Laa By Fatima Noor Readelle50338 Laa (Episode 5)
Rate this Novel
Laa (Episode 5)
Laa By Fatima Noor
اگلے چند دن اس نے شدید پریشانی میں گزارے ، نادیہ بھابھی نے دوبارہ کچھ نہیں کہا تھا لیکن وہ خود ان کے حالات دیکھ رہی تھی ، جس گھر میں وہ رہ رہے تھے وہ ان کا اپنا تھا اور ان کی ضرورت سے زیادہ بڑا تھا ،فلوقت وہ کسی چھوٹے گھر میں شفٹ ہونا چاہتے تھے ،دو بچے تھے جو سکول جاتے تھے اور کمانے والے واحد عمر بھائ ، اگر مجبور وہ تھی تو وہ لوگ بھی تھے ، پہلے پہل اس نے سوچا نادر بھائ کو کال کرے اور انہیں خوب سنائے، یا کم از کم عمر بھائ کے سامنے ہی سارا غصہ نکال دے ، انہوں نے اس کے ساتھ غلط کیا تھا اور اب وہ سفاک بن رہے تھے ، لیکن بہت سی باتیں وہ صرف سوچ کر رہ گئ ، زندگی عجیب ہوگئ تھی ، وہ اپنا سب چھوڑ کر یہاں آئ تھی واپسی مشکل نہیں ناممکن تھی ، گھر بتا نہیں سکتی تھی، وہاں سب پریشان ہوجاتے
اسے جاب کرنی تھی ، بابا کا علاج کروانا تھا ، پیچھے بہت سی چیزیں تھیں جو درست کرنی تھیں ،اس نے طے کرلیا تھا کہ اب وہ خود ہی کوئ جاب ڈھونڈے گی، یوں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے سے کچھ نہیں ہونا تھا ، اسی رات عمر بھائ نے اسے بلایا
” ایک جاب ہے اگر تم کرنا چاہو “
” میں تیار ہوں “
” پوچھو گی نہیں کون سی جاب ؟”
” کوئ بھی ہو۔۔۔۔۔”
وہ کچھ دیر اسے دیکھتے رہے
” ایک کیفے میں ویٹرس کی ضرورت ہے ،کرلو گی ؟”
ویٹرس ؟ اس کے دل پر گھونسا پڑا ، انگلش میں ماسٹرز کرنے والی برطانیہ میں ویٹرس کی جاب کرے گی ؟ عزت نفس فوراً عود کر آئ
” میں جانتا ہوں یہ جاب تمہارے لئے مناسب نہیں ہے لیکن اس وقت غنیمت ہے ” عمر بھائ نے جیسے اس کے خیالات جان لئے تھے ” تمہیں فلحال کام کی ضرورت ہے اور اس سے فرق نہیں پڑنا چاہئے کون سا کام ، ویسے بھی وہاں کے پڑھے لکھے پی ایچ ڈی ہولڈر بھی یہاں چھوٹے موٹے کام کررہے ہیں “
اسے احساس ہوا وہ ٹھیک کہہ رہے تھے ، وہ اس وقت انکار کرنے کی حالت میں نہیں تھی، گہری سانس لیتے اس نے فیصلہ کرلیا
” مجھے کوئ اعتراض نہیں ہے”
وہ کچھ دیر کو چپ ہوگئے
” دیکھو معطر ، میں جانتا ہوں تم مجھے قصور وار سمجھتی ہو ، ٹھیک سمجھتی ہو ، مجھے اپنی پریشانی میں یہ نہیں بھولنا چاہئے تھا کہ میں نادر سے تمہیں یہاں بلوانے کا کہہ چکا ہوں ، سوری بہت چھوٹا لفظ ہوگا لیکن میں اس کے علاوہ کچھ نہیں کہہ سکتا “
” میں بھی سمجھ سکتی ہوں عمر بھائ ، کوئ بات نہیں”
اس نے لاپرواہی ظاہر کرنا چاہی لیکن مسئلہ یہ تھا کہ بات عام نہیں تھی ، وہ اپنا تقریباً سب کچھ داؤ پر لگا کر آئ تھی ، نا وہ واپس جاسکتی تھی نا اس کے پاس یہ آپشن تھا
” تم کل سے ہی جوائن کرسکتی ہو ، کیفے کا مینیجر میرا جاننے والا ہے ، اس سے بات کرلی تھی میں نے اور جب تک چاہو یہاں رہ سکتی ہو “
” شکریہ۔۔۔۔ لیکن میں کوئ اور جگہ دیکھ لوں گی ، مجھے علم ہے آپ لوگ یہ گھر چھوڑ رہے ہیں”
وہ ظرف دکھا رہے تھے تو کم ظرف اسے بھی نہیں بننا تھا ، دنیا میں ہر شخص کی الگ داستان ہے ،ہر شخص کے پاس غم ہیں تو اگر ہم کسی کی پریشانی دور نہیں کرسکتے تو اس میں اضافہ بھی نہیں کرنا چاہئے
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
کیفے کا نام کوزی مگ( cozy mug ) تھا ، اردگرد یونیورسٹیز تھیں سکول ، تفریحی مقامات،کاروباری اور مصروف علاقہ ، اس نے اگلے دن ہی جوائن کرلیا ، کام زیادہ نہیں تھا ، اسے بس کافی کا آرڈر لینا تھا اور ڈسپوزیبل کپ کسٹمر کو دینے تھے ، چند ایک لوگ آرڈر کرتے تو وہ بھی ان تک پہنچا دینا تھا ، تنخواہ کم تھی لیکن فی الحال نعمت ہی تھی ، صبح سویرے سے دوپہر دو کی ٹائمنگ تھی ، اس نے بنا کسی شکوے کے کام شروع کردیا ساتھ ساتھ گھر کی تلاش بھی جاری رکھی ، ازلنگٹن مہنگا علاقہ تھا ، ہوسٹل کی فیس اس کی استطاعت سے زیادہ تھی ،جو ہوسٹل نسبتاً سستے تھے وہاں کا ماحول اسے مناسب نہیں لگا ، کئ دن کی خواری کے بعد بھی وہ کوئ بہتر جگہ نا ڈھونڈ سکی
” تم ہیکنی یا فنسبری پارک میں کیوں نہیں دیکھتیں؟ ، وہاں اکثریت ایشیائی کمیونٹی کی ہے ، تمہیں کوئ جگہ مل جائے گی “
