Laa By Fatima Noor Readelle50338 Laa (Episode 30)
Rate this Novel
Laa (Episode 30)
Laa By Fatima Noor
آدم کیان کے لندن سے دور لاہور کی سڑکوں پر چوبارے والے گھروں کی گلیوں سے گزرتے ، سیاہ تارکول والی سڑک سے ہوتے ایک عمارت کے سامنے بنی پتھریلی روش پر سیاہ جوتے رکے ، سیاہ جوتوں میں لپٹے سفید پاؤں ، سفید پاؤں سے نظر اٹھا کر دیکھو تو وہ گلابی لباس میں ملبوس تھی ، لمبی گلابی قمیص ، سفید ٹراؤز ، گلابی دوپٹہ جو سینے پر پھیلا رکھا تھا ، ہاتھ میں کوئ فائل تھامے وہ رکشے سے ابھی ابھی اتری تھی ، بیگ سے پیسے نکال کر رکشے والے کو دیئے اور ہاتھوں کا چھجہ بنا کر یونیورسٹی کو دیکھا
اس کا ایم فل کا آج آخری پیپر تھا
گہری سانس لیتے اس ن قدم آگے بڑھائے ہی تھے جب یکدم رکی ، آنکھیں سکیڑیں پھر ماتھے پر بل پڑے ، سیاہ گاڑی سے ٹیک لگائے وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا ، معطر نے ہاتھ میں پہنی گھڑی پر وقت دیکھا ، پیپر شروع ہونے میں ایک گھنٹہ دیر تھی ، وہ کوئ فیصلہ کرتی اس تک آئ
” اگر مجھ سے بات کرنی ہے تو کسی دن فرصت سے وقت نکال کر گھر آجانا تیمور حیدر ، میرے راستے میں آنے اور دھمکانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ میں لوگوں سے ، خاص کر تمہارے جیسے لوگوں سے خوفزدہ ہونا چھوڑ چکی ہوں “
اس کے سامنے رکتے سنجیدگی سے کہا تو وہ ہلکا سا مسکرایا
” کس نے کہا میں تمہیں خوفزدہ کرنے آیا ہوں ؟”
” واقعی میں ؟ یہاں کھڑے ہو کر تم میری خیریت پوچھنے سے تو رہے “
” ہم کزنز ہیں معطر ، کیوں اتنا بدگمان رہتی ہو مجھ سے ؟ “
” میں تمہارے ساتھ کسی ایسے تعلق کو نہیں جانتی “
وہ بے زاری سے کہتی پلٹنے لگی جب پیچھے سے وہ چلتا اس کے سامنے آیا
” ہمارا کزنز کے علاوہ بھی ایک تعلق رہ چکا ہے”
وہ غور سے اس کی آنکھوں کو دیکھ رہا تھا
” تو یعنی اب تم یہ سوچ کر یہاں آئے ہو کہ ڈھائ سال قبل اس طرح کے جملوں کو سن کر میں جو دو دن روتی تھی اب بھی روتی رہوں گی ؟” سمجھ کر سر ہلایا ، تیمور کی مسکراہٹ گہری ہوئ
” بدل گئ ہو “
” اور اس بدل چکی معطر کو تمہارے ہونے یا نا ہونے سے فرق نہیں پڑتا”
” یقین کرو مجھے لگ رہا ہے تم سے دوبارہ سے محبت ہورہی ہے مجھے “
اس کا چہرہ غصے سے سرخ پڑا
” حد میں رہو اپنی “
” حد میں ہی ہوں ابھی تک ، حد سے گزر جاتا تو اب تک تم اور تمہارا خاندان اس گھر میں آرام سے نا بیٹھے ہوتے “
” ڈھائ سال سے یہ دھمکیاں سن رہی ہوں ، اب تمہیں چاہئے کہ کوئ اور طریقہ ڈھونڈو مجھے خوفزدہ کرنے کا “
” میرے پاس یہی طریقہ کافی ہے معطر ، چلو میں تمہیں ایک بار پھر آفر کرتا ہوں ، کسی دن کسی جگہ ملو ہم ایک معاہدہ طے کرلیتے ہیں ، تم یقین کرو جتنے پیسے تم لوگ مجھے اس گھر کے دے سکتے ہو اتنے کی میری یہ گاڑی ہے ، مجھے زرا بھی ان پیسوں میں دلچسپی نہیں ہے “
” پھر پیچھے کیوں پڑے ہو اس گھر کے ؟”
وہ سلگی
” تم ابھی تک نہیں سمجھیں ؟” وہ سر جھٹک کر مسکرایا پھر اسے دیکھا ” یا پھر نا سمجھ بننے کا ناٹک کرتی ہو ؟”
” مجھے صرف اتنا معلوم ہے تیمور کہ تم مجھ سے بدلہ لینا چاہتے ہو ، اب تردید کرو یا تصدیق “
” اوہ معطر ، میں تمہیں کیسے سمجھاؤں کہ میں نے یہ سب کیوں کیا ہے ؟ ذرا سوچو میں اپنا انتہائ قیمتی وقت کیوں تم پر صرف کرتا ہوں ؟ “
” کیونکہ تم ایک گھٹیا انسان ہو “
” لڑکی ، زرا زبان سنبھال کر بات کرو ، تمہارے لئے آئندہ مشکل ہوسکتی ہے ” اس کی مسکراہٹ میں کچھ آگ جیسا تھا
” کسی اور کو ڈراؤ تیمور ، تمہاری یہی باتیں میں عرصے سے برداشت کررہی ہوں “
” تو تمہیں کیا لگتا ہے کہ میں کیس اس لئے نہیں کررہا کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ میں کیس ہار جاؤں گا ؟ اس ملک میں ججز کو خریدنا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے معطر ، میں نے اب تک کیس نہیں کیا، جانتی ہو کیوں ؟” وہ دو قدم آگے کو ہوا ” کیونکہ مجھے تمہارے ساتھ پہلے عدالت کے باہر ایک جنگ لڑنی تھی ، بہت سے حساب باقی ہیں تمہارے لئے میرے پاس “
” جسے تم ڈرا رہے ہو وہ ڈھائ سال سے انسانوں سے ڈرنا چھوڑ چکی ہے “
” جو انسانوں سے ڈرنا چھوڑ چکی ہے اسے میں محبت سے ڈرا رہا ہوں “
اور یہی باتیں ، اس کی یہی باتیں سن کر دل چاہتا تھا کہ اس کا منہ نوچ لے لیکن وہ تحمل کا مظاہرہ کرتی مسکرائ پھر دو قدم پیچھے کو ہوئ
