Laa By Fatima Noor Readelle50338 Laa (Episode 2)
Rate this Novel
Laa (Episode 2)
Laa By Fatima Noor
سکول کی عمارت سے باہر نکلتے وہ کسی رکشہ کو ڈھونڈنے لگی ، بیگ میں چند ہزار رکھے تھے ، کاغذ کے چند ٹکڑے جن سے اسے بابا کی دوائ لینی تھی ، مبشرہ کی کالج فیس جمع کروانی تھی، عون کے سکول کی فیس ، بجلی کا بل ، گیس کا بل ، گھر کا راشن ، زہن میں گویا ایک ماہ کا پورا حساب چل رہا تھا ، اس کی چند ہزار کی تنخواہ تو صرف بل بھرنے میں چلی جاتی ، ابا کی پینشن راشن اور دوسرے چھوٹے موٹے اخراجات میں ، حسن چاچو جو دیتے وہ دوائ۔۔۔۔
وہ جھٹکے سے رکی ، ہاتھ میں تھاما رجسٹر گرگیا ، کوئ گاڑی اس کے بالکل سامنے آرکی تھی ، دھک دھک کرتے دل سے اس نے میچی آنکھیں کھولیں
سفید رنگ کی کار سے تیمور نکل رہا تھا ، خود کو ڈھیلا چھوڑتے اس نے تھکی سی سانس خارج کی
” بات کرنی ہے تم سے ، میرے ساتھ چلو “
وہ اس کے پاس آتا کچھ اکھڑ انداز میں مخاطب ہوا ، اسے دیکھتے وہ نیچے جھکی اور تیمور کے پاؤں کے پاس پڑا رجسٹر اٹھایا
” میں سن رہی ہوں “
سیدھے ہوتے بیگ کاندھے پر درست کیا اور سینے پر ہاتھ باندھ لئے
” میں نے کہا گاڑی میں بیٹھو ، یہاں کیا بات کروں میں تم سے ؟”
” جو کہنا ہے یہیں کہہ لو ،مجھے جلدی ہے “
” تم دس منٹ بات بھی نہیں سن سکتیں اب ؟”
وہ غصہ ہوا
” مجھے گھر جلدی جانا ہے تیمور “
وہ غصے سے کھولتا دو قدم آگے آیا
” تم نے اپنا فیصلہ نہیں بدلا ؟”
” کون سا فیصلہ ؟”
” انگلینڈ جانے کا “
” میری مجبوری ۔۔۔۔۔۔”
” اپنی مجبوریوں کا رونا مت رو میرے سامنے ، مجھے میرے سوال کا جواب دو “
وہ کچھ بے بسی سے اسے دیکھنے لگی
” میرے ابا مر جائیں گے تیمور “
” میرا باپ بھی مر گیا تھا معطر ، میں نے نا ہی خود پر مظلومیت کے خول چڑھائے نا ہی اپنی زندگی روکی ، میری ماں ہاجرہ کی شادی کرنے والی ہے دو ماہ کے اندر ، اگر تم مجبور ہو تو مجبور میں بھی ہوں ، شادی سے انکار کیا کافی نہیں تھا کہ تم نے انگلینڈ جانے کا شوشہ بھی چھوڑدیا ؟ “
” تم چاہتے ہو میں انگلینڈ نا جاؤں ؟”
گہری سانس لیتے اس نے گویا اس کا آخری فیصلہ جاننا چاہا
“ہاں۔۔۔۔۔ تم انگلینڈ نہیں جاؤ گی “
” ٹھیک ہے ،لیکن ایک بات تم بھی میری مانو گے “
اس کے ماتھے پر بل پڑے
” کونسی بات ؟”
” میں فلحال شادی نہیں کرنا چاہتی ،مجھے کچھ اور وقت چاہئے “
” ہرگز نہیں ۔۔۔۔۔ “
” پلیز تیمور۔۔۔۔۔ “
” بالکل بھی نہیں معطر ، نا میں مزید وقت دے سکتا ہوں نا امی دیں گی ، ہاجرہ کے سسرال والے دو ماہ میں شادی کرنا چاہتے ہیں ، ہماری بھی تبھی ہی ہوگی، یہ طے ہے “
وہ سختی سے کہہ رہا تھا
” میں یہ نہیں کرپاؤں گی “
” تو پھر۔۔۔۔۔۔ اپنے ہاتھ میں پہنی میرے نام کی انگوٹھی واپس کردینا “
” تیمور۔۔۔۔۔۔ “
بے یقینی سے اسے دیکھا
” بس معطر ۔۔۔ مجھ سے مزید قربانی کی امید مت رکھنا ، ہمارے رشتے کا فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے ، جو فیصلہ کرنا ہے کردو “
سرد لہجے میں کہتا وہ اپنی سفید گاڑی میں بیٹھا اور چلا گیا ، معطر کا گلا رندھ گیا ، کیا وہ واقعی یہ کہہ گیا تھا ؟ تیمور حیدر ؟ وہ معطر صبا سے یہ کہہ گیا تھا ؟ وہ جو پکی اینٹوں والی چھت پر کھڑے ہوکر کہتا تھا کہ ” تیمور حیدر کے دل پر معطر صبا کا چہرہ نقش ہے ” وہ یہ کہہ کرگیا تھا ؟ اتنی آسانی سے ؟”
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
وہ صحن میں بیٹھی کاپیاں چیک کررہی تھی ، ساتھ دانیال بیٹھا تھا ، حساب کتاب ، راشن ، فیسز ، اخراجات کا ڈھیر
” دو دن بعد ڈوز لگنی ہے بابا کو “
اس نے رجسٹر بند کردیا
” میں چھٹی لے لوں گی سکول سے “
” تم پریشان ہو ؟”
” نہیں۔۔۔۔۔”
” تیمور بھائ نے کچھ کہا ہے ؟”
” وہ کیا کہے گا ؟”
” تمہارے چہرے کی زبوں حالی کے وہی زمہ دار ہیں “
