192.3K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Laa (Episode 16)

Laa By Fatima Noor

آخری رو میں سامان رکھتی معطر نے تیسری بار سر نکال کر اس گاہک کو دیکھا جو سیاہ جینز پر سفید سوئیٹر پہنے ہوئے تھا ، وہ کبھی کوئ پیکٹ اٹھاتا اسے دیکھتا پھر رکھ دیتا ، پھر کوئ دوسرا پیکٹ اٹھا کر اس پر درج معلومات پڑھنے لگتا ، یوں لگتا تھا جیسے وہ خریداری کرنے آیا ہو اور بھول گیا ہو کہ اسے کیا لینا ہے ، وہ آخری پیکٹ رکھتی اس تک آئ

” کیا میں آپ کی مدد کرسکتی ہوں سر ؟”

شائستگی سے مخاطب کیا تو وہ گویا چونکا، پھر اسے دیکھ کر مسکرایا

” مجھے اپنے گھر کے لئے پردے لینے ہیں “

” آپ غلط جگہ پر آئے ہیں “

” میں تو صحیح جگہ سمجھ کر آیا تھا “

” اب صحیح جگہ پر چلے جائیں “

ہاتھ سے باہر کی طرف اشارہ کیا

” آپ مجھے اسٹور سے نکال رہی ہیں ؟”

” میں آپ کو شرافت سے جانے کا کہہ رہی ہوں “

” شرافت سے یاد آیا ، آپ نے وہ نظم سنی ہے شرافت علی کو گولی لگی ساری دنیا رونے لگی ، کیا میں درست پڑھ رہا ہوں ، یہ شرافت علی ہی تھا نا ؟ “

” سریسلی سنان …..؟”

اس نے ابرو اچکائے تو سنان نے ایک ہاتھ جیب میں ڈالے دوسرے سے کان کھجایا

” میں ٹاپک ڈھونڈنے کی کوشش کررہا ہوں جس پر ہم بات کر سکیں ، کیا پاکستان کی معاشی حالت بہتر موضوع رہے گا ، یا برطانیہ میں بڑھتی مہنگائ ؟ “

” آپ کو یہاں کیا کام ہے ؟”

اس نے سینے پر ہاتھ باندھے سنجیدگی سے سنان کو دیکھا

” مجھے تو نہیں ہے ، جسے ہے وہ اپنا کام کررہی ہے اور میں کمپنی ڈھونڈنے کی کوشش کررہا ہوں “

معطر کی نظر سامنے کھڑی لوئ پر گئ ، وہ سامان نکالتی ٹرالی میں رکھتی جارہی تھی

” یہ اپنی ماں کے ساتھ کیوں نہیں آئ ؟”

” وہ بزی تھیں “

” اور اس کے ڈیڈ ؟”

” وہ اس سے زیادہ بزی تھے “

” آپ کو نہیں لگتا لوگ آپ کی اچھائ کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں ؟”

” آپ مجھے اچھا کہہ رہی ہیں ؟”

” میں آپ کو معصوم کہہ رہی ہوں “

” یعنی بیوقوف کہہ رہی ہیں ۔۔۔۔” اس نے سر ہلایا ،پھر مسکراہٹ دبائ” آپ چاہیں تو آپ بھی میری اچھائ کا فائدہ اٹھا سکتی ہیں میں مائنڈ نہیں کروں گا “

” آپ مجھے چالاک کہہ رہے ہیں ؟”

” میں آپ کو بے غرض کہہ رہا ہوں “

” یعنی بیوقوف کہہ رہے ہیں”

ایک پل کو وہ دونوں چپ ہوگئے پھر دونوں ہنس دیئے

” آپ ڈھونڈیں یہاں پردے ، میں جارہی ہوں ، میرے ورکنگ آورز چل رہے ہیں “

” ورکنگ آور کے بعد مل سکتی ہیں ؟”

” کیوں ملنا ہے ؟”

” ایک مشورے کی ضرورت ہے “

” جب میں یہاں نہیں تھی تو کس سے مشورہ کرتے تھے ؟”

” جب آپ یہاں نہیں تھیں تو کسی سے مشورے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی تھی “

” اب کیوں پڑ گئ ہے ؟”

” کیونکہ اب مجھے مشورے سننا اچھا لگتا ہے”

” مشورے دینا اور سننا۔۔۔۔۔ قومی مشغلہ ۔۔۔۔۔”

وہ سر جھٹکتے آگے بڑھنے لگی جب پیچھے سے اس کی آواز آئ

” میں پاکستان واپس جانے کا سوچ رہا ہوں۔۔۔ چلا جاؤں ؟ “

وہ دھیرے سے پلٹی

” کیوں ؟”

” ہمیشہ یہاں تھوڑی رہوں گا “

” اب تک کیوں تھے پھر ؟”

حالانکہ وہ خود اسے کچھ دن پہلے واپسی کا مشورہ دے رہی تھی ، پر پھر بھی اس کے واپس جانے کا سن کر لمحہ بھر کو اردگرد خالی پن بھر گیا تھا ، یوں جیسے کوئ دوست ہو جس سے بچھڑنے کا خیال عجیب اداسی بکھیر دے

” اب تک ایک وجہ تھی ۔۔۔۔ اب اسی وجہ سے واپس بھی جا رہا ہوں “

” کیا وجہ ؟”

وہ کچھ دیر اسے دیکھتا رہا پھر نظر اس کی کلائ پر گئ

” آپ نے چوڑیاں کیوں نہیں پہنیں ؟”

” اسٹور میں منع ہیں “

کاندھے اچکائے

” پھر یہ جاب چھوڑدیں “

” جی ؟”

” جس جگہ پہ آپ کو آپ کی پسند کے مطابق نہیں رہنے دیا جا رہا وہ جگہ چھوڑ دیں “

” آپ کو برطانوی لباس پسند ہے یا پاکستانی ؟”

” پاکستانی ۔۔۔۔”