مایا کیفے میں اس کے ساتھ جاب کرتی تھی ، شام کو وہ یونیورسٹی جاتی اور صبح کیفے ، کئ دن کی خواری کے بعد اس نے مایا سے پوچھنا ہی مناسب سمجھا کہ وہ ازلنگٹن کو یہاں آنے سے پہلے جانتی تک نہیں تھی اور مایا ازلنگٹن کی ہی رہائشی تھی ، آئیڈیا اچھا تھا تو وہ دونوں ہی کیفے کے بعد ٹیوب سے ہیکنی چلی گئیں، وہ جب سے ازلنگٹن میں تھی تب سے عموماً بس سے سفر کرتی تھی لیکن اس مرتبہ مایا کے ساتھ ٹیوب سے جانا پڑا تاکہ مایا یہ نا سمجھے کہ وہ کنجوسی کررہی ہے
ٹیوب انڈر گراؤنڈ ٹرین تھی جو ازلنگٹن میں عام سفر کے لئے استعمال کی جاتی تھی، عام طور پر کرایہ چھ پاؤنڈ اور ستر پینس تھا ( برطانیہ میں سو پینس کا ایک پاؤنڈ بنتا ہے ) لیکن آئسٹر کارڈ کے ذریعے کرایہ دو گنا کم ہوجاتا تھا ،کم سے کم دو پاؤنڈ اور زیادہ سے زیادہ تین پاؤنڈ تک ، مایا کے پاس سٹوڈنٹ کارڈ تھا تو اسے ٹیوب پر ڈسکاؤنٹ مل جاتا تھا ، لیکن وہ نا سٹوڈنٹ تھی اور نا اس کے پاس آئسٹر کارڈ تھا، اس لئے وہ عموماً لوکل بس سے سفر کرلیتی تھی کہ ٹیوب کے مقابلے میں بس سستی تھی ، گو اس کا ارادہ آئسٹر کارڈ بنوانے کا تھا کہ اس سے کرایہ کافی حد تک کم ہوجاتا تھا ، یوں بھی نہیں تھا کہ کارڈ کو ہر وقت چارج کرنا ضروری تھا بلکہ وہ pay as you go ( جتنا سفر اتنا خرچ ) کے اصول پر چارج کیا جاتا تھا ، تو ان سب سے فراغت کے بعد اس کا یہ سب کام نبٹانے کا ارادہ تھا
لیکن فی الحال وہی فراغت میسر نہیں آرہی تھی ، ہیکنی میں آدھا دن خوار ہونے کے بعد بھی انہیں رہائش کے لئے کوئ مکان نا مل سکا ، اگلے دن وہ فنسبری پارک چلی گئیں، اس بار اس نے مایا سے صاف صاف کہہ دیا کہ وہ بس سے ہی جائے گی ( بھاڑ میں گئ شرمندگی، شو مارنے کو خرچہ کرنا ضروری تھا ؟) ، عام طور پر ایک بس جبکہ بعض اوقات دو بس بدل کر فنسبری پارک تک کا سفر کیا جاتا تھا ، فنسبری پارک ویسے تو رہائشی علاقہ تھا لیکن اس کے ساتھ پارک بھی موجود تھا اسے بھی فنسبری پارک ہی کہا جاتا تھا ، رہائشی علاقے کے لئے پارک کا لفظ مشابہت اور الجھن سے بچنے کے لئے استعمال کیا جاتا تھا کیونکہ وسطی لندن میں ازلنگٹن سے قریب فنسبری نام کا ایک اور علاقہ بھی موجود تھا
فنسبری پارک کا علاقہ بہتر تھا ، زیادہ تر عرب اور ایشیائی ممالک کے لوگ آباد تھے ، مڈل کلاس اور تنخواہ دار طبقہ ،کچھ دیر وہاں پتا کیا ، گھر مہنگے تھے ، ایک دو جگہ کرائے دار کی ضرورت تھی لیکن کرایہ زیادہ ،وہ واپس آگئیں ، اگلے دن دوبارہ سے مایا وہیں لے گئ
” یہ دیکھو۔۔۔۔۔ کیسا گھر ہے ؟”
ایک سیاہ گیٹ والے گھر کے سامنے رکتی وہ اس سے پوچھنے لگی
” اچھا ہے۔۔۔۔ آگے چلو مزید اچھے گھر دیکھتے ہیں”
وہ آگے بڑھنے لگی جب مایا نے اسے پیچھے کھینچا
” بیوقوف ، کرائے کے لئے کارڈ لگا رکھا ہے اِدھر “
وہ پلٹتی بورڈ تک گئ ، باہر لیٹر باکس کے ساتھ” کرائے دار کی ضرورت ہے” کا اشتہار لگا تھا ، دلچسپ بات یہ تھی کہ ساتھ” صرف پاکستانی رابطہ کریں “بھی لکھا ہوا تھا
” پوچھ لیں ؟”
وہ متذبذب تھی
” پوچھ لیں کیا مطلب ؟ چلو بس”
وہ اس کا ہاتھ پکڑتی دروازے تک آئ ، بیل بجائ ، کوئ باہر نا آیا ، اس نے دوبارہ بجائ ، پھر تیسری بار اور ہٹانا بھول گئ ، پورے دو منٹ بعد کسی نے دھڑام سے دروازہ کھولا
” کس قدر جاھل مخلوق ہو تم لوگ ، اگر کوئ دروازہ نہیں کھول رہا تو مطلب واپس چلے جاؤ “
وہ کوئ خاتون تھیں ، دھاڑ کر دونوں کو مخاطب کیا تو وہ ڈر کر پیچھیں ہٹیں
” سوری ۔۔۔۔”
مایا بوکھلا گئ
” زہر لگتا ہے یہ لفظ ، بھاگو یہاں سے اب ،جو کام تھا وہ بتانے کی ضرورت بھی نہیں ہے”
وہ غصے سے کہتے دروازہ بند کرنے لگیں
” ہم کرائے دار ہیں “
معطر گڑبڑا کر جلدی سے بولی , کہ وہ واقعی دروازہ بند کررہی تھیں ،اس کی آواز سن کر رکیں
” کس کے ؟”
” آپ کے اگر آپ اجازت دیں تو “
” میں اجازت نہیں دے رہی ، اس قدر بدتہذیب لڑکیوں کو مجھے کرائے دار نہیں رکھنا “
” وہ بد تہذیب میں تھی ۔۔۔۔” مایا فورا سامنے آئ ” یہ با تمیز ، باتہذیب ہے ، کرائے دار بھی یہی ہے “
خاتون کے ماتھے کے بل موجود رہے
” مجھے ضرورت نہیں ہے ، بھاگو یہاں سے “
” مجھے ہے۔۔۔۔ پلیز “
ملتجی انداز ، سادہ چہرہ ، وہ رک کر چند لمحے ان دونوں کو دیکھتی رہیں ، نیلی جینز سفید شرٹ والی انگریز دکھتی لڑکی ، گلابی شلوار قمیص پہنے ایشیائی نظر آنے والی دوسری لڑکی
” کہاں سے ہو ؟”
” پاکستان سے۔۔۔پاکستان میں لاہور سے “
ان کی شکنیں ہلکی ہوئیں ، کچھ دیر اسے گھورتی رہیں پھر دروازہ کھول کر اندر چلی گئیں ، گویا اندر آجائیں ، وہ دونوں جھٹ اندر گئیں ، سامنے چھوٹا سا لاؤنج ، اوپر جاتی لکڑی کی سیڑھیاں ، سامنے کچن ، چھوٹا سا نفیس گھر
