192.3K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Laa (Episode 18)

Laa By Fatima Noor

وہ ابھی بس سے اتر ہی رہی تھی جب ایرک کی کال آئ ، کارڈ سے کرایہ دیتے اس نے موبائل نکالا ، سیاہ لمبا کوٹ اور سر پر اونی ٹوپی تھی پھر بھی ہاتھ کپکپا رہے تھے، اوپر سے ہلکی ہلکی بارش مزید موسم خراب کررہی تھی ، رات کے قریب نو کا وقت تھا

” ہیلو “

ایرک کی بات سنتے ، اس سے بات کرتے اسے آج کا سارا حال یاد آنے لگا ، وہ اس کی ناراضگی کا پوچھ رہا تھا حالانکہ اسے غصہ زیادہ تھا ،پورا دن آج اسٹور میں اس کا ذہنی اذیت میں گزرا تھا سو اس نے سارا غصہ ایرک پر نکال دیا ، بنا لحاظ کئے اسے صاف کہہ دیا کہ آئندہ اگر بات اس کے دین پر آئ تو وہ اس سے ملنا چھوڑ دے گی ، ایسا ہے تو ایسا ہی صحیح

اور تبھی وہ احساس جو بس سے اترتے ہی اردگرد ابھرا تھا پھر سے آ گیا ، کسی کی مسلسل نظروں کا احساس ، وہ دو چار بار رکی ،پیچھے مڑ کر دیکھا ، کوئ نہیں تھا ، شاید صرف وہم ہی تھا ، اس نے سر جھٹک دیا

” میں اسی لئے پھر کہتا ہوں کہ تم لوگ شدت پسند ہو “

ایرک کو جواب دیتے اسے سامنے کی دیوار پر ہیولہ نظر آیا ، الفاظ زبان میں رہ گئے ، بیگ پر گرفت مضبوط پڑی ، یہ وہم نہیں تھا ، کوئ سچ میں اس کا پیچھا کررہا تھا

” وہ میرا پیچھا کررہا ہے”

وہ پوچھ رہا تھا کون ؟ اسے نہیں علم تھا ، اس کے قدم تیز ہوئے ، اسے دوڑنا چاہئے ، قدم تیز رکھنے چاہئیں

” معطر ۔۔۔۔”

وہ اس کی لوکیشن پوچھ رہا تھا ، بھاگتے ہوئے اس نے کچھ کہنے کی کوشش کی ، سانس پھول رہا تھا ، اردگرد خوف اور ڈھیروں خوف جمع تھا

” میں ۔۔۔۔اسٹیشن ۔۔۔۔”

کسی نے موبائل اس کے ہاتھوں جھپٹ کر لیا ، وہ چیخنا چاہتی تھی لیکن ایک مضبوط ہاتھ اس کے منہ پر آیا ، وہ پھڑپھڑا کر رہ گئ ، ٹوپی وہیں گر گئ

ایرک اس سے لوکیشن پوچھ رہا تھا ، وہ گھٹا گھٹا سا چیخ رہی تھی ، سامنے والا مضبوط تھا ، ایک ہاتھ سے اس کا منہ پکڑے وہ دوسرا ہاتھ اس کی گردن سے گزار کر اسے کھینچ رہا تھا ، اس کا سانس اکھڑنے لگا ، موبائل اس آدمی کے ہاتھ میں تھا ، وہ گلی کا موڑ تھا ، فلوقت تیز بارش ہورہی تھی تو گلی خالی تھی ، اکھڑتی سانسوں سے بہت ہمت کرتے اس نے دانتوں کا استعمال کرتے اس مرد کے ہاتھوں پر کاٹا ، اس کی گرفت ڈھیلی پڑی

” ایرک ۔۔۔۔۔”

وہ پوری قوت سے چلائ ، دوسرے ہاتھ سے اس کا گردن پر رکھا ہاتھ ہٹانا چاہا لیکن مقابل سنبھل گیا تھا ، موبائل اس نے زور سے زمین پر پھینکا اور اسی ہاتھ سے ایک تھپڑ اس کے منہ پر مارا ، معطر کراہ کر پیچھے کی طرف ہوئ ، دماغ گھوم گیا ، حلق کے اندر خون کا ذائقہ گھسا ، وہ مرد کا ہاتھ تھا اور وہ دھان پان سی تھی اس کا پورا وجود ہل گیا تھا

” یو مسلم گرل…..”

وہ اب گالیاں دے رہا تھا ، غصے سے ، طیش سے اور وہ دیوار کے ساتھ لگی اپنے ہونٹوں پر ہاتھ رکھے ہوئے تھی ، خون کی بوندیں ہاتھوں پر لگیں ، نظر اٹھا کر سامنے دیکھا ، سیاہ جینز اور جیکٹ میں ملبوس سیاہ نقاب پہنے وہ اچھا خاصا مضبوط مرد لگ رہا تھا ، اسے وہ رات یاد آئ جب ایرک نے اسے روک کر ڈرایا تھا ، اسے یقین تھا آج وہ نقاب ہٹاتی تو پیچھے ایرک کا چہرہ نا نکلتا ، اس کے اندر خوف گھسنے لگا ، ہمت کرتے وہ سیدھی ہوئ ، قدم گلی کی طرف مڑے اور اس نے بھاگنا چاہا ، لڑکا اس سے زیادہ تیزی سے اس کے سامنے آیا اور رومال اس کے منہ پر رکھتے اس کے بازوں کو کھینچا ، رومال پر کچھ لگا تھا ، اس کے حواس مختل ہونے لگے ، ایک ہاتھ سے اس کے چہرے پر مارتے اس نے سیاہ ماسک ہٹانا چاہا ، دوسرے ہاتھ سے ناک پر رکھا رومال دور کرنا چاہا ، وہ آگے کی طرف جاتا اسے کھینچ رہا تھا ، گلی کے موڑ پر دوسری بلڈنگ خالی تھی ، وہ جانتی تھی وہاں کام ہورہا تھا ، بند ہوتے حواس سے اس نے سانس روکی ، اگر وہ سانس لیتی تو وہ بو اسے بے ہوش کردیتی

لڑکا کھینچتے ہوئے اسے بلڈنگ کے اندر لایا ، وہ خالی تھی ، ورکرز جاچکے تھے ، اردگرد سیمنٹ ، اینٹیں ، پتھر کنکریٹ ڈھیروں سامان پڑا تھا ، نیچے زمین پر اینٹوں کو توڑ کر رکھا گیا تھا شاید وہ لوگ فرش درمیان میں چھوڑ کر گئے تھے ، وہ اسے کھینچتے آگے بڑھا اور پٹخ کر زمین پر پھینکا ، مٹی اس کے چہرے پر لگی ، کہنیاں چھل گئ ، کلائیوں میں اسٹور سے واپسی پر پہنی گئی چوڑیاں ٹوٹ کر گھسیں

” تم لوگ ۔۔۔ تم مسلمان ۔۔۔ الارا کو تکلیف دی تھی نا ، اب دیکھو میں تمہیں بھی ویسی ہی تکلیف دوں گا “

وہ کراہ کر اٹھتی سیدھی ہوئ ، بیگ ایک کاندھے سے گزار کر کمر پر ٹکا تھا تو وہ گرنے سے بچ گیا تھا ، حواس گم ہورہے تھے