” تو کیا آپ اپنے آفس میں شلوار قمیص پہن کر جاتے ہیں ؟”

وہ ہنسی ، اب وہ ہنسنے لگی تھی ، بات بہ بات ، یوں ہی ، بغیر کسی وجہ کے ، وہ مسکرایا پھر نظر دوبارہ اس کی کلائ پر گئ

” مجھے برا لگا تھا “

” کیا ؟”

” آپ کی کلائیوں کا خیال ہونا”

اور اس کی ایسی ہی باتیں ، یہی الفاظ پل بھر کو عجیب کیفیت میں مبتلا کردیتے تھے

” ہیلو معطر۔۔۔۔۔”

بڑی سی ٹرالی گھسیٹتی لوئ ان کے درمیان آرکی تو وہ دونوں اس کی طرف متوجہ ہوئے ، سنان نے ٹرالی دیکھتے ابرو اچکائے ،معطر مسکرائ

” ہیلو لوئ “

” تم نے دوستی توڑ دی مجھ سے ؟”

” نہیں تو ۔۔۔۔”

” پھر تم مجھے کوئ تحفہ کیوں نہیں بھجواتیں ؟”

سنان دانت پر دانت جماتے اس کے پیچھے آیا اور ٹرالی پکڑی

” تحفہ مانگنا اچھی بات نہیں ہوتی لوئ “

” مجھے یہ بات بتانے کے لئے میرے مام ڈیڈ ہیں ، تم کچھ اور بتاؤ “

” اتنا کھانا صحت کے لئے اچھا نہیں ہے “

بھری ٹرالی کو دیکھتے اس کے چہرے پر کچھ بے چارگی ابھری

” یوں کہو اتنے کھانے کے پیسے بھرنا جیب کے لئے برا ہے ، لیکن تم خود مجھے۔۔۔۔۔ “

” ٹھیک ہے ۔۔۔۔ چلو ” سنان نے گھبرا کر ٹرالی گھسیٹی جب تیزی میں وہ ٹرالی اچانک سامنے آنے والے سے زور سے ٹکرائ ، وہ یکدم بوکھلایا

” آئ ایم سوری۔۔۔۔۔ “

“بانو آپا۔۔۔۔۔”

معطر پریشانی سے آگے کو ہوئ ، سنان کے باقی الفاظ زبان میں رہ گئے

” آپ ٹھیک ہیں ؟”

” دیکھ کر نہیں چل سکتے لڑکے ؟”

وہ گھٹنا پکڑے کراہ رہی تھیں ، سنان کو شدید شرمندگی ہوئ

” آئ ایم سوری آنٹی ۔۔۔۔میں نے دیکھا نہیں “

” آنٹی کس کو کہہ رہے ہو ؟”

وہ مزید سیخ پا ہوئیں ، وہ مزید گھبرایا ، معطر نے بمشکل مسکراہٹ ضبط کی

” آپ۔۔۔۔”

” سنان کی غلطی نہیں ہے ، آپ اچانک آئ تھیں سامنے “

اب کہ بانو آپا چونکیں ، غور سے سامنے ٹھہرے لڑکے کو دیکھا ، اونچا لمبا قد ، روشن پیشانی ، آنکھوں کی نرمی اور پشیمانی ، ہینڈسم ، اور پیارا سا سنان

” تم سنان ہو ؟”

” جی ۔۔۔ آپ جانتی ہیں مجھے ؟”

وہ حیران ہوا

” صرف جانتی ہی ہوں۔۔۔ معطر مجھے بٹھاؤ کہیں ، اللہ میرا گھٹنا ، سامان لینے آ گئ سوچا تمہاری جاب کی جگہ بھی دیکھ لوں گی “

وہ گھٹنا پکڑے مسلسل کراہ رہی تھیں ، سنان کو مسلسل شرمندگی ہورہی تھی ، وہ لوئ کو ساتھ لیتا کاؤنٹر تک آیا اور سارا سامان وہاں رکھا

” اس پر میری آدھی سیلری خرچ ہوجائے گی لوئ “

دانت پیستے سامان کو دیکھا

” باقی آدھی سے تم ایک ماہ گزارہ کرلو گے ، کچھ نہیں ہوتا “

” تم نے تو رضاکارانہ مدد کی پیشکش نہیں کی تھی ؟”

اس نے ایک نظر معطر پر ڈالی ، بانو آپا کرسی پر بیٹھی تھیں ، شرمندگی مزید بڑھ گئ

” یہاں آنے کا فیصلہ تمہارا تھا ، دیکھو میں اپنے دل کو روک سکتی ہوں ، زبان اور ہاتھ کو نہیں ، تم مجھ سے یہ توقع کیسے رکھ سکتے ہو کہ میں کسی کھانے کی چیز کو دیکھوں اور میرا ہاتھ اسے اٹھائے نا ؟”

” تم پر بھروسہ کرکے غلطی کی میں نے ، بچاری خاتون زخمی ہو گئیں “

” آنٹی نہیں کہو گے ؟”

وہ بتیسی نکالتے مسکرائی، سنان نے گھور کر اسے دیکھا پھر سامان پکڑتے کارڈ لڑکے کو دیا

” چلو اب ان کی خیریت پوچھیں “

” وہ تمہیں ڈانٹیں گی “

” برحق ڈانٹیں گی ، میں کتنا شرمندہ ہورہا ہوں تم سوچ بھی نہیں سکتیں”

وہ بیگ پکڑے اسٹور کی سائیڈ پر آیا

” آپ کو زیادہ چوٹ لگی ہے تو ہوسپٹل چلیں ؟”

” نہیں سنان۔۔۔۔۔”

وہ جو کچھ کہنے لگی تھی بانو آپا کی آواز پر الفاظ زبان پر ہی رہ گئے

” تم اب مجھ پر اپنی امیری کا رعب جما رہے ہو ؟”

” نہیں۔۔۔۔۔”

