192.3K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Laa (Episode 10)

Laa By Fatima Noor

کوزی مگ سے اسٹیشن کی طرف جاتے ہوئے اس کے قدموں کی رفتار سست تھی ، ایک ہاتھ کوٹ میں تھا اور دوسرے سے موبائل تھام رکھا تھا

” ڈاکٹر نے کیا کہا ہے ؟”

” کہہ رہے تھے کہ پہلے سے کچھ بہتر ہے طبیعت ،لیکن زیادہ نہیں، شاید میڈیسن چینج کرنی پڑے “

” ان سے کہو کرلیں ، پیسوں کی فکر مت کرو، اگر ہوسکے تو میں تو بابا کو یہاں لانے کی کوشش کروں گی “

” بہت مشکل ہوگا “

” ناممکن نہیں “

تھکی تھکی سے سانس خارج کرتے اس نے اردگرد دیکھا ، نیال سال شروع ہونے میں چند دن باقی تھے ، سڑکیں برقی قمقموں سے سج گئ تھیں، کرسمس کا جوش وخروش اور خوشی ، گویا پورا ازلنگٹن سجا دیا گیا تھا ، تقریبات اور رونق سی تھی ، اور اسے یہ رونق وحشت میں مبتلا کررہی تھی

” تم تھک تو نہیں گئیں معطر ؟”

” کس چیز سے ؟”

” ہر چیز سے …”

” جس دن تھک جاؤں گی اس دن کسی کے کاندھے پر سر رکھ کر بتادوں گی کہ تھک گئ ہوں”

گہری سانس لی

” کوئ کاندھا ڈھونڈ لو پھر “

اس کے لبوں پہ زخم خوردہ سی مسکراہٹ ابھری

” ابھی تو دل کا زخم ٹھیک سے نہیں بھرا ، خیر بابا کا دھیان رکھنا، خدا حافظ “

” تم ان سے بات کیوں نہیں کرتیں ؟”

اس کا موبائل کان سے ہٹاتا ہاتھ رکا

” کس سے ؟”

” بابا سے ۔۔۔ تم کال کرکے ان کی خیریت پوچھتی ہو اور کال کاٹ دیتی ہو ، اس کے علاوہ کوئ بات نہیں کرتیں ، وہ پورا دن تمہاری کال کا انتظار کرتے ہیں معطر “

اس کی آنکھوں میں رات کی سیاہی اتری

” وہ واپس آنے کا کہتے ہیں ، وہ کہتے ہیں میں ان کا دل تھکا رہی ہوں ، ان سے بات کروں تو اگلے کئ گھنٹے بے سکون رہتی ہوں ، ان کی تکلیف مجھے ختم کررہی ہے دانیال “

دوسری طرف پل بھر کو خاموشی چھا گئ

” مبشرہ کی لسٹ مل گئ تھی نا ؟ عون کی گھڑیاں بھی لیتی آنا “

اس نے بات بدل دی ، وہی پرانا انداز جس چیز سے ان دونوں کو تکلیف ہوتی اس کا زکر کرنا چھوڑ دیتے

” جب آؤں گی لیتی آؤں گی ،تمہیں کچھ نہیں چاہئے ؟”

” چاہئے نا۔۔۔۔ اپنے لئے ایک عدد بھابھی ڈھونڈتی آنا “

وہ ہنس دی

” امی کے سامنے کہو یہ بات زرا”

” کیوں مجھے گھر سے بے دخل کرنا چاہتی ہو ؟ “

وہ کراہا

” حرکتیں درست کرو اپنی پھر ، کال رکھتی ہوں ، دیر ہورہی ہے مجھے “

دانیال کا خدا حافظ سنتے اس نے ابھی کال کاٹی ہی تھی جب پیچھے سے کوئ سائیکل سوار تیزی سے اس کے قریب سے گزرا ، وہ کراہ کر دور ہوئ

” اللہ۔۔۔۔۔”

پیچھے کوئ بینچ پڑا تھا ، اس کے نیچے والے کونے نوکیلے تھے ، پاؤں پر چوٹ لگ گئ تھی ، زخم کو دیکھ کر اس نے تپ کر سر اٹھایا ، لڑکے نے سائیکل آگے جاکر روک دی تھی ، معطر کو لمحہ لگا پہچاننے میں ، چہرے کے تاثرات بگڑ گئے ، وہ ہیلمٹ اتار کر سائیکل پیچھے کی طرف کرتا اس کے پاس آرہا تھا ، نیلی جینز اوپر سفید شرٹ جس کے بٹن کھلے تھے اور نیچے سیاہ ٹی شرٹ جھانک رہی تھی ، ماتھے پہ بکھرے بالوں کے ساتھ ازلی بے نیازی لئے ایرک کیان اس کے سامنے تھا

” تمہیں چاہئے کہ ازلنگٹن کی سڑکوں پر احتیاط سے چلو “

” میں ازلنگٹن کی سڑکوں پر احتیاط سے ہی چل رہی تھی ، تمہیں چاہئے کہ ازلنگٹن کی سڑکوں پر احتیاط سے سائیکل چلاؤ “

” فٹ پاتھ دو انچ پیچھے ہے ، تم آگے تھیں “

اس نے بے اختیار پیچھے دیکھا ، وہ جانے کب فٹ پاتھ پر چلتے چلتے سڑک پر آگئ تھی ، شرمندگی سی ہوئ لیکن پھر کاندھے اچکائے

” میں فٹ پاتھ پر ہوتی تب بھی تم نے کسی نا کسی بہانے سے مجھے ٹکر مارنی ہی تھی “

” چچ تم کتنا غلط سوچتی ہو میرے بارے میں ،اب بتاؤ کہ تم اچھا سوچو اس کے لئے مجھے کیا کرنا ہوگا ؟”

” مجھے تنگ کرنا بند کردو “

” میں جان بوجھ کر نہیں کرتا “

” جانے انجانے میں بھی مت کرو “

” میں کوشش کروں گا، لیکن میں کہنا چاہتا ہوں مجھ پر یقین مت کرو “

وہ یوں تھا جیسے دو دن پہلے ان کی کیفے میں کسی بات پر بحث نہیں ہوئ تھی، یوں جیسے وہ بچپن کے دوست رہے ہوں

” میں تم پر پہلے دن سے یقین نہیں کرتی ، اور تم مجھ سے ناراض نہیں تھے ؟”

وہ آگے چلنے لگی ، پاؤں میں ہلکا سا درد تھا تو رفتار مزید آہستہ ہوگئ

“میں سیاسی بحث پر ناراض نہیں ہوا کرتا”

” غیر سیاسی بحث پر ہوجاتے ہو ؟”

اسے احساس نہیں ہوا لیکن ایرک غیر محسوس انداز میں سڑک کے ساتھ اس کے بالکل ساتھ چل رہا تھا ، دوسری طرف سائیکل تھی ، معطر کی بات پر چہرے کے تاثرات بگڑے