” جس محبت کا تم مجھے طعنہ دیتے ہو وہ میں تمہارے منہ پر کافی کی صورت مار آئ تھی ، جس انصاف کا تم مجھے طعنہ دیتے ہو وہ ابھی اتنا بھی گیا گزرا نہیں ہے کہ میں تمہارے جیسے لوگوں سے خوفزدہ ہوں اور جس بدنامی سے تم مجھے ڈرا رہے ہو وہ اب میرے لئے بے معنی ہے اور ہاں ” رک کر اسے دیکھا جو خاموش لیکن گہری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ” پہلے جا کر اپنی بیوی کے ساتھ اپنے معاملات درست کرو ، سنا ہے وہ ایک بار پھر اپنے مائیکے جا کر بیٹھی ہوئ ہے ، دوسروں کی چھتیں چھیننے سے پہلے یہ تو دیکھ لو کہ تمہارے خود کے گھر کی زمین سلامت ہے یا نہیں”
بے تاثر لہجے میں کہتے وہ آگے بڑھ گئ ، تیمور کے ماتھے پر بل پڑے ، کئ لمحے وہ سلگتی نظروں سے معطر کو دیکھتا رہا جس کے قدم نا لڑکھڑائے تھے نا پلٹے تھے ، اسے تو دیکھ لے گا وہ
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ایئرپورٹ سے باہر نکلنے سے پہلے اس نے رک کر آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنا چہرہ دیکھا ، دونوں ہاتھوں سے بالوں کو درست کیا ، آنکھیں بند کیں ، خود کو سرزنش کی اور گردن سیدھی کرتا باہر بڑھا ، ایئرپورٹ سے باہر ڈھیروں لوگوں کے بیچ اس کے قدم رکے ، سر اٹھا کر آسمان کو دیکھا
سر زمینِ لاہور
جس سے محبت کے قصے منسوب ہیں
جہاں ادھوری داستانیں درج ہیں
کوئ بچھڑ گیا تو کوئ مل گیا
کسی نے زمین پہ ٹھہرے ٹھہرے آسمان چھو لیا
تو کوئ آسمان سے زمین پر آ گرا
شہر محبت ۔۔۔ شہر محبوب ۔۔۔۔ لاہور !
معطر صبا کا لاہور !
تو اس شہر کی گلیوں میں کہیں وہ بھی چلی ہوگی ، ان سڑکوں پر کہیں اس کے قدم بھی نقش ہوں گے ، کہیں ان راستوں پر اس نے رک کر کسی جگہ شاید اسے بھی سوچا ہو ، شاید اسے لندن کا کوئ آدم کیان یاد ہو ، شاید وہ جانتی ہو کہ اب تک وہ اس کا منتظر ہے ، لاہور کی چوڑیاں پہننے والی اس لڑکی کا جو اپنی ایک بالی اس کے دیس چھوڑ آئ تھی ، وہ جس کے سامنے لاہور کی برائ کرو تو ناراض ہوجاتی تھی ، وہ جو کہتی تھی کہ لوگ اس کے لاہور سے جلتے ہیں ، تو معطر صبا کے لاہور میں آدم کیان کو خوش آمدید !
سر جھٹکتے وہ آگے بڑھا ، سب سے پہلی شے جو محسوس ہوئ ۔۔۔ بلا کی گرمی ، دوسری شے جس کا احساس ہوا ، بلا کی گرمی کے ساتھ بلا کا پولیوشن
” ابھی بھی لوگ جلتے ہیں مادام کے لاہور سے “
سر جھٹکتے وہ بیگ گھسیٹتا باہر آیا ، چینل کی طرف سے کسی نے لینے آنا تھا سو وہ وہیں باہر کسی گاڑی کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا ہوگیا ، ہاتھ اوپر کرتے نیلی شرٹ کے اوپری بٹن کو کھولا ، کیپ پہننے کے باعث سر الگ درد کررہا تھا ، فلائٹ سے اترتے ہی سب سے پہلے دو چار لوگوں نے آکر تصویریں کھنچوائ تھیں تو اس نے احتیاطاً کیپ پہن لی ، اب پچھتا رہا تھا
” آدم سر …..”
ایک لڑکا بوکھلایا ہوا اس کی طرف آیا
” جی محترم ، آدم کیان “
بے زاری سے اسے دیکھا
” میں نجیب ہوں ، نجیب سلیم ، سوری مجھے دیر ہوگئ “
شرمندگی سے کہتے اس کا بیگ تھاما
” میں کہنا نہیں چاہتا لیکن کوئ بات نہیں”
وہ اس کے پیچھے چلنے لگا ، گاڑی پارکنگ میں ٹھہری تھی ، وہاں پہنچنے تک اندر بیٹھنے تک اس نے جھٹ سے کیپ اتاری ، ایک تو گرمیوں میں یہاں آنے کا فیصلہ کیا تھا اوپر سے ڈھیروں کام تھے جو کرنے تھے
” آپ کا کمرہ ہوٹل میں بک کردیا ہے ، میرا گھر یہاں سے کچھ فاصلے پر ہے لیکن پک اینڈ ڈراپ سروس میں فراہم کروں گا “
وہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا گاڑی سٹارٹ کرتے کہہ رہا تھا ، اس نے بس سر ہلادیا ، نظر باہر ٹکی تھی، سڑکیں ، سڑکوں پر ڈھیروں گاڑیاں ،موٹر سائیکل ، رکشے ، جیسے پوری دنیا لاہور کی سڑکوں پر سمٹ آئ تھی ، جیسے پوری دنیا ایک لاہور میں سمٹ آئ تھی ، اور وہ اس ہجوم میں وہ مسجد ، مسجد کے سامنے والا گھر کہاں ڈھونڈتا ؟
” لاہور میں کتنی مسجد ہیں نجیب ؟”
” اندازہ لگانا بھی مشکل ہے ، آپ کے ہوٹل کے سامنے بھی ہے “
کچھ حیرانی سے کہتے اس نے ساتھ بیٹھے مہمان کو دیکھا تھا جو باہر دیکھ رہا تھا ۔ اس نے بانو آپا یا پریزے میں سے کسی سے یہاں آنے کا زکر نہیں کیا تھا ، اگر وہ یہاں کسی گلی میں مل گئ تو وہ ان دونوں کو بتادے گا ورنہ وہ ساری زندگی یہ راز اپنے ساتھ رکھے گا کہ وہ معطر صبا کے لئے لاہور کی گلیاں بھی گھوم آیا تھا
” کامل منظور کے گھر اور یونیورسٹی کا ایڈریس سینڈ کردینا مجھے “
” آپ ایک دو دن آرام کرلیں پھر چلیں گے یونیورسٹی”
” میرے پاس وقت نہیں ہے نجیب ، جلدی کام ختم کر کے واپس پہنچنا ہے “