” بیٹھنے کا کس نے کہا ہے ؟ جا کر گھر دیکھ لو پہلے “
وہ کچن میں جا رہی تھیں ،بنا مڑے کہا اور وہ دونوں جو پہلے ہی بیٹھ چکی تھیں ، ہڑبڑا کر کھڑی ہوئیں ، پھر سر ہلاتے اوپر نیچے سارا گھوم لیا
” مجھے تو مناسب لگ رہا ہے”
” ان خاتون کے ساتھ رہ لو گی ؟”
مایا نے جھرجھری لی تو وہ مسکرا کر رہ گئ ، جب تک وہ دونوں واپس آئیں خاتون صوفے پر آرام سے بیٹھ چکی تھیں
” دیکھ لیا ؟”
” جی ۔۔۔”
” اب بیٹھو ۔۔۔۔”
وہ بیٹھ گئیں
” تمہارا نام کیا ہے ؟”
” معطر صبا”
” مطلب ؟”
” خوشبو دار ہوا “
” یہاں کیوں آئ ہو ؟”
یہاں یعنی برطانیہ ۔۔۔ برطانیہ یعنی لندن ۔۔۔لندن یعنی ازلنگٹن
” جاب کے لئے”
” گھر میں کوئ کمانے والا نہیں ہے کیا ؟”
” کچھ مجبوریاں تھیں”
” مجبوریاں ؟ گھومنے کا شوق ہوتا ہے تم لڑکیوں کو بس “
کڑوا لہجہ ، وہ چپ کرگئ
” کیا جاب کرتی ہو ؟”
” کیفے میں ۔۔۔ کہیں اور ڈھونڈنی ہے ابھی “
” ہمممم۔۔۔دیکھو لڑکی ” وہ کپ رکھتی آگے کو ہوئیں ” گھر سے باہر تم جو کرو تمہاری مرضی ، لیکن گھر میں لڑکوں سے رابطہ رکھنے سے پرہیز کرنا ،مجھے صاف ستھرہ گھر پسند ہے ، گند مت پھیلانا ، میں زیادہ نہیں کھاتی اس لئے کچن کا سامان کم ہے ، تمہیں زیادہ کھانا ہو تو زیادہ سامان لے آؤ ، اپنے سارے کام میں خود کرتی ہوں ، تمہیں بھی خود کرنے پڑیں گے ، رات کو باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہوگی ، جو کام ہو دن کو نپٹا لینا ، اوپر والا کمرہ تمہیں دے رہی ہوں ، سامان لے کر شفٹ ہوسکتی ہو آج سے ہی لیکن اس سے پہلے اپنے گھر کا ایڈریس ، فون نمبر ،گھر کا نمبر سب مجھے دو “
مایا نے اس کا ہاتھ دبایا ، گویا وہ منع کرنا چاہتی تھی لیکن اس نے سر ہلادیا
” کرایہ کتنا ہوگا ؟”
انہوں نے بتادیا ، کرایہ مناسب تھا اسے کوئ اعتراض نہیں تھا ، ان سے چند ایک دوسری باتیں پوچھنے کے بعد وہ دونوں واپس چلی گئیں ، مایا پورا راستہ اسے منع کرتی رہی لیکن اسے کوئ اعتراض نہیں تھا ، عمر بھائ کل دوسری جگہ شفٹ ہورہے تھے ، فلوقت وہ اسی جگہ گزارہ کرلے گی
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
وہ سامان لے کر اگلے ہی دن شفٹ ہوگئ
خاتون کا نام بانو بیگم تھا ، فنسبری پارک میں وہ صرف بانو کے نام سے جانی جاتی تھیں ، اسے بھی صاف کہہ دیا کہ ساتھ آنٹی وانٹی لگانے کی ضرورت نہیں ہے ، وہ اپنا کروشیا کا کام کرتی تھیں ، سوٹوں پر کڑھائ کرتیں اور یہاں پاکستانی کمیونٹی اور انڈینز میں فروخت کرتیں ، شوہر وفات پاچکے تھے لیکن چند ایک چھوٹی موٹی دکانوں میں سرمایہ کاری کررکھی تھی تو اس کی رقم بھی مل جاتی ، نا انہیں بہت زیادہ کا لالچ تھا ، نا ان کے پاس بہت زیادہ تھا ، جو تھا وہ اس پر راضی تھیں
اپنے شوہر کے ساتھ بیس سال پہلے خاندان والوں کی مرضی کے خلاف شادی کرکے لندن آئ تھیں ، پیچھے سب نے تعلق توڑ دیا ، انہیں بھی پیچھے والوں کی ضرورت نہیں تھی لیکن صرف تب تک جب تک ان کے شوہر زندہ رہے ، چھ سال پہلے ان کا انتقال ہوگیا تو انہوں نے پیچھے رہ جانے والوں سے رابطے کی کوشش کی ، لیکن اب پیچھے سوائے بھائیوں کے کوئ باقی نہیں رہا تھا اور بھائ نے لاتعلقی کا اظہار کردیا تو انہوں نے بھی دوبارہ رابطہ نہیں کیا ، اب یوں تھا کہ وہ تنہا تھیں اور یہ تنہائ انہیں کاٹ کھانے کو دوڑتی ، کئ کرائے دار رکھے لیکن کسی سے بن نا سکی ، انگریزوں سے خدا واسطے کا بیر تھا، جب سے کار ایکسیڈنٹ میں کسی انگریز کی ٹکر سے ان کے شوہر کا انتقال ہوا تھا تب سے انگریز زہر لگتے تھے ، اٹھتے بیٹھتے ان کی برائ کرتیں
اب پاکستانی لڑکی گھر آئ تھی تو کچھ سکون ہوا تھا ، اس کا سکون البتہ درہم برہم ہوگیا تھا ، جانے کس مزاج کی خاتون تھیں ، اس کے گھر فون کرکے تصدیق کی ، کیفے جاکر جگہ دیکھی ، اس کا آئ ڈی کارڈ چیک کیا ، ایک کاپی اپنے پاس رکھی ، لاہور کا ایڈریس تک رکھ لیا
” کن کے ساتھ رہ رہی ہو معطر ؟”
امی ان کے فون آنے کے بعد اس سے پوچھ رہی تھیں
” پاکستان سے ہیں امی، بانو بیگم نام ہے “
” تم نادر کے دوست کے گھر نہیں رکی تھیں ؟”
” میں وہاں کمفرٹیبل نہیں تھی ، بچے ہوتے ہیں ، ان کی اپنی زندگی ہے ، پھر یہاں کرایہ مناسب تھا تو میں ایڈجسٹ کرلوں گی “
اس نے کسی طرح انہیں مطمئن کردیا ، نادر بھائ کو اس نے صاف منع کردیا تھا کہ گھر میں کسی کو نا بتائیں کہ یہاں کیا ہوا تھا ، جانے اماں مطمئن ہوئیں یا نہیں لیکن مزید کچھ نہیں کہا