” تم مجھ سے کتنی تنگ ہو “

” میرا خیال ہے تمہاری یونیورسٹی کا ہر شخص تم سے تنگ ہے “

” میری یونیورسٹی کا ہر شخص بیوقوف ہے ، انہیں میری قدر کرنی چاہئے “

” کس بات پر ؟ ان کے پیسوں پر ڈاکہ ڈالنے کی خوشی میں ؟”

” کیا تم مجھے دوبارہ یاد دلوارہی ہو کہ میری مفت کی کافی تمہاری وجہ سے ضائع ہوگئ ؟”

” خدا کرے تمہاری یاداشت ہمیشہ محو ہی رہے “

” میں اپنی یونیورسٹی کے زہین ترین سٹوڈنٹس میں سے ہوں”

گویا جتانا چاہا کہ وہ اتنی آسانی سے بھولنے والوں میں سے نہیں تھا ، معطر لمحہ بھر کو رکی ، پاؤں کو دیکھا ، خون نکل رہا تھا ، ایرک کی نظر یوں ہی پاؤں کی طرف گئ ، سائیکل وہیں کھڑی کرتا وہ یکدم نیچے بیٹھا اور اس کے پاؤں پر ہاتھ رکھا

” یہ تو خون نکل رہا ہے”

وہ بدک کر دو قدم پیچھے ہوئ

” کیا کررہے ہو ؟”

” افف پاگل لڑکی ، مجھے نہیں علم تھا کہ اتنی چوٹ لگی ہے ،چلو بینڈیج کرواتے ہیں “

وہ پریشان ہوا تھا ،معطر کو لگا شاید اس وجہ سے ہے کہ اس کی سائیکل سے چوٹ لگی ہے

” اتنی زیادہ نہیں ہے کہ بینڈیج کرواؤں “

حالانکہ اسے درد ہورہا تھا

” لاپرواہ مت بنو ، ٹیٹنس شاٹ لگوالینا چاہئے تمہیں ، بیٹھو پیچھے ، چند منٹ کے فاصلے پر ہوسپٹل ہے “

وہ سائیکل پر دوبارہ بیٹھ رہا تھا ، ہیلمٹ بھی پہن لیا ،معطر چند لمحے وہیں رکی رہی پھر اس کے لب مسکراہٹ میں ڈھلے

” تم مجھے سائیکل پر ہاسپٹل لے جاؤ گے ؟”

” تو ۔۔۔۔؟”

وہ رک گیا

” سچ میں ایرک ؟”

” کیا تم سائیکل کو چھوٹی سواری سمجھ رہی ہو ؟ یہی وجہ ہے کہ لاہور میں اس قدر زیادہ آلودگی ہے ،مقابلہ بازی کے چکر میں تم لوگ گاڑیاں لے کر آلودگی میں اضافہ کرریے ہو “

اس کی مسکراہٹ غائب ہوئ ،ماتھے پہ بل پڑے ، اس انسان کو بس موقع چاہئے تھا پاکستان کے خلاف بولنے کا

” میں نہیں جارہی تمہاری شاہی سواری پر ، ہٹو یہاں سے “

” یہ یقیناً طنز تھا۔۔۔۔ میں بتادوں یونیورسٹی کا زہین ترین سٹوڈنٹ یونیورسٹی کا امیر ترین سٹوڈنٹ بھی ہے “

” اور یونیورسٹی کا یہ زہین ترین سٹوڈنٹ دوسرے سٹوڈنٹس کے پیسوں سے کافی کیوں پیتا ہے ، اگر وہ اتنا ہی امیر ترین ہے تو ؟”

” تم ایسا کرو دنیا کے ہر خطے میں جا کر اعلان کردو ، تم ایسا ہی کرو “

وہ خفگی سے اسے دیکھتی آگے بڑھ گئ ، ابھی چند قدم ہی چلی تھی جب پیچھے سے آواز ابھری

” رولز رائس دیکھی ہے کبھی ؟”

اس کے قدم رکے ،دھیرے سے مڑ کر ایرک کو دیکھا ، وہ ہیلمنٹ اتارتا سائیکل پر ٹھہرا تھا

” ٹی وی پر “

” میں نے حقیقت میں دیکھی ہے ، میں نے خواب میں بھی دیکھی ہے ، میں نے اس حقیقت کو خواب کی صورت جیا ہے ،ایک دن آئے گا جب میں اپنے بچت کئے گئے پیسوں سے دنیا کی مہنگی ترین کار لوں گا اور تم مجھے ان سڑکوں پر وہ کار دوڑاتے ہوئے دیکھو گی “

اس کی آنکھوں میں خوابوں کی چمک تھی ، وہ بلند ارادے رکھتا تھا اور اسے یقین تھا ایک دن وہ اس خواب کو حقیقت بنا لے گا

” کیا معلوم میں تب تک واپس پاکستان چلی جاؤں ،لیکن میری دعا تمہارا خواب پورا ہو “

ایرک نے ابرو اٹھائے

” پاکستان کیوں جاؤ گی ؟”

” ایک نا ایک دن تو واپس جانا ہے، یہاں ہمیشہ کے لئے تھوڑی آئ ہوں “

” وہ ایک دن میرا ایک دن سے پہلے نا آئے یہ بھی دعا کرو “

اس نے دھیرے سے مسکراتے رخ موڑا ، ایرک اب سائیکل سے اترتا دوبارہ اس کے ساتھ چل رہا تھا

” تم نے مجھے اپنے گھر کا ایڈریس نہیں بتایا ویسے “

” تم تو جیسے واقعی کسی دن پاکستان آؤ گے نا “

” دنیا ناقابل یقین شے ہے ، تم ہر شے تصور کرسکتی ہو ، میں تمہاری ہر تصور کی گئ شے پر عمل کر سکتا ہوں ، اب بتاؤ کہاں رہتی ہو ؟”

” تمہیں علاقوں کا علم نہیں ہوگا “

” میرا علم مجھے علاقوں کا بتا دے گا ، تم ایسا کرو کوئ نشانی بتاؤ “

” کیسی نشانی ؟”

” اپنے گھر کی ۔۔۔۔ اگر میں کبھی لاہور گیا تو میں تمہیں لاہور کی گلیوں میں کہاں ڈھونڈوں ؟”

وہ لمحہ بھر کو رکی پھر کچھ سوچا

” میرے گھر کے سامنے مسجد ہے ، چھت سے بالکل سامنے میرے کمرے کی کھڑکی نظر آتی ہے وہاں ایک دھاگے سے میں نے ڈھیروں چوڑیوں کو باندھ رکھا ہے ، ہر رنگ کی چوڑیاں ، اب یوں کرنا لاہور کی گلیوں میں کوئ ایسی مسجد ڈھونڈنا، پھر اس مسجد کی چھت پر ٹھہر کر کوئ ایسی کھڑکی ڈھونڈنا “

