192.3K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Laa (Episode 22)

Laa By Fatima Noor

” میں تم سے محبت کرتا ہوں معطر”

وہ اس کے سامنے ٹھہرا کہہ رہا تھا ،معطر کا سر نفی میں ہلا

” تم مزاق کررہے ہو “

” یہ حقیقت ہے ، میں اس حقیقت کے ساتھ جی رہا ہوں “

” تم جھوٹ بول رہے ہو ایرک”

” یہ سچ ہے ، میں اس سچ کے ساتھ زندہ ہوں “

” تم مجھے تنگ کررہے ہو ، تم یقیناً مجھے تنگ کررہے ہو “

” تنگ تو تم مجھے کررہی ہو ۔۔۔۔ میرے دل کو “

وہ جیبوں میں ہاتھ ڈالے اس کے سامنے آ ٹھہرا تھا ،معطر کو نظریں اٹھا کر اسے دیکھنا پڑ رہا تھا

” سنان جیسی باتیں مت کرو “

وہ چٹخی ، مٹی کا ڈھیر ہوئ ، خاک برابر ، راکھ برابر

” میں وہ غلطی نہیں کرنا چاہتا جو اس نے کی “

وہ دو قدم مزید پیچھے ہوئ ، اس کا دماغ ماؤف ہورہا تھا

” یہ مت کہو۔۔۔”

” میں صرف سچ بول رہا ہوں “

اس نے محتاط انداز میں معطر کو دیکھا , وہ ابھی تھپڑ مارے گی ابھی

” تم میرا دماغ ماؤف کررہے ہو ، دیکھو کہہ دو یہ مزاق ہے ، کہہ دو یہ مزاق ہے”

وہ روگ تھا ، وہ اس روگ سے گزر چکی تھی

” میں زندگی میں اس سے زیادہ سنجیدہ کبھی نہیں ہوا “

” وہ دو قدم آگے کو ہوا

” نہیں۔۔۔۔ تم غلط کہہ رہے ہو “

” تمہیں اتنی حیرت کیوں ہورہی ہے ؟ یہ کوئ انوکھی بات تو نہیں “

معطر ابھی تک بے یقینی سے نفی میں سر ہلا رہی تھی

” تم مزاق کررہے ہو ، تم کل آ کر کہو گے کہ یہ مزاق تھا “

” وہ کل کبھی نہیں آئے گا “

اس کا لہجہ چٹان جیسا تھا ، آنکھیں پتھر جیسی ، وہ یقین نہیں کرسکتی تھی ، وہ یقین نہیں کرنا چاہتی تھی ، یہ وہ کیا کہہ رہا تھا ؟

” تم سمجھ نہیں رہے ایرک “

” میں اپنی بات دوبارہ دہرا دیتا ہوں تاکہ تمہیں سمجھنے میں آسانی ہو ۔۔۔۔” وہ عین اس کے سامنے آ رکا ، بالکل سامنے ” میں۔۔۔ تم سے ۔۔۔محبت کرتا ہوں۔۔۔۔ معطر صبا”

” چپ کرجاو ایرک ” وہ ضبط کھوتی چلائ ” تمہیں مذاق لگتا ہے ؟ مزاق لگتا ہے تمہیں “

” میں سنجیدہ ہوں “

” تم سے زیادہ غیر سنجیدہ انسان میں نے آج تک نہیں دیکھا ، محبت لفظ سے واقف بھی ہو ؟ جس لڑکی سے نفرت کا دعویٰ تھا اس کے سامنے کھڑے ہو کر کہتے ہو کہ تم سے محبت کرتا ہوں “

” میں نے کبھی نہیں کہا کہ میں تم سے نفرت کرتا ہوں “

” تمہارا عمل یہ بتانے کے لئے کافی تھا ، تم نے کبھی میرا بھلا نہیں چاہا اب اٹھ کر محبت کا دعویٰ کس ہمت سے کرتے ہو ؟”

تو کیا وہ بھول گئی تھی کہ طوفان جیسی بارش والی رات وہ اس کے لئے آیا تھا ؟ تیمور حیدر کے لئے اس کی مدد کی تھی ؟ وہ بھول گئ تھی کہ برستی بارش میں چھاتا تانے اسے بارش سے وہ بچایا کرتا تھا ؟ وہ بھول گئ تھی کہ وہ بولنے والا اسے دیکھتے الفاظ کھو دیتا تھا ، سننے والا اسے سنتے ہر منظر بھول جاتا تھا

” وہ پرانی باتیں ہیں “

اس نے زندگی میں اس سے زیادہ وضاحت کسی کو نہیں دی تھی

” صدیوں پہلے کا قصہ نہیں ہے ایرک کیان ، چند ماہ پہلے کی بات ہے ، ان چند ماہ میں جو ہوا اس کے بعد کیسے محبت کا دعویٰ کرسکتے ہو تم ؟”

” اگر تم سنان کی محبت پر یقین کرسکتی ہو تو میری محبت پر کیوں نہیں ؟”

اسے احساس ہوا وہ واقعی الفاظ کھو رہا تھا ، اتنی بے بسی ؟

” اس کے ساتھ خود کو مت ملاؤ ، تم خود کا مقابلہ اس سے کیوں کرتے ہو ؟ “

وہ بھڑکی ، ماتھا سلگ اٹھا ، وجود کانپنے لگا

” میں مقابلہ نہیں موازنہ کرتا رہا ہوں ۔۔۔ تم یوں کیوں رئیکٹ کررہی ہو جیسے یہ کوئ انہونی ہو ؟”

وہ اب بھی تحمل سے کہہ رہا تھا ، وہ باتیں منہ پر مارنے کا عادی تھا اور اب اسے الفاظ ڈھونڈنے میں دقت ہورہی تھی ، وہ واقعی الفاظ کھو رہا تھا

” میرے لئے ہے ۔۔۔ مجھ سے مت کہو کہ یہ محبت ہے ، میں نا تم پر یقین کرنا چاہتی ہوں ، نا کرسکتی ہوں “

