Laa By Fatima Noor Readelle50338 Laa (Episode 35) Last Episode (Part - 1)
Rate this Novel
Laa (Episode 35) Last Episode (Part - 1)
Laa By Fatima Noor
لاہور ریلوے اسٹیشن پر ٹرین آنے میں تھوڑی دیر تھی ، پلیٹ فارم کے سامنے عرشے پر آدم بینچ پر بیٹھ رہا تھا ، اس کے ساتھ بانو آپا تھیں ، ہاتھ میں تھامی پانی کی بوتل ان کی طرف بڑھاتے وہ ان سے تھوڑے سے فاصلے پر بیٹھا
” ٹرین لیٹ ہے ؟”
” میرے ملک کی ٹرینوں کا یہی حال ہے”
” آپ فلائٹ سے چلی جاتیں “
” میرے گاؤں تک صرف کچی سڑک جاتی ہے آدم ، وہاں اب بھی پکے راستے نہیں بنے۔ تم ایئرپورٹ کی بات کرتے ہو ؟” آدم نے رخ سامنے کرلیا
” آپ اب یہیں رہیں گی ؟”
” مجھے واپس نہیں جانا “
” میں آپ کو مس کروں گا”
” میں بھی …” وہ اداسی سے مسکرائیں پھر لہجے میں بشاشت ابھری ” اب تو تمہارے پاس معطر ہے ، تمہیں کہاں کسی کی یاد آئے گی”
وہ ہنسا
” اس نے آ کر اپنی خالی جگہ بھری ہے آپا ، باقی سب کی جگہیں تو خالی ہیں “
” تمہارے گھر والے مان جائیں گے”
” آپ کو اپنے گھر والوں کے ماننے کی امید ہے ؟”
رخ موڑ کر انہیں دیکھا
” ہم دونوں کے حالات ایک جیسے نہیں ہیں ، موازنہ مت کرو “
” ایک جیسے ہی ہیں آپا ، آپ کے ماں باپ چلے گئے ، آپ کو گلٹ ہے کہ آپ سے ناراض ہو کر چلے گئے ، میرے ماں باپ مجھ سے ناراض ہیں ، میں بھی ڈرتا ہوں کہ وہ مجھ سے ناراض رہے اور اُنہیں یا مجھے کچھ ہوگیا تو ؟”
” ایسے مت بولو ” وہ رنجیدہ ہوئیں
” جانتی ہیں لوگوں کو حیرت ہوگی اگر میں اُنہیں بتاؤں کہ میرے باپ غیر مسلم ہیں ، وہ مسلمانوں کے خلاف ہیں اس کے باوجود بھی میں ان سے محبت کرتا ہوں ، لوگوں کو حیرانی ہوگی لیکن میں محبتوں کے معاملے میں بہت بے بس واقع ہوا ہوں ، کرتا ہوں تو بس کرتا ہوں ، اور جن سے کرتا ہوں میں ان کی محبت میں اپنے اندر سے نہیں نکال سکتا “
” وہ ایک دن مان جائیں گے “
” وہ مان کر بھی غیر مسلم رہے پھر ؟ آپ کو پتا ہے آپا یہ کیفیت بدترین ہے کہ آپ جانتے ہوں آپ کے ماں باپ خود کو آگ میں ڈال رہے ہیں اور آپ صرف دیکھتے رہیں ، فہد بھائی کہتے ہیں کافر جنت میں نہیں جائیں گے ، میں اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے ماں باپ کو جہنم میں جاتے ہوئے کیسے دیکھوں گا آپا ؟”
اس کے چہرے پر اذیت پھیلی ، ایک یہی مقام تھا جہاں وہ تھک جاتا ، جہاں وہ کوشش بھی نہیں کرسکتا تھا
” تم انہیں اسلام کی دعوت دیتے رہنا ، ان کا دل کبھی نا کبھی اسلام کی طرف مائل ہو ہی جائے گا “
” وہ میری کالز تک نہیں اٹھاتے ، دعوت دینا تو دور کی بات ہے ” اس نے سر جھٹکا پھر سیدھا ہوتے گہری سانس لی ، اُنہیں دیکھا اور مسکرایا ” میں جب پاکستان آؤں گا تو میں اور معطر آپ کے گھر آئیں گے “
” تب تک مجھے معافی مل گئ تو ، لیکن تم دونوں پشاور نہیں جارہے ؟”
پریزے نے ان دونوں کو دعوت دی تھی ساتھ انہیں بھی لیکن وہ ٹکٹ پہلے ہی بک کراچکی تھیں
” میں نہیں جا پاؤں گا “
” کیوں ؟ “
” وہ اداس ہوں گے “
” ایسی کوئ بات نہیں ہے بیٹا “
” پریزے سنان کو یاد کرتی ہے آپا ” وہ دھیرے سے بولا تھا ،بانو آپا رک کر اسے دیکھنے لگیں ” پہلے کی بات ہوتی تو میں ضرور جاتا لیکن اب معطر سے نکاح ہونے کے بعد میں اس کے ساتھ وہاں جاکر پریزے کے دکھ میں اضافہ نہیں کرنا چاہتا ، وہ نکاح پر بھی بمشکل آنسو روکے ہوئے تھی ،میں اسے بہن مانتا ہوں ، اپنی بہن کے غم میں اضافہ نہیں کرنا چاہتا “
بانو آپا کئ لمحے چپ سی رہ گئیں ، انہیں احساس ہوا اس کہانی کا ہر کردار کسی غم کو سہہ رہا تھا کسی غم سے گزر رہا تھا ، گزرنے کی ، سہنے کی کوشش کررہا تھا
” وہ تمہیں اپنا بھائ مانتی ہے ، وہ تمہارے لئے خوش ہے “
” وہ مجھے اپنا بھائ مانتی ہے لیکن میں اس کا بھائ نہیں ہوں ، اس کا بھائ سنان تھا ، میں جانتا ہوں وہ میرے لئے خوش ہے لیکن اسے سنان کا غم بھی ہے اور اس کا غم اس کی خوشی سے زیادہ ہے”
سامنے سے ٹرین آرہی تھی ، بانو آپا اسے دیکھتی رہیں پھر اٹھ کھڑی ہوئیں ، آدم ان کا بیگ اٹھاتا ساتھ ہی اٹھا
” سنان کی ڈائری تمہارے پاس تھی ؟”
” وہ میں پریزے کو دے چکا ہوں ، اس ڈائری پر صرف اس کا حق تھا “
ان کا بیگ گھسیٹتے وہ ٹریک کے سامنے رکا ، مسافر اتر رہے تھے کچھ چڑھ رہے تھے ، رش سا لگ گیا ، بانو آپا بیگ تھامتے رکیں
” معطر کا دھیان رکھنا آدم ، اس بچی نے بہت کچھ برداشت کیا ہے ، بہت سے دکھ ، بہت سی آزمائشیں ، اس تک اب خوشیاں لانا تمہارے ذمہ ہے”
وہ مسکرایا
” وہ میرے لئے اس دنیا میں واحد رشتہ بچ گئ ہے آپا ، میں اس کا دل نہیں دکھاؤں گا”
بانو آپا مسکرائیں پھر سر ہلاتے بیگ اندر رکھا ، قدم برتھ پر جمائے
” آپا “
” ہاں “
وہ مڑیں
” ہم پھر ملیں گے”
” ضرور ملیں گے ان شاءاللہ”
