192.3K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Laa (Episode 19)

Laa By Fatima Noor

کمرے میں داخل ہوتے انہوں نے لائٹ جلائ تو نظر راکنگ چیئر پر جھولتے تیمور پر گئ جس نے لائٹ جلنے پر اپنی آنکھیں بند کی تھیں پھر کھول کر انہیں دیکھا اور سر جھٹکتے دوبارہ سے کرسی پر جھولنے لگا

” اندھیرا کیوں کر رکھا ہے ؟”

وہ دروازہ کھلا چھوڑتی اندر آئیں پھر ناک سکیڑا ، کمرے میں سگریٹ کی بے تحاشا بو پھیلی تھی

” روشنی کرکے رکھنے سے کیا ہوگا ؟”

” کتنی سگریٹ پیو گے ؟”

” ڈانٹ رہی ہیں یا طنز کر رہی ہیں ؟”

اس نے ہاتھ لبوں تک لے جا کر سگریٹ کا کش لیا

” سوال کررہی ہوں۔۔ ڈانٹ تم پر اثر نہیں کرتی ، طنز تم نظر انداز کر دیتے ہو “

وہ اس کے سامنے بیڈ پر بیٹھ گئیں

” کوئ کام تھا ؟”

” آفس کیوں نہیں جارہے ؟”

” کل جاؤں گا “

” دو دن سے کس چیز کا سوگ منا رہے ہو ؟”

” میں دو ہفتے جیل میں رہ کر آیا ہوں امی ، آپ کو احساس ہے ؟”

ناگواری اور افسوس سے اُنہیں دیکھا

” اور تُمہیں احساس ہے بزنس میں کس قدر نقصان ہورہا ہے ؟ “

” آپ کو بزنس کی پڑی ہے ؟ اور جو میری ریپوٹیشن خراب ہوئ ہے اس کا کیا ؟ ۔۔۔” وہ تڑخ کر کہتا سیدھا ہوا ” میری بزنس ورلڈ میں پہچان بن رہی تھی امی ، ایک مقام بن رہا تھا ، ایک خبر نے سب تباہ کردیا “

” کام خود کے ایسے تھے ، مجھ پر کیوں غصہ کررہے ہو ؟”

اُنہوں نے ناک بھوں چڑھائ

” اگر آپ کو یاد ہو تو آپ کے شوہر بھی یہی کام کرتے کرتے اس مقام تک پہنچے تھے ، یہ جو آپ عیش وعشرت سے رہ رہی ہیں یہ انہیں دو نمبر کاموں کی وجہ سے کمایا ہے ہم نے “

یہ پہلی بار تھا جب وہ اس قدر بدتمیز ہورہا تھا ، رضیہ نے بمشکل اس کا انداز ضبط کیا

” اچھا ٹھیک ہے۔۔۔” وہ اس کے غصے کو دیکھتی تحمل سے گویا ہوئیں ” اب بس کرو سوگ منانا ،یہ بتاؤ نازنین کب تک واپس آئے گی ؟”

” مجھے نہیں معلوم “

وہ بے زاری سے پیچھے کو ہوا

” بیوی ہے تمہاری “

” یہی بیوی میرے مشکل وقت میں اپنے میکے جا بیٹھی تھی “

” ظاہر ہے وہ لوگوں کے طعنوں سے ڈر گئ تھی “

” چھوڑیں امی ، جو عورت مشکل وقت میں مرد کا ساتھ چھوڑ دیتی ہے پھر اچھے وقت میں مرد کو اس کے ساتھ کی خواہش نہیں رہتی “

” ایسا کیوں بول رہے ہو ؟”

ان کا دل دہل گیا

” اور کیا کہوں ؟ اس نے ان سب میں کچھ کیا میرے لئے ؟ اس کا باپ بھی برائے نام جیل آتا رہا ، ہوں گے وہ معزز لیکن داماد کی عزت ہوتی ہے یا نہیں ،؟”

” عامر نے کوشش کی تھی تمہارے لئے “

” ہاںں۔۔کوشش ۔۔۔” وہ ہنسا ۔۔۔۔” الٹا وہ لوگوں کو بتاتے پھر رہے تھے کہ اُن کا اس معاملے سے کوئ تعلق نہیں ہے “

” تم کیا سوچ رہے ہو تیمور ؟”

انہیں کوئ خوف لاحق ہوا

” بے فکر رہیں۔۔۔ نازنین کو چھوڑ نہیں رہا ، معطر کے لیے نہیں چھوڑا تھا تو اب کیوں چھوڑوں گا “

آخری جملہ بولتے ہوئے وہ سگریٹ ہونٹوں کی طرف لے جارہا تھا ،ہاتھ وہیں تھم گیا پھر سر جھٹکا

” معطر کا کیوں زکر کررہے ہو ؟ ان دونوں کا کیا موازنہ ؟” ان کے چہرے پر ناگواری ابھری

” ٹھیک کہہ رہی ہیں معطر اور نازنین کا کیا موازنہ “

وہ سامنے دیکھ رہا تھا ، ہونٹوں پر سیاہی سی جم رہی تھی

” اب اٹھو تم ، نازنین کو لے کر آؤ ، گھر بھی سونا سونا سا لگتا ہے اس کے بغیر “

” سارا دن تو کمرے میں ہوتی تھی ، آپ تو یوں کہہ رہی ہیں جیسے رونق لگا رکھی تھی گھر میں “

” میری بہو کے خلاف مت بولو ، اٹھو حلیہ درست کرو اپنا ، میں ملازمہ کو بھیجتی ہوں صفائ کرلے کمرے کی ، گند پھیلا رکھا ہے سارا “

ناگواری سے کمرے کی بکھری حالت کو دیکھتے وہ اٹھیں

” کھانا بھجوادیجئے گا “

تیمور نے گویا ان کی بات سنی ہی نہیں تھی ، رضیہ اسے افسوس سے دیکھتی باہر کی طرف بڑھ گئیں ، ان کے جانے کے بعد تیمور نے فون اٹھایا اور ایک نمبر ملاتے کان سے لگایا دوسرا ہاتھ سگریٹ تھامے ہوئے تھا

” خرم۔۔۔ جس نے یہ خبر چلائ ہے مجھے اس اینکر کی ساری ڈیٹیل نکال کردو ، ہر ایک چیز ، ہر ایک بات ڈھونڈ کردو، اس کا خاندان ، خاندان کی ہر ڈیٹیل ، سب کچھ “

دوسری طرف کچھ کہا جا رہا تھا ، اس نے ہنکار بھرتے کال کاٹ دی

جس نے یہ کیا تھا وہ دیکھ لے گا اسے

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

اس نے پانچ دن بعد ہی دوبارہ سے کیفے جوائن کرلیا ، چھٹیوں پر سیلری کٹتی تھی اور اسے یہ نامنظور تھا ، گو ولیم سر نے کہا بھی تھا کہ وہ اسے مکمل سیلری دے دیں گے لیکن اسے یہ بھی منظور نہیں تھا ، کیفے ویسا ہی تھا ، لوگوں کا رویہ بھی ویسا ہی تھا ، وہ جو سوچ رہی تھی کہ کم از کم اب حالات نارمل ہوچکے ہوں گے تو غلط سوچ رہی تھی ، پولیس کے نئے آنے والے بیان کے بعد ٹھنڈا ہوتا غصہ مزید بڑھ گیا تھا ، حامد رئیسی کی طرف سے تاحال اقبال جرم نہیں ہوا تھا تو معاملہ مزید خراب ہو رہا تھا ، امی کا فون آیا تو اسے فوراً واپسی کا حکم سنا دیا

” امی ازلنگٹن میں سب ٹھیک ہے “

” ازلنگٹن بھی تو لندن میں ہے “

” لندن میں بھی سب ٹھیک ہے “

” لندن برطانیہ میں ہے اور برطانیہ میں سب ٹھیک نہیں ہے ، یعنی ازلنگٹن میں بھی سب ٹھیک نہیں ہے ، تم فوراً واپس آؤ “