وہ غصے سے کہتی مڑی ، ایرک تیزی سے اس کے سامنے آیا

” تم وقت لے سکتی ہو “

” میں سات صدیوں بعد بھی تمہارے الفاظ پر یقین نا کروں “

” میں بہت سے جھوٹ کہتا رہا ہوں لیکن اس سے بڑا سچ میرے پاس کبھی موجود نہیں رہا “

” اس سچ کو آگ میں جھونکو اور راکھ میں تبدیل کردو ،میرے راستے سے ہٹو “

” معطر ۔۔۔۔”

وہ بے بسی سے اسے دیکھ کر رہ گیا

” تم میرے نزدیک جو تھے وہ مقام کھو چکے ہو ایرک۔۔۔ میں اس بار کہتی ہوں کہ میرے راستے میں مت آنا تو مت آنا ، مجھ سے اجنبی بن کر ملنا تو دور ملنا ہی مت ، اس بار تم اپنے حافظے سے ہی مٹا دو کہ تم لاھور کی کسی معطر صبا کو جانتے ہو “

وہ ایک بار پھر اس کے سامنے سے جانے لگی ایرک ایک بار پھر درمیان میں آیا

” تم غلط کررہی ہو …ایک بار سن تو لو “

” میں نے کہا میرے راستے سے ہٹ جاؤ ایرک “

وہ پھنکاری ۔۔۔ یہ ضبط کی انتہا تھی ، صبر کا اختتام تھا

” معطر ۔۔۔۔۔”

” تمہارے لئے مر گئ معطر “

غصے سے کھولتے وہ پیچھے کی طرف مڑی ، ایرک کو اس کے پیچھے جانا تھا لیکن وہ جانتا تھا وہ غصے میں تھی ، وہ پیچھے جاتا تو اس کا غصہ مزید بڑھتا ، وہ شخص جو الفاظوں کے ساتھ کھیلنے میں ماہر تھا اسے ایک مشرقی لڑکی چپ کرا گئ تھی ، وہ نا واقف تھا کہ مشرق میں محبت کو روگ کہا جاتا ہے

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

وہ اگلے تین دن کیفے کے باہر آتا وہ اگلے تین دن کاٹ دار نظر اس پر ڈال کر آگے بڑھ جاتی ، وہ اپنے دل کا حال سنانا چاہتا تھا ، وہ ایسی سماعت کھو چکی تھی ، نا اب محبت قابلِ اعتبار رہی تھی نا ایرک کیان کی محبت قابلِ اعتبار تھی

اس نے تیمور کی محبت پر یقین کیا تھا ، دل برباد ہوا

اس نے تیمور سے محبت کی ، دل راکھ ہوا

سنان سعدی کو اس سے محبت تھی ۔۔۔ دل زخمی تھا

اور ایرک ؟ صدمہ تھا تو یہ تھا کہ وہ ایسا سوچتا تھا ؟ دکھ تھا تو یہ تھا کہ وہ اس کی سوچ سے ناواقف تھی ؟ اس قدر بے خبری ؟ اسے تیمور حیدر کے بتانے پر معلوم ہوا وہ محبت کا کہتا تھا تو کرتا ہوگا ، اسے سنان کی ڈائری پڑھ کر علم ہوا وہ محبت لکھتا تھا تو کرتا ہوگا

اسے ایرک کیان کے لئے نا یہ سوچنا پڑا نا یہ خیال وہ سوچ سکتی تھی۔۔۔یہ کیسے ممکن تھا ؟ وہ ساری حقیقتیں بھول کر کس خواب میں جی رہا تھا ؟ وہ سارے خواب بھلا کر کس طرف جارہا تھا ؟ وہ شخص دماغ کھو بیٹھا تھا ؟

وہ شخص دل کھو بیٹھا تھا

وہ اسے شروع سے تنگ نا کرچکا ہوتا تو ممکن تھا وہ یقین کرلیتی ، ممکن تھا وہ اس کی صداقت پر ایمان لے آتی ، وہ اب پچھتاتا تھا ، اسے یہ پچھتاوا قبول تھا بس معطر ایک بار مان جائے ۔۔۔۔ کیا ؟ وہ یہ نہیں جانتا تھا

اس نے مستقبل کا نہیں سوچا تھا ، وہ حال میں جینے والا انسان تھا ، مستقبل کا سوچنے والا ہوتا تو رک کر سوچتا کہ اب کیا ؟ وہ اس کی محبت پر یقین کرتی پھر ؟ پھر کے بعد کیا ؟

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

گلی کے نکڑ پر سیاہ گاڑی کی کھڑکی پر کہنی ٹکائے نظر گلی میں نظر آتے چوتھے مکان پر جمائے وہ کچھ سوچ رہا تھا ، چہرہ پرسکون تھا اور آنکھیں ؟ ان میں سب خاک کرنے کی چاہ تھی ، سب راکھ میں بدلنے کا عزم ، گاڑی کا دروازہ کھولتے وہ باہر نکلا، اس کی سیاہ بڑی گاڑی اس چھوٹی گلی میں نہیں جا سکتی تھی ، وہ جب بھی وہاں آیا تھا گاڑی باہر کھڑی کرکے آیا تھا

اور وہ وقت جب اس گلی کے چکر لگانے کو وہ بے تاب رہتا تھا ،نگاہیں دروازے کی اوٹ سے جھانکتے آنچل میں اٹکی رہتی تھیں ، وہ نظر بچا کر چوری چوری اسے دیکھا کرتا ، وہ اس کے سامنے آنے پر دبا سا مسکراتی ،یہ سب اب خواب جیسا تھا ، وہ اب حقیقت میں جی رہا تھا ، اور حقیقت یہ تھی کہ معطر صبا اس کی زندگی کا حصہ نہیں تھی

پچھلے ایک مہینے سے جس شخص کا ایڈریس وہ سنبھالے ہوئے تھا اس کے آفس جانے پر ۔ آفس میں وہ قیامت جیسا راز علم ہونے پر جو دل کا حال ہوا تھا وہ اس حال کو کیسے سنبھالتا ؟