” میرے حال میرے چہرے سے زیادہ زبوں ہیں “
وہ چند لمحے اسے دیکھتا رہا
” تیمور بھائ تمہارے لئے اچھے شوہر ثابت نہیں ہوں گے معطر “
وہ کچھ کیے بغیر رجسٹر کے صفحے کھرچنے لگی ، یہ بات وہ پچھلے دو سال سے کہہ رہا تھا وہ پچھلے دو سال سے اس سے لڑرہی تھی ، اب تو الفاظ بھی نہیں بچے تھے
” وہ مجبور ہے “
” ہاا ۔۔” وہ کرب سے ہنسا ” مرد کبھی مجبور نہیں ہوتا ، وہ خود غرض ہیں ، ان کے اندر انا زیادہ ہے ، جس مرد کے اندر انا زیادہ ہو وہ کبھی سچی محبت نہیں کرسکتا “
” وہ محبت نا کرتا تو رشتہ کیوں بھیجتا ؟”
” شاید وہ وقتی محبت تھی ،یا شاید وہ صرف ضد تھی ، تمہیں یاد ہے جب میں چھوٹا تھا تو میں ایک سائیکل لینا چاہتا تھا ، بازار میں وہ سائیکل سب سے زیادہ مہنگی تھی،بابا نے صاف منع کردیا ، وہ چاہتے تھے میں اپنی خواہشات پوری کرنے کے لئے خود محنت کرنا سیکھوں ، محنت کی صورت مجھے پاکٹ منی ہی نظر آئ ، میرے دو تین مہینے کے پاکٹ منی لگ جاتی سو میں نے لگ جانے دی ، تین مہینے بعد جب وہ سائیکل مجھے مل گئ تو چند دنوں بعد اس نے میرے نزدیک اہمیت کھودی ، ضد تھی پوری ہوگئ ، جب پھپھو نے تمہارا رشتہ مانگا تھا تو بابا نے منع کردیا تھا ، میں نے تب بھی کہا تھا کہ وہ ضد میں آجائیں گے ، تمہارا رشتہ وہاں ہوگیا ، ضد پوری ہوگئ تو شاید محبت بھی باقی نا رہی ہو، کم از کم مجھے یقین ہے وہ محبت کبھی نہیں تھی “
” تم بہت بے رحم اور تلخ ہوتے جارہے ہو “
وہ افسوس سے اسے دیکھنے لگی
” میں حقیقت پسند بنتا جارہا ہوں، جب میں نے اپنے باپ کو بیماری سے اکیلے لڑتے دیکھا اور اپنے رشتے داروں کی ںے حسی دیکھی تو میں نے یہ جان لیا کہ دنیا صرف ان کی ہے جو طاقتور ہیں ، ہم طاقتور نہیں ہیں ، اس لئے دنیا نے ہمارے ساتھ ظلم کیا ہے “
وہ صحیح کہہ رہا تھا ، بابا کی بیماری کے بعد جیسے سب کے چہرے سے پردے اترے تھے ، ہر ایک اصل روپ میں سامنے آیا تھا
” اتنی حقیقت پسندی اچھی نہیں ہے “
” بری ہی صحیح ، ” کاندھے اچکائے پھر جیب سے چابی نکالی ۔۔۔۔” چاچو نے پیسے دینے تھے ، ان سے لے لینا ،میں مزید ان کا سامنا نہیں کرنا چاہتا”
وہ اٹھ کر باہر جارہا تھا ،اس نے دانیال کی بات کا جواب نہیں دیا ، موبائل پر تیمور کا میسج آیا ہوا تھا
،” آئ ایم سوری ۔۔۔ میں کچھ زیادہ ہی تلخ ہوگیا تھا “
اس کے لبوں پہ تلخ سی مسکراہٹ ابھری ، وہ ہر بار یوں ہی کرتا تھا ، وہ جلد باز مرد تھا ، غصے کا تیز ، ہر بار دل توڑ کر سوری کردیتا ، وہ ہر بار معاف کردیتی ، دانیال ہر بار ایک جملہ کہتا ” خود کو آذاد کردو معطر “
اور معطر صبا کو لگتا تھا وہ قید نہیں تھی
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
چھت پر کھڑے ہوکر نیچے دیکھتے اس نے گہری سانس لی ، صحن میں سب جمع تھے ، بابا ، امی ،پھپھو،چاچو ، ہاجرہ کے سسرال والے اس کی شادی کی تاریخ طے کرنے آئے تھے ، رونق سی تھی جو لگی ہوئ تھی اور وہ اوپر ٹھہری تھی ، محفلوں سے دور ،کونے میں ، نیچے جھانکتے اس نے رخ موڑ کر سیڑھیوں کو دیکھا ، وہاں سے قدموں کی آواز آرہی تھی ، رخ واپس نیچے کی طرف کرلیا ، وہ جانتی تھی آنے والا شخص کون تھا
” تمہاری اندر کسی بزرگ کی روح تو نہیں ہے ؟”
وہ سفید شلوار قمیص میں ملبوس اس کے ساتھ آکھڑا ہوا ،لبوں پہ مسکراہٹ تھی ، معطر سامنے دیکھتی رہی
” تنہائ پسند ہونا بزرگی کی علامت ہے ؟”
” بھری جوانی میں تنہائی پسند ہونا بزرگی سے بھی آگے کی بات ہے “
” جس کے پاس غم ہوں وہ تنہا ہی ہوتا ہے “
تیمور کی مسکراہٹ غائب ہوئ
” تمہارے پاس کون سے غم ہیں ؟”
” کون سے نہیں ہیں یہ پوچھو “
سرخ رنگ کا سادہ پیروں سے نیچے تک جاتا لمبا فراک پہنے دوپٹہ سینے پہ پھیلائے وہ کسی خوشنما محفل کا اداس منظر لگتی تھی