وہ قدم اندر رکھ چکی تھیں ، آدم وہیں رکا رہا ، الوداع مشکل ہوتا ہے ، مشکل ترین ہوتا ہے ، سر جھٹکتے وہ واپسی کی طرف بڑھا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
پریزے اور اس کا خاندان اگلے ہی دن چلا گیا تھا ، وہ لوگ عید کے دوسرے دن انہیں اپنے ہاں آنے کی دعوت دے کر گئے تھے ، معطر کا خیال تھا شاید آدم وہاں نہیں جائے گا ، وہ نکاح کے بعد مصروف ہوگیا تھا جانے کہاں غائب ہوتا تھا
اور یہ چاند رات کی بات تھی جب حد درجہ مصروفیت کے دوران اسے آدم کا میسج موصول ہوا
” تم نے بتایا نہیں کہ مشرق میں لڑکیوں کو سسرال والوں کی طرف سے عیدی بھی دی جاتی ہے ؟”
وہ کچن میں امی کے ساتھ ٹھہری شیر خورمہ بنا رہی تھی ، چور نظروں سے موبائل کو دیکھا پھر ٹائپ کیا
” اچھی لگتی اپنے منہ سے عیدی مانگتے ہوئے ؟”
” مجھے تو لگتیں”
” تمہیں خود پتا ہونا چاہئے تھا کہ عیدی دیتے ہیں”
” میں کون سا صدیوں سے یہاں رہ رہا ہوں بطورِ شوہر پہلی عید ہے میری “
” مشرقی لڑکی سے شادی کی ہے تو مشرقی روایات بھی سیکھ لیتے “
اس نے موبائل رکھ دیا ، اسے کون سا عیدی کی ضرورت تھی
” آدم سے کہہ دینا کہ کل یہیں آجائے “
اس نے سر ہلادیا ، مبشرہ کے پاس آدھے محلے کی لڑکیاں مہندی لگوانے آئ بیٹھی تھیں ، وہ ان سب سے بے زار تھی تو سارا کام کرتے کمرے میں چلی گئی ، نماز پڑھی اور وہیں جائے نماز پر سجدے میں لیٹ گئ
دنیا کا آدھا سکون تو نماز کے بعد جائے نماز پر سونے میں تھا
ایسے موقع پر بابا بہت شدت سے یاد آتے تھے ، پچھلی ہر عید پر ہر چاند رات پر ، ہر تہوار پر جیسے ان کے نا ہونے کا غم ان کے نا ہونے سے زیادہ بڑھ جاتا تھا، اس کی آنکھیں بند ہورہی تھیں جب دروازہ ہلکا سا کھلا اور مبشرہ اندر آئ
” آپی…”
” ہوں ؟”
” اٹھیں ، باہر دیکھیں کوئ آیا ہے”
” کون ؟”
” اٹھیں تو “
وہ چارو ناچار اٹھی ، دوپٹہ درست کیا اور جمائ روکتی سیڑھیوں سے اتری ،مبشرہ پہلے ہی باہر جاچکی تھی ، درمیانی سیڑھی پر قدم رکے ، وہ سامنے بیٹھا تھا ، مسکرا کر دانیال کی بات سن رہا تھا ، سیاہ جینز پر سفید شرٹ جس کے بازو موڑ رکھے تھے ، وہ کچھ اچھنبے سے آگے کو آئ
” آدم تمہیں لینے آیا ہے”
سامنے والی کرسی پر بیٹھی امی اسے آتے دیکھ بولیں
” کس لئے ؟ “
” عید کی شاپنگ کرانی تھی “
اسے عید سے ایک رات پہلے شاپنگ کا خیال آیا تھا ؟ رک کر اسے گھورا ، وہ مکمل انجان بنتا دانیال کی بات سنتا رہا
” میرے پاس ہے سب کچھ “
” چلی جاؤ معطر ، بلکہ ایسا کرو مبشرہ اور عون کو ساتھ لیتی جاؤ اگر اکیلے نہیں جانا “
اس نے رک کر آدم کو دیکھا پھر ہاتھ سینے پر باندھے مسکراہٹ دبائ ، کچھ کہنے کو منہ کھولا ہی تھا جب دانیال کی آواز کانوں میں پڑی
” امی ، اس کا شوہر ہے وہ ، اکیلی جاتے ڈرے گی کیوں ؟ معطر تم جاؤ “
” میں تو اسی کے لئے کہہ رہی تھی “
امی خفا ہوئیں
” بچی تو نہیں ہے وہ ، جاؤ معطر “
وہ منہ بناتی اوپر گئ ،لباس تبدیل کیا اور نیچے آئ تو وہ گیٹ کے پاس ٹھہرا تھا ، بیگ کاندھے پر ڈالے وہ اس کے ساتھ ہی باہر نکلی
” اب دیکھو مجھے سچ میں علم نہیں تھا کہ یہ کوئ عیدی وغیرہ کا معاملہ ہوتا ہے تمہارے ملک میں ، تم جانتی ہو اور یقیناً جانتی ہو کہ میں زرا ان سب سے دور رہنے والا انسان ہوں “
” تو اب کیوں آئے ہو ؟”
یہ لے کر کس پر جائے گا ؟ رکشے پر ؟
” پریزے نے ڈانٹا ہے ، سنو معطر یہ کس قدر غلط بات ہے نا کہ وہ مجھ سے چھوٹی ہو کر مجھے ڈانٹ رہی ہے “
” یعنی تم اپنی مرضی سے نہیں آئے ” وہ رکی ، خفگی سے اسے دیکھا
” میری جیب میں جو والٹ ہے وہ میرا ہے ،جن قدموں سے میں آیا ہوں وہ بھی میرے ہیں ، تم بتاؤ کیا اب بھی اپنی مرضی سے نہیں آیا میں ؟”
” نکاح کے بعد تمہاری زبان کچھ زیادہ نہیں چل رہی ؟”
” پہلے میں خوفزدہ تھا کہ تم منع کردو گی ، اب کیسا خوف ؟”
وہ یکدم ہی کوی پرانا شناسا لگ رہا تھا ، وہی جو ازلنگٹن کی سڑکوں پر اس کے ساتھ چلتے ہوئے بولتا تھا اور بے تحاشا بولتا تھا ، وہ وہی بن گئ جو اسے جواب دیتی تھی اور بھرپور دیتی تھی
” میں رخصتی سے منع کردوں گی ” تڑخ کر کہتے وہ گاڑی تک آئ پھر رکی ” تم چلا لوگے ؟”
” اوہ ، رکو تمہیں لگتا ہے مجھے گاڑی چلانی نہیں آتی ؟ تمہاری اطلاع کے لئے میرے پاس اپنی ایک عدد کار ہے “
اس کے لئے گاڑی کا دروازہ کھولتے وہ مسکرایا ، وہ مسکراہت ایرک کی تھی ، معطر اندر بیٹھی
” وہاں کی ڈرائیونگ مُختلف ہے ، یہاں کہیں ٹھوک دی تو ؟”
” میری صلاحیتوں پر شک مت کرو “
دوسری طرف آتے وہ گاڑی سٹارٹ کرنے لگا
” کس سے لی ہے ؟”
” نجیب….وہ ایک لڑکا ہے “
” لڑکا ہے ” وہ ہنسی
” دوست وہ ہے نہیں ، اور بھائ وہ مجھے کہتا ہے”
وہ آہستہ سے چلا رہا تھا
” تمہارے باقی سب دوست کدھر گئے ؟”
” چھوڑ گئے….”