” مجھے شایان نے کہا تھا خبر چلانے کو اور اسے اس کے دوست نے “

” کون سا دوست ؟”

گن اس کے سامنے رکھے کروفر سے بیٹھے تیمور نے درشتی سے پوچھا

” ایرک کیان “

یہ کون تھا ؟ کاظم علی اب اپنی جیب سے موبائل نکال رہا تھا ، کوئ تصویر کھولتے اس کے سامنے موبائل رکھا تو تیمور نے آنکھیں سکیڑ کر اس شخص کو دیکھا جو شایان کے ساتھ ٹھہرے لڑکے کے کاندھے پر ہاتھ جمائے ہوئے تھا ، آنکھیں چمک رہی تھیں ،لبوں پہ شرارت بھری مسکان تھی ، کاظم اس کی طرف اشارہ نا بھی کرتا تب بھی تیمور حیدر ایک بار اس انسان کو ضرور دیکھتا جو ان سب میں نمایاں لگ رہا تھا

” یہ ایرک ہے ، شایان کے ساتھ سٹی یونیورسٹی آف لندن میں پڑھتا ہے “

تعارف کی ضرورت نہیں تھی ، اسے لمحے کے ہزارویں حصے میں وہ شخص یاد آیا تھا

” Don’t you dare…..”

سخت آنکھیں ، سخت چہرہ ، معطر کے لئے اس کے سامنے کھڑا ہونے والا ایرک

باقی کی کہانی جیسے کسی نے اس کے سامنے تاش کے پتوں کی صورت بکھیر دی ، کاظم کے گھر سے اس گلی کا سفر اس نے بے یقینی میں طے کیا تھا ، یہ سب سچ تھا ؟ معطر ایسا بھی کرسکتی تھی ؟ وہ عورت کسی زمانے میں اس سے محبت کی دعوے دار تھی ، وہ اسے یوں پوری دنیا میں بدنام کرسکتی تھی ؟

دروازہ کھلا تو وہ مسکرایا ، اس مسکراہٹ میں کچھ عجیب سا تھا

” السلام علیکم ۔۔۔کیسے ہیں ماموں ؟”

افتخار صاحب اسے دیکھ کر ٹھٹکے

” یہاں کیوں آئے ہو ؟”

” کسی عالم سے سنا تھا سلام کا جواب دینا واجب ہے ، کیوں گناہ کمارہے ہیں ؟”

وہ ہنوز مسکرا رہا تھا

” کیوں آئے ہو تیمور ؟”

” اب آپ یہ سوال بھی کریں گے ؟ ایک وقت تھا جب میں بنا اجازت اس گھر میں آیا کرتا تھا “

” وہ وقت گزر چکا “

” جس عورت کے حوالے سے وہ وقت آیا تھا وہ حوالہ مجھ سے جدا ہوگیا ہے ، آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں ؟”

” اسے بیچ میں مت لاؤ “

” میں آج اسے بیچ میں لا کر ہی بات کرنے آیا ہوں ، چائے بنانے کا تکلف مت کیجئے گا میں جانتا ہوں گھر پر کوئ نہیں ہے ، آپ کے بچے پڑھنے اور ممانی چھوٹے ماموں کے نئے گھر گئ ہوئ ہیں “

وہ جیبوں میں ہاتھ ڈالے ان کے پاس سے گزرتے ہوئے صحن میں آیا ، دروازے کے سامنے برآمدے تک اینٹوں کی روش بنائ گئی تھی ، دائیں بائیں طرف چھوٹا سا صحن تھا جس میں چند درخت لگا رکھے تھے ، سامنے برآمدہ ، وہ چلتے ہوئے برآمدے تک آیا

” کس لئے آئے ہو ؟”

افتخار صاحب سختی سے اسے دیکھتے اس کے پیچھے آئے

” آپ نے مرمت نہیں کروائ گھر کی ؟”

وہ اردگرد دیکھ رہا تھا ،چہرے پر اب کوئ تاثر نہیں تھا

” تم میرے گھر کی حالت پر غور کرنے نہیں آئے تیمور “

” گھر کافی پرانا ہے ویسے ۔۔ امی نے بتایا تھا کہ نانا اسی گھر میں رہتے تھے پھر مرنے سے پہلے جائیداد تقسیم کی تو آپ کو یہ گھر دے دیا ، حالانکہ چھوٹے ماموں اور امی کا بھی حصہ تھا اس میں لیکن خیر۔۔۔۔۔۔ ناٹ بیڈ ویسے ۔۔۔قدیم لگتا ہے لیکن قدیم چیزوں کا آج کل رواج نہیں ہے “

وہ یوں تبصرہ کررہا تھا جیسے اس گھر کو پہلی بار دیکھ رہا ہو

” کس لئے آئے ہو ؟”

وہ ضبط سے اسے دیکھ رہے تھے

” میرا مشورہ ہے اسے تڑوا کر ۔۔۔۔”

” اپنا مشورہ اپنے پاس رکھو اور بتاؤ کیوں آئے ہو ” تیمور کی چلتی زبان رکی ، چند لمحے وہ انہیں دیکھتا رہا پھر ان تک آیا

” آپ کو کبھی افسوس ہوا ہے ماموں جو آپ نے ہمارے ساتھ کیا ؟”

” تو کیا تم بھی اب اپنی ماں کی طرح مجھ سے حساب مانگو گے ؟ یہ گھر ابا جی نے سب کی مرضی سے مجھے دیا تھا ، تمہاری ماں اور حسن نے اپنی مرضی سے مجھ سے گھر کے عوض پیسے لئے تھے ، یہ گھر ۔۔۔۔۔”

” آپ کو کبھی میرے اور معطر کے ساتھ برا کرنے پر افسوس ہوا ہے ماموں ؟”

افتخار صاحب چپ ہوئے پھر ماتھے پر بل پڑے

” کیا کہنا چاہتے ہو ؟”