وہ مزید بوکھلایا ، معطر کو بے چارے پر ترس آنے لگا

” آپ جائیں سنان ۔۔۔۔ میں دیکھ لوں گی “

” یہ کیوں جائے گا ، تم رکو یہیں پر اور تم لڑکے مجھے اپنی گاڑی میں گھر چھوڑ دو میرے ، گاڑی ہے نا تمہارے پاس ؟”

اس نے تیزی سے سر ہلایا ، معطر کچھ متذبذب سی بانو آپا کو دیکھنے لگی

” کیا لینے آئ تھیں آپ ؟”

” لسٹ کاؤنٹر پر رکھی ہے ، واپسی پر لیتی آنا ، ہاتھ دو مجھے “

اس نے آگے بڑھتے ان کا ہاتھ تھاما ، سہارا دے کر انہیں اٹھایا ، سنان چہرے پر ڈھیروں شرمندگی لئے خاموشی سے انہیں دیکھتا رہا ، پھر لوئ کا سامان اٹھایا اسے آگے جانے کا اشارہ کرتے پارکنگ کی طرف گیا اور گاڑی کا دروازہ کھولا

” آپ کمفرٹیبل رہیں گی میرے ساتھ ؟ “

” بیٹے کی عمر کے ہو تم میرے “

ناک بھوں چڑھاتے وہ پیچھے بیٹھیں

” نہیں ایکچولی مجھے لگا شاید معطر ساتھ جانا چاہیں تو “

” یہ بچی جا تو رہی ہے “

وہ لوئ کا کہہ رہی تھیں اس نے سر ہلادیا ، دروازہ بند کرتے لوئ کا سامان پیچھے رکھا اور پھر معطر تک آیا

،” سریسلی میں بہت زیادہ شرمندہ ہوں ، میرا ارادہ انہیں چوٹ پہچانے کا نہیں تھا “

” اٹس اوکے سنان۔۔۔ وہ ٹھیک ہیں “

وہ نرمی سے مسکرائ تو سنان سر جھٹکتے گاڑی کی طرف بڑھا ، گاڑی سٹارٹ کرتے لوئ کو سیٹ بیلٹ لگانے کا کہا اور اسے دیکھتے ہلکا سا مسکراتے گاڑی سٹارٹ کردی ، ، معطر ان کی گاڑی کو غائب ہوتے دیکھتی رہی پھر سر جھٹکتے اندر بڑھی، پیچھے سے کوئ ورکر ڈانٹ کر اسے بلا رہا تھا ، کبھی کبھی وہ سوچتی تھی سنان اتنا اچھا کیوں تھا ؟

” نمبر کیا ہے تمہارا ؟”

ان کی گاڑی کی طرف واپس آؤ تو بانو آپا سنان سے پوچھ رہی تھیں

” موبائل نمبر ؟”

” ظاہر ہے۔۔۔ خاندان نمبر تو پوچھنے سے رہی میں “

وہ چڑ گئیں ، سنان نے بے ساختہ لوئ کو دیکھا ، وہ ہنسی ضبط کرنے کی چکر میں سرخ ہورہی تھی ، گہری سانس لیتے اس نے اپنا نمبر بتانا شروع کیا ، اسے پہلے ان خاتون کو فنسبری پارک چھوڑنا تھا پھر لوئ کو گھر اور پھر ۔۔۔۔ اپنے اپارٹمنٹ میں بیٹھ کر اپنی ڈائری پر آج کی ملاقات کا قصہ لکھنا تھا ، لبوں پر مسکراہٹ ابھری ، اس نے وہ چھپانے کی کوشش نہیں تھی

ہاں ٹھیک ہے اب وہ یاد آتی تھی تو مسکراہٹ خودبخود چہرے پر آجاتی تھی ، تو وہ کیا کرے ؟

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

ایرک کے پیچھے سے گزرتا رائن لمحہ بھر کو رکا ، اس کے پیچھے ٹھہرتے موبائل کو غور سے دیکھا

” تم معطر کو سٹالک کررہے ہو ؟”

ایرک نے جھٹ موبائل نیچے کیا پھر سر گھما کر اسے گھورا

” کتنے بد اخلاق ہو تم “

” کتنے اخلاق والے ہو تم جو یہ کہہ رہے ہو “

وہ اس کے سامنے والی کرسی پر آ بیٹھا ، فری پیریڈ چل رہا تھا تو وہ دونوں کینٹین میں تھے

” کسی کے موبائل میں تانک جھانک نہیں کرتے “

“لیکن کسی کی زندگی میں ضرور کرتے ہیں ۔۔۔۔ اس کی آئ ڈی کیوں سٹالک کررہے ہو ؟”

” میں نے تم سے پوچھا کہ تم نینسی کے ڈیپارٹمنٹ ہر روز کیا کرنے جاتے ہو ؟”

” یعنی تم اسی نیت سے معطر کی آئ ڈی سٹالک کررہے ہو جس نیت سے میں نینسی کے ڈیپارٹمنٹ جاتا ہوں “

ایرک اب سامنے رکھا برگر کھارہا تھا

” کس نیت سے ؟”

رائن مسکراتے ہوئے سیدھا ہوا

” محبت ہوگئ ہے نا معطر سے ؟”

برگر ایرک کے منہ میں پھنس گیا ، زور سے کھانستے اس نے پانی کا گلاس اٹھایا اور غٹاغٹ پی گیا

” یہ کھانسی بروقت آئ ہے “

رائن پیچھے کو ہوتا محظوظ سا مسکرارہا تھا ، ایرک نے سرخ پڑتا چہرہ اٹھا کر اسے گھورا

” بکواس بند کرو اپنی “

” محبت بکواس شے ہے ؟”

” تمہارے منہ سے نکلتی ہے تو بکواس لگتی ہے “

” میرے منہ سے تمہارے لئے یہ بات نکلتی ہے تو تمہیں زیادہ بکواس لگتی ہے “

” تمہیں لگتا ہے مجھے …” سینے پر انگلی رکھی ” مجھے ۔۔یعنی ایرک کو کسی سے محبت ہوسکتی ہے ؟”