” کہاں ؟” اسے لگا شاید کہیں دوسرے شہر یا ملک چلے گئے ہوں گے
” وہ ایرک کے دوست تھے ، آدم کو چھوڑ گئے “
معطر چپ ہوئ ، آدم کے چہرے پر کوئ تاثرات نہیں تھے یوں جیسے عام سی بات تھی
” مارک بھی تو ہے اور وہ فہد بھائی بھی تو ہیں “
” مارک آفس فرینڈ ہے اور فہد بھائی قابلِ احترام ہیں ، دوستوں والے تعلقات نہیں ہیں ان کے ساتھ ” بات مکمل کرتے اس نے رخ موڑ کر آنکھیں سکیڑے اسے دیکھا ” تم مجھے سوشل میڈیا پر سٹالک کرتی تھیں ؟”
” میں کیوں کرنے لگی ؟”
وہ گڑبڑائ
” پھر تم مارک اور فہد بھائی کو کیسے جانتی ہو ؟”
” دانیال نے بتایا تھا “
” اوہ ٹھیک ، یعنی وہ تمہیں اتنی چھوٹی چھوٹی باتیں بھی بتاتا تھا ، صحیح”
” ہاں بالکل “
” اپنی فیک آئی ڈی کا نام بتانا زرا “
” میری کوئ فیک آئی ڈی نہیں ہے “
” کس نام سے ہوگی ؟ مجھے گیس کرنے دو ، اینجل ، ڈریمر ، پری…”
” تمہیں میں اتنی غیر سنجیدہ لگتی ہوں ؟”
” کسی کو سٹالک کرنا کہاں کی سنجیدگی ہے ؟ یعنی تعجب “
” میں نہیں کرتی تھی سٹالک ” اسے غصہ آیا
” تم مکر جاؤ ۔ سچ پھر بھی وہی رہے گا “
” سچ نہیں ہے یہ “
” اچھا یہ بتاؤ تم نے کبھی مجھے میسج کیا تھا اس فیک آئی ڈی سے ؟”
” جی نہیں “
اوپس ، زبان سے سچ پھسل گیا۔ آدم ہنس دیا ،معطر کو سبکی کا احساس ہوا
” نام بتانا معطر “
” بات ہی نا کرو مجھ سے “
چڑ کر کہتے وہ رخ ہی پھیر گئ پھر سڑک کو دیکھا
” کہاں لے کر جارہے ہو ؟”
” بدقسمتی سے ہم اس گاڑی سے انگلینڈ نہیں جاسکتے تو شاپنگ مال ہی لے جارہا ہوں ” وہ موبائل پر لوکیشن دیکھ رہا تھا
” مجھے مال نہیں جانا ، انار کلی جانا ہے “
” یہ کیا ہے ؟”
” بازار ہے “
” اوکے ۔۔۔لیکن ۔۔۔ ٹھیک ہے “
گویا سرینڈر کرتے اس نے انارکلی کی لوکیشن دیکھی ، بازار پاس ہی تھا تو وہ جلدی پہنچ گئے ، اندر گاڑی لے جانا ممکن نہیں تھا تو وہ اس نے باہر ہی پارک کردی ،اس نے اترنے سے پہلے کیپ سر پر پہن لی تھی ، تھوڑا سا چلا ہی تھا جب رک کر بازار کو دیکھا پھر ساتھ چلتی معطر کو
” یہاں سے شاپنگ کروگی ؟”
وہ لندن کے اونچے شاپنگ مالز کا عادی
” ہمیشہ یہیں سے کرتی ہوں “
وہ انارکلی کی دکانوں کے سامنے رک جانے والی
” ہم اس رش میں گم ہوگئے تو ؟”
” اتنے تم چھوٹے بچے ،ویسے تم اتنے مشہور بھی نہیں ہو پاکستان میں ” وہ اس کی کیپ کو دیکھتی بول رہی تھی ، اندر واقعی رش تھا ، چاند رات کا ہنگامہ ، خواتین کا شور ، بچوں کے رونے کی آوازیں ، کہیں سے اٹھتی مہندی کی مہک ، وہ راستوں سے ہوتے آگے بڑھنے لگے ، درمیان میں سٹالز ، دکانوں کے اندر سے آتی آوازیں ، وہ برطانیہ میں یہ چیز سب سے زیادہ مس کرتی رہی تھی
” کوئ جل رہا ہے ؟”
” جلتی ہے میری جوتی “
” جل کر سیاہ ہوچکی ہے “
” تم پھر میرا دماغ گھما دیتے ہو ، میں نہیں جا رہی “
” اچھا سوری ، اب چلو ،میں یہاں کے بازاروں کے بارے میں کچھ نہیں جانتا “
” پھر لائے کیوں تھے ؟”
” بتایا تو ہے پریزے کے کہنے پر “
معطر رکی
” تم ہماری پہلی چاند رات خراب کرنا چاہتے ہو ؟”
” یادگار بنانا چاہتا ہوں “
وہ جیبوں میں ہاتھ ڈالے ٹھہرا تھا ، پاس سے کوئ لڑکا گزرا پھر ٹھٹکا پھر رکا
” آدم کیان ؟”
وہ چونکا ، ہلکا سا مسکرایا ، لڑکا اب جوش سے ہاتھ آگے بڑھائے کچھ کہہ رہا تھا ،معطر خاموشی سے دیکھتی رہی ، ایک منٹ تک وہ وہیں ٹھہرا رہا لڑکا ایک تصویر کھنچواتے آگے بڑھا تو وہ اس کی طرف متوجہ ہوا
“میں تو اتنا مشہور بھی نہیں ہوں نا پاکستان میں ؟” معطر نے ہاتھ جھلایا
” ایک دو لوگ ہی پہچانتے ہیں بس “
” تم ٹھیک کہہ رہی ہو …چلیں ؟”
” کہاں جانا ہے ؟”
” مجھے کیا معلوم ؟”
” کیا مطلب کیا معلوم ؟ خود ہی تو لے کر آئے ہو ، کہاں جانا ہے یہ بھی بتاؤ “
وہ رکا ، رک کر اردگرد دیکھا ، اردگرد کپڑوں کی دکانیں تھیں
” پہلے ڈریس لے لیتے ہیں “
وہ سر ہلاتی آگے بڑھی ، آدم کا اس طرح کے بازار میں گھومنے کا پہلا تجربہ تھا تو وہ تھوڑا کنفیوز تھا ( برگر ہنہہ ) ، سو اس نے خود ہی آگے بڑھتے دو چار دکانیں چھانیں ، اسے ساتھ خوار کیا ، سوٹ پسند نا پسند کرتے وہ ساتھ بیٹھا اس کی دکاندار سے بحث سنتا رہا ، سمجھ ایک لفظ نہیں آیا لیکن اس نے خواری کا شکوہ نا کیا ۔ بے چارہ تحمل سے دوچار دُکانوں میں گھومتا رہا ، بلاآخر ایک دکان پر اسے سوٹ پسند آ ہی گیا ، ہلکے گلابی رنگ کی لمبی قمیص جس کا ٹراؤزر ہم رنگ تھا ، دوپٹہ شیفون کا تھا ، وہ پیمنٹ کرتا اس کے ہاتھ سے بیگ لیتا باہر نکلا تو رکا
