192.3K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Laa (Episode 29)

Laa By Fatima Noor

اگر وہ کہتا تھا کہ وہ الارا کو انصاف دلانے کی کوشش کرے گا تو وہ سچ کہتا تھا ، اس نے اپنے شو میں ایک بار پھر اس معاملے کو اٹھایا ، فرانزک رپورٹ ، الارا کی حامد کو کی جانے والی کال ، اس کے دوستوں سے رابطہ کرکے براؤن کے خلاف گواہیاں سب کچھ اکٹھا کرکے اس نے اپنے شو میں چلوادیا ،

اور اس کے بارے میں مشہور تھا کہ جس انسان کا زکر آدم کیان اپنے شو میں کردے اسے مشہور یا بدنام ہونے سے کوئ نہیں روک سکتا

سو الارا گریس کا کیس ایک بار پھر سرخیوں میں آگیا ،لیکن اس بار حامد رئیسی کی بجائے براؤن ، رونن اور جیس کو گرفتار کیا گیا ، ان کی ماضی کی کال ریکارڈنگز نکلوائ گئیں ، یونیورسٹی کیمراز چیک کئے گئے جہاں وہ کئ بار الارا سے ملتے اور اسے تنگ کرتے نظر آرہے تھے ،ہر معاملے میں بہادری کا مظاہرہ کرنے والی الارا کے متعلق کوئ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ اس طرح کسی لڑکے کے ہاتھوں زہنی اذیت کا شکار تھی ، وہ براؤن سے لڑنے اور اسے جواب دینے سے خوفزدہ نہیں تھی وہ اپنے باپ کے ردعمل سے خوفزدہ تھی جس کی براؤن کے باپ سے بہت گہری دوستی تھی

اس بار نا یہ دوستی کام آئ نا براؤن کے باپ کے تعلقات ، وہ برطانیہ تھا، لاکھ برائیاں صحیح لیکن وہاں انصاف ٹکوں کے عوض سر عام نہیں بکتا تھا ، سو براؤن کو گرفتار کرلیا گیا وہ اقبال جرم کرنے کو تیار نہیں تھا لیکن اس کے دوست نے سب بتادیا

الارا کو اپنے اپارٹمنٹ سے ان تینوں نے حامد کا حوالہ دے کر نیچے بلایا تھا، اسے اغوا کرنے والے بھی وہی تین تھے ، زیادتی اور قتل میں صرف براؤن ملوث تھا

اس کا اقبال جرم پھانسی کا پھندا بن کر ان تینوں کے گلے پر پڑا اور ان سب کا کریڈٹ اگر کسی کو جاتا تھا تو وہ آدم کیان تھا ، ایک بار پھر اسے کئ شکریہ کے میسجز موصول ہوئے ، ایک بار پھر اسے سراہا گیا، ، وہ دن بدن پہلے سے زیادہ مقبول ہوتا جارہا تھا ، نا صرف برطانیہ بلکہ پوری دنیا میں ، اور ایک وہ تھا جسے اب اس شہرت کی نا چاہ رہی تھی نا ضرورت

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

زندگی بدل گئ تھی، ان سب میں ایک نئ چیز شامل ہوگئی ، وہ مسجد جانے لگا ، پھر سینٹر ، وہ قرآن سیکھ رہا تھا ، قرآن پڑھ رہا تھا ، نماز سیکھ کر پڑھ رہا تھا ، اسلام کے احکام ، پابندیاں ، نرمی کے احکام ، سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کے واقعات ، عقائد

فہد بھائی نے اس پر ایک دم سے بوجھ ڈالنے کی بجائے آہستہ آہستہ اسے سب چیزیں سکھائ تھیں ، وہ اسے یکدم ہی اسلام نہیں سکھانا چاہتے تھے کہ کہیں وہ بے زار نا ہوجائے ، یوں جیسے چودہ سو سال پہلے تیئس سال میں تھوڑے تھوڑے کر کے احکام اترے تھے ، یوں جیسے بچپن سے جوانی تک آہستہ آہستہ ہر حکم بتایا جاتا ہے، وہ اسے بھی یوں ہی سمجھا رہے تھے

” یہ بتاؤ قرآن میں سب سے امید افزا بات کیا لگی ؟”

قرآن پڑھتے پڑھتے وہ یکدم اس سے پوچھنے لگے تو وہ لمحہ بھر کو رکا۔ ،کچھ سوچا پھر چہرے پر ہلکا سا جوش ابھرا

” ویسے تو ہر چیز۔۔ لیکن ایک بات جو میں نے سب سے زیادہ پسند کی ، آپ کو علم ہے جب میں قرآن پڑھ رہا تھا تو مجھے لگا کہ مجھے معاف نہیں کیا جائے گا ، جس جنت کا زکر ہے وہ جنت مجھے نہیں ملے گی ، جس جہنم سے ڈرایا جارہا ہے وہ جہنم میرے حصے میں آئے گی ، میں مایوس تھا اور بہت زیادہ تھا لیکن تب میں نے نوٹ کیا کہ اللہ نے سب سے زیادہ قرآن میں اپنی کس صفت کا زکر کیا ہے ؟ وہ غفور رحیم ہے ، وہ بخشنے والا ہے ، وہ معاف کرنے والا ہے ، آپ نے نوٹ کیا فہد بھائی جب اللہ کسی عذاب والی آیت کو لاتے ہیں ، کسی گناہ پر سرزنش ، کسی خطا پر ڈانٹ ، ان سب کے بعد اللہ کہتے ہیں کہ معافی مانگو گے تو وہ معاف کردے گا ، توبہ کرو گے تو وہ قبول کرلے گا ، رجوع کروگے تو وہ مان جانے والا ہے ، دیکھیں یہ کتنی خوبصورت بات ہے ، جو رب بذات خود رحیم ہے میں نے اس سے اپنی لئے بخشش مانگی ، میری مایوسی کو اللہ نے کئ آیات سے ختم کردیا ، تو اگر کوئ مجھ سے پوچھے تو میں کہوں گا کہ میرے اندر کی مایوسیوں اور اندھیروں کو قرآن نے اپنی اس امید افزاء بات سے ختم کیا ہے “