وہ دن میں ایک بار دو تین منٹ کی کال کرلیتی ، بابا کی خیریت اور باقی سب کا پوچھ کر رکھ دیتی ، اپنی خیریت بتانے کا وقت نہیں تھا نا وہ اپنا حال بتانا چاہتی تھی ، اس کے حال پہلے جیسے ہی تھے اب مزید خراب ہوگئے تھے
وہ کیفے کے علاوہ بھی جاب ڈھونڈ رہی تھی ، کچھ بانو آپا ( ان کے منع کرنے کے باوجود اس نے بانو آپا کہنا شروع کردیا تھا ) کے ساتھ مل کر کروشیا کرواتی تو کچھ پیسے اسے بھی دے دیتیں ، صبح وہ کیفے چلی جاتی ، دوپہر میں واپسی، جو مل رہا تھا وہ کافی نہیں تھا ، جو کافی تھا وہ میسر نہیں تھا ، گھر میں حالات پہلے جیسے تھے ، اس کی کمائ وہاں کافی نہیں تھی ، بابا کے علاج کے لئے مزید رقم درکار تھی ، وہ انگلش میں ماسٹرز کرنے والی لڑکی اب دیار غیر میں ایک ویٹرس تھی وہ اس پر بھی راضی تھی اگر اس کی جاب سے پیچھے کے حالات بہتر ہوجاتے ، اسے اب احساس ہوا کہ ملک سے باہر جانے والوں کے لیے زندگی کتنی مشکل ہوتی ہوگی
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
وہ کیفے سے عموماً کچھ فاصلہ پیدل طے کرلیتی تھی کہ کوزی مگ سے چار پانچ منٹ کی مسافت پر روٹ تھا جہاں سے فنسبری پارک کے لئے ڈائریکٹ بس چلتی تھی تو اسے آسانی ہوجاتی تھی ، یہ بھی انہیں عام دنوں میں سے ایک دن تھا جب وہ کسی قدر تیزی سے اسٹاپ کی طرف جارہی تھی ، بس نکل جاتی تو اگلی بس دس منٹ بعد آتی اور اسے جلدی پہنچنا تھا ، یہ اسی تیز رفتاری کا نتیجہ تھا کہ وہ کسی سے زور سے ٹکرائ ، جانے سامنے والی لڑکی کچھ زیادہ موٹی تھی یا وہ کمزور کہ ایک ٹکر کی دیر تھی اور وہ دھڑام سے نیچے گری ، ہتھیلیاں چھل گئیں ، کانچ کی چوڑیاں ٹوٹ گئیں اور وہ کراہ کر رہ گئ
” تم دیکھ کر نہیں چل سکتیں ؟”
بمشکل خود کو کھڑا کرتے وہ سیدھی ہوئ تو سامنے دیکھا ، سات آٹھ سال کی اچھی خاصی موٹی بچی ، اگر وہ اس کے اوپر گرتی تو یقیناً اس نے زندہ نہیں بچنا تھا
” نہیں ، اب اگلا سوال تم یہ کروگی کہ کیا تم آنکھیں گھر رکھ کر آئ ہو ؟ تو ہاں میں آنکھیں گھر رکھ کر آئ ہوں”
منہ میں کریکر چباتے اس نے اسی پھولے منہ کے ساتھ جواب دیا
” اگر آنکھیں گھر رکھ کر آئ ہو تو پھر باہر کیوں ہو ؟”
” کیا اندھے لوگوں کو باہر نکلنے کا حق نہیں ؟ کس قدر غلط بات ہے “
بڑی آئ تھی اندھی ، مسلسل کھاتے ہوئے وہ اِدھر اُدھر دیکھ رہی تھی، معطر کا دل کیا اسے ایک تھپڑ لگا دے
” اگر تم مجھے مارنے کا سوچ رہی ہو تو میں بتادوں کہ برطانوی قانون کے تحت میرے پاس یہ حق ہے کہ میں تمہیں صرف تھپڑ لگانے پر ہی پولیس کے حوالے کرسکتی ہوں “
اس نے اپنے دل کی خواہش دبا دی ، یہ پاکستان ہوتا تو وہ اس کی اچھی طرح دھلائ کردیتی ، لیکن افسوس انگریزوں کے ملک میں وہ انگریزوں کے خلاف کچھ نہیں کرسکتی تھی
” تم مجھے سوری کہہ کر معاملہ رفع دفع کرسکتی ہو “
” میں معاملہ رفع دفع نہیں کرنا چاہتی ، تم پولیس کے پاس جاسکتی ہو لیکن میں یہ بھی بتادوں کہ برطانوی قانون مجھے کچھ کہنے کا حق نہیں رکھتا کیونکہ یہ ایک حادثہ تھا “
اس نے لعنت بھیجی برطانوی قانون پہ اور اپنی ٹوٹی چوڑیوں کو دیکھا ، سبز رنگ کا کانچ نیچے بکھرا تھا ، اس کا دل ٹوٹ گیا ، یہاں برطانیہ میں وہ اب چوڑیاں کہاں سے ڈھونڈتی ، سامنے کھڑی منہ چلاتی لڑکی کو غصے سے گھورتے وہ جانے کے لئے مڑنے لگی، جب سامنے سے کوئ لڑکا تیزی سے اسی بچی کے پاس آیا اور اسے تھاما
” لوئ تم ٹھیک ہو ؟”
” یہ سوال مجھ سے نہیں اس سے پوچھوں “
لوئ نامی بچی کا ہاتھ اس کی طرف اشارے کی صورت آیا ، اس کے سامنے بیٹھے لڑکے کا چہرہ بھی ، وہ سیاہ بالوں اور شہد رنگ آنکھوں والا مرد تھا ، معطر صبا نے ایک نظر میں ہی دونوں میں مماثلت ڈھونڈ کر انہیں ایک دوسرے کا باپ اور بیٹی اور بیٹی بنا دیا
” آپ ٹھیک ہیں مادام ؟”
وہ بچی کے سامنے سے ہٹتا اس سے پوچھ رہا تھا ، شستہ انگریزی ، سرخ وسفید رنگت ، یقیناً وہ مقامی تھا
” نہیں ، آپ کی بیٹی نے مجھے اچھا خاصا زخمی کردیا ہے ، اسے مجھے سوری کہنا چاہئے لیکن میرا خیال ہے آپ لوگوں کو سوری کہنے کا طریقہ نہیں آتا “
” بیٹی ؟”
اس نے ابرو اچکائے
” ظاہر ہے اسی نے ٹکر ماری ہے مجھے “
” حالانکہ تمہیں احتیاط کرنی چاہئے ، تم جیسی لڑکیوں کو گھر سے نہیں نکلنا چاہئے ، میرا خیال ہے کمزور لوگوں کو اس ڈر سے گھر میں قید کرلیا جانا چاہئے کہ وہ باہر جاکر ہم جیسوں کے نیچے نا آجائیں “