” میں نے ۔۔۔۔ میں نے کچھ نہیں کیا “

پھولی سانسوں کے ساتھ اس نے بمشکل وضاحت دینی چاہی ، بال بکھر گئے ، جسم کانپنے لگا

” وہ بھی بے قصور تھی ۔۔۔ اور تم اس حامد کو بے قصور کہہ رہی ہو ۔۔۔ یو۔۔۔”

وہ ہذیات بک رہا تھا ،معطر نفی میں سر ہلاتی پیچھے کی طرف ہوئ ، بیگ کو مضبوطی سے پکڑا ، ایک ہاتھ سے بیگ کی زپ کھولی ، اس کے پاس ہمیشہ چھری اور لال مرچیں ہوتی تھیں ، ایرک والے حادثے کے بعد وہ احتیاطاً انہیں اپنے ساتھ رکھتی تھی ، ہاتھ اندر ڈال کر اس نے چھری کو ہاتھ میں تھاما

” مجھے جانے دو۔۔۔ میں بے قصور ہوں “

وہ نہیں سن رہا تھا ، غصے سے سرخ آنکھیں لئے وہ مسلسل اسے برا بھلا کہتا اس کی طرف بڑھا ، اس کے ہاتھ میں بڑا چھرا تھا ، معطر صبا کا سر نفی میں ہلا ، وہ مزید پیچھے کی طرف کھسکی

” تمہارے لوگوں کو الارا کی تکلیف تب سمجھ آئے گی جب تم اس سب سے گزرو گی ۔۔۔۔ یو آر گونا ڈائے گرل “

وہ خطرناک ارادے لئے اس کی طرف بڑھ رہا تھا ، اس کا سر تیزی سے نفی میں ہلنے لگا ، سانسیں گہری ہوگئیں ، ایسے نہیں ، وہ یوں نہیں مر سکتی تھی ، پیچھے کی طرف دیوار تھی ، وہ دیوار پر ہاتھ رکھتی ہمت کرتی اٹھی ، جسم لڑکھڑا گیا ، وہ کسی وحشی کی طرح اس کی طرف آرہا تھا ، اس نے ہاتھ میں تھاما چھرا نکالتے پوری قوت سے سامنے کھڑے لڑکے کو مارنا چاہا ، وہ تیزی سے دائیں طرف ہوا ، چھرا اس کی کلائ پر لگا ، وہ کراہ کر دور ہٹا پھر اسی پھرتی سے اس کا ہاتھ پکڑتے کھنیچتے دیوار کی طرف مارا

معطر صبا کا سر پوری قوت سے دیوار سے جا لگا ، پل بھر کو اردگرد اندھیرا چھا گیا ، ہرشے غائب ہوگئ ، اس کا سر پھٹنے کو ہوگیا ، یوں لگا کسی نے بھاری پتھر اٹھا کر سر کچل دیا ہو ، وہ نیچے بیٹھتی گئ ، ہمت ختم ہوگئ ، یوں لگا زندگی بھی ختم ہوگئ تھی

“تم اپنی تکلیف میں اضافہ کررہی ہو ۔۔۔”

وہ دھاڑا ، اسے سنائ نہیں دیا ، اس کا سر گھوم رہا تھا ، بمشکل ہاتھ اٹھاتے اس نے سر کے پیچھے رکھا ، ہاتھوں پر نمی محسوس ہوئ ، اس نے چند گہری سانسیں لیں ، بمشکل آنکھیں کھولیں ، وہ دو قدم کے فاصلے پر تھا ، موت کے فرشتے کی طرح اس کی طرف بڑھا رہا تھا ، اس نے پلکیں جھپکیں ، ناک میں کچھ گیلا سا محسوس ہوا ، اس کا ہاتھ ناک پر گیا ، وہاں نمی تھی ، خون کی بو تھی ، اس کی آنکھیں بند ہورہی تھیں ، دماغ پھٹ رہا تھا ، پھر اس کا ہاتھ بیگ کی طرف گیا ،میکانکی سا انداز ، جیسے وہ ہوش میں نہیں تھی لیکن شعور زندہ تھا ، جسم حرکت کررہا تھا

” تمہیں حامد کی سائیڈ نہیں لینی چاہیے تھی ، وہ جس قابل تھا اس کے ساتھ وہ ہوگا ، تم جس قابل ہو تمہارے ساتھ وہی ہونے جارہا ہے “

وہ اپنا چاقو لیتے اس کی طرف جھکا ، آنکھوں میں سرخی اور نفرت تھی ، معطر نے بند ہوتی پلکیں جھپکیں ، پھر اس نے دیکھا اس کا ہاتھ اس کی طرف بڑھا تھا ، وہ اپنا چاقو اس کی گردن تک لا رہا تھا ، معطر صبا نے اپنی زندگی بھر کی جمع کی گئی ہمت اکٹھی کرتے پرس میں موجود ہاتھ نکال کر سرخ پاؤڈر اس کے منہ پر اچھالا ، وہ چیخ کر پیچھے ہٹا ،چاقو گر گیا ، وہ پھٹتے ذہن کے ساتھ اسے دیکھتی رہی ، وہ چیخ رہا تھا ، چلا رہا تھا ، اسے گالیاں بھی دے رہا تھا ، بند ہوتی آنکھیں ، بند ہوتا دل لئے گہرے سانس لیتے وہ بہت ہمت سے اٹھی ، جسم چلنے کے قابل نہیں تھا ، آنکھیں بند ہورہی تھیں لیکن اسے معلوم تھا اسے بھاگنا ہے ، وہ چلنے کے قابل بھی نہیں تھی لیکن اسے دوڑنا تھا ، جانے کیسے خود کو گھسیٹا ، سر پر سرخ سیال بہہ رہا تھا ، دیواروں پر ہاتھ رکھتے خود کو گھسیٹتے وہ باہر بڑھی ، بارش مزید تیز ہوگئ تھی ، دروازے میں اسے ٹھوکر لگی وہ منہ کے بل گری ، جسم سے کراہ تک نا نکلی ، اسے نہیں معلوم تھا وہ زندہ کیسے تھی ، پھر کسی طرح بیٹھے بیٹھے خود کو چند قدم گھسیٹا ، جسم کپکپا رہا تھا ، وہ آہستہ آہستہ مر رہی تھی ، دو قدم ، صرف چند لمحے اور وہ تھک گئ ، سر نیچے گرگیا ، گہرے گہرے سانس لیتے دیوار کے ساتھ وہ وہیں لگ کر بیٹھ گئ ، بارش کے قطرے منہ پر گرنے لگے ، اس کا دماغ پھٹ رہا تھا ، دل بند ہورہا تھا ، شاید یہ اختتام تھا ، معطر صبا کی کہانی کا آخری صفحہ

” معطر ۔۔۔۔۔”

دور کہیں کوئ چلا رہا تھا

اس نے بند ہوتی آنکھیں سامنے جمائیں ، وہ موت کا فرشتہ تھا ، وہی آدمی جس کی آنکھوں پر وہ سرخ پاؤڈر مار کر آئ تھی ، وہ اس کے سر پر ٹھہرا تھا

” تمہاری موت آسان نہیں ہوگی لڑکی “

وہ پھنکار رہا تھا ، معطر کی ہمت نے اس کے اندر مزید اشتعال بھرا تھا ، اور اب اس کے اندر مزید ہمت نہیں بچی تھی ، وہ جانتی تھی وہ اب اسے مار دے گا

” معطر ۔۔۔۔۔”