” باقی کی شاپنگ تم میری مرضی سے کروگی”
” تمہیں خواتین کی شاپنگ کا تجربہ ہے ؟”
” تم پر ٹرائے کرتا ہوں ، آخر کو قانونی اور شرعی بیوی ہو میری “
معطر خاموشی سے اس کے ساتھ بڑھ گئ لیکن اسے اندازہ ہوگیا آدم صرف وقت کا ضیاع کررہا تھا ، وہ ہر دکان کے سامنے رک جاتا پھر اس سے پوچھتا کہ کیا وہ یہ لے گی ، وہ جھانکتی، اندر برائیڈل ڈریسز ملتے اسے گھورتی پھر آگے بڑھ جاتی ، وہ تھوڑی دیر بعد کسی اور دکان کے سامنے رک جاتا ، آخر اس کا ضبط جواب دے گیا
” میں خود شاپنگ کرلوں گی”
اس نے خود ہی سٹال پر رکتے خود ہی جھمکے ، مہندی اور دکان سے جوتے پسند کر لئے
” اور چوڑیاں ؟”
وہ واپسی کا کہنے لگی تو آدم نے ابرو اچکائے
” رہنے دو ، میں اب چوڑیاں نہیں پہنتی “
” تم چوڑیوں کو اپنی کلائیوں سے محروم کررہی ہو ؟ “
” تم تو کہتے تھے کہ چوڑیوں کے بغیر زیادہ اچھی لگتی ہو “
” اب میں کہہ رہا ہوں ، چوڑیوں کے بغیر نا مکمل لگتی ہو “
اس کا ہاتھ تھامتے وہ ایک سٹال کی طرف بڑھا تو وہ گڑبڑائ
” ہاتھ تو چھوڑو ، لوگ دیکھ رہے ہیں “
” ایک تو بندہ یہاں اپنی بیوی کا ہاتھ بھی نہیں پکڑ سکتا ، یورپ کو دیکھو وہاں تو …”
” یورپ کو تو رہنے ہی دو ، تم لوگ تو ہو ہی بے حیا “
تم لوگ ؟ اس کے ماتھے پر بل پڑے اس
” تمہارا شوہر بھی انہی یورپ والوں میں آتا ہے “
” شوہر کی حرکتیں بھی یورپ والی ہی ہیں “
بازار میں رش بہت زیادہ تھا تو وہ دونوں بالکل ساتھ ساتھ چل رہے تھے ، آدم اب آرام سے چل رہا تھا جیسے بچپن سے انہیں بازاروں میں شاپنگ کرتا ہو اور وہ اب اتنی کنفیوژ ہورہی تھی کہ حد نہیں
” تم بہت غلط الزام لگاتی ہو ویسے “
وہ چلتے چلتے رکا ، کسی سٹال کے عین سامنے ، معطر کی نظر سٹال پر گئ ، رنگی برنگی ڈھیروں چوڑیاں ، ہر سائز کی ہر رنگ کی ، وہ وہیں رک گئ ، عرصے بعد جیسے یوں چوڑیوں نے اپنی طرف کھینچا تھا
” یہ لال رنگ کی دینا “
پندرہ سالہ لڑکا کچھ گڑبڑایا
” کیا ؟”
” تمہیں انگلش نہیں آتی ؟”
اس نے ہاتھ سے ہی چوڑیوں کی طرف اشارہ کیا تو وہ سمجھ کر سر ہلاتا دو سیٹ اس کی طرف بڑھانے لگا
” قیمت ؟”
” بارہ سو “
وہ سر ہلاتے اشارے سے بتانے لگا جب خاموش ٹھہری معطر یکدم اس کے آگے آئ
” بارہ سو کس چیز کے ؟”
لڑکا ایک بار پھر گڑبڑایا
” باجی ، چوڑیاں ہیں چھوارے نہیں “
” چوڑیاں بھی تم مہنگی دے رہے ہو ،میں ہمیشہ یہی سے لیتی تھی ، دو سال میں کون سا سونے کا رنگ چڑھانے لگے ہو تم لوگ چوڑیوں پر ؟”
خالص مشرقی انداز ، آدم نے اس کی کہنی پکڑتے پیچھے کیا
” کیوں ڈانٹ رہی ہو اسے ؟”
” قیمت کم کرارہی ہوں ، تم زرا چپ رہو ، بانٹنے کے لئے کماتے ہو ؟”
وہ اسے پیچھے کرتی آگے کو ہوئ ،اچھی خاصی بحث کے بعد دکاندار آٹھ سو میں دینے پر رضامند ہوگیا ، اس نے آدم کے ہاتھ سے پیسے لیتے دکاندار کو پکڑائے
” اتنی زیادہ کم ؟” وہ حیران ہوا
” امی کہتی ہیں کہ دکاندار آدھی قیمت زیادہ بتاتے ہیں چیزوں کی ، اس لئے آدھی قیمت خود ہی کم کرایا کرو ، تم یہاں کے طور طریقوں سے واقف نہیں ہو ، اسے بارگینگ کہتے ہیں “
وہ آگے بڑھنے لگی جب آدم نے یکدم اس کا ہاتھ تھاما ، معطر رکی پھر ابرو اچکائے ، وہ جواب دینے کی بجائے چوڑیوں کا پیکٹ کھولتا چوڑیاں نکال رہا تھا ، وہ وہیں جم گئ ، انارکلی کی تنگ سی گلیوں میں ، چمکتی روشنیوں کے بیچ ، اردگرد سے بے نیاز وہ اس کا ہاتھ تھامے چوڑیاں پہنا رہا تھا ،ایک پیکٹ سے سرخ چوڑیاں نکالتے اس نے معطر کی کلائ تھامتے اس میں ڈالیں ، کانچ کی چوڑیاں ایک دوسرے سے ٹکراتے فضا میں مانوس سا ساز پیدا کرنے لگیں ، اس کی پوری کلائ چوڑیوں سے بھر گئ ، اس نے دوسرا پیکٹ کھولتے اس کے اندر سے چوڑیاں نکالیں وہ منع کرنا چاہتی تھی لیکن جیسے کسی نے زبان سے الفاظ کھینچ کر چپ کرادیا تھا ، دوسری کلائ میں چوڑیاں ڈالنے کے بعد اس نے دونوں کلائیاں سامنے کیں
” اب لگ رہی ہو نا معطر”
وہ مسکرایا ، معطر کو ڈھیروں رونا آیا ، آج کل خواہ مخواہ ہی آرہا تھا
” چلیں ؟”
اپنے ہاتھ اس کے ہاتھ سے نکالتے وہ نظریں چراتی بولی ، اس نے چاہا کہ وہ دونوں وہاں سے ہٹ جائیں ، راستے میں کھڑے وجود ریت بنتے جارہے تھے
” مزید کچھ رہتا ہے ؟”
اس نے سر نفی میں ہلایا ، کچھ نہیں رہتا تھا ، اب کچھ نہیں رہتا تھا
