Laa By Fatima Noor Readelle50338 Laa (Episode 34) 2nd Last Episode
Rate this Novel
Laa (Episode 34) 2nd Last Episode
Laa By Fatima Noor
وہ جتنی تیزی سے گاڑی ڈرائیو کرسکتا تھا اتنی تیزی سے کرتے گھر پہنچا ، باہر گاڑی کھڑی کرتے جھٹکے سے دروازہ کھولتے وہ اندر پہنچا تو سامنے لاؤنج میں ہاجرہ کے ساتھ رضیہ بیٹھی تھیں ، کسی بات پر وہ دونوں ہنس رہی تھیں ، وہ جھٹکے سے ان تک پہنچا اور میز سے گلاس اٹھاتے زمین پر پھینکا ، ہاجرہ چیخ مارتے اٹھی
” خوش ہو جائیں آپ امی …” وہ پوری قوت سے چلایا ، رضیہ شاکی چہرے کے ساتھ کھڑی ہوئیں ” انہوں نے معطر کا رشتہ طے کردیا ہے ، وہ عورت میرے سامنے کھڑی ہو کر مجھے بتارہی تھی کہ اس نے اپنی بیٹی کا رشتہ طے کردیا ہے ، خوش ہو جائیں آپ “
اس کی آنکھیں لال انگارہ ہوئیں ، ماتھے پر پسینہ ابھرا ، رضیہ ششدر سی اس تک آئیں اور اس کی کہنی پر ہاتھ رکھا
” تیمور کیا کہہ رہے ہو ؟”
” ہاتھ نا لگائیں مجھے ” ۔۔۔اس نے ان کا ہاتھ جھٹک دیا ” وہ میری زندگی میں واحد خوشی تھی ، واحد ، آپ نے اسے چھین لیا ، بخدا میرا دل کررہا ہے آگ لگادوں دنیا کو “
ہاجرہ نے ہونٹوں پر ہاتھ رکھے بمشکل اپنی چیخ روکی ، رضیہ کے پاس الفاظ ہی ختم ہوگئے
” وہ اس کی ماں ، وہ عورت جس کی میں عزت بھی صرف معطر کی وجہ سے کرتا تھا وہ آپ سے تو بہتر نکلی ، اس کا باپ جسے میں دیکھنا بھی پسند نا کروں وہ بھی آپ سے بہتر تھا ، غیرت مند تھا جو میری چند باتیں سن کر ہی مر گیا ، ان کا چہرہ سفید پڑ رہا تھا امی میں پھر بھی میں بولتا رہا ، آپ کو کیسے باتیں سناؤں ، آپ کو سنا بھی نہیں سکتا ۔۔۔”
” تیمور بھائ ….”
بلآخر وہ کچھ بول سکی ، تیمور نے سرخ نظریں اس کی طرف گھمائیں
” اوہ ہاجرہ ، تم سنو میری بات ” وہ جھٹکے سے اس تک پہنچا ، ہاجرہ نے دیکھا وہ کانپ رہا تھا” تمہیں علم ہے ہماری ماں نے مجھے تمہارے نام پر بلیک میل کیا تھا ، ہاجرہ چلی گئ تو میں اکیلی پڑ جاؤں گی ، ہاجرہ یہ ہاجرہ وہ ، ہاجرہ باقی رہ گئ ، تیمور مر گیا ، بچپن سے ان کے اشاروں پر چلا ہوں اور یہ ایک معطر کو میری زندگی میں نہیں لا سکیں ” وہ غرایا پھر رضیہ کی طرف مڑا ” اور امی آپ ، آپ اس کی ماں سے کہیں اس کی شادی مجھ سے کریں ورنہ بخدا میں اس لڑکے کو زندہ نہیں چھوڑوں گا ، میں اسے جان سے۔۔۔۔”
وہ مزید نا بول سکا ، ہاتھ سینے پر گیا ، چہرہ پسینے سے پہلے ہی تر تھا ، ہاجرہ گھبرا کر اس تک آئ
” بھائ….”
تیمور نیچے گھٹنوں کے بل گرا ، اس کا ہاتھ ناک پر گیا ، وہاں سے خون نکل رہا تھا ، سر درد سے پھٹنے کو تھا ، اس نے ہاتھ بڑھا کر گریبان کے بٹن کھولنے چاہے ، گھٹن بڑھ رہی تھی
” امی گاڑی نکلوائیں ، بھائ ۔۔۔”
ساکت ٹھہری رضیہ کو ہوش آیا ، وہ فوراً تیمور تک آئیں
” تیمور …”
اس کے گال پر ہاتھ رکھ کر تھپتھپایا ، اس نے ہاتھ جھٹکنا چاہا لیکن ہمت نہیں ہوئ ، سر پر کسی نے گویا پتھر رکھ دیا ، آنکھیں بند ہونے لگیں ، حواس گم ہوتے گئے ، وہ وہیں زمین پر اوندھے منہ گرا
” امی ڈاکٹر کو بلائیں “
ہاجرہ چیخ رہی تھی ، رضیہ ڈرائیو ، ملازم کسی کو آواز دینے لگیں
تیمور حیدر کو پینک اٹیک آیا تھا اور اس مرتبہ شدید آیا تھا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
یہ دو دن بعد کی بات ہے جب ہلکے سرمئ رنگ کے گیٹ سے اندر جھانکو تو سامنے برآمدے میں ٹھہری ساجدہ نظر آتی تھیں ، نیلے رنگ کا جوڑا پہنے وہ سامنے ٹھہری مبشرہ کو ڈانٹ رہی تھیں
” وقت پر تیاری مکمل ہوتی بھی ہے تمہاری ؟ دانیال معطر کو لینے گیا ہے اور یہاں اس کے کمرے کا حال دیکھو ،جاکر نکالو ساری لڑکیوں کو وہاں سے ، نکاح وہیں ہوگا “
گلابی پیروں تک آتے فراک میں ملبوس مبشرہ جو اکتا کر ان کی ڈانٹ سن رہی تھی فوراً اوپر کی طرف گئ
ان کے سامنے گیٹ کھلا پھر سفید شرارے میں ملبوس معطر گاڑی سی اترتی دکھائ دی ، وہ تیزی سے اس تک گئیں ، سفید شرارہ تھوڑا بھاری تھا ، اس نے دوپٹے کا گھونگٹ لے رکھا تھا ، چادر بھی اوڑھ رکھی تھی ، ساجدہ نے اس تک جاتے ایک ہاتھ پشت پر رکھا اور دوسرے سے اس کا ہاتھ تھاما ، دانیال پیچھے سامان کسی کزن کو پکڑا رہا تھا
” کب تک آرہے ہیں وہ لوگ ؟”
وہ جاتے جاتے اس سے پوچھنے لگیں
” کال آئ تھی ، بس آدھے گھنٹے تک پہنچ جائیں گے”
سر ہلاتے ساجدہ معطر کو سیڑھیوں سے اوپر کمرے میں لے گئیں ، کمرے میں آتے اس کا گھونگھٹ اٹھایا تو پل بھر کو اسے دیکھ کر رہ گئیں ، سادہ سی رہنے والی معطر پر دلہناپے کا روپ ٹوٹ کر آیا تھا ، اس کا میک اپ سادہ سا تھا ، کانوں کے جھمکے اور مانگ ٹیکا بھاری تھا ، سر پر پڑا ریشمی دوپٹہ سرخ رنگ کا تھا
” ماشاءاللہ….”