اس نے قرآن کی صرف عربی نہیں پڑھی تھی ، اس نے قرآن کا مفہوم سمجھا تھا ، فہد بھائی مسکرائے

” تمہارا علم وسیع ہو آدم “

اسے یہ سب اچھا لگ رہا تھا ، یوں مسلمانوں کے ساتھ ایک جماعت میں نماز پڑھنا ، دعا کے وقت ہر مسلمان کو یاد رکھنا ، ہر خیر میں شریک ہونا ، ہر شے سے بچنے کی کوشش کرنا

اسے پریزے کی کال آئ تو وہ رو پڑی

” آپ کو پتا ہے میں نے دعا کی تھی کہ آپ اسلام قبول کرلیں “

” سمجھو تمہاری دعا قبول ہوگئ “

وہ اوپن کچن میں ٹھہرا اپنے لئے کھانا بنا رہا تھا ، ایک ہاتھ فرائنگ پین کو پکڑے ہوئے تھا دوسرے سے کیچپ اٹھایا ، موبائل کاندھوں کے درمیان تھا

” مجھے یقین ہے میری ہی دعا قبول ہوئ ہے لالہ ۔ ۔” وہ رکی ” میں آپ کو لالہ بلا لوں ؟”

” بالکل …..”

وہ خوش ہوگئ ، اسے پریزے کیوٹ سی لگتی تھی ،پیاری سی ، بالکل سوزی جیسی ، سنان کے خاندان کی وہ واحد فرد نہیں تھی جس سے اس کا رابطہ تھا ، اس کے والدہ ، والد ، درخزئ وہ سب جیسے اس کا دوسرا خاندان بن گئے تھے ، سنان کی والدہ کو انگلش نہیں آتی تھی تو پریزے ان کے ساتھ بیٹھ کر ان دونوں کے بیچ متراجم کا کردار ادا کردیتی

” پاکستان کب آؤگے آدم ؟”

وہ جو مسکرا کر ان کی بات سن رہا تھا مسکراہٹ سمٹی

” میں تھوڑا مصروف ہوں فی الحال “

” عید کی چھٹیاں نہیں ملیں تمہیں ؟”

وہ مسکراہٹ ضبط کرگیا لیکن پریزے نے ہنسی ضبط کرنے کی کوشش نہیں کی تھی

” مورے وہ سکول میں تھوڑی پڑھتے ہیں جو چھٹیاں ملیں گی وہ اینکر ہیں ، ان کے بغیر ان کا چینل نہیں چلتا “

” جانتی ہوں ، تم دونوں بھائ بہن اب مجھ پر ہنسو “

وہ خفا ہوگئیں ، آدم کچھ بوکھلایا پھر اُنہیں بمشکل راضی کیا کہ اسے جیسے ہی فرصت ملتی ہے وہ پاکستان کا چکر ضرور لگائے گا

” آپ آئیں گے یہاں ؟”

” دیکھوں گا …… “

اس نے ٹال دیا ، وہ واقعی مصروف ہوتا تھا لیکن وقت نکالا جا سکتا تھا لیکن بات یہی تھی کہ وہ وقت نہیں نکالنا چاہتا تھا

” اگلے سال میری اور درخزئ کی شادی ہے ، میں فی الحال نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن چاچا کہتے ہیں لالہ کو گئے ایک سال ہوگیا ہے ، سوگ اتنا لمبا کرنا جائز نہیں ، آپ آئیں گے نا ؟ “

اس کا چہرہ اداس ہوگیا

” مشکل ہے “

” آپ ٹال کیوں دیتے ہیں ؟”

” میں صرف اپنی مصروفیات بتاتا ہوں “

” آپ بہانے بناتے ہیں ، سچ بتائیں کس وجہ سے پاکستان نہیں آرہے ؟”

” میں واقعی میں مصروف ہوتا ہوں “

” تو پھر پچھلے مہینے سعودی عرب کیوں گئے تھے ؟”

” عمرے کے لئے گیا تھا ، عمرے کے لئے تو ہر کوئ وقت نکال لیتا ہے “

” ملائیشیا میں کون سا مقدس مقام ہے جس کی زیارت کے لئے گئے تھے ؟ پھر کچھ دن پہلے آپ نے امریکہ کی کسی جگہ کی سٹوری لگا رکھی تھی ، درخزئ نے دکھائ تھی مجھے ، پھر وہ فرانس۔۔۔۔”

” کام کے سلسلے میں گیا تھا لالہ کی بہن “

نرمی سے اسے ٹوکا

” جھوٹ نا بولیں ، کام کے لئے کون اتنے ملکوں کے چکر لگاتا ہے ؟”

” چینل والوں نے بھیجا تھا”

” چینل والے پاکستان کیوں نہیں بھیجتے ؟”

” تم کتنا شک کرتی ہو “

” میں پتا لگوالوں گی کہ آپ پاکستان کیوں نہیں آتے ، یاد رکھئے گا “

اب کے اس نے بس ہاتھ جھلادیا ، وہ مصروف تھا ، BBC میں کام کرتے ہوئے اس کے پاس فرصت کے جتنے لمحات ہوتے تھے وہ اسلام سیکھنے میں لگا رہا تھا ، اس کا شو برطانیہ کے ٹاپ شوز میں سے تھا ، کروڑوں لوگوں میں دیکھا جانے والا ، اس کے پوری دنیا سے لاکھوں فینز تھے ، کامیابی جیسے قدموں میں پڑی تھی اور وہ اس سے بے نیاز ہوگیا تھا

زندگی صرف کام اور کام کے بیچ پس کر رہ گئ ، پہلی عید پھر دوسری عید آئ اس نے جا کر نماز پڑھی اور گھر واپس آ گیا ، خالی سا فلیٹ جہاں دنیا کی ہر آسائش تھی لیکن وہ پھر بھی خالی تھا

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

” مجھے کوئ طریقہ بتادیں فہد بھائی جس سے میں اپنے ماں باپ کو اسلام کی طرف راغب کرسکوں “