” آپ کو کبھی افسوس ہوا ماموں کہ میں اور معطر جدا ہوئے اور اس کی وجہ آپ تھے “

” وہ تمہاری بزدلی تھی “

” وہ آپ کی بیماری تھی ۔۔۔ اس کے پاس صرف ایک بہانہ تھا۔۔۔میرا باپ ۔۔میرا باپ ۔۔۔میرا باپ ۔۔۔ باپ مرجایا کرتے ہیں میرا بھی مرا تھا ۔۔۔۔ آپ انوکھے تو نہیں تھے جو مرتے “

افتخار صاحب کا چہرہ سرخ ہوا

” تم یہاں ۔۔۔۔”

تیمور نے ان کی بات کاٹ دی

” میں یہاں آپ کو بتانے آیا ہوں کہ ہم دونوں کے الگ ہونے کے زمہ دار آپ ہیں۔۔۔ اس نے مجھے چھوڑا کیونکہ وہ آپ کو نہیں چھوڑنا چاہتی تھی ، اس نے مجھے کھوجانے دیا کیونکہ وہ آپ کو چن رہی تھی ، آپ نے ہم دونوں کا نقصان کیا ہے ماموں ، آپ ہم دونوں کی کہانی کے ولن ہیں “

” تیمور ۔۔۔۔”

وہ سختی سے کچھ کہنے لگے جب تیمور نے ایک بار پھر ان کی بات کاٹی

” آپ نا ہوتے تو وہ مجھے چنتی ، آپ نا ہوتے تو ہم دونوں کے بیچ برے دن نا آتے ، آپ ہمارے اچھے دن کھا گئے “

” میری بیٹی کا زکر مت کرو “

” آپ کی بیٹی میری بھی کچھ لگتی تھی ، وہی بیٹی جس نے مجھے پوری دنیا میں ذلیل کیا ، تو آج سنیں ، میں ایک زہر آپ کے اندر بھی اتارنا چاہتا ہوں “

” اس پر الزام مت لگاؤ “

” اس پر نہیں آپ پر الزام لگا رہا ہوں ، آپ اس قابل نہیں تھے کہ وہ آپ کی بیٹی ہوتی “

افتخار صاحب تھک کر کرسی پر بیٹھے ، تیمور ان کے سامنے چل رہا تھا ، اس کا چہرہ اب عجیب لگ رہا تھا

” میں آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گا ، جانتے ہیں سب سے زیادہ نفرت بچپن سے آپ سے کی ہے ، آپ کی ماں کی وجہ سے میری نانی نے تکلیفیں دیکھیں پھر میری ماں نے پھر میں نے ، آپ سے نفرت کو میں خود پر واجب سمجھتا رہا ہوں عجیب ہے نا کہ آپ کی ہی بیٹی سے مجھے محبت ہوئ ، وہ کہتی ہے وہ محبت نہیں تھی ، میں آپ کو ایک بات بتاؤ ؟”

وہ چلتے چلتے یکدم ان کے سامنے رکا ، افتخار صاحب گہری سانسیں لے رہے تھے

” وہ محبت تھی ، عجیب تھی لیکن محبت تھی ، میں چاہتا تھا وہ آپ کا زکر نا کرے وہ اتنا ہی آپ کا نام لیتی تھی ، میں چاہتا تھا وہ شادی کے لئے ہاں کردے میں ساری زندگی اسے آپ سے ملنے کے لئے تڑپاتا ، وہ میری ضد زیادہ تھی لیکن محبت بھی تھی اور وہ کہتی ہے محبت نہیں تھی ؟ میں آج بھی ، آج بھی منتظر ہوں ، مجھے آج بھی موقع ملے تو میں اسے اپناؤں گا ، وہ میرے لئے پہلے جیسی نہیں رہی لیکن میں آج بھی اسے چن لوں گا “

” چپ کرجاؤ تیمور “

ان کا سانس اکھڑنے لگا تھا لیکن تیمور حیدر کی زبان آج چپ ہونے والی نہیں تھی ، وہ اپنے اندر کا طیش ان پر نکال رہا تھا

” میں نے اسے لندن میں دیکھا تھا، وہ بدل گئ تھی لیکن وہ مجھ سے محبت کرتی تھی ، میں نے چاہا ہم ایک بار پھر شروع سے شروع کرتے ہیں اس نے مجھے ایک بار پھر چھوڑ دیا ۔۔۔مجھے ؟ جس سے وہ محبت کرتی تھی ؟ ؟ ایسے کیسے ماموں ؟ میری عزت نفس میری انا کا کیا ؟ وہ خود وہاں مردوں ۔۔۔۔”

” دفع ہو جاؤ یہاں سے “

ان سے مزید نہیں سنا جائے گا ،مزید نہیں

” سنیں ۔۔۔ اب سنیں۔۔۔ یہ سنان جس کی خبر چلی ہے کچھ دن پہلے یہی وہ آدمی تھا جس سے آپ کی بیٹی لندن میں معاشقے لڑا رہی تھی ، اور وہ ایرک ؟ وہ اس کے لئے میرے سامنے کھڑا تھا ، آپ کی بیٹی کا کردار تو بہت صاف نکلا نا جو وہ مجھ پر الزام لگا رہی تھی “

اس نے تالیاں بجائیں

” میرے۔۔۔۔ میرے گھر۔۔۔۔سے نکل جاؤ “

ان کی آواز پھنس گئ ، ہاتھ اٹھا کر دروازے کی طرف اشارہ کیا

” اتنی جلدی آپ کی بس ہوگئ ؟ اور میرا کیا ؟ چار سال دیئے تھے اسے میں نے ، چار سال ، وہ چند لمحوں کا قصہ نہیں تھا ، سالوں کا تھا ، آپ کو علم ہے مجھے آپ سے کتنی نفرت ہوگئ اس کے بعد ؟ آپ کو علم ہوتا تو اس نفرت کے زہر سے آپ مر جاتے “

وہ پھنکارا ، طیش سے چہرہ سرخ پڑ رہا تھا

” چپ کرجاؤ تیمور ۔۔۔۔”