جھک کر اس کے سر پر بوسہ دیا تو وہ ہلکا سا مسکرائ
” تمہارے بابا ہوتے تو صدقہ اتارتے “
ان کی آنکھ نم ہورہی تھی ، سامان اکٹھی کرتی مبشرہ کے ہاتھ رکے پھر وہ سر جھٹکتے دوبارہ سب درست کرنے لگی ، معطر کے حلق میں آنسو اٹک رہے تھے ، آج بابا یاد آرہے تھے اور بے تحاشہ یاد آرہے تھے
” آپ ان کے حصے کی دعائیں بھی دے دیجئے گا “
اُنہوں نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا
” مبشرہ ، دروازہ بند کردو جس کا دل چاہ رہا ہے اوپر آرہا ہے ،میں نیچے دیکھ لوں “
وہ تیزی سے کہتے نیچے کی طرف بڑھ گئیں ، چند چند لوگوں کو بلاتے بلاتے بھی کافی لوگ جمع ہوگئے تھے ، سارے رشتے دار گویا یہیں اکٹھے تھے
رشتے دار
معطر کے آدم کیان سے رشتہ جوڑنے پر جو واویلا سب نے مچایا تھا وہ اب تک حیران تھیں کہ سب سمٹ کیسے گیا تھا
” ہم لوگ شادی میں نہیں آئیں گے”
افتخار صاحب کے چچا کی بیگم جنہیں سب بڑی دادی کہتے تھے اُنہوں نے گویا حتمی اعلان کیا تھا ، لاؤنج میں آدھے خاندان کے لوگ جمع تھے ، آدم واپس ہوٹل جا چکا تھا
” مجھے جو اپنی بچی کے لئے صحیح لگا میں نے وہی کیا اماں “
” لڑکا تو دیکھ لیتیں ساجدہ ، ایک تو نیا نیا مسلمان ،پھر غیر ، دوسرے ملک کا رہنے والا ، ارے رشتہ جوڑتے ہوئے آنکھیں بند کرلی تھیں کیا ؟”
” معذرت کے ساتھ لیکن بڑی دادی آپ لوگ کس حق سے میری ماں کے فیصلے پر اعتراض کررہے ہیں ؟” دانیال کا ضبط یہیں تک تھا ، وہ یکدم کرسی سے اٹھا
” بڑے ہیں اس خاندان کے ہم “
” ہمارے لئے نہیں ہیں ، آپ لوگ تب کہاں تھے جب میرے باپ کو کینسر ہوا تھا اور ہم تنہا ہوگئے تھے ؟ مالی امداد تو کجا آپ سب نے تسلیاں دینا بھی گوارا نہیں کیا ، تب آپ سب کہاں تھے جب حسن چاچو نے ہمارے حق پر قبضہ کرلیا تھا ؟ آپ سب تب کہاں تھے جب تیمور نے معطر سے چار سال پرانی منگنی توڑی تھی ؟ تب کہاں تھے جب میرا باپ مرا تھا ؟ تب کہاں تھے آپ سب جب تیمور اور حسن چاچو ہمیں اس گھر سے نکالنے کی دھمکیاں دے رہے تھے ؟ اب کس منہ سے آپ سب یہاں آئے ہوئے ہیں ؟ کس منہ سے ہمارے فیصلوں پر اعتراض اٹھارہے ہیں ؟ نہیں آنا تو مت آئیں معطر کے نکاح میں ، ہمیں اب آپ سب کی ضرورت بھی نہیں ہے ، اپنی بہن کے لئے میں اور اپنی بیٹی کے لئے میری ماں کافی ہیں “
وہ پہلی بار ضبط کھوتا یوں پھٹا تھا ،وہاں بیٹھے سب کو جیسے سانپ سونگھ گیا ، اس کے بعد نا کسی کی اعتراض کی ہمت ہوئ نا کسی نے اعتراض کیا ، جس جس کو مدعو کیا گیا وہ خاموشی سے آگیا جسے مدعو نہیں کیا گیا وہ گھر میں بیٹھ کر تبصرے کرتا رہا ، آدم کو عید کے تیسرے دن واپس جانا تھا اور دو دن بعد عید تھی ، اس لئے وہ چاہتا تھا کہ فلوقت صرف نکاح کردیا جائے ، وہ اپنے ماں باپ کو راضی کرکے واپس آ کر رخصتی کرواجائے گا
” آدم بھائ تو گئے کام سے آج آپی “
آئینے میں خود کو دیکھتی معطر ہلکا سا مسکرائی ، مبشرہ سامان درست کرتی وہاں سے چلی گئ تو کمرہ خالی ہوگیا ، دروازہ بند ہوگیا ، اس نے میز پر پڑا موبائل اٹھایا تو سامنے اس کا میسج آیا ٹھہرا تھا
” کیسی لگ رہی ہو ؟”
” خود دیکھ لینا “
” پک ہی بھیج دو “
” سامنے بیٹھ کر اپنی آنکھوں سے دیکھ لینا “
ٹائپنگ کرتے ہوئے مسکراہٹ دبائ ، اس انسان کو تنگ کرنے کا بھی اپنا ہی مزہ تھا
” شوہر کی نافرمانی کروگی ؟”
” کون سا شوہر ؟ ابھی نکاح نہیں ہوا “
” تھوڑی دیر کی بات ہے ، پھر تم معطر صبا سے مسز آدم بننے والی ہو “
” زیادہ ہوا میں مت اڑو ،میں انکار بھی کرسکتی ہوں “
” تم کرکے دکھاؤ ، میں اس بار پورا پاکستان تمہارے خلاف لے آؤں گا “
وہ ہنسی
” میرا پاکستان مجھ سے وفادار ہے “
چیٹس کی طرف جاتے اس کی نظر دوسرے نمبر پر گئ تو مسکراہٹ سمٹی ، وہ ہاجرہ کا نمبر تھا
” تیمور بھائ ہوسپٹل میں ہیں آپی “
اس نے میسج سین کرکے چھوڑ دیا تھا ، تیمور حیدر دو دن سے ہسپتال میں تھا ، وہ جانتی تھی ، ان کے گھر سے نا کوئ پوچھنے گیا نا کسی نے کال کی ، اس کی خیریت کی اطلاع دانیال کو کسی کزن نے دے دی تھی ، موبائل رکھتے اس نے دوپٹے کو دیکھا ، وہ بھاری تھا اور بار بار پھسل رہا تھا ، جانے پارلر والی لڑکی نے کتنی پنیں لگا دی تھیں ، اس نے ہاتھ بڑھاتے دوپٹہ درست کرنا چاہا اسی لمحے دروازہ ہلکا سا کھلا
” مبشرہ ، یہ پنز تو سیٹ کردو ، دوپٹہ بار بار اتر رہا ہے “
بنا سر اٹھائے اس نے پکارا لیکن دوسری طرف سے جواب نہیں آیا ، اس کا سر اٹھا اور پھر پورا کا پورا وجود تھم گیا
” آپا …..”