” , کیا ہم کوئ اور بات کرسکتے ہیں ؟ ہر وقت غموں کا رونا لے کر مت بیٹھ جایا کرو یارر”
وہ کچھ اکتا گیا ، معطر نے نیچے کے منظر سے نیچے پھیر کر اسے دیکھا ، اسے تیمور کی بات سے دکھ ہوا تھا ، وہ تسلی بھی تو دے سکتا تھا
” اور کیا بات کرنی ہے ؟”
” ہماری ، ہم دونوں کی ،ہمارے مستقبل کی “
وہ دایاں کاندھا دیوار کے ساتھ لگائے بازوں سینے پر باندھے اسے دیکھ رہا تھا ،آنکھوں میں جگنوں چمک رہے تھے
” ساری زندگی پڑی ہے مستقبل کے لئے تیمور “
” وہ ساری زندگی میں تمہارے ساتھ جینا چاہتا ہوں”
” اور مرنا کس کے ساتھ چاہتے ہو ؟”
” آہ محترمہ ! ابھی زندگی گزاری ہی کتنی ہے اور تم مرنے کی باتیں کرنے لگی ہو “
وہ ہلکا سا ہنسی ، اداس شام میں کسی نے رنگ چھوڑ دیئے تھے ، تیمور رک کر اسے دیکھنے لگا
” ہنستی رہا کرو”
” یہ بھی کہہ دو کہ ہنستے ہوئے اچھی لگتی ہو “
” ہنستے ہوئے سیدھا دل میں اترتی ہو ، اچھی تو ہر وقت لگتی ہو “
وہ دلکشی سے مسکرایا
” دھیان رکھنا ، یہ باتیں صرف وقتی نا ہوں “
اس نے منڈیر پر کہنی رکھ کر اسے دیکھا
” تم کیا ساری زندگی مجھ سے ایسی ہی باتیں سننا چاہتی ہو ؟”
” کیا حرج ہے ؟”
” میں پریکٹیکل سا بندہ ہوں بھئ ، ایک دو جملے کسی فلم سے دیکھے بول دیتا ہوں ، انہی پر گزارہ کرلیا کرو “
” یعنی تمہارے جذبات بھی کاپیڈ ہیں ؟”
افسوس سے اسے دیکھا
” الفاظ کاپڈ ہیں ، جذبات نہیں “
اس نے مسکرا کر رخ پھیر لیا ، نظر پھر سے نیچے گئ ، بابا پھپھو کے ساتھ بیٹھے تھے ، ان کی بات سن کر سر ہلاتے ہوئے ، اس کی مسکراہٹ سمٹی ، چور نظروں سے تیمور کو دیکھا ، وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا
” ایک بات بتاؤ “
” آپ بات پوچھیں ، ہم بتانے کو حاضر ہیں “
” کچھ مانگوں تو دوگے ؟”
سیدھا ہوتے ایک مان سے پوچھا
” پورا کا پورا تیمور حیدر مانگ لو “
وہ سینے پر ہاتھ رکھے ہلکا سا جھکا
” پورے کے پورے تیمور حیدر سے کچھ اور چاہئے “
” حکم جناب “
” تم پھپھو کو فلحال شادی کے لیے منع نہیں کرسکتے ؟”
تیمور کا موڈ بگڑا
” تمہارے پاس ایک یہی شے تھی مانگنے کو ؟”
” فلوقت ؟ ہاں “
” معطر ۔۔۔۔” وہ کچھ بے بسی سے آگے کو ہوا ” یارر ، میرا بھی کبھی سوچ لیا کرو ، ہر وقت بس اپنے خاندان کی پڑی رہتی ہے تمہیں “
وہ خفا ہوا تھا
” ابھی میرا خاندان جو ہے اسی کا سوچ رہی ہوں ، جب تم خاندان کا حصہ بن جاؤگے تو تمہارا سوچوں گی “
” بننے کہاں دے رہی ہو خاندان کا حصہ ؟”
وہ انگلیاں مروڑتی آگے کو ہوئ
” پلیز تیمور ، اتنا تو کرہی سکتے ہو ؟ میں اپنے باپ کو…”
” بس بھی کردو۔۔۔۔” وہ شدید بے زاری سے اسے ٹوک گیا ” تمہارے پاس ماموں کے علاوہ کبھی کچھ ہوتا بھی ہے بات کرنے کو ؟ “
” وہ میرے بابا ہیں تیمور “
اسے دکھ ہوا
” اور ہر وقت انہیں بیچ میں لانا ضروری نہیں ہوتا ، تم کبھی کبھی مجھے بے زار کردیتی ہو ، یہی حال رہا تو میں کچھ اور سوچ لوں گا “
‘ کچھ اور ؟”
اس کی آنکھوں میں کرب اترا
” ہاں کچھ اور ، مرد ہوں بھئ ، تمہارے ہر وقت رونے سے اکتاہٹ ہوتی ہے ، ایسے ہی رہا تو چھوڑدوں گا تمہیں “
اور بس ، اس کا دل لمحے میں کرچی ہوا ، وہ ایک بار پھر اتنی بڑی بات اتنی آسانی سے کہہ گیا تھا ؟ وہ چند لمحے اسے شاکی نظروں سے دیکھتی رہی اور پھر جھٹکے سے نیچے کی طرف بڑھی
” آہ خدایا ، ایک تو تم سے مزاق برداشت نہیں ہوتا ، معطر .۔۔۔۔۔”
وہ کراہ کر اس کے سامنے آیا ، وہ جو سیڑھیاں اتر رہی تھی اس کے سامنے آنے پر رکی
” ہٹو آگے سے “
خفا ہو کر گھورا
” مزاق تھا “
” بہت برا تھا “
” سوری ۔۔۔۔”
” سوری کیوں ؟ جب چھوڑنا ہے تو ابھی چھوڑ دو مجھے “
وہ غصہ تھی ، تیمور نے کان کھجایا
” اتنی آسانی سے ؟”
” اتنی آسانی سے کہہ بھی دیا تھا “
” کہنا آسان ہے ،کرنا مشکل ، معطر صبا سے کون دستبردار ہو سکتا ہے ؟”