ایرک کے تاثرات بگڑے

” صاف صاف کہو کہ تم ایڈریس نہیں بتانا چاہتیں”

” میں صاف صاف کہہ رہی ہوں ، میں ایڈریس نہیں بتانا چاہتی “

اس کی بس اسٹیشن پر رک رہی تھی ، ایرک کا جواب سننے کا وقت نہیں تھا ، وہ ہاتھ جھلاتے آگے بڑھنے لگی جب ایک بار پھر پیچھے سے اس کی آواز ابھری

” تم چوڑیاں پہننا چھوڑ کیوں نہیں دیتیں ؟”

معطر صبا پلٹی

” چھوڑوں کیوں ــ؟ “

” مجھے ان کا شور ناگوار لگتا ہے ، تم ان چوڑیوں کے بغیر زیادہ اچھی لگو گی “

” اگر میں تمہیں ان چوڑیوں کے بغیر زیادہ اچھی لگوں گی تو مجھے منظور ہے کہ میں ان چوڑیوں کے ساتھ تمہیں بری لگوں “

ایک بار پھر ہاتھ جھلاتے وہ مڑگئ

” ٹینٹس شاٹ لگا لینا ، ورنہ ازلنگٹن کی سڑکوں پر دوبارہ نظر نہیں آؤ گی “

وہ پیچھے سے کہہ رہا تھا ،معطر بنا کچھ کہے آگے بڑھ گئ ، ایرک کاندھے اچکاتا سائیکل دوبارہ چلا رہا تھا

کوئ تھا جسے ان چوڑیوں کا شور ناگوار لگتا تھا اور کوئ تھا جس کا دل ان چوڑیوں میں دھڑکتا تھا

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

وہ بینچ پر بیٹھا تھا ، ہاتھ میں سرخ کور والی ڈائری تھی

سنان سعدی خان

تاریخ: 25 دسمبر 2025

مقام : ازلنگٹن ، برطانیہ

ملاقات ۔۔۔۔۔ بنجارے کا زہن اب فقط مناظر یاد رکھ رہا ہے

” دو دن ، اور ان اٹھتالیس گھنٹوں میں ،میں نے پچاس بار اسے کال کرنے کا سوچا ، مجھے علم نہیں تھا کہ میں اسے اتنا یاد کروں گا ، مانچسٹر کے بازاروں میں میں چوڑیاں ڈھونڈرہا تھا ، حالانکہ میں جانتا ہوں وہ چوڑیاں نہیں لے گی ،پھر بھی۔۔۔۔۔ پرزے کہہ رہی تھی میری ہر پہلی بات اس سے شروع ہوتی ہے ، ہر دوسری بات میں اس کا زکر آجاتا ہے ، وہ کہہ رہی تھی وہ مجھے اچھی لگنے لگی ہے ، وہ اچھی لگنے والی لڑکی ازلنگٹن کی گلیوں میں اداس آنکھوں کے ساتھ گھومتی اچھی نہیں لگتی ، سنا ہے پھول مسکراہٹ لانے کی وجہ بنتے ہیں ، ایسا ہے تو

“زه غواړم د نړۍ ټول سره ګلان ورټول کړم او هغې ته یې ورکړم”

(میں دنیا کے سارے سرخ پھول توڑ کر اسے دینا چاہتا ہوں )

سرخ پھول ،؟ وہ تو محبت کی علامت نہیں ؟ لیکن میں جانتا ہوں یہ محبت نہیں ہے ، یا شاید ہے ، مجھے طے کرنا چاہئے کہ یہ کیا ہے ، پھر مجھے اسے اس ڈائری پر لکھنا چاہئے ، تو طے ہوا یہ ڈائری اگلی مرتبہ تب کھلے گی جب میں جان لوں گا کہ وہ کیا ہے ، پسند ؟ دوست ؟ یا ۔۔۔۔۔محبت ؟! “

” تو سنان سعدی ڈائری بھی لکھتے ہیں “

اس نے ہڑبڑا کر ڈائری بند کی پھر جھٹکے سے اٹھا ، وہ پیچھے ٹھہری تھی ، سینے پر ہاتھ باندھے ، کچھ شرارت سے اسے دیکھتی ہوئ

” آپ نے پڑھی تو نہیں ؟”

لبوں سے بے ساختہ نکلا ،معطر ہلکا سا ہنسی

” اخلاقیات نے پڑھنے نہیں دی ، ورنہ سوچا تو تھا “

” یوں ہی لکھتا ہوں بس ، ویسے ہی “

اس نے گویا پرسکون سانس خارج کی تھی

” آپ کو ڈر نہیں لگتا کہ کوئ پڑھ لے گا ؟”

” کسی ایک کو میں یہ پڑھوانا چاہوں گا “

وہ ڈائری بریف کیس میں ڈال رہا تھا

” کسے ؟”

” ہوگا کوئ ۔۔۔آپ نہیں لکھتیں ڈائری ؟”

” مجھے الفاظ کی صورت خود کو لکھنا نہیں آتا “

” آج کل تو میں بھی خود کو نہیں لکھ رہا ” وہ بڑبڑایا ، پھر سر جھٹکتے اس تک آیا ” آپ یہاں کیسے آئیں ؟”

” سنا ہے کہ اصل بچ جانے والا مال وہی ہوتا ہے جو اللہ کی راہ میں دیا جائے ، تو اپنا مال بچانے آئ تھی “

وہ ٹرسٹ کے باہر ٹھہرے تھے

” جمع کروادیا ڈونیشن ؟”

” جی ۔۔۔۔۔”

وہ آگے کی طرف بڑھ گئ تو سنان نے پیچھے پڑا بریف کیس اٹھایا اس کی گاڑی ساتھ ٹھہری تھی اس کے اندر رکھا پھر تیز قدموں سے اس کی طرف آیا

” جاب کیسی جارہی ہے ؟”

” ٹھیک جارہی ہے “

وہ خاموش ہوا ، اور کیا پوچھے ؟

” میرے پیچھے سب ٹھیک رہا ؟”

وہ دو دن کے لئے مانچسٹر گیا تھا

” جی۔۔۔۔ آپ کب واپس آئے ؟”

” رات ۔۔۔۔”

” کام ہوگیا آپ کا ؟”

” جی ہوگیا ، ویسے میرا کام نہیں تھا ، ہاشم بھائ کے کام سے گیا تھا ، سیمینار اٹینڈ کرنا تھا ایک “

” یہ آرگنائزیشن جنہوں نے بنائ ہے وہ خود یہاں نہیں ہوتے ؟”

سنان نے نفی میں سر ہلایا

” ہوتے ہیں ، آج کل نہیں ہیں ، افغانستان واپس گئے ہوئے ہیں، برطانیہ میں ان کے لئے حالات مشکل ہیں “

” مشکل کیوں ؟”

” وہ برطانوی حکومت کی ہٹ لسٹ پر ہیں ، یا کہہ لیں امریکی حکومت کی “

” وہ کیوں ؟”

