192.3K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Laa (Episode 6)

Laa By Fatima Noor

وہ ایرک کیان تھا !

سٹی یونیورسٹی آف لندن سے جرنلزم میں گریجویشن کررہا تھا، جرنلسٹ بننا اس کا خواب نہیں جنون تھا ، اسے کرائم رپورٹنگ میں مزہ آتا تھا اور کرائم کرنے میں خوشی ملتی تھی ، وہ ان لوگوں میں سے تھا جو نا زندگی کو سریس لیتے ہیں نا زندگی انہیں سریس لیتی ہے ، کہ جاؤ بھائ جو کرنا ہے کرو ، چاہے برباد کرو چاہے آباد کرو، سو وہ اسی مشورے پر عمل کرتے ہوئے زندگی کو بہت خوشی سے برباد کررہا تھا

وہ اپنے یونیورسٹی کا بدنام ترین مشہور انسان تھا ، اس کے یونیورسٹی فیلوز کا خیال تھا کہ اگر اسے یونیورسٹی سے نکال دیا جائے تو ان کی زندگی میں سکون آجائے گا ، جبکہ اس کا خیال تھا کہ وہ انتہائ معصوم انسان ہے اور اسے خواہمخواہ بدنام کیا گیا ہے ، اس کا یہ بھی خیال تھا کہ اگر آدھی دنیا کے لوگ اس سے جلنا چھوڑدیں تو وہ مقابلہ حسن جیت سکتا ہے

اس کا پہلا خیال غلط تھا !

ایرک کیان کا یہ بھی خیال تھا کہ اسے دنیا میں سکون پیدا کرنے کے لئے بھیجا گیا

” صرف خود کے لئے”

وہ یہ جملہ استعمال نہیں کرتا تھا ، ایرک کیان پورا سال آوارہ گردی میں گزارنے اور زندگی جینے کا قائل تھا ،پورا سال آوارہ گردی کرنے کے بعد اگزیمز کے آخری دنوں میں وہ پڑھ کر فرسٹ کیسے آجاتا ہے یہ بات ان کے پورے ڈیپارٹمنٹ کے لئے معمہ تھی ، اس معمے سے پردہ ایرک نے ہٹایا ، جس کے بقول وہ کوزی مگ سے ملنے والی کافی کی بدولت اس قدر زہین ہوگیا تھا کہ وہ با آسانی ایک رات کی تیاری کے بعد پیپر دے کر فرسٹ آسکتا ہے ، بات ناقابل یقین اور مضحکہ خیز دونوں تھی لیکن پڑھائ سے ستائے ہوئے سٹوڈنٹس کے لئے اس پر یقین کرنا مشکل نہیں تھا ، اور جو چیز مشکل نا ہو وہ کرلی جاتی ہے ، سو مسٹر ولیم کو ایرک کیان نے اپنا بزنس بڑھانے کا موقع فراہم کردیا تھا بشرطیکہ وہ سٹوڈنٹس سے ملنے والی رقم میں سے ساری زندگی اسے مفت کافی دیں گے ، کیونکہ بقول اس کے وہ بہت غریب ہے اور دن میں دو کپ کافی کا خرچہ برداشت نہیں کرسکتا

اس غریب کو ہر مہینے اس کے ڈیڈ اور مام الگ سے پیسے بھیجا کرتے تھے ، وہ یہ پیسے کہاں خرچ کرتا تھا یہ سب کے لئے ایک دوسرا معمہ تھا ، لیکن اس کے دوستوں کو سو فیصد یقین تھا کہ ہر مہینے ملنے والی رقم ایرک اپنے اوپر خرچ نہیں کرتا ، اس کا کہنا تھا کہ اگر دوسروں کے پیسوں سے زندگی گزاری جا سکتی ہے تو اپنے پیسے خرچ کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟

اس کی کل جائیداد میں ایک سائیکل اور ایک کیمرہ تھا ، اس ایک کیمرے میں لاتعداد تصاویر تھیں ، ان لاتعداد تصاویر میں ہزاروں کہانیاں تھیں، جن میں سے ایک ڈیوڈ کی نوٹس بورڈ سے ڈیٹ شیٹ ہٹانے کی ویڈیو بھی تھی جس پر خاموشی کی صورت اس نے ایرک کو نیا کیمرہ لے کر دیا تھا ، جینی کی اپنے کلاس فیلو کے ساتھ کسی ریسٹورنٹ میں لی گئ تصویر بھی تھی اور یہ بات اس کے بوائے فرینڈ کو نا بتانے کے لئے ایرک نے اس سے اپنی کئ اسائنمنٹس بنوائ تھیں

الغرض اس کا کیمرہ یونیورسٹی کے لئے خطرے کی علامت تھا، اور وہ خود معصوم نظر آنے والا سر درد تھا

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

وہ شاید واقعی کوئ بنجارا تھا ، تین دن بعد وہ اسے اپنے کیفے میں نظر آیا ، سیاہ پینٹ ، سفید شرٹ ، ٹائ ندارد ، دو سوٹڈ بوٹڈ آدمیوں کے ساتھ وہ کسی آفیشل میٹنگ کے لئے آئے تھا ، دروازے سے داخل ہوتے اسے دیکھ کر وہ لمحہ بھر کو ٹھٹکا پھر قدم آگے بڑھا دیئے ، وہ اسے نظر انداز کرتی اپنا کام کرتی رہی ، ایک گھنٹے تک وہ لوگ وہیں رکے رہے ، وہ کسٹمرز نبٹاتی رہی ، ان لوگوں نے کافی منگوائ تو انہیں بھی جاکر دے دی ، واپس مڑنے لگی تو سوٹ میں ملبوس ان کے باس نظر آتے شخص نے روک لیا

” تم کس ملک سے ہو ؟”

وہ شاید اس کی لمبی کرتی اور دوپٹہ دیکھ کر بولا تھا

” پاکستان سے “

” اوہ غریب ملک ، یہاں بہت سے پاکستانی آتے تھے ، تم لوگ اپنا کلچر چھوڑ کیوں نہیں دیتے ؟”