” آپ لاہور نہیں گھومیں گے ؟”
” وہی گھومنے تو آیا ہوں ..” وہ آہستہ سے بڑبڑایا پھر سر جھٹکا” کام ہوجائے ، معلومات مل جائیں پھر دیکھیں گے “
” کام کے ساتھ ساتھ میں آپ کو لاہور بھی گھمادوں گا “
” تم مجھے صرف آدم کہہ سکتے ہو یا آدم بھائ بھی “
نرمی سے اس سے کہا تو وہ جو الرٹ سا بیٹھا تھا یکدم ڈھیلا ہوا
” شکریہ ، میں تو سمجھ رہا تھا آپ باقی انگریزوں کی طرح ماتھے پر بل ڈالے منہ بنا کر بیٹھے رہیں گے “
اس نے کچھ نہیں کہا ، گاڑی رش بھری سڑکوں سے گزرتی کسی ہوٹل کے سامنے رکی تو وہ دونوں نیچے اترے ، اب کی بار اس نے سامان خود ہی اٹھا لیا ، ریسیپشن پھر کمرے میں چھوڑ کر نجیب واپس چلا گیا تو وہ کھڑکی تک آیا ، کمرہ چوتھی منزل پر تھا تو یہاں سے لاہور دور تک نظر آتا تھا
معطر صبا کا لاہور ، اور جانے وہ خود کہاں تھی ؟
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اس کے ہوٹل سے دور ، چند تنگ گلیاں مڑتے ، چند چوبارے دیکھتے سفید گنبد والی مسجد کے سامنے والے گھر کا دروازہ کھل رہا تھا ، کھلے دروازے سے اندر داخل ہوتی بائیک پر دانیال بیٹھا نظر آتا تھا ، نیلی جینز پر سفید آدھے بازوں والی ٹی شرٹ پہنے وہ کچھ تھکا سا نظر آرہا تھا، بائیک سے سامان اتارتے وہ برآمدے تک آیا اور وہاں رکھے تخت پر سبزی رکھی
” مبشرہ ، پانی لانا “
موبائل نکالتے آواز اونچی کی جانتا تھا موبائل اٹھائے ریلز دیکھ رہی ہوگی تو بمشکل آنے گی ، چند لمحے گزرے اور پانی کا گلاس اس کے سامنے آیا ، گلاس اٹھاتے اس نے زرا کی زرا نظر اٹھائ تو رکا ، ہلکے گلابی سوٹ پر دوپٹہ سینے پر پھیلائے ، بالوں کو ہمیشہ کی طرح گول مول جوڑے میں باندھے وہ معطر تھی
” تمہارا پیپر نہیں تھا آج ؟”
” آدھہ گھنٹا ہوگیا واپس آئے “
وہ وہیں پر بیٹھ گئ
” کیسا ہوا ؟”
” ہوگیا ، ختم ہوئ ایم فل “
” خود کو ہی شوق چڑھ گیا تھا انٹرنیشنل ریلیشنز میں ایم فل کرنے کا ، کیا کروگی اب ؟”
” تو کیا گھر پہ بیٹھی رہتی ؟ امی نے جاب کرنے سے تو یوں منع کیا جیسے میں باہر جا کر مزدوری کرنے لگی تھی ، سکول میں ہی پڑھانا تھا “
وہ ویسی ہی تھی ، پرکشش چہرے سادہ انداز ، نرم دل ، نرم انداز اور ایک نئ چیز جو اس کی اندر آئ تھی ، سنجیدگی
” ضرورت نہیں تھی معطر ، بابا کی پینشن تھی اور اب میری بھی اچھی خاصی سیلری ہے “
وہ چپ کرگئ ، ڈھائ سال ہوگئے تھے ، زندگی کتنی بدل گئ تھی ، دانیال کی جاب لگ گئ ، مبشرہ یونیورسٹی ، عون کالج چلا گیا ، امی کو مزید بیماریوں نے گھیر لیا ، بیمار ہونے والے بابا کے جانے کا بھی یقین آ گیا اور ان سب میں ایک دل تھا جو آج بھی سامنے والے کمرے کی کرسی میں اٹکا تھا ، بابا کے جانے کے بعد روٹھ چکی خوشحالی واپس پلٹ آئ تھی ، لیکن وہ اپنے باپ کو کہاں سے لاتی ؟
” چچا نے کچھ کہا پھر سے ؟”
” کل پھر دھمکی دے رہے تھے کیس کی ، دو ڈھائ سال ہوگئے ہیں ابھی تک ان دونوں کے اندر کیس کی ہمت نہیں آئ “
” میں جانتی ہوں وہ کیس کبھی نہیں کریں گے “
” تمہیں اتنا یقین کیوں ہے ؟”
” کیونکہ تیمور صرف ہمیں تنگ کرنا چاہتا ہے “
وہ کہہ نا سکی اسے تنگ کرنا چاہتا ہے ، پتا نہیں چاہتا کیا تھا یہ انسان
” خیر …..کیس کر بھی دیں تو ہم دیکھ لیں گے ، امی کہاں ہیں ؟”
” نماز پڑھ رہی ہیں “
وہ سر ہلا کر اٹھتا اندر کی طرف بڑھ گیا ، تخت پہ دونوں جانب ہاتھ رکھتے معطر نے وہاں سے نظر آتے آسمان کو دیکھا
وہ ناواقف تھی کہ کسی کا بسیرا اس کے شہر کے مکاں بن گئے ہیں
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
چلتے چلتے وہ ایک بار پھر رکا ، رک کر اوپر نیچے دیکھا پھر سر جھٹکتے آگے بڑھا
” آپ بار بار رک کیوں جاتے ہیں ؟”
” میں دراصل لاہور کی قدیم عمارتوں کو دیکھ رہا ہوں”
وہ جیبوں میں ہاتھ ڈالے ہوئے تھا
” صرف مساجد ہی قدیم لگ رہی ہیں آپ کو ؟”
وہ مساجد تھوڑی دیکھ رہا تھا وہ تو کسی چوبارے والی کھڑکی کو دیکھ رہا تھا جس پر کسی چوڑیوں کی شیدائ لڑکی نے دھاگے سے ہر رنگ کی چوڑیاں کھڑکی پر باندھ رکھی تھیں
” واپسی پر نماز پڑھنی ہے مسجد میں ، اس لئے کوئ مسجد دیکھ رہا تھا “
کچھ جھوٹ سچ ملا کر اس نے بات ٹال دی ، نجیب بنا کچھ کہے اب ایک گھر کے سامنے رک رہا تھا ، تنگ سی گلیاں تھیں جہاں گاڑی نہیں آ سکتی تھی تو وہ یہاں تک پیدل آئے تھے ، دروازہ کھلا تو اندر سے نحیف بزرگ باہر نکلے ، رک کر ان دونوں کو دیکھا
” جی ؟”