” کیونکہ انہیں بولنا آتا ہے ، یہاں وہ امریکی مظالم کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں ، ان کی ایک اور آرگنائزیشن بھی ہے جو فلسطینی حقوق کے حق میں اور اسلاموفوبیا کے خلاف کام کرتی ہے ، میں اسی کام سے مانچسٹر گیا تھا ، اسلاموفوبیا کے خلاف کانفرس تھی جس میں شرکت کرنی تھی “

” آپ اس آرگنائزیشن کا حصہ ہیں ؟”

” کہہ سکتی ہیں ، زیادہ تو نہیں لیکن میں اس کام میں تھوڑی بہت ان کی مدد کردیتا ہوں ، “

وہ سادگی سے کہہ رہا تھا جیسے نا اسے کسی ستائش کی تمنا تھی نا کسی عزت کی چاہ

” آپ کو ڈر نہیں لگتا اتنا خطرناک کام کرتے ہوئے ؟ ڈونیشن الگ بات ہے ، لیکن اس طرح امیریکن پالیسز پر سر عام تنقید ، پھر آپ اسلاموفوبیا کے خلاف جو مہمات چلا رہے ہیں ، یہ مشکل ہے “

” جس نے ڈر کر زندگی گزاری وہ بزدلوں کی طرح جیا ، میں بہادر ہوں یا نا ہوں لیکن میں بہادروں کی طرح جینا چاہتا ہوں “

معطر مسکراتے ہوئے اسے دیکھتی رہی

آپ اچھے انسان ہیں سنان “

وہ چہرہ جھکا کر ہلکا سا ہنس دیا

” میرا خیال ہے اگر دنیا میں اچھے لوگوں کا مقابلہ ہوا تو میں جیت جاؤں گا ۔۔۔۔۔۔جیت جاؤں گا نا ؟ “

اس نے سر ہلادیا ، وہ ٹھیک کہہ رہا تھا وہ اتنا اچھا تھا کہ وہ جیت جاتا ، وہ اتنا اچھا تھا کہ اس کے لئے جان بوجھ کر ہارا جاسکتا تھا

” جیت جائیں گے ، سب سے پہلے میں ووٹ دوں گی “

وہ ایک بار پھر ہنس دیا پھر سر اٹھا کر اوپر دیکھا ، وہ گلی میں ٹھہرے تھے ، درخت کے نیچے جس پر سرخ چھوٹے چھوٹے پھول لگے تھے ، وہ ننھے پھول ان دونوں پر گررہے تھے ، سنان کی نظر معطر کے بالوں پر گئ ، اس کے سر پر چند پھول گرے تھے

” میں کچھ مدد کرسکتی ہوں ؟”

” مورل سپورٹ دے سکتی ہیں”

” اس کے علاوہ کچھ؟ “

” دعا کرسکتی ہیں۔۔۔۔” وہ رکا ۔۔۔” ان دو دنوں میں آپ نے مجھے یاد کیا ؟”

” دو دن کے لئے تو گئے تھے ، کیا یاد کرتی ؟”

وہ مسکرا کر سر جھٹکتی یکدم نیچے بیٹھی ، سنان اسی تیزی سے چار قدم پیچھے ہوا ، وہ نیچے بیٹھ کر چھوٹے چھوٹے سرخ پھول چن رہی تھی ، وہ چند لمحے اسے دیکھتا رہا پھر اس کے سامنے پنجوں کے بل بیٹھا ، مٹھی کھولی اور ایک ننھا پھول اٹھا کر ہتھیلی پر رکھا

” آپ دل رکھنے کو ہی کہہ دیتیں کے یاد کیا تھا “

اس کی جیب سے کچھ جھلکتا تھا ، سیاہ کانچ جیسا ، معطر کی نظر اس کے ہاتھ پر گئ

” میں نے دل رکھنا چھوڑ دیا ہے “

سنان کا ہاتھ لمحہ بھر کو تھما ، نیچے بیٹھے بیٹھے چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا ، وہ اپنی چوڑیوں میں اٹکا پھول نکال رہی تھی ، مدھم سا ساز بج رہا تھا ، اس کا لباس سفید رنگ کا تھا ، سفید لباس والی معطر صبا سرخ پھول چنتے ہوئے اس کے سامنے بیٹھی تھی ، اس کے سیاہ بال دائیں طرف گرگئے تھے ، سنان سعدی خان نے اپنی زندگی میں اس سے زیادہ حسین منظر نہیں دیکھا تھا

” کبھی کبھی رکھ لینا چاہئے “

” کبھی رکھا کرتی تھی ، پھر وہ دل کسی نے توڑ دیا “

اس کے جھکے چہرے پر کچھ درج ہوا ، وہ چند لمحے اس چہرے کو دیکھتا رہا ، وہ نہیں جانتا تھا کہ کیوں لیکن اس ایک چہرے پر سے وہ نظریں نہیں ہٹا پاتا تھا

” کس نے توڑا تھا۔۔۔۔؟”

اس نے یہ سوال یونہی کیا تھا ، جیسے کوئ یوں ہی پوچھ لیتا ہے کہ کیا تم ٹھیک ہو ؟ کوئ یوں ہی پوچھ لیتا ہے دل کا موسم کیسا ہے ؟” یونہی ۔۔۔۔

” تھا کوئ ۔۔۔۔”

اس نے وہ جواب یونہی نہیں دیا تھا ، جیسے کوئ کسی کے پوچھنے پر بتادیتا ہے کہ وہ ٹھیک نہیں ہے ، ہاں اس کے دل کا موسم بھی ویران ہے ، سنان کو ایک بار پھر رکنا پڑا ، اس کے زہن میں کچھ مناظر تازہ ہوئے ،کچھ لمحے قید ہوئے

” تیمور حیدر کون ہے معطر ؟”

معطر کا ہاتھ رکا ، اس نے مٹھی بھر لی تھی ، بھری گئ مٹھی میں سرخ پھول اچھے لگ رہے تھے ، پھر وہ دھیرے سے اٹھی ، سنان بھی بے ساختہ اٹھا ،یوں جیسے وہ اس کے سامنے نیچے بیٹھے گی تو اس پر لازم تھا کہ وہ بھی بیٹھے گا ، وہ عورت کو قدموں میں بٹھانے والا مرد نہیں تھا ، وہ کھڑی ہوگی تو اس پر لازم تھا کہ وہ بھی کھڑا ہوگا ، وہ عورت کو برابری پر رکھنے والا مرد تھا

” وہ میرا منگیتر تھا، پھر اس نے منگنی توڑ دی ، یعنی کہی لیں مجھے چھوڑ دیا “

درخت سے مزید پھول نیچے گرے تھے ،نا معطر صبا انہیں اٹھانے کو جھکی نا سنان سعدی کو یاد رہا کہ وہ پھول بھی چنے جانے چاہئیں

” تھا؟”