” ہو گئ ہے۔۔۔۔”

” میں تمہارا منہ توڑ دوں گا “

” میں دعا کروں گا تمہارا دل نا ٹوٹے “

ایرک واقعی مکا بناتا اس کے منہ کی طرف لے جارہا تھا جب اس کا موبائل بجا ، مکا بنتا ہاتھ مٹھی بنا پھر نیچے آ گرا

” معطر کی کال آرہی ہے ، اٹھا لو “

رائن ایک بار پھر تپانے والے انداز میں مسکرایا

” میں نہیں اٹھاؤں گا “

اس نے گلاس لبوں سے لگایا

” پکا ؟”

” تم دفع کیوں نہیں ہوجاتے رائن ؟”

” تاکہ تم اس کی کال اٹھا سکو ؟”

” تاکہ میں تمہارا منہ نا توڑ دوں “

رائن کاندھے اچکاتے وہیں بیٹھا رہا ، ایرک کی نظر موبائل پر گئ پھر رائن پر ،پھر موبائل پر اور وہ موبائل اٹھاتا جھٹکے سے اٹھا ، کال اٹھاتے کان سے لگائ پیچھے اسے رائن کا قہقہ صاف سنائ دیا تھا

” ہیلو ایرک ؟”

” کہو۔۔۔”

موبائل کان سے لگائے وہ ریلنگ سے ٹیک لگا گیا ، ایک ہاتھ جیب میں ڈال لیا

” تمہارے پاس میری بالی ہے کان کی ؟”

” کون سی ؟ اور میرے پاس کیوں ہوگی ؟”

” اللہ جی ۔۔۔ پتا نہیں کدھر گئ ، اس دن تمہارے کلچرل ایونٹ پر پہن کر گئ تھی وہیں گم ہوگئ شاید “

” وہاں نہیں ہوئ ، تم نے واپسی پر پہن رکھی تھی “

” وہیں ہوگی ۔۔۔ تم نے غور سے نہیں دیکھا ہوگا “

” میں نے غور سے ہی دیکھا تھا معطر ، میں نے تمہیں غور سے ہی دیکھا تھا “

وہ سر جھکا کر پاؤں کو دیکھ رہا تھا ، معطر نے اس کی بات دھیان سے نہیں سنی تھی

” تم وہاں جا کر دیکھ سکتے ہو ؟ کیا معلوم وہیں کہیں ہو ، اسی گارڈن میں ، کسی عملے سے پوچھ لینا ، تمہاری یونیورسٹی والے تھے تو شاید کسی کو علم ہو “

” وہ اب تک وہاں ہوگی ؟”

” وہ میرے لئے قیمتی تھی ، اچھا ٹھیک ہے میں اسے خود ڈھونڈ لوں گی “

” میں دیکھوں گا “

” نہیں، میں۔۔۔۔”

” میں دیکھ لوں گا معطر ، انفیکٹ میں ابھی کسی کام سے وہیں جارہا تھا تو تمہارا کام کردوں گا “

” پکا ؟”

” ہاں۔۔۔۔”

” اوکے ۔۔۔ شکریہ۔۔۔۔”

کال کٹ ہوگئ ، وہ سر اٹھاتا اردگرد دیکھتا اسٹیشن کی طرف بڑھا ، ویسے تو وہ مصروف تھا ، اسے کچھ کام بھی کرنے تھے لیکن فلوقت وہ کچھ فارغ تھا ، تو کوئ مضائقہ نہیں ، کاندھے اچکائے

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

” آپ نے کل رات دوائ نہیں لی تھی بابا ؟”

افسوس سے ہلاتے اس نے سامنے بیٹھے افتخار صاحب کو دیکھا ، وہ آنکھوں پر نظر کا چشمہ لگائے اخبار پڑھ رہے تھے ، سفید شلوار قمیص پر سیاہ سوئیٹر پہن رکھا تھا ، پہلے سے زیادہ کمزور نظر آتے تھے ، ان کے پیچھے کھڑکی کا پٹ آدھا کھلا تھا ، جہاں سے برآمدہ نظر آتا تھا ، برآمدے کے ساتھ جامن کا درخت تھا جس پر پنجرہ لٹکا تھا ، اس میں سبز طوطے مسلسل آوازیں نکال رہے تھے

” ختم ہوگئ تھی ، کیسے لیتا ؟”

” میں نئ دوائ لے آیا تھا کل دوپہر ہی “

” مجھے کسی نے بتایا ہی نہیں”

” آپ کی بیڈ سائیڈ ٹیبل پر رکھی تھی “

” نظر نہیں آئ “

” آپ اب جھوٹ بولیں گے ؟””

” تم بول سکتے ہو ۔۔۔ میں نہیں بول سکتا ؟”

” میں نے کیا جھوٹ بولا ہے ؟”

وہ ساری دوائیاں چیک کررہا تھا ، یہ معطر کی ذمہ داری تھی ، پھر مبشرہ کی ،لیکن اس کے پیپر ہورہے تھے تو دماغ گھوما ہوا تھا ، امی کو دوائیوں کی سمجھ نہیں آتی تھی ، اسے ہی دھیان رکھنا پڑے گا اب

” معطر وہاں ٹھیک نہیں ہے نا دانیال ؟”

دانیال نے سر اٹھا کر انہیں دیکھا ، پھر اس کی نظر اخبار پر گئ ، اسے اب دھیان آیا تھا وہ کوئ انگلش اخبار پڑھ رہے تھے

” یہ خبر آپ نے اخبار میں پڑھی ہے ؟”

” یہ خبر میرا دل دے رہا ہے”

” آپ کا دل غلط خبر دے رہا ہے ، وہ ٹھیک ہے ،خوش ہے ،کل اس نے اپنی تصویر بھی بھجی تھی ، وہ ہنس رہی تھی “