” ازلنگٹن لندن کے شمال میں ہے ، اور یہ پرسکون جگہ ہے یہاں ایسا کچھ نہیں ہوتا “

” لیکن خبروں میں تو کچھ اور بتا رہے تھے “

” آپ خبروں پر یقین مت کریں ، وہ جھوٹ بولتے ہیں “

” جو بھی ہو میرا دل ڈر رہا ہے تم واپس آجاؤ “

ایک تو آپ لوگ جلدی ڈر جاتے ہیں ، واپس آنے جانے میں خرچہ لگتا ہے “

” واپس جانا ہی مت “

لو جی ، اس نے بمشکل امی کو راضی کیا اور دانیال سے بات کرانے کو کہا

” انہیں سمجھاؤ “

” تم سمجھ جاؤ ، میں جانتا ہوں وہاں حالات خراب ہیں “

” اتنے نہیں ہیں جتنا سب ڈر رہے ہیں “

” معطر مجھ سے تو جھوٹ مت بولو “

” میں کیوں جھوٹ بولوں گی ؟” یہاں واقعی سب ٹھیک ہے “

” پھر میڈیا اتنا ڈرا کیوں رہا ہے ؟”

” کیونکہ ان کی ریٹنگ اسی سے آتی ہے “

دانیال مطمئن نہیں تھا لیکن اس نے مزید کچھ نہیں کہا ، بابا نے تو اب اس سے آنے کا کہنا ہی چھوڑ دیا تھا ” بس اپنا خیال رکھنا ” کہہ کر کال کاٹ دی ، وہ ان سب کی کیفیت سمجھ سکتی تھی

اور اس دن کا دوسرا جھٹکا اسے اسٹور جانے پر لگا

اسے نوکری سے خارج کردیا گیا تھا

” کیوں …؟”

” آپ کی چھٹیاں زیادہ تھیں “

” میرے ساتھ حادثہ ہوا تھا اور میں نے چھٹیوں کے لئے درخواست دی تھی “

وہ پریشان ہوگئ

” وہ درخواست مسترد کردی گئ تھی “

” پھر آپ لوگوں کو مجھے بتانا چاہئے تھا “

” یہ علم رکھنا آپ کا کام تھا “

وہ کتنی ہی دیر صدمے سے انہیں دیکھتی رہی پھر جھپٹ کر اپنا بیگ اٹھایا

” یو نو واٹ سر ، میں لعنت بھیجتی ہوں آپ کی نوکری پر ، اچھی طرح سے جانتی ہوں کہ مجھے نوکری سے کس لئے خارج کیا گیا ہے ، آپ کا نام نہاد مسلمان دشمن معاشرہ ایک مسلمان لڑکی کو اپنے اسٹور میں ملازمت دینے سے تباہ ہوجائے گا نا ؟ مجھے افسوس ہے کہ برطانیہ جیسا بظاہر مہذب ملک میری سوچ کے برعکس نکلا “

وہ افسوس سے کہتی ان کے آفس سے نکلی اور جا کر اپنی سیلری وصول کی ( مفت کا کام تھوڑی کیا تھا ان انگریزوں کا ہنہہ )

اسٹور سے واپسی پر وہ میٹرو یا ٹیوب سے سفر کرنے کی بجائے پیدل چلنے لگی ، ایکدم ہی مزید پریشانی بڑھ گئ ، بابا کا علاج اچھا جارہا تھا ، اس کی تنخواہ بہت زیادہ نا صحیح لیکن بابا کے علاج کے لئے کافی تھی ، گھر کا خرچ بابا کی پینشن سے چل جاتا تھا ، دانیال آئ ٹی کررہا تھا تو پارٹ ٹائم جاب بھی تھی اس کے پاس ، اپنی تعلیم کا خرچہ وہ خود برداشت کررہا تھا ، لیکن اب ؟ اس کی جاب جانے کے بعد کیا ہوتا ؟ وہ کیا کرتی ؟

اسے خاندان والوں کی مدد لینا منظور نہیں تھا ، گو ان کے خاندان میں سب صاحب ثروت نا صحیح لیکن مڈل کلاس بھی نہیں تھے ، ایک عرصہ پہلے تک وہ بھی بہتر حالت میں تھے ، لیکن بابا کی بیماری نے سب خراب کردیا ، اب خاندان میں سب کے حالات پہلے سے بہتر تھے ایک وہی تھے جو زندگی کی جدوجہد میں تھک رہے تھے ، باپ بیمار ہوا تھا تو زندگی نے رحم کرنا چھوڑ دیا تھا

” معطر۔۔۔۔”

وہ بے زاری سے پلٹی ، سنان کے راستے اس کے راستوں سے کیوں گزرتے تھے ؟ وہ آج اسے اچھا خاصا سنا ڈالے گی

” کوئ کام تھا آپ کو ؟”

اس کے ماتھے پر بل پڑے

وہ گاڑی دور کھڑی کرتا اس تک آرہا تھا ،ہاتھ میں کچھ کاغذات تھے

” میں فنسبری پارک ہی جارہا تھا ۔ آپ کے سائن چاہئے تھے جارڈن کے کیس میں “

وہ جیب سے پین نکال رہا تھا ، معطر کے ماتھے کے بل ڈھیلے پڑے ، یکدم ہی احساس ہوا کم از کم سنان کے اس پر بہت سے احسانات تھے ، پولیس اسٹیشن کے سارے چکر بچارا وہی کاٹ رہا تھا ، اس کے ہاتھ سے کاغذ لیتے انہیں سائن کرتے اس نے زرا کی زرا نظر اٹھا کر اسے دیکھا ، شہد رنگ آنکھیں تھکی سی تھیں ، چہرے پر نرمی ، بال ماتھے پر بکھرے تھے ، وہ غالباً بہت مصروفیت میں سے وقت نکال کر آیا تھا

” آپ ٹھیک ہیں سنان ؟”

اس نے پتا نہیں کیوں پوچھ لیا تھا ، سنان فائل بند کرتا ہلکا سا مسکرایا

” مجھے کیا ہونا ہے ؟”

” تھکے سے لگ رہے ہیں “

” شاید یہاں کام کی زیادتی سے تھک گیا ہوں یا شاید مجھے گھر والے یاد آرہے ہیں “

” پرسوں جا تو رہے ہیں “

ہاں پرسوں ۔۔ وہ پرسوں جارہا تھا !

” جی ۔۔۔ جارہا ہوں اور یوں لگ رہا ہے دل خالی ہورہا ہے ، آپ نے کبھی وہ شخص دیکھا ہے جو سب کچھ حاصل کرنے والا ہو پھر بھی اس کے اندر کچھ خالی ہو ؟”

معطر کا سر نفی میں ہلا ، اسے کچھ عجیب سا لگا ،کچھ بہت عجیب

” مجھے اپنا آپ وہی شخص لگ رہا ہے ، پتا نہیں میں منفی کیوں ہورہا ہوں ،کل مورے سے بات ہورہی تھی تو وہ پریشان تھیں ، کہہ رہی تھیں کہ اس بار میں پاکستان جاؤں گا تو واپس نہیں جانے دیں گی “

” آپ واپس نہیں آئیں گے ؟”

” شاید۔۔۔۔” وہ رخ موڑے درختوں کو دیکھ رہا تھا ، میں ازلنگٹن سے تھک گیا ہوں ،برطانیہ سے تھک گیا ہوں ،مجھے اب پشاور کی سڑکوں پر چلنا ہے ، اپنا خطہ اپنا ہوتا ہے ، مجھے اب پاکستان میں رہنا ہے ،اپنا ملک اپنا ہوتا ہے”

پتا نہیں کیوں ۔۔۔ وہ عجیب خیال حاوی ہورہا تھا

” پھر کبھی واپس نہیں آئیں گے ؟”