اس کا چہرہ سرخ پڑا ،یہ سراسر بعزتی تھی
” آپ کی بیٹی کو زرا تمیز نہیں ہے “
وہ شاید کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن اس کے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھ رکا پھر ایک ہاتھ جیب میں ڈالے دوسرا ہاتھ منہ پر رکھتا کھنکارا
” وہ کچھ غلط بھی نہیں کہہ رہی ویسے “
، اب کے اس کے کان لو تک سرخ ہوئ ، یہ انگریز کس قدر بدتمیز تھے ، مزید خوار ہونے کے بجائے اس نے جھپٹ کر بیگ سیدھا کیا اور جانے لگی جب وہ اس کے پیچھے آیا
” اس کی طرف سے میں معذرت کرتا ہوں “
” اس کے حصے کی سزا بھی آپ بھگت لیں “
” کون سی سزا ؟”
” یہ دیکھیں ۔۔۔۔ ” رک کر اپنا ہاتھ اسے دکھایا ، کلائ زخمی تھی” میری چوڑیاں توڑ دی ہیں اس نے ، یہاں برطانیہ میں اب میں کہاں سے لوں گی ؟”
وہ چند لمحے اس کی کلائیوں کو دیکھتا رہا ، جو ٹوٹے ٹکڑے تھے وہ اس نے ہاتھ میں تھام رکھے تھے ، عزیز من ، عزیز جان شے ، معطر صبا کی چوڑیاں
” آپ کو چوڑیوں کے ٹوٹنے کا غم ہے ؟”
” ہاں ۔۔۔۔ “
” آپ زخمی ہوئ ہیں “
زخمی ؟ اس نے ٹھٹک کر کلائ کو دیکھا ، کانچ کے ٹکڑے کلائ میں چبھے تھے ، اسے یاد آیا یہ چوڑیاں تیمور نے دلائ تھیں،زخم کا احساس دیر سے ہوا ، درد بھی اب ہوا تھا
” چھوٹا سا زخم ہے “
دھیمے سے کہتے اس نے سر جھٹکا پھر جانے لگی
” نظر انداز مت کریں ، میں دوائ لے دیتا ہوں “
وہ پیچھے آرہا تھا ، لوئ بھی مسلسل ان کے پیچھے چل رہی تھی
” نہیں چاہئے ، اس سے زیادہ بڑے زخم کھائے ہیں ، “
اوور بسس ، وہ کس قدر تیز قدموں سے چلتے ہوئے وہاں سے دور ہوتی گئ، راستے میں وہ رکی ڈسبن پڑا تھا ، ٹھہر کر اس نے بچی ہوئ چند چوڑیاں کلائ سے نکالیں اور اس کے اندر پھینک دیں ، برطانیہ کی شہری کو تھپڑ مارنے کا سوچنے والی برطانیہ کے شہری کی زخم دور کرنے کی آفر ٹھکرا چکی تھی
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
وہ اگلے دن اسی راستے سے گزر رہی تھی جب لوئ نامی بچی یکدم سامنے آگئ
” تم مجھے کسی دن ہلاک کرو گی “
” میں اس کام کو یہاں کیوں کروں گی ؟، میرا نہیں خیال میں پکڑے جانا پسند کروں گی “
” تو کیا باقاعدہ پلاننگ کرکے مجھے ہلاک کرنے کا ارادہ ہے ؟”
” اول تو میں ایسا چاہتی نہیں ہوں ، دوم ، کیونکہ میں ایسا نہیں چاہتی تو میں اپنے دماغ کو پلاننگ کرنے میں ضائع نہیں کروں گی ، میرے پاس اس سے زیادہ اہم کام ہیں “
اس کا اہم کام شاید کھانا ہی تھا ، معطر سر جھٹکتے جانے لگی جب وہ سامنے آگئ
” میں تم سے معذرت کرتی ہوں ، دراصل کل غلطی میری تھی “
” یہ احساس کیسے ہوگیا ؟”
” کیا تمہیں لگتا ہے میں بے حس ہوں، دیکھو اب مجھے اپنی غلطی کا احساس ہو رہا ہے تو معافی مانگ رہی ہوں “
“ٹھیک ہے ، معاف کیا “
اس نے جان چھڑانی چاہی لیکن بچی شاید جان چھڑانے نہیں آئ تھی
” شکریہ ، میرا خیال ہے اب ہمیں دوست بن جانا چاہئے ، اور کیونکہ دوست ایک دوسرے کو تحفے دیتے رہتے ہیں اس لئے ہم بھی تحفے سے آغاز کرتے ہیں ، میں بتادوں مجھے چاکلیٹ بہت پسند ہے “
بہت خوب ، کل تک اسے مارنے کی باتیں کرنے والی دوستی کی پیشکش کررہی تھی ،بلکہ زبردستی دوست بن رہی تھی
” ٹھیک ، اور مجھے تحفے کے طور پر کیا ملے گا ؟”
” میں ایک آٹھ سال کی بچی ہوں ، مجھے جتنی پاکٹ منی ملتی ہے اس سے میرا گزارا مہینے میں نہیں ہوتا ، تمہیں مجھ سے تحفہ مانگتے ہوئے شرم آنی چاہئے “
اس کا چہرہ سرخ ہوا ، یہ لوگ کس قدر منہ پھٹ تھے
” میرے پاس فلحال کوئ تحفہ نہیں ہے “
وہ دراصل اس سے دوستی نہیں کرنا چاہتی تھی ، دو دن میں ہی دماغ خراب کردیا تھا آگے کیا ہوتا ؟
” تمہارے پاس فی الحال پرس ہے جس کے اندر مجھے یقین ہے کہ پیسے ہوں گے ، تم پیسے دے دو میں اپنی مرضی سے تحفہ لے لوں گی “
اللہ ! یہ تو زبردستی پیچھے ہی پڑ گئ تھی ، جواب دینے سے پہلے اس کی نظر پیچھے آتے لڑکے پر گئ ، وہ چھوٹی بچی کا بیگ کاندھے پر رکھے ہوئے تھا
” لوئ کیا تم نے معافی مانگی ؟”
” ہاں بالکل ، یہ مجھے معاف کرچکی ہیں ، اور چاہتی ہیں کہ اب ہم دوست بن جائیں ، بلکہ انہوں نے مجھے تحفے کی آفر کی ہے ، جو میں کب سے منع کررہی ہوں “
اس نے فوراً پینترا بدلا ، معطر کا منہ ہلکا سا کھلا
” اور جیسے میں یقین کرلوں گا ، گاڑی میں بیٹھو جاکر “
نرمی سے کہتے وہ معطر کی طرف متوجہ ہوا تو لوئ تابعداری سے سر ہلاتی فوراً غائب ہوئ
” آئ ایم سوری ، شاید اس نے آپ کو تنگ کردیا ہے “