” تمہیں لگتا ہے جو ہنس رہا ہو وہ روتا نہیں ہے ؟”

” مجھے لگتا ہے رونے والے لوگ ویسے نہیں ہنستے جیسے وہ ہنس رہی تھی “

” لوگ اچھے اداکار ہوتے ہیں ان کے چہروں سے دھوکہ مت کھایا کرو ،جس کا دل ٹوٹا ہوا ہو اور وہ تم سے کہے کہ وہ روتا نہیں وہ جھوٹ بولتا ہے ، معطر بھی جھوٹ بولتی ہے ، اسے بچپن سے خود کو خوش دکھانا آتا ہے جبکہ اس کا دل زخمی ہوتا ہے”

دانیال انہیں دیکھ کررہ گیا

” وہ ٹھیک ہے بابا “

” جو کچھ تیمور نے کیا اس کے بعد بھی ؟”

لمحہ بھر کو اس کا دل رک گیا ، اس نے اپنی آخری حد تک کوشش کی تھی کہ انہیں علم نا ہو لیکن پھر بھی ، پھر بھی وہ جانتے تھے ؟

” آپ جانتے ہیں ؟”

” ہاں۔۔۔۔۔”

دانیال کے شانے ڈھیلے پڑے ، یعنی وہ سب جانتے تھے ،ہمیشہ سے جانتے تھے ، امی بھی جانتی تھیں ، اور وہ سوچتا رہا وہ معطر کا بھرم قائم رکھنے میں کامیاب ٹھہرا تھا

” وہ جھوٹ بول رہا ہے”

” میں نے تم سے اپنی بیٹی کے کردار کی گواہی نہیں مانگی “

” پھر کیا چاہتے ہیں ؟”

” اس سے کہو واپس آ جائے “

” کس چیز سے ڈر رہے ہیں ؟ بدنامی سے یا معطر کی وجہ سے بدنامی سے ؟”

” صرف معطر کے لئے ڈر رہا ہوں دانیال ۔۔۔۔” انہوں نے اخبار رکھ دیا ، صحن کے پنجرے میں بیٹھے طوطے آوازیں نکال رہے تھے ” وہ میری وجہ سے اس سب کا حصہ بن گئ ہے ، اس سے کہو واپس آجائے “

” آپ جانتے ہیں بابا وہ نہیں آئے گی “

” تم کوئ جھوٹ بول دو ۔۔۔”

” کیا ؟”

” کہہ دو میری طبیعت خراب ہے “

” وہ یہ سن کر اپنا کام بڑھا دے گی تاکہ آپ کا علاج کروا سکے “

” تم اس سے کہو میں آخری سانسیں لے رہا ہوں ۔۔۔۔”

” بابا۔۔۔۔”

دانیال کی آواز صدمے سے پھٹ گئ

” اس سے یہ کہو گے تو واپس آ جائے گی “

وہ لاچار نظر آنے لگے

” ہم آپ کو بچانے کے لئے مر رہے ہیں بابا ، وہ وہاں پردیس میں ،میں یہاں دیس میں ، آپ اتنی آسانی سے یہ کیسے کہہ سکتے ہیں ؟”

اس کے چہرے پر کسی نے زندگی کے آخری سانس ڈال دیئے تھے ، ضبط سے ، دکھ سے ، خوف سے سفید پڑتا چہرہ ، افتخار صاحب چند لمحے اسے دیکھتے رہے پھر انہوں نے کرسی پر پیچھے کو ٹیک لگائ

” مجھے دو ماہ اور بیس دن ہوگئے ہیں اسے سامنے دیکھے ہوئے ، یہ اذیت ہے ، وہ دو ماہ بیس دن میری وجہ سے میرے سامنے نہیں ہے ، یہ اس سے زیادہ اذیت ہے ، تیمور اس پر میری وجہ سے الزام لگا رہا ہے ، یہ ہر شے سے زیادہ اذیت ناک ہے ، تم دونوں مجھے کیوں وقت سے پہلے مار نا چاہتے ہو ؟”

دانیال دکھ سے انہیں دیکھتا رہا

” جس دن میں نے اسے یہ کہا وہ اس دن آپ کے ساتھ مر جائے گی “

افتخار صاحب کے چہرے پر تکلیف ابھری ، رخ موڑے وہ پرندوں کو دیکھ رہے تھے

” اس سے کہو وہ واپس آ جائے دانیال ، میں ہر شے برداشت کرسکتا ہوں لیکن وہ میری وجہ سے اذیت سے گزرے یہ نہیں “

” وہ وہاں ٹھیک ہے “

” تمہیں لگتا ہے تم مجھے بہلا لو گے ؟”

” وہ سچ میں ٹھیک ہے ، جو کچھ تیمور نے کیا اس کے بعد وہ پہلے سے زیادہ مضبوط بن گئ ہے “

” وہ کسی دن کچی دیوار کی طرح ڈھے جائے گی “

” وہ کچی دیوار نہیں ہے بابا “

” لڑکیاں ہوتی ہیں۔۔۔۔ تم سوچتے ہوگے وہ مضبوط ہے ،میں اسے تم سے زیادہ جانتا ہوں ، مجھے نا تیمور کی پرواہ ہے نا دنیا کی ، مجھے بس اپنے بچوں کی فکر ہے ، بچوں میں سب سے زیادہ معطر کی ، وہ دور ہے تم نزدیک ہو “

وہ ان سے کہہ نا سکا معطر سے زیادہ انہیں ان کی ضرورت تھی ، وہ دور تھی تو ان کی اذیت نہیں دیکھ سکتی تھی ، وہ دور تھی تو نہیں جانتی تھی ان دو ماہ میں کتنی بار وہ اکیلا آدھی رات کو انہیں ہوسپٹل لے کر گیا تھا ، اسے بھی سہارے کی ضرورت تھی ، اسے ان کی ہمت کی ضرورت تھی ،لیکن ماں باپ ان بچوں کی اذیت زیادہ سمجھتے ہیں جو دور ہوں اور جو نزدیک ہوں ؟