واپسی کی طرف جاتے وہ کچھ بول رہا تھا ، وہ نیچے دیکھتی سن رہی تھی۔ جانے کون سے قصے ، کتنی داستانیں ، کون سے واقعے یاد آنے لگے ، چوڑیاں تو تیمور بھی لایا تھا ، سنان نے بھی دی تھیں لیکن وہ چوڑیاں جو اس نے پہنائ تھیں وہ ایسی خاص کیوں لگنے لگی تھیں ؟
” تم مہندی نہیں لگواؤ گی ؟”
وہ چلتے چلتے رکا ۔ معطر کو بھی رکنا پڑا ، نظر ان کی دائیں طرف گئ ، کھلے دروازے سے اندر کا منظر نظر آرہا تھا ، لڑکیوں میں سے چند مہندی لگا رہی تھیں ، چند لگوارہی تھیں
” رہنے دو “
” کیوں ؟۔۔چلو ” وہ خود ہی کھلے دروازے سے اندر گیا پھر گڑبڑایا ، وہاں ساری لڑکیاں تھیں ، کسی نے نظر اٹھا کر تیکھی نظروں سے دیکھا کسی نے گھورا ، وہ دونوں ہاتھ اٹھاتے مسکرایا
” آئ ایم سوری ، میری مسز کو مہندی لگوانی تھی ،معطر پلیز ” اسے اشارہ کرتے وہ تیزی سے پیچھے کو ہوا پھر رکا ” اس کے دونوں ہاتھوں کی چاروں سائیڈ پر لگائیے گا “
” مجھے نہیں لگوانی “
” شوہر کی نافرمانی کروگی تو گناہ ملے گا “
” بیوی سے زبردستی بات منوا کر کون سا اجر کماؤگے ؟”
وہ اسے خفگی سے گھورتا رہا معطر نے کچھ بے چارگی سے اسے دیکھا
٫ میں نے چوڑیاں پہنی ہیں ، مہندی خراب ہو جائے گی “
” اوہ رکو ، میں اتار لیتا ہوں “
وہ گویا خود ہی طے کرتا آگے بڑھا اور چوڑیاں کلائیوں سے نکالتے اپنی جیب میں ڈالنے لگا ،معطر کا چہرہ سرخ پڑا ،لڑکیاں منہ کھولے اِدھر ہی دیکھ رہی تھیں
” میں باہر ہوں “
دونوں ہاتھوں سے چوڑیاں اتارتے جیب میں ڈالتے وہ اسے دیکھتا باہر چلا گیا ، معطر کچھ خفت سے اندر گئ
” یہ آدم کیان تھا نا ؟”
” ہاں وہی ہے ، یہ ان کی مسز ہیں ؟”
چند چہ مگوئیاں سی ابھریں ، وہ بیگ سنبھالتی آخری کرسی پر بیٹھ گئ ، چہرہ ابھی تک سرخ تھا ، آدم پر خواہ مخواہ غصہ آنے لگا ، لڑکی اس سے ڈیزائن کا پوچھ رہی تھی اس نے اپنی مرضی سے لگانے کا کہہ کر ہاتھ آگے کردیا ، ایک گھنٹہ وہیں لگ گیا ، اسے بار بار فکر ہوتی رہی کہ پتا نہیں موصوف باہر اکتا نا گئے ہوں ، لڑکی بھی کچھ سست تھی ، مہندی لگ چکی تو اس نے اٹھنا چاہا لیکن یکدم احساس ہوا بیگ کیسے اٹھائے گی ، ساتھ ٹھہری لڑکی سے مدد کا کہا تو اس نے کاندھے پر ٹکا دیا ، وہ باہر گئ تو آدم اب بھی باہر ہی تھا ، ہاتھ میں کولڈ ڈرنک تھام رکھی تھی ، اردگرد چند لوگ بیٹھے تھے اور وہ اپنے مخصوص انداز میں مسلسل بول رہا تھا ، اسے آتے دیکھ معذرت کی اور پیمنٹ کرتے واپس آیا
” لگ گئ ؟”
ستائش سے اس کے ہاتھ دیکھے ، وہ شدید جھنجھلائ ہوئ لگ رہی تھی ، دوپٹہ بار بار کاندھے سے پھسل رہا تھا اوپر سے بیگ بھی سنبھل نہیں رہا تھا
” تمہارا شوق پورا ہوگیا تو چلیں ؟”
” غصہ کیوں ہو ؟”
” غصہ نہیں ہوں ، خواہ مخواہ ہاتھ بھر لئے اپنے ، اب گھر کیسے جاؤں گی ؟ بیگ بار بار پھسل رہا ہے ، اوپر سے دوپٹہ سنبھالا نہیں جارہا ، تم ۔۔۔۔”
بات پوری ہونی سے پہلے ہی وہ اس کا بیگ کاندھے سے اتار چکا تھا ،معطر کا منہ کھلا
” دوپٹہ درست کردوں ؟”
وہ تلملائ ، گال لال ہوئے پھر پیر پٹختے آگے بڑھی
” کچھ اور لینا ہے ؟”
” نہیں “
” کچھ کھاؤگی ؟”
” زہر لادو “
” اپنا آپ لادوں ؟ زہر ہی لگ رہا ہوں گا تمہیں “
اس کا بیگ ایک ہاتھ میں اٹھائے وہ دوسرا ہاتھ جیب میں ڈالے ہوئے تھا ، معطر بنا جواب دیئے گاڑی تک آئ پھر رکی ، یا اللہ ، دروازہ بند تھا ، مڑ کر بے چارگی سے اسے دیکھا جو سامنے آتے دروازہ کھول رہا تھا پھر اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا ، وہ اندر بیٹھی تو اس کا بیگ اندر رکھا پھر دوپٹہ اندر کیا ، دروازہ بند کرتے دوسری طرف آیا ، سامان وہ پہلے ہی گاڑی میں رکھ گیا تھا
” اچھی لگ رہی ہو “
” زہر لگ رہے ہو “
وہ تپی ہوئ تھی ، کل سے جو اچھی رائے اس کے بارے میں قائم کی تھی پل بھر میں بدل گئ ، دوپٹہ سنبھال لوں ؟ سب کے سامنے چوڑیاں پہنادیں پھر اتاردیں ، یا اللہ ، کتنا بے شرم تھا یہ انسان
” جو کہنا ہے کہہ لو لیکن خبردار جو مہندی خراب کی “
برا ہو اس وقت کا جب اس نے نکاح والے دن کسی کے ہاتھوں میں مہندی دیکھ لی تھی ، وہ ایک بار پھر گاڑی سٹارٹ کرچکا تھا ساتھ موبائل پر کچھ دیکھا ، ماتھے پر بل پڑے ، معطر لب سیئے دوسری طرف دیکھنے لگی ، اس کا جوڑا کھل رہا تھا ، دوپٹہ کاندھے سے پھسل رہا تھا لیکن اس بار اس نے آدم سے کچھ کہنے کی حماقت نہیں کی تھی ، گاڑی واپسی کی طرف مڑی اور کچھ ہی دیر میں اسے اندازہ ہوگیا کہ وہ جان بوجھ کر بہت آہستہ چلا رہا تھا
” تیز تو چلا لو “
” تمہاری مہندی سوکھ جانے دو “
” گھر جانے تک سوکھ جائے گی “