وہ بانو آپا تھیں ، سیاہ ہلکے سے کام والے سوٹ میں ملبوس دروازے میں ایستادہ ، معطر ٹرانس کی کیفیت میں اٹھی
” یا اللہ ، آپ کیسے ؟”
وہ آگے بڑھتی ان کے گلے لگی ، بانو آپا نے زور سے اسے بھینچا ، آنکھیں نم ہوگئیں
” تم نے بلایا تو میں منع نہیں کرسکی “
” اوہ آپا …” وہ ان سے الگ ہوتی ان کا ہاتھ تھامتے روپڑی ” آپ کو علم بھی نہیں کہ میں نے آپ کو کتنا یاد کیا”
” اچھا چپ ۔رو نہیں ، میک اپ خراب ہو جائے گا ” اسے ڈانٹتے اُنہوں نے اپنی آنکھوں کو صاف کیا پھر بیڈ پر بیٹھیں ،معطر اپنا شرارہ سنبھالتی ان کے ساتھ بیٹھی
” آپ پہلے کیوں نہیں آئیں ؟”
” تمہارا میاں بلا کا ضدی ہے ، میں تو اب بھی نا آتی لیکن اس نے ٹکٹ لے کر بھیج دیئے “
میاں ؟ اسے ہنسی آئ
” اچھا کیا اس نے “
” تم خوش ہو معطر ؟” بانو آپا نے غور سے اسے دیکھا
” خوش ہوں آپا ، پُرسکون بھی ہوں ، ایک موقع اپنے اور آدم کے دل کو دینا چاہتی ہوں “
” وہ تمہیں خوش رکھے گا “
” جانتی ہوں “
کچھ دیر وہاں خاموشی رہی پھر معطر نے ٹشو سے آنکھیں صاف کرتے انہیں دیکھا
” کتنے دن کے لئے آئ ہیں ؟”
” ہمیشہ کے لئے “
اس کا ہاتھ تھما ، بے یقینی سے اُنہیں دیکھا
” سچ میں ؟”
” اس لئے تو دیر ہوگئ ، وہاں سے سارا کچھ سمیٹ کر یہاں آئ ہوں “
” یہ فیصلہ کیسے لیا آپ نے ؟”
” مجھے احساس ہوا معطر میری غلطی بہت بڑی تھی ،معافی وہاں بیٹھ کر مانگنے سے نا ملتی ، مجھے خطوط بھیجنے کی بجائے خود آنا چاہئے تھا ، مجھے لگتا رہا کہ کسی دن کوئ بلاوا آہی جائے گا لیکن میں یہ بھول گئ کہ جن کے قصور بڑے ہوں انہیں بلاوے کا انتظار نہیں کرنا ہوتا انہیں معافی کے لئے خود جانا پڑتا ہے ، تو میں یہاں خود آگئ ، تمہارے نکاح کے بعد اپنے گاؤں جاؤں گی “
” وہ آپ کو معاف کردیں گے ” اس نے تسلی دی
” نا بھی کریں تو میں یہیں رہوں گی ، مجھے پردیس کی قید سے ڈر لگنے لگا تھا ، یہاں اماں اور ابا نہیں رہے لیکن بہن بھائ تو ہیں ، نا بھی مانے تو مرنے پر اپنے شہر میں دفن تو کردیں گے ، وہاں تو قبر بھی گمنام ملتی “
” اچھی اچھی باتیں کریں آپا ، سب ٹھیک ہوگا “
” ہاں اچھی اچھی باتیں ، میں بھی اپنے غم لے کر بیٹھ گئ ، تمہیں بھی رلا دیا ، چلو شاباش آنسو صاف کرو ” اُنہوں نے اپنے چہرے سے آنسو صاف کرتے اسے ڈانٹا تو وہ سر ہلا گئ ،نیچے سے شور کی آواز آرہی تھی ، یقیناً بارات آ گئ تھی آدم کی طرف سے اس کا خاندان سنان سعدی کا خاندان بنا تھا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
گھونگھٹ اوڑھے اپنے اردگرد اسے بس دانیال نظر آیا تھا یا پھر امی ، کمرے میں چند لوگ ہی تھے ، گواہان ، قاضی اس کی امی اور ایک دو رشتے دار ، دانیال اس کے ساتھ بیٹھا تھا ، وہ اس کا ہاتھ تھامے ہوئے تھا ، وہ بھائ نہیں باپ بن کر اس کے ساتھ کھڑا رہا تھا ، اس کے کانپتے ہاتھوں کو اس وقت واقعی کسی سہارے کی ضرورت تھی ، نکاح خواں کے کلمات اس نے تیزی سے دھڑکتے دل کے ساتھ سنے تھے ، عجیب کیفیت ہوگئ ، بابا یاد آرہے تھے اور شدت سے یاد آرہے تھے ، سامنے سفید لباس میں ملبوس نکاح خواں کلمات پڑھ رہے تھے
پہلی مرتبہ ” قبول ہے” کہنے پر اسے تیمور حیدر یاد آیا تھا
دوسری مرتبہ ” قبول ہے” کہنے پر سنان سعدی یاد آیا
تیسری مرتبہ ” قبول ہے ” کہنے پر اس کی زندگی کا محور آدم کیان ہوگیا
دانیال نکاح فارم اس کی طرف بڑھا رہا تھا ، وہ بتارہا تھا کہ اسے کہاں دستخط کرنے ہیں ، اس کا ایک ہاتھ وہ اب بھی تھامے ہوئے تھا ، دوسرا ہاتھ اس کے سر پر رکھا ، باپ ، بھائ ، دوست ، سب کچھ ، اس نے کانپتے ہاتھوں سے دستخط کئے
پہلا دستخط کرنے پر اس نے آدم کیان کو اس کے ماضی سمیت قبول کیا اور خود کو اپنے ماضی سمیت اس کے نام کیا
دوسرا دستخط کرنے پر اس نے اپنے حال کو پوری رضامندی سے اس کے نام اور اس کے حال کو پوری رضا سے اپنے لئے قبول کیا
تیسرا دستخط کرنے پر اس نے اپنے مستقبل کا ہر حق آدم کیان کے نام اور اس کے مستقبل کا ہر غم اور خوشی اپنے لئے قبول کی
نکاح فارم واپس کرتے اس نے ہر پرانے شخص کو بھلادیا ، اسے اب ایک شخص کے حال سے غرض تھی ، اسے بس ایک شخص سے وفادار رہنا تھا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اور اس شخص کو اچھی طرح یاد تھا اس کے اردگرد کون تھا ، سعدی خان ، درخزئ ، دانیال کے رشتے دار
اس نے نکاح سے پہلے ایک بار کیان کو کال کی تھی ، اُنہوں نے نہیں اٹھائ ، ہیزل کو کی وہ خاموشی سے سنتی رہیں ، انہیں بتایا کہ وہ نکاح کرنے جارہا ہے ، انہیں معطر کا بتایا ، اس کے گھر کا ایڈریس دیا
” میں آپ کا انتظار کروں گا مام “
وہ آخری لمحے تک منتظر رہا ، آخری لمحے تک گیٹ پر نظریں ٹکائے رہا ، نا کیان کا جواب آیا نا ہیزل آئیں ، اس زمین پر اس کا ہر رشتہ موجود تھا لیکن اس کی زندگی کے سب سے بڑے دن پر وہ تنہا تھا
نکاح خواں اس سے معطر صبا کو اپنی زندگی میں شامل کرنے کے لئے اس کی رضا چاہ رہا تھا ، ایک نیا رشتہ !
اس نے پہلے “قبول ہے “۔ پر صرف معطر کو یاد رکھا
دوسرے “قبول ہے ” پر بھی معطر صبا کو
تیسرے “قبول ہے” پر بھی معطر صبا کو
اس کے ماضی میں وہی تھی ، حال میں وہی ہے اور مستقبل میں بھی وہی رہے گی
پہلا دستخط کرنے پر اس نے تیمور حیدر کے حوالے سے اس کا ماضی اس کے ساتھ قبول کیا
دوسرا دستخط کرنے پر اس نے سنان سعدی کے حوالے سے دل میں موجود ہر موازنہ نکال دیا
تیسرا دستخط کرنے پر اس کی زندگی کا محور معطر صبا ہوگئ
تو کہانی یوں ہوئ کہ لاھور کی معطر صبا لندن کے آدم کیان کے نام !