بے بسی سے کہتے وہ بے چارہ بن گیا ، وہ ہنوز خفگی سے دیکھ رہی تھی
” تمہاری ایسی باتیں تکلیف دیتی ہیں تیمور “
” تمہاری ویسی باتیں اکتاہٹ میں مبتلا کرتی ہیں معطر ، چند لمحے ہوتے ہیں جب ہم مل لیتے ہیں اس میں بھی تم اپنے دکھڑے لے کر بیٹھ جاؤ تو میں اکتاؤں گا نا “
” تم سے اپنے دکھ نہیں بانٹوں گی تو اور کس سے بانٹوں گی ؟”
وہ دھیمی پڑی ، شاید وہ ٹھیک ہی کہہ رہا تھا
” اچھا ٹھیک ہے بابا سوری ، اب مان بھی جاؤ “
وہ اسے دھیما پڑتا دیکھ دنیا جہاں کی معصومیت چہرے پر لے آیا
” مان گئ ، اب ہٹو سامنے سے ، سب نیچے انتظار کررہے ہوں گے، کیا سوچیں گے “
” یہی تو مسئلہ ہے لوگوں کی فکر ہے ، بس چند دن انتظار کرو ، امی کل پرسوں تک آرہی ہیں ڈیٹ فکس کرنے ، پھر دیکھتا ہوں کون لوگ،کیسے لوگ “
وہ اپنی کہتا آرام سے نیچے اتر گیا ، معطر کو ایک بار پھر بے بسی نے آن گھیرا ، وہ شخص صرف اپنی منوانے والوں میں سے تھا
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
اس نے انگلینڈ جانے کا فیصلہ بدل دیا ، شادی نا کرنے کا قائم رکھا ، وہ تیمور کو منالے گی ، وہ مان جائے گا ، وہ محبت کا دعویٰ کرتا تھا تو نبھائے گا بھی ، ہاں اس کی بھی مجبوریاں تھیں ، اس کی بہن کی شادی تھی ،پھپھو گھر میں اکیلی ہوجائیں گی ، ٹھیک ہے وہ بھی مجبور تھا ، وہ بھی تھی ، حالات شاید ان دونوں کے حق میں نہیں تھے
انگلینڈ جانے کا فیصلہ ختم کیا تو گھر میں سب اس سے شادی کا پوچھنے لگے ، اس نے صاف منع کردیا ، ایک بات اس نے تیمور کی مانی تھی ، ایک اسے ماننی ہوگی ، تعلق دو طرفہ تھا ، قربانی بھی دونوں کو دینی ہوگی ، جب تک بابا کا علاج چل رہا تھا وہ شادی کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی
جو وہ سوچ نہیں سکتی تھی پھپھو اس پر عمل کرنا چاہتی تھیں، اگلے دن وہ پھر ان کے گھر موجود تھیں
” بس افتخار بھائ ، ایک ماہ بعد کی ڈیٹ فائنل کریں آپ “
سامنے رکھے صوفے پر شان سے بیٹھی پھپھو ، سامنے رکھے صوفے پر بیٹھے نحیف سے بابا سے کہہ رہی تھیں
” جیسا تم چاہو رضیہ ، “
وہ بس پھیکا سا مسکرائے ، چائے اندر لاتی معطر نے کچھ بے بسی سے انہیں دیکھا
” یہاں بیٹھو معطر “
پیار سے اسے مخاطب کیا تو وہ ان کے پاس بیٹھ گئ ،۔ سیاہ رنگ کے سوٹ میں سفید رنگت کملائ ہوئ لگ رہی تھی
” بس اب چند دن کی مہمان ہو تم یہاں”
اس کے سر پر مصنوعی سا مسکراتے ہوئے ہاتھ پھیرا ، وہ مسکرا بھی نا سکی ، پھھو نے بیگ سے چند پیسے نکالے اور اس کے ہاتھ پر رکھے اور پھر بابا کو دیکھا
” افتخار بھائ ، آپ بس ٹینشن نا لیں ، زیادہ کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ، جہیز بھی جتنا ہوسکے اتنا دیجئے گا ، ہوٹل تو تیمور نے کہا ہے وہ بک کروادے گا ، ہم مل کر سب کرلیں گے ، آخر اکلوتے بیٹے کی شادی ہے میری ، آپ کی مجبوریاں اپنی جگہ لیکن میرے بھی کچھ ارمان ہیں “
اس نے جھکا سر اٹھا کر پہلی مرتبہ بابا کو دیکھا ، پھپھو کی بات پر ان کا چہرہ پھیکا پڑا تھا ، شفیق صحت مند چہرہ اب جھریوں زدہ ہوگیا تھا، انہیں اتنا بیماری نے نہیں توڑا تھا جتنا ان کی بیماری پر ہونے والے خرچے نے توڑا تھا ، مضبوط نظر آنے کی کوشش میں خاموش ہوگئے تھے ، نرمی اب بھی چہرے پر تھی لیکن اس نرمی کو شکنوں نے چھپالیا تھا ، وہ چند لمحے انہیں دیکھتی رہی ، پھر فیصلہ کن سانس لیتی پھپھو کی طرف رخ کیا
” میں فلحال شادی نہیں کرسکتی پھپھو “
پھپھو کے ساتھ ساتھ افتخار صاحب بھی ٹھٹکھے
” معطر۔۔۔۔۔ “
” نہیں بابا ، مجھے کہنے دیں ” وہ گردن سیدھی کرتی ان کی طرف متوجہ ہوئ ” ہم فلحال اس پوزیشن میں نہیں ہیں پھپھو کہ میری شادی کا ، بلکہ دھوم دھام سے شادی کا خرچہ برداشت کرسکیں ، اور نا ہی جہیز کا خرچہ برداشت کرسکیں ، آپ کی مجبوریاں میں سمجھتی ہوں لیکن میری مجبوریاں بھی آپ کو سمجھنی پڑیں گی “