کوئ اب بھی چلا رہا تھا ، پھر اس کی آواز قریب آنے لگی ، جیسے کوئ پاس تھا ، کوئ قریب تھا ، اس نے بند ہوتی آنکھیں گھمائیں ، تیز بارش میں سڑک کے پار کوئ کھڑا تھا ، پلکیں جھپکیں ، منظر واضح ہوا

ایرک کیان

وہ برستی بارش میں اسے پکارتا اس طرف آیا تو قدم جم گئے ، وہ سڑک کے کنارے گری ہوئ تھی ، آنکھیں بند ہورہی تھی ، یہ وہ لمحہ تھا جب کسی نے اس کا دل اس کے جسم سے نکال لیا ، روح جسم سے کھینچ لی ، پھر اس کی نظر معطر کے سامنے کھڑے مرد پر گئ ، اس کے ہاتھ میں چاقو تھا وہ ہاتھ بلند کررہا تھا ، منجمد قدم حرکت میں آئے ، وہ اس کی طرف بھاگا ، موت اور زندگی کے بیچ چند قدم رہ گئے ، سیاہ نقاب پوش چھرا اس کے پیٹ میں مارنے والا تھا جب پوری قوت اس کے پاس پہنچتے ایرک نے اسے دھکیلا ، نقاب پوش لڑکھڑا کر گرا ، چھری گر گئ

” معطر۔۔۔۔۔۔”

وہ دیوار کے ساتھ لگی معطر کے پاس گیا ، اسٹریٹ پول کی روشنی میں اس کے چہرے پر خون کی بوندیں ابھرتیں پھر پانی کے ساتھ بہہ جاتیں ، اس نے بند ہوتی آنکھیں کھولتے ایرک کو دیکھنا چاہا

” تم ٹھیک ہو۔۔۔ کچھ نہیں ہوگا ، میں کچھ کرتا ہوں ، آنکھیں کھلی رکھو انہیں بند مت کرنا پلیز “

اس کے حواس گم ہورہے تھے ، دل بند ہورہا تھا ، تیزی سے اٹھتے اس نے پیچھے جانا چاہا ، کوئ گاڑی ، ایمبولینس کچھ بھی ، کچھ بھی مل جائے ، تبھی نظر پیچھے گئ ، سیاہ نقاب والا مرد اٹھ کر چھرا اٹھا رہا تھا ، ایرک کا رواں رواں آگ میں جلا ، وہ تیر کی تیزی سے اس تک پہنچا اور اس کے منہ پر مکا مارا

” تمہاری ہمت کیسے ہوئ اسے ہاتھ لگانے کی ، کیسے ہمت ہوئ “

وہ پھولتی سانسوں کے بیچ اسے مارہا تھا ، نقاب پوش کا نقاب اتر گیا ، ایرک کو اس کا چہرہ دھندلا نظر آنے لگا ، اسے اس وقت ہوش نہیں تھا ، اندر باہر غصہ تھا

” اسے تکلیف دینے کی ہمت کیسے ہوئ تمہاری “

نقاب پوش کا ہاتھ زور سے اس کے ماتھے سے ٹکرایا ، ایرک کراہ کر پیچھے ہوا ، اس نے چھرے کا دستہ اس کے سر پر مارا تھا ، خون کا فوارہ ماتھے سے نکلا ، ہاتھ ماتھے پر گیا ، نقاب پوش لڑکھڑا کر کھڑا ہوا ، پھر اٹھتے تیزی سے پیچھے کی طرف بھاگا

ایرک کیان کے قدموں میں جان نہیں بچی تھی ورنہ وہ اس کے پیچھے جاتا ، اس کی جان سفید لباس والی لڑکی کے اندر قید ہوگئ تھی ، ماتھے پر سے ہاتھ ہٹاتے وہ کسی صحرا میں بھٹکے پیاسے کی طرح اس تک آیا

” معطر ۔۔۔۔۔”

جھٹکے سے اس کے پاس بیٹھتے اس کا ہاتھ تھاما ، وہ اس بار اس کا ہاتھ نہیں جھٹک سکتی تھی ، اس کے اندر ہمت نہیں تھی

” تم زندہ ہو نا۔۔۔؟”

وہ کانپ رہا تھا ، وہ ازلنگٹن کی سردیوں کا عادی تھا ، یہ سردی نہیں تھی خوف تھا

” معطر ۔۔۔۔”

معطر صبا نے پلک جھپکی ، نیلی آنکھیں ، نیلی آنکھوں والا سفید فام مرد جو اسے بلا رہا تھا پھر اس کی نظر آسمان پر گئ ، پلکیں بند ہونے لگیں ، زندگی ختم ہونے لگی ، اس کے ہونٹ پھڑپھڑائے ، آنکھیں بند ہوگئیں

” بابا۔۔۔۔۔”

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

بابا۔۔۔۔۔

وہ انہیں بلا رہی تھی

” آہستہ چلیں ۔۔۔۔”

” تم تھک گئ ہو ؟”

وہ اس سے کچھ فاصلے پر رک گئے ، اردگرد پرانی گلیاں تھیں ، وہ کسی سنسان گلی میں ٹھہرے تھے

” بہت زیادہ۔۔۔”

وہ رک کر تھک کر کہنے لگی

” تھوڑا سا سفر باقی ہے “

” میں چھوٹی ہوں۔۔۔ آپ کے قدم بڑے ہیں ، آہستہ چلیں “

” تمہیں میں نے لمبے قدم لینا سکھائے تھے معطر صبا “

” لیکن میرا قد تو بڑا ہونے دیں “

دس سال کی معطر صبا کچھ خفا ہوئ

” ہمت بڑی کرو۔۔۔”

” مجھے نہیں کرنی “

” ہمت کرو معطر۔۔۔۔ میں منتظر ہوں ، تیز چلو “

” بابا۔۔۔ رک جائیں “

وہ انہیں بلا رہی تھی ، وہ نہیں سن رہے تھے

” بابا ۔۔۔۔۔”

آواز مدھم ہوتی گئ ، منظر تبدیل ہوتا گیا ، اس کا ذہن لاہور کی گلیوں سے کسی اور دنیا کا منظر کھینچ لایا ، آنکھیں دن کی روشنی سے رات کا اندھیرا بن گئیں ، بند ہوتی پلکیں کھلنے لگیں ، ذہن جاگنے لگا

اندھیرا ۔۔۔۔ روشنی

روشنی ۔۔۔۔اندھیرا

سیاہی۔۔۔۔خون

خون ۔۔۔۔اندھیرا

اس نے پلکیں جھپکیں ، پھر بند کیں ،پھر جھپکیں ، کچھ نظر آیا ، روشنی جیسا ۔۔۔۔ کچھ محسوس ہوا ، درد جیسا

پھر اس نے کھلی آنکھیں گھمائیں ، دائیں طرف کرسی پر لڑکا بیٹھا تھا ، کہنیاں گھٹنوں پر ٹکائے ، ہاتھوں کی مٹھیاں بنائے ، وہ کانپتے ہونٹوں ان پر رکھے ہوئے تھا ، معطر نے پلک جھپکی

اگلے لمحے اسے یاد آیا وہ اس لڑکے سے لڑ کر آئ تھی ، پھر اسے وہ رات یاد آئ ، دن کونسا تھا بھول گیا ، منظر زہن میں تازہ ہوا ، اس کی آنکھوں سے پانی نکلا

” اللہ۔۔۔۔”

ہونٹ ہلے ، ایرک چونکا ، سر اٹھایا ، پھر جھٹکے سے سیدھا ہوتے اس تک آیا

” تم ٹھیک ہو ؟”