طنزیہ انداز ، تمسخرانہ نظریں ، اس نے لب بھینچ لئے

” کافی انجوائے کریں سر “

بحث بیکار تھی ، الجھنا فضول ، تیسری دنیا کے ملک پاکستان کی معطر صبا ترقی یافتہ ملک برطانیہ کے باسیوں کو سنا نہیں سکتی تھی ، وہ خاموشی سے پلٹ کر کاؤنٹر تک آگئ ، چند لمحے سرکے اور وہ لوگ وہاں سے جانے لگے جب وہیں آدمی کاؤنٹر پر اس کے سامنے رکتا چند پاؤنڈز نکال کر اسے دینے لگا

” یہ کس لئے ؟”

وہ سنجیدگی سے پوچھ رہی تھی

” ٹپ سمجھ لو “

ٹپ ؟ اس کا رواں رواں ہتک میں مبتلا ہوا ، چہرے پر سرخی دوڑی ، نظریں پیچھے ٹھہرے لڑکے پر گئیں ، اس کے چہرے پر ناپسندیدگی تھی لیکن اس نے کچھ نہیں کہا تھا ، معطر صبا نے گہری سانس لیتے ہاتھ بڑھا کر پیسے لئے

‘ اگر آپ برا نا مانیں تو کیا میں اپنی زبان میں آپ کا شکریہ ادا کرسکتی ہوں ؟”

” شیور۔۔۔۔۔۔”

وہ تفاخر سے اکڑائے ، معطر ہلکا سا مسکرائ ، لاوا باہر ابلنے لگا

” خدا آپ کا بھلا نا کرے محترم ، خدا کرے آپ کے سر کے بال اڑ جائیں ، دانت گرجائیں ، اللہ مجھے صبر دے لیکن انتہائ مکار لوگ ہو تم ، دنیا پر اپنی اچھائ کا ڈھونگ رچا کر جس طرح تم لوگ ان کا خون چوس رہے ہو اچھی طرح جانتی ہوں میں ، اللہ تمہارے ملک پر کسی ایسٹ انڈیا کمپنی کو مسلط کردے ۔۔۔ آمین “

مسکرا مسکرا کر اردو میں کہتے اس نے بہت کچھ اندر دبا لیا ،ورنہ دل چاہ رہا تھا کہ انگلش میں وہ سناتی انہیں کہ یاد رکھتے ، لیکن افسوس انگریز ملک !!

” اچھا لگا سن کر “

وہ اسی غرور سے مسکراتے چلے گئے ، ان کے پیچھے موجود لوگ بھی ، جانے سے پہلے اس نے دیکھا تھا کہ اس لڑکے نے کچھ زیادہ ہی گہری نظر اس پر ڈالی تھی

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

باہر نکلتے اس نے ہاتھ میں تھامے پاؤنڈز گلی کی نکڑ پر بیٹھے آئسکریم کھاتے دو بچوں کو تھمائے کہ وہ ان کی بھی آئسکریم لے لیں اور اسی سرخی لئے چہرے کے ساتھ آگے بڑھی ، ٹھیک ہے اسے پیسوں کی ضرورت تھی لیکن بھیک میں ملے پیسوں کی نہیں ، عزت نفس ٹوٹی تھی مری نہیں تھی

گہری سانس لیتے اس نے خود کو پر سکون کرنا چاہا جب نظر یوں ہی سڑک کنارے گئ اور وہ وہیں رک گئ

وہ جینز کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے اس کی طرف آرہا تھا

” آج لوئ کی جگہ آپ میرا دن برباد کرنے آئے ہیں ؟’

اسے اکتاہٹ نے آن گھیرا تھا

” آپ کو میرا آنا برا لگا ؟”

” آپ کی سوچ سے زیادہ”

اس کے چہرے پر سایہ گزرا

” ہماری ملاقاتیں اتنی ناخوشگوار تو نہیں تھیں “

” آپ آج کی ملاقات بھول رہے ہیں”

” وہ ملاقات مجھ سے نہیں تھی “

” غالباً وہ آپ کے باس تھے ، “

” میرے باس کے بزنس پارٹنر ، اور میں ان کے خیالات پر بات نہیں کرنا چاہتا ، وہ وطن پرست انسان ہیں “

ہاتھ اٹھاتے وہ محتاط سا کہہ رہا تھا

” اس ملک میں شاید ہر دوسرا انسان وطن پرست ہے ، آپ لوگوں کے پاکستان کے بارے میں خیالات اتنے برے کیوں ہیں ؟ ہوں گے آپ لوگ ترقی یافتہ ، ٹھیک ہے لیکن دوسروں کو ڈی گریڈ کیوں کرتے ہیں ؟ اور آپ کی ترقی ، اگر میں یہاں کھڑے ہوکر برطانوی پالیسیز پر بات کرنا شروع کردوں تو ۔۔۔۔۔”

” میں پاکستان سے ہوں “

وہ اس کی بات کاٹ کر اُردو میں بولا تو معطر صبا کی زبان کو بریک لگی ، چند لمحے وہ ساکت سی اسے دیکھتی رہی پھر اس کا منہ ہلکا سا کھلا

” پاکستان سے ؟”

” جی محترمہ پاکستان سے، پشاور میں مجھے سنان سعدی کہا جاتا ہے”

مسکرا کر کہا تو اس کے سارے الفاظ گم ہوگئے ، وہ شکل سے انگریز معلوم ہوتا تھا ، شہد رنگ آنکھیں ، گوری سفید رنگت ، بھورا تاثر دیتے سیاہ بال ، مکمل انگریز جیسا ، وہ دھوکا کھا گئ تھی تو بجا تھا ، پھر اسے یاد آیا وہ کیفے میں اس انگریز کو اردو میں یہ سوچ کر کہ کسی کو کیا سمجھ آئے گی پتا نہیں کیا کیا سنا آئ تھی ، چہرے پر سرخی دوڑی

” آپ کئ دن سے مجھے بیوقوف بنا رہے ہیں ؟”

کچھ سمجھ نا آیا تو وہ یہی کہہ سکی ، سنان نے مسکراہٹ دبائ

” میں نے تو نہیں کہا تھا کہ میں برطانوی شہری ہوں ، آپ نے خود ہی قیاس لگا لیا “

” آپ تصحیح کرسکتے تھے “

” کرسکتا تھا……لیکن نہیں کی “

” غلطی آپ کی ہے “

اففف ، کیا کیا سمجھتی رہی وہ ، اتنی کم عقل کب سے ہوگئ وہ ؟

” اپنی غلطی اور لوئ کی غلطی دونوں کے لئے معذرت “

” ویسے یہ انتہائی غیر اخلاقی حرکت تھی “

” معذرت خاتون ۔۔۔۔” اس نے کان کھجایا پھر اردگرد دیکھتے کچھ معصومیت سے پوچھا ۔۔۔۔” آپ کا نام جان سکتا ہوں ویسے ؟ “