اسے ایک یہی لفظ یاد رہا تھا

” تھا ۔۔۔۔۔ ” وہ بند مٹھی کو دیکھتی رہی تھی نظر اٹھا کر سنان کو دیکھا، پھر دوبارہ سرخ پھول دیکھے ” میں اس سے محبت کرتی تھی “

سنان کے ہاتھ سے سرخ پھول نیچے گرے ، معطر صبا کی نظر نیچے ہی تھی

” کرتی تھیں ؟”

اسے اب بھی بس ایک لفظ یاد رہا تھا

” شاید ۔۔۔ یا شاید اب بھی کرتی ہوں ۔۔۔۔”

وہ ننھے پھول چننے والی ، اس لمحے اسے احساس بھی نہیں ہوا کہ اس نے کسی کا دل سرخ رنگ سے بھرا تھا ، وہ جس کے پھول نیچے گرے تھے اور جس کی جیب میں چوڑیاں تھیں اس کے حلق میں کچھ اٹکا

” وہ کرتا ۔۔۔۔ ہے “

” وہ پہلے بھی نہیں کرتا تھا”

اس نے جھکا سر اٹھایا، جو اس کے جھکے سر کو دیکھ رہا تھا اس نے نظریں موڑ لیں

” پھر آپ کو کیوں کرتی ہیں ؟”

” محبت پر اختیار کس کا رہا ہے ؟”

کچھ بے بسی سے کہتے اس کی نظر سنان کے ہاتھ پر گئ

” آپ کے پھول گر گئے “

ہاتھ بڑھاتے اس نے اپنی مٹھی میں تھامے چند سرخ پھول سنان کی سامنے والی جیب میں ڈالے، چند ننھے ننھے قطرے اس کی سینے پر بکھرے ، چند ننھے قطرے سینے کے اندر ابھرے ، معطر پھول ڈالتی پیچھے ہوئ

” میں چلتی ہوں ، خدا حافظ”

وہ آنکھیں چراتی آگے کی طرف جارہی تھی ، سنان کی نظر اپنے سینے پر گئ ، جیب کے اندر ڈھیروں سرخ پھول رکھے تھے ، گہری سانس لیتے اس نے سر جھٹکا ، اذیت بہت چھوٹا لفظ تھا جو اس وقت وہ محسوس کررہا تھا

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

وہ کیفے میں داخل ہوئ تو لمحہ بھر کو قدم رک گئے، سامنے رکھی کرسی پر کوئ خاتون بیٹھی تھیں ، سیاہ پینٹ ، سفید شرٹ اور بلیو کوٹ پہنے کہنیاں میز پر رکھے کافی کا کپ لبوں سے لگا رکھا تھا ، ان کے پرفیوم کی مہک پورے کیفے میں پھیلی تھی ، سنہری بال جوڑے میں باندھے اٹھی گردن اور شاہانہ انداز ، اگر وہ اندازہ لگاتی تو بمشکل تیس کی ہوں گی

سر جھٹکتے وہ کاؤنٹر تک آئ ، ایپرن پہنا اور کیپ سر پر رکھ لی ، دن کا آغاز !

چند لمحے گزرے ، کئ کسٹمر آئے اور وہ خاتون وہیں بیٹھی رہیں ، ہر تھوڑی دیر بعد ہاتھ میں پہنی گھڑی سے وقت دیکھ لیتیں ، بظاہر پرسکون لیکن آنکھوں میں کچھ اکتاہٹ تھی ، دو منٹ گزرے جب کیفے کا دروازہ کھلا اور سیاہ جینز پر سیاہ جیکٹ پہنے ایرک اندر داخل ہوا ، اس نے کاؤنٹر کی طرف نہیں دیکھا تھا لیکن معطر کی نظر بے ساختہ اس پر گئ ، کاندھے پر بیگ ڈالے وہ انہیں خاتون کی طرف جارہا تھا ، ان کی میز کے پاس پہنچ کر بیگ میز پر پھینکا جھک کر ان کے سر پر بوسہ دیا اور سامنے بیٹھ گیا ، خاتون خفگی سے کچھ کہنے لگیں تو اس نے ہاتھ اٹھاتے گویا معذرت کی

یہ معاملہ اس کا نہیں تھا لیکن اس کی نظر بار بار اس طرف جاتی ، اگلا آدھا گھنٹہ وہ دونوں وہیں بیٹھے رہے ، خاتون مسلسل بولتی رہیں اور ایرک کچھ بے زاری ،اکتاہٹ سے سنتا رہا ، وہ بار بار اردگرد دیکھتا ، سامنے رکھے واز سے کھیلنے لگتا ،کبھی بال درست کرتا ، صاف ظاہر تھا وہ بور ہورہا تھا ، آدھے گھنٹے بعد وہ چلی گئیں تو ایرک کی آواز ابھری

” ون کافی پلیز “

مایا اندر کی طرف گئ ہوئ تھی تو وہ کافی لیتی اس تک آئ اور میز پر رکھی ، واپس مڑنے لگی تو ایرک نے کارڈ اس کی طرف بڑھایا

” وہ بل پے کرکے گئ ہیں “

” اوکے ۔۔۔۔”

اس نے کارڈ واپس رکھ لیا

” کیا وہ تمہاری سسٹر تھیں ؟”

ان دونوں میں کافی مشابہت تھی ، نیلی آنکھیں ، بال ، چہرے کے خدوخال تو وہ پوچھے بنا نا رہ سکی

” مام۔۔۔۔۔”

” اتنی کم عمر مام ؟ “

لبوں سے بے ساختہ پھسلا ، ایرک ہنس دیا

” ان کا چہرہ ایجڈ نہیں لگتا “

وہ محظوظ ہوا تھا ، کافی لبوں سے لگائ

” پیاری تھیں۔۔۔۔”

” حالانکہ ان کے بیٹے کے بارے میں تمہارے خیالات کافی برے ہیں”

” میرے خیالات ان کے بیٹے کی حرکتوں کے مطابق ہیں “

” ان کے خود کے بھی اپنے بیٹے کے بارے میں یہی خیالات ہیں ، تم لوگوں کو میرے اندر اچھائ نظر کیوں نہیں آتی ؟ ، مام کو بھی بس چن چن کر مجھے بتانا ہوتا ہے کہ ایرک تم یہاں غلط ہو ، ایرک یہ مت کرو ، وہ مت کرو “

وہ بے زار لگ رہا تھا

” تم ان سے ناراض ہو ؟”

” ناراض نہیں تھا ۔۔۔۔اگنور کررہا تھا “

” کیوں ؟”

اسے کسی کی ذاتی زندگی میں کبھی دلچسپی نہیں رہی تھی لیکن کیونکہ اس کا خیال تھا کہ ایرک اپنی والدہ سے ناراض ہے تو وہ اسے سمجھانا چاہتی تھی

” وہ چاہتی ہیں میں امریکہ واپس چلاجاؤں ، اور میں نہیں جانا چاہتا “

” تم امریکہ سے ہو ؟”