اس نے بس سر ہلادیا ،چہرہ کچھ مزید سنجیدہ ہوگیا تھا ، معطر نے رخ موڑ کر اسے دیکھا ، کچھ زیادہ ہی سنجیدہ لگ رہا تھا
” تمہیں میری کوئ بات بری لگی ہے ؟”
” تمہیں مجھے برا لگنے کی فکر ہورہی ہے ؟”
” جی نہیں”
” تمہیں تیمور نے ان دو سالوں میں تنگ کیا تھا معطر ؟”
وہ اس اچانک سوال پر ایک لمحے کو چپ رہ گئ ، اس سوال کی توقع وہ نہیں کررہی تھی ،کم از کم اس وقت نہیں کررہی تھی
” جواب نہیں دیا تم نے “
آدم نے رخ موڑ کر اسے دیکھا
” تم شک کررہے ہو ؟”
” شک نہیں کررہا ، سوال کررہا ہوں “
” کیا تھا ، جتنا وہ ڈرا سکتا تھا ، جتنا میں ڈر سکتی تھی اتنا ڈراتا رہا “
” کوئ مشکل تو کھڑی نہیں کی اس نے ؟”
” نہیں ، بس گھر کو لے کر دھمکیاں دیتا رہا ، میں کبھی نہیں سمجھ سکی کہ وہ مجھ سے چاہتا کیا ہے ؟ اسے کیس کرنا تھا تو اب تک کیوں نہیں کیا ؟ اب کیوں ؟ “
آدم نے اس بار جواب نہیں دیا وہ موبائل پر کوئ میسج کررہا تھا ساتھ بار بار سامنے دیکھتا جب اسے معطر کی آواز سنائ دی
” بابا کو شاید کیا تھا “
اس نے سر اٹھا کر معطر کو دیکھا
” کب ؟”
” میں انگلینڈ تھی تو شاید تب ، امی بتارہی تھیں بابا کی وفات سے ایک دن قبل وہ ہمارے گھر آیا تھا ، شاید گھر کے لئے اُنہیں مجبور کرنے آیا ہو “
گاڑی ان کے گھر کے باہر رک رہی تھی ، وہاں سامنے سیاہ رنگ کی ایک اور گاڑی ٹھہری تھی ، معطر گاڑی کو دیکھتی سیدھی ہوئ آدم رک کر اسے دیکھ رہا تھا
” تمہارے بابا کی وفات سے ایک دن قبل ؟”
” ہاں ۔۔۔ یہ گاڑی کس کی ہے ؟” اور اسے یاد آیا یہ کس کی ہے ، وہ کچھ چونکی
” معطر….”
” یہ تیمور کی گاڑی ہے “
” تم مجھے سن رہی ہو ؟”
” وہ یہاں کیا کررہا ہے ؟ اللہ یہ آدمی “
وہ دروازہ کھولتی باہر نکلنے لگی جب آدم نے اس کی کلائ تھامی وہ رکی
” کیا ہوا ؟ تیمور اندر …”
” وہ تمہارے بابا کی وفات سے ایک دن قبل تمہارے بابا سے ملا تھا معطر “
وہ رک کر اسے دیکھ رہا تھا
” تو ؟”
” اسی دن وہ شایان کے ڈیڈ کے پاس گیا تھا ، شایان یاد ہے تمہیں ؟”
” کون شایان ؟”
” وہ لڑکا جس کے ذریعے ہم نے تیمور کی خبر چلوائ تھی اور پولیس نے تیمور کو گرفتار کیا تھا ، وہ جس دن تمہارے بابا سے ملا تھا اسی دن وہ شایان کے ڈیڈ کے پاس گیا تھا”
” میں سمجھی نہیں” اس کے چہرے پر الجھن ابھری ، دماغ کے کسی کونے میں کوئ کچھ کہہ رہا تھا ، آدم کا چہرہ حد درجہ سنجیدہ تھا
” شایان کے ڈیڈ نے اسے بتادیا تھا کہ خبر میرے کہنے ہر چلائی گئی ہے ، وہ جانتا تھا کہ خبر میں نے چلوائ ہے ، تمہارے گھر میں وہ مجھے پہچان گیا تھا ، اس لئے نہیں کیونکہ وہ مجھے بطور اینکر جانتا تھا بلکہ اس لئے کہ وہ مجھے بطور ایرک جانتا تھا ، وہ جانتا تھا کہ وہ خبر میں نے چلوائ تھی ” رک کر اسے دیکھا ….” اس نے یہ نہیں پوچھا تھا کہ تم لوگ مجھے کیسے جانتے ہو اور میں تمہارے گھر میں کیا کررہا ہوں ، کیونکہ وہ واقف تھا کہ تم اور میں ازلنگٹن سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں ،اسے یاد تھا کہ ایئرپورٹ پر میں تمہارے ساتھ تھا ، وہ جانتا تھا کہ وہ خبر میں نے چلوائ تھی اور یقیناً یہ بھی جانتا ہوگا کہ کس کے کہنے پر چلائ ہے “
” اسے علم نہیں ہوسکتا “
” وہ جانتا تھا معطر ، میری اس سے کون سی دشمنی ہوگی جو میں خبر چلواتا ، مجھے اندازہ ہونا چاہئے تھا کہ میرا نام آیا تو بھی وہ تم تک پہنچ جائے گا ” اسے خود پر غصہ آیا
” تم صاف صاف کیوں نہیں کہتے “
وہ ٹھٹکی ، کسی نے دماغ کو جھنجھوڑا ، آدم نے گہری سانس لی
” اسے جس دن پتا چلا وہ اسی دن تمہارے بابا سے ملا ، اس کے ایک دن بعد تمہارے بابا کی ڈیتھ ہوگئ ، اُنہیں کوئ ہارٹ پرابلم تھا ؟”
” نہیں ، وہ ہارٹ پیشنٹ نہیں تھے ، اب تو کینسر کا بھی علاج ہورہا تھا ” وہ الجھ کر بول رہی تھی ، وہ کیا تھا جو دماغ کو ہتھوڑے کی ضرب جیسی اذیت دے رہا تھا” میں پیسے بھیج رہی تھی ، سب ٹھیک تھا ، وہ مجھے واپسی کا کہنا بھی چھوڑ چکے تھے ، دانیال کہتا تھا لیکن بابا نہیں ، اس دن کال کی تو ۔۔۔۔”
آگے کے الفاظ زبان پر رہ گئے ، کسی نے قوت گویائ ختم کردی ، آنکھیں آدم کے چہرے پر جمی رہ گئیں ، کتنی ہی دیر وہ اسے دیکھتی رہی جو سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا پھر معطر نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نکالا ، آہستہ سے ، مردہ کیفیت میں ، پھر وہ کھلے دروازے سے باہر نکلی ، قدم لڑکھڑائے
” معطر ….”