” شاید آؤں۔۔۔” رخ موڑ کر اسے دیکھا پھر ہلکا سا مسکرایا ” اس ملک میں کچھ چھوڑ کر جارہا ہوں ، ایک امانت اس شہر کے حوالے کرکے جارہا ہوں ، یا تو وہ امانت مجھ تک پہنچ جائے گی یا میں خود اس امانت کو لینے آجاؤں گا “

” کون سی امانت ؟”

” ہے کوئ راز جیسی امانت .۔۔” رک کر اسے دیکھا ” .. میرے بعد مجھے یاد کریں گی ؟”

” آپ کے بعد آپ کی یاد زیادہ آئے گی “

وہ دوپٹہ گلے میں درست کرتی چلنے لگی ، سنان کے قدم بے ساختہ اس کے ساتھ اٹھے ، اس کی بات سنتے پل بھر کو دل تھما تھا

” میں اسے کیا سمجھوں ؟”

” آپ اچھے انسان ہیں ، اچھے انسانوں کو یاد کیا جاتا ہے “

” میں اچھا انسان نا ہوتا تو آپ مجھے یاد کرتیں ؟”

” آپ اچھے انسان ہی ہوتے ۔۔۔۔ مجھے یقین ہے “

وہ ہلکا سا ہنسی ، سنان یکدم اس کے سامنے رکا

” ایک بات پوچھوں ؟”

” پوچھیں ۔۔۔۔”

” آپ کسی کو ۔۔۔ تیمور کے بعد کسی کو ایک موقع دے سکتی ہیں ؟”

وہ سڑک کے کنارے کھڑے تھے ، ایک طرف سفید رنگ کی بلڈنگ جو لمبی ہوتی سڑک کا موڑ مڑنے تک جاتی تھی ، دوسری طرف باڑ لگی تھی جس کے پار سبزہ تھا ، باڑ کے پار چند درخت تھے

وہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی

” میں دوبارہ محبت نہیں کرپاؤں گی “

” میں آپ کے دل کا نہیں ، زندگی کا پوچھ رہا ہوں “

” شاید۔۔۔۔” اس نے قدم دوبارہ لینے شروع کردیئے ، سنان اس سے فاصلے پر چلنے لگا ” میں تیمور کے ہجر میں اپنی زندگی برباد نہیں کروں گی ، وہ آگے بڑھ گیا ہے تو میں بھی بڑھ جاؤں گی ، لیکن میں دوبارہ محبت نہیں کرپاؤں گی “

” کسی کو محبت سچی ہوئ تو آپ کو اس سے محبت ہو ہی جائے گی “

وہ جیسے اب پر سکون تھا ، تھکن غائب تھی ، اگر وہ ایک موقع دے سکتی تھی تو رسک لینے کو تیار تھا ، وہ پاکستان جا کر اپنے گھر والوں کو اس کے گھر بھیجے گا ، پھر شاید وہ پاکستان آجائے یا شاید وہ ازلنگٹن آئے ، لیکن وہ اس کہانی کا ایک خوشگوار انجام چاہتا تھا

” آپ ۔۔۔۔”

اس کی بات زبان پر رہ گئ ۔ سنان کو کال آرہی تھی ، جیب سے فون نکالتے اس نے کان سے لگایا

” آ رہا ہوں بس “

وہ دوسری طرف کچھ کہہ رہا تھا ، اسے سمجھ نہیں آرہی تھی ،لیکن وہ احساس ، عجیب احساس پھر سے آ گیا

سنان موبائل فون سے لگاتا پیچھے ہٹا ، پھر اسے اللہ حافظ کا اشارہ کیا ، وہ الٹے قدموں واپس جارہا تھا ، معطر وہیں رکی رہی ، نظر اس کے قدموں پر گئ ،

ایک ۔۔۔دو ۔۔۔تین۔۔۔چار۔۔۔پانچ۔۔۔۔چھ۔۔۔سات۔۔۔آٹھ۔۔۔نو

وہ گاڑی کا دروازہ کھولتا اس میں بیٹھا ، بیٹھنے سے پہلے وہ رکا اسے دیکھ کر ہلکا سا مسکرایا ، وہی مسکراہٹ جو ہمیشہ ہوتی تھی ۔۔نرم ۔۔۔پھر اس کا وجود گاڑی میں بیٹھ گیا ، سنان سعدی اس کی نظروں سے غائب ہوگیا ، معطر کچھ دیر اس سڑک کو دیکھتی رہی پھر اس نے سر جھٹکا

وہ اس احساس کو کوئ نام دینے سے قاصر تھی

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

میز کی دوسری پار بیٹھے رائن نے چوتھی بار سر اٹھا کر ایرک کو دیکھا تھا جو پوری دلجمعی سے رجسٹر پر نوٹس بنانے میں مصروف تھا

” تم اپنا سر نیچے رکھو اور نظر کتاب پر رائن “

جب وہ پانچویں بار اسے دیکھنے لگا تو ایرک کا ضبظ جواب دے گیا

” میں اپنا سر اٹھا کر اور نظر گھما کر تمہیں دیکھ رہا ہوں۔ تمہیں کوئ مسئلہ ہے ؟”

“مجھے ہے مسئلہ ، نگاہیں درست کرو اپنی “

” تم میری نگاہوں میں موجود سوال کا جواب دے دو پھر “

” سوچو اور پھر پوچھو “

” میں پوچھ رہا ہوں ، سوچ بعد میں لوں گا “

” تم بعد والا کام نہیں کروگے ، بولو “

رائن آگے کو ہوا اور اسے غور سے دیکھا

” معطر کیسی ہے ؟”

” میں نہیں جانتا وہ کیسی ہے “

” اور تم چاہتے ہو کہ میں تمہارے جملے کے پہلے تین لفظوں پر یقین کرلوں ؟”

” تم یقین مت کرو ۔ میں الفاظ تبدیل نہیں کروں گا “

وہ سنجیدہ لگ رہا تھا

” تمہیں کیا ہوا ہے ایرک ؟”

” کیا تم نے سر کی بات نہیں سنی تھی ؟ دو ماہ بعد فائنل اگزیمز ہیں “

” تو۔۔۔۔؟”

” تو میں پڑھائ میں دل لگانے کی کوشش کررہا ہوں “

” جو دل کہیں اور لگ چکا ہے وہ پڑھائ میں کیسے لگے گا ؟”

ایرک کا رجسٹر پر لکھتا ہاتھ رکا ، سر اٹھا کر اسے گھورا

” مجھے زندگی کو سنجیدگی سے لینے دو “

” سنجیدگی کے ساتھ مذاق مت کرو “

اس نے پٹخ کر پین کتاب پر رکھا پھر پاؤں اوپر کرتے میز پر پھیلائے اور سر پیچھے ٹکا لیا

” درحقیقت وہ سوال کرو جو تم کرنا چاہتے ہو “

رائن اب کہ سنجیدہ ہوا

” جارڈن ہمارا دوست ہے ایرک “

” تمہارا ہوگا ۔ میرا تھا “

” تم ایک عورت کے لئے اپنے دوستوں کو چھوڑ دو گے ؟”

” میں اس ایک عورت کے لئے یہ کر سکتا ہوں “

” وہ غصے میں تھا “

” اسے غصے میں ہوش نہیں کھونا چاہئے تھا “

وہ حد درجہ سنجیدہ تھا

” ٹھیک ہے وہ شرمندہ ہے ، اب بس کرو ، تمہیں اس کے خلاف گواہی دینے کی کیا ضرورت تھی ؟”

” وہ معطر کا کیا گیا نقصان واپس لوٹا سکتا ہے ؟ میں جو اس کے سامنے مسلمانوں کی شدت پسندی کے ڈھنڈورا پیٹا کرتا تھا اب کس منہ سے اس بارے میں بات کروں گا ؟”