” میری مام امریکہ سے ہیں “

پھر تمہارے ڈیڈ یہاں کیوں رہتے ہیں؟”

اس نے ایک بار بتایا تھا کہ اس کے ڈیڈ لندن میں کسی لاء فرم میں وکیل تھے

ایرک نے کپ میز پر رکھا پھر اسے سامنے بیٹھنے کا اشارہ کیا ، وہ گڑبڑائ

” ویسے ہی پوچھ رہی تھی ، میں جاتی ہوں “

خواہ مخواہ اس کی ذاتی زندگی میں دخل اندازی کررہی تھی ، جھنھلا کر پلٹنے لگی جب پیچھے سے آواز آئ

” مام ڈیڈ کی ڈائیورس ہوچکی ہے”

آواز بے تاثر تھی ، معطر کرنٹ کھا کر پلٹی

” کیا مطلب ؟”

” اس بات کا کیا مطلب ہوتا ہے ؟”

عادتاً آنکھیں گھمائیں

” یعنی وہ میاں بیوی نہیں رہے “

” تم اتنی عقلمند شروع سے ہو یابرطانیہ آ کر عقل میں اضافہ ہوا ہے ؟”

” مجھ پر طنز مت کرو “

” نہیں۔۔۔ تم تو تعریف کی حقدار ہو نا ، ظاہر ہے ڈائیورس کا یہی مطلب ہوتا ہے کہ وہ اب میاں بیوی نہیں رہے “

” تم انہیں اگنور کیوں کر رہے تھے ؟”

” کیونکہ ڈائیوورس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ وہ میرے ماں باپ نہیں رہے ، اور کیونکہ وہ میرے ماں باپ ہیں تو مام چاہتی ہیں میں امریکہ چلا جاؤں ،ڈیڈ چاہتے ہیں میں برطانیہ میں رہوں “

وہ کافی پیتے آرام سے بتا رہا تھا

” تم اپنے ڈیڈ کی زیادہ سنتے ہو ؟”

” میں اپنے علاوہ کسی کی نہیں سنتا ، مجھے یہیں سے جرنلزم کرنا تھا تو میں یہی سے کررہا ہوں ، امریکہ سے کرنا ہوتا تو وہاں سے کرتا “

” تمہیں برا نہیں لگتا ؟ میرا مطلب ہے تم خوش ہو ؟”

اسے اپنی ایک کزن یاد آئ جس کے ماں باپ کی طلاق ہوگئ تھی اور وہ اس قدر ڈسٹرب ہوئ تھی کہ ایک عرصہ دنیا سے کٹ کر رہ گئ ، اور ایک یہ تھا ، ایرک کیان ….یہ واقعی انسان تھا ؟

” آفکورس میں خوش ہوں ، طلاق ان کا ذاتی معاملہ تھا ،جیسے شادی کرنا ان کا ذاتی معاملہ تھا ، اگر وہ خوش نہیں تھے تو ان کو حق تھا کہ وہ الگ ہوجاتے ،میری وجہ سے ساتھ رہنے کی ضرورت تو نہیں تھی “

” اور تم ان سے اس بات پر ناراض نہیں ہو ؟”

ایرک اب کے کپ رکھتا سنجیدگی سے اٹھا

” میں اپنے ماں باپ سے اس بات پر کیوں ناراض ہوں گا ؟ ان کی زندگی پر ان کا حق مجھ سے زیادہ تھا ،جیسے میری زندگی پر میرا حق ان سے زیادہ ہے ، ڈیڈ شادی دوبارہ کرچکے ، مام بھی کرچکیں ، میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں اور میں ان دونوں کے بغیر بھی رہ سکتا ہوں ، بچہ تو نہیں ہوں نا “

ایرک کی بات سنتے اسے کن اکھیوں سے نظر آیا کہ کوئ کیفے کا دروازہ کھولتا اندر آیا تھا ، کاؤنٹر پر رک کر کسی کا پوچھا پھر نظر اس پر گئ ،معطر رخ موڑ کر اسے دیکھتی رہی ، وہ سنجیدہ چہرے سے اسی طرف آرہا تھا

” السلام علیکم”

اس نے سر ہلایا پھر چور نظروں سے ایرک کو دیکھا

” یہ سنان ہے اور یہ ایرک “

ایک دوسرے کی طرف اشارے کرتے تعارف کروایا تو سنان نے بنا کسی مسکراہٹ کے ہاتھ ایرک کی طرف بڑھایا ، اس کا چہرہ اتنے دنوں میں پہلی بار سنجیدہ لگتا تھا ، ایرک نے البتہ مسکراتے ہوئے ہاتھ ملایا تھا

( ” میں چاہتی ہوں آپ ایرک کو سمجھائیں کہ وہ اسلام کے متعلق غلط سوچتا ہے”

” آپ کو لگتا ہے میرے سمجھانے سے وہ سمجھ جائے گا ؟”

” مجھے لگتا ہے آپ کوشش کریں گے تو شاید وہ سمجھ جائے “

” میں آپ کے کہنے پر کوشش کرلوں گا لیکن یہ فضول کوشش ہوگی ، بقول آپ کے وہ جرنلزم کررہا ہے تو جو میڈیا مسلمانوں کے خلاف ہے اس کا حصہ ہونے کے باوجود وہ کیسے سمجھے گا ؟”

” ہم کوشش تو کرسکتے ہیں نا ؟”

وہ ہم کہہ رہی تھی ، وہ ہم میں اسے بھی شامل کررہی تھی ، سنان سعدی نے گہری سانس لیتے سر ہلادیا

” کوشش کرسکتے ہیں) “

وہ دونوں آمنے سامنے کرسی پر بیٹھے تھے ،معطر نے مایا کو دو کافی لانے کا اشارہ کیا ، ولیم سر آج کیفے نہیں آئے تھے تو وہ آرام سے یہ ڈبیٹ جوائن کرسکتی تھی

” سنان پاکستان سے ہے “

اس نے لاپرواہی سے بیٹھے ایرک کو بتایا تو وہ کاندھے اچکا گیا

” میں شکل سے پہچان گیا تھا لیکن بات یہ ہے کہ میں اس ملاقات کی وجہ نہیں سمجھ پارہا “

” سنان دراصل۔۔۔۔۔” وہ گلا کھنکارتی آگے کو ہوئ ” یہ اسلاموفوبیا کے خلاف آگاہی پھیلاتے ہیں “

ایرک کے چہرے پر سنجیدگی دوڑی

” یعنی تم چاہتی ہو میں اب سنان سے اس بات پر بحث کروں جس پر تم سے کی تھی ؟ کم آن معطر وہ صرف سیاسی مسئلہ تھا “

” میرے لئے مذہبی مسئلہ تھا ، اگر تم میرے مذہب کو غلط سمجھو گے تو ظاہر ہے میں تمہاری غلط فہمی دور کرنے کی کوشش کروں گی “