” چچا میں نجیب سلیم ہوں اور یہ آدم کیان ، لندن سے آئے ہیں “
” کامل کے دوست ہو ؟”
ان کے چہرے پر یکدم روشنی سی پھوٹی تھی
” میں ایک صحافی ہوں ، کامل کے کیس کی تحقیقات کررہا ہوں “
اب کے وہ خود بولا تو بزرگ کے چہرے پر مایوسی ابھری
” اچھا اچھا ، آجاؤ اندر۔ “
” انہیں انگلش سمجھ آجاتی ہے ؟”
اس نے کچھ حیرانی سے نجیب کو دیکھا ، اتنے چھوٹے محلے میں وہ ایک بزرگ سے انگلش سمجھنے کی توقع نہیں رکھتا تھا
” اپنے زمانے میں انگلش میں ایم اے کیا تھا انہوں نے ، ساری معلومات اکٹھی کر رکھی ہیں میں نے “
وہ کچھ فخر سے بولا جیسے سامنے والا شخص اس کا خود کا باپ تھا ، آدمصرف سر ہلا دیا ، وہ دونوں اس سے پہلے کامل کی یونیورسٹی بھی گئے تھے ، لیکن صرف ڈین کے آفس جا کر اس کی تعلیمی کارکردگی اور سرگرمیوں کا پتا کرکے واپس آگئے تھے
بزرگ دونوں کو اندر بٹھاتے خود باہر چلے گئے، کچھ دیر بعد واپس آئے تو شربت اٹھا رکھا تھا
” گھر میں کوئ ہے نہیں ورنہ میں آپ کو کھانا ضرور کھلاتا “
” اس کی بھی ضرورت نہیں تھی ، مجھے صرف چند سوالات پوچھنے ہیں ، آپ بیٹھ جائیں پلیز “
اس نے گلاس تھاما تو وہ اس کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھے ، وہ غالباً بیٹھک تھی جہاں آمنے سامنے تین تین کرسیاں رکھی تھیں ، درمیان میں ٹیبل جس پر گلدان پڑا تھا
” کامل ٹھیک ہے نا ؟”
بے چینی ، باب کی شفقت ، فکر ، ہر شے ان کے لہجے میں گھل گئ
” وہ ٹھیک ہے ، اور اگر وہ بے قصور ہے تو میں وعدہ کرتا ہوں وہ باہر ضرور آئے گا “
” اس کا کوئ قصور نہیں ہے ، میرا بیٹا تو کسی کا برا بھی نہیں کرتا تھا ، تم پورے محلے سے پوچھ لو مجال ہے جو کسی کو اس سے شکایت ہو “
” وہ یہاں اتنا اچھا ہوگا انکل لیکن برطانیہ میں زرا مختلف ماحول ہے ، اس پر الزام ہے کہ وہ کچھ تنظمیوں کے ساتھ شدت پسند واقعات میں شریک رہا ہے ، گو برطانیہ میں اس طرح کا کوئی عمل اس نے نہیں کیا لیکن یہ الزام اس پر پاکستان میں ان تنظیموں کے ساتھ شمولیت کا کہہ کر لگایا گیا ہے ،۔ پولیس تحقیات کررہی ہے یا تو اسے سزا ہوجائے گی یا وہ ڈی پورٹ کردیا جائے گا ، دونوں صورتوں میں اس کے لئے مشکل کھڑی ہو جائے گی ، اس لئے میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے سب بتائیں اور سچ سچ بتائیں “
” میں سچ کہہ رہا ہوں ، پولیس نے اسے بلا وجہ گرفتار کیا ہے “
” بلاوجہ تو خیر نہیں کیا ، مقدمہ درج کیا گیا تھا ان دونوں پر چوری کا ، یہیں سے سارا معاملہ شروع ہوا تھا “
” میں نے اپنے بیٹے کو چوری اور دغا بازی نہیں سکھائ “
وہ آگے کو ہوا ، شربت کا گلاس میز پر رکھا
” میری بات غور سے سنیں انکل ، مجھے کامل کی ایک ایک بات بتائیں ، بچپن سے لے کر اب تک کی ہر بات ، اس کی کسی سے لڑائ ہوئ ہے تو وہ لڑائ بھی بتائیں “
” لڑتا تو نہیں تھا۔۔۔۔”
ان کی آواز بیٹھک میں گونجنے لگی ، بچپن سے لے کر اب تک کے اہم واقعات ، وہ خاموشی سے سنتا رہا ، ذہن مزید الجھ گیا ، اتنا ہی شفاف تھا تو پولیس نے کیوں گرفتار کیا تھا ؟یا کچھ تھا جو وہ مس کررہا تھا ؟ اس کے پاس صرف آٹھ دن کی چھٹی تھی ، ان آٹھ دنوں میں اسے یہ سارا معاملہ دیکھنا تھا ، معطر کو ڈھونڈنا تھا ، وہ مل جاتی تو اس سے بات کرنی تھی ، کئ افسانے چھیڑنے تھے اور یہاں وہ پہلے ہی قدم پر پھنس گیا تھا
” جتنا یہ بتا رہے ہیں اتنا شریف تو ہرگز نہیں ہوگا یہ کامل “
باہر نکلتے نجیب نے سب سے پہلے یہی تبصرہ کیا تھا
” ظاہر ہے وہ میرے سامنے اس کی برائ تھوڑی کریں گے “
” آپ کو دیکھ کر لگتا نہیں ہے کہ آپ مشہور اینکر پرسن آدم کیان ہیں “
” کیوں ؟”
وہ رکا ، دور کسی مسجد سے ظہر کی اذان کی آواز آرہی تھی ، یا شاید کہیں پاس سے ہی ، نماز پڑھ لیں یا واپس جائیں ؟
” زرا ایٹیٹیوڈ نہیں ہے آپ میں “
وہ سر جھٹک کر رہ گیا ، پھر آگے چلتے زرا کی زرا نظر اٹھا کر اردگرد دیکھا ، قدیم گلیوں والا محلہ ، چوبارے۔۔۔۔
” یونیورسٹی چلیں گے یا کہیں اور ؟”
اس نے رخ واپس موڑ لیا ، ( چوبارے ؟)
” واپس چلو سات دن ہی بچے ہیں میرے پاس ، آٹھ دن کی چھٹی لے کر آیا تھا”
” بڑے ظالم ہیں آپ کے آفس والے “
اس کے قدم واپسی کی طرف مڑ رہے تھے لیکن دل یہی کہیں اٹک گیا تھا ، کوئ تھا جو کہہ رہا تھا کہ اسے اس گلی کے آخری کونے تک جانا چاہئے ، وہ آگے چلتے نجیب سے پوچھنا چاہتا تھا کہ اس گلی میں کوئ مسجد تھی ؟ لیکن وہ تیزی سے آگے کی طرف جارہا تھا ، سات دن ، اس کے پاس صرف سات دن تھے !