وہ سر جھکائے کسی شکست خوردہ انسان کی طرح ان کے سامنے بیٹھا تھا

” دعا کیا کریں “

” کرتا ہوں ، اپنے لئے مغفرت کی ان کے لئے ہدایت کی ، لیکن یہ دعا قبول نہیں ہورہی ، آپ کو پتا ہے یہ کتنا اذیت ناک خیال ہے کہ آپ کے ماں باپ اپنے لئے آگ جمع کررہے ہیں ، میں یہ نہیں سوچ سکتا ، جب آپ صحیح راستہ چن لیں تو غلط راستے کی طرف جاتا ہر انسان آپ سے برداشت نہیں ہوتا وہ تو میرے ماں باپ ہیں ، میں ان کے لئے کیا کروں فہد بھائی ؟ میں اُنہیں کیسے بتاؤں کہ جس راستے پر وہ ہیں وہ راستہ صحیح نہیں ہے “

” اُنہیں آہستہ آہستہ اسلام کی طرف لانے کی کوشش کریں آدم ، مشکل ہے لیکن جس رب نے آپ کو چنا ہے وہ آپ کے ماں باپ کو بھی چن لے گا “

وہ صرف مایوسی سے سر ہلا کر رہ گیا ، انہیں کیسے اسلام کی طرف لاتا ؟ ہیزل اور کیان دونوں نے اس سے رابطہ منقطع کرلیا تھا ، وہ دو ماہ پہلے امریکہ گیا تھا تو جتنے دن وہاں رہا ہیزل سے ملنے جاتا رہا ، وہ اسے نظر انداز کردیتیں ، اس نے پھر بھی امید نہیں ہاری تھی ، وہ انہیں منا لے گا ،ان کا بیٹا تھا وہ ، وہ مان جائیں گے

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

” آپ شادی کرلیں “

بڑی سنجیدگی سے اس نے مشورہ دیا تھا

” اچھا مشورہ ہے “

مزاح سے اس نے ٹالنا چاہا

” میں سنجیدہ ہوں “

” اچھی بات ہے پریزے “

اس کے سامنے لیپ ٹاپ کھلا رکھا تھا ، کچھ فائلز ، کافی کا کپ ، ٹشو باکس جس سے وہ وقفے وقفے سے ٹشو کھنچ لیتا

” عمل بھی کریں اس پر ، دیکھیں کیسے ناک سرخ ہورہی ہے”

” میری ناک کے سرخ ہونے کا شادی سے کیا تعلق ؟”

” زکام کا تو ہے ، بیوی ہوتی تو آپ کا خیال رکھتی “

” تمہیں پتا ہے ؟ تمہاری اکثر لاجک بغیر سر پیر کے ہوتی ہیں”

” درخزئ بھی یہی کہتا ہے” وہ خفا ہوئ

” تم اتنا سچ بولنے پر داد کے مستحق ہو “

اس نے پیچھے ٹھہرے درخزئ کو آواز لگائ

” نا کریں آدم بھائ ، یہ ناراض ہوجاتی ہے پھر ، منانا مشکل ہوتا ہے”

اور کہنے کی دیر تھی کہ سکرین سیاہ ہوگئ ، لوجی ہوگئیں پریزے سعدی ناراض

اس نے درخزئ کو کال کی

” منہ پھلا کر صوفے پر بیٹھی ہے اور تائ کو آپ کی شکایت لگا رہی ہے”

” یہ بہت جلدی ناراض نہیں ہوجاتی ؟”

” آپ سے ہوجاتی ہے ، سنان کے بعد بالکل چپ ہوگئ تھی ، ہمیں زبردستی اس سے بلوانا پڑتا تھا ، گھنٹوں سنان کے کمرے میں بیٹھی رہتی ، آپ میں اسے اپنا بھائ نظر آتا ہے تو آپ کو تنگ کرتی رہتی ہے “

اس کے اندر کوئ ملال سا ابھرا

” بات کروادو “

وہ صوفے پر سیدھا لیٹ گیا ، تکیہ سر کے نیچے رکھ لیا

” بولیں “

دوسری طرف اس کی خفا سی آواز سنائ دی ،وہ ہلکا سا مسکرایا

” تو میری بہن ناراض ہوگئ ہے ؟”

” نہیں ، میں کیوں ناراض ہوں گی ؟ میں تو مشین ہوں نا جس کے اندر جذبات نہیں ہیں ، احساسات نہیں ہیں “

” تین ماہ بعد تُمہاری شادی ہے ، بچپنا کب ختم کروگی اپنا ؟”

وہ زور سے چھینکا ، افف یہ زکام ، پوری دنیا کو سردیوں میں زکام ہوتا تھا اور اسے گرمیوں میں ہوجاتا

” شادی سے یاد آیا ، آپ شادی پر آئیں گے تو میں آپ کو اپنی کزنوں سے ملواؤں گی آپ کو پتا ہے…”

لو جی محترمہ پھر شروع ہوگئیں ، وہ چپ چاپ سنتا رہا ، فلاں کزن فلاں پڑھائ کررہی تھی ، فلاں فلاں کام میں اتنی ماہر تھی ، فلاں سے زیادہ خوبصورت تو کوئ تھا ہی نہیں ، وہ اسے کیسے بتاتا کہ اس کا دل تو مشرق سے کوئ چوڑیاں پہننے والی چرا کر لے گئ تھی

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

” آپ نے دوائ نہیں لی تھی ؟”

کھلی کھڑکی سے نظر آتے اندر کے منظر میں سامنے کرسی پر بیٹھا آدم نظر آرہا تھا جو خفگی سے کوئ دوائ اٹھائے دیکھ رہا تھا ، مخاطب سامنے بیڈ پر نیم دراز بانو آپا تھیں

” یہ والی نہیں لی تھی “

” یہ والی ہی لازمی لینی تھی “

وہ اٹھتے ہوئے بیڈ سائیڈ ٹیبل تک گیا ، گلاس میں پانی ڈالا اور انہیں دیا

” کڑوی ہے گولی “

” شربت ڈال دوں ؟”

خفا سے انداز میں پوچھا تو وہ ہلکا سا ہنس دیں ، پھر اس کے ہاتھ سے گولی لیتے حلق سے نیچے اتاری