” میں اس سے کہوں گا وہ واپس آجائے “

اس نے بہت آہستہ سے کہا تھا ، افتخار صاحب نے رخ موڑ کر اسے دیکھا

” وہ جس دن آئ اسی دن ہم یہ شہر چھوڑ دیں گے “

” آپ بدنامی سے ڈر رہے ہیں نا ؟”

” ہاں۔۔۔ معطر کی بدنامی سے “

” آپ نے ہمیں بہادری سکھائ ہے “

” تمہیں بہادری سکھاتے سکھاتے میں بزدلی کا سبق یاد کر بیٹھا ہوں ، میں اب مزید یہ سب برداشت نہیں کرسکتا دانیال ، اس سے کہو واپس آ جائے تاکہ ہم سب یہاں سے چلے جائیں ، میں اپنا حق اپنے بچوں کی خاطر چھوڑ دوں گا “

انہوں نے رخ واپس پرندوں کی طرف کرلیا ، وہ سر جھکائے دوائیاں گنتا رہا ، سر اٹھاتا تو وہ اس کی نم آنکھیں دیکھ لیتے ، وہ مرد تھا اسے رونا نہیں تھا ، پر دل کے جو ٹکڑے ہورہے تھے وہ ؟

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

دروازہ کھلا تو سنان نے سلام کرتے ہوئے ہاتھ میں تھاما پھولوں کا گلدستہ جھجک کر ان کی طرف بڑھایا

” وعلیکم السلام ۔۔۔ اندر آؤ “

وہ سر ہلاتے ان کے پیچھے بڑھا ، باہر بارش ہورہی تھی تو اس نے چھاتا تھام رکھا تھا ، جینز پر سفید شرٹ اور نیلا کوٹ پہن رکھا تھا ، اندر آتے چھاتا لاؤنج میں رکھا اور اردگرد دیکھا ، سلیقے سے سجا ہوا چھوٹا سا گھر جو افراد خانہ کی ضرورت کے لئے کافی تھا

” بیٹھو۔۔۔ چائے پیو گے یا کافی ؟”

” تکلف مت کریں “

” میں اپنے لئے چائے بنا رہی ہوں ، تمہارے لئے بھی “

وہ اس کی بات نظر انداز کرتی کچن میں گئیں ، پانی پہلے ہی چڑھا رکھا تھا ، دودھ ڈالا ، چائے کے کپ بنائے اور اس تک آئیں تو وہ جو بیٹھا ہوا تھا انہیں آتا دیکھ بے ساختہ اٹھا

” معطر کو بتا کر آئے ہو ؟”

کپ اس کی طرف بڑھاتے وہ سامنے والے صوفے پر بیٹھ گئیں ، سادہ سے سفید شلوار قمیص پر سوئیٹر پہن رکھا تھا ، سنان نفی میں سر ہلاتا دوبارہ بیٹھا

” آپ نے منع کیا تھا “

” مجھے اچھا لگا کہ تم نے میری بات مانی …” چائے کا گھونٹ بھرتے غور سے سنان کو دیکھا ” کب سے ہو یہاں ؟”

” تقریباً چار سال سے “

” پڑھنے آئے تھے ؟”

” جی ۔۔۔ ایم بی اے کرنے “

” اب کیا کرتے ہو ؟”

” جاب ۔۔۔۔”

اس نے کپ لبوں سے لگا پھر بمشکل گھونٹ حلق سے اتارا ، چائے بہت زیادہ میٹھی تھی

” واپس کیوں نہیں گئے ؟”

” جاب ایکسپریئنس حاصل کرنا چاہتا تھا ، پاکستان میں اپنا بزنس شروع کرنے کرنا چاہتا ہوں تو اسی لئے یہاں رہ کر کچھ عرصہ سیکھنا چاہتا تھا “

وہ سمجھ نہیں سکا اس گفتگو کا مقصد کیا تھا ، نا وہ اس ملاقات کا مقصد سمجھ سکا تھا ، بانو آپا کی کال غیر متوقع تھی ، وہ اس سے ملنا چاہتی تھیں اور یہ بھی چاہتی تھیں کہ اس ملاقات کا علم معطر کو نا ہو ، اس لئے وہ چن کر اسی وقت آیا تھا جب اسے معلوم تھا کہ معطر سٹور پر ہوگی

” یعنی ویل سیٹلڈ ہو ؟”

اب کہ اس نے بس سر ہلادیا ، چائے ہاتھ میں تھی ، اتنا میٹھا وہ نہیں پی سکتا تھا

” معطر کو کیسے جانتے ہو ؟”

” کسی دن یوں ہی سڑک پر ملاقات ہوئ تھی “

” تم ہر سڑک پر مل جانے والی لڑکی کو چوڑیاں دے دیتے ہو ؟”

لہجہ چبھتا ہوا تھا ، وہ کچھ دیر کو چپ رہ گیا

” ان کی چوڑیاں لوئ کی وجہ سے ٹوٹی تھیں “

” وہ بچی ؟ کیا لگتی ہے تمہاری ؟”

” پڑوسی کی بیٹی ہے “

اس نے بے چینی سے پہلو بدلا ، معلوم نہیں گفتگو کس سمت جارہی تھی لیکن اس کے دل میں کچھ کھٹک رہا تھا

” پھر اس سے ٹوٹنے والی چوڑیاں تمہاری ذمہ داری تو نہیں تھیں “

وہ اس بار کچھ زیادہ دیر خاموش رہا

” مجھے ان کی خالی کلائیاں پسند نہیں آئ تھیں “

لہجہ دھیما ہوگیا ،بانو آپا خاموشی سے اسے دیکھتی رہیں

” محبت کرتے ہو اس سے ؟”