نرمی سے اسے دیکھا ، ایک نظر سنان پر بھی ڈالی ، وہ خاموشی سے ٹیبل پر گھور رہا تھا ، وہ چپ کیوں تھا ؟

” میں اسلام کو غلط نہیں سمجھتا ، تصحیح کرو ،میں مسلمانوں کو غلط سمجھتا ہوں ، وجہ میں پہلے ہی بتا چکا ہوں “

” اور وہ وجہ بے تکی تھی ، دنیا میں 57 اسلامی ممالک کے مسلمانوں میں سے تمہارا سامنا جن سے ہوا وہ اگر احساس کمتری کا شکار ہیں تو تم ان چند لوگوں کی وجہ سے باقی مسلمانوں کو جج نہیں کرسکتے “

” اب تم بحث کو غلط سمت کی طرف لے کر جارہی ہو ، میں چند کے عمل کی وجہ سے نہیں ، چند کے برے عمل کی وجہ سے باقی سب کو جج کررہا ہوں “

” اور کیا ہے وہ برا عمل ؟”

سامنے بیٹھا سنان پہلی مرتبہ بولا تھا ، معطر نے پُرسکون سانس لی ، وہ اسے سمجھا لے گا

” یہ کہ مسلمان ملک کچھ نہیں کررہے سوائے شدت پسندی پھیلانے کے “

” ہم نے کس شدت پسندی کا مظاہرہ کیا ہے ؟”

وہ سنجیدہ چہرے سے کرسی پر آگے کو ہو کر پوچھ رہا تھا

” کس کس معاملے میں پوچھو برادر سنان ، تم لوگ زبردستی سب کو اپنا کلچر اپنانے پر مجبور کرتے ہو ، کئ مسلم ممالک دہ شت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں ، جس کی وجہ سے باقی سب کا امیج خراب ہورہا ہے “

” تو پھر بات یہی ہے کہ مسٹر ایرک تم چند لوگوں کے عمل کی وجہ سے باقی سب کو غلط سمجھ رہے ہو “

” کیوں ؟ کیا یہ چند لوگ اسلام کو ریپریزنٹ نہیں کرتے ؟”

” چند لوگ جس اسلام کو ریپریزنٹ کرتے ہیں اس کی بنا پر تم ہزاروں لوگ جس اسلام کو رپیرینزٹ کرتے ہیں اسے کیسے فراموش کرسکتے ہو ؟ اور بات یہ ہے ایرک کہ جب دنیا میں کوئ مسلمان کوئ غلط کام کرتا ہے تو مذہب کا حوالہ کیوں ساتھ دیا جاتا ہے ؟ جبکہ اگر کوئ غیر مسلم غلط کام کرے تو صرف فلاں شخص نے جرم کیا ہے کیوں کہا جاتا ہے ؟ ان کے جرم پر مذہب کو کیوں نہیں جوڑا جاتا ؟”

ایرک نے کاندھے اچکائے

” اس چیز کے پیچھے بھی تم لوگوں کا عمل ہے ، اگر مسلم ممالک اپنے اعمال درست کریں تو۔۔۔۔۔”

اس کی آواز میں تلخی شامل ہوگئ ، معطر کو احساس ہوا شاید اس نے ایرک اور سنان کی ملاقات کروا کر غلط کیا تھا ، وہ ایرک سے ایسے روئیے کی توقع رکھتی تھی لیکن سنان کیوں اتنا تلخ ہورہا تھا ؟

” پھر فلسطین کے بارے میں کیا کہو گے ؟ ان کا کون سا عمل ایسا ہے جو اسرائیل ان کی نسل کشی کررہا ہے ؟ اور جس کی اجازت سے کررہا ہے ان کے بارے میں کیا کہو گے ؟”

” میں اسرائیلی پالیسیز پر بات نہیں کروں گا ، میں اس ملک کو پسند نہیں کرتا ، ان کے اعمال غلط ہیں لیکن یہاں ایک بار پھر بحث امریکہ پر چلی جاتی ہے کہ ان سب میں مسلم ممالک غلط ملک پر الزام لگاتے ہیں “

سنان سعدی کے چہرے پر کچھ سختی ابھری

” میں تمہیں ایک قصہ سناتا ہوں ایرک کیان ، پرانے زمانے میں کچھ بادشاہ جو عوامی رد عمل سے ڈرتے تھے انہوں نے خود کو بچانے کے لئے یہ طریقہ نکالا کہ جو فیصلے مشکل ہوتے ان کے لئے وزراء کو آگے کردیتے ، وزراء بادشاہ کے نافذ کردہ فیصلے عوام کو سناتے اور عوام کے عتاب کا نشانہ بن جاتے ، فیصلہ بظاہر وزراء کا لگتا کیونکہ عوام کا خیال تھا وہ بادشاہ کو یہ فیصلہ لینے کے لئے مجبور کرتے ہیں، لیکن وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ بادشاہ نے خود کو عوامی عتاب سے بچانے کے لئے یہ کرائے کے وزیر مقرر کئے تھے، لیکن میں بتادوں بعض اوقات یہی چھوٹے وزرا بادشاہ کا تخت الٹنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس لئے بادشاہ کو چاہئے کہ سنبھل جائے کیونکہ آج کی عوام بے وقوف نہیں ہے “

مثال عام تھی لیکن معطر صبا اور ایرک کیان دونوں کو سمجھ آ گئ تھی ، ایرک کے چہرے پر سرخی دوڑی

” اینڈ دس از وٹ جو تم لوگوں کو لگتا ہے کہ پوری دنیا تم لوگوں کے گرد گھومتی ہے ، ہر مغربی ملک کے پاس نا ہی اتنا وقت ہے نا ہی اتنا سرمایہ کہ وہ تم لوگوں پر لگا سکیں ، “

” لیکن ان کے پاس زہن ضرور ہے جو یہ بات جانتا ہے کہ جس دن مسلمانوں کو اندازہ ہوگیا کہ وہ کس قدر بڑی قوت ہیں اس دن مغربی سامراج ختم ہوجائے گا ، وہ یہ حقیقت جانتے ہیں “

” اور تمہیں لگتا ہے کہ اس مفروضے کی بنا پر وہ اپنا سارا مال اسلامی ملکوں کے خلاف جھونک رہے ہیں ؟”

” اگر ایسا نہیں ہے تو تم سالوں قبل کی صلیبی جنگوں کے بارے میں کیا کہو گے ؟ ایسٹ انڈیا کمپنی کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ انہوں نے اپنا سرمایہ ہندوستان پر خرچ نہیں کیا تھا ؟”

” پرانے وقت میں مت جاؤ سنان ، اس وقت مغل حکمرانوں اور عثمانیوں نے بھی برطانوی راج کے خلاف جنگیں لڑی تھیں “