” آپ بہت لاپرواہ ہوگئ ہیں آپا ،میں کل ہی ملازمہ ٹھہرا رہا ہوں اور نہیں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ میں اب آپ کی بات نہیں مانوں گا”

وہ جو کچھ کہنے لگی تھیں چپ کر گئیں ، وہ سنجیدہ سے چہرے والا لڑکا پیچھے دو سال سے ان کے گھر آرہا تھا ، اپنی بے پناہ مصروفیت میں سے ان کے لئے وقت نکالنا جیسے وہ خود پر فرض سمجھتا تھا

” ہلکا سا بخار ہے بس آدم “

وہ نحیف لگ رہی تھیں

” پچھلے ایک ہفتے سے آپ یہی کہہ رہی ہیں”

دوائیوں کا ڈبہ اٹھاتے وہ دوبارہ سے بیڈ سائیڈ ٹیبل تک گیا ،دراز کھولی اور وہاں رکھا ، بانو آپا اسے دیکھتی رہیں

” معطر کو ڈھونڈنا چھوڑ دیا ہے تم نے ؟”

اس کے ہاتھ تھمے پھر آہستہ سے دراز بند کرتے وہ صوفے تک آیا اور وہاں بیٹھا ، سیاہ پینٹ پر اس نے سفید شرٹ پہن رکھی تھی ، بازوں مڑے ہوئے تھی ، ٹائ ندارد، کوٹ صوفے پر ساتھ پڑا تھا

” اس کے منع کرنے کے بعد اسے ڈھونڈنے کی کوشش ہی نہیں کی “

وہ بہت آہستہ سے بولا تھا

” بھول گئے ہو اسے ؟”

” میں اپنا ہونا بھول سکتا ہوں اس کا ہونا نہیں “

” دو سال سال ہوگئے ہیں آدم ، اب تو کوشش کرلو ، اب تو وہ مان جائے گی ، اسے مسئلہ صرف تمہارے مذہب سے تھا “

اس کا سر نفی میں ہلا

” وہ کہہ کر گئ تھی کہ میں مسلمان ہوجاؤں یا وقت کا ولی بن جاؤں وہ مجھے دیکھے گی بھی نہیں ، دیکھیں میں نے تو اس کے کہے گئے جملے بھی حفظ کر رکھے ہیں اور آپ کہتی ہیں اسے بھول گیا ہوں “

وہ سر جھٹک کر تلخی سے ہنسا

” ایسا کیا ہوا تھا تم دونوں کے بیچ کہ وہ تم سے رابطہ تک نہیں رکھنا چاہتی ؟”

وہ اگلے کئ لمحے خاموش رہا

” میں نے اس سے کہا تھا کہ وہ میرے لئے اپنا مذہب چھوڑ دے”

” آدم …..”

ان کی آواز صدمے سے پھٹ گئ

” کیسے روح نکالنے والے الفاظ ہیں نا ؟ میں نے تب بہت آسانی سے کہہ دیئے تھے ، اب سوچتا ہوں تو خود کو معاف ہی نہیں کرپاتا ، کاش مجھے احساس ہوجاتا کہ یہ الفاظ کتنے بھاری ہیں ، اتنے کہ وہ اب تک ان کے بوجھ سے نہیں نکلی ہوگی “

اس کی آواز میں ہجر زدہ دنوں کے قصے جیسا ساز شامل ہوا

” تُمہیں یہ نہیں کہنا چاہئے تھا “

” ہاں یہ نہیں کہنا چاہئے تھا ، کوئ مجھے وہ ایک لمحہ لوٹا دے ، بس وہ ایک لمحہ ، کوئ مجھ سے میری ساری زندگی لے لے اور وہ ایک لمحہ مجھے لوٹا دے جب میری زبان سے یہ الفاظ نکلے تھے ، میں یہ کہنے سے پہلے اپنی زبان کو قوت گویائی سے محروم کردینا چاہوں گا “

بانو آپا کتنی ہی دیر اسے دیکھتی رہیں ، ان کا دل چاہا وہ اسے بتادیں کہ لاہور کی معطر صبا کس گلی میں رہتی تھی ، وہ بتائیں کہ کس چوبارے کے سامنے مسجد تھی ، جس مسجد سے کھلی کھڑکی میں لٹکتی چوڑیاں نظر آتی تھیں لیکن کسی کے وعدے نے اُنہیں قید کر رکھا تھا

” پاکستان چلے جاؤ “

” کیا کروں گا جا کر ؟”

” لاھور جانا “

” اس ایک شہر میں کوئ ہے جس کا دل توڑا تھا ، اس ایک شہر کی فضا بھی مجھ پر بھاری رہے گی “

” وہ محبتوں کا شہر ہے ، تمہیں اس شہر میں نفرت نہیں ملے گی “

” اس شہر کی ہی ایک لڑکی مجھ سے نفرت کرتے ہوئے گئ تھی “

” اگر اس نے نہیں ملنا تو آگے بڑھ جاؤ “

” اپنا آپ پیچھے چھوڑ کر کیسے آگے بڑھ جاؤں ؟”

وہ کچھ بے بسی سے اسے دیکھنے لگیں

” یوں سمجھو وہ صرف ایک یاد تھی ، اب بھول جاؤ اس یاد کو “

” وہ کہانی ہے ۔بعض اوقات ہماری پوری کہانی صرف ایک انسان ہوتا ہے ۔ کوئ ہم سے ہماری کہانی پوچھے اور ہم اس کا نام لے دیں۔ وہ میری پوری کہانی ہے ، میں نے اس کہانی کا ہر لفظ حفظ کیا ہے ، یہ مت کہا کریں اسے بھول جاؤ “

” اپنے آپ کو کس خسارے میں ڈال بیٹھے ہو ؟”