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
کامل منظور کی زندگی گویا یونیورسٹی سے گھر اور گھر سے یونیورسٹی تک محدود تھی ، ان دونوں نے محلے میں بھی جانچ پڑتال کی ، اس کے دوستوں سے بھی پوچھا لیکن نا کچھ علم ہوسکا نا کوئ ایسی بات علم میں آسکی جس پر شک کیا جاسکے
” پرنسپل سے ملیں گے یا پروفیسر سے ؟”
یونیورسٹی کو اردگرد دیکھتے اس نے نظر گھما کر نجیب کو دیکھا
” دونوں سے نہیں ، مجھے اس کے کلاس فیلوز سے ملنا ہے”
وہ سیڑھیاں چڑھتے اوپر جارہے تھے ، کامل بی ایس فزکس کے پہلے سیمسٹر میں تھا جب اسے اسکالرشپ پر انگلینڈ بھیجا گیا تھا ، اسے گئے چوتھا ماہ تھا جب یہ سب ہوا
” تین ماہ پڑھا ہوگا یہاں ، کلاس فیلوز کتنا جان سکتے ہیں ؟”
” تین ماہ میں محبت تک ہوجایا کرتی ہے نجیب یہ تو دوسری ہے ، “
” ذاتی تجربہ…..کیپ پہن لیں ویسے ” وہ جو کچھ اور کہنے لگا تھا اس کی گھوری پر فوراً بات بدلی
” کیوں ؟”
” پہچان لئے جائیں گے ، نوجوانوں میں زیادہ مشہور ہیں آپ “
” چھوڑو ، یہاں کون جانتا ہوگا مجھے “
ہاتھ جھلاتے وہ ایک کلاس کے سامنے رکا تو اندر پڑھاتے پروفیسر لمحہ بھر کو رکے
” جی ؟”
” یہ۔۔۔”
” میں آدم کیان ہوں ، سٹوڈنٹس سے کچھ بات کرنی تھی ، پرنسپل سے اجازت لے کر یہاں آئے ہیں “
اس سے پہلے کہ نجیب اس کی شان میں زمین آسمان کے قلابے ملاتا اس نے خود ہی اپنا تعارف کروادیا ، پروفیسر نے سر ہلایا تو وہ دونوں اندر داخل ہوئے اور جیسے اندر بیٹھے سٹوڈنٹس کے منہ کھلے پھر یکدم کسی کونے سے ہوٹنگ کی آواز آئ ، وہ وہیں رک گیا ، ایک نظر نجیب کو دیکھا جو دانت نکال رہا تھا پھر گہری سانس لی
” السلام علیکم”
مسکراتے ہوئے ان سب کو دیکھا تو پوری کلاس یکدم کھڑی ہوئ اور استقبالیہ جملے کہنے لگی ، کسی نے ساتھ کھڑے پروفیسر کو بھی آ کر سرگوشی میں بتادیا تو وہ بھی کچھ الجھن اور تعجب میں اسے ڈائس پر آنے کی دعوت دینے لگے ، وہ گہری سانس لیتے ڈائس تک آیا پھر ہلکا سا مسکرایا
” میرا خیال ہے پاکستان میں مجھے اس طرح کا استقبال کہیں نہیں ملے گا “
” آپ ہمارے لئے آئیڈیل ہیں سر “
” ویلکم ٹو پاکستان”
” کچھ کہیں سر “
” کچھ سنائیں سر “
اس نے سر کو خم دیا پھر نجیب کو گھورا ، کہا بھی تھا اسے کہ علیحدہ میں لڑکوں کو بلا کر پوچھ لیں گے لیکن نہیں ، وہ کھیسا کر پہلے بینچ پر جا بیٹھا تھا
” میں تقریر کرنے میں بہت برا ہوں ، میرا خیال ہے آپ لوگ بور ہو جائیں گے”
” ہم بور ہو کر بھی خوشی سے سن لیں گے “
” لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مجھے تقریر کرنی نہیں آتی “
وہ کھنکارا
” جیسے شو میں بولتے ہیں ویسے ہی یہاں بھی بولنا شروع کردیں “
” آپ میں سے کوئ پھر میرے سامنے آ کر بیٹھ جائے “
اس نے کریم کلر کی شرٹ کے بازو موڑ رکھے تھے ، بال پیچھے کو جمے تھے ، وہ وہاں عام سے حلیے میں آیا تھا اور وہ عام سے حلیے میں بھی چھا جانے کی صلاحیت رکھتا تھا
” گو ہم ہار جائیں گے لیکن آپ سے ہارنا باعث فخر ہوگا”
کن اکھیوں سے اسے نظر آیا کہ کھڑے مجمعے میں سے ایک لڑکا آہستہ سے نیچے جھکا تھا ، اس کا ہاتھ گردن پر گیا تھا پھر سینے پر پھر وہ گہرے گہرے سانس لینے لگا
” تم ٹھیک ہو “
وہ جھٹکے سے وہاں سے ہٹتا اوپری رو تک پہنچا لڑکا تب تک سفید پڑتے چہرے کے ساتھ نیچے گر چکا تھا ، ساری کلاس جیسے یکدم بوکھلا کر ان کے اردگرد جمع ہوئ
” نجیب ایمبولینس کو کال کرو “
وہ چلاکر لڑکے کے ساتھ بیٹھا ، اس کی آنکھیں پھٹ رہی تھیں ، سانس اکھڑ رہی تھی ، وہ گھٹنوں کے بل اس کے سامنے بیٹھا اور اس کا گال تھپتایا
” سنو ،بچے گہری سانس لو ، زور سے “
وہ نہیں سن رہا تھا ، دو تین لڑکے اس کے پاس بیٹھے اس کا کاندھا ہلانے لگے
” کوئ ہے جو سی پی آر دینے میں مدد کرسکے ؟”
وہ چلایا ، پھر زور سے اس کے سینے پر ہاتھ مارا ، لڑکے کے سینے کو جھٹکا لگا لیکن وہ سانس نہیں لے رہا تھا
” سر ، میں ۔۔۔۔”
کوئ بوکھلایا سا آگے کو ہوا ، آدم اسے سنے بغیر اس کا سینا مسل رہا تھا ، دوسرا لڑکا اس کے ساتھ آیا اور اسے سی پی آر دینے لگا