معطر نے بے بسی سے انہیں دیکھا ، اسے شدت سے احساس ہوا وہ بے وقوفی کرگئ تھی ، وہ دونوں سنجیدہ اور کچھ حد تک سخت چہروں کے ساتھ ایک دوسرے سے بحث میں مصروف تھے ، وہ یہ نہیں چاہتی تھی

” پھر ہم آج کی ہی بات کرلیتے ہیں کیا یہ سچ نہیں کہ تمہارے میڈیا میں مسلمانوں کے بارے میں دی جانے والی آدھی سے زیادہ خبریں غلط ہوتی ہیں جو اسلاموفوبیا کی وجہ بن رہی ہیں؟”

” اگر ایسا ہوتا تو یہاں مسلمان اتنی آذادی سے نا رہ رہے ہوتے “

” آذادی ۔۔۔۔” وہ تلخی سے ہنسا ” Tell MAMA کی رپورٹ کے مطابق 2014 سے اب تک تقریباً تیس ہزار اسلاموفوبیا کے کیسز برطانیہ میں رپورٹ ہوئے ہیں ، زیادہ نہیں چند سال قبل ہی ازلنگٹن میں بھی اسلاموفوبیا کا شدید ترین نقصان دہ مسئلہ بھی پیش آیا تھا، آذادی رائٹ ؟”

ایرک اسے دیکھتا رہا پھر وہ آگے کو ہوا

” تم لوگ بہت احساس فراموش ہو سنان۔ ، صرف تیس فیصد آبادی صرف تیس فیصد آبادی پر تم باقی کی ستر فیصد آبادی کو کیسے جج کرسکتے ہو ؟”

” پھر ایرک کیان تم صرف چند مسلمانوں کے عمل پر باقی مسلمانوں کو کیسے جج کرسکتے ہو ؟”

اور یہ پہلی بار تھا جب ایرک کے پاس الفاظ کم پڑگئے ، وہ لمحہ بھر کو چپ چاپ سنان کو دیکھتا رہا پھر سر جھٹکتے وہ اٹھا

” تم الفاظ کے ساتھ اچھے ہو لیکن تم حقائق نہیں چھپا سکتے ، مسلم ممالک کو یہ بات قبول کرلینی چاہئے کہ تم لوگوں کی پسماندگی کی وجہ شدت پسندی ہی ہے ، کم از کم برطانیہ میں لڑکیوں کی پر پابندیاں نہیں لگائ جاتیں ، نا ہی مذہبی بنیادوں پر کسی دوسرے ملک کے شہری کو غصے میں ق ت ل کیا جاتا ہے ، اور نا ہی برطانیہ میں لوگ اپنے ہی ملک کے خلاف جہاد کا فتویٰ دے کر معصوم لوگوں کو مارتے ہیں ، تم لوگوں کو پہلے اپنے مسائل پر توجہ دینی چاہئے ، پہلے اپنے اندر سے فرقہ واریت ختم کرو پھر دنیا کی بات کرنا ، کیونکہ اس صورت میں دنیا کو تم لوگوں کی آواز شور کے علاوہ کچھ نہیں لگے گی ۔۔۔۔” سنجیدگی سے کہتا وہ معطر کی طرف مڑا ” بہت شکریہ ،میری کلاس کا وقت ہوگیا ہے “

وہ بیگ اٹھاتا باہر کی طرف بڑھ گیا ، سنان کا چہرہ اسی طرح رہا

” آپ کو کیا ہوا ہے سنان ؟”

وہ مڑ کر اسے دیکھ رہی تھی

” کیا ہوا ہے ؟”

” اتنے تلخ کیوں ہورہے تھے آپ ؟”

وہ چند لمحے اسے دیکھتا رہا پھر سر جھٹکا ،کیا بتاتا

” تلخ نہیں ہورہا تھا سمجھا رہا تھا لیکن شاید یہ لڑکا سمجھنا ہی نہیں چاہتا “

” آپ کی معلومات صحیح تھیں لیکن انداز غلط تھا ، ۔جھے آپ دونوں کو ملوانا ہی نہیں چاہئے تھا “

اسے افسوس ہوا

“مجھے نہیں لگتا یہ سمجھے گا اور۔۔۔۔” رک کر اسے دیکھا ” اس انسان سے دور رہیں معطر “

” کیوں ؟”

وہ چونکی

” وہ اسلاموفوبیا کا شکار ہے ، اگر وہ مسلمانوں کو صحیح نہیں سمجھتا تو آپ کو محتاط رہنا چاہئے”

” ایسی بات نہیں ہے، وہ صرف مسلم ممالک کی پالیسیز کے خلاف ہے “

” اس کے انداز سے ایسا نہیں لگ رہا ، آپ یہاں نئ ہیں ، میں چار سال سے یہاں ہوں ، برطانیہ کو آپ سے زیادہ جانتا ہوں ، یہاں اسلاموفوبیا دن بدن بڑھ رہا ہے ، ممکن ہے یہ شخص جیسا دکھتا ہے ویسا نا ہو ، بعض لوگ اپنے ٹارگٹ کو مخصوص طریقوں سے نقصان پہنچاتے ہیں ، احتیاط کریں “

اس کی ریڑھ کی ہڈی میں پل بھر سنسناہٹ دوڑ گئ ، شاید وہ ٹھیک کہہ رہا تھا ، اسے ایرک سے دور ہی رہنا چاہئے

” میں چلتا ہوں “

وہ موبائل اٹھاتا اٹھ رہا تھا

” آپ ٹھیک ہیں سنان ؟”

” مجھے کیا ہونا ہے ؟”

” آپ عجیب طرح سے بی ہیو کررہے ہیں ۔۔پتا نہیں شاید مجھے لگ رہا ہو “

سنان لمحہ بھر کو تھما پھر زبردستی مسکرایا

” ٹھیک ہوں ، کام کی وجہ سے شاید تھکن ہوگئ ہے ، پھر ملاقات ہوگئ ، خدا حافظ “

وہ آگے بڑھ گیا ،مسکراہٹ غائب ہوگئ ، پیچھے ٹھہری معطر کاؤنٹر پر گئ ، پھر سے افسوس ہونے لگا ، ان دونوں کا پہلا تعارف کی غلط ہوگیا تھا ، سر جھٹکتے اس کی نظر موبائل پر گئ تو وہاں کوئ میسج آیا ٹھہرا تھا ، موبائل اٹھاتے واٹسپ کھولا تو دانیال کا میسج آیا ہوا تھا ، اس نے کچھ دیر پہلے کہا تھا کہ وہ کچھ بتانا چاہتا ہے ، کیا یہ اس نے اب بتایا تھا اور جو بتایا تھا لمحہ بھر کو وہ اس کے اردگرد کی ساری دنیا روک گیا ، موبائل کاؤنٹر پر رکھتے اس کی پتھر آنکھیں باہر کی طرف گئیں ، سکرین پر سامنے میسج نظر آرہا تھا

” تیمور بھائ ازلنگٹن جارہے ہیں “

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