” میں چپ نہیں کروں گا ، آپ کو علم ہونا چاہئے وہ اگر دوسرے ملک دھکے کھارہی ہے تو آپ کی وجہ سے ، وہ میرے گھر جاتی تو میری گھر کی ملکہ بنتی ، وہ اس ملک میں اب دو دو ٹکے کے انگریزوں کو کافیاں پیش کرتی ہے ، ان کی باتیں سنتی ہے ، آپ جا کر اس کا حال دیکھیں اور اس پر رحم کریں ، رحم کریں ماموں کیونکہ اس کی اس حالت کے ذمہ دار آپ ہیں ، آپ کی غیرت کیسے گوارا کرتی ہے کہ اپنی بیٹی کی کمائی کھائیں ؟ “

وہ ان کے سامنے ٹھہرا تھا ، بالکل عین سامنے ، انگلی اٹھا کر انہیں بتاتا ہوا ، طیش سے جتاتا ہوا ، افتخار صاحب کا چہرہ خطرناک حد تک سرخ پڑ چکا تھا لیکن تیمور کو رحم نہیں آیا

” تم ۔۔۔ تم غلط ہو تیمور “

انہوں نے پھولتی سانسوں سے کچھ کہنا چاہا ، خود کو احساس جرم سے نکالنے کی کوشش

” آپ کو خود بھی علم ہے کون کتنا غلط ہے ، اس نے اپنی زندگی آپ کے لئے تباہ کی ہے ، اس گھر کے لئے وہ مرد بن کر کمارہی ہے اور آپ یہاں آرام کررہے ہیں ، واہ آپ کی مردانگی پر ، مجھے افسوس ہے کہ وہ آپ کی بیٹی ہے ۔۔۔۔۔” جھک کر ان کا چہرہ دیکھا۔۔۔۔” مجھے معطر کے لیے افسوس ہے “

وہ سیدھا ہوا ، کاندھے سے نادیدہ گرد جھاڑی پھر آخری نظر ان پر ڈالتے پیچھے کی طرف مڑا ، اس کے چہرے پر اب سکون تھا اور پیچھے بیٹھے افتخار صاحب کا چہرہ اس شخص جیسا تھا جس سے اس کا سارا سکون چھین لیا گیا ہو

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

کلاس میں داخل ہوتے اس نے ایک نظر پوری کلاس پر ڈالی ، پروفیسر ابھی نہیں آئے تھے تو سب باتوں میں مگن تھے ، لیپ ٹاپس ، بکس ، نوٹس سامنے پڑے تھے ، دس دن بعد اگزیمز شروع تھے اور اس وقت یونیورسٹی میں ہر طرف کتابی کیڑے نظر آرہے تھے

وہ جیبوں میں ہاتھ ڈالے دوسری رو کی طرف بڑھا ، سیاہ جینز پر سیاہ جیکٹ پہن رکھی تھی ، ہڈی سر پر جمی تھی ، ایک ہاتھ میں لیپ ٹاپ تھا اور بیگ کاندھے پر تھا ، بیگ سامنے رکھتے اس نے کان میں لگی ہینڈفری نکالی اور لیپ ٹاپ کھولا ، ڈیسک ٹاپ پر فائلز کھولیں ، فائلز میں نیچے سکرول کرتے اس کے ہاتھ رکے ، وہ اپنی کوئ اسائنمنٹ کھول رہا تھا لیکن سامنے ” اسلام” کے نام سے ایک فولڈر تھا ، اس پر کلک کرتے اس نے دو انگلیاں ہونٹوں پر جمائیں

ہر وہ شے جو اس نے ہاکس کے شو کے لئے تیار کی تھی سامنے تھی ، وہ جاب چھوڑ چکا تھا تو ان سب کی ضرورت بھی نہیں تھی ، ڈلیٹ کا آپشن کلک کرتے اس نے کمانڈ دی ہی تھی کہ ساتھ کوئ آ ٹھہرا ، ایرک کے ہاتھ رکے نظر اٹھا کر آنے والے کو دیکھا پھر ابرو اچکائے

” ہیلو ایرک”

” کام بولو ۔۔۔”

” تم کیسے ہو ؟”

” میں نے نوٹس نہیں بنائے ، اپنی پریزنٹیشن میں تمہیں نہیں دکھاؤں گا اور اگزیمز تک میرے آس پاس بھی مت بھٹکنا “

اس نے توجہ دوبارہ فائل کی طرف کی جب جمی اس کے ساتھ ٹھک سے بیٹھا

” میں تمہارا دوست ہوں ، میں ویسے بھی تمہارا حال پوچھ سکتا ہوں “

” اس صدی کا عظیم ترین سانحہ “

” طنز کرنے میں ماہر ہو “

” ہاتھ چلانے میں اس سے زیادہ ہوں ، اپنی یہ پانچ سو سال پرانی منحوس شکل گم کرو “

وہ فائل کھول کر دیکھ رہا تھا ، جانے کیا کیا لکھ ڈالا تھا

” میں اگزیمز کے بعد لندن سے چلا جاؤں گا ، تم مجھ سے تمیز سے بات کرو “

” میں لندن کو مبارکباد دیتا ہوں “

” تم یہیں رہ جاؤ گے ، مجھے لندن کے لئے افسوس ہے “

” اس کی ضرورت نہیں ہے ، مجھے خود لندن کے لئے افسوس ہے “

سامنے حامد رئیسی کے نام سے فائل ٹھہری تھی اس نے وہ کھولی

” بہت بہتر ۔۔۔۔ اب اپنی نوٹ بک دکھا سکتے ہو مجھے ؟”

” میں صاف انکار کرتا ہوں “

” تم سوچ لو ۔۔۔ پانچ منٹ بعد میں دوبارہ آؤں گا “

” میں سوچ چکا ہوں ، پانچ منٹ بعد والا انکار ابھی سن لو “

” تم واقعی بے مروت ہو ، صحیح کہا جاتا ہے “

” شکریہ ۔۔۔”