اس نے نظریں ایرک کی طرف موڑیں ، زرد یا شاید سفید چہرہ ، آنکھیں ، چہرے پر زندگی کے چند قطرے ، موت کے کئ منظر ، وہ اتنا پریشان کیوں تھا ؟

” میں کہاں ہوں ؟”

وہ بہت ہمت سے بول پائ

” ہوسپٹل۔۔۔ تم ٹھیک ہو نا ؟”

” بابا کہاں ہیں ؟”

” بابا۔۔۔۔؟”

” انہیں کہو آہستہ چلیں ، میں تھک گئ ہوں “

” معطر۔۔۔۔”

،” وہ تیز چل رہے ہیں “

” وہ یہاں نہیں ہیں۔۔۔”

” وہ اتنی جلدی میں کیوں ہیں ؟ “

” تم انگلینڈ میں ہو معطر “

وہ چونکی ، پھر اس نے اپنا ہاتھ اٹھایا ، سر پر رکھا ، وہاں پٹی بندھی تھی ، پھر اس کا ہاتھ ناک پر گیا ،پھر ہونٹ پر ، وہ اسے دیکھتا رہا

” آدمی۔۔۔ “

” وہ یہاں نہیں ہے ، تم محفوظ ہو “

اسے لگا شاید وہ خوفزہ تھی ، معطر کا سر نفی میں ہلا

” وہ یہیں کہیں ہوگا ، تم دیکھو “

” وہ نہیں ہے “

” میں۔۔۔ میں کہہ رہی ہوں نا “

” تم محفوظ ہو “

” نہیں۔۔۔ مجھے یاد کرنے دو ۔۔۔ اس نے میرے منہ پر ہاتھ رکھا تھا ،پھر گردن پر ، وہ مجھے گھسیٹ رہا تھا “

” معطر ۔۔۔۔”

” تم ۔۔۔تم نے کبھی موت کو دیکھا ہے ایرک ؟”

وہ ہوش میں نہیں تھی

” تم ٹھیک ہو ۔۔۔ تم ٹھیک ہو ۔۔۔ ڈرو مت۔۔۔۔ میں یہاں ہوں “

اس کا سر نفی میں ہلا ، زہن کو بہت کچھ یاد تھا ، زہن کو کچھ یاد نہیں تھا ، نفی میں ہلتا سر دھیرے دھیرے ساکت ہونے لگا ، پھر اس کی آنکھیں دوبارہ بند ہونے لگیں ، خوف اردگرد بھرتا گیا ،کوئ پاس ٹھہرا تھا ، کوئ کہہ رہا تھا وہ محفوظ تھی ، لیکن وہ جانتی تھی اس ملک میں اب وہ محفوظ نہیں تھی

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

دوبارہ جانے کب ہوش آیا ، کمرے میں اندھیرا تھا ، اس کے ماتھے پر پسینہ تھا ، جھٹکے سے اٹھتے وہ بیڈ پر بیٹھی ، سانسیں پھولی ہوئ تھیں

” معطر ۔۔۔۔”

وہ اسی لمحے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر آیا تھا ، معطر نے چونک کر اسے دیکھا ، ایرک ؟ وہ یہاں کیا کررہا تھا ؟ وہ کہاں تھی ؟ اس کی نظریں اردگرد گئیں ، سفید کمرہ ، بالکل سفید ، پھر اس کے زہن میں کچھ دیر پہلے کا منظر گھوما ، کیا وہ کوئ خواب تھا ؟ وہ رو رہی تھی ، ایرک اس کے پاس ٹھہرا تھا ، وہ کچھ کہہ رہا تھا ، کیا وہ سب خواب تھا؟

” تم ٹھیک ہو ؟”

اس نے سر ہلایا پھر تکیے پر گرایا ، درد کی لہر اٹھی

” اللہ ۔۔۔۔۔”

وہ تیزی سے اس تک آیا

” آرام سے ، میں ڈاکٹر کو بلاتا ہوں “

” نہیں۔۔۔ تم رکو پلیز “

وہ تیزی سے بولی ، گہرے سانس لئے ، پھر اردگرد دیکھا

” میں یہاں کیسے آئ ؟”

اسے آخری منظر یاد آیا ، کوئ سر پر ٹھہرا تھا ، اس کے ہاتھ میں سفید چمکتا ہتھیار تھا

” تمہیں چوٹ لگی تھی تو میں ہوسپٹل لے آیا “

اس نے تھک کر سر ہلایا ، اسے چوٹ لگی تھی ، شدید چوٹ ، پھر وہ چونکی

” کیا ٹائم ہورہا ہے ؟”

” صبح کے پانچ بج رہے ہیں”

اور اس کے جسم میں سرد لہر دوڑ گئ ، پانچ ؟ یکدم سارا درد غائب ہوا

” بانو آپا ۔۔۔۔ وہ پریشان ہوں گی “

وہ ایک بار اٹھی ، سر ایک بار پھر پھٹنے کو ہوا

” ہوا کے دوش پر کیوں سوار ہو ؟ حالت دیکھی ہے اپنی ؟”

وہ نا غصے میں تھا نا جھنجھلایا تھا بس نرمی سے ٹوکا ، معطر نے نفی میں سر ہلایا

” بانو آپا ۔۔۔۔ وہ “

” ڈاکٹر نے فلحال جانے سے منع کیا ہے “

” مجھے نہیں رکنا یہاں “

” تم کال کرلو انہیں”

وہ جیب سے فون نکال رہا تھا ، معطر کی نظر اس کے ہاتھ پر گئ پھر اس کے چہرے پر ، کلین شیو چہرہ جس پر ہمیشہ شرارت ہوتی تھی وہ سنجیدہ تھا ، زرد بھی ، یوں جیسے وہ موت کے منہ سے واپس آیا تھا ، پھر اس کی نظر ایرک کے ماتھے پر گئ ، وہاں چوٹ کا نشان تھا

” تمہیں چوٹ لگی ہے ؟”

وہ چونکا ، ایک ہاتھ سے موبائل اس کی طرف بڑھایا دوسرے سے ماتھے پر انگلی رکھی

” چھوٹی سی ہے ۔۔۔۔ بہت چھوٹی سی ہے “

معطر نے جواب نہیں دیا ، وہ بانو آپا کا نمبر ملا رہی تھی ، فون کان سے لگاتے وہ نیچے دیکھتی رہی

” ہیلو۔۔۔۔”

نڈھال سی تھکی ہوئ آواز

” بانو آپا۔۔۔۔”

” معطر ۔۔۔۔۔” وہ چونکیں ” یہ تم ہو ؟” کہاں ہو تم ؟ ٹھیک ہو ؟”

” میں ہوسپٹل میں ہوں “

” ہوسپٹل ۔۔۔۔ کیوں؟ تم ٹھیک ہو ؟ کیا ہوا ہے ؟”

ان کی آواز میں صاف گھبراہٹ تھی

” پریشان مت ہوں ، میں ٹھیک ہوں “

” یا میرے اللہ ۔۔۔۔ معطر ۔۔۔ تمہیں پتا ہے میرا کیا حال ہے ؟ تم کہاں ہو ؟ ایڈریس بھیجو “

وہ رونے لگیں ، اسے شدید شرمندگی ہوئ، سر میں پھر سے درد اٹھنے لگا ، اس نے ایک ہاتھ سے سر کو تھاما ، ناقابل برداشت درد

” معطر ۔۔۔۔۔”