” یہاں سے دور رہو سب ، گھٹن بڑھ جائے گی “
وہ اس کا سینے مسلتے ایک بار پھر زور سے چلایا ،کچھ نے سنا اور ہٹ گئے کچھ وہیں ٹھہرے رہے ، دو منٹ تک وہ اور دوسرا لڑکا اسے سی پی آر دیتے رہے اس کے ساتھ بیٹھے لڑکے نے اب کی بار کچھ زور سے اس کے سینے پر ایک ہاتھ رکھ کر مارا ، اس کی گویا سینے میں اٹکی سانس باہر آئ ، سفید پڑتا چہرہ سرخ ہوا پھر وہ کھانستے ہوئے ہلا ، آنکھیں اپنے مقام سے ہٹیں ، کوئ آگے بڑھا اور اسے سیدھا کیا ، چند دوسرے پروفیسر بھی کمرے میں آ گئے تھے ، آدم کا سینے میں دھڑکن چھوڑتا دل اپنے مقام پر واپس آیا ، ایک پل کو اسے لگا تھا کہ وہ بس مر ہی گیا ہے
” اسے ہاسپٹل لے کر جائیں”
اس نے سہارا دے کر لڑکے کو باہر لے جاتے پروفیسر اور دوسرے سٹوڈنٹس سے کہا پھر مڑتے اس لڑکے کو دیکھا جس نے اس کی مدد کی تھی
” تم باہر ملو مجھے “
اس کا ہلتا سر دیکھنے سے پہلے وہ مڑ کر پروفیسر کی طرف آیا جو اس کا شکریہ ادا کرتے کچھ کہہ رہے تھے ، دس منٹ ان کے ساتھ ٹھہرتے جب وہ واپس مڑنے لگا تو وہی لڑکا ان تک چلا آیا
” نام کیا ہے تمہارا ؟”
” شاہ رخ”
” بہادر ہو ، ورنہ ایک پل کو تو میں خود بوکھلا گیا تھا “
وہ کچھ جھینپ کر مسکرایا
” ہمیں ٹریننگ میں سکھایا گیا تھا یہ سب ، اندازہ نہیں تھا کہ ضرورت پڑے گی”
” گڈ ، علم ہونا چاہئے ان سب کا ، نجیب اس کی تصویر لے کر زرا شیئر کرنا اپنے پیج پر ، لوگوں کو سی پی آر کی اہمیت کا علم ہونا چاہئے “
” نجیب نے سر ہلاتے اسے سیدھا کھڑا کرتے دھڑا دھڑ دو چار تصویریں لیں
” کامل منظور کو جانتے ہو تم ؟”
” جی سر ، وہ میرا بہت اچھا نا صحیح لیکن دوست تھا “
” اس کی کوئ ایسی سرگرمی جو تمہیں مشکوک لگے ؟”
” نہیں سر ، اچھا لڑکا تھا ” وہ کچھ اور بھی کہہ رہا تھا ، وہ بے دلی سے سنتا رہا ، کیا اس نے یہاں آ کر غلطی کی تھی ؟ یہاں تو سب نارمل تھا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
دو دن تک اسے کچھ علم نا ہوسکا تو وہ دونوں دوبارہ سے کامل کے گھر چلے گئے ، اس کے پاس مزید صرف چار دن بچے تھے اور ان چار دنوں میں اسے معطر کو ڈھونڈنا تھا ، دروازہ اس بار کسی چھوٹے لڑکے نے کھولا تھا ، ان دونوں کو اندر کی طرف لے جاتے ہوئے راہداری سے گزرتے ہوئے وہ ایک تصویر کے سامنے رکا
وہ کامل کی تصویر تھی لیکن اکیلے نہیں تھی ، چند دوسرے لڑکے بھی تھے جنہوں نے سیاہ رنگ کا کوٹ پہن رکھا تھا
” آ جائیں آدم بھائ “
نجیب کی آواز پر وہ آگے بڑھ گیا لیکن دماغ میں وہ کوٹ اٹک سا گیا
” آج آپ لوگ کھانا کھائے بغیر نہیں جائیں گے”
منظور صاحب کئ پلیٹیں اٹھائے بیٹھک میں رکھتے یہ جملہ قریب دس بار بول چکے تھے
” تم لوگ کچھ زیادہ کھلاتے پلاتے نہیں ہو ؟”
اس نے جھک کر سرگوشی کی تو نجیب کا سینہ فخر سے کچھ چوڑا ہوا
” آپ کو علم نہیں ہم کتنے مہمان نواز لوگ ہیں ؟ “
اگر وہ نجیب کو نا جانتا ہوتا تو اسے معطر کا بھائ سمجھ لیتا ، اسی کی طرح ہر وقت اپنے ملک اور لاہور کی شان میں زمین آسمان کے قلابے ملاتا رہتا تھا
” باہر جو تصویر کامل کی چند لڑکوں کے ساتھ لگی ہے وہ کس چیز کی ہے ؟”
اس نے دو چار نوالے لینے کے بعد ہاتھ کھینچ لیا تھا ، بریانی البتہ اس نے پیٹ بھر کر کھائ تھی
” وہ ایک ٹریننگ کے سلسلے میں کشمیر گیا تھا ، اس کے ساتھ چند دوست بھی تھے ، دو ماہ کی ٹریننگ تھی ، ہنگامی حالات سے نبٹنے کے لئے ابتدائی تعلیم دی گئ تھی “
اس نے سر ہلادیا ، غالباً وہی ٹریننگ جس کا زکر اس کا دوست کررہا تھا ، نجیب کھانا کھانے اور وہ ان سے دوچار مزید معلومات لینے کا بعد واپس پلٹنے لگے تو وہ کافی حد تک بے زار لگ رہا تھا
” آپ کو لگتا ہے لاہور میں مزہ نہیں آرہا “
تنگ گلیوں سے ہوتے وہ مسجد کی طرف جارہے تھے ، ظہر کا وقت تھا تو نماز پڑھ کر پھر واپس جانے کا ارادہ تھا
” گھومنے تھوڑی آیا ہوں یہاں “
وہ اپنے قدموں کو دیکھ رہا تھا ، اسی لاہور کی کچھ گلیوں میں معطر صبا بھی رہتی تھی
” مجھے لگا تھا دو دن میں کام نبٹ جائے گا تو آپ کو لاہور گھماؤں گا ، بادشاہی مسجد ، داتا دربار ،مینار پاکستان ، اور بھی بہت سی جگہیں”