اس نے سر کو خم دیا ، نظریں سامنے تھیں ، الارا کیس سے متعلق ہر ڈیٹیل پھر سنان کے کیس کے متعلق ہر شے ، ساتھ بیٹھے جمی کی نظر لیپ ٹاپ کی طرف گئ تو اس نے آنکھیں سکیڑیں

” تم مسلمانوں کے خلاف مواد جمع کررہے ہو ؟”

” جمع کیا گیا مواد ڈلیٹ کررہا ہوں “

” کیوں ؟ یہ بہترین معلومات ہیں “

” بدترین کہو۔۔۔۔”

” تمہاری رائے آج کل کچھ بدل نہیں رہی ؟”

” یوں کہو کہ بدل چکی ہے “

وہ اب الارا کیس سے متعلق میڈیا رپورٹس دیکھ رہا تھا ، ابھی تک نا کوئ فیصلہ آیا تھا نا پولیس کو کوئ اور ثبوت ملا تھا ، اس کے دماغ میں کچھ اٹکا ، کچھ عجیب سا

” یہ رائے اب بری ہے یا اچھی ؟”

” نا بری نا اچھی “

” ویل۔۔۔۔ گڈ فار یو ، مجھے تو ان سب سے بے زاری ہوتی تھی “

ایرک نے رخ موڑ کر اسے دیکھا

” حالانکہ تم مسلمانوں کے خلاف تھے “

” جیسے تم تھے ، لیکن سنان والے کیس کے بعد احساس ہوا کہ اگر ایسے پرہجوم شدت پسند واقعات اسلامی ممالک میں ہوں تو اسلام اور مغربی معاشرے میں ہوں تو صرف ملک سے جوڑے جاتے ہیں ۔۔۔۔ دوغلی پالیسی “

اس نے کاندھے اچکائے

” تو یعنی تم مسلمانوں کو پسند کرتے ہو ؟”

” ایسا بھی نہیں ہے ، میں ان سے متاثر نہیں ہوں جو انہیں پسند کروں میں نے بس انہیں برا سمجھنا چھوڑ دیا ہے “

ایرک نے رخ موڑ لیا ، اس کا دماغ کچھ عجیب کہہ رہا تھا ، فائلز نیچے کی طرف کرتے وہ مزید کچھ دیکھتا جب کسی کونے سے رائن کی آواز ابھری

” He is in love guy’s”

اس کا سر بے ساختہ پیچھے کی طرف گیا ، رائن سب سے آخر میں سیڑھی پر ٹھہرا تھا ، اس کے ہاتھ میں مائیک تھا اور وہ مسکرا رہا تھا

” کون ؟”

کسی نے آواز لگائ تو ایرک کی مسکراہٹ گہری ہوئ پھر وہ چلتے ہوئے نیچے کی طرف گیا

” تم لوگوں کے لئے یقین کرنا گو مشکل ہوگا لیکن کرلینا ، میں اس سال کی سب سے بڑی نیوز بریک کرنے جارہا ہوں ” پوڈیم کے سامنے ٹھہرتے اس نے ایرک کو دیکھا اس کا سر نفی میں ہلا ( یہ آج زندہ بچے میرے ہاتھوں سے )

” تجسس مت بڑھاؤ “

” ٹھیک ہے ۔۔۔۔ تو خبر یہ ہے کہ۔۔۔” اس نے رک کر سب پر نظر ڈالی پھر کھنکارا ” ہمارے ایرک کو کسی سے محبت ہوگئ ہے”

ایرک نے کراہ کر آنکھیں بند کیں ، کسی کا منہ کھلا کسی کی آنکھیں

” کیا مزاق ہے ؟”

” اچھا جوک تھا لیکن میں ہنسنے سے قاصر ہوں “

” تم شاید اس کے کیمرے کا کہہ رہے ہو ؟”

” کون ہے وہ بد قسمت ؟”

” کیا اسے علم ہے ایرک ؟ تم نے اسے کیسے بتایا ؟”

بھنبھناہٹیں ، تبصرے ، قیاس آرائیاں اور وہ آنکھوں میں ڈھیروں ضبط لئے رائن کو دیکھنے لگا

” دیکھو ۔۔۔ یہ مذاق نہیں ہے ، کیا تم لوگوں نے غور نہیں کیا کئ دن سے اس نے کسی کی تصویر بنا کر بلیک میل نہیں کیا ، اس کا کیمرہ لا پتہ ہے، وہ سچ میں کسی سے محبت کرتا ہے “

سب کے سر ایرک کی طرف گھومے اس نے آنکھیں گول گول گھماتے ہڈی سر پر آگے کی اور پیچھے سر رکھ لیا

” کیا تم اس کارنامے پر آنکھیں چرا رہے ہو ؟”

” یہ ایرن ہے۔۔۔ میرے پاس تمہاری تصاویر اب بھی ہیں منہ بند رکھو “

اس نے رجسٹر بھی منہ پر رکھ لیا ۔۔۔ رائن !!!!!!!!

” یہ صدی کا عجیب ترین قصہ ہے ، ایرک وہ کون ہے ؟”

” میرا دماغ مت کھاؤ “

” تم اس کا نام کیوں نہیں لے رہے ؟”

کیونکہ وہ اس کا نام چھپانا چاہتا تھا ، محبت کا ایک اصول اس نے اب سیکھا تھا ، جس سے محبت کی جائے اسے رسوا نہیں کیا جاتا اور وہ ان سب کو جانتا تھا

” کیونکہ تم لوگ اس کا نام سننے کے قابل نہیں ہو “

” تصویر دکھا دو “

” وہ مشرق ۔۔۔۔”