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
مبشرہ اور باقی سب نے نیچے چھوٹا سا اسٹیج بنادیا تھا سو تھوڑی دیر کے لئے وہ نیچے چلی گئ ، شرارہ سفید رنگ کا تھا ، بازوں پر گولڈن موتیوں کا کام تھا جو کلائ تک آتے تھے ، گلے پر بھی بھاری کام تھا ، قمیص گھٹنوں تک تھی اور نیچے بھاری کام والا شرارہ ، وہ خجستہ خانم کی پسند کا تھا اور انہوں نے ہی بھجوایا تھا
وہ صحن میں رکھے صوفے پر بیٹھی تو دانیال کے ساتھ آدم اندر آیا ، سفید شلوار قمیص پر اس نے سفید کوٹ پہن رکھا تھا ، وہ مشرق کا دلہا بنا تھا ، گلے میں کسی نے پھولوں والا ہار بھی ڈال دیا تھا ، وہ یقیناً اس سے تنگ تھا لیکن اتارا نہیں تھا ، اس کے ساتھ صوفے پر بیٹھا تو اتار کر ساتھ رکھ دیا ، معطر کو خواہ مخواہ گھبراہٹ ہونے لگی
” نکاح مبارک ہو “
اس کے ساتھ ہوتے سرگوشی کی تو وہ مزید پزل ہوئ
” بس بھئ ، باتیں بند کریں ، آدم لالا تصویریں کھنچوائیں اور جائیں اِدھر سے “
” اچھی دھمکی ہے ، اپنی بیوی سے بات بھی نہیں کرنے دی جارہی ” وہ کراہا
ساتھ کھڑی لڑکیوں کی دبی دبی ہنسی گونجی ، وہ چپ چاپ اپنے ہاتھوں کو دیکھتی رہی ، اس نے نا مہندی لگوائ تھی نا چوڑیاں پہنی تھیں ، چند لمحوں بعد وہ اٹھ گیا تو امی نے پریزے کو اسے بھی کمرے میں لے جانے کا اشارہ کیا ، وہ کمرے میں واپس آئ تو کھڑکی کے ساتھ رکھی کرسی پر بیٹھتے اس نے گویا صدیوں بعد سکون کی سانس لی
” تھک گئ ہیں ؟”
” بہت “
صبح سے پارلر ، پھر گھر ، پھر نکاح ، ایک ہی طرح بیٹھے بیٹھے اس کی گردن اکڑ گئ تھی
” مہندی نہیں لگوائ آپ نے ؟”
پریزے اس کے خالی ہاتھ دیکھ کر پوچھ بیٹھی
” اتنا شوق نہیں ہے”
” نکاح کے دن تو لگوا لیتیں “
” بے فکر رہو ، تمہارے لالا نے میرے سونے ہاتھ اور کلائیاں دیکھ کر منع نہیں کرنا تھا “
” وہ تو آپ کو سادہ شلوار قمیص میں بھی اپنے نکاح میں لے لیتے ” پریزے ہنسی ، اسے احساس نہیں ہوا لیکن پریزے کی آنکھیں نم تھیں
” پیاری لگ رہی ہیں”
” شکریہ …..”
” اگر وقت ظالم نا ہوتا تو آج آدم لالا کی جگہ سنان لالا ہوتے “
اس نے رخ موڑ کر پریزے کو دیکھا ، وہ آنکھوں میں کوئ حسرت لئے اسے دیکھ رہی تھی ، اسے سمجھ نہیں آئ وہ کیا کہے
” آپ کو پتا ہے معطر ؟ مجھے آدم لالا بہت عزیز ہیں لیکن سنان لالا جتنے نہیں ، سنان لالا ہوتے تو ہماری خوشی زیادہ ہوتی ، وہ ہوتے تو میں رونے کی بجائے مسکرا رہی ہوتی ، مجھے پہلے یاد آتے تھے آج زیادہ یاد آرہے ہیں ، اُنہوں نے باتوں باتوں میں ایک بار پوچھا تھا کہ معطر پشتون لباس میں کیسی لگے گی ؟ ہمارا روایتی لباس جو ہم شادیوں پہ پہنتے ہیں ، وہ آج ہوتے تو آپ کو دیکھ کر صدقے میں اپنا آپ وار دیتے “
اسے یہ باتیں نہیں کرنی چاہئے تھیں ، آج نہیں کرنی چاہئے تھیں ، کم از کم آج نہیں ،لیکن وہ صرف ایک بہن تھی ، وہ پریزے سے کہنا چاہتی تھی کہ وہ چپ کرجائے اسے یہ سب نہیں سننا تھا لیکن جیسے الفاظ کسی نے کھینچ لئے تھے
” آپ کو برا تو نہیں لگے گا اگر میں آپ کو بھابھی کے بجائے صرف معطر کہوں ؟ بھابھی لفظ مجھے سنان لالا کی یاد دلائے گا “
اس نے جھکے سر کو نفی میں ہلایا پھر اسے دیکھا
” اس کا زکر مت کرو پریزے ، تم اس کا زکر کرتی ہو تو مجھے دکھ ہوتا ہے ، اب بھی ہورہا ہے اور اب یوں لگ رہا ہے جیسے میں آدم کے ساتھ خیانت کررہی ہوں”
پریزے یکدم چپ ہوئ ، اسے شاید احساس ہوا وہ کیا بول گئ تھی پھر سر جھٹکا
” آئ ایم سوری ، مجھے بس لالا یاد آ گئے “
معطر نے کچھ نہیں کہا ، کھلے دروازے سے مبشرہ اندر داخل ہورہی تھی
” پریزے کھانا لگ گیا ہے ، کھالیں آ کر “
پریزے نے سر ہلایا پھر معطر کو دیکھا
” آئ ایم سوری “
وہ شدید شرمندہ لگ رہی تھی ،معطر بمشکل ہلکا سا مسکرائ ، وہ اسے چند لمحے دیکھتی رہی پھر باہر چلی گئ ، مبشرہ نے جاتے ہوئے دروازہ بند کردیا تھا
اس کے جانے کے بعد معطر نے رخ موڑ کر آئینے کو دیکھا، جو روپ تھوڑی دیر پہلے پیارا لگ رہا اب خالی سا لگا ، دل جیسے ہر شے سے اچاٹ ہوگیا تھا ، اس نے ہاتھ بڑھاتے دوپٹے پر لگ پن اتاری ، پھر دوسری ، پھر تیسری ، جانے کتنی پنیں لگی تھیں اسے اکتاہٹ ہوئ ، تبھی دروازے پر دستک ہوئی ، کسی نے بہت آہستہ سے دروازہ بجایا تھا ، وہ منع کرنا چاہتی تھی لیکن شاید مقابل کو اجازت لینے میں دلچسپی نہیں تھی ، اس کے کچھ کہنے سے پہلے ہی دروازہ کھلا اور کوئ اندر داخل ہوا
معطر نے سر اٹھایا پھر وہیں رک گئ ، سفید شلوار قمیص پہنے اوپر سفید کوٹ ، سلور کلر کی گھڑی ، بال پیچھے جیل سے جما رکھے تھے ، مشرقی لگتا آدم ، وہ دروازہ بند کرتا اس کے پیچھے آ ٹھہرا تھا ، آئینے میں نظر آتے اس کے عکس پر نظر جمارکھی تھیں ، کئ لمحے اسے دیکھتا رہا جو ہلکا سا منہ کھولے آئینے میں نظر آتے اس کے عکس کو دیکھ رہی تھی
” نکاح مبارک ہو مسز آدم کیان “
ہلکا سا جھکتے سرگوشی کی تو اسے جیسے ہوش آیا فوراً اس کی طرف چہرہ گھمایا
” تم یہاں کیا کررہے ہو ؟”
” نکاح کی مبارک دینے آیا تھا”
سکون سے کہتے وہ سامنے آیا اور ڈریسنگ ٹیبل سے ٹیک لگالی
” باہر دی تو تھی “
اس نے چبا کر کہتے دروازے کو دیکھا ، ابھی کوئ آجاتا تو جانے کیا سوچتا ، اففف
” میرا خیال تھا وہ تمہیں سنائ نہیں دی ہوگی “
” سنائ بھی دے گئ تھی اور سمجھ بھی آ گئ تھی ، تم جاؤ یہاں سے “
وہ متوحش تھی
” کتنی بد اخلاق لڑکی ہو ، شوہر کو کمرے سے نکال رہی ہو “
معطر تلملائ
” تمہارا اخلاق کہاں گیا ہے ؟ کسی نے دیکھ لیا تو جانتے بھی ہو کیا سوچیں گے ؟”
” کیا سوچیں گے ؟ یہی نا کہ میں اپنی بیوی سے ملنے آیا ہوں “
” یہ تو ہرگز نہیں سوچیں ، اوہ اللہ جاؤ یہاں سے “
” سکون کرو معطر ، مبشرہ باہر ہے ، کوئ آئے گا تو وہ بتا دے گی “
” وہ جانتی ہے تم یہاں ہو ؟”
وہ بے یقین ہوئ
” جانتی ہے ؟ پورے پندرہ ہزار لئے ہیں اس نے ملاقات کرانے کے “
وہ کچھ دیر اسے گھورتی رہی پھر سر جھٹکتے آئینے میں دیکھا ، دوپٹے پر لگی پنز اتر ہی نہیں رہی تھیں ، اس نے ہاتھ سر کی طرف بڑھایا
” یہ لباس جو تم نے پہنا ہے اسے کیا کہتے ہیں ؟”
” شرارہ …”
” اچھا لگ رہا ہے”
” مجھ پر اچھا لگ رہا ہے یا میں اچھی لگ رہی ہوں ؟”
” تم اپنی تعریف سننا چاہتی ہو ؟”
اس نے مسکراہٹ دبائی
” اب یہ بھی میں کہوں ؟ ایک بار بھی کہا ہے تم نے کہ اچھی لگ رہی ہو ، یا پیاری لگ رہی ہو ، خوبصورت لگ رہی ہو ….”