” آپ اجنبی۔۔۔۔۔”

” میں نے ابھی بتایا میں پاکستان سے ہوں ، ہم اجنبی تو نہیں رہے اب “

وہ گہری سانس لے کر رہ گئی

” لاہور میں مجھے معطر صبا کہتے ہیں “

اسی کے انداز میں کہا تو سنان ہلکا سا ہنسا

” لاہور کی معطر صبا کو پشاور کے سنان سعدی کی طرف سے ازلنگٹن میں خوش آمدید “

ایک ہاتھ سینے پر رکھے وہ دوسرا ہاتھ جیب کی طرف بڑھا رہا تھا ، معطر سرخ پڑتے چہرے سے اس کے ہاتھ کو دیکھنے لگی ،پھر نظر اس کے چہرے پر گئ

” چوڑیاں پہننے والی اس لڑکی کے نام جسے زخمی کلائ کا نہیں ٹوٹی چوڑیوں کا غم تھا “

وہ سرخ رنگ کی چوڑیاں اس کی طرف بڑھائے ہوئے تھا ،اس کے چہرے پر سنجیدگی دوڑی

” اس کی ضرورت نہیں تھی “

” “پہاڑوں کا بنجارا دو دن شہر کے بازار گھوما ہے اور پھر اسے یہ چوڑیاں ملی ہیں “

گویا جتانا چاہا کہ وہ ان چوڑیوں کے لئے کتنا خوار ہوا ہے

” میں نے بنجارے کو چوڑیاں لانے کا نہیں کہا تھا “

گویا بتانا چاہا کہ اس کی خواری بے وجہ تھی

” آپ نے نہیں کہا تھا لیکن مجھے احساس ہوا کہ یہ کلائیاں چوڑیوں کے بغیر ادھوری لگتی ہیں ، ۔۔۔۔” پھر وہ ہونٹوں پر ہاتھ رکھتا کھنکارا ” میں دو دن سے یہ چوڑیاں اپنے کوٹ میں لے کر پھر رہا ہوں کہ شاید کسی گلی میں مجھے آپ مل جائیں “

” اگر میں یہ نا لوں ؟”

سینے پر ہاتھ باندھے وہ سنجیدہ ہوئ ، چوڑیاں دینے کا حق اس نے صرف ایک شخص کو دیا تھا، کسی اور کی لائ گئ چوڑیاں اسے بوجھ لگتیں ، ان چوڑیوں کی کھنک شور لگتی

” میں مزید کئ دن ان چوڑیوں کو اپنے کوٹ کی جیب میں رکھ سکتا ہوں “

وہ نرمی سے مسکرایا ، معطر نے گہری سانس لی

” دیکھیں مسٹر سنان ، آپ کی لائ گئ چوڑیوں کا شکریہ لیکن میں یہ نہیں لے سکتی ، کچھ چیزیں صرف کچھ لوگوں کے ہاتھوں سے لینا ہی اچھا لگتا ہے ، میرے پاس چوڑیاں لانے والا کوئ اور تھا ، اب نہیں رہا ، نا کبھی ہوگا، اور آپ کے ہاتھوں سے لینا میرے دل کو منظور نہیں ، اس تکلف کا شکریہ “

نرمی لیکن بنا کسی مسکراہٹ کے کہتے وہ پلٹ گئ ، سنان کا ہاتھ نیچے آگرا ، وہ گویا اس کا خلوص اس کے منہ پر مار کر گئ تھی ، اسے برا لگا تھا اور بہت لگا تھا

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

وہ دو دن بعد دوبارہ سے اس کی کافی شاپ کے سامنے ٹھہرا تھا ، بیگ کاندھے پر ڈالے ، جیب میں ہاتھ ڈالے ، مطمئن ، ڈھیٹ اور لاپرواہ

معطر نے کافی کا کپ سامنے رکھتے پیچھے مڑنا چاہا جب اس نے ہاتھ میں تھامے پیسے اس کی طرف بڑھائے

” تمہاری کافی فری نہیں تھی ؟”

” دو دن پہلے تک تھی “

” میں تم سے معذرت کرچکی ہوں “

” میں نے معذرت قبول کرلی تھی “

” پھر ؟”

” پھر یہ کہ۔۔۔۔ ” پیسے کاؤنٹر پر رکھتے کافی کا ڈسپوزیبل کپ اٹھایا اور گہری نظروں سے اسے دیکھا ” کسی نے میرے دوستوں کو بتادیا کہ میں ان کے پیسوں سے اب تک کافی پی رہا تھا ، اس کے بعد انہوں نے مجھے کئ لعنتیں بھیج کر میرا دانہ پانی بند کروادیا ہے “

اس نے تھوک نگل کر سامنے کھڑے لڑکے کو دیکھا

” بہت افسوس ہوا “

” میں اس افسوس کا فلوقت حقدار ہوں ،لیکن مجھ سے زیادہ اس وقت یہ کافی شاپ اس کی حقدار بننے والی ہے “

” وہ کیوں ؟’

وہ ٹھٹکی

” انتظار کرو ۔۔۔۔”

اسی لاپرواہی سے کاندھے اچکاتا وہ آگے بڑھ گیا ، اسے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا ، اگلے دن مینیجر نے دوبارہ اسے آفس میں بلا کر پخٹنے والے انداز میں فون اس کے سامنے رکھا

” تم مجھے برباد کرنے آئ ہو ؟”

” جی ؟”

” کیا جی ؟ خبر دیکھی ہے فیسبک پر ؟ یہ پڑھو ، پڑھو اسے “

اس نے سراسیمہ ہوکر موبائل اٹھایا ، سٹی یونیورسٹی آف لندن کا کوئ فیسبک گروپ تھا جہاں انجان آئ ڈی سے پوسٹ کی گئ تھی