گلی نسبتاً کھلی تھی لیکن اتنی نہیں کہ وہاں گاڑی کھڑی کی جاسکتی ، اپنے قدموں کو گنتے اس نے سر اٹھا کر ساتھ چلتے نجیب کو دیکھا
” نجیب “
” جی “
” اگر ہمیں لاہور میں کسی کو ڈھونڈنا ہو تو سب سے بہتر طریقہ کیا ہے ؟”
” پوسٹ کردیں اپنے اکاؤنٹ پہ ، اگلا بندہ خود ہی آپ کے پاس آجائے گا “
” اوہوووں ۔۔ کوئ اور ؟”
” اخبار میں خبر دے دیں “
” کوئ مناسب طریقہ ؟”
” مساجد میں اعلان کروادیں “
” بہت اچھے “
اسے گھورا تو وہ گڑبڑایا
” اچھا یہ والا تھوڑا مشکل ہے لیکن نادرا سے رابطہ کیا جاسکتا ہے ، جسے ڈھونڈنا ہے اس کی تصویر اور نام دیں وہ آپ کو ڈھونڈ دیں گے لیکن عام لوگوں کے لئے یہ زرا مشکل ہے”
مسجد سے باہر جوتا اتارتے اس نے سوچا کہ یہ طریقہ بہتر تھا ، اس پر عمل کیا جا سکتا تھا
نماز پڑھنے دعا مانگنے کے بعد وہ کچھ دیر وہیں بیٹھا رہا ، لاہور میں سب سے اچھی چیز جو اسے لگی تھی وہ یہاں کی مساجد تھیں ، عجیب سکون ، عجیب نور جیسی فضا ، سر اٹھا کر اس نے مسجد کی چھت کو دیکھا ، انہیں مساجد میں سے کسی کے سامنے اس کا گھر تھا ، وہ لاہور کی سڑکوں پر چلتے ہوئے نظریں اردگرد رکھتا ، سڑکوں پر چلتی ہر گاڑی کو دیکھتا ، چوڑیوں والی ہر دکان پر رک کر اس نے اندر جھانکا تھا ، جانے وہ ایک لڑکی اتنے بڑے شہر میں کہاں تھی ، سر جھٹکتے اس نے جیب سے موبائل نکالا ، مارک کی کال آرہی تھی
” ہیلو “
دوسری جانب وہ کچھ کہہ رہا تھا ، جانے سگنلز کا مسئلہ تھا یا کیا لیکن اسے سنائ نہیں دے رہا تھا
” مارک ، آواز آرہی ہے تمہیں ؟”
وہ جگہ سے اٹھتا کچھ آگے ہوا ، پھر جھنجلا کر موبائل کو دیکھا
” ہیلو ؟”
ساتھ بیٹھا نجیب اٹھتے اس تک آیا
” آدم بھائ نیچے اِدھر سگنلز آج کل برے آرہے ہیں ، نیٹ ورک پرابلم چل رہی ہے ، آپ اوپر چھت پر چلے جائیں “
” اوپر کہاں سے جانا ہے ؟”
اس نے موبائل کان سے ہٹایا
” میں امام صاحب سے پوچھتا ہوں “
وہ نجیب کے ساتھ ہی امام صاحب کی طرف گیا ، مارک کی جانب سے کال کاٹ دی گئ تھی ، اس نے کچھ جھنجھلا کر واٹسپ کھولا
” ہم اوپر جانے نہیں دیتے کسی کو ، بے پردگی ہوتی ہے لیکن آپ خاص مہمان ہیں تو آپ چلے جائیں ، برآمدے کے سامنے پہلے ستون سے سیڑھیاں نکل رہی ہیں “
اس نے بے دھیانی سے بات سنتے سر ہلایا پھر شکریہ کہتے باہر کی طرف گیا ، سگنلز کو بھی آج ہی خراب ہونا تھا ، دوبارہ سے کال ملاتے پہلی سیڑھی چڑھتے وہ اوپر دیکھتے ایک ہاتھ جیب میں ڈالے چلنے لگا
” ہیلو ؟ مارک ؟”
آواز کٹ رہی تھی ، وہ کچھ تیزی سے اوپر کی طرف گیا
” آواز آرہی ہے ؟”
” اب آرہی ہے ، کہاں ہو تم ؟”
چھت پر پہنچتے اس نے کچھ سکون کا سانس لیا ہی تھا جب احساس ہوا یہاں گویا جہنم کی سی گرمی تھی
” کسی محلے میں ہوں ، یہاں نیٹ ورک کا مسئلہ آرہا ہے”
” صحیح ، کچھ علم ہوا ؟”
” ابھی تک تو نہیں “
اس نے ہاتھ بڑھا کا گریبان کا اوپری بٹن کھولا ، چھت مستطیل تھی ، اردگرد ڈھیروں گھر ، چھوٹی سی دیوار دے رکھی تھی ، وہ چلتے ہوئے دیوار تک گیا
” یہاں بھی سب کلیئر ہے ، کریم سیدھا سادہ انسان ہے ، میں واپس برطانیہ جارہا ہوں آج ، وہاں جا کر پولیس سے دوبارہ پوچھ تاچھ کروں گا ، اس دن انسپکٹر کسی سرٹیفکیٹ کی بات کررہا تھا جو میں دیکھ نہیں سکا “
” کون سا سرٹیفکیٹ ؟”
” یہ تو واپس جانے پر ہی معلوم ہوگا ، تم کب آرہے ہو ؟”
” دیکھوں گا ، یہاں کچھ نا ملا تو میں بھی واپس آرہا ہوں “
اففف یہ گرمی ، اس نے دوسرا بٹن بھی کھولا پھر سر اٹھا کر سورج کو گھورا ، گویا وہ اس کی گھوری سے ڈر کر تھوڑا ٹھنڈا ہوجائے گا
” دیکھ لو ،مجھے تو لگ رہا ہے ہم خواہ مخواہ وقت ضائع کررہے ہیں ، پولیس یوں ہی تھوڑی گرفتار کرتی ہے “
” تم نوٹ کرو مارک ، یہاں کے ریکارڈ کے مطابق کامل بالکل سادہ سا لڑکا ہے ، لوگوں کی مدد کرنے والا ، بلکہ اس نے……”
اس کے باقی الفاظ زبان پہ رہ گئے ، زہن میں کچھ کلک ہوا
” تم کس سرٹیفیکیٹ کی بات کررہے ہو ؟”
رک کر اس سے پوچھا
” انسپکٹر نے بتایا تھا ایک سرٹیفیکیٹ کا ، معاملہ شاید اسی کی وجہ سے خراب ہوا تھا “