” تم شادی سے منع کررہی ہو ؟”
ان کا لہجہ تیز ہوا
” میں فلحال شادی سے منع کررہی ہوں “
” میں ایک ہی مطلب لوں گی “
اس نے لب بھینچے
” آپ غلط مطلب لیں گی ، تیمور نے کہا میں انگلینڈ نہیں جاسکتی میں نے مان لیا ، اب میں کہہ رہی ہوں کہ فلحال میں شادی نہیں کرسکتی تو اسے میری بات ماننی پڑے گی ، آپ لوگ ہاجرہ کی شادی کردیں لیکن میری طرف سے معذرت “
نرمی لیکن دو ٹوک انداز میں کہتے وہ بیٹھک سے چلی گئ ، سیڑھیوں کی طرف جاتے ہوئے اس نے بیٹھک کا دروازہ زور سے بند ہونے کی آواز سنی ، دل زور سے دھڑکا ، وہ جانتی تھی کہ پھپھو کو برا لگا ہوگا لیکن تیمور انہیں منالے گا ، اسے یقین تھا وہ انہیں منا لے گا ، وہ اس کے لئے یہ کرلے گا
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
بچیوں کی کاپیاں چیک کرتے ہوئے اس نے گھڑی پر وقت دیکھا ، رات کے گیارہ بج رہے تھے ، گھر میں ہو کا عالم تھا ، سب یقیناَ سو چکے تھے ، گردن کو مسلتے اس نے بیڈ سے ٹیک لگالی
زندگی دو سال پہلے تک آسان تھی ، سب ٹھیک تھا ، سب ٹھیک ہوکر بہترین تھا ، اس کا یونیورسٹی کا آخری سال تھا ، تیمور کا پہلا ،مبشرہ سکول جاتی تھی ، عون مبشرہ کے ساتھ جاتا ، گھر میں خوش حالی نا صحیح بدحالی بھی نہیں تھی ، بابا نے سالوں سکول کی نوکری کی تھی ، ریٹائر ہونے پر ملنے والی رقم اور جمع کی گئ رقم سے سٹور کھول لیا، چچا گھر میں فارغ رہتے تھے انہیں بھی ساتھ ملا لیا ، حالات مزید اچھے ہوتے گئے ،اور پھر انہی دنوں بابا کی طبیعت خراب رہنے لگی ، وہ عرصہ نظر انداز کرتے رہے پھر جب چیک اپ کرایا تو کینسر کی تشخیص ہوئ ، جو سب ٹھیک تھا وہ خراب ہوگیا ، جو بہترین تھا وہ بدترین بن گیا ، پہلے پہل تو سب صدمے سے اپنی جگہ جم گئے پھر جب ہوش آیا تو آگے کا خیال ستانے لگا ، سٹور کی کمائ اچھی تھی ، انہوں نے طے کیا وہ سٹور بیچ دیں تاکہ بابا کا علاج کیا جاسکے ، بابا نے منع کردیا کہ وہ ان کی اولاد کا حق ہے ، اولاد کا حق چچا نے قبضے میں لے لیا ، وہ خلاف ہوگئے کہ ان کی بھی محنت ہے ، سٹور وہ چلالیں گے، جو کمائ ہوگی وہ آدھی آدھی تقسیم کرلیں گے ، بیچنے کا فیصلہ بے وقوفی تھی
شروع شروع میں وہ رقم بھجواتے رہے پھر آہستہ آہستہ رقم کم کردی کہ اب کمائ نہیں ہوتی ، وہ سوچتی تھی اگر کمائ نہیں ہوتی تو انہوں نے گھر دوبارہ سے کیسے تعمیر کرالیا تھا ؟ ، دانیال سے غلط برداشت نہیں ہوتا تھا ، وہ جو ہوتا کہہ دیتا ، چچا سے بحث کی، دھمکیا دیں ،لیکن وہ کمزور تھا ، بابا نے دکان چچا کے نام پر کھولی تھی ، کاغذات چچا کے نام پر تھے ، ان کے لئے سارے راستے بند ہوگئے ، حالات بہتر سے بدتر ہوگئے ، ہر شے بابا کے علاج پر لگ گئ اور اب یوں تھا کہ وہ مقروض ہوگئے تھے ، ان حالات میں وہ شادی کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی
اس کے زہن میں تیمور کی باتیں گونجنے لگیں
وہ اس کی جوانی کے اوائل دنوں کی پسند تھا ، وہ اٹھارہ سال کی تھی جب پھپھو نے اس کا رشتہ اپنے تیئس سالہ بیٹے کے لئے مانگا ، اس نے سب سے سنا تھا کہ وہ اس کے لئے اپنی ماں سے لڑا تھا ، زندگی میں کوئ آئے گی تو وہ معطر صبا ہوگی ، ورنہ کوئ نہیں ، وہ جانتی تھی پھپھو اس رشتے پر راضی نہیں تھیں ، وہ ان کے خاندان کو کچھ خاص پسند بھی نہیں کرتی تھیں ، وجہ ان کا سوتیلا تعلق تھا ، وہ اس کے دادا کی پہلی بیوی سے تھیں ، رشتوں میں خودبخود کڑواہٹ آگئ تھی ، کچھ وہ ان سے زیادہ صاحب ثروت تھے کہ تیمور کا اپنا بزنس تھا ، بہت زیادہ نہیں لیکن وہ اپنا کماتا تھا ، گھر تھا ،گاڑی تھی ، خوش شکل تھا ، گئ گزری تو وہ بھی نہیں تھی پرکشش شکل اور پڑھی لکھی تھی ، انگلش میں ماسٹرز کیا تھا ، لیکن یہ سب کچھ جیسے پس منظر میں چلا گیا تھا ، پھپھو کو اعتراض تھا ، لیکن تیمور نے انہیں منا لیا ، وہ اس سے محبت کرتا تھا ، وہ اس کی محبت پر یقین رکھتی تھی ، اور یہ یقین اسے اب بھی تھا ، وہ اب بھی پھپھو کو منا لے گا