” آدم کیان کی معطر صبا لگ رہی ہو “
اس کی چلتی زبان رکی ، چہرے پر سرخی پھیلی ، ہاتھوں میں لرزش اتری ، وہ ڈریسنگ ٹیبل سے ٹیک لگائے اسے دیکھتا رہا
” فلرٹ مت کرو “
” میں تو تعریف کررہا تھا”
وہ گھوم کر پیچھے آیا اور اس کی پشت پر ٹھہرا ،معطر کے دوپٹے سے الجھتے ہاتھ رکے ، وہ کوٹ اتارتا اسے بیڈ پر رکھتا اس کے پیچھے آن ٹھہرا تھا
” کیا کررہے ہو ؟”
” تمہاری مدد کرنے کی کوشش ” بازوں فولڈ کرتے پوری سنجیدگی سے اس کے دوپٹہ پر ہاتھ رکھا اور ایک پن اتاری
” میں کرلوں گی “
اب تو دل بھی زور سے دھڑک رہا تھا ، آدم کا یہ انداز ہضم نہیں ہورہا تھا
” آئ نو کہ تم کرلو گی ، میں بس تمہارا کام آسان کررہا ہوں “
” کیوں ؟”
” تاکہ تم فرصت سے میری طرف متوجہ ہو سکو “
دوپٹے پر لگی پنز اتارتے وہ سامنے رکھ رہا تھا ، معطر کی بس ہوگئ
” تم نے مبارک باد دینی تھی ، دے دی نا اب جاؤ “
” پندرہ ہزار میں پندرہ منٹ کی ملاقات تو کرنے دو “
آئینے میں دیکھتے اسے گھورا پھر ایک اور پن اتاری
” میرا کیا فائدہ اس ملاقات میں ؟”
” میں تمہاری تعریف کردوں گا ، ایسے اچھی لگ رہی ہو ، اتارنا کیوں ہے یہ ؟ ” آخری پن اتاری تو دوپٹہ پھسل کر شانے پر گرا ،معطر کا ہاتھ مانگ ٹیکے کی طرف گیا لیکن وہ اس سے پہلے ایک پن اتار چکا تھا
” بھاری لگ رہا ہے”
” تھوڑی دیر برداشت کرلو گی تو کیا ہو جائے گا ؟ زرا فرصت سے دیکھنے تو دو مجھے “
” تم ۔۔ تم دور رہو ، میں کرلوں گی”
مانگ ٹیکا اتارتے آدم کی نظر آئینے پر گئ ، اس کے گالوں پر لالی بکھری تھی ، پلکیں لرز رہی تھیں ، دوپٹہ کاندھے پر درست کرتے ہاتھوں میں لرزش تھی ، وہ رک کر دلچسپی سے اسے دیکھنے لگا
” تم شرما رہی ہو ؟”
” جی نہیں…”
” اور شرما بھی مجھ سے رہی ہو ؟”
” میں نہیں شرما رہی ” اسے گھورتے وہ اٹھی دوپٹہ سینے پر پھیلا لیا ، آدم پیچھے ہوا ، معطر کا رخ الماری کی طرف تھا ، زور سے آنکھیں میچیں ( اف معطر کیا کررہی ہو ؟ یہ وہی انسان ہے جسے ازلنگٹن میں لڑائ کیا کرتی تھی ، پرسکون رہو ، لیکن اب وہ شوہر بن گیا تھا ، اور یہ چیز ہضم نہیں ہورہی تھی)
الماری کی طرف جاتے خود کو کئ بار سرزنش کی پھر الماری کے سامنے رکی ،کیا لینا تھا ؟ چور نظروں سے پیچھے دیکھا وہ اسی کی طرف متوجہ تھا ، اس نے خواہ مخواہ الماری کھول کو منہ اندر گھسا لیا
” پاکستان کے لئے خزانہ ڈھونڈ رہی ہو ؟”
” چپ رہو “
” سنو لڑکی زرا تمیز سے بات کرو ، شوہر ہوں تمہارا”
” تمہیں عزت شرافت راس آتی ہے ؟” پٹخ کر دروازہ بند کیا ، بس اب وہ آگئ پرانے روپ میں ، اب کچھ بولے یہ اور وہ سیدھا منہ توڑ جواب دے گی
” مجھے تو بس تم سے محبت راس آتی ہے “
اور بس اس کے سارے الفاظ غائب ہوئے ، منہ کھولتے کچھ کہنا چاہا پھر رکی ، اسے دیکھا پھر گھورنا چاہا پھر نظریں گھمالیں ( یہ اس طرح کیوں دیکھ رہا ہے ؟)
” تم جا کیوں نہیں رہے ؟”
وہ جھنجھلائ
” تم دو منٹ سکون سے میرے سامنے بیٹھ سکتی ہو ؟”
آگے بڑھتے اس کا ہاتھ تھاما تو معطر کے الفاظ ایک بار پھر گم گئے ، وہ اس کا ہاتھ نرمی سے تھامتے کھڑکی کے سامنے رکھی کرسی پر اسے بٹھا رہا تھا ،پھر اس کے سامنے والی کرسی تھوڑا سا آگے کھینچتے اس پر بیٹھا ، گھٹنوں پر کہنیاں جماتے اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھاما
” کوئ آ جائے گا آدم “
” آنے دو “
نظریں اس پر جمی تھیں
” تم سمجھ نہیں ….”