وہ کسی اور کی آواز تھی ، ہاتھ تھما ، پھر نیچے آ گرا

” سنان۔۔۔۔۔”

” آپ کہاں ہیں ؟”

اس کی نظر ایرک پر گئ ، وہ دیوار سے ٹیک لگائے نظریں جھکائے اپنے بوٹ کو گھور رہا تھا

” ہوسپٹل۔۔۔۔ “

” کون سا ؟ ایڈریس بھیجیں۔۔۔۔”

” مجھے نہیں معلوم “

” کوئ ہے وہاں؟ فون اسے دیں “

اس کی آواز ، اس کا لہجہ ، لہجے کا کپکپانا ، معطر نے سر جھٹکتے ایرک کی طرف دیکھا

” ہوسپٹل کا ایڈریس کیا ہے ؟”

ایرک نے اسی طرح جھکے سر سے ایڈریس بتادیا ، پتا نہیں سنان نے سنا تھا یا نہیں لیکن اس نے ایرک کا بتایا گیا ایڈریس دہرادیا

” میں دس منٹ میں آرہا ہوں ، صرف دس منٹ “

اس نے کال کاٹ دی ، دکھتے سر کو ہاتھوں میں تھاما ، موبائل کی سکرین سیاہ ہورہی تھی ، اس کی نظر سیاہ سکرین پر نظر آتے سفید چہرے پر گئ ، ہونٹوں پہ نیل ، چہرے پر ہلکی سی خراشیں ، یوں جیسے وہ صدیوں کسی جنگل میں بھٹکتی ہیر ہو ، اس نے موبائل وہیں رکھ دیا ، دکھتا سر تکیے پر گرایا ، ایرک خاموشی سے نیچے گھور رہا تھا ، وہ جو بولتا تھا تو سات خطوں کی تتلیاں اس کے گرد رقص کرتی تھیں وہ گویا کلام بھول بیٹھا تھا ، وہ جو بولتا تھا تو اس کی خاموشی کی دعا کی جاتی تھی وہ یوں چپ تھا جیسے بولنا جانتا ہی نا ہو ، معطر چھت کو گھورتی رہی ، ہاتھ سینے پر تھے ، لبوں پر خشکی جم گئ تھی

” تم نے کبھی موت کو دیکھا ہے ایرک ؟”

ایرک کا سر بے ساختہ اٹھا ، وہ چھت کو دیکھتی بول رہی تھی ، وہ اسے دیکھتا رہا ، زبان اب بھی خاموش تھی ، وہ اس سے کہنا چاہتا تھا ، ہاں وہ گزشتہ رات ، جب وہ دیوار کے ساتھ بیٹھی تھی ،جب اس کا لباس سرخ ہورہا تھا ، جب اس کے سر سے خون بہہ رہا تھا ، بہتا خون اس کے چہرے پر تھا ، تب ، اس لمحے اس نے موت کو دیکھا تھا

” کل دیکھا ہے۔۔۔۔”

نظریں اسی پر جمائے وہ مدھم آواز میں بولا تھا

” میں نے محسوس کیا ہے ، پہلی بار ، جب کوئ آپ کے چہرے پر مارے اور آپ کا دماغ ابل پڑے ، جب کوئ آپ کو گردن سے کھینچ رہا ہو ، جب آپ خود کو چھڑانے کے لئے پھڑپھڑا رہے ہوں ، جب کوئ آپ کو زمین پر پھینکے ، وہ آپ کو گالیاں دے رہا ہو ، وہ آپ کے مذہب کو لے کر آپ پر الزام لگا رہا ہو ، جب کوئی آپ کو کھینچ کر دیوار میں مارے ، جب آپ رینگ کر خود کو بچانے کی کوشش کررہے ہوں ، جب کوئ موت کے فرشتے کی طرح آپ کے سامنے آ ٹھہرے ، تب میں نے موت کو محسوس کیا ہے ، تم نے کبھی ایسی موت محسوس کی ہے ؟”

آنکھوں سے قطرے نکل رہے تھے لیکن وہ رو نہیں رہی تھی ، ایرک اسے دیکھتا رہا ، مٹھیاں بھینچ لیں ، نظر کلائ پر گئ جہاں رگڑ کے نشان تھے ، پھر اس کے چہرے پر جہاں ہونٹوں کے پاس نیل تھا پھر سر پر جہاں سفید پٹی تھی

” اور تمہیں پتا ہے معطر موت کی سب سے بدترین صورت کون سی ہے ؟” نظریں اس کے سر پر پٹی سفید پٹی پر تھیں ، اس نے جواب نہیں دیا ایرک جواب کا منتظر بھی نہیں تھا ” جب کوئ آپ کے سامنے کسی ایسے کو مارنے لگا ہو جسے آپ نے اپنے دل کے کسی خاص کونے میں رکھا ہو ، یہ مرنا مرنے سے زیادہ برا ہوتا ہے ، تم نے کبھی یہ موت محسوس کی ہے ؟”

وہ رخ موڑ کر اسے دیکھنا چاہتی تھی ، وہ اس سے پوچھنا چاہتی تھی کہ اس کے لہجے میں اتنا درد کیوں تھا ؟ وہاں ٹوٹی کرچیوں جیسی اذیت کیوں تھی ؟ لیکن نظریں دروازے پر جم گئیں ، سامنے لمبے کاریڈور کے سرے پر بانو آپا کا چہرہ ابھر رہا تھا ، زرد چہرہ ، لڑکھڑاتے قدم ، وہ انہیں دیکھتی رہی ، ان کا وجود نقطے سے مکمل ہوا پھر وہ وجود دروازے پر ابھرا

” معطر ۔۔۔۔۔”

آواز کانپ گئ ، ہاتھ ہونٹوں پر گیا ، ہونٹ کپکپا گئے

” آپا ۔۔۔۔۔”

وہ اب بھی نہیں رو رہی تھی ، وہ اب بھی چپ تھی ، سیدھے ہوتے وہ اٹھی ، بانو آپا تیزی سے اس تک آئیں اور اسے گلے لگایا ، اس کے سر میں درد اٹھا لیکن اس نے انہیں الگ نہیں کیا ، وہ جانتی تھی وہ پریشان ہوں گی ، وہ مانتی تھی وہ اس کے لئے پریشان ہوں گی ، بانو آپا اسے گلے سے لگائے روئے گئیں ، اس کا ہاتھ ان کی پشت پر گیا ، نظر دروازے پر ، پھر نظر وہیں جم گئ ، دروازے میں وہ ٹھہرا تھا ، کسی وادی سے آنے والا ، کسی شہر کا باسی ، کسی گاؤں کا رہنے والا ، جس کی آنکھوں میں کسی نے دنیا جہاں کی اذیت انڈیل دی تھی ، وہ آنکھیں جو معطر صبا پر تھیں ، پھر وہ اس کے ہونٹوں پر گئیں پھر سر پر ،پھر کلائ پر ، چہرے پر کچھ رقم ہوا ، مرنے جیسا ، آنکھوں میں کچھ درج ہوا ، مارنے جیسا ، پھر وہ آنکھیں کمرے کے کونے میں گئیں ، وہاں سفید شرٹ والا لڑکا ٹھہرا تھا ، پاؤں کو قینچی کی صورت رکھے ، جس کا چہرہ سفید تھا ، سفید شرٹ سرخ تھی ، سرخ آنکھیں سامنے دیکھ رہی تھیں ، سنان کی نظر ایک بار سامنے گئ ، وہ بانو آپا کو چپ کرا رہی تھی ، اس کی نظر دوبارہ ایرک پر گئ ، وہ جھپٹ کر اس تک گیا اور اسے گریبان سے پکڑا