” کوزی مگ سے ملنی والی کافی صحت کے لئے خطرناک ؟ چند دن پہلے ہی ہمارے زرائع ( ایرک کیان) سے اطلاع ملی ہے کہ کوزی مگ میں بنائ جانے والی کافی صفائ ستھرائ کا خیال نا رکھنے کی وجہ سے طلبہ کی صحت کے لئے انتہائ مضر ہے ، کیفے کی انتظامیہ پرانے کپس اٹھا کر ان میں کافی بیچتی ہے ، اس کے علاوہ انتظامیہ صفائ کا معیار بہتر بنانے میں ناکام نظر آتی ہے ، یہ سٹوڈنٹس کی صحت کے ساتھ نا انصافی ہے ،ہم نے زہن کا زکر اس لئے نہیں کیا کیونکہ ان کا زہن یونیورسٹی نے پہلی ہی خراب کر رکھا ہے

اس کے علاوہ ہمارے زرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ کافی شاپ نے اپنے پاس خطرناک ہتھیاروں سے لیس کام کرنے والی خواتین رکھی ہوئ ہیں، جن کے ہاتھوں میں کانچ کے خطرناک ہتھیار ہیں جن سے۔۔۔۔”

اس نے جھٹ موبائل نیچے کیا ، چہرہ سفید پڑنے لگا

” یہ کس نے ؟”

” کون کر سکتا ہے ؟ ایرک کے علاوہ کون کرسکتا ہے ؟”

وہ اشتعال میں تھے

اس کا سر چکرا گیا ، ایرک کیان جانتا تھا کہ اسی نے سٹوڈنٹس میں یہ بات پھیلائ ہے ، وہ جانتی تھی کہ اس کا صاف صاف مطلب نوکری سے ہاتھ دھونا تھا

” میں نے اسے سوری کہا تھا اور اس نے قبول کرلیا تھا”

وضاحت دی

” پھر یہ سب کیا ہے ؟ کیا تم مجھے بیوقوف سمجھتی ہو ؟’

” میری غلطی نہیں تھی سر “

وہ روہانسا ہوگئ ، ایک دم ہی مایوسی اور گہری تکلیف نے احاطہ کرلیا

” مجھے کوئ سروکار نہیں اس سے ، تم فائرڈ ہو ، سامان سمیٹو اپنا “

وہ کمپیوٹر کی طرف متوجہ ہوگئے ، معطر بوکھلا گئ

” سر۔۔۔۔ “

” اپنی تنخواہ لیتی جانا “

” میری بات۔۔۔۔’

” گیٹ آؤٹ “

ہاتھ دروازے کی طرف کرتے وہ دھاڑے، اس کی ساری آواز گم ہوگئ ، آنکھیں میچتے وہ باہر گئ ، سامان اٹھایا، مایا کچھ بوکھلاہٹ میں پوچھتی رہی کہ کیا ہوا لیکن وہ بنا کچھ بتائے باہر کی طرف بڑھ گئ

” کیا تمہیں جاب سے نکال دیا گیا ہے ؟”

روڈ پر چلتے ہوئے وہ سرخ چہرے کے ساتھ جارہی تھی جب ساتھ قدموں کی آواز آئ ، اس کا دل کیا اس انسان کو اٹھا کر دریائے ٹیمز میں پھینک دے ، لیکن کچھ خواہشیں پوری نہیں کی جاسکتیں

” شاید تمہارے زہن پر کچھ زیادہ ہی اثر ہوگیا ہے, کیا تمہاری زبان بھی کسی نے کاٹ دی ہے “

وہ رکی ، وہ بھی رک گیا

” جہنم میں جاؤ تم ایرک “

” راستہ بھی بتادو اپنے ملک جانے کا “

اس کا ماتھا سلگنے لگا

” تم خود کو سمجھتے کیا ہو ؟’

” اگر مجھے پاگل نا سمجھا جائے تو میں خود کو سات براعظموں کا بادشاہ سمجھنا چاہوں گا “

معطر گہرے گہرے سانس لیتی اسے دیکھنی لگی

” تمہارے لئے یہ سب مزاق ہے ؟، میری جاب چلی گئ “

” آغاز تم نے کیا تھا ، مجھے تنگ کرنے والوں کو یہ بات معلوم ہونی چاہئے کہ میں ایک انتہائی شریف آدمی ہوں لیکن صرف تب تک جب تک مجھے چھیڑا نا جائے”

” وہ صرف غلطی تھی ،میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا تھا “

وہ دبا دبا سا چلائ ، ساری فرسٹریشن باہر نکلنے لگی

” دو غلطیاں ، ایک بار معافی دوسری بار سزا “

لاپرواہی سے شانے اچکائے

” تم۔۔۔۔۔۔ “

وہ آگے بڑھ کر اس کا منہ نوچنا چاہتی تھی ، وہ اس وقت رو رو کر پورا برطانیہ اکٹھا کرلینا چاہتی تھی ، وہ اس وقت آنسو سے پوری دنیا بہا دینا چاہتی تھی ، پیر پٹختے وہ آگے بڑھ گئ ، نا ایرک اس کے پیچھے آیا تھا نا وہ اس وقت اس انسان کی شکل دیکھنا چاہتی تھی

تیز تیز قدموں سے چلتے وہ ایک بینچ پر بیٹھی ، بیگ وہاں رکھا اور سر ہاتھوں میں دے دیا

ان انگریزوں کے لئے سب مزاق تھا ؟ اتنی چھوٹی سی غلطی تھی اس کی ، غلطی بھی نہیں تھی ، وہ ہر شے کرنے کو تیار تھی اس کے باوجود ، اپنی انا کچل کر وہ اس سے معافی مانگنے گئ ، سوری کہا ، ذلت برداشت کی ، پھر بھی ؟ اس کا دل کیا وہ دنیا سے غائب ہوجائے ، ڈپریشن ، پریشانی ، شدید فرسٹریشن میں وہ اپنے ساتھ کچھ کر ڈالتی جب پیچھے سے آواز آئ

” میں آپ کے ساتھ اس بینچ پر بیٹھ جاؤں ؟میں آپ کو رونے سے نہیں روکوں گا “

اس نے جھٹکے سے رخ موڑا، سنان سعدی خان وہ سفید شرٹ پر سیاہ جیکٹ پہنے ٹھہرا تھا ، اسے شدید شرمندگی نے آن گھیرا ، تیزی سے آنسو صاف کرتے وہ اٹھی اور بیگ اٹھایا