اور تب اسے وہ مخصوص رنگ کا کوٹ یاد آیا ، اس لڑکے کا کسی ٹریننگ کا زکر
” تم ایسا کرو فوراً واپس پہنچو اور مجھے اس سرٹیفکیٹ سے متعلق سب کچھ معلوم کرکے بتاؤ “
وہ تیزی سے بولا پھر ہاتھ دوبارہ گلے کی طرف لے جاتے سرسری سی نظر اردگرد ڈالی ،یوں ہی خواہ مخواہ کی نظر جیسے کوئ دیکھنا چاہتا ہے کہ اس کے اردگرد کا منظر کیسا ہے ، وہ جس جگہ کھڑا ہے وہ جگہ کون سی ہے ، وہ جس مقام پر ہے وہ مقام کون سا ہے ، اس کے سامنے کیا ہے
اس کا گریبان کی طرف بڑھتا ہاتھ نیچے آ گرا ، اس کے سامنے چوبارہ تھا ، اس چوبارے سے نظر آتی کھڑکی کا پٹ کھلا تھا ، کھلی کھڑکی کی ایک طرف کسی نے دھاگہ باندھ رکھا تھا ، رنگ برنگی چوڑیاں جو دھاگے سے بندھی دوسری کھڑکی تک جارہی تھیں ، وہ رنگ کھو چکی تھیں ، سامنے نظر آتا دوسرے دیس کا باسی الفاظ کھو چکا تھا ، اسے نا مارک کی آواز آرہی تھی نا کسی گرمی کا احساس ہورہا تھا ،نظریں صرف سامنے جمی تھیں جہاں کسی مشرق کی لڑکی کی چوڑیاں لٹکی تھیں
“اور اگر تم لاہور آؤ تو کوئ ایسی کھڑکی ڈھونڈنا “
تو وہ جس نے وہ کھڑکی ڈھونڈ لی تھی اس نے اس چھت پر کھڑے کھڑے اپنا آپ کھو دیا تھا ، گلے میں گلٹی ابھری ، وہ بے ساختہ دو قدم آگے کو ہوا ، پھر دیوار پر ہاتھ رکھا ، وہ گرم تھی اور بے انتہا تھی ، اس کا جسم گرمی کو فلوقت محسوس کرنے سے قاصر تھا ، سورج نیچے کی طرف جارہا تھا لیکن آج نا ہوا تھی نا بادل ، اسے لاہور سے ایک شکوہ تھا ، خوبصورت لاہور اس قدر گرم مزاج کیوں تھا ؟
اسے لاہور کی معطر صبا سے بھی ایک شکوہ تھا ، وہ آئ تھی تو رابطے توڑ کر کیوں آئ تھی ؟
مارک موبائل کے پار سے کچھ کہہ رہا تھا ، اس کا ہاتھ پھر سے کان پر گیا
” مارک ۔۔۔”
” کہاں چلے گئے تھے ؟”
” یہیں کہیں۔۔۔”
وہ سامنے دیکھ رہا تھا ، سامنے کے کمرے کی مکین وہاں نہیں تھی ، جانے وہ اس گھر میں بھی تھی یا نہیں ، جانے وہ اب اس کی زندگی میں بھی تھی یا نہیں
” تم سن رہے ہو مجھے ؟”
وہ مسلسل بول رہا تھا ، وہ مسلسل خاموش تھا
” میں بعد میں ۔۔۔ بعد میں بات کرتا ہوں “
اس نے بنا کچھ سنے کال کاٹ دی ، وہ اس جگہ آج تیسری بار آیا تھا ، وہ جس لڑکی کو پورے لاہور میں ڈھونڈتا رہا تھا وہ اس جگہ کی مکین تھی ؟ اس کے حلق میں کانٹے اگے ، آنکھیں بند کرتے اس نے سر جھٹکا ،پھر آنکھیں کھولیں ، پھر ہاتھ سر پر پھیرا ، نظر کھڑکی پر گئ ، اس نے پھر سے آنکھیں بند کرتے کھولیں
” معطر…”
لبوں سے سرگوشی نکلی ، کاش وہ سن پاتی ، کاش وہ کسی قاصد سے کہہ کر اس تک پیغام پہنچا پاتا ، کاش یہ ممکن ہوتا
” آدم بھائ ….”
وہ چونکا ، نجیب پیچھے سے اس کی طرف آرہا تھا
” یہاں کیوں ٹھہرے ہیں ؟”
وہ منجمد ہوگیا تھا ، کسی نے قدم بھی چھین لئے تھے ، چلنے کی طاقت بھی
” یہ ۔۔۔ یہ گھر کس کا ہے نجیب ؟”
نجیب کی نظر سامنے گئ
” معلوم نہیں ،، پتا کروادوں ؟” اس کا سر ہلا ، وہ نا اس جگہ سے نظریں ہٹا رہا تھا نا اس جگہ سے ہل رہا تھا ، آنکھیں وہیں جمی تھیں ، دل بھی وہیں اٹکا تھا
” آپ پہلے نیچے تو چلیں ، دیکھیں آپ کی شرٹ پسینے سے گیلی ہوگئ ہے “
اسے پہلی بار احساس ہوا کہ وہاں گرمی تھی ، پہلی بار سامنے والے کمرے کے علاوہ کسی چیز کا احساس ہوا ، سر جھٹکتے وہ وہاں سے ہٹا
” مجھے شام تک ڈیٹیل لادو اس گھر سے متلعق”
وہ اب بھی وہیں دیکھ رہا تھا ، معطر صبا صرف ایک بار نظر آجائے ، صرف ایک بار ، حبس زدہ ماحول میں ہلکی سی ہوا چلی ، وہ گرمی مٹانے کو ناکافی تھی لیکن اس ہوا سے کانچ کی چوڑیاں ہلنے لگیں
” کامل کا تعلق ہے اس گھر سے ؟”
نجیب ٹھٹکا
” نہیں …..”
اس گھر سے کسی اور کا تعلق تھا ، اس گھر سے اس کا خود کا دل جڑا تھا ، گلے میں ابھرتی گلٹی ، چہرے پر پھیلتی بے چینی ، دماغ میں چلتے جھکڑ ، وہ آہستہ سے پیچھے ہوا ، نجیب کچھ کہہ رہا تھا ، وہ صرف اس ساز کو سن رہا تھا جو چوڑیوں کے آپس میں ٹکرانے سے پیدا ہوا تھا ، نجیب آگے تھا ، وہ سیڑھیوں کے پاس رکا ، یہاں سے چوڑیاں نظر نہیں آتی تھیں
اسے یقین تھا معطر صبا یہیں کی رہنے والی تھی
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