” یہ تم نے کیا ہے ؟ گھٹیا انسان یہ تم نے کیا ہے ؟”

اس نے مکا بناتے ایرک کے منہ پر مارا ، وہ لڑکھڑا کر دیوار سے لگا ، بانو آپا اور معطر چونکیں

” تم کس قدر گھٹیا ہو ایرک ، کس قدر ظالم ہو “

وہ ایک بار پھر اسے مارنے لگا

” سنان۔۔۔”

معطر گھبرائ

” میں تمہاری جان لے لوں گا آج “

وہ جیسے ہوش میں نہیں تھا ، ایرک نے کوئ مزاحمت نہیں کی ، اس کے ہونٹوں پر خون جما تھا ، معطر کا سر نفی میں ہلا ،پھر وہ یکدم بیڈ سے اتری ، سر گھوم گیا ، دماغ چکرا گیا ، وہ کراہ کر نیچے کو گرنے لگی جب بیڈ کو تھاما

” معطر۔۔۔۔”

بانو آپا چیخ کر اس تک آئیں ، سنان چونک کر رکا ،ایرک کی نظر اس پر گئ ، دونوں ہاتھوں سے سر تھامے سفید لباس والی لڑکی

” معطر ۔۔۔۔۔”

سنان تیزی سے اس تک آیا ، ایرک کے قدم وہیں تھم گئے ، سنان اس کے پاس ٹھہرا تھا ، بانو آپا اسے تھام کر بیڈ پر بٹھا رہی تھیں ، سنان سعدی اس کی دوسری طرف تھا ، اور وہ ۔۔۔۔ ایرک کیان ، وہ اس منظر سے یکدم غائب ہوا ، وہ وہاں کہیں نہیں تھا ، اس لمحے اسے معلوم ہوا وہ سنان سے کیوں جلتا تھا ، وہ ایسے ہی کسی منظر سے خوفزدہ تھا ، وہ ایسی ہی کسی سوچ سے ڈرتا تھا ، ایسے ہی کسی خیال سے خائف تھا

وہ تکون بنیں گے تو وہ منظر سے ہٹ جائے گا ، وہ تکون بنتے تو وہ دونوں ساتھ ہوتے ، وہ تکون بنتے تو ایرک کیان کی جگہ سنان سعدی کو منتخب کیا جاتا ، وہ معطر صبا کے انتخاب سے ڈرتا تھا ، وہ اس دائرے سے دور جانے سے ڈرتا تھا جس کا حصہ وہ لڑکی تھی

” ایرک نے کچھ نہیں کیا “

وہ جو دکھتے سر کے ساتھ سنان کو بتارہی تھی

” آپ زیادہ بولیں مت “

” وہ بے قصور ہے ، وہ وہاں نا آتا تو میں زندہ نا ہوتی “

وہ زندہ نا ہوتی تو وہ بھی وہاں نا ہوتا ، سنان کی نظر ایرک پر گئ ، اپنے کہنی سے ہونٹوں کا صاف کرتے وہ نظر جھکائے ہوئے تھا ، جھکی نظروں میں دل ٹوٹنے کی اذیت تھی ، پھر وہ سیدھا ہوا ، معطر پر ایک نظر ڈالی وہ سنان سے کچھ کہہ رہی تھی ، پھر اس نے سنان پر ایک نظر ڈالی وہ معطر کو دیکھ رہا تھا ، وہ ان دونوں کے سامنے ٹھہرا تھا، یوں جیسے تکون کے دو کونے ایک دوسرے کی طرف رخ کئے ہوں اور تیسرا کونا فاصلے پر تھا دور ، اجنبی ، اس کے گلے میں گلٹی ابھری ، پھر قدم سیدھے ہوتے دائیں طرف مڑے ، ایک نظر سفید لباس والی لڑکی کو دیکھا ، پھر رخ موڑ لیا ، وہ دروازے کی طرف جارہا تھا ، وہ اس کی زندگی سے دور جا رہا تھا

سنان کو کچھ کہتے اس نے کونے کی طرف دیکھا ، ایرک وہاں نہیں تھا پھر اس کی نظر دروازے پر گئ ، وہ چلا گیا تھا ؟ ایسے ؟ بنا اس کا شکریہ سنے ، دل کو دھکا سا لگا

” معطر۔۔۔۔”

وہ چونکی ، بانو آپا موبائل اس کی طرف بڑھا رہی تھیں

” تمہارے بابا کی کال آرہی ہے ، رات کی تھی تو میں نے تمہاری طبیعت خرابی کا کہہ دیا “

اس نے گہری سانس لیتے خود کو نارمل کیا پھر موبائل تھاما

” جی بابا “

” تم ٹھیک ہو معطر ؟”

” مجھے کیا ہونا ہے ؟”

” سچ بتاؤ ، میرا دل پریشان ہورہا ہے”

” میں ٹھیک ہوں بابا ، بالکل ٹھیک ہوں”

” آواز کو کیا ہوا ہے ؟”

” یہاں سردی زیادہ ہے تو۔۔۔۔”

وہ انہیں وضاحت دیتی دروازے کی طرف دیکھنے لگی ، ایرک یوں ہی کیوں چلا گیا تھا ؟

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

اسے دوبارہ وہ نظر نہیں آیا ، وہ ایک دن ہوسپٹل میں رہی ، پھر گھر شفٹ ہونے کے بعد ، نا اس کی کال آئ نا وہ خود آیا

” میں تم سے بہت شرمندہ ہوں معطر”

ولیم سر بار بار نفی میں سر ہلاتے

” آپ کا قصور نہیں تھا سر “

” وہ برطانوی تھا ، میں بھی ہوں ، پتا نہیں سب اتنا زیادہ کیوں رئیکٹ کررہے ہیں”

پتا نہیں وہ اتنے اچھے کیوں بن گئے تھے ؟ یا شاید وہ شروع سے تھے ، سب سے پہلے ملنے کے لئے آنے والے ، سب سے زیادہ اس کی ہمت کی داد دینے والے ، وہ جتنا انہیں برا سمجھتی رہی اتنا ہی اب اچھا سمجھ رہی تھی ، کیفے سے مایا بھی آئ ، اسٹور سے کسی کی نا کال آئ نا کوئ ملنے آیا

اور پشاور سے سنان سعدی ، وہ دن میں تین کالز کرتا ، دو بار ملنے آتا ، تین بار میسجز کرتا ، وہ حیران تھی وہ اتنا پریشان کیوں تھا ؟ پورا ایک گھنٹہ بیٹھ کر وہ اس سے پوچھتا رہا کہ وہ ٹھیک ہے یا اسے کاؤنسلنگ کی ضرورت تھی ؟ وہ چپ چاپ اسے سنتی رہی ، مسئلہ یہ تھا کہ اسے خود سمجھ نہیں آرہی تھی وہ اتنی نارمل کیوں تھی ، ڈر تب لگا تھا جب اسے لگا وہ مرنے والی ہے ، اس کے بعد اندر باہر سب ساکت تھا ، نا زندہ بچنے کی خوشی نا نا کوئ ٹراما ،یوں جیسے وہ سب کسی اور کے ساتھ ہوا تھا ،