” تُمہیں پتا ہے مجھے پہلی بار کب احساس ہوا کہ میرا دل میرے ہاتھ سے نکل کر تمہارا ہورہا ہے ؟”
وہ بولتے بولتے چپ ہوئ
” کب …؟”
” جب اینجل اسٹیشن پر تم سرخ لباس میں ٹرین سے اتری تھیں میں تب سیٹی بجا رہا تھا ، مجھے سیٹی کا ساز بھول گیا ، میری نظریں تم پر گئیں اور تم پر ہی جمی رہ گئیں ، میں نے اس دن جانا بچپن میں سنے گئے شہزادیوں کے قصے سچ ہوتے تھے ، ایک شہزادی تو میرے سامنے ٹھہری تھی “
معطر کا گلا رندھ گیا ، کسی نے سڑک پر کھڑے ہو کر پوچھا تھا کہ اس کی اوقات کیا ہے؟، وہ اسے وقت کی شہزادی ٹھہرا رہا تھا
” ایک سوال پوچھوں ؟”
” پوچھو…”
” تُمہیں مجھ سے کتنی محبت ہے ؟”
” میں لفظوں میں نہیں بتا سکتا “
” تم میری کتنی عزت کرتے ہو ؟”
” میں عمل سے نہیں بتا سکتا “
” اگر کبھی عزت اور محبت میں سے میرے لئے کسی ایک کو چننا پڑ جائے تو عزت چن لینا “
” چننے والا معطر صبا کو عزت اور محبت کے ساتھ چنے گا “
اس کی آنکھیں نم ہوئیں
” مجھ سے بے وفائ مت کرنا “
” تا قیامت نہیں”
” مجھے چھوڑ کر رسوا مت کرنا “
” اپنی عزت کون چھوڑتا ہے ؟”
” کبھی دنیا میرے خلاف ہو اور میرے حق میں بولنا پڑا تو پیچھے مت ہٹنا “
” میں دنیا کو تمہارے خلاف جانے ہی نہیں دوں گا “
” مجھ سے تھک جاؤ تو بتادینا “
” خود سے تھک کر تمہارے پاس آؤں گا تم سے تھک کر کہاں جانا ہے مجھے ؟”
” مجھ سے بے زار تو نہیں ہوگے ؟”
” ایسا ہو۔۔۔یہ محال ہے “
” مجھے کبھی یہ مت کہنا کہ تم اکتاہٹ میں مبتلا کردیتی ہو “
” تم روتی ہو تو میں تمہیں دیکھتا ہوں ، بولتی ہو تو سنتا ہوں ، خاموش ہوتی ہو تو تمہیں تکتا ہوں ، بتاؤ تم سے کیسے اکتاؤں گا ؟”
وہ اتنا نرم کیوں بن گیا تھا ؟ اس کے سامنے بیٹھے جیسے وہ اس کا ہر اندیشہ اس کے اندر سے نکال رہا تھا ، بنا اکتائے بنا بے زاری کے
” تم مجھے ماضی کا طعنہ تو نہیں دو گے ؟”
” مجھے تمہارے حال سے غرض ہے ، اس حال میں میں نے تمہیں اپنا ہے ، مجھے تمہارے مستقبل سے غرض ہے اس مستقبل میں ہم دونوں ہوں گے “
“تم بدل تو نہیں جاؤگے ؟”
” ویسے تو نہیں لیکن دن میں ایک بار بدلنے کی اجازت ہے ؟ مجھے تمہارے ساتھ ایک لڑائ تو ضرور کرنی ہے دن میں ” وہ روتے روتے ہنس دی
” تم ازلنگٹن والے ایرک بنے تو میں وہی معطر بن جاؤں گی “
وہ مسکرایا پھر اس کے ہاتھوں کو دیکھا ، خالی کلائیاں سونے ہاتھ
” چوڑیاں پہننا کیوں چھوڑ دی ہیں تم نے ؟ اچھی لگتی تھیں تم پر “
معطر کی نظر اپنے ہاتھ پر گئ ، وہ دونوں ہاتھوں میں اس کا ہاتھ تھامے ہوئے تھا
” بابا لا کر دیتے تھے ، وہ چلے گئے تو کوئ چوڑیاں لانے والا نہیں رہا ، نا مجھے چوڑیاں لانا یاد رہا نا چوڑیاں پہننا “
” میں لادوں گا ، چوڑیاں ، محبت ،اپنا آپ ۔ تم سنبھال لینا ، ساز ، وفا ، مجھے ۔ “
” تم صاف صاف اظہار کیوں نہیں کرتے ؟”
” تم صاف صاف اظہار سننا چاہتی ہو ؟” اس کے دونوں ہاتھ تھامے وہ تھوڑا سا آگے کو ہوا ،نظریں اس کی آنکھوں پر جمالیں” سنو معطر ! میں نے تمہیں دل میں حفظ رکھا ہے ، تم کبھی میری یاداشت سے محو نہیں ہوگی ، میں نے تمہیں چاہا ہے اور ایک محبوب کی طرح چاہا ہے ، چاہوں گا اور ایک محبوب کی طرح چاہوں گی ، تم صاف الفاظ میں سننا چاہتی ہو تو سنو ، میں۔۔ اپنے دل سے ۔۔۔ اپنے دل کے آخری کونے سے ۔۔۔۔ اپنے دل کے ہر مقام سے تم سے محبت کرتا ہوں “
کھڑکی کے باہر سے چوڑیوں کا ساز بجا تھا ، نیچے سے کسی منچلے نے ہوا میں رنگ چھوڑے تھے ، وہ اوپر آسمان تک گئے اور ہر جگہ روشن کرگئے ، وہ روشنی اس مرد کی آنکھوں تک آئ جس کی آنکھیں نیلے رنگ کی تھیں ، جو اپنے سامنے بیٹھی لڑکی سے لفظ محبت کہتا تھا ، وہ لڑکی جس پر کسی نے بہار کے رنگ چھوڑ دیئے تھے ،پھر اس نے اپنی نم آنکھیں اس مرد پر جمائیں
” مجھ سے یہ مت کہو کہ تم مجھ سے محبت کروگے مجھ سے یہ کہو کہ تم مجھ سے وفادار رہو گے ، تم بیچ راہ میں کھڑے ہوکر میری تذلیل نہیں کروگے ، سخت دنوں میں تم مجھ پر مہربان رہو گے ،مہربان دنوں میں سخت نہیں بنوگے ۔ میں اگر تھک جاؤں تو اپنا کاندھے دے دو گے ، میں اگر روؤں تو آنسو صاف کرلوگے ، میں اداس ہوں تو پھول لادو گے ، مجھ سے محبت کا دعویٰ مت کرو ، وفا کا کرو “
وہ کتنی ہی دیر اسے دیکھتا رہا ، وہ عورت ایک مرد سے ملنے والے دھوکے سے خوفزدہ تھی ، اسے ایک اور مرد نے بیچ راہ میں چھوڑا تھا وہ نیا ہاتھ تھامتے ہوئے خوفزدہ تھی وہ کچھ کہتا اس سے قبل ہی دروازے پر دستک ہوئ
” آدم بھائ ، پندرہ منٹ ہوگئے ، کوئ آ جائے گا “
دروازے کے پار سے مبشرہ کی آواز آئ ،معطر نے ہاتھ اس کے ہاتھ سے کھینچ لیا ، وہ گہری سانس لیتا اٹھا پھر بیڈ پر پڑا کوٹ اٹھایا اور اسے دیکھا ، بھیگی بھیگی پلکیں ، رویا رویا سا چہرہ ، کانوں میں جھمکے ، ہلکا سا میک اپ ، وہ آنسو صاف کررہی تھی