” معطر۔۔۔۔۔”
بابا کی آواز پر اس نے چونک کر سر اٹھایا ، وہ دروازے میں ٹھہرے تھے ، جھٹکے سے سیدھی ہوتی وہ ان تک آئ
” آپ کی طبیعت ٹھیک ہے بابا ؟”
چہرے پر لمحوں میں پریشانی پھیلی
” ٹھیک ہوں بیٹا ، تمہارے کمرے کی لائٹ جلی دیکھی تو یہاں آگیا “
وہ آہستہ سے پیچھے رکھی کرسی پر بیٹھ گئے
” بچیوں کا ٹیسٹ چیک کرنا تھا”
انہوں نے سر ہلادیا پھر اپنے سامنے بیٹھنے کا اشارہ کیا ، وہ کرسی سائیڈ پر کرتی ان کے قدموں کے پاس بیٹھ گئ
” یہ تمہاری بہت بری عادت ہے “
وہ ہلکا سا مسکرائ
” آپ کے قدموں کے پاس بیٹھنا اچھا لگتا ہے “
” عورت قدموں میں رکھی جانے والی چیز نہیں ہے ، اوپر بیٹھو شاباش “
وہ نہیں اٹھی ، آگے کو ہوتے سر ان کی گود میں رکھ دیا ، افتخار صاحب گہری سانس لے کر رہ گئے ، وہ بہت ضدی تھی
” دوائ لے لی تھی نا آپ نے ؟”
” مبشرہ نے دے دی تھی ، تم دونوں بیٹیوں کو سارا دن میری دوا کی فکر لگی رہتی ہے “
اس کے سر پر دھیرے سے ہاتھ پھیرا ، وہ کچھ کہے بغیر سامنے دیکھتی رہی ، کھلی کھڑکی کے اوپر دھاگہ لگا تھا ، کھڑکی سے باہر تک جاتا ہوا ، اس پر جوڑ لگا چوڑیاں لگائ ہوئ تھیں، چند ساتھ ، چند دور ، سجاوٹ کا عجیب طریقہ ، ، ہوا سے وہ چھن چھن کی آواز پیدا کرتیں
” معطر ۔۔۔۔۔”
” جی “
” ضد چھوڑ دو بیٹا “
اس نے سر نہیں اٹھایا ، وہ جانتی تھی وہ یہی بات کرنے آئے ہوں گے
” میں ضد نہیں کررہی بابا “
” جو بھی ہے ، چھوڑدو ، میرے لئے خود کو مت اذیت دو “
اس نے سر اٹھا کر انہیں دیکھا
” فرض کہتے ہیں اسے “
” تمہارا فرض نہیں ہے معطر ، اپنی اولاد کو خود کے لئے تکلیف میں دیکھ کر بہت تکلیف ہوتی ہے ، “
” آپ کو تکلیف میں دیکھ کر بھی مجھے ایسی ہی تکلیف ہوتی ہے “
” مت کرو اتنا بیٹا ، اولاد کو پالا ہے میں نے ، اب جب اولاد پال رہی ہے تو دل چیر رہا ہے جیسے کوئ “
اس کی آنکھوں میں آنسو جمع ہونے لگے لیکن بہت درد کے ساتھ انہیں بھی نگل لیا
” یہ میرا فرض ہے بابا ، میں سو بار مر کر سو بار زندہ ہو جاؤں اپنا فرض پورا نہیں کرسکتی “
” پھر میری حق سمجھ کر میری بات مان لو “
اس نے سر نفی میں ہلایا
” آخری خواہش ہی سمجھ لو معطر “
اس کا دل کسی نے مٹھی میں لے لیا
” یہ مت کہیں “
” آخری خواہش سمجھ لو معطر ، میری زندگی میں ہی اپنی زندگی سنوار لو ، تمہیں خوش دیکھ لوں گا تو سکون سے مر ۔۔۔۔”
” مت کہیں۔۔۔ پلیز مت کہیں ” وہ ان کے گھٹنوں پر سر رکھے رو دی ، دل کسی نے چیر دیا تھا ” خدا کا واسطہ مت کہیں ، چپ کرجائیں بابا “
” چپ کرنے سے حقیقت نہیں بدلے گی بیٹا ، نا تم کچھ کرسکتی ہو نا میں ، یہ سچ ہے ، اس سچ کو مان لو ، رضیہ اب مزید نہیں صبر کرے گی ،یہ بھی سچ ہے ،اس سچ کو بھی قبول کرلو “
اس کے سر کو تھپکا ، جیسے بچپن میں تھپکتے تھے ، جب وہ کسی سے ناراض ہو کر آتی تھی ، جب اسے کچھ چاہئے ہوتا تھا تو وہ آکر ان کے گھٹنے پر سر رکھتی اور وہ اس کی پسندیدہ چیز لے آتے ، اسے اب بھی کچھ چاہئے تھا لیکن اب اس کی پسندیدہ چیز وہ نہیں لا سکتے تھے
” اٹھو شاباش ، جا کر سو جاؤ ، کل رضیہ آرہی ہے ، ضد مت کرنا اب “
اس کا سر اٹھاتے وہ دھیرے سے اٹھ گئے ، انہوں نے نہیں دیکھا وہ رو رہی تھی ، اس نے نہیں دیکھا ان کی آنکھیں نم تھیں ، بابا چلے گئے ، ہوا بند ہوگئ ، چوڑیوں کی کھنک تھم گئ اور وہ وہیں بیٹھتی روتی رہی
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