بانو آپا اور سنان کے کہنے پر اس نے پولیس میں رپورٹ بھی درج کروادی تھی ورنہ اسے لگ رہا تھا وہ شاید کوئ الارا کی وجہ سے غصے کا شکار مرد تھا جو اسے مار کر اپنا غصہ ٹھنڈا کرنا چاہتا تھا ، اس کی کسی سے ذاتی دشمنی نہیں تھی ، سنان کا خیال تھا کہ وہ اس معاملے کو میڈیا پر اٹھائے ، کوئ شخص صرف اس وجہ سے کیسے قابل نفرت ہوسکتا ہے کہ وہ مسلمان ہے؟ یہ اسلاموفوبیا تھا اور اس متعلق بات ہونی چاہئے تھی ، اس نے سنان کی بات نہیں مانی ، بات میڈیا پر چلتی تو پھر پاکستان تک بھی جاتی اور اسے یہ منظور نہیں تھا

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

وہ کمرے کی کھڑکی سے اسے دیکھ رہی تھی ، پچھلے بیس منٹ سے وہ وہاں کوئ نیا پودا لگا رہا تھا ، اور وہ بیس منٹ سے ہی وہیں کھڑی تھی ، پھر وہ شال لیتی نیچے آئ ،وہ باغیچے کے کونے میں ٹھہرا تھا ،مٹی ہوتے ہاتھ کمر پر رکھے پودے کو گھور رہا تھا

” اگر آپ کا اس ننھے پودے پر غور وفکر مکمل ہوگیا ہو تو اندر آ سکتے ہیں”

سنان چونکنے کی اداکاری کرتا پلٹا ، پھر حیران ہونے کی اداکاری کی

” آپ ۔۔۔۔”

” جی۔۔۔۔ میں “

وہ ان چار دنوں میں پہلی بار پہلے جیسی لگ رہی تھی ، وہ تین مہینوں سے ہمیشہ ایک جیسا تھا

” طبیعت کیسی ہے آپ کی ؟”

” پہلے سے ٹھیک ہوں “

” کوئ آپ کے لئے پہلے سے زیادہ دعا گو ہے “

وہ مٹی سے ہاتھ جھاڑتا نل تک گیا ، دروازے کے سٹیپس پر ٹھہری سینے پر ہاتھ باندھے ، سر پر سفید پٹی ، لاہور کی معطر صبا

” اگر کوئ پہلے سے دعا کرتا تھا تو شاید کسی کی دعاؤں نے بچا لیا “

صحن میں لگے نل سے ہاتھ دھوتا سنان مسکرایا پھر ہاتھ جھٹکتے اس تک آیا

” آپ کو کچھ ہوجاتا تو بہت سے دل بنا دھڑکن کے رہ جاتے “

وہ اس سامنے ٹھہر گیا ، سیاہ جینز پر سرمئ شرٹ پہنے ، نرم سا مسکراتا ، وہ جو مسکراتا تھا تو اچھا لگتا تھا ، اچھا لگنے والا پشاور سے سنان سعدی

” جیسے میرے ماں باپ “

اس نے سر کو خم دیا ، جیسے اس کے ماں باپ ، جیسے وہ ، جیسے اس کا دل ، جیسے اس کا جسم ، جب اسے بانو آپا کی کال آئ ، معطر صبا کی غیر موجودگی کی کال تو جیسے اس کے جسم سے جان نکلی تھی ، جیسے اسے پوری رات ڈھونڈنے پر اس کا دل بند ہورہا تھا ، اور جیسے اسے ہوسپٹل کے بیڈ پر دیکھ کر وہ مجسم کسی رانجھے کا وجود ہوا

” آپ نے ایرک کو خواہ مخواہ مارا ، اس نے میری مدد کی تھی “

سنان نے گہری سانس لی پھر سیڑھیوں کے ساتھ لگے پلر کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا ہوا ، اس کے عین سر پر سرخ بوگن ویلیا تھی

” مجھے لگا آپ کے اس حال کا ذمہ دار وہ ہے “

” وہ نہیں تھا ، وہ کبھی ایسا نہیں رہا کہ کسی کو نقصان پہنچائے “

وہ سامنے دیکھ رہی تھی ، چہرے پر اب سنجیدگی تھی ، سنان نے اس بار نا رخ موڑا نا نظریں ہٹائیں ، گستاخ ہی صحیح ، وہ ان نظروں کی گستاخی پر راضی تھا

” آپ نے حملہ آور کی شکل نہیں دیکھی تھی ؟”

” اس نے ماسک لگا رکھا تھا “

” وہ جارڈن تھا ۔۔۔۔ ایرک کا دوست “

اب کی بار وہ چونکی

” آپ کو کیسے معلوم ؟”

” پولیس نے اسے ایرک کی گواہی پر گرفتار کرلیا ہے ، جب وہ آپ پر حملہ کررہا تھا تو ایرک نے اس کی شکل دیکھی تھی “

” وہ غصے میں تھا ، کیونکہ میں نے حامد کی سائیڈ لی تھی ، ان کا حوصلہ کتنا کم ہے “

اس نے سر جھٹکا

” آپ کو محتاط رہنا چاہئے معطر ، پبلک پلیس پر حامد کی سائیڈ لینے سے گریز کریں ، معاملہ آپ کی سوچ سے زیادہ خراب ہے ، اور اب تو وہ لوگ حامد پر یہ الزام بھی لگا رہے ہیں کہ اس نے الارا کو اس لئے مارا کیونکہ وہ اسلام قبول نہیں کرنا چاہتی تھی “

” آپ کو لگتا ہے حامد بے قصور ہے ؟”

” مجھے یقین ہے وہ بے قصور ہے “

” اس یقین کی وجہ ؟”

” وہ میرے ساتھ ہاشم بھائ کے ٹرسٹ میں اسلاموفوبیا کے خلاف کام کرتا رہا ہے ، میں اسے بذات خود جانتا ہوں “

وہ ایک بار پھر چونکی

” اوہ ۔۔۔۔” اسے کچھ عجیب سا احساس ہوا ، کچھ غیر شعوری سا ، جیسے کچھ الہام سا ، پھر اس نے سر جھٹک دیا ” اب کیا ہوگا ؟”

” ہم لوگ اپنی پوری کوشش کررہے ہیں اسے بچانے کی ، ہاشم بھائ یہیں ہیں اور وہ اس کے لئے کوشش کررہے ہیں “

” اور قطری حکام ؟ وہ کیا کررہے ہیں ؟”

” وہی جس کی مجھے توقع تھی ۔۔۔۔” وہ تلخی سے ہنسا ” انہوں نے اس معاملے سے صاف لا تعلقی کا اعلان کردیا ہے ،بقول قطر حکام کے اگر حامد رئیسی نے یہ قتل کیا ہے تو اسے سزا ملنی چاہئے ، وہ مڈل کلاس طبقے سے نا ہوتا تو بھی شاید وہ لوگ کچھ کرلیتے لیکن اب اسے قسمت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے “

” دنیا میں ہر شخص مفاد پرست ہے “

اس نے افسوس سے سر ہلایا ، ہاتھ سینے پر بندھے تھے ، سنان کی نظر اس کی کلائ پر گئ ، وہ خالی تھیں

” چوڑیاں نہیں پہنیں آپ نے ؟ “

” ٹوٹ گئ تھیں ، جب اس آدمی نے زمین پر پھینکا تھا جب کلائ سے پکڑ دیوار کی طرف مارا تھا ، آدھی اس کے ہاتھ میں آدھی دیوار پر لگتے ٹوٹ گئ تھیں “