وہ اپنی طرف کا دروازہ کھولتا اس تک آیا
” ریلیکس ، پہلے پتا چلنے دو کہ یہ سچ ہے “
وہ نہیں سن رہی تھی ، گھر سامنے تھا ،گیٹ کھلا تھا ، وہ کھلے دروازے سے اندر داخل ہوئ ، مہندی آدھی سوکھ چکی تھی آدھی نم تھی ، وہ صحن سے ہوتی گیلری تک پہنچی ، قدم جیسے بھاری ہورہے تھے
” میرے مرنے سے پہلے آجاؤں گی نا ؟”
وہ انہی مردہ قدموں سے لاؤنج تک آئ پھر رکی ، وہ سامنے بیٹھا تھا ، سیاہ ٹراؤزر سفید ٹی شرٹ ، ٹراؤزر کی جیب پھولی ہوئ لگ رہی تھی ، زرد چہرہ ، سرخ آنکھیں ، الجھے بکھرے بال ، وہ بیمار لگ رہا تھا ، پھر اس کی نظر ساتھ بیٹھی پھپھو پر گئ ، وہ تیمور کو دیکھ رہی تھیں
” آپ کو یہاں کچھ نہیں ملے گا ، جائیں یہاں سے “
اسے کسی کونے سے دانیال کی آواز آئ ، قدم اٹھے ، تیمور نے بے زاری سے سر اٹھایا پھر اسے دیکھ کر تھما ، وہ جس کے ہاتھوں پر مہندی لگی تھی ، جس کا لباس سفید اور گلابی رنگ کا تھا ، وہ جب اس کی یونیورسٹی کے باہر اس سے ملا تھا وہی لباس ، دوپٹہ سینے پر پھیلائے وہ تیمور کو دیکھ رہی تھی
” معطر….” وہ جھٹکے سے اٹھتا اس تک آیا ” تم ایسا کیسے کرسکتی ہو ؟ تم نے نکاح کرلیا ؟ میں ہوسپٹل میں تھا میرا انتظار تو کرتیں “
” تو کیا ہم تم سے پوچھ کر اس کا نکاح کرتے ؟”
دانیال کچھ غصے سے اٹھا ، وہ کسی کو نہیں دیکھ رہی تھی وہ بس تیمور کو دیکھ رہی تھی ، کوئ اس کے بالکل پیچھے آن ٹھہرا تھا
” تم مجھ سے محبت کرتی تھیں ، تمہیں یاد ہے ہم نے مستقبل کے خواب دیکھے تھے ، ایسے تو مت کرو یارر “
” تیمور ….”
اب کے اسے امی کی آواز سنائ دی
” دیکھو تم ایسا کرو اس سے طلاق لے لو ” ایک کاٹ دار نظر آدم پر ڈالی جو کچھ بے زاری سے اسے دیکھ رہا تھا ، اس کی بات پر ابرو اچکائے ، اسے بس ایک طلاق لفظ کی سمجھ آئ تھی ” یہ تمہارے قابل نہیں ہے “
” تم بابا سے ملے تھے تیمور ؟”
اس کے چہرے پر نظریں جمائے وہ آہستہ سے بولی تھی ، رضیہ نے ٹھٹک کر معطر کو دیکھا ، کیا وہ جانتی تھی ؟
” معطر….”
” تم بابا سے ملے تھے تیمور حیدر ؟”
اب کی بار آواز اونچی تھی اور پورے لاؤنج میں گونجی تھی ، تیمور ٹھٹکا
” میری بات …”
” تم بابا سے ملے تھے نا ..” آگے بڑھتے اس کی شرٹ پر ہاتھ مارا ، مہندی کے چند داغ اس کی شرٹ پر لگے ” تم ملے تھے نا ؟ ان کی وفات سے ایک دن پہلے ؟ تم نے انہیں کیا بولا تھا ؟ تم نے کیا بولا تھا اُنہیں تیمور ؟”
تیمور وہیں جم گیا ، نگاہیں اس کی آنکھوں پر رہ گئیں جن میں نفرت تھی
” معطر ….”