” تمہاری رائے اسلام کے بارے میں بدل چکی ہے “

رائن نے گہری سانس لی

” میری رائے اسلام کے بارے میں بدل رہی ہے ، میں نے یہ سوچنا شروع کردیا کہ شدت پسندی کا تعلق صرف اسلام سے نہیں ہے ، جارڈن کے اس عمل کے بعد مجھے سمجھ آ گئ ہے کہ شدت پسندی کا کوئ مذہب نہیں ہوتا ، وہ انسان کے اندر ہوتی ہے “

” اور اس مسلمان حامد کا کیا ؟ اس کے بارے میں کیا کہوگے ؟”

” جب تم نے جارڈن کا نام لیا تو تم نے یہ کیوں نہیں کہا کہ عیسائ جارڈن ؟ تم نے صرف جارڈن کا نام کیوں لیا ؟”

” اس کے عیسائ ہونے کا اس کے عمل سے کیا تعلق ؟”

” بالکل۔۔۔۔ یہی بات میں سمجھ چکا ہوں ۔ جیسے جارڈن کے اس غلط عمل کا اس کے مذہب سے کوئ تعلق نہیں ہے ویسے ہی حامد کے عمل کا اس کے مذہب سے کوئ تعلق نہیں ہے “

” اور میڈیا بیانات کا کیا ؟ صاف صاف کہا جارہا ہے کہ حامد نے الارا کو اس لئے مارا کیونکہ وہ شادی کے لئے اپنا مذہب نہیں چھوڑنا چاہتی تھی۔ کیا یہ اسلام کی وجہ سے شدت پسند ہونا نہیں ہے ؟”

” میں اب میڈیا پر بھروسہ نہیں کرسکتا ۔ اگر ایسا تھا بھی تو وہ حامد کا عمل تھا ۔ ہر مسلمان کا نہیں “

” اور الارا کا کیا ؟”

” میں اس کے لئے جو ہوسکا کروں گا ، لیکن میں مزید اب میڈیا بیانات پر یقین کرکے اپنی عقل پر لعنت نہیں بھیج سکتا ، مجھے اب اندھا دھند اس میڈیا پر یقین نہیں کرنا جو شدت پسندی کو صرف ایک مذہب سے جوڑ رہا ہے “

” تم اسلام سے متاثر ہورہے ہو ؟”

لمحہ بھر کو وہ چپ ہوا پھر سر جھٹکا

” ایسا کچھ نہیں ہے ،مجھے اسلام میں کوئ دلچسپی نہیں ہے ، میں صرف حقیقت پر یقین رکھ رہا ہوں “

” نہیں ایرک۔۔۔۔” رائن نے سر ہلاتے اسے دیکھا ” تم بدل رہے ہو ، بدل چکے ہو ، غور کرو اور اپنی سمت کا تعین کرو ۔ سوچو اور پھر بتاؤ وہ کیا شے تھی جس کی وجہ سے تم نے اپنے دوست کے خلاف بیان دیا “

وہ اب اپنے سامنے پڑی کتاب کھول رہا تھا ، ایرک نے کچھ نہیں کہا ، سر پیچھے کو گرائے وہ اوپر دیکھنے لگا ، آسمان پر سفید چھوٹی چھوٹی بدلیاں تھیں ، سفید لباس ، سرخ خون ، پھر اس کا ہاتھ اپنی جیب پر گیا ، جیب کے اندر چھوٹی سی بالی رکھی تھی ، اسے وہ گارڈن میں نہیں اسٹیشن پر ملی تھی ، وہ چاندی کی تھی اور عملے کو صفائ کے دوران ملی تھی ، وہ گارڈن نہیں گیا تھا وہ اسٹیشن گیا تھا ، نا وہ معطر کو بالی لوٹا سکا نا دوبارہ اس سے مل سکا

” وہ محبت تھی رائن ۔۔۔۔۔”

رائن کا سر اٹھا ، ایرک اپنے ہاتھ کو دیکھ رہا تھا ، اس کی ہتھیلی پر سفید ننھی بالی تھی ، چاندی کی خوبصورت سی بالی جس پر ایک ننھا موتی لٹک رہا تھا ، رائن نے دھیرے سے پین رکھا اور پیچھے کو ہوا

” محبت تھی۔۔۔۔؟”

” محبت تھی ۔۔۔” اس نے سر کو خم دیا ، آنکھوں میں کرچیاں ابھریں ” جس لمحے میں نے دیکھا کہ وہ مر رہی ہے اس لمحے میں نے جانا کہ میں بھی مررہا ہوں ، جس لمحے اس نے پوچھا کہ موت کیسی ہوتی ہے اس لمحے میں نے جانا کہ وہ کیسی ہوتی ہے” اس نے سر اٹھا کر رائن کو دیکھا “میں محبت کر بیٹھا ہوں رائن ، میں ایک مشرقی لڑکی سے محبت کر بیٹھا ہوں “

” تم دونوں مختلف ہو ایرک ، تم غلط کررہے ہو “

ایرک نے سر دوبارہ کرسی پر رکھ لیا

” مجھے اپنا مختلف ہونا قبول ہے ، اس کا مختلف ہونا منظور ، تم بتاؤ کیا یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ مجھے مل جائے ؟”

” یہ ناممکن ہے۔۔۔۔”

” تم تسلی ہی دے دو ، تم یہ کہہ دو کہ یہ مشکل ہے ، لیکن یہ ہوسکتا ہے “

” ٹھیک ہے میں کہہ دیتا ہوں یہ مشکل ہے لیکن یہ ہوسکتا ہے “

ایرک اسی طرح آسمان کو دیکھتا رہا

” اس نے کہا میں اس کے لئے کوئ معنی نہیں رکھتا ، تمہیں پتا ہے مجھے یہ سن کر کتنی تکلیف ہوئ تھی ؟ اسے یہ تو نہیں کہنا چاہئے تھا یارر “

” تم اسے بتادو ۔۔۔۔ “

” وہ مجھ سے نفرت کرے گی “

” محبت تو اب بھی نہیں کرتی “

” نفرت بھی تو نہیں کرتی “

” تمہیں کیوں لگتا ہے وہ تم سے نفرت کرے گی ؟ ممکن ہے وہ تمہیں ہاں کردے “

” میں جتنا اسلام کے خلاف بول چکا ہوں اس کے بعد وہ میرے اظہار پر مجھ سے نفرت نا کرے تو روئے زمین پر مجھ سے زیادہ خوش قسمت انسان کوئ نہیں ہوگا “

وہ ابھی تک آسمان کو دیکھ رہا تھا

” تم رد کئے جانے سے خوف زدہ ہو ؟”

” میں کسی اور کو منتخب کئے جانے سے خوفزدہ ہوں “

” مطلب ۔۔۔؟”

ایرک سیدھا ہوا پھر اسے دیکھا

” تم جانتے ہو محبت میں سب سے زیادہ اذیت ناک شے کیا ہوتی ہے ؟ محبوب کو کسی اور کا ہوتا دیکھنا ۔۔۔۔ میں جانتا ہوں کہ جب بات انتخاب کی آئے گی وہ مجھے منتخب نہیں کرے گی ، وہ سنان کو منتخب کرے گی ، مجھے نہیں علم یہ برا ہوگا لیکن میں سنان سے حسد کرتا ہوں ، اس کی جگہ میں کیوں نہیں ہوں ؟ میں بھی تو ہوسکتا تھا ؟ “

یوں جیسے اسے دنیا میں ایک یہی غم لاحق تھا ، وہ تیمور حیدر کو مقابلے پر نہیں رکھ رہا تھا وہ سنان کو رکھ رہا تھا

” ممکن ہے ایسا نا ہو “

” ایسا ہی ہوگا ۔۔۔ مجھے تیمور پر رشک آتا ہے ، وہ اس کا ماضی تھا ، مجھے سنان سے حسد ہوتا ہے ، وہ اس کا مستقبل ہوگا ، اور میں ؟ میں تو اس کے حال میں بھی نہیں ہوں “

” تم کتنے عجیب ہوگئے ہو ؟”