اس کی آنکھوں میں وہ منظر پھر سے جاگا ، سنان کی آنکھوں میں وہ تکلیف پھر سے ابھری

” آپ کو کچھ ہوجاتا تو ۔۔۔؟”

” تو ؟”

تو ؟ وہ کیا کرتا ؟ وہ ازلنگٹن کی ویران گلیوں میں کیسے چلتا ؟ وہ چلتا تو کتنی بار رک کر ان سڑکوں کو دیکھتا ، کوئ جسم سے جان کیسے نکالتا ہے اس نے جان لیا تھا

” آپ نے اپنے گھر نہیں بتایا ؟ “

” وہ پریشان ہوجاتے “

” ان کا حق تھا”

” وہ پریشان نا ہوں ، یہ میرا فرض تھا “

” آپ کہیں تو میں رک جاؤں ؟”

معطر نے رخ موڑ کر اسے دیکھا

” کہاں ؟”

” یہیں۔۔۔۔ دو دن بعد فلائٹ ہے ، کینسل ہوسکتی ہے “

” میں آپ کو کیوں روکوں گی ؟ اور آپ میرے کہنے پر کیوں رکیں گی ؟”

” آپ مجھے بغیر کسی وجہ کے روک سکتی ہیں اور میں آپ کے کہنے پر بغیر کسی وجہ کے رک سکتا ہوں “

” میں نہیں روکوں گی “

” میں رکنا چاہتا ہوں “

” اپنی مرضی سے رکنا ہے تو رک جائیں “

” اپنی مرضی سے ، آپ کی رضا سے “

” میرے لئے فکر مت کریں سنان ، میں ٹھیک ہوں “

” میرے پیچھے آپ کو کوئ مسئلہ ہوا تو مجھے وہاں پریشانی ہوگی “

” مجھے آپ کی موجودگی میں کوئ مسئلہ ہوا تو بھی میں آپ کو پریشان نہیں کروں گی “

وہ اسے دیکھتا رہا

” آپ مجھے کال کرسکتی تھیں “

” میں نے ایرک کو بھی نہیں کی تھی ، اتفاقاً اس وقت میری اس سے بات ہورہی تھی “

وہ جہاں پہ ٹھہرا تھا ، پلر کے قریب بوگن ویلیا لگی تھی ، اس کے پتے خشک ہوتے گررہے تھے ، وہ سنان پر گرنے لگے ، معطر دو قدم نیچے ہوتی پلر کے قریب آئ ، ہوا تیز تھی تو پھول مزید تیزی سے گرنے لگے ، اس نے ہاتھ آگے کئے ، لبوں پہ مسکراہٹ ابھری

” مجھے امید نہیں تھی وہ اپنے دوست کے خلاف گواہی دے گا “

” مجھے بھی۔۔۔۔”

سنان اسے دیکھتا رہا ، اس کی ہتھیلیوں پر سر پھول گرریے تھے ، پچھلے چند دنوں میں پہلی بار وہ مسکرا رہی تھی ، سر اٹھا کر آسمان کو دیکھا ، وہ سر گھما کر اسے دیکھتا رہا

” ایک بات کہوں معطر ؟”

” کہیں ۔۔۔۔”

” آپ اس دنیا کے نہیں لگتیں “

اس کا سر سنان کی طرف گھوما

” جی ؟”

” زمین پر کس آسمان سے آئ ہیں ؟”

وہ ہلکا سا ہنس دی

” زمین پر زمین کے کس حصے سے آئے ہیں ؟”

” وہ خطہ جسے پشاور کہتے ہیں”

” اس خطے میں سب اتنے اچھے ہیں یا یہ خصوصیت صرف آپ میں پائ جاتی ہے ؟”

” اس خطے میں کسی روز آ کر دیکھئے گا “

” اس خطے میں کسی روز جا کر دیکھوں گی ، پھر مجھے آپ کی کسی خاص سے بھی ملنا ہے “

سنان کے ابرو تعجب سے اٹھے ، اس کی کون خاص تھی ؟

” میری کون خاص ؟”

” وہی جس کے لئے آپ چوڑیاں لیتے ہیں ، وہی جس کے ساتھ ادھوری کہانی مکمل کرنے جارہے ہیں “

وہ سرخ پھول ہتھیلی میں چن رہی تھی ، سنان کو کچھ اور سرخ پھول یاد آئے ، اسے اس روز تیمور حیدر کا زکر یاد آیا ، اس آج کے سرخ پھول دکھے ، آج کے روز کسی اور کا زکر سنائ دیا ، اس کی خاص ؟

” آپ غلط سمجھ رہی ہیں “

وہ سیدھا ہوا ، اللہ ، یہ خاتون تو اسے کسی اور کا رانجھا بنا رہی تھیں ، وہ جو ہر روز ہیر کے باغ میں پھول رکھنے آتا تھا ، ان پھولوں کا کیا ؟

” نہیں ۔۔۔ اٹس اوکے ، آپ راز رکھنا چاہ رہے ہیں تو ٹھیک ہے “

وہ راز کہاں رکھ رہا تھا ، وہ تو اس راز میں جی رہا تھا ، وہ بنجارا تھا تو وہ اسے بتانا چاہتا تھا کہ وہ چوڑیاں اس کے لئے لے رہا تھا ، وہ رانجھا تھا تو وہ اسے بتانا چاہتا تھا کہ وہ ہیر کے باغ میں پھول اس کے لئے لایا کرتا تھا

” وہ خاص پشاور سے نہیں۔۔۔۔”

” معطر۔۔۔۔”

بات زبان پہ رہ گئ ، بانو آپا اسے بلا رہی تھیں

” جی ۔۔۔”

وہیں کھڑے کھڑے اس نے آواز دی

” تمہارے بھائ کی کال آرہی ہے “

” آرہی ہوں “

سر ہلاتے اس نے ہاتھ میں تھامے پھول دیکھے ، وہ پھول زمین پر پھینکنے والوں میں سے نہیں تھی ، فلوقت اسے زمین کا باشندہ نظر آیا

” ہاتھ آگے کریں ۔۔۔”

سنان کا ہاتھ میکانکی انداز میں آگے ہوا , وہ پھول اس کی ہتھیلی پر رکھ رہی تھی

” میں کیا کروں گا ان کا ؟”

” پشاور لیتے جائیے گا “

شال درست کرتی وہ سٹیپس پر چڑھی

” معطر۔۔۔۔۔”

اس نے بے اختیار پلٹ کر سنان کو دیکھا ، وہ جو ہتھیلی میں پھول تھامے اسے دیکھ رہا تھا

” آپ مجھے ایئرپورٹ چھوڑنے آئیں گی ؟”

” میرا آنا ضروری ہے ؟”

” آپ نا آئیں تو میں برطانیہ کے ایئرپورٹ سے کسی فلائٹ کو نہیں جانے دوں گا ، آپ کو الوداع کئے بغیر میں ازلنگٹن سے نہیں جاؤں گا “

” میں بیمار ہوں “

” شفا کا تعلق دل سے ، اور میرا دل مت توڑئیے گا “

” آپ کا دل سلامت رہے ، میں آجاؤں گی “

رخ موڑنے سے پہلے اس نے دیکھا تھا پشاور کے خطے کا باسی مسکرایا تھا ، پھر وہ پلٹ گئ ، پیچھے ٹھہرے سنان نے وہ پھول جیب میں ڈالے ، چند دن ہی تو تھے پھر وہ واپس آجائے گا

چند دن ہی تو تھے !

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