” تنگ نہیں ، دماغ گھما دیا ہے ، آپ کی بیٹی پیاری ہے لیکن تھوڑی شرارتی ہے ۔۔۔۔”
” وہ میری بیٹی نہیں ہے “
نرمی سے ٹوکا تو اسے چپ لگ گئ
” جی ؟”
” لوئ۔۔۔۔ وہ میرے پڑوسی کی بیٹی ہے ، وہ چند دن سے شہر سے باہر ہے تو لوئ کو پک اینڈ ڈراپ کی سروس میں فراہم کرریا ہوں “
وہ بہت نرمی سے بولتا تھا ، دھیما ، شائستہ لہجہ انگریزوں کی طرح بہت تیزی سے نہیں بلکہ دھیمے سے ، چہرے پر ایک نرم سا تاثر تھا
” اوہ آئ ایم سوری ۔۔۔۔” اسے خفت نے آن گھیرا
” اٹس اوکے ۔۔۔ ویسے میں حیران ہوں کہ آپ کو وہ کس اینگل سے میری بیٹی لگی ؟” وہ سر جھٹکتے مسکرایا
” ویسے ہی کہہ دیا تھا ، یوں ہی منہ سے پھسل گیا ، آپ اس کے ساتھ تھے تو میں نے یہی سمجھنا تھا نا ، اوپر سے لوئ کا انداز …” سر جھٹکا ” آپ کے ملک کے بچے بہت عجیب ہیں “
” میرے ملک کے بچے ؟ میرا خیال ہے بچے سب ایک جیسے ہی ہوتے ہیں “
” جی نہیں ، آپ کبھی پاکستان آئیں ، ہمارے ملک کے بچے اس قدر تابعدار ، سلیقہ شعار ، تمیز دار ہیں کہ سوچ ہے آپ کی “
” آپ پاکستان سے ہیں ؟”
وہ چونکا تھا
” بالکل ۔۔۔۔ اس لئے تو کہہ رہی تھی کہ مجھ سے یہاں کے بدتمیز بچے ہضم نہیں ہورہے ، ہمارے اِدھر تو سب اتنی تمیز سے رہتے ہیں”
اس نے صاف دیکھا تھا کہ مقابل نے مسکراہٹ ضبط کی تھی ، کیوں ؟
” آپ مسکرا رہے ہیں ؟”
ماتھے پر بل ڈالے پوچھا تو اس نے چہرے کے زاویے درست کئے
” زخم ٹھیک ہوگیا آپ کا ؟”
” زخم نہیں تھا ۔۔۔”
اس کا چہرہ سپاٹ ہوگیا
” آپ کو نہیں لگا ہوگا ، “
نظر اس کی کلائ پر گئ ، چھوٹی چھوٹی کھروچ ، سونی کلائ ، زخموں کا ہلکا سا نشان
” آپ نے چوڑیاں نہیں پہنیں ؟”
لبوں سے بے ساختہ نکلا تھا ، غیر ارادی طور پر ، معطر کی نظر کلائ پر گئ
” ٹوٹ گئ تھیں ۔۔۔۔۔ “
آواز دھیمی ہوگئ
” میں لادوں؟”
اس نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا ، وہ ہلکا سا گڑبڑا گیا
” لوئ کی وجہ سے ٹوٹی تھیں ، اس لئے آفر کی ہے “
” نہیں۔۔۔۔ انہیں اب تک ٹوٹ جانا چاہئے تھا ، وہ ٹوٹ گئیں ۔۔۔ اچھا ہوا “
” میں سمجھا نہیں”
” آپ کو سمجھانا بھی نہیں تھا “
وہ اب جانا چاہتی تھی
” آپ کا نام جان سکتا ہوں ؟”
” میں اجنبیوں کو نام نہیں بتایا کرتی “
” شاید ہم کچھ عرصے بعد اجنبی نا رہیں ؟”
وہ رک کر اسے دیکھنے لگی ، سامنے والا ایک بار پھر گڑبڑا گیا
” میرا خیال تھا میں اچھا مزاق کرتا ہوں “
” میں اجنبیوں سے مزاق بھی نہیں کیا کرتی “
وہ سنجیدہ تھی اور جانے کو پر تول رہی تھی
” اگر میں نے آپ کی چوڑیاں واپس کرنی ہوں تو کہاں ملیں گی آپ ؟”
وہ چلتے چلتے رکی ، اجنبی دیس کا اجنبی اسے ہی دیکھ رہا تھا
” بنجارے ڈھونڈ لیا کرتے ہیں ، ڈھونڈ لیجئے گا کسی گلی میں مجھے “
اردو میں کہتی وہ اپنا دو گز کا دوپٹہ سنبھالتی آگے بڑھ گئ ، نا وہ دوبارہ ملتا نا اس نے چوڑیاں لینی تھی اور نا مقابل کو بات سمجھ آئ ہوگی ، اسے یقین تھا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
کولڈ کافی کا آرڈر اس کے سامنے رکھنے کے بعد اس نے رقم بتاتے ہوئے بل جمع کرانے کا کہا تو وہ جو کافی کا کپ منہ سے لگارہا تھا رک گیا
” تم مجھ سے پیسے مانگ رہی ہو ؟ “
” جی “
” مجھ سے ؟ “
انداز یوں تھا جیسے وہ کہنا چاہتا ہو مجھ سے ؟ جس کی ملکیت میں پورا برطانیہ ہے ، جس کو سلامی دینے کے لئے روز گھر کے سامنے فوجی دستے اترتے ہیں ، جس کا نام لے کر مثالیں دی جاتی ہیں ،اس سے رقم مانگنے کی گستاخی کی جارہی ہے ؟
” جی ، میں آپ سے آپ کی لی گئ کافی کے پیسے مانگ رہی ہوں “
گستاخ ابھی تک اپنی گستاخی پر قائم تھا ، سامنے کھڑے لڑکے نے ابرو اچکائے
” تم جانتی ہو میں کون ہوں ؟”
” نہیں “
” یقیناً نہیں جانتیں ، ورنہ تم یہ گستاخی نا کرتیں ، اب یوں کرو میرے جانے کے بعد کیفے کے مالک سے پوچھنا کہ ایرک کیان سے پیسے مانگنے پر سب سے قابل عزت طریقہ کون سا ہے جس سے تمہیں جاب سے نکالا جا سکے “
” تمہیں لگتا ہے تم اس طرح کہو گے اور میں تم سے ڈر جاؤں گی اور پیسے نہیں لوں گی ؟”
” افسوس میں تمہیں ڈرانا بھی نہیں چاہتا “
” باتیں بند کرو مسٹر اور پیسے نکالو “
وہ بے زار ہوئ ، وہ اسے دیکھتا کاؤنٹر پہ کہنیاں رکھتا جھکا
” لڑکی ، میں آخری موقع دے رہا ہوں ، ورنہ اس کے بعد ہماری اگلی ملاقات تب ہوگی جب تم مجھے سوری کہنے آؤگی “
” خواب۔۔۔۔”
” میں خوابوں پہ نہیں حقیقت پہ یقین رکھتا ہوں ، تم میری طاقت سے واقف نہیں ہو “