” اس کے جانے کے بعد میں نے اپنے خسارے گننا چھوڑ دیئے ہیں “

وہ تھک کر کہتا اٹھا ، اپنا کوٹ اٹھایا ، بازوں پہ ڈالتے اُنہیں دیکھا

” میں چلتا ہوں کل پھر آؤں گا ان شاءاللہ “

ایک ہاتھ جیب میں ڈالے وہ دروازے کی طرف بڑھ گیا ، بانو آپا یاسیت سے اس بند دروازے کو دیکھتی رہیں جو ان کے کمرے سے نظر آتا تھا ، وہ جانتی تھیں دروازے کے پاس وہ چند لمحے کو رکے گا ، رک کر اوپر دیکھے گا پھر صوفے کو اور پھر باہر بڑھ جائے گا ، وہ دو سال سے یہ کام کررہا تھا وہ دو سال سے اسے یہ کرتے ہوئے دیکھ رہی تھیں

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

” تو آدم کیان ۔ سب سے پہلے تو بڑی مشکل سے ہاتھ لگے ہیں آپ اس کے لئے شکریہ “

سامنے والے صوفے پر بیٹھی سنہری بالوں والی ہوسٹ ہنس کر بولی تو وہ ہلکا سا مسکرایا ، سیاہ پینٹ پر سیاہ ڈریس شرٹ پہنے وہ اس ہوسٹ کی دائیں طرف رکھے سنگل صوفے پر بیٹھا تھا ، ٹانگ پر ٹانگ جما رکھی تھی

” میں مصروف ہوتا ہوں ۔ انٹرویوز کے لئے وقت نہیں ملتا “

” در حقیقت آپ مصروفیت کا بہانہ بنا کر سوالات سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں”

” یہ ایک بے رحمانہ تبصرہ ہے “

” سچ ہے “

” میں تردید نہیں کروں گا ، مجھے سوالات کرنے کی عادت ہے ، جوابات دینے کی نہیں “

اس نے کاندھے اچکائے ، وہ ایک لائیو شو تھا جو نجی ٹی وی کی جانب سے پیش کیا جارہا تھا ،نیچے کرسیوں پر عوام بیٹھی تھی

” لیکن آج آپ ہمارے ہاتھ لگ گئے ہیں تو آپ سے کافی کچھ اگلوا لیں گے خاص کر آپ کی ذاتی زندگی کے بارے میں “

” میری ذاتی زندگی کے بارے میں میرا باس بھی نہیں جانتا “

” اندازہ ہے ، بہرحال کیونکہ آپ سنجیدہ انسان ہیں تو ہم بھی سنجیدگی سے انٹرویو کا آغاز کرتے ہیں ، سوالات آپ کو پہلے ہی بتادیں کہ ہم نے مختلف پلیٹ فارمز پر عوام کی جانب سے اکٹھے کئے ہیں ، تو سب سے پہلا سوال جو ہم سے پوچھا گیا وہ یہ ہے کہ اپنے والدین کے بارے میں کچھ بتائیں “

صوفے پہ بیٹھے آدم نے پہلو بدلا پھر ہلکا سا مسکرایا

” میرے فادر کیان سمتھ ایک جانے مانے وکیل ہیں مام امریکہ میں ڈاکٹر ہیں ، اور وہ دونوں میرے لئے میری پوری کائنات ہیں ، لیکن اگر آپ ہمارے پرسنل ریلیشن کے بارے میں جاننا چاہ رہی ہیں تو میں ان پر بات نہیں کرنا چاہتا “

اس کا لہجہ نرم لیکن دو ٹوک تھا ، ہوسٹ نے سر کو خم دیا ( پورے انٹرویو میں پھر پوچھوں گی کیا اگر یہ پرسنل معاملات پر ہی بات نہیں کرنا چاہتے ؟)

” دوسرا سوال ، آپ کی سیلری کتنی ہے ؟”

” No comment”

” مستقبل میں خود کو کہاں دیکھتے ہیں ؟”

” جنت میں “

مجمعے میں قہقہے ابھرے

” اپنی جاب پسند ہے ؟”

” بہت “

” اس جاب کی سب سے بری بات کیا ہے ؟”

” سوال اسکپ کرنے کی اجازت ہے ؟”

شیور ۔۔۔۔” ہوسٹ مسکرائ ( کچھ بتائے گا بھی یہ ؟) ” اب وہ سوال جو ہمارے پاس سب سے زیادہ آیا ، کسی کے ساتھ کمیٹڈ ہیں ؟”

” اٹس پرسنل …..”

” آپ کی کوئ گرل فرینڈ ہے ؟”

” استغفرُللہ…..”

وہ بے ساختہ بولا ، عوام کے اندر کھلکلاہٹیں ابھریں ، ہوسٹ نے کچھ ناسمجھی سے اسے دیکھا

” اس کا کیا مطلب ہے ؟”

” آپ دوسرا سوال کریں ، مطلب کے پیچھے نا ہی پڑیں ” وہ مسکرایا

” اوکے لیکن میں یہی سوال تبدیل کرکے پوچھ لیتی ہیں کوئ ہے جس سے آپ محبت کرتے ہوں ؟”

اس کی مسکراہٹ پہلے مدھم ہوئ پھر غائب ہوئ ، کچھ دیر وہ خاموش رہا پھر صوفے پر کچھ آگے کو ہوا

” کوئ….تھی “

ہوسٹ یکدم سیدھی ہوئ ، اب آیا نا اصل جواب باہر

” کون ؟”

” ایک لڑکی تھی مشرق سے ، جو ازلنگٹن کی گلیوں میں چلتی تھی تو اس کی چوڑیوں کا ساز پورے انگلینڈ میں گونجتا تھا ، وہ بولتی تھی تو مجھے چپ ہوجانا پڑتا تھا ، سنتی تھی تو میں صرف بولتے رہنا چاہتا تھا ، جس کے ساتھ قدیم دور کے قصے لکھے جا سکتے ہیں ، تھی ایک لڑکی مشرق سے۔ “

وہ کیمرے میں دیکھتا کہہ رہا تھا یوں جیسے کوئ گمان سا تھا کہ کوئ کیمرے کے پار اسے سن رہا ہوگا

” پھر کیا ہوا ؟”

” ہم بچھڑ گئے اور میں اسے ڈھونڈ نہیں سکا “

” کچھ کہنا چاہیں گے ان سے ؟”