سنان کچھ دیر کپ کو دیکھتا رہا پھر اس نے کپ میز پر رکھ دیا

” اگر یہ محبت سے کچھ زیادہ ہوتا تو میں وہی کہتا لیکن یہ محبت ہی ہے “

پتا نہیں وہ کیوں اظہار کر گیا تھا ، بانو آپا نے اس کا نظریں چراتا چہرہ دیکھا پھر رخ موڑ کر لاؤنج میں لگی تصویر کو ، وہ کچھ دیر چپ چاپ تصویر دیکھتی رہیں

” میری محبت کی شادی تھی ۔۔۔۔” سنان نے بے ساختہ انہیں دیکھا ، وہ رخ موڑے سیڑھیوں کے ساتھ والی دیوار کو دیکھ رہی تھیں ، اس کی نظر ان کے تعاقب میں گئ ، خوش شکل سے نوجوان کی پرانی تصویر وہاں سامنے چسپاں تھی” وہ افسانوی قصوں جیسا شخص تھا ،میں کسی گاؤں کی ہیر ، ہم نے شادی کرلی ، میں ہیر ہی رہی وہ بدل گیا ” ان کا لہجہ ٹوٹ گیا ، سنان بس خاموشی سے سنتا رہا ” وہ بدل گیا ، میرے لئے پھر بھی وہی رہا ، محبت کرتا تھا کافی تھا ، عزت دیتا تھا بہت تھا ، جس دن زندگی میں پہلی بار اس نے مجھے ” تو” کہہ کر بلایا میں نے جان لیا اس نے عزت کرنا چھوڑ دی ہے ، جس دن پہلی بار اس نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا میں نے جان لیا اس نے محبت کرنی بھی چھوڑ دی ہے ” رخ واپس سنان کی طرف موڑا ، آنکھیں بے تاثر تھیں

” مرد بدل جاتے ہیں سنان ، محبت کا دعویٰ کرنے والے مرد بھی بدل جاتے ہیں اور تم میرے سامنے بیٹھ کر کہتے ہو کہ تم اس سے محبت کرتے ہو ؟”

” میں بدل جانے والوں میں سے نہیں ہوں “

” ہر مرد یہی کہتا ہے “

” ہر مرد سنان سعدی نہیں ہوتا “

” ہر عورت معطر صبا ضرور ہوتی ہے ، تم اسے توڑ دو گے جس طرح تیمور نے توڑا تھا ، اس کی ماں نے مجھے بتایا تھا ، میں اب اس بچی کا دل دوبارہ نہیں ٹوٹنے دینا چاہتی “

” میرے لئے ہر عورت معطر صبا نہیں ہے ” اس کا لہجہ اب بھی دھیما تھا ، نا کوئ خفگی نا کچھ اور ” وہ ایک ہی ہیں ، ایک ہی رہیں گی “

” کب تک دعویٰ نبھاؤگے ؟”

” جس دن اس جسم سے روح نکلی اس دن تک وہ میرے دل میں موجود واحد عورت رہے گی “

وہ پل بھر کو بالکل چپ ہوگئیں پھر گہری سانس لی

” اور اگر تم نے بھی اس کا دل توڑ دیا ؟”

” میں تیمور حیدر نہیں ہوں آپا “

نرمی سے کہا تو جیسے ان کے اردگرد ہر الجھن ختم ہوگئ ، اعتراض بھرا ہر صفحہ خالی ہوگیا

” ابھی میرے سامنے کہا ہے ، اور پھر کسی دن تم اسے تیمور حیدر کے نام سے طعنے دو گے “

“وہ میرے لئے لکھی گئ ہوں گی تو میری عورت ہوں گی اور میں اپنی عورت کی عزت کرنا جانتا ہوں ، میں وہ نہیں ہوں جو انہیں ان کے ماضی کا طعنہ دے “

” تمہارے لئے یہ بات قابلِ اعتراض نہیں ہے کہ ایک کیفے میں ویٹرس ہے ؟”

خدشات تھے کہ ختم ہی نہیں ہوتے تھے

” میں نے معطر سے محبت کی ہے ، اس کے کام سے نہیں “

بانو آپا نے پرسکون سانس لی

” اب کیا کروگے ؟”

” میں انہیں پرپوز کرنا چاہتا ہوں اگر آپ اجازت دیں تو ؟”

” میری اجازت کا اس سب سے تعلق نہیں ہے ، لیکن میں چاہوں گی تم اسے ڈائریکٹ پرپوز کرنے کی بجائے اس کے گھر والوں سے اس کے رشتے کی بات کرو “

” معطر کی رضامندی کے بغیر ؟”

” وہ اپنے ماں باپ کے فیصلے پر راضی رہے گی ، لیکن تم وہ حماقت مت کرو جو میں نے کی تھی ، میں اس کی والدہ سے بات کروں گی تمہارے حق میں لیکن بہتر ہوگا تم خود اپنے فیملی سے بات کرکے معطر کے گھر رشتہ بھیجو “

وہ کچھ دیر سوچتا رہا پھر سر ہلایا

” آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں ،میں ویسے بھی پاکستان جانے کا سوچ ہی رہا تھا ، مجھے اپنی فیملی سے بات کرنی چاہئے ، اس سے پہلے معطر سے بات کرنا حماقت ہوگی “

” تمہارے گھر والے منع کردیں گے ؟” وہ ٹھٹکیں

” نہیں۔۔۔ بالکل نہیں ، مجھے بس انہیں اعتماد میں لینا ہے “

” یہ مناسب رہے گا “

اس نے سر ہلادیا پھر گھڑی پر وقت دیکھتے اٹھا

” آپ کا شکریہ کہ آپ نے مجھے سنا “

انہوں نے سر ہلایا پھر اس کے ساتھ اٹھتے دروازے تک آئیں ، سنان لمحہ بھر کو دروازے پر رکا ، شاید وہ کچھ پوچھنا چاہتا تھا ، شاید وہ کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن پھر سر جھٹکا