” میں اتنا برا بھی نہیں ہوں کہ میرے ساتھ بیٹھنے سے ڈرا جائے “

جیبوں میں ہاتھ ڈالے وہ اس کے ساتھ چلنے لگا

” آپ کے لئے بینچ خالی ہے “

” میں نے پوچھا تھا کہ کیا آپ کے ساتھ بیٹھ جاؤں ؟ اکیلے بیٹھنے کا نہیں پوچھا تھا”

انتہائ معصوم انداز ، وہ اندر ہی اندر شدید جھنجھلائ

” مجھے تنگ مت کریں سنان “

آواز بھرا گئ ، وہ جھٹکے سے سامنے رکا

” کسی نے تنگ کیا ہے آپ کو ؟”

” ہاں ، بہت زیادہ”

” کس نے ؟”

لہجہ سخت ہوگیا ، معطر صبا چاہتی تھی وہ سامنے سے ہٹ جائے ، اسے کہیں اکیلا بیٹھ کر رونا تھا

” میں نے خود کو خود تنگ کیا ہے”

” معطر۔۔۔۔ مجھے بتائیں کیا ہوا ہے ؟”

اور بس ، وہ نرم لہجہ اور اس کی ساری ہمت ٹوٹ گئ ، جھٹ سے وہ بینچ پر بیٹھی ، سر کو ہاتھوں میں گرایا ، چوڑیوں کی کھنک دور تک گئ ، چوڑیوں کا شور اندر تک گیا

” میری جاب چلی گئ ، مجھے نہیں معلوم اب میں کیا کروں گی ، زندگی کچھ لوگوں پر کبھی مہربان نہیں ہوتی ، میں وہی ہوں “

اسے کوئ کاندھا چاہئے تھا ، زندگی میں پہلی بار اسے رونے کے لئے کوئ کاندھا چاہئے تھا ، دیار غیر میں ، وہ مشرق کی لڑکی تنہا کسی بیچ پر بیٹھ کر نہیں رونا چاہتی تھی

” کیسے چلی گئی جاب ؟’

وہ اس کے ساتھ نہیں بیٹھا تھا ، وہ سامنے کھڑا رہا

” میری غلطی نہیں تھی ، پتا نہیں اس لڑکے کو کیا مسئلہ ہے مجھ سے ۔۔۔”

اس نے سب بتادیا ، بنا کچھ چھپائے ،کیوں ؟ وہ نہیں جانتی تھی ، اس کا خیال تھا وہ کسی اداس سی شام کسی ندی کنارے ملنے والا اجنبی ہے ، جس سے غم بانٹا جاسکتا ہے ، جو خاموشی سے سن لیتا ہے اور پھر آپ دونوں کے راستے جدا ہوجاتے ہیں ، سنان سامنے ٹھہرا خاموشی سے سنتا رہا

وہ راستے جدا کرنے والوں میں سے نہیں تھا

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

اس کا خیال تھا کہ شاید جاب ڈھونڈنا اتنا مشکل نہیں ہوگا ، دو دنوں میں ہی اس کا خیال نا صرف غلط ثابت ہوا بلکہ اس کا دماغ اچھا خاصا ہل گیا ، پاکستان میں بیٹھنے والوں کا خیال ہوتا ہے کہ دوسرے ملک جائیں گے تو فوراً سے نوکری ان کے انتظار میں ہوگی ، اسے بھی یہی لگتا تھا ، پورے دن خواری کے بعد بھی دو دن تک اسے کہیں کام نا مل سکا ، حالات یوں تھے کہ اس سے چھوٹا سا چھوٹا کام کرنے کا بھی کہا جاتا وہ بھی اسے قبول ہوتا ، باوجود اس کے کہ ازلنگٹن کاروباری علاقہ تھا وہاں جاب ڈھونڈنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگیا تھا

تیسرے دن وہ کسی کیفے سے واپس آرہی تھی جب راستے میں ایک سیاہ کار اس کے پاس سے گزری ، چند لمحے بعد وہی کار واپسی مڑی اور اس کے ساتھ رک گئ ، اسے یکدم رکنا پڑا ،سخت الفاظ ابھی زبان تک آئے ہی تھے جب وہ باہر نکلا ، معطر گہری سانس لے کر رہ گئی ، اس دن کے بعد سے وہ دعا کررہی تھی کہ سنان سے اس کا سامنا نا ہو لیکن یوں لگتا تھا کہ آج کل دعائیں بھی قبول نہیں ہوپارہی تھیں

” کیسی ہیں معطر ؟”

” ٹھیک ہوں “

وہ چند لمحے اسے دیکھتا رہا

” مجھے یہاں آئے چوتھا سال ہے “

” اچھا۔۔۔۔ “

تعجب سے اسے دیکھا ، اس بات کی کیا تک بنتی تھی ؟

” جب چار سال پہلے میں پاکستان سے آیا تھا تو وہاں دوسروں سے ان کا حال پوچھنے کا رواج باقی تھا “

وہ ٹونٹ مار رہا تھا ، اسے خفت نے آن گھیرا

” کیسے ہیں آپ ؟”

” گو دو دن پہلے مجھے زکام تھا لیکن کیونکہ فلوقت میں ٹھیک ہوں ، تو میرا جواب ہے کہ میں خیریت سے ہوں “

اس نے کچھ کہے بغیر سر ہلا دیا ، یہ لڑکا کچھ زیادہ ہی فری ہورہا تھا ، اسے دور رہنا چاہئے اس اجنبی سے

” آپ کہیں جارہی تھیں ؟”

” کہیں سے آرہی تھی “

” تو اب جہاں جانا ہے ، میں وہاں چھوڑ دوں ؟ میں پہلے ہی بتادوں اس سوال کے جواب میں ، میں آپ کی طرف سے تھپڑ کی توقع نہیں رکھتا “

ہاتھ اٹھائے محتاط انداز سے کہا تو وہ ہلکا سا مسکرادی

” میں تھپڑ مارنے کی بجائے صاف صاف منع کرتی ہوں “

” میں ویسے ایک شریف آدمی ہوں ، آپ پشاور کے سنان سعدی پر اعتبار کرسکتی ہیں “

” آپ کی شرافت پر یقین نا ہوتا تو میں یہاں نا ٹھہری ہوتی “

” اعزاز کی بات ہے میرے لئے “

” کیا میں جاؤں اب ؟ مجھے دیر ہورہی ہے “

” جاسکتی ہیں ، لیکن میں ایڈریس لکھ کر دے دیتا ہوں “

” کس چیز کا ؟”