” میں نہیں جانتا کہ ہر مشرقی دلہن اتنی ہی پیاری لگتی ہے یا پھر تمہیں دیکھ کر میں نے خوبصورتی کا مطلب جانا ہے” معطر رک کر اسے دیکھنے لگی ، وہ کوٹ بازوں میں اٹھائے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا ” میں نہیں جانتا میری عمر کتنی ہوگی لیکن میں اس وقت تک جب میں آخری سانس لوں گا تم سے محبت کرتا رہوں گا ، میں قسمت کو نہیں جانتا نا قسمت پر میرا اختیار ہے لیکن میں تم سے وفادار رہوں اس پر میرا اختیار ہے ، تم نے جو بوجھ ماضی میں اٹھائے ہیں وہ میں کم نہیں کرسکتا لیکن تم پر مستقبل میں کوئ بوجھ نا آئے میں یہ کرسکتا ہوں ، میرا کاندھا ہمیشہ تمہارے لئے موجود ہے لیکن میں تمہیں رونے ہی نہیں دوں گا ، میں خود پر آنے والے سخت دن نہیں ٹال سکتا لیکن میں ان سخت دنوں کو تم تک نہیں آنے دوں گا ، ہم خوشیاں مل کر بانٹ لیں گے ،میں اپنے غم صرف خود تک رکھوں گا ، میں محبت کا دعوی کرتا ہوں معطر اور میری محبت میں وفا محبت سے زیادہ ہے “
نرمی ، دو ٹوک ، سنجیدہ ، وقار بھرا انداز ، وہ ان چار جملوں میں اس کے اندر سے ہر خوف نکال گیا تھا ، وہ ماضی کی معطر صبا کو اسی کمرے میں چھوڑ کر دروازہ کھول رہا تھا ، پھر اسے مبشرہ کی آواز سنائ دی ساتھ آدم کی ، اس نے رخ موڑ کر آئینے میں دیکھا پھر وہ رو دی ،چہرہ ہاتھوں میں تھامے پوری شدت سے ، اس بار یہ آنسو غم کے نہیں تھے
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
یہ ان کے نکاح کے اگلے دن اور عید سے ایک دن پہلے کی بات ہے جب سڑک پر چھوٹی سی مہران رک رہی تھی ، اس میں سے سیاہ جینز پر سفید ٹی شرٹ والا نجیب نکلا پھر دوسری طرف کا دروازہ کھولتے نیلی جینز پر ہلکی کریم کلر کی شرٹ پہنے آدم باہر نکلا ، وہ سر پر کیپ پہن رہا تھا ، بازوں حسب عادت موڑ رکھے تھے ، شرٹ کا اوپری بٹن کھلا تھا اور وہ عام سے حلیے میں کوئ کالج بوائے لگ رہا تھا
” یہی ہے ؟”
دوسری طرف آتے نجیب سے پوچھا تو اس نے سر ہلایا
” اندر ہوں گے حسن صاحب ؟”
” اندر ہی ہیں “
وہ سڑک کراس کرتے دوسری طرف جارہے تھے ، اسٹور پر بڑے سے حروف میں ” حسن کریانہ سٹور ” لکھا ہوا تھا ، وہ دروازہ دھکیلتے اندر داخل ہوئے تو کاؤنٹر پر بیٹھے لڑکے نے سر اٹھایا پھر جھکا کر حساب کتاب دیکھنے لگا ، نجیب گرد و پیش کا جائزہ لینے لگا جب کہ وہ سیدھا لڑکے تک آیا
” حسن صاحب ہیں اندر ؟”
” جی …”
” کہاں ؟”
” پیچھے کمرہ ہے وہیں ، کہاں جارہے ہیں آپ ؟”
آدم کو کمرے کی طرف بڑھتے دیکھ وہ ہکا بکا سا ہوا پھر فوراً اس تک آیا
” ان سے ملنے “
” نہیں جاسکتے “
” دیکھو بچے یہ ان کے داماد ہیں ، اگر نوکری سے ہاتھ نہیں دھونا چاہتے تو راستے میں مت آؤ “
اب کے نجیب نے پچکارا تو لڑکا کچھ گھبرایا پھر پیچھے کو ہوا ، آدم بنا سنے اندر جا چکا تھا ، دستک دے کر دروازہ کھولا تو حسن صاحب نے سر اٹھایا پھر رکے
” تم ؟”
” مجھے خوشی ہوئ کہ آپ کو میں یاد ہوں “
وہ کرسی کھینچتا اس پر بیٹھ چکا تھا ، حسن صاحب نے ضبط سے اسے دیکھا
” یہاں کیا کررہے ہو ؟”
” آپ نکاح میں نہیں آئے ؟”
” تم یہی پوچھنے آئے ہو ؟”
” نہیں ، میں کسی اور کام سے آیا تھا ، یہ بتائیں کمائ کتنی ہوتی ہے اس اسٹور سے ؟”
وہ ٹانگ پر ٹانگ جمائے گویا فرصت سے تھا
” تم سے مطلب ؟”
” آپ کو خوشی نہیں ہوئ کہ BBC سے بذات خود آدم کیان آپ کا انٹرویو کررہا ہے ؟ تعجب “
” دیکھو لڑکے …..”
” ماہانہ ڈیڑھ دو لاکھ تو کما لیتے ہوں گے یقیناً ، اسٹور کافی بڑا ہے ، آپ نے پوش علاقے میں گھر بھی لے رکھا ہے جبکہ پرانا گھر قابلِ ترس حالت میں تھا ، یقیناً میں صحیح ہوں کمائ اچھی ہوتی ہوگی “
” کہنا کیا چاہتے ہو ؟”
ان کا ضبط جواب دے گیا
” یہ کہ حسن صاحب …” وہ کہنیاں میز پر رکھتا آگے کو ہوا ” میری بیوی کا اور اس کے گھر والوں کا حق کس حق سے کھارہے ہیں آپ ؟”
” تو معطر خود نہیں آ سکتی تو تمہیں لڑنے کے لیے بھیجا ہے ؟”
” میری بیوی بہت بہادر ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ میں نہیں چاہتا کہ اب میرے ہوتے ہوئے وہ ان مسئلوں میں پڑے ، میں اب مدعے کی بات پر آتا ہوں ، اس اسٹور کو آپ اپنے پاس رکھیں لیکن معطر کے باپ کا حصہ ان کو دے دیں “
” اور میں جیسے تمہاری بات مان لوں گا ؟”
وہ طنزیہ مسکرائے
” آپ میری دوسری بات بھی مانیں گے اور وہ یہ ہے کہ جو کیس آپ نے تیمور حیدر کی شہہ پر کیا ہے وہ خارج کروائیں “
” مجھے حیرت ہے آدم تم یہاں میرے سامنے بیٹھ کر مجھے یوں حکم دے رہے ہو جیسے میں تمہارا غلام ہوں “
پیچھے کو ہوتے اُنہوں نے ہاتھ باہم پھنسائے ، آدم مسکرایا
” میں ابھی آپ کو چچا والا مان دے رہا ہوں ورنہ مجھے حکمیہ انداز اپنانے میں وقت نہیں لگے گا “
” میں دونوں صورتوں میں تمہاری بات نہیں مانوں گا ، جاسکتے ہو، میں مصروف ہوں “
” وہ کچھ دیر انہیں دیکھتا رہا پھر پیچھے کو ہوا
” آپ جانتے ہیں میں کیا جاب کرتا ہوں ؟”
” تو اب تم مجھے دھمکیاں دو گے کہ تم میڈیا میں میرے خلاف خبریں چلواؤگے اور مجھے بدنام کروگے ؟ میں ان باتوں سے نہیں ڈرتا “
” نہیں حسن صاحب میں برطانیہ میں اس کے علاوہ بھی کچھ کرتا ہوں ، چلیں آپ کو بتاتا ہوں ، میں نے حال ہی میں برطانیہ میں ایک کیس دیکھا ہے جس میں برطانوی پولیس نے ایک مرد پر غلط فہمی کی وجہ سے ٹریول بین لگا دیا تھا اور اسے گرفتار کرلیا تھا کیونکہ اس کے پاس ایک انسٹیٹیوٹ کا سرٹیفکیٹ تھا جس کا نام ایک کالعدم جماعت سے ملتا تھا یعنی صرف تھوڑی سی نام کی غلط فہمی، اب میں مسلمانوں کے بیچ تھوڑا بہت اسی وجہ سے بھی مشہور ہوں کہ میں مسلمانوں کے لئے برطانیہ میں بہت کام کرتا ہوں ، کام کی نوعیت سے لوگ واقف نہیں ہیں لیکن میں ان لوگوں کے لئے کوشش کرتا ہوں جنہیں مسلمان ہونے کی وجہ برطانیہ میں کئ پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، آپ یقیناً بور ہورہے ہیں لہذا میں مطلب کی بات پر آتا ہوں ” وہ ایک بار پھر آگے کو ہوا ” یونو حسن صاحب مغربی ممالک خاص کر امریکہ دہ شت گر تنظیموں کے خلاف ہیں اور وہ ان کے خلاف سخت کاروائیاں کرتے ہیں ، حال ہی میں ایک حسن ابراھیم نام کے شخص کی تلاش برطانوی انٹرپول اور امریکی سی آئی اے کررہی ہے جس پر چند مشکوک افراد کی معاونت کا انتظام ہے ، میں جانتے ہیں کیا کروں گا ؟ میں صرف اپنے چند تعلقات استعمال کروں گا ، ایک افواہ پھیلاؤں گا اور اگلے دن آپ پاکستان میں کسی کو نظر بھی نہیں آئیں گے کیونکہ جہاں تک مجھے علم ہے آپ کا مکمل نام بھی حسن ابراھیم ہے نا ؟”