” ہاں۔۔۔ میں کتنا عجیب ہوگیا ہوں ، تمہیں یاد ہے میں کہا کرتا تھا کہ مجھے محبت نہیں ہوگی ، اب دیکھو یہ کتنی عجیب بات ہے کہ میں محبت کے بارے میں بات کررہا ہوں اور مجھے محبت ہو چکی ہے “

” تم یک طرفہ محبت کرتے ہو ، یک طرفہ محبت دکھ کے سوائے کچھ نہیں دیتی “

رائن کو اس کے لئے افسوس ہوا

” میں اس کی محبت اپنے دل سے نہیں نکال سکتا “

” اگر یہ ممکن ہوتا۔۔۔۔”

” اگر یہ ممکن ہوتا میں تب بھی ایسا نا کرتا “

وہ چپ ہوگیا پھر سر جھٹکا

” بیوقوفی کررہے ہو “

” میں بے وقوف بننے پر راضی ہوں “

” یہ حماقت ہے ۔۔۔”

” مجھے احمق کہلائے جانے پر کوئ اعتراض نہیں “

رائن کچھ دیر اسے دیکھتا رہا پھر سر جھٹکتے ہوئے کتاب کھول لی۔ اس انسان سے بحث فضول تھی ، ایرک اسی طرح نیم دراز لیٹا رہا ، وہ مشرق کے قصوں سے نا واقف تھا ورنہ وہ خود کو کسی پنوں سے تشبیہہ دیتا جس کی سسی صحرا میں کھو گئ تھی

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

1 فروری ، 2026

وہ کیفے سے قدم نکالتی ٹھٹکی ، منہ کھلا پھر آنکھوں میں حیرت اور خوشی ابھری ، سامنے سڑک پر سفید برف کی ہلکی تہہ جمی تھی ، ننھے ننھے قطرے آسمان سے گررہے تھے ، اس کا ہاتھ آگے بڑھا ، چند سفید گولے ہاتھوں پر آئے ، سیاہ کوٹ پر سفید رنگ ابھرا ، وہ پہلی بار برف باری دیکھ رہی تھی ، چہرے پر بچوں کی سی خوشی تھی

سنان ٹھیک کہتا تھا فروری تک برف باری ہوسکتی تھی ، وہ فروری کے پہلے ہی دن ہورہی تھی

سنان !

وہ چونکی

اسے آج واپس جانا تھا ۔۔۔ اوہ

” میں آپ کو الوداع کئے بغیر ازلنگٹن سے نہیں جاؤں گا “

گہری سانس لیتے اس نے موبائل نکالا ، قدم آہستہ ہوگئے ، اسے آج اسٹور جانے کی جلدی نہیں تھی ، موبائل نکالتے اس کا نمبر ملاتے اس نے فون کان سے لگایا

” سنان کا سلام !”

وہ مسکرائ

” وعلیکم السلام ، آپ نے باہر کا موسم دیکھا ؟”

” باہر کے موسم میں ایسا کیا ہے ؟”

وہ شاید کرسی سے اٹھا تھا

” باہر برف باری ہورہی ہے”

” تیز نہیں ہے “

” یوں کہیں ویسی نہیں ہے جیسی آپ چاہتے ہیں “

وہ ہنسا

” آپ کو اچھی لگ رہی ہے تو برف کی خوش قسمتی”

” آپ کو بری لگ رہی تو میں بدقسمتی نہیں کہوں گی “

” ہم ابھی اتنے بھی اہم نہیں “

” وہم ہے “

” کیا ؟”

” یہی کہ آپ غیر اہم ہیں ، اس کے برعکس آپ بہت اہم ہیں”

” آپ کے لئے بھی ؟”

اس کے چلتے قدم رکے ، دھڑکتا دل تھما ، نظریں اٹھیں پھر تھم گئیں ، وہ باہر بیٹھا تھا ، باہر بیٹھ کر پڑھ رہا تھا ، یہ دن بھی آنا تھا ؟

” میرے لئے نا صحیح بہت سوں کے لئے تو ہیں “

” آپ کے لئے نہیں ہوں تو بہت سوں کے لئے ہونے کا فائدہ ؟”

لہجہ دھیما تھا ، دھیمے لہجے میں کچھ کہانیاں تھیں ، ان کہانیوں میں معطر صبا آتی تھی

” پھر آپ کہتے ہیں میں فلرٹ نہیں کرتا “

اس کے قدم ایرک کی طرف مڑے ، اس کا بیگ میز پر پڑا تھا ۔ ساتھ کتاب پڑی تھی ۔ وہ لیپ ٹاپ پر کچھ ٹائپ کررہا تھا

” احتراماً بھی کچھ کہا جا سکتا ہے “

” ایسی باتیں احترام میں نہیں آتیں “

” ایسی باتیں پھر کس چیز میں آتی ہیں ؟”

” محبت ۔۔۔۔”

وہ ایرک کی ٹیبل بجا رہی تھی ، انگلیاں وہیں جمیں ، زبان وہیں رکی ، محبت ؟ سرخ گلاب ؟ چوڑیاں ؟ سنان کچھ نہیں بولا تھا ، وہ اس کے اگلے جملے منتظر تھا ، وہ اگلا جملہ بھول گئ ، رجسٹر پر کچھ لکھتے ایرک کا سر اٹھا ، وہ الفاظ لکھنا بھول گیا ، وہ سامنے ٹھہری تھی

” آپ ایئرپورٹ آئیں گی تو مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے “

” کیا ؟”

” کچھ کہانیاں جن میں لاہور کی کسی ہیر کا زکر ہے ، کچھ قصے جن میں پشاور کے کسی رانجھے کا زکر ہے”

معطر کی نظر ایرک پر گئ ، رانجھا ؟ ہیر ؟ سنان کے الفاظ ؟ پھر اس نے سر جھٹکا ، وہ غلط سوچ رہی تھی ، سنان کچھ ایسا نہیں سوچتا تھا ۔۔۔۔ پر دل ؟

” فلائٹ کب کی ہے آپ کی ؟”

” پانچ گھنٹے بعد ۔۔۔۔”

” ایئرپورٹ کب جائیں گے ؟”

” فلحال ٹرسٹ ہوں ۔ کچھ سامان یہاں تھا وہی لینا تھا، پھر ہاشم بھائ سے ملاقات کرنی تھی تو۔۔۔۔”

پیچھے سے کوئ شور ابھرا ، یوں جیسے کوئ پتھر شیشے کی کھڑکی پر لگا تھا ، سنان چپ ہوا ، معطر سیدھی ہوئ ، ایرک اب پیچھے کو ہوئے اسے دیکھ رہا تھا ، وہ اس کے کال کاٹنے کا منتظر تھا

” کیا ہوا ۔۔۔۔؟”

” ایک منٹ ۔۔۔۔”

وہ شاید کھڑکی کی طرف جارہا تھا ،معطر نے ایک ہاتھ سے دوسرے کی طرف فون منتقل کیا ، پھر آسمان کو دیکھا ،برف تیز ہورہی تھی ، پھر ایرک کو دیکھا ، اس کے زہن میں جملہ تھا ، وہ جملہ زبان پر آرہا تھا جب سنان کی آواز ابھری

” ڈیم اٹ۔۔۔۔۔ “

اب کہ وہ چونکی

” سب ٹھیک ہے ؟”

” جی۔۔۔۔”

اس کے پیچھے سے شور آرہا تھا ،یوں جیسے کوئ ہجوم بول رہا ہو ،پھر اسے فاتح بھائ کی آواز آئ ، وہ کچھ کہہ رہے تھے ، معطر کی بھنویں اکٹھی ہوئیں

” سنان۔۔۔۔”

وہ فاتح بھائ سے کچھ کہہ رہا تھا

” سنان۔۔۔۔”

ایرک نے کچھ ضبط سے اسے دیکھا ، اگر وہ اس سے کچھ کہنا چاہتی تھی تو الفاظ کہے اور جائے ، یہاں ہو کر کسی اور کو سننا اور اسے نظر انداز کرنا تکلیف دہ تھا