وہ رک گئ

” ایک سٹور ہے ، وہاں جاب کے لئے کسی کی ضرورت تھی ، مجھے آپ کا خیال آیا تو ان سے بات کی ، یہ ایڈریس “

وہ پیچھے سے اپنی گاڑی سے کچھ نکال رہا تھا ، جب نکال کر پلٹا تو وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی ،چہرہ سپاٹ تھا

” کیا ہوا ؟”

” اس مہربانی کی وجہ جان سکتی ہوں ؟”

” اااا۔۔۔۔ مہربانی نہیں ہے ، میرے جاننے والوں کو ضرورت تھی ورکرز کی “

” اور آپ کو صرف میں یاد آئ ؟”

” جی۔۔۔ مجھے صرف آپ یاد آئیں “

نظریں اس کی کلائ پر گئ ، سیاہ چوڑیاں

” آپ نے غلط انسان کو یاد رکھا ، بہت شکریہ لیکن میں یہ آفر قبول نہیں کرسکتی “

وہ سنجیدہ تھی ، از حد سنجیدہ ، اس سے بات کرنا اور بات تھی ، یوں فیور قبول کرنا اور بات ، اس نے کبھی اپنے بھائ کے علاوہ کسی سے کوئ مدد یا احسان نہیں لیا تھا اور وہ اس کا بھائی نہیں تھا ( وہ اس کا بھائ بننے پر راضی بھی نہیں تھا )

” آپ مجھے شاید غلط سمجھ رہی ہیں “

” نہیں ۔۔۔۔”

” میری کوئ بات بری لگی ہے آپ کو ؟”

” دیکھیں سنان، آپ کی مدد کا شکریہ لیکن مجھے اس طرح احسانات لینا نہیں پسند ، میں کچھ نا کچھ کرلوں گی ، آپ کو آؤٹ آف دا وے جا کر میرے لئے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ، وہ بھی اس صورت میں جبکہ ہم ایک دوسرے کے لئے اجنبی ہیں “

” میں آؤٹ آف دا وے جا کر آپ کی مدد نہیں کررہا ، انہیں واقعی ورکر کی ضرورت ہے ، اور یہ کوئ احسان بھی نہیں ہے جس کا آپ کو بدلہ اتارنا پڑے ، آپ کی جگہ اگر کوئ اور ہوتا تو میں اسے بھی یہ جاب دلوادیتا “

اس کا چہرہ بھی سنجیدہ ہوچکا تھا

” آپ کسی اور کو یہ جاب دلوادیں پھر “

” آپ کی جگہ کوئ اور ہے ہی نہیں ۔۔۔۔”

” سنان۔۔۔۔۔”

” میری بات سنیں معطر ، میں سنان سعدی خان ہوں ، میرے گھر میں مجھے یہ تربیت نہیں دی گئ کہ اگر میں کسی عورت کو تکلیف میں دیکھوں اور میں اس کی مدد کرسکتا ہوں تو میں یہ نا کروں ، آپ میرے ملک سے ہیں ، یہاں اجنبی ہیں ، دوسرے ملک میں اپنے ملک کا ہر فرد خاندان جیسا ہے ، میری غیرت یہ گوارا نہیں کرتی کہ میرے ملک کی کوئ خاتون اس طرح سڑکوں پر ایک جاب کے لئے خوار ہو جبکہ میں اس کی مدد کرسکتا ہوں “

” میرے لئے اتنی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے “

” آپ کی جگہ کوئ اور ہوتا میں تب بھی یہی کرتا ، لیکن بات یہی ہے کہ فلوقت آپ ہی ہیں ، اور میں نے کوئ سفارش نہیں کی آپ کے لئے ، آپ جائیں اگر وہ آپ کو رکھنا چاہیں تو رکھ لیں گے ورنہ میرے کہنے پر کم از کم وہ یہ کام نہیں کریں گے “

سنجیدگی لیکن نرمی سے کہتے ہوئے اس نے وہ کارڈ اس کے ہاتھ کی طرف بڑھانا چاہا لیکن اس کا ہاتھ آگے نہیں آیا ، وہ کچھ دیر ٹھہرا پھر کارڈ دھیرے سے اس کی کلائیوں میں پہنی ہوئ چوڑیوں کے درمیان اٹکایا ، اس طرح کے اس کا ہاتھ معطر کے ہاتھ کو نا لگے ، کارڈ چوڑیوں کے درمیان اٹک گیا ، جلترنگ سی فضا میں بکھری ، وہ اس جلترنگ کو سننتے ہوئے پیچھے ہوا ، نظر کلائ سے اس کے چہرے پر گئ

“په خپل مسکا سره د ورحیئ ښکلا نوره هم زیاته کری”

(اپنی مسکراہٹ سے دن کی خوبصورتی میں اضافہ کریں )

پشتو میں کہتا وہ اسی سنجیدگی سے پیچھے کی طرف بڑھ گیا ، معطر کی نظر کلائ پر گئ ، سفید رنگ کا کارڈ ، دوسرے ہاتھ سے وہ کارڈ نکالتے اس نے پیچھے دیکھا ، اس کی گاڑی اپنے راستے پر روانہ ہوچکی تھی

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

کچھ پس وپیش کے بعد اس نے وہاں جانے کا فیصلہ کرلیا کہ فلوقت اسے کام کی ضرورت تھی ، فنسبری پارک سے زیادہ فاصلہ نہیں تھا ، وہ آرام سے پیدل آ جا سکتی تھی ، کام آسان تھا ، وہ کوئ یوٹیلیٹی سٹور تھا ، جہاں انہیں سامان نکال کر مختلف سیلف میں رکھنا تھا ، کوئ کسی سامان کا پوچھتا تو ان کی رہنمائی کرنی تھی ، اس نے نا ہی سنان کا حوالہ دیا نا ہی اسے ضرورت پڑی ، جاب شاید اسی کے لئے لکھی تھی تو مل گئ ، شفٹ شام کی تھی ، دوپہر سے رات تک ، اس کی پہلے صبح مصروف ہوتی اب شام

اس دن کے بعد سے سنان سے دوبارہ نا اس کی بات ہوئ نا ملاقات ، اس کے جانے کے بعد اسے احساس ہوا کہ شاید وہ کچھ زیادہ ہی سخت ہوگئ تھی ، اس کے بعد وہ نظر ہی نہیں آیا تھا کہ وہ اس سے معافی مانگ لیتی ، بعض لوگ یوں غائب ہوتے ہیں کہ ان کی موجودگی صرف خیال لگتی ہے