” صرف اتنا کہ تم واپس آ سکتی ہو ؟ میری زندگی میں تمہاری جگہ اب تک خالی ہے ، میرے دل میں تم اب تک موجود ہو ، صرف ایک بار مجھ سے رابطہ کرلو ، میں وہ غلطیاں دوبارہ نہیں دہراؤں گا جو میں نے پہلے کیں ، سیکنڈ چانس تو ہر کسی کو مل جاتا ہے، ایک مجھے بھی صحیح “

اس کی آواز میں ٹوٹے کچے گھڑے جیسی یاسیت تھی

” ان کا نام کیا ہے ؟”

” میں نے اس کا نام دل میں اس جگہ پر رکھا ہے جہاں میں خود بھی احتراماً اس کا نام لینے سے گریز کرتا ہوں “

” اتنی محبت ؟”

وہ آنکھوں میں دنیا جہاں کا حزن لے آئ ( کوئ بات نہیں ، نام نا بتائے ، شو کو ریٹنگ دلانے کے لئے یہ اعتراف ہی کافی ہوگا ، لیکن دل ؟ کیا مطلب کسی سے محبت کرتا ہوں ؟؟)

” وہ بذات خود حرفِ محبت ہے ، تو اب آپ کے اگلے سارے سوالات کا جواب یہ ہے کہ آئ ایم ناٹ ایویلیبل “

اس نے سیدھا ہوتے گلا کھنکارا ، ہوسٹ کچھ گڑبڑائ

” میں اب سنجیدہ موضوع کی طرف آرہی تھی ” اس نے سر کو خم دیا ، شاید معطر یہ انٹرویو دیکھ لے ، شاید وہ اس سے رابطہ کرلے ، شاید ۔۔۔۔

” آپ برطانیہ میں بڑھتے اسلاموفوبیا کے متعلق کیا کہیں گے ؟”

” یہی کہ اس بارے میں حکومتی پالیسز ناکافی ہیں ، پچھلے چند سالوں میں اسلاموفوبیا میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے ، ان سب پر باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے ، صرف میڈیا پر بیانات دینا ناکافی ہے ، صرف سوشل میڈیا پر پوسٹس کرنا ناکافی ہے ، اگر میں اپنی بات کروں تو میں اسلام قبول کرنے سے پہلے اسلاموفوبیا کا شکار تھا ، میرے نزدیک اسلام ایک تنگ ذہنیت رکھنے والا مذہب تھا لیکن اسلام لانے کے بعد میں نے جانا کہ اس سے زیادہ آپ کو سہولت دینے والا مذہب کوئ نہیں ہے ، یہ آپ کو غاروں میں بند نہیں کرتا ، آپ کو کھلا آسمان دیتا ہے ، مغرب کے لوگوں کو اسلام سے متعلق اپنا نظریہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ، وہ ایک عورت کے پردہ کرنے کو پابندی سے کیسے جوڑ سکتے ہیں ؟ حالانکہ آپ ماضی میں جا کر دیکھیں تو آپ کو یہی پردہ کرنے والا خواتین تخت سنبھالتی نظر آئیں گی ، اسلام سے متعلق لوگوں کے نظریات تب تک تبدیل نہیں ہوں گے جب تک وہ اسلام کو خود نا جانیں اس لئے۔۔۔۔۔۔”

یہ وہ موضوع تھا جس پر وہ گھنٹوں بول سکتا تھا تو اب بھی وہ بنا رکے اس پر بولنے والا تھا

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

اس کی شادی ہوگئ اور وہ نا جانے کے لئے وقت نکال سکا نا اس کا جانے کا ارادہ تھا ، البتہ اس نے پریزے کے لئے تحفہ ضرور بھجوایا جو حسب توقع

” ضرورت نہیں ہے”

کہ میسج کے ساتھ کسی کونے میں پڑا ملا

” میرا تحفہ یہ سلوک تو ڈیزرو نہیں کرتا تھا “

اسے افسوس ہوا ، درخزئ نے اسے تازہ تازہ تصویر بھیجی تھی جہاں باقی تحفوں سے علیحدہ اس کا تحفہ کونے میں پڑا تھا

” آپ کے نا آنے کی سزا ہے “

” میں مصروف ہوتا ہوں “

” بہانے ہیں سارے “

پیچھے سے زور سے آواز آئ ، اس نے فون کان سے ہٹایا

” یہ پورے پشاور کو سنائے گی ؟”

” آپ فی الحال اس سے بات کرنے کا سوچئے گا بھی مت ، وہ غصے میں ہے “

” مورے سے بات کراوادو “

پتا نہیں کیوں وہ اُنہیں مورے کہہ جاتا تھا ، دوسری طرف اب خاموشی تھی پھر خجستہ خانم کی آواز ابھری

” اس سے کہو بہن کے ساتھ ساتھ ماں بھی ناراض ہے “

درخزئ نے پیغام ترجمہ کرکے پہنچا دیا

” یاررر ، سمجھاؤ ان کو میں نہیں آ سکتا تھا ” وہ کراہا

” بہانے رد ۔۔۔”

” یہ اچھا ہے ، ہم کہیں تو بہانے “

وہ لاؤنج میں بیٹھا تھا ، سامنے لیپ ٹاپ رکھا تھا ، ہاتھ میں اس کا پرانا کیمرہ تھا ، باکس ، چند پرانے سامان ، موبائل کاندھے کے درمیان رکھے وہ کیمرہ اٹھائے پرانی تصاویر دیکھ رہا تھا ، دوست ، یونیورسٹی کے سال ، یادیں ، دنیا میں دوستوں کے بچھڑنے سے زیادہ تکلیف دہ شے بھی کوئ تھی ؟

” آپ سے اب میں کبھی بات نہیں کروں گی لالہ “

دوسری جانب اس کی خفا سی آواز ابھری

آدم مسکرایا

” یہ بات تم مجھ سے بات کرتے ہوئے ہی کہہ رہی ہو “

اس کا ہاتھ کیمرے کا بٹن دبا رہا تھا

“آج مجھے بتا ہی دیں کہ آپ پاکستان کیوں نہیں آنا چاہتے ؟ “

” فری ہوں گا تو آجاؤں گا “

دوسری طرف کچھ دیر خاموشی چھائ رہی

” وہ پاکستان سے تھی نا ؟”

