمارے ہم سب کے باپ کا…آدم علیہ السلام کا نام….آج سے آپ کا نام آدم ہوگا ۔۔۔۔آدم کیان !”
آدم ۔۔۔اس نے زیر لب دہرایا ۔۔ پھر آگے کو ہوتے فہد بھائی کو گلے لگایا
” آپ کا بہت شکریہ فہد بھائی “
وہ ان کے گلے لگا ہوا تھا ۔ فہد بھائی نے اس کی پیٹھ تھپتھپائی
” اللہ آپ کے لئے آسانیاں لائے آدم “
وہ علیحدہ ہوا پھر گہری سانس لی اور اردگرد دیکھا
” کیا۔۔۔کیا میں یہاں ایک سجدہ کرسکتا ہوں ؟”
” جی ضرور ۔۔۔۔مسجد آپ کے حوالے “
وہ مسکرا کر کہتے دوسرے لوگوں کو اشارہ کرتے چلے گئے۔ وہ وہیں ٹھہرا رہا ۔ دروازہ بند ہوگیا مسجد اندھیرے میں ڈوب گئ ۔ پھر وہ دو قدم چلتے محراب کے سامنے آٹھہرا ۔ قدم رک گئے
” اللہ۔۔۔”
آواز پلٹ کر واپس آئ
” اللہ..”
آواز پلٹ کر آسمان تک گئ
” اللہ ….”
وہ گھٹنوں کے بل زمین پر گرا ۔ پھر اسی طرح سجدے میں ۔ چند لمحے مسجد میں خاموشی چھائ رہی پھر ہلکی سی سسکی کی آواز ابھری۔ پھر رونے کی ۔ پھر ہچکیوں کی ۔ پھر وہ آواز بلند ہوتی گئ
” اللہ ۔ دیکھیں میں زمین پہ منہ کے بل گرا ہوں ” وہ روتے ہوئے کہہ رہا تھا ” میں نے زمین پر گر کر کس کو پالیا یہ بھی دیکھیں ۔۔۔ مجھے آپ مل گئے ۔ اب دنیا مجھ سے چھوٹ جائے تو کیا غم ؟ مجھے آپ مل گئے ۔ اب دنیا مجھ سے کنارہ کرلے تو کیا دکھ ؟ آپ مجھ سے راضی ہوں اور دنیا خفا ہو جائے تو کیا پرواہ ؟”
وہ رو رہا تھا ۔ شدت سے رو رہا تھا ۔ وہ چھ فٹ سے نکلتے قد کا اونچا لمبا مرد سجدے میں بچوں کی طرح رو رہا تھا
” میں کبھی آپ کو خفا نہیں ہونے دوں گا ۔ میں آپ کو ناراض نہیں کروں گا ۔ آپ مجھ سے راضی رہئے گا ۔ دیکھیں میں کتنا کمزور انسان ہوں ۔ میں غلط کردوں تو مجھ سے ناراض مت ہوئیے گا ۔ مجھے تو ابھی سے خوف آرہا ہے ۔ میں کتنی بھاری شے کاندھوں پر رکھ بیٹھا ہوں۔ میں کتنی خوبصورت شے دل میں رکھ بیٹھا ہوں”
اس کا وجود اب ہچکیوں سے کانپ رہا تھا ۔ خوف سے کانپ رہا تھا
” میں اب تک کہاں کہاں بھٹکتا رہا ؟میں یہاں کیوں نہیں آیا ؟ دیکھیں ۔ سجدے میں ۔ زمین پر یوں ماتھا رکھ کر میں مٹی بھی ہورہا ہوں تو سکون سے ہورہا ہوں۔ باہر جو عروج ہے وہ خاک برابر ۔ سجدے میں جو عروج ملا ہے اعزاز برابر ۔ اوہ میں دنیا کو کیسے بتاؤں اپنا سر زمین پر رکھ کر میں کس آسمان کو چھو آیا ہوں “
وہ اونچی آواز میں بول رہا تھا ۔ کوئ آجاتا تو خوف نہیں تھا ۔ کوئ نا آتا فرق نہیں پڑتا تھا
” میرا دل چاہ رہا ہے میں بار بار آپ کا نام لوں ۔ میرا دل چاہ رہا ہے میں بار بار کلمہ پڑھوں ۔ میں اس مٹھاس سے اب تک لا علم کیوں رہا ؟ اوہ اللہ ۔ آپ کتنے پیارے ہیں۔ آپ کا نام کتنا پیارا ہے “
وہ وہ شخص بن گیا جو سجدے سے اللہ کو راضی کرکے اٹھے گا ۔ جو آنسو سے ہر شے بہا دے گا ۔ جو ہچکیوں سے سب کہہ دے گا ۔ وہ روتا رہا ۔ سجدے میں پڑے پڑے ۔ اس کا سر کا جو درد کئ دن سے تھا وہ راحت میں بدل رہا تھا ۔ اس کے دل میں جو درد کئ سالوں سے تھا وہ سکون میں بدل رہا تھا
آدم کیان نے زمین پہ گر کر آسمانوں کے رب کو پالیا تھا !
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