اس نے جھٹ رجسٹر اٹھاتے رائن کو گھورا تو اس کے الفاظ زبان میں رہ گئے

” یہ ایک راز ہے دوستو ، عنقریب علم ہو جائے گا وہ کون ہے “

اس نے احتیاطاً ایرک کو دیکھا جو اسے کھاجانے والی نظروں سے گھور رہا تھا

” تم اس سے ڈرو مت ، بتاو تاکہ ہم اس لڑکی سے افسوس کرسکیں “

کلاس میں قہقہ گونجا ، ایرک نے بے زاری سے آنکھیں گھمائیں

” میری بات سنو سب ، تم لوگوں کا دس دن بعد پیپر ہے ، میں کس سے محبت کرتا ہوں یہ فلوقت رہنے دو ، تم لوگ اگزیمز کے بعد کس منہ سے اپنا سامنا کرو گے اس پر غور کرو “

اس نے لیپ ٹاپ آگے کرلیا ، جمی موقع کے فائدہ اٹھاتا اس کی نوٹ بک لے کر فرار ہوچکا تھا

” وہ صحیح کہہ رہا ہے ، تم سب دعا کرو اس کے بعد میں زندہ بچ جاؤں “

اس بار اس نے صرف ہونٹ بھیچنے پر اکتفاء کیا ، رائن واقعی زندہ بچ جائے اب

پوری کلاس ایک بار پھر لیپ ٹاپس پر جھک گئ ، بھنبھناہٹیں پھر سے ابھرنے لگیں ان سب میں وہ پوری توجہ سے اپنے لیپ ٹاپ پر کھلی فائل دیکھ رہا تھا ، کچھ تھا اس میں جو اسے تلاش کرنا تھا

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

سڑک کے کنارے پر رکھی ٹیبل کرسیوں میں سے وہ ایک پر بیٹھی تھی ، سامنے والی کرسی خالی تھی ، اس پر بیٹھی بانو آپا اسے آئسکریم لیتی نظر آرہی تھیں ، وہ انگلی ٹیبل پر بجاتی انہیں دیکھتی رہی ، سیاہ رنگ کے درمیانے سائز کے ڈبے اٹھاتے وہ ٹیبل تک واپس آئیں تو وہ سیدھی ہوئ

” تم یاد کرو گی کہ ہم نے سخت سردی میں ازلنگٹن کی سڑک پر بیٹھ کر آئسکریم کھائ تھی “

” آئسکریم کھانے کے بعد حافظہ سلامت رہا تو ۔۔۔”

بانو آپا ہنسیں

” یہ برا آئیڈیا نہیں ہے ، لوگوں میں فضول مشہور ہے کہ سردی میں آئسکریم نہیں کھائ جا سکتی “

اس کا ڈبہ سامنے رکھا تو معطر نے کاندھے اچکاتے اس پر لپٹا رپیر ہٹایا

” ہمارے بزرگ کہہ کر گئے ہیں۔۔ لیکن ہم نے مشاہدہ کیا ہے”

” تمہارے اندر ایک بوڑھی روح ہے “

” وہ کیسے ؟”

” تم صدیوں پرانے زمانے کی لگتی ہو ، آج کل چوڑیاں کون پہنتا ہے ؟ بریسلٹس کا زمانہ ہے لیکن تم نے ان چوڑیوں کو کلائیوں میں سجا رکھا ہے ، پرانے گانوں کا آج کل کہاں دور رہا ہے اور تمہیں وہی پسند ہیں ، آج کل کی جنریشن موبائل فونز میں گھسی رہتی ہے اور تمہارا موبائل لاوارثوں کی طرح پڑا رہتا ہے ، سچ بتاؤ قدیم دور سے بھٹک کر یہاں تو نہیں آ گئیں ؟ اتنی تو میں بھی پرانے دور کا خود کو نہیں سمجھتی “

وہ مسکراہٹ دبائے انہیں دیکھتی رہی پھر چمچ سے آئسکریم حلق میں رکھی ، اندر تک ٹھنڈک پہنچی تو ایک دم وجود کپکپا گیا

” میں خود کو پرانے دور کا ہی سمجھتی ہوں ، مجھے یہ دور متاثر نہیں کرتا “

” کیوں ؟”

” یہاں لوگ منافق ہیں ، وہ سچ کا کہہ کر جھوٹ بولتے ہیں ، یہاں محبتیں وقتی ہیں ، وہ پسند کا کہہ کر اسے محبت ثابت کرنا چاہتے ہیں ، یہاں وقت تیز ہے ، مجھے اس تیز وقت کے ساتھ چلنا نہیں آتا “

اسے کوئ یاد آیا پھر سر جھٹکا ، دو دن سے اس کی شکل نہیں دیکھی تھی اچھا ہے وہ سامنے نا آئے ورنہ وہ ضبط کھو دیتی

” جدیدیت اچھی چیز ہے “

” جب تک وہ آپ کی زندگی متاثر نا کرے “

گو سردی تھی لیکن وہ دونوں پھر بھی آئسکریم کھا رہی تھیں ، امی یہاں ہوتیں تو اب تک اسے جوتے پڑ چکے ہوتے ، چمچ منہ کی طرف جارہا تھا جب وہ رکی ، آہستہ سے کپ میں واپس رکھا اور بانو آپا کو دیکھا

” میں پاکستان واپس جانے کا سوچ رہی ہوں آپا “

بانو آپا رکیں ، نا سمجھی سے اسے دیکھا

” کس لئے ؟”

” یہاں نہیں رہا جارہا “

” تھک گئ ہو ؟”

” تھکی نہیں ہوں ، پتا نہیں کیوں لیکن عجیب لگتا ہے یہاں ، برطانیہ دوسروں کے لئے خوابوں کی سرزمین ہوگی میرے لئے وحشتوں کی زمین ہے “

” گھر والوں نے واپس آنے کا کہا ہے ؟”

انہوں نے آئسکریم پیچھے کردی

” وہ یہاں آنے ہی نہیں دینا چاہتے تھے میں ضد کرکے آئ تھی لیکن اب یہاں وحشت ہورہی ہے ، جو کچھ ایک مہینے میں ہوا ان سب سے عجیب وحشت ہورہی ہے “