” جہنم میں گئ معطر ، تم نے اُنہیں کیا کہا تھا ؟ کیا کہا تھا ؟”
وہ زور سے چیخی
” میں نے کچھ نہیں کہا تھا ، میں نے سچ میں کچھ نہیں کہا تھا “
اس کا سر نفی میں ہلا ، آنکھوں میں کوئ خوف ابھرا
” تم نے کہا ہوگا ، تم نے یہی کہا ہوگا نا کہ ان کی بیٹی بدکردار ہے ، تم نے مجھ پر الزام لگائے ہوں گے ، تم نے ان کے سامنے مجھ پر الزام لگائے ہوں گے ، جیسے تم نے پورے خاندان کے سامنے مجھے رسوا کیا تھا”
” میں نے نہیں کیا تھا “
” جھوٹ مت بولو ….کیا کہا تھا تم نے ؟ وہ ٹھیک تھے لیکن وہ پھر بھی چلے گئے ، ایسا کیا کہا تھا تم نے گھٹیا انسان ؟ میرے باپ کو کون سے میرے متعلقق جھوٹے قصے سنائے تھے ؟ کون سے الزامات لگائے تھے ؟ “
” میں نے کچھ ایسا نہیں کہا تھا معطر ، میں نے صرف اتنا کہا تھا کہ وہ تمہارے پیسوں پر پل رہے ہیں بس “
وہ غصے میں بول گیا ، پھنکارتے ہوئے ، ماتھے کی رگیں اُبھریں ، معطر صدمے سے وہیں جم گئ ، دانیال اور ساجدہ کے چہرے پر بے یقینی اتری
” تم نے یہ کہا تھا ؟”
” بالکل ..میں نے یہ کہا تھا ، سچ کہا تھا ، تمہارا باپ بزدل انسان تھا معطر ، اس کی وجہ سے ہم دونوں کی شادی نہیں ہوسکی ، اس کی وجہ سے میں سائیکو بن کر رہ گیا ، وہ ہم دونوں کے برے انجام کا ذمہ دار تھا ،میں نے اس سے صرف یہی کہا تھا ، میں نے یہی کہا تھا کہ وہ تمہارے باپ ہونے کے قابل نہیں تھا “
” تم کس قدر گھٹیا ہو “
اس کی آواز تک صدمے سے نا نکل سکی
” میں نے سچ کہا تھا ، تم انے اپنے اسی باپ کو مجھ پر فوقیت دی تھی نا ؟ وہ ہماری کہانی کے برے انجام کا ذمہ دار تھا “
” وہ میرا باپ تھا …” وہ چلائ ” میں اس کے لئے ساری دنیا کی خاک چن سکتی تھی ، ساری دنیا کی دولت رد کرسکتی تھی ، تمہاری اوقات کیا تھی ان کے سامنے جو میں تمہیں چنتی ؟ میرے باپ سے وہ سب کس حثیت سے کہا تم نے ؟”
” اسی وجہ سے ، اسی وجہ سے مجھے وہ انسان سخت ناپسند تھا ، تمہیں اپنے باپ کے علاوہ کوئ نظر کیوں نہیں آتا ؟ مر گیا تھا وہ معطر ، چھ ماہ بعد ہی ، اس چھ ماہ کی زندگی کا کیا اس نے ؟ سوائے اس کے کہ وہ مجھے اور تمہیں اذیت دے گیا ” وہ پھنکارا ، معطر صدمے سے اسے دیکھتی رہی ، کئے لمحے پھر اس کا ہاتھ اٹھا اور پوری قوت سے تیمور کے گال پر پڑا ، اس کا چہرہ ہلکا سا جھکا ، ہاتھ بے یقینی سے گال پر گیا ، نظر معطر پر جمی رہ گئ
” میرے بابا کے بارے میں اپنے الفاظ سوچ کر منتخب کرو ” وہ چلائ ، تیمور کے چہرے پر شاک پھیلا پھر وہ بپھر کر آگے کو ہوا جب کوئ عین معطر کے سامنے آٹھہرا
” Don’t you dare to touch my wife”
کوئ ڈھال بن کر سامنے آیا تھا ،جیسے ہمیشہ آجاتا تھا ، وہی سخت نظریں ، وہی سخت چہرہ ، وہی ہاتھ جو تیمور کے سینے پر آ کر لگے تھے ، وہ دو قدم پیچھے کو ہوا ، آدم معطر کے سامنے ٹھہرا تھا ، انگلی اٹھا کر تیمور کو وارننگ دیتا ہوا
” تمہاری بیوی نہیں ہے وہ “
وہ انگلش میں غرایا ، آنکھیں سرخ انگارہ ہوئیں ، ماتھے پر پسینہ ابھرا
” تم تو کیا دنیا کا کوئ انسان اس کا مجھ سے جڑا نام علیحدہ نہیں کرسکتا ، اس کی مجھ سے جڑی نسبت نہیں توڑ سکتا ، اس لئے اگر میں کہہ رہا ہوں کہ میری بیوی سے دور رہو تو دور رہو تیمور حیدر ، ورنہ میں تمہیں یہیں گاڑھ دوں گا “
تو وہ سائبان میسر تھا جو اس کے سامنے ڈھال بن جاتا ، وہ اس تک غموں کو آنے سے پہلے ہی ختم کردیتا ، وہ اس کے سامنے چھپ گئ تھی ، وہ اس کے سامنے ٹھہر گیا تھا ، کوئ اس کی بیوی کو کچھ کہہ کر دکھائے
” تم مجھ سے اسے نہیں چھین سکتے آدم “
” تم سے چھینا کس نے ہے ؟ وہ تمہاری کبھی تھی ہی نہیں”
تیمور کی آنکھوں میں آگ سلگی ، وہ طیش سے اسے دیکھتا رہا پھر آگے کو ہوا
” تو اگر وہ میری نہیں تھی تو تمہاری بھی نہیں رہے گی “
وہ کچھ نکال رہا تھا کچھ سیاہ جیسا ، جیسے کوئ آلہ ہو جو زندگی چھین لیتا ہے ، آدم کی نظر اس کے ہاتھ پر گئ ، وہ پستول اٹھائے ہوئے تھا اور اس کی نال آدم کے سینے پر رکھ رہا تھا
” میں غصے کا بہت تیز ہوں تمہیں چاہئے کہ مجھ سے میرے غصے کی حالت میں مت الجھا کرو “
آواز غراہٹ میں بدل گئی ، معطر آدم کے پیچھے سے تیمور کی طرف آئ ، اس کا چہرہ سفید پڑا تھا
” تیمور …..”
تیمور کی نظر اس کی طرف گئ ، وہ زہر سا مسکرایا
” مر گیا تیمور حیدر معطر صبا ، تم میں سے کسی ایک نے بھی مجھے زندہ نہیں رہنے دیا ، کسی ایک نے بھی خوش نہیں رہنے دیا
تو کیا تکلف کریں یہ کہنے میں
جو بھی خوش ہے ہم اس سے جلتے ہیں “
” یہ مت کرو تیمور “
دانیال آگے کو ہونے لگا لیکن تیمور نے پسٹل کا دباؤ آدم کے سینے پر بڑھا دیا ، وہ وہیں رکا
” تیمور بیٹا ، غصہ مت کرو ” اب کے اس کی نظر اپنی ماں پر گئ ، وہ ہاتھ اٹھائے اس سے کہہ رہی تھیں
” آپ ان سب میں مت پڑیں “
” تم مجھے نہیں مار سکتے تیمور “
تیمور کی نظر آدم کی طرف مڑی وہ ضبط سے اسے دیکھ رہا تھا
” مجھے چیلنج مت کرو “
” تم مجھے نہیں مار سکتے بہتر ہے کہ پیچھے ہٹ جاؤ ، تمہیں غالباً پھر سے پینک اٹیک آرہا ہے “
” بکواس بند کرو اپنی “
اس کا طیش مزید بڑھا
” آدم پلیز چپ کرجاؤ ، وہ مار دے گا “
اسے لگا جسم سے جان نکلنے لگی ہو ، دو سال پہلے کا کوئ اور منظر نگاہوں میں گزرا ، سفید شرٹ ، سرخ خون ، نہیں ، اس بار نہیں
” یہ کچھ نہیں کرے گا معطر ، یہ صرف تمہیں ڈرا رہا ہے ، یہ صرف طریقہ بدل کر تمہیں ڈرا رہا ہے “
وہ بے خوف تھا جیسے اسے معلوم تھا کچھ نہیں ہوگا
” تمہیں یوں لگتا ہے تو یوں صحیح “
اس نے پسٹل کا زور بڑھایا ، ہاتھ ٹریگر پر گیا ، معطر کے منہ سے چیخ نکلی لیکن کلک کی آواز اس سے زیادہ بھاری تھی
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