حسن صاحب کا چہرہ سفید پڑا پھر سرخ پھر وہ غصے سے آگے کو ہوئے
” تم ایسا نہیں کرسکتے “
” میں کرسکتا ہوں ، آپ میری پہنچ سے واقف نہیں ہیں ، پھر بعض اوقات تو صرف ایک افواہ کی ہی ضرورت پڑتی ہے ، آپ کی حکومت کی کارکردگی ایسے معاملات میں بہت خراب ہے تو آپ کو میری دھمکی سے ڈرنا چاہئے “
” تم ایسا نہیں کروگے “
وہ سرخ پڑتے چہرے سے غرائے
” کیوں ؟”
” میں نے کچھ نہیں کیا “
” کون مانے گا ؟ میں تو صرف ایک محب وطن برطانوی اور ذمہ دار امریکی ہونے کا ثبوت دوں گا ” اس نے لاپرواہی سے کاندھے اچکائے ، حسن صاحب اسے گھورتے رہے
” کیا چاہتے ہو ؟”
” کیس واپس لیں اور اس دکان کی آدھی قیمت دانیال کے اکاؤنٹ میں بھیجیں “
” میں کیس واپس لے لوں گا لیکن رقم نہیں دے سکتا “
” بہتر ، میں چلتا ہوں “
وہ اٹھنے لگا جب انہوں نے ضبط سے ہاتھ اٹھاتے اس نے رکنے کا اشارہ کیا
” میرا مطلب ہے فلوقت میرے پاس پیسے نہیں ہیں جب آئیں گے تو دے دوں گا “
” میں یقین کرلیتا لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہاں آنے سے پہلے میں آپ کی ساری معلومات نکلوا کر آیا تھا جس کے مطابق آپ کے بینک اکاؤنٹ میں اس وقت قریب دس لاکھ پڑے ہیں جو آپ نے کسی زمین کے لئے دینے ہیں ، وہ دس لاکھ ابھی دانیال کو بھیجیں “
” وہ میری خود کی رقم ہے ” وہ غرائے ، ماتھے کی رگ ابھرنے لگی
” اس اسٹور سے کمائ گئ ، آپ جیسا دوغلا انسان میں نے آج تک نہیں دیکھا ، وہاں وہ لوگ افتخار صاحب کے علاج کے وقت جس کسم پرسی کی حالت میں تھے آپ اس وقت زمینیں لے رہے تھے۔ افسوس “
” اس اسٹور پر میری محنت لگی تھی ” ان کا چہرہ ابھی تک سرخ تھا
” رقم افتخار صاحب کی لگی تھی ، ان کی رقم لوٹائیں اور اپنی محنت کی رقم اپنے پاس رکھیں “
” دیکھو ….”
” آپ کے پاس دس منٹ ہیں حسن صاحب ، میں اٹھ کر باہر جارہا ہوں کیونکہ آپ کا چہرہ مجھ سے مزید برداشت نہیں ہورہا ، اگلے پندرہ منٹ میں دانیال کی کال اور دو گھنٹوں میں عدالت سے کیس خارج ہونے کی خبر نا آئ تو آپ اگلے دن کا سورج نہیں دیکھ پائیں گے”
بے تاثر لہجے میں کہتے وہ اٹھا دروازہ کھولتے باہر بڑھ گیا نجیب تب تک لڑکے سے گفتگو کرچکا تھا ، وہ اس تک آیا اور اسے چلنے کا اشارہ کیا
” سر …”
وہ جاتے جاتے رکا ، لڑکا خوش آمدی چہرہ بناتے اس تک آرہا تھا
” حسن صاحب سے کہہ کر میری تھوڑی بہت تنخواہ بڑھوادیں ، آپ ان کے داماد ہیں تو آپ کی بات تو ضرور مانیں گے”
کمزور انگلش میں بمشکل وہ اپنی بات پوری کرسکا تھا ، وہ اسے دیکھتا رہا پھر کوشش کرکے زبردستی مسکرایا
” ضرور…”
وہ پلٹا تو مسکراہٹ غائب تھی ، ( داماد ؟ اگلی مرتبہ ملنے پر قتل کردیتا یہ انسان اسے )
” مان گئے ؟”
نجیب اس کے ساتھ چلتا کچھ چبا رہا تھا پھولے منہ سے بمشکل بولا
” بہت ہی ڈرپوک انسان ہے یہ تو ، پہلی ہی دھمکی پر مان گیا ، بیوقوف “
وہ سر جھکٹتے گاڑی کا دروازہ کھول رہا تھا
” مجھے تو یہ آدمی گڑبڑ لگ رہا تھا ، اتنا بڑا اسٹور یونہی کیسے چلا رہا ہے ؟”
” چھوڑو ، ہمارا کام تو ہوگیا “
اس نے موبائل نکالتے معطر کی چیٹ کھولی پھر مسکراہٹ دبائ ، تھوڑی دیر پہلے اس نے لاہور پر کوئ تبصرہ کیا تھا تو اس کا جلا بھنا جواب آیا ٹھہرا تھا
” جواب تو مجھے بھی مل گیا ہے ایک ویسے “
” کون سا ؟”
” آپ پاکستان کیوں آئے تھے اس بات کا “
” شادی کرنے …” کہہ دو “
” ہاں تو سچ ہے ، ویسے میں بہت خوش ہوں کہ آپ اب پاکستان آتے جاتے رہیں گے “
وہ جواب دیتا اس سے پہلے ہی دانیال کی کال آنے لگی ، اس نے فون کان سے لگایا
” رقم پہنچ گئ ؟”
” جی لیکن کیسے ؟”
” کہا تھا نا دانیال دو منٹ کا کام ہے “
” آپ نے کیسے کیا آدم بھائ ؟” وہ ششدر تھا
” مجھے ایک کام بہت اچھا کرنا آتا ہے اور وہ ہے بولنا ، زیادہ کچھ نہیں کیا بس اپنی زبان چلائ ہے تھوڑی بہت “
” بہت شکریہ ….میں واقعی آپ “
” اچھا بھئ یارر ، مجھے شکریہ سننے کی عادت نہیں ہے ، اور سنو دانیال یہ بات معطر کو مت بتانا کہ اس میں میرا کوئی ہاتھ تھے “
وہ دوسری جانب کچھ کہہ رہا تھا آدم نے سنتے سر ہلایا پھر کال کاٹ کر نجیب کو دیکھا
” تم چاند رات پہ گھر ہوتے ہو ؟”
” جی بالکل ، ایک دم فری ہوتا ہوں ،کہاں جانا ہے ؟”
” تمہارے ساتھ نہیں جانا ، تمہاری گاڑی چاہئے تھی “
نجیب کا منہ بگڑا
” چلا لیں گے یہاں ؟”
” آرام سے …”
اس کی نظر موبائل پر گئ معطر کا میسج آیا ٹھہرا تھا ، اسے رپلائے کرتے اس نے نظر باہر گھمائ
اسے اب تیمور حیدر کو دیکھنا تھا اور وہ جانتا تھا وہ اس کے ساتھ کیا کرے گا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