اس کا چہرہ سادہ تھا ، نا کوئ میک اپ نا کچھ اور ، پرکشش سا گندمی چہرہ جو واقعی اس زمانے سے میل نہیں کھاتا تھا ، بال گول مول باندھ کر کیچر میں جکڑ رکھے تھے ، وجود پر اداسی چھائ تھی ، وہ کسی قدیم زمانے کی بھٹکی ہوئ لگتی تھی

” اپنے بابا کے علاج کا کیا کروگی ؟”

” زمین ہے کچھ وہ بیچ دیں گے ، بابا پہلے راضی نہیں تھے وہ چاہتے تھے وہ زمین ان کے بچوں کے پاس رہے لیکن دانیال کہہ رہا تھا اب بیچ دیں گے ، وہ بھی شاید تھک گئے ہیں اور میں بھی ۔۔۔۔ ایک جاب سے کچھ نہیں ہوتا اور دوسری مل نہیں رہی “

” تم ہار کر جارہی ہو ؟”

” اس جیت کے خوف سے جس کے اختتام پر میرے ہاتھ اور دل خالی ہوں “

بانو آپا کچھ دیر اسے دیکھتی رہیں پھر کپ پیچھے کرتے کرسی سے ٹیک لگائ ، رخ سڑک کی طرف موڑا ، وہ رہائشی علاقوں سے دور جگہ تھی تو سڑک پر ٹریفک نہیں تھا

” تم نے فیصلہ کرلیا ہے ؟”

” آپ منع کرنا چاہتی ہیں ؟”

” تم چلی جاؤ “

معطر لمحہ بھر کو بالکل چپ رہ گئ ، اسے لگا تھا وہ روکیں گی

” آپ مجھے روکیں گی نہیں ؟”

” میں کیسے روکوں جبکہ میرا دل چاہتا ہے ہر پردیسی واپس چلا جائے “

” آپ بھی چلیں نا “

” میری قید ہے یہاں معطر ، مجھے وہ کاٹنے دو “

” آپ غلط سوچتی ہیں آپا ، ممکن ہے آپ کے گھر والے وہاں آپ کا انتظا کررہے ہوں “

” جو منتظر ہوں وہ واپسی کا کوئ اشارہ بھی دیتے ہیں “

اگلے کئ لمحے وہ دونوں چپ رہیں پھر بانو آپا نے تھک کر سر کرسی کے سرے پر ٹکایا

” پردیس بہت بری چیز ہے معطر ، یہاں لوگوں کو نہیں آنا چاہئے ، یہاں سے واپسی پھر تابوت میں ہوتی ہے ، ایک بار جو یہاں قید ہوگیا وہ واپس نہیں لوٹا کرتا ، لوٹے تو زندہ نہیں ہوتا “

” جیسے سنان۔۔۔۔”

اس کا نام بے ساختہ لبوں سے پھسلا تھا ، بے اختیاری میں ، بنا سوچے سمجھے ، بانو آپا نے سر اٹھا کر اسے دیکھا ، اس کے چہرے پر کوئ حزن پھیلا تھا

” وہ آخری بار آیا تھا تو میں نے کہا تھا واپس چلا جائے اور تمہارے بابا سے تمہارا رشتہ مانگے ، اس نے میرے سامنے بیٹھ کر کہا تھا کہ وہ تم سے محبت کرتا ہے “

معطر نے لب کاٹا

” جانتی ہوں۔۔۔۔”

” میں بھی جان گئ تھی ، اس نے کہا اس کے لئے ہر عورت معطر صبا نہیں بن سکتی ، وہ زندہ رہتا تو میں تم دونوں کی کہانی کا خوشگوار انجام دیکھتی لیکن پردیس نے اسے یہاں رہنے نہیں دیا ، مجھے لگتا ہے میں بھی اس کی طرح واپس جاؤں گی ، اسے اپنے شہر کے قبرستان میں جگہ مل گئ مجھے تو وہ بھی نہیں ملے گی “

معطر کی آنکھوں میں کرب اترا

” ایسے مت کہیں۔۔۔ آپ نے صرف محبت کی تھی “

” غلط کیا تھا۔۔۔ مجھے گھر سے بھاگنا نہیں چاہئے تھا اس کے بعد سے اب تک بھاگ رہی ہوں ، مجھے سمجھنا چاہئے تھا کہ محبت کے دعوے دار گھر سے بھگا کر نہیں لے جاتے ، وہ عزت سے اپناتے ہیں ، پوری دنیا سے لڑ کر ہی صحیح ، محبت مل گئ تو خوش قسمتی نا ملے تو اسے رسوا نہیں کرتے ، مجھ پر محبت قہر کی صورت اتری تھی “

وہ سیدھی ہوئیں ، آئسکریم یونہی رکھی تھی

” آپ اپنے گھر والوں سے بات کرکے تو دیکھیں “

” جو چٹھیاں بھیجیں ہیں وہ انہوں نے پھینک دی ہوں گی ، میرا قصور بڑا تھا ، لڑکیوں کو گھر سے نہیں بھاگنا چاہئے پھر وہ ساری عمر دنیا سے بھاگتی رہتی ہیں ، بیس سال کی ماں باپ کی محبت کو بیس دنوں کی محبت کے پیچھے نہیں چھوڑنا چاہئے ، پھر وہ محبت چھوڑ جائے تو سب راکھ برابر “

ان کی پلکوں سے آنسو ٹوٹ کر گرے معطر اٹھ کر ان تک آئ اور گلے سے لگایا

” یہ قید ختم ہوجائے گی آپا “

” میری زندگی کے ساتھ “

انہوں نے اس سے الگ ہوتے آنسو صاف کئے پھر بیگ اٹھایا

” چلو ۔۔۔۔ آئسکریم ذائقہ کھو چکی ہے “

وہ اپنا بیگ اٹھاتی سڑک کی سیدھ پر چل رہی تھیں ، معطر نے حلق میں اٹکتے آنسو اندر دھکیلے پھر اپنا موبائل اٹھاتے کوٹ کی جیب میں ڈالا

وہ اسی قید سے خوفزدہ تھی

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