” معطر ، آپ کہاں ہیں ؟”

وہ گھبرایا ہوا تھا ، اسے کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا

” کیفے سے واپس جارہی ہوں “

” فوراً گھر جائیں ، فورا “

” سنان سب ٹھیک ہے ؟”

اسے بے چینی ہوئ

” معطر فوراً گھر جائیں “

” آپ کچھ بتا کیوں ۔۔۔۔”

” معطر بحث مت کریں ، صرف بات مانیں “

وہ شاید درازیں کھول رہا تھا

” تم نے کچھ کہنا ہے یا میں جاؤں ؟”

اس کی نظر ایرک پر گئ ، الفاظ زبان تک رکے رہے ، کوئ انہونی ، کسی انہونی کا احساس اردگرد چھا گیا

” یہ ایرک ہے نا ؟ فون اسے دیں “

معطر کا ہاتھ میکانکی انداز میں ایرک کی طرف بڑھا ، اس نے ابرو اچکائے

” س سنان “

زبان لڑکھڑائ ، اس کا دل بہت زور سے دھڑک رہا تھا ، ایرک نے موبائل ہاتھ سے لیتے گہری نظر سے اسے دیکھا

” ہیلو ۔۔۔۔۔”

وہ کچھ کہہ رہا تھا ، اسے سنائ نہیں دیا ، ایرک کا چہرہ زرد ہوا پھر وہ اٹھا

” اوکے۔۔۔۔ ریلیکس ۔۔۔ تم پولیس کو کال کرو”

وہ کتابیں اور لیپ ٹاپ سمیٹ رہا تھا ،معطر ساکت سی اسے دیکھتی رہی

” سنان پاگل مت بنو ، وہ میرے ساتھ ہے ، ہیلو ، سنان “

کال کٹ گئ ، ایرک نے دوبارہ نمبر ملایا ، معطر کا دل اب بند ہونے لگا

” سنان ۔۔۔”

لب پھڑپھڑائے ، کال نہیں مل رہی تھی ، اس کا فون شاید بند ہوگیا تھا ، ایرک نے اس کا فون اپنی جیب میں ڈالا

” چلو۔۔۔۔”

وہ پریشان لگ رہا تھا ،معطر اپنی جگہ سے نہیں ہلی ، ایرک کو رکنا پڑا

” معطر چلو “

” اسے کیا ہوا ہے ؟”

” کچھ نہیں ہوا اسے تم۔۔۔۔”

” ایرک سنان کو کیا ہوا ہے ؟”

وہ رکا پھر گہری سانس لی

” ازلنگٹن میں حالات خراب ہورہے ہیں ، کچھ شدت پسند گروہ مظاہرے اور توڑ پھوڑ کررہے ہیں “

” سنان۔۔۔۔”

اسے اس سب میں دلچسپی نہیں تھی ، ایرک کے گلے میں گلٹی ابھری

” اسکے ٹرسٹ پر مظاہرین نے حملہ کیا ہے ، وہ وہیں ہے “

اور پل بھر کو اس کے اردگرد سب رک گیا ، پوری دنیا چند لمحوں میں رک کر چلنے لگی ، رکنے والا دل پھر رکا ہی رہا

” اس کے ٹرسٹ پر کیوں ؟”

کوئ خوف تھا جو اردگرد چھا رہا تھا ،کچھ کہر زدہ سا تھا ، کچھ الہام سا

” حامد رئیسی وہیں کام کرتا تھا ، اس پر مستزاد وہ اسلاموفوبیا کے خلاف کام کرتے ہیں اور شاید کچھ ان ممالک کے لئے فنڈنگ بھی جن کا تاثر برطانیہ میں اچھا نہیں ہے ، اب تفصیل ہوگئ ہو تو چلیں۔۔۔ یہاں رکنا مناسب نہیں ہے ، کم از کم تمہارے لئے نہیں ہے “

وہ ایک بار پھر چلنے لگا جب معطر کی آواز ابھری

” وہ ۔۔۔ وہاں ہے ؟”

” وہ وہاں سے نکلنے کی کوشش کررہا ہے ، تم میرے ساتھ چلو ، یہاں رہنا مناسب نہیں ہے “

اسے ایک بار پھر رکنا پڑا ، معطر ساکت آنکھیں لئے اسے دیکھ رہی تھی

” معطر۔۔۔”

سنان وہاں ہے ؟”

” تم چلو ۔۔۔۔”

وہ اسے دیکھتی رہی ، برف تیز ہوئ ، ایرک جھنجھلایا ، وہ ایسے کیوں ٹھہری تھی ؟ مجسمے کی مانند ؟ کسی پتھر کی طرح ؟ پھر اس پتھر میں حرکت ہوئ ، مجسمہ کے قدم اٹھے ، ایرک ٹھٹکا ، وہ تیزی سے چلتی آگے جارہی تھی

” معطر۔۔۔۔۔”

” وہ وہاں ہے تو وہ مصیبت میں ہوگا “

وہ نفی میں سر ہلاتی کہہ رہی تھی ، جو الہام تھا وہ خوف میں بدلنے لگا

” تم اسے مصیبت سے بچا لو گی ؟”

” وہ میرے لئے ہمیشہ موجود ہوتا ہے”

جو سوچ تھی وہ اذیت میں ڈھلنے لگی

” تم اس بار اس کے لئے موجود ہوکر صرف اس کی پریشانی بڑھاؤ گی “

وہ جھٹکے سے رکی

” ایرک کیان ، میرا ضبط مت آزماؤ “

جو اذیت تھی وہ موت جیسی تھی

” میرا صبر بھی مت آزماؤ ، تم یہاں سے نا گئیں تو میں کھینچ کر لے جاؤں گا “

سختی سے اسے دیکھا

” تم مجھے ہاتھ لگا کر دکھاؤ ، لگا سکتے ہو مجھے ہاتھ ؟”

وہ تڑخ کر گویا ہوئ ، برف مسلسل تیز ہورہی تھی

” معطر ضد مت کرو “

اس نے جواب نہیں دیا ، وہ تیزی سے بس کی طرف گئ۔ ایرک جھنجھلا کر اس تک آیا ، وہ پولیس کو کال کررہا تھا ، ہاشم بن عبد اللہ ٹرسٹ فنسبری پارک اور سٹی یونیورسٹی آف لندن کے راستے میں پڑتا تھا ، بس سے اترو پہلے سٹاپ پر چند قدم کے فاصلے پر ٹرسٹ تھا ، وہ بس میں بیٹھی اضطراری انداز میں سنان کو فون ملاتی رہی ۔ وہ کال نہیں اٹھا رہا تھا ، ایرک بار بار اسے دیکھتا ، اس کی پریشانی سے نظریں چراتا ، پھر سر جھٹک دیتا ، وہ اپنا بیگ وہیں بھول آیا تھا ، اس بار وہ سپنی مرضی سے آیا تھا ، اس بار بیگ گم ہوتا تو اسے الزام نہیں دے گا ، وہ جانتا تھا

اور وہ ۔۔۔ لاہور کی معطر صبا ، وہ اپنے دل کی دھڑکن وہیں چھوڑ آئ تھی ، چند منٹ صدیاں بن گئے ، صدیوں کا بوجھ دل پر آ پڑا ، بس رکی تو وہ جھٹکے سے اتری ، قدم زمین پر پڑے ، زمین پر پڑی برف میں دھنس گئے ، وہ بنا پرواہ کئے ہاشم بن عبد اللہ ٹرسٹ کی طرف گئ ، اکا دکا لوگ ، پھر وہ بھیڑ میں تبدیل ہوئے اور پھر وہ ہجوم بن گئے ، لاٹھیاں اٹھائے ، غصے میں ، اسلام کے خلاف بولتے ہوئے ، وہ اس ہجوم کو چیرتی آگے بڑھنے لگی جب کسی نے اس کی کہنی کھینچی