اس کی آواز آہستہ تھی ، آدم کا ہاتھ رکا تھا ، دل بھی ساتھ رکا تھا ، ہاتھ تصویر کو دیکھتے دل پریزے کی بات سنتے

” کون ؟”

وہ جس کی تصویر سامنے تھی ، کاؤنٹر پر رکھے رجسٹر پر کچھ لکھتے ہوئے وہ سیاہ کیپ پہنے ہوئے تھی ، بالوں کی ایک لٹ چہرے پر آرہی تھی

” میں نے آپ کا انٹرویو سنا تھا “

اس نے وہ سب کسی اور کو سنانے کے لئے کہا تھا ، وہ کئ دن سے منتظر تھا ، کئ سال سے منتظر تھا ، کوئ واپسی کا پیغام بھیج ہی نہیں رہا تھا ، اس کی نظریں تصویر پر جمی رہ گئیں

” میں اس سے محبت کرتا ہوں پریزے”

پتا نہیں وہ کیوں اعتراف کرگیا ، دل پر کوئ بوجھ سا آن پڑا تھا

” تصحیح کریں لالہ ، آپ معطر سے محبت کرتے ہیں”

اس بار اس کی نظر کیمرے سے ہٹی

” تم کیسے …..؟”

” آپ کو لگتا ہے میں نہیں جانتی کہ ہر بار معطر کا پوچھنے پر آپ کی آنکھوں کا رنگ کیوں تبدیل ہوتا ہے ؟ آپ کو لگتا ہے میں نہیں جانتی کہ دنیا گھوم لینے والے آدم کیان کے قدم صرف میرے ملک کی طرف کیوں نہیں اٹھتے ؟ “

اس کے گلے میں گلٹی ابھری ، راز فاش ہوا تھا

” میں اس کا سامنا کرنے سے خوفزدہ ہوں “

” وہ آپ سے محبت نہیں کرتی ؟”

” نفرت کرتی ہوگی “

” آپ نے اس کا دل تو نہیں دیکھا “

” میں نے اس کی آنکھیں دیکھی تھیں “

اس کے لیپ ٹاپ کی سکرین پر اسی وقت کوئ میل آئ تھی ، کریم عبدالولی اور کامل منظور کے لئے آنے والی یہ کوئ پچاسویں میل تھی

” آنکھوں کا تاثر دائمی نہیں ہوتا “

وہ کچھ دیر سامنے رکھی تصویر کو دیکھتا رہا

” سنان اس سے محبت کرتا تھا “

” جانتی ہوں “

” پھر بھی تم چاہتی ہو میں اس سے ملوں ؟”

” میں چاہتی ہوں میرے ایک بھائ کو اس کی محبت نہیں ملی لیکن دوسرے کو مل جائے “

” میں اس کا سامنا نہیں کرسکتا ، اس نے کہا تھا کہ اس کی شادی ہونے والی ہے ، اب کیوں جاؤں ؟ میں نے انٹرویو میں جان بوجھ کر اس کا ذکر کیا تھا ، ایک امید تھی کہ شاید وہ رابطہ کرے اور کہے کہ وہ اب تک کسی سے منسوب نہیں ہے ، دیکھو پریزے میں کن کن اندھیروں میں جگنو ڈھونڈ رہا ہوں ” وہ بے بسی سے کہہ رہا تھا

” ممکن ہے اس کی واقعی شادی نا ہوئ ہو “

” ایک خیال ہے “

” ایک خیال پر ہی صحیح اپنے دل کے لئے کوشش کرلیں لالہ “

” میں ۔۔۔۔”

” آپ کبھی اسے نہیں بھلا پائیں گے ، کبھی نہیں ، تو اگر ایسا ہے کہ ساری زندگی اسے یاد ہی رکھنا ہے تو ایک بار اس کے شہر جا کر کوشش کرلیں ،کیا معلوم لاھور کی گلیوں میں اس کی چوڑیوں کا شور آج بھی آپ کا منتظر ہو “

اس نے کال کاٹ دی تھی ، آدم کے ہاتھ فون تھامے ساکت رہ گئے ، کئ لمحے جیسے وہ منجمد بیٹھا رہا پھر ایک بار پھر موبائل کی ٹون بجی تو چونکا ، کان سے ہٹا کر موبائل دیکھا ، وہاں کوئ ای میل آئ تھی ، کسی کریم عبدالولی کے لئے

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

پیر جھلاتے وہ کچھ بے زاری سے اردگرد دیکھ رہا تھا ، پانچ منٹ ہوگئے تھے اور آفیسر ابھی تک واپس نہیں آیا تھا ، چھٹا منٹ شروع ہوا اور دروازہ چررر کی آواز سے کھلا ، پولیس یونیفارم میں ملبوس ایک آفیسر کے ساتھ بیس بائیس سال کا کچھ سہما سا لڑکا اندر آیا ، وہ اسی طرح بیٹھا رہا

” مسٹر آدم آپ کا مہمان حاضر ہے”

وہ اسے کرسی پر بٹھاتے چلا گیا تو آدم سیدھا ہوا

” کریم عبد الولی ؟”

سامنے بیٹھے لڑکے نے سر ہلایا

” تمہارے دوستوں کی طرف سے مجھے ایک ہفتے میں ڈیڑھ سو ای میلز آئ ہیں ، پرسوں تمہارا ایک دوست میرے چینل کے باہر بھی مجھ سے ملا تھا ، اس کے بقول تمہیں یہاں ایک غلط الزام کی وجہ سے ڈالا گیا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ میں تم لوگوں کے لئے آواز اٹھاؤں ۔ اب تم مجھے بتاؤ کہ معاملہ کیا ہے کیونکہ میری مطابق جو پولیس نے تحقیقات کی ہیں تو تم واقعی مجرم ہو “