اگر یوں تھا تو یوں سہی ، سب یہی چاہتے تھے تو یہی صحیح ، وہ انتظار کرتی رہی کہ تیمور کی کال آئے گی تو وہ اسے بتادے گی کہ وہ شادی کے لئے راضی ہے ، وہ جو چاہتا تھا وہی صحیح لیکن نا اس کی کال آئ ، نا میسج نا اور نا وہ خود آیا ، ہفتہ گزر گیا اور سب ساکن رہا ، طوفان سے پہلے کا سکوت
وہ طوفان اسے سکول سے واپسی پر ملا تھا ، بیگ اتارتے اس نے صوفے پر رکھا تو نظر میز پر گئ ، چند شاپر ، کچھ ڈبے ، آنکھوں میں اچھنبا ابھرا ، یہ کس کا تھا ؟ ، بیگ سے موبائل نکالتے نظریں ابھی میز پر تھیں جب کونے میں رکھی انگوٹھی نظر آئ ، سونے کی انگوٹھی ، اس کا موبائل نکالتا ہاتھ رکا ، دوسرا ہاتھ پہلو میں آن گرا ، آنکھوں کی پتلیاں ساکت ہوگئیں ، مردہ قدموں سے وہ میز کی طرف گئ تو شک یقین میں بدل گیا
وہ وہی انگوٹھی تھی ، اسے اس کا ڈیزائن حفظ تھا ، تیمور حیدر کو پہنائ جانے والی انگوٹھی ، دروازے میں کھٹکا ہوا تو اس نے مردہ آنکھیں اٹھائیں ، سوجی آنکھوں سے امی اندر داخل ہورہی تھیں ، اسے وہاں رکے دیکھ ٹھٹکیں ،پھر نظر اس کے ہاتھ پر گئ
” یہ ؟”
بس ایک لفظ ، ایک سوال ، نا مزید کچھ پوچھنا تھا ، نا پوچھنے کی ہمت تھی
” رضیہ واپس کرگئ ہے ، منگنی توڑدی ہے اس نے “
جواب بھاری تھا ،جواب طویل تھا ، مزید کچھ پوچھنے کی ضرورت نہیں رہی ، مزید کچھ جاننے کی ہمت بھی ختم ہوگئی
وہ اگلے کئ لمحے کسی مجسمے کی مانند ٹھہری رہی ، یوں جیسے روح کھینچ لی گئ ہو ، یوں جیسے جان نچڑ گئ ہو ، یوں جیسے دل رک گیا ہو ، پھر کس نے اس میں زندگی ڈالی
جھٹکے سے پیچھے پڑی چادر کھینچی
” معطر ۔۔۔۔۔”
ساجدہ پیچھے آواز دینے لگیں ، وہ سفید چہرے کے ساتھ صحن میں آئ ، دانیال کتاب اٹھائے یہاں وہاں گھوم رہا تھا
” دانیال ۔۔۔۔”
آواز کانپ گئ ، اس نے چونک کر سر اٹھایا
” پھپھو کے گھر چلو گے ؟”
” اس وقت ؟”
” ہاں ابھی ، اسی وقت , اسی لمحے “
وہ اچھنبھے سے آگے کو ہوا
” خیریت ہے ؟”
” مجھ سے کچھ مت پوچھو ، بخدا کچھ مت پوچھو ، “
وہ وہیں رک گیا ، وہ کپکاتے ہونٹوں کے ساتھ ٹھہری تھی ، دھیرے سے سر ہلاتے اس نے کتاب رکھی ، پھر کونے میں ٹھہری بائیک تک گیا
، سارا راستہ اس کا دل رکتا رہا ، دھڑکتا رہا ، راستہ جانے کیوں لمبا ہوگیا ، راستہ جانے کیوں چھوٹا ہوگیا تھا ، بائیک گلی میں رکی تو وہ جھٹکے سے نیچے اتری ، دانیال پیچھے بلا رہا تھا ، اس نے نہیں سنا ، لاؤنج خالی تھا ، سیڑھیوں سے ہاجرہ اتر رہی تھی
” معطر آپی ؟”
” تیمور گھر پہ ہے ؟”
” کمرے میں ہیں۔۔۔۔۔”
وہ بنا کچھ مزید سنے اس کے کمرے کی طرف گئ ، اوپر دوسرا کمرہ اس کا تھا ، وہ جانتی تھی ، وہ کبھی اس کے کمرے میں نہیں آئ تھی لیکن وہ اس کمرے کی ہر شے جانتی تھی ، دروازے پر دستک دیئے بنا اس نے جھٹکے سے دروازہ کھولا تو نظر سامنے راکنگ چیئر پر جھولتے تیمور پر گئ
” کیا بدتمیزی ہے یہ۔۔۔۔۔ “
ناگواری سے کہتے اس نے سر اٹھایا تو معطر کو دیکھ کر باقی الفاظ زبان پہ رہ گئے ، لب کاٹتی ، سرخ پڑتے چہرے کے ساتھ وہ دروازے میں ٹھہری تھی
” یہاں کیا کررہی ہو تم ؟”
اس کا چہرہ سپاٹ ہوگیا ، وہ دروازہ کھلا چھوڑتی کمرے کے وسط میں آئ
” پھپھو نے منگنی کا سامان واپس بھجوایا ہے ، تم جانتے ہو ؟”
سرسراتے لہجے میں اس سے پوچھا ، وہ اسی طرح بیٹھا رہا
” وہ ایسا کیسے کرسکتی ہیں تیمور ؟ تم سے پوچھے بنا۔۔۔۔۔”
” انہوں نے مجھ سے پوچھا تھا “
وہ رک گئ ، اس کے الفاظ زہن میں جذب ہوئے تو آنکھوں میں بے یقینی ابھری
” تم مزاق کررہے ہو ؟”
تیمور چیئر سے اٹھتا اس کے سامنے آیا
” سچ ہے “
اس نے نفی میں سر ہلایا
” یہ مزاق ہے “
” یہ سب سے بڑا سچ ہے معطر صبا ، وہ منگنی میری مرضی ،میری اجازت سے توڑ کر آئ ہیں “
بے تاثر لہجے میں کہتے وہ کوئ اجنبی بن گیا تھا ، اس کی بے یقینی صدمے میں بدلی
” کیوں ؟ چار سال تیمور ؟”
” چار سال میں سوائےاذیت کے کیا دیا تم نے مجھے ؟”