” معطر تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے ، دیکھ رہی ہو یہاں سب غصے میں ہیں ، تمہیں اپنی جان پیاری نہیں ہے کیا ؟”

وہ غصے میں تھا ، اس کی کہنی کو پکڑ کر کھینچنا چاہا ،معطر نے جھٹکے سے ہاتھ چھڑایا

“تمہارا نام نہاد انصاف پسند معاشرے کہاں گیا ؟ یہ ہجوم میرے ملک جیسا کیوں بن گیا ہے ؟”

اس کی آواز کانپ گئ ۔ اسے ان ہجوموں سے ڈر لگتا تھا ۔ اس کے ملک میں ایسے ظالم ہجوم لوگ روند دیتے تھے ، کوئ اس کے بالکل پاس سے ڈنڈا اٹھائے تیزی سے گزرا ، ایرک نے کہنی سے پکڑ کر اسے دور کیا

” تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے”

” ہو گیا ہے ۔۔۔”

وہ آگے جانے لگی

” معطر۔۔۔۔ تم بعد میں غصہ کرلینا ۔ سنان یہاں نہیں ہوگا ۔ وہ جا چکا ہوگا “

وہ اس کی بات پر یقین کرلیتی ، وہ اس یقین پر ایمان لے آتی لیکن تبھی ۔ تبھی اسے وہ نظر آیا ۔ کسی بزرگ آدمی کے پیچھے تیزی سے چلتا ہوا وہ پریشان جھنجھلایا ہوا لگ رہا تھا ، سفید سوئیٹر پر سیاہ جینز تھی ، بال ماتھے پر بکھرے تھے ، بزرگ آدمی کو کہنی سے تھامتے اس کی نظر دروازے کے سامنے گئ ،ہجوم میں ہلکے سرخ رنگ کا لباس پہنے معطر نظر آئ ، معطر صبا کا رواں رواں سکون میں ڈوبا ، وہ ٹھیک تھا ، وہ ٹھیک تھا ، وہ سامنے تھا ، وہ ٹھیک تھا ، سنان ٹھیک تھا ، سب ٹھیک تھا ، سنان۔۔۔۔

اور تبھی کہیں سے زور کی گونج پیدا ہوئ ، بیک وقت دو گولیوں کی آوازیں ، اس کی نظروں کے بالکل عین سامنے وہ سرخ سیال سی گولیاں گزریں اور سنان کو لگیں ، پل بھر کو وہاں سب رک گیا ، ہر شے ، ہوا ، برف کی بوندیں ، سفید رنگ ، سرخ رنگ ، وہی سرخ رنگ جو اس نے پہن رکھا تھا ، وہی سرخ رنگ جو سنان کے سفید سوئیٹر پر ابھرا ، وہ نظریں اس پر جمائے ساکت ہوا ، قصہ لکھنے والی آنکھوں میں بے یقینی اتری ، کہانی سناتی آنکھیں منجمد ہوئیں ، اس کا ہاتھ سینے پر گیا ، وہ جگہ جہاں دل تھا ، وہ دل جہاں سرخ رنگ ابھر رہا تھا ، پھر وہ نیچے گرا ، نیچے اترتی سیڑھیوں کے پاس ، وہ گھٹنوں کے بل گرا ہاتھ سینے پر تھا ، سینے پر رکھے ہاتھ پر سرخ رنگ تھا ، سفید شرٹ پر سرخ رنگ ۔

رک چکی ہوا چلنے لگی ، اردگرد کا ہجوم چیختے ہوئے ہٹنے لگا ، ان سب میں اس کے دل کی آواز دب گئ ، وہی دل جو رک کر چل رہا تھا ، وہ دل جو رک گیا تھا ، اس کی آنکھوں کی پتلیاں ساکت ہوئیں ، بیگ پر رکھا ہاتھ نیچے گرا ، قصہ سنتی آنکھوں میں صدمہ اترا ، قصہ کہتی آنکھوں میں خوف ابھرا ، قدموں میں ہمت نہیں تھی لیکن وہ چلنے لگی ، راستے میں کسی نے ٹھوکر ماری ، نا درد ہوا نا احساس ، فاصلہ چند قدموں کا تھا ، فاصلہ دو شہروں کا تھا ، فاصلہ دو لمحوں پر محیط ہوا ۔ وہ سنان سے چند قدم فاصلے پر رک گئ ۔ پاؤں تلے کچھ آیا تھا ۔ ساکت پتلیاں نیچے گئیں ۔ سفید چوڑیاں۔ سیاہ جھمکے ۔ پھر نظر اس پر گئ ،سفید چہرہ۔ سفید سوئیٹر۔ سفید برف ۔ سرخ خون ۔ دو قدم کے فاصلے پر وہ رکی پھر دھیرے سے نیچے بیٹھی ۔ زہن ساکت ہوگیا تھا ۔ زبان منجمد ، وہ گھٹنوں کے بل بیٹھا تھا ، آنکھوں سرخ ، چہرہ سفید پڑ رہا تھا ، اس کی مسکراتی آنکھوں سے پانی نکل رہا تھا، وہ درد میں تھا

” س۔سنان …”

منجمد زبان ہلی ، زہن ساکت رہا ، درد سے دہرا وجود لئے سنان کی نظر اٹھی پھر اس پر گئ ۔ وہ کچھ کہنا چاہتا تھا ، لیکن اس کی زبان ساکت ہوئ ۔ وہ بیٹھے بیٹھے زمین پر گرا ۔ معطر کے عین سامنے ۔ پشت کے بل ، نگاہیں آسمان پر گئیں ۔ گلے میں گلٹی ابھری ۔ آنکھوں سے پانی بہا ۔ سر پر سفید برف کے قطرے گرے ، پھر اس کا خون میں سرخ پڑتا ہاتھ ہلکا سا بلند ہوا ، وہ کچھ تھامے ہوئے تھا جو وہ اس کی طرف بڑھا رہا تھا لیکن ہاتھ سن ہوتا نیچے گرا ، معطر کے ہاتھ پر ۔ وہ یہ جرأت پہلی بار کررہا تھا ، وہ یہ جرأت آخری بار کررہا تھا۔ پہلی بار کی جرأت پر معافی آخری بار کی جرأت پر سزا ، نا وہ معافی مانگ سکتا تھا نا سزا کا حقدار تھا

” ذہ۔۔۔۔”

وہ کچھ کہنا چاہتا تھا ، جو قصہ اسے ایئرپورٹ پر سنانا تھا وہ قصہ گو اب سنانا چاہتا تھا ، جن داستانوں میں پشاور کا سنان سعدی اور لاہور کی معطر صبا آتی تھی وہ داستان لکھنی تھی ، وہ جس ہیر کا رانجھا تھا اس کے سامنے مررہا تھا ، ہیر کو زہر پلانے کی ضرورت نہیں پڑی تھی ، وہ منظر دیکھ کر اس کا دل بند ہورہا تھا ، سنان کے ہاتھ کا دباؤ اس کے ہاتھ پر بڑھا ، وہ سوچتا تھا وہ محبت کا اظہار کرے گا تو وہ اسے تھپڑ مارے گی ، وہ ہاتھ تھامے بیٹھا تھا اور معطر صبا کا جسم حرکت سے انکاری ہوگیا تھا ۔ ہتھیلی میں کچھ چبھا ۔ اس کی نظر اپنے ہاتھ پر گئ ، سنان کا ہاتھ کچھ تھامے ہوئے تھا پھر نظر سنان پر گئ ، وہ بیٹھے بیٹھے آگے کو ہوئ ۔ کوئ اور بالکل پاس آکر ٹھہرا تھا۔ وہ کسی کو بلا رہا تھا ۔ ایک بزرگ تھے جو چیخ رہے تھے ۔ سنان کے اردگرد آواز نہیں تھی ۔ معطر کے اردگرد تکلیف تھی ۔ پھر اسے یکدم کچھ چبھا ۔ کچھ محسوس ہوا ۔ کچھ زہن پر لگا ۔ اس کے منجمد احساس پگھلے ۔ آنکھوں سے سیل نکلا