” میں نے کچھ نہیں کیا سر ، میں اور میرا دوست کامل ہم دونوں ایک ہوٹل میں پارٹ ٹائم ویٹر کی جاب کرتے ہیں ، ایک ماہ پہلے ہمیں پولیس نے یہ کہہ کر گرفتار کرلیا کہ ہم یہاں مجرمانہ اور شدت پسندانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں ، ہم نے سچ میں کچھ نہیں کیا ، ہمارا برطانیہ میں اب تک ریکارڈ صاف ہے ،ہم نے واقعی میں کچھ نہیں کیا “

” تمہارے دوست کا کیا نام ہے ؟”

” کامل منظور “

” کتنے دن سے جیل میں ہو ؟”

” ایک ماہ سے “

” پولیس کو کوئ ثبوت ملا ہوگا تبھی تو گرفتار کیا ہے ، ایسے کیوں وہ تم دونوں کو گرفتار کریں گے ؟ “

” میرا یقین کریں میں بے قصور ہوں “

وہ خوفزدہ نظر آرہا تھا ، آدم خاموشی سے اسے دیکھتا رہا

” تم نے اپنے گھر والوں سے رابطہ کیا ؟”

” وہ پریشان ہیں لیکن بنگلہ دیش سے یہاں آنا ان کے لئے ممکن نہیں ہے، کچھ کریں پلیز”

وہ رونے لگ گیا ، آدم گہری سانس لیتا پیچھے کو ہوا

” دیکھو کریم ، میں اپنی پوری کوشش کروں گا کہ تمہیں اور تمہارے دوست کو انصاف دلوا سکوں ، میں ایسے معاملات کو اپنے شو میں خاص طور پر زکر کرتا ہوں لیکن یہ بھی یاد رکھنا کہ اگر تم دونوں قصور وار ہوئے تو میں اپنے ہاتھوں سے تم دونوں کو پھانسی تک پہنچاؤں گا “

” ہم نے کچھ نہیں کیا ، ہم اسکالرشپ پر یہاں پڑھنے آئے ہیں ، آپ میرے دوست کامل سے ملے ؟ وہ پا۔۔۔۔”

اس کے الفاظ زبان میں رہ گئے دروازہ کھولتے پولیس والا اندر آرہا تھا

” پانچ منٹ مکمل ہوچکے ہیں سر “

” شیور ۔۔۔۔۔” وہ سر کو خم دیتا اٹھا پھر کریم کو دیکھا ” میں اپنی تحقیقات کے بعد تم سے آ کر ملوں گا “

کوٹ درست کرتے وہ باہر کی طرف بڑھ گیا ، پہلے خیال آیا کہ دوسرے لڑکے سے بھی مل لے لیکن اسے چینل پہنچنا تھا

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

” ملاقات ہوئ ان سے ؟”

” ہاں۔۔۔ شکل سے تو معصوم سا بچہ لگ رہا تھا” ٹائ ڈھیلی کرتے اس نے موبائل میز پر رکھا

” شکل سے لوگوں کے عمل کا پتا تھوڑی چلتا ہے ؟”

” اس لئے میں بنگلہ دیش جانے کا سوچ رہا ہوں ، یہاں جتنی معلومات اس کے بارے میں ملی ہیں اس کے مطابق تو یہ سیدھا سادہ سا آدمی ہے ، تم نے دوسرے لڑکے پر تحقیقات کیں ؟”

” کی ہیں ، اس میں بھی بظاہر کوئ برائ نہیں ہے “

” بیک گراؤنڈ جانے بغیر ہم کچھ نہیں کہہ سکتے ، تم اس کے ملک جا کر تحقیقات کرلو ، میری بنگلہ دیش کی ٹکٹ بک کرادینا ، میں چھٹیوں کے لئے باس سے کہتا ہوں “

” ان معاملات پر زرا کم بولا کرو آدم ، چینل میں کئ لوگ تم سے ناراض ہیں “

” مجھے تو جیسے پرواہ ہے نا “

اس نے گویا ناک سے مکھی اڑائ

” یقیناً تمہیں نہیں ہے ، بہر حال میں ٹکٹ بک کرواتا ہوں تمہاری بنگلہ دیش کی ” وہ اس کے سامنے والی کرسی سے اٹھتے ہوئے کہہ رہا تھا ، آدم نے صرف سر ہلادیا ، وہ لیپ ٹاپ پر کچھ دیکھ رہا تھا جب مارک کی آواز کانوں میں پڑی ” لاہور پھر میں خود چلا جاؤں گا “

اس کا سر دھیرے سے اٹھا

” لاہور …..؟”

” ہاں ، کامل منظور لاہور سے ہے نا “

اور ایک پل کو جیسے اردگرد صرف ایک آواز رہ گئ

” میرے گھر کے سامنے مسجد ہے ، چھت سے بالکل سامنے میرے کمرے کی کھڑکی نظر آتی ہے وہاں ایک دھاگے سے میں نے ڈھیروں چوڑیوں کو باندھ رکھا ہے ، ہر رنگ کی چوڑیاں ، اب یوں کرنا لاہور کی گلیوں میں کوئ ایسی مسجد ڈھونڈنا، پھر اس مسجد کی چھت پر ٹھہر کر کوئ ایسی کھڑکی ڈھونڈنا “

مارک اب موبائل دیکھتا دروازہ کھول رہا تھا جب اس نے خود کو کہتے سنا

” مارک ! میری لاہور کی ٹکٹ بک کروادو “

” تم لاہور جاؤگے ؟” وہ ٹھٹک کر رکا

” ہاں ….”

” کیوں ؟”

” میں۔۔۔ کامل منظور کا کیس خود دیکھوں گا”

” تم شیور ہو ؟”

اب کے اس نے سر ہلادیا ، مارک کاندھے اچکاتا چلا گیا تو اس نے ڈھیلی ہوچکی ٹائ مزید ڈھیلی کی ، نگاہوں میں سفید ننھی بالی ابھری

شہر لاھور میں کوئ تھی جو داستان ادھوری چھوڑ کر گئ تھی اسے وہ داستان مکمل کرنی تھی ، پریزے ٹھیک کہتی تھی اگر وہ ساری زندگی اسے نا بھول پاتا تو اسے کوشش کر لینی چاہئے تھی ، ایک کوشش

تو معطر صبا کے لاھور کو آدم کیان کی آمد کا پیغام پہنچا دو

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