” اور میں باتیں کرنے والوں کو زرا اہمیت نہیں دیتی ، جن کی باتیں عمل سے خالی ہوں “
” چچ ۔۔۔ مجھے تمہارے لئے افسوس ہے “
وہ لب بھینچتی آگے کو ہوئ
” بہت شکریہ لیکن تم رقم ادا کئے بغیر نہیں جاسکتے “
” تم اب بھی گستاخی پر قائم ہو ، میری برداشت کی داد دو “
” باتیں بند کرو اور پیسے جمع کراؤ “
اس کا چہرہ سرخ ہوا ، پٹخ کر کافی سامنے رکھی
” یہ اس کیفے سے لی گئ میری آخری اور تمہاری اس کیفے پر بیچی گئ آخری کافی ہے ،مسٹر ولیم سے کہنا آج سے اس کیفے کی کافی ایرک پر حرام ہے “
اور یہ جا وہ جا ، پیچھے کھڑی معطر نے کاندھے اچکاتے کافی اٹھا لی ، آیا بڑا دھمکی دینے والا ، جیسے وہ کوئ سلیبرٹی ہو
وہ سلیبرٹی سے کم نہیں تھا ، اسے اندازہ ہوگیا ، اس کے جانے کے بعد مینیجر کو ایرک کی آمد اور معطر کی اس کی شان میں کی جانے والی گساخی من و عن بتا دی گئ ، انہوں نے اپنے آفس میں بلا کر اس کی اچھی خاصی کلاس لی
” کیا تم بیوقوف ہو ؟ تم ایرک سے پیسے مانگ سکتی ہو ؟” ۔
” اس نے کافی لی تھی سر “
وہ منمانئ
” وہ پورے دس کپ لے سکتا ہے، تم نے ایک کپ کے پیسے مانگ لئے ؟”
” مجھے نہیں معلوم تھا کہ اس سے پیسے مانگنا جرم ہے “
” یہ نا قابل معافی جرم ہے ، کل تک اگر وہ واپس نا آیا تو تم جا کر اس سے معافی مانگو گی ، اگر وہ معاف نا کرے تو اپنا سامان سمیٹ لینا “
وہ ضبط کرتی واپس آگئ ، اس لڑکے پر جی بھر کر غصہ آیا ، اتنا اہم کیوں تھا آخر ؟
وہ اہم اس لئے تھا کیونکہ وہ یونیورسٹی کے آدھے سٹوڈنٹس کو اس کیفے سے کافی دلاتا تھا ، آدھی یونیورسٹی اس کی وجہ سے یہاں سے کافی لیتی تھی ، جانے وہ مشہور تھا یا بدنام لیکن ایسا ہی تھا ، کیفے کی طرف سے اسے اس خدمت پر روز کی ایک کافی مفت دی جاتی تھی جس پر آج معطر صبا نے لات ماردی تھی
یہ اسے بعد میں علم ہوا کہ یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس سے لی گئی رقم میں سے اسے کافی دی جاتی تھی ، یعنی وہ نا ہی مفت کی کافی پیتا تھا نا اپنے پیسوں کی ، وہ بچارے غریب سٹوڈنٹس کے جیب خرچ پر ڈاکہ ڈالتا تھا
وہ اگلے دن نا آیا ، خوش قسمتی کے اگلے دن مینیجر بھی نا آیا ، بدقسمتی کہ اگلے دن یونیورسٹی سے صرف چند سٹوڈنٹس کافی لینے آئے تھے ، جو وہ طاقت رکھتا تھا اس نے وہ طاقت معطر صبا کو دکھا دی تھی
اگلے دن پھر مینیجر نے اسے آفس بلا کر اچھی خاصا سناکر یونیورسٹی بھیجا کہ جاکر ان کے کیفے کی خوش حالی کے سبب کو منا کر لائے ، ناچار اسے جانا ہی پڑا کہ معاملہ اس کی نوکری کا تھا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
یونیورسٹی میں عام لوگوں کو صرف لائبریری یا کینٹین جانے کی اجازت تھی ، عام لوگ پوری یونیورسٹی میں نہیں گھوم سکتے تھے ،جہاں گھوم سکتے تھے وہاں بولائے بولائے گھومنے کے بعد وہ ایک سٹوڈنٹ کے سامنے رک گئ
” کیا تم اس لڑکے کو جانتی ہو جس کے گلے میں کیمرہ تھا ، وہ جس کے بازوں میں بہت سے ربنز تھے “
اسے نام تک بھول گیا تھا ، جانے کیا بتایا تھا مینیجر نے
” نظریں گھماؤ تمہارے پیچھے ہزاروں ایسے لڑکے گھوم رہے ہیں ، اپنا مطلوبہ لڑکا لے لو “
مطلوبہ لڑکا لے لو ؟ اس کا چہرہ سرخ ہوا
” میں اس کا پوچھ رہی ہوں جو سامنے کے کیفے سے کافی لیتا ہے”
” ہماری آدھی یونیورسٹی وہیں سے لیتی ہے ، تم چاہو تو آدھی یونیورسٹی کے لڑکے لے کر جاسکتی ہو “
بدتمیز انگریز ، وہ پیر پٹختی آگے بڑھ گئ ، جانے کیا نام تھا اس آفت کا ، جانے کون سے ڈیپارٹمنٹ میں ہوتا تھا
” کیا آپ میری تھوڑی سی مدد کرسکتی ہیں ؟”
تھک ہار کر وہ ایک اور لڑکی کے پاس رک گئ
” ہاں کیوں نہیں ، لیکن دھیان رکھنا تھوڑی سی مدد سے زیادہ مدد مانگوں گی تو میں نہیں کروں گی “
کتنے بے مروت تھے انگریز !!
” نہیں بس تھوڑی سی ہی مدد ، کیا تم اس لڑکے کو جانتی ہو جو سامنے کیفے سے روز مفت کی کافی لیتا ہے ؟”
” اوہ ۔یہ کب ہوا ؟ اس یونیورسٹی میں مسٹر ولیم کا ایسا پیارا کون پیدا ہوگیا جسے وہ مفت کافی دینے لگا ؟”
وہ حیران ہوئ ،پریشان ہوئ
” وہ جس کے گلے میں کیمرہ تھا ، وہی جو یہاں کی آدھی عوام کو وہاں سے کافی دلواتا ہے اور پھر ان کےآدھے پیسوں سے کئ صدیوں سے مفت کی کافی پی رہا ہے “
وہ بے زاریت سے یہی کہہ سکی
” تم کس کی بات کررہی ہو ؟…” پھر وہ چونکی ، منہ کھلا ” کیا تم ایرک کا کہہ رہی ہو ؟ مجھے یقین کرنے دو “
” ہاں یہی ، یہی تھا ، ایرک ، یہ کہاں ملے گا ؟”
شکر !!