ازیت ؟ وہ ازیت کہہ رہا تھا ؟ جو محبت کہتا تھا وہ اب ازیت کہہ رہا تھا ؟
” ایسا مت کرو تیمور “
اس کا سر نفی میں ہلنے لگا ، وہ اس شخص کو نہیں کھونا چاہتی تھی ، اس ایک شخص کو یاد کرنے میں معطر صبا خود کو بھلا بیٹھی تھی ، اب وہ اس کا حافظہ چھیننے کی بات کیوں کررہا تھا ؟
” بات اب میری انا کی ہے ، مرد سے انا کا مقابلہ کرنے والی عورت بیوقوف ترین عورت ہوتی ہے ، میری ماں کے منہ پر انکار مارا تھا نا تم نے ؟ یہ وہ آخری چیز تھی جو تمہیں کرنی چاہئے تھی ، تو اب میں اس تعلق کو توڑتا ہوں، میں سب ختم کرتا ہوں معطر ، اب نا تمہارے آنسو مجھے روکیں گے نا تمہاری التجا “
” میں تمہارے لئےخود کو بھول گئ تیمور ۔۔۔۔” وہ دبا دبا سا چلائ ” تم نے مجھے کیوں یاد نا رکھا ؟”
” جذباتی باتیں بند کرو لڑکی ،اگر اتنی ہی محبت تھی تو شادی کے لیے کیوں منع کیا ؟”
وہ چلایا
” میرا باپ مررہا ہے تیمور ، تم چاہتے ہو میں اپنی بارات کے اگلے دن اس کا جنازہ پڑھوں ؟ تم میری ہر مجبوری سے واقف ہو کر بھی خود غرض ہوگئے ہو “
” خود غرض ؟ ۔۔۔۔” وہ پھنکارا ” میرے پاس تم سے زیادہ مجبوریاں ہیں لیکن میں تمہاری طرح ان کا ڈھونگ نہیں رچاتا ، دو سال بہت ہوتے ہیں معطر ، دو سال مزید نہیں “
” ڈھونگ ؟ تمہیں وہ سب ڈھونگ لگتا ہے ؟ “
” ہاں ڈھونگ لگتا ہے ، تھک گیا ہوں تمہارے باپ کی بیماری کا سن سن کر ، مجھے تم سے اپنے اور تمہارے مستقبل کی باتیں کرنی ہوتی تھیں اور تم اپنے باپ کی بیماریوں کے قصے لے کر بیٹھ جاتی تھیں ، مجھے تمہیں سرخ گلاب لاکر دینے تھے ،تم نے ہر گلاب کی خوشبو کو دوائیوں کی مہک میں باسی کردیا ، تمہاری ساتھ زندگی سوچ جیسی نہیں خوف جیسی ہوگئ تھی ، اب میں نے آذاد کیا خود کو ہر خوف سے “
وہ ساکت سی اسے دیکھتی رہی ، یہ وہی شخص تھا جس سے اس نے محبت کی تھی ؟ وہی تیمور حیدر جو کہتا تھا کہ وہ اس کے دامن کی پریشانیاں اپنی مٹھی میں چن لے گا
” تم ایسا سوچتے تھے ؟”
وہ بے یقین ہوئ
” میں اس سے زیادہ بدتر سوچتا ہوں ، اتنا کہ تم سن کر شرمندہ ہو جاؤ گی ، اس لئے اگر میں تمہیں چھوڑ رہا ہوں تو عزت کے ساتھ میری زندگی سے نکل جاؤ ، مجھ سے اپنی محبت کی بھیک مت مانگو “
یہ وہ زبان تھی ؟ یہ وہ زبان تھی جو اس کے لئے محبت کے اظہار کیا کرتی تھی ؟
” تم نے کہا تھا تم میرا قیامت تک انتظار کروگے “
” پھر یوں سمجھ لو قیامت آچکی “
” میرے دل کے ساتھ یہ مت کرو تیمور “
اس نے آخری بار کچھ کہنا چاہا ، تیمور چند لمحے اسے گھورتا رہا اور پھر آگے بڑھتے بازوؤں سے دبوچا ، گھسیٹتے ہوئے کمرے سے باہر نکال دیا
” یہ تمہاری اوقات تھی معطر صبا ، میں نے تمہیں سر کا تاج بنانا چاہا جبکہ تم مٹی میں رہنے کو ترجیح دیتی رہیں تو اب اسی مٹی میں رہو ،میری زندگی سے چلی جاؤ اور آئندہ اپنی شکل مت دکھانا مجھے “
دھاڑتے ہوئے اس نے دروازہ بند کردیا ، اس کا ہاتھ بے یقینی سے اپنے بازوں پر گیا ، اس کا گرم لمس وہاں آگ دہکا رہا تھا
یہ وہی ہاتھ تھے جو اس کے لئے محبت کے نامے لکھا کرتے تھے ، یہ وہی ہاتھ تھے جو سرخ گلاب لایا کرتے تھے ، ان ہاتھوں میں اتنی بے رحمی کب آئ ؟
اس کا ساکت مجسمہ حرکت میں آیا ، نظر اٹھا کر مردہ چہرے سے بند دروازے کو دیکھا پھر انہی مردہ قدموں سے وہ سیڑھیوں کی طرف بڑھی ، پہلی سیڑھی پر ہاجرہ ٹھہری تھی ، آخری سیڑھی پر دانیال ٹھہرا تھا ، اس نے آنکھیں میچیں ، آواز ان دونوں تک گئ ہوگی ، آنکھیں کھولتی وہ انہی مردہ قدموں سے سیڑھیاں اترتی باہر بڑھی
دانیال کی نظر سیڑھیوں پر ٹھہری ہاجرہ پر گئ وہ نم آنکھوں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی ، وہ چند لمحے ان آنکھوں کو دیکھتا رہا پھر وہ تیزی سے باہر کی طرف بڑھ گیا
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