اور بعض لوگ یوں نظر آتے ہیں کہ دل چاہتا ہے ان کی موجودگی خیال ہی ہو

ایرک کیان ، اسے اپنا دوسرا پسندیدہ کام کرنے کے لئے وہی سٹور ملا تھا ، ٹرالی گسھیٹتے وہ انتہائ سنجیدگی سے چیزیں الٹ پلٹ کر دیکھ رہا تھا ، گویا اسے اس کام کا کئ سالہ تجربہ ہو جب نظر اس پر گئ ،ابرو اچکائے ، ہونٹ گول ہوئے ، لبوں پہ کمینی سی مسکراہٹ ابھری

” تمہیں اتنی جلدی جاب مل گئ ؟”

کاؤنٹر پر رکھے سامان کی لسٹ بناتے ہوئے اس نے چونک کر سر اٹھایا اور پھر حلق تک کڑوا ہوگیا

” یہاں کیا کررہے ہو ؟”

” یہ سٹور ہے ، انسان یہاں سے کھانے کے لئے چیزیں لینے آتے ہیں ، میں انسان ہوں اور میں کھاتا بھی ہوں”

” تو سامان لو اور جاؤ “

” تم نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا ، تمہیں اتنی جلدی جاب کیسے مل گئ ؟”

” تمہیں کوئ اعتراض ہے ؟”

” میں اپنے ملک کے لوگوں کی فکر کرتا ہوں ، میرا خیال ہے مجھے اسٹور کے اونر سے بات کرنی چاہئے ، تم ان خطرناک ہتھیاروں کے ساتھ لوگوں کی زندگی مشکل میں ڈال رہی ہو”

وہ اس کی چوڑیوں کا کہہ رہا تھا ،اس کا رواں رواں ساکت ہوا ، دل ایک دم دھڑک کر رکا

” میرا پیچھا چھوڑ کیوں نہیں دیتے تم ؟”

وہ سیدھی ہوتی غرائ

” تمہیں غلط فہمی ہے کہ میں تمہارے پیچھے ہوں ، تم نے آخری وہیں جاب کیوں کی جہاں سے میں گروسری لیتا ہوں ؟”

اسے علم ہوتا تو مر کر بھی یہاں نا آتی ، اللہ صبر

” تم آخر یہیں سے کیوں شاپنگ کرتے ہو ؟”

” یہاں چیزیں سستی ملتی ہیں ، تمہیں کچھ چاہئے ہو تو بتانا ، میرے خیال سے دنیا کے سب سے سخی انسان کا ایوارڈ مجھے دیا جا سکتا ہے “

” وہ دن اس دنیا پہ سخاوت کا آخری دن ہوگا “

” بہت شکریہ ۔۔۔۔”

وہ دو قدم پیچھے ہوا ، سر پہ پہنی کیپ اتارتا پیچھے لے گیا ، ایک ہاتھ سینے پر رکھ کر ہلکا سا جھکا ، پھر سیدھا ہوا اور اسے دیکھ کر تپانے والے انداز میں مسکرایا

” لیکن میری آفر برقرار ہے “

سیٹی گنگناتے وہ ٹرالی گسیٹتا آگے بڑھ گیا ، اس کا خیال تھا اب وہ اپنا سامان لے گا اور چلا جائے گا ، اس کا خیال غلط تھا ، تھوڑی دیر بعد وہ اس کے سامنے کھڑا تھا

” تمہارے سٹور میں چپس نہیں ہے ؟”

” آخری رو میں سامنے پڑی ہے”

” میں آخری رو کے سامنے سے گزر کر یہاں آیا ہوں “

اس نے جھنجھلا کر اسے دیکھا ، اندھا نا ہو تو

پیر پٹختی وہ آخری رو تک گئ ، چپس کے دو پیکٹ اٹھا کر پٹخنے والے انداز میں اس کی ٹرالی میں رکھے

” یہ رکھے ہیں۔ کیا تمہیں نظر نہیں آتا ؟”

” میں نے کب کہا کہ مجھے نظر نہیں آئے ؟ میں تو صرف پوچھ رہا تھا کہ کیا یہاں چپس ہیں ؟”

کاندھے اچکاتے وہ پھر سے غائب ہوگیا

” کیا ٹوتھ پیسٹ برطانوی ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ سے منظور شدہ ہے ؟”

دو منٹ بعد وہ پھر سامنے ٹھہرا تھا

” مجھے کیا معلوم ؟’

” کیا تمہارا فرض نہیں ہے ؟”

” نہیں ، میں ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ سے تعلق نہیں رکھتی “

” کریکر کم کیوں ہیں اس مرتبہ ؟”

” میں پچھلی مرتبہ یہاں نہیں تھی ، مجھے نہیں معلوم”

” کیا یہ جوس فریش ہے ؟”

” ہاں …”

” میں کیسے یقین کروں ؟”

” مت کرو اور جاؤ یہاں سے “

اس کی بس ہوگئ تھی ، اس کی اب بس ہوگئ تھی ، دماغ تھا کہ پھٹنے کو تھا

” تم ایک اچھی ایمپلائے نہیں ہو “

آخر میں بے نیازی سے تبصرہ کرتا وہ اپنا سامان سمیٹتا کاؤنٹر کی طرف بڑھ گیا ،معطر کو جی بھر کر غصہ آیا ، مٹھیاں بھینچتے وہ آخری رو کی طرف آئ ، وہ جاتے جاتے سامان بکھیر گیا تھا ، سامان واپس رکھتے ہوئے اس کی نظر شیشے کے گلاس وال سے باہر گئ ، وہ سامان سے بھرے دو بیگ اٹھائے چل رہا تھا ، پھر کسی گاڑی کے پاس وہ رکا ، اِدھر اُدھر مشکوک نظروں سے دیکھا ، لمحے کا کھیل تھا کہ اس نے دیکھا کہ دونوں پیکٹ کھول کر اس نے چند چیزیں باہر نکالیں، ایک دو کو جیکٹ کی جیب میں ٹھونسا ، کچھ کو جینز کی جیب میں ، پھر سیدھا ہوا ،کیپ درست کی ، مسکینیت سے مسکرایا اور آگے بڑھ گیا ، وہ سامان وہیں رکھتی گلاس وال تک آئ ، سامان اسی طرح اٹھائے وہ کسی خاتون کے سامنے رکا ، بیگ ان کی طرف بڑھایا ، کریدٹ کارڈ ، خاتون حاملہ تھیں ، چند لمحے رک کر انہیں کچھ کہتا رہا ، وہ سامان دینا چاہ رہی تھیں ، کچھ پیسے بھی دینے کی کوشش کی ، وہ جھٹ پیچھے ہوا ( میسنا )