” تم نے ابھی جو کہا سچ کہا ؟”
” سچ تھا ، یہ لڑکا کہاں ملے گا ؟”
” وہ اس وقت صرف ایک جگہ ملے گا “
” کہاں ؟”
” کینٹین میں “
وہ سر ہلاتی اس ششدر چہرے والی کو وہیں چھوڑتی کینٹین تک آئ ، ڈھیروں کرسیاں ، میزیں ، لوگ، ان میں اب وہ اس ایرک نامی بلا کو کہاں ڈھونڈے ؟
” سنو مسٹر ، یہ ایرک کون سا ہے ان میں سے ؟”
لڑکے نے کچھ کہنے کی بجائے ہاتھ سے اشارہ کردیا ، اس کی نظر اشارہ کی گئ جگہ پر گئ ، آخری کونے میں کرسی پر بیٹھا ، بلکہ نیم دراز لڑکا ، پاؤں ٹیبل پر لمبے کررکھے تھے ، ہاتھ گود میں تھے ، سر کرسی پر پیچھے کی طرف تھا ، منہ پر کتاب
وہ گہری سانس لیتی اس تک آئ
” مسٹر۔۔۔۔”
وہ اسی طرح پڑا رہا
” ایکسکیوزمی ؟”
ساکت
” ہیلو ؟”
” کیا تم سن رہے ہو ؟”
” میرا نام مسٹر ، ایکسکیوزمی ، ہیلو نہیں ہے ، ایرک ہے، اس نام سے بلاؤ ، پھر میں جواب دوں گا “
اس نے دانت پیسے ، کس قدر بگڑی قوم تھی یہ
” مسٹر ایرک ، کیا تم میری بات سن سکتے ہو ؟”
اس نے ایک ہاتھ سے بڑھا کر کتاب چہرے پر سے اٹھائ ، دوسرے ہاتھ سے جمائ روکی
” سناؤ “
” میں تم سے سوری کہنے آئ تھی “
” کہو…”
کہو مطلب ؟ ان کے ہاں سوری کہنے آئ ہوں کا مطلب سوری نہیں ہوتا ؟
” آئ ایم سوری”
” اب مجھے یاد کرنے دو تمہاری غلطی کیا تھی “
جمائے روکتے ، آنکھیں پوری کھولتے پہلی بار غور سے اسے دیکھا ، سفید لمبی قمیص ، سفید شلوار ، لمبا سفید دوپٹہ ، ہاتھوں میں چوڑیاں ، چہرے پر بے زاری
” اوہ ، کافی گرل ” ۔۔۔وہ محظوظ ہوا ” کیا میری طاقت پر یقین آگیا ؟’
پاؤں کرسی سے اتار کر رکھ لئے ، غور سےاسے یوں دیکھا جیسے اندر تک جان لینا چاہتا ہو ، اس نے لب بھینچ لئے
،” میری معذرت قبول کرو تاکہ میں جا سکوں “
” کون سے سیارے کی ہو ؟”
وہ اس کی چوڑیوں کو دیکھ رہا تھا
” مطلب ؟”
” تم ہمارے ملک کی نہیں ہو”
” نہیں ہوں۔۔۔ تم بس سوری قبول کرو “
” پہلے سوری کہو ، پھر قبول کروں گا “
” ابھی تو کہا ہے “
” وہ میری نیند خراب کرنے کے لئے تھا ، اب تم اس دن کی بدتمیزی پر دوبارہ سوری کہو “
معطر کا ضبط جواب دینے لگا ، مسئلہ نوکری کا نا ہوتا تو وہ اس شخص پر لعنت بھیج کر چلی جاتی
” مسٹر ایرک ، اس دن کی بدتمیزی پر میں معافی مانگتی ہوں ،کیا تم مجھے معاف کرسکتے ہو ؟”
” میں سوچوں گا کہ معاف کروں یا نا , اور کچھ ؟”
سوچوں گا ؟ وہ اپنی عزت نفس کچل کر یہاں آئ تھی اور یہ سوچے گا ، دل کیا ایک مکا ماردے اسے
” دیکھو ،میں واقف نہیں تھی کہ تم وہاں سے مفت کافی لیتے ہو اور …”
” اپنے حق کی مفت کافی “
” اپنے حق کی مفت کافی لیتے ہو ، تم دوبارہ سے اپنا کام جاری رکھو ،میں معذرت کرتی ہوں “
” لیکن جو مجھے برا لگا اس کا کیا ؟”
” جو برا لگا اس کے لئے بھی سوری “
اس کا سر درد کرنے لگا تھا
” کیا تمہیں کسی نے بتایا ہے کہ ہر سوری کی ایک وقعت ہوتی ہے ؟ بار بارسوری کہنے سے وقعت ختم ہوجاتی ہے “
وہ فلسفہ جھاڑنے لگا
” نہیں ،ہمارے ملک میں اتنی گہری باتیں نہیں کی جاتیں “
مسئلہ کیا تھا اس لڑکے کو ؟
” مجھے سوچنے دو تم کون سے ملک سے ہو ؟ لیکن کیونکہ میں اپنا دماغ فالتو کاموں میں خرچ نہیں کرتا ، اس لئے تم خود ہی بتادو “
وہ دونوں ہاتھ میز پر رکھتی جھکی
” تم نے سوری قبول کیا یا نہیں ؟”
” خوش قسمتی سے آج میرا دل پوری دنیا پر رحم کرنا چاہتا ہے ،ٹھیک ہے میں تمہیں معاف کرتا ہوں “
” بہت شکریہ”
وہ مڑنے لگی
” تم نے اپنا نام کیا بتایا تھا ؟”
وہ پیچھے سے اٹھتا اس کی طرف آرہا تھا
” میں نے اپنا نام نہیں بتایا تھا”
” اوہ ۔۔۔۔ معاف کرنا میری یاداشت بہت کمزور ہے “
گویا لاچاری سے کاندھے اچکائے پھر وہ ہونٹوں پہ کوئ انگلش ساز گنگناتا دوبارہ پیچھے کی طرف چلا گیا ، معطر نے مشکوک نظروں سے گھورتے کاندھے پہ رکھا بیگ سنبھالا اور آگے بڑھ گئ ، اس کی چوڑیوں کی چھن چھن پورے ہال کا گونجی تھی ، یہ اس کی ایرک سے پہلی اور آخری ملاقات تھی ، یہ اس کا خیال تھا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