” سنان ۔۔۔۔ “

دھیرے سے اس کا نام پکارا ، اس نے جواب نہیں دیا ، معطر کا کپکپاتا ہاتھ اس کے کاندھے پر گیا ، اس کے ہاتھوں کو گویا رعشہ لاحق تھا

” سنان۔۔۔۔”

سنان کی نظریں مڑیں ، اس کا چہرہ سفید پڑ رہا تھا ، سینے سے سرخ خون سفید برف پر بہہ رہا تھا ، گلے میں گلٹی ابھرتی

” مت کریں۔۔۔”

وہ رو رہی تھی ، پیچھے بھگدڑ مچی ہوئ تھی ، لوگ چیخ رہے تھے ، ان چیخوں میں اس کی آواز دب گئ ، سنان سعدی کا چہرہ سفید ہورہا تھا ، اس کی نظریں معطر پر جمی تھیں ، پھر نظریں ایک ہی مقام پر رکیں ، آنکھوں کی پتلیاں ساکت ہوئیں ، جسم ساکت ہونے لگا ، اس کی نظر ہٹی

” اللہ۔۔۔۔ “

لب ہلے ، پھر ساکت ہوئے ، آنکھیں آسمان پر جمی تھیں ، وہیں جم گئیں ، اس کے جسم کو آخری جھٹکا لگا پھر وجود ساکت ہوا

” نہیں۔۔ “

وہ اس کے سامنے بیٹھی کہہ رہی تھی ، دوسری طرف کوئ لڑکا آیا ، وہ سنان کو ہلا رہا تھا ، وہ کسی کو بلا رہا تھا ، معطر کا کپکپاتا ہاتھ اس کے کاندھے کو ہلانے لگا

” سنان۔۔۔۔”

سنان نے جواب نہیں دیا ، اس کی آنکھیں ایک ہی مقام پر منجمد تھیں ، دل ایک ہی مقام پر رک گیا تھا

” سنان۔۔۔ آنکھیں ۔۔۔ آنکھیں کھلی رکھنا پلیز۔۔۔”

اس کے ساتھ کوئ چلا رہا تھا ، معطر نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا ، پلک جھپکی ، ڈھیروں آنسو بہے

” ایرک۔۔۔۔” اس کی آواز کانپ گئ …” اسے ۔۔۔ اسے دیکھو پلیز ۔۔۔۔”

ایرک کیان سرخ پڑتی آنکھوں سے اس تک آیا ، میڈیکل سٹاف سنان کے پاس آرہا تھا ، معطر کا ہاتھ ابھی تک اس کے کاندھے پر تھا ، سفید لباس والے لوگ اس تک آئے ،کسی نے اس کی نبض پر ہاتھ رکھا ،پھر گلے پر پھر اس کی آنکھوں پر اور آہستہ سے اس کی آنکھیں بند کردیں

” He is no more ….”

ایرک نے کراہ کر آنکھیں بند کیں ، معطر کا سر نفی میں ہلا ، اس کی آنکھیں رو رہی تھیں ، روتی آنکھیں بند آنکھوں پر جمی تھیں

” سنان۔۔۔۔”

” پلیز۔۔۔۔ اٹھ جائیں۔۔۔۔”

ایرک اس کے قریب بیٹھا

” معطر ۔۔۔۔”

” اس۔۔۔ اس کی فلائٹ ہے ، وہ مس۔۔۔ کردے گا ، وہ پاکستان جارہا تھا “

” معطر۔۔۔۔۔”

” تم لوگ ۔۔۔۔ تم جھوٹ بول رہے ہو نا ؟ سنان اٹھ جائیں “

اس کا ایک ہاتھ اب تک سنان کے ہاتھ تلے تھا ، وہ ہاتھ یوں تھا گویا دنیا کا ہر بوجھ اس پر رکھ دیا گیا ہو ، جو ہاتھ سنان کے کاندھے پر تھا وہ یوں تھا گویا اسے رعشہ لاحق ہو

” معطر ۔۔۔۔۔” ایرک بالکل اس کے سامنے بیٹھا ، اس کی آنکھیں سرخ تھیں ” اٹھو یہاں سے ۔۔۔۔ “

” سنان کو اٹھاؤ ایرک ، ہوسپٹل۔۔۔ “

” وہ مر چکا ہے معطر “

معطر کے الفاظ زبان پہ رہ گئے ، سر نفی میں ہلا

” نہیں۔۔۔۔”

” وہ مر چکا ہے ۔۔۔۔ سنان سعدی مرچکا ہے”

وہ روتی ہوئ نفی میں سر ہلارہی تھی ، وہ جھوٹ بول رہا تھا ، سنان کیسے مر سکتا تھا ؟ وہ آخری بار اسی جگہ ٹھہر کر کوئ پشتو غزل سنا رہا تھا ، وہ اس غزل کا ترجمہ کئے بغیر کیسے جا سکتا تھا ؟ اسے ایئرپورٹ پر کچھ کہنا تھا ، وہ آخری بار کچھ کہہ رہا تھا ، وہ ادھورا جملہ مکمل کئے بغیر کیسے جا سکتا تھا ، وہ جھوٹ بول رہا تھا ، ہر شخص جھوٹا تھا

معطر صبا ہیر تھی ، سامنے پڑا شخص رانجھا تھا ، ہیر کے حصے میں موت نہیں آئ تھی ، رانجھے کے حصے میں زندگی نہیں آئ تھی ، سفید لباس والے اس کے سامنے آرہے تھے ، سرخ خون میں لپٹے لباس والے مرد کو اٹھاتے انہوں نے سٹریچر پر رکھا ، اس کا ہاتھ معطر کے ہاتھ سے جدا ہوا ، وہ ساکت نظروں سے یہ سب دیکھتی رہی ، پھر اس کی نظر اپنے ہاتھ پر گئ ، وہاں تین چوڑیاں رکھی تھیں ، ایک جھمکا ، وہی جھمکا جو وہ اپنی بہن کے لئے کیمڈین پیسیج سے لے کر آیا تھا ، وہی چوڑیاں جو اس نے کیمیڈن پیسیج سے ہیر لگتی لڑکی کے لئے لی تھیں ، ان پر سرخ خون لگا تھا ، معطر صبا کے ہاتھ پر سرخ خون لگا تھا ، اس کی نظر اردگرد گئ ، سفید برف اب تک گررہی تھی ، سنان کو ازلنگٹن کی تیز برف باری دیکھنی تھی ، وہ اب برف دیکھنے سے قاصر تھا ، اسے اس برف پر قدموں کے نشان بنانے تھے ، اسی برف پر اس کے خون کے دھبے پڑے تھے

سنان سعدی ازلنگٹن کی تیز برف باری دیکھنے سے پہلے چلا گیا تھا ، وہ داستان سے خاموشی سے چلا گیا تھا

اور اگر۔۔۔۔۔

زمین پر گرتی برف سے نظریں اٹھا کر دیکھو

تو کھلی کھڑی سے اندر بکھرا سامان نظر آتا ہے

میز پر بھوری شال اور ڈائری رکھی ہے

کھلی ڈائری کے کاغذ پھڑپھڑا رہے ہیں

ان میں سے آخری صفحے پر چند الفاظ لکھے ہیں

وہ دھندلے۔۔۔ پھر واضح ہوئے ۔۔۔ سیاہ حروف

سنان سعدی خان !

تاریخ : 1 فروری 2026

مقام : برطانیہ ، ازلنگٹن

آخری ملاقات ۔۔۔۔۔

ہوا سے پھڑپڑاتی ڈائری بند ہوگئ ، لفظ دھندلے ہوگئے ، قصہ گو نے کردار کو حروف میں قید کردیا ، قیدی کو رہائ نصیب ہوئ

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