پھر وہ کیپ درست کرتا ہاتھ سینے پر رکھتا ہلکا سا جھکا اور ماتھے پر دو انگلیوں سے سلیوٹ کرتا آگے بڑھ گیا ، خاتون ممنون نظروں سے اسے دیکھتی اپنی گاڑی میں بیٹھیں

وہ گلاس وال کے ساتھ ٹھہری اسے دیکھتی رہی ، جب وہ چلا گیا تو وہ کھلے منہ سے پلٹی، آنکھوں میں شرارے سے لپکے ، کس قدر بدتمیز انسان تھا یہ ، خریداری اور مدد کے نام پر بچاری خاتون کے کتنے پیسے لٹائے ہوں گے ، دوغلا اور منافق ۔۔۔ ہنہہ

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

سنان سعدی اسے سڑک کے اس پار نظر آیا تھا ، وہ بیگ سنبھالتی کس قدر تیزی سے اس تک آئ

” سنان۔۔۔۔ “

وہ ٹھٹک کر رکا ، موبائل کان سے لگا رکھا تھا ، چند لمحے پشتو میں کچھ کہا ، وہ پھولی سانسوں کے ساتھ سنتی رہی ، دومنٹ بات کی پھر کال کاٹ کر سنجیدگی سے اسے دیکھا

” کیا میں آپ کو جانتا ہوں ؟'”

” ایک ہفتے میں بھول گئے ہیں ؟”

” کیا ایک ہفتہ گزرا ہے ؟ مجھے لگا ایک سال گزر گیا ہے”

وہ ہنوز سنجیدہ تھا لیکن الفاظ ؟ معطر نے سر جھٹکا

” میں اس دن کچھ سخت لہجے میں بول گئ ، آئ ایم سوری “

” کوئ بات نہیں ، میرا دل ویسے بھی پلاسٹک کا بنا ہوا ہے “

” میں نے جاب سٹارٹ کردی ہے “

وہ کچھ بے بسی سے بولی ، اسے اب اندازہ ہوا تھا کہ وہ واقعی کچھ زیادہ ہی سخت ہوگئ تھی

” اور میں نے سفارش نہیں کی تھی ، بہت مبارک ہو “

اسی سنجیدگی سے کہتا وہ آگے بڑھ گیا ، معطر آنکھیں میچتی وہیں ٹھہری رہی ، وہ اس کا محسن نا ہوتا تو اس کی بلا سے وہ ناراض رہتا اسے زرا برابر پرواہ نہیں تھی لیکن مسئلہ یہ تھا کہ وہ اس کی احسان مند تھی اور اتنی کم ظرف تو کبھی نہیں رہی تھی کہ جس نے احسان کیا تھا اسے یوں ناراض کردے

اگلے دن وہ لوئ کے سکول کے باہر گئ تو چھٹی ابھی ہی ہوئ تھی ، حسب توقع وہ منہ زیادہ اور قدم کم چلاتی سامنے سے آرہی تھی ، اسے دیکھا تو اس کے سامنے آئ ، لمبی سٹریپ والا بیگ دائیں کاندھے سے گزار کر بائیں جانب رکھے اس نے گلا کھنکارا

” کیا تمہاری دوستی کی آفر ابھی تک برقرار ہے ؟”

” دو چاکلیٹ کے ساتھ وہ کل ہی ایکسپائر ہوچکی ہے “

” یعنی میں امید چھوڑدوں ؟”

اس نے اپنے بیگ سے چاکلیٹ کے پیکٹ نکالتے کچھ مایوسی سے پوچھا

” چار چاکلیٹ کے ساتھ وہ اس وقت دوبارہ سے اویلیبل ہے “

لوئ کے لبوں پہ دنیا جہاں کی خوبصورت مسکراہٹ ابھری

” چار چاکلیٹ کے ساتھ ہم دوست “

اس نے اپنا لمبا نازک ہاتھ لوئ کی طرف بڑھایا ، جوابا اس کے دونوں ہاتھ آگے بڑھے ، معطر نے گہری سانس لیتے چاکلیٹ کے چاروں پیکٹ اس کے ہاتھ میں رکھے

” اب تم مجھے کیا تحفہ دو گی ؟”

” میں پہلے ہی بتا چکی ہوں ، میں ایک سٹوڈنٹ ہوں اور میرے پاس سوائے اپنی کتابوں کے تمہیں دینے کے لئے کچھ نہیں ہے، وہ لے سکتی ہو ،بہت شوق سے “

” مجھے کچھ اور چاہئے “

” کیا ؟ “

اس نے جواب دینے کی بجائے ایک چھوٹا سا سفید کاغذ اس کی طرف بڑھایا ، اوپر چاکلیٹ بندھی ہوئ تھی

” یہ سنان کو دے سکتی ہو ؟’

” لو لیٹر ہے ؟”

” بالکل نہیں” اس کا چہرہ سرخ ہوا ” معافی نامہ “

لوئ نے سر ہلاتے وہ کاغذ اندر رکھا

” ممی ٹھیک کہتی ہیں “

” کیا کہتی ہیں ؟”

” یہ کہ دنیا بہت مطلبی ہے ، تم نے مجھے صرف یہ خط دینے کے لئے دوست بنایا ہے نا ؟ “

وہ سٹپٹائ

” نہیں تو “

” سچ بولنے والے عظیم ہوتے ہیں ، میں عظمت کی قدر کرتی ہوں ، کوئ بات نہیں ، مجھے ضرورت کے وقت گدھا بننے پر کوئ اعتراض نہیں “

وہ ڈھٹائ سے کہتی آگے بڑھ گئ ، گہری سانس لیتے معطر نے اپنا رخ گھر کی طرف موڑ دیا ،پتا نہیں سنان راضی ہوگا یا نہیں

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