” میں جلد پاکستان جانے کا کوشش کروں گا۔ “

” وہ نہیں پوچھو گے جو پوچھنا چاہتے ہو “

وہ انہیں دیکھتا رہا پھر ہلکا سا ہنسا

” دو سوال ہیں ۔۔۔۔ پوچھ لوں ؟”

” جواب پر منحصر ہے “

” ایک یہ کہ۔۔۔۔۔ معطر نے منع کردیا تو ؟”

کوئ خدشہ تھا ، کوئ ڈر تھا ، کوئ وہم تھا جو اس کی آنکھوں میں تھا ، بانو آپا ہلکا سا مسکرائ

” میں اس کے دل کا حال نہیں جانتی لیکن ۔۔۔۔ اگر تم اس کے پاس انتخاب کی صورت آئے تو وہ تمہیں ہی منتخب کرے گی ، یقین رکھو “

سنان کے چہرے پر سکون اترا پھر اس نے دنیا جہاں کی معصومیت چہرے پر سجائ

” دوسرا سوال پوچھ لوں ؟”

” تمہارے چہرے سے لگ رہا یہ سوال میرے متعلق ہے ، پوچھ سکتے ہو “

” آپ واپس پاکستان کیوں نہیں چلی جاتیں ؟”

بانو آپا اسے دیکھتی رہیں ، سنان کو لگا اس نے غلط سوال کیا ہے ، غلط وقت پر کیا ہے ، وہ اس غلطی کو درست کرنا چاہتا تھا ، منہ کھولا ہی تھا جب ان کی آواز آئ

” تم نے اس سوداگر کی کہانی سنی ہے جس کے پاس ایک طوطا قید تھا اور وہ سفر پر جاتے ہوئے اس سے پوچھ کر گیا تھا کہ وہ اس کے لئے کیا تحفہ لائے ، اس نے کہا کہ وہ اس کے دیس کے طوطوں کو بتائے کہ وہ وہاں آذادی سے سانس لے رہے ہیں جبکہ میں یہاں قید ہوں ، سوداگر نے ایسا ہی کیا ، لیکن ایک طوطا یہ سن کر برداشت نا کرسکا اور وہیں گرگیا ، سوداگر نے واپسی پر یہ بات اپنے طوطے کو بتائ تو وہ بھی صدمے سے مر گیا ، سوداگر نے اس کی لاش باہر نکال کر رکھ دی مر چکا طوطا اٹھ کھڑا ہوا اور اڑنے لگا ، سوداگر حیران ہوا ، یہ معجزہ تھا یا دھوکہ ؟ اس کے پرندے نے اسے بتایا یہ حکمت تھی ، گرنے والا پرندہ اسے اشارہ دے رہا تھا کہ وہ مرنے کا ناٹک کرے تو وہ رہائ پالے گا ، اس نے اسی پر عمل کیا اور اب وہ آزاد ہے ، کیا تم نے یہ داستان سن رکھی ہے سنان ؟” وہ سنان کو نہیں دیکھ رہی تھیں ، باہر کسی گھر کے باہر پنجرے میں اٹالین پرندے تھے ان کی نظر وہیں تھی ، سنان نے سر ہلادیا

” میں بھی قید وہی پرندہ ہوں ، میں نے کئ بار اپنے دیس کے لوگوں کو پیغام بھیجا ہے ، مجھے واپسی پر کسی پرندے نے آذادی کا طریقہ نہیں بتایا ، مجھے کسی نے نہیں بتایا کہ میرا تو پنجرہ کھلا ہوا ہے ، وہ میرے منتظر ہیں ، مجھے کوئ پیغام ہی نہیں ملا تو میں واپس کیسے جاؤں ؟ میں اسی دیس میں کسی دن مر جاؤں گی ، میرے لئے کوئ آذادی کا پیغام نہیں آئے گا ، تم دیکھو ایک محبت کی کیا سزا پائ ہے میں نے ؟”

ان کی آنکھوں کے کونے نم تھے ، آواز بے تاثر تھی ، سنان کتنی ہی دیر ساکت انہیں دیکھتا رہا ، کتنے ہی لمحے خاموشی کی نظر ہوئے پھر بانو آپا نے سر جھٹکتے اسے دیکھا

” یہ قید میری سزا ہے ، میں اس سزا پر راضی ہوں ، تم جاؤ شاید آج بارش نہیں رکے گی “

وہ آہستہ قدموں سے چلتے ہوئے اندر کی طرف بڑھ گئیں ، وہ ان کے قدموں کو دیکھتا رہا پھر گہری سانس لیتے اپنی کار کی طرف گیا

کچھ پردیسی صرف مر کر ہی قید سے رہائ پاتے ہیں

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

اکیس سالہ الارا گریس ( Alara Grace ) کنگز کالج لندن سے وکالت کی تعلیم حاصل کررہی تھی ، اس کے والد برطانوی پارلیمنٹ کے رکن تھے اور والدہ ایک این جی او چلاتی تھیں ، سرخ وسفید رنگت ، سنہرے بالوں اور نیلی آنکھوں والی الارا ملکوتی حسن رکھتی تھی ، اپنی یونیورسٹی میں مشہور اور اخلاقی لحاظ سے مشہور ترین طالب علم الارا سوشل ورکس میں سب سے آگے رہتی تھی

( اسلاموفوبیا ۔۔۔۔۔۔ دو لفظ اسلام اور فوبیا سے مل کر بنا ہے ، اسلام یعنی امن اور سلامتی ، اور فوبیا ایک یونانی لفظ ہے جو ڈر اور خوف کے معنی کے لئے استعمال ہوتا ہے ، ایک دوسرے سے الگ الگ مفہوم رکھنے والے ان دو حروف کو جب جوڑا جائے تو ان کا معنی بدل جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔ اسلاموفوبیا یعنی اسلام سے خوفزدہ ہونا )

الارا دنیا کے ان لوگوں میں سے تھی جو اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ بجائے کسی مسیحا کا انتظار کرنے کے ہمیں خود مسیحا بن جانا چاہئے ، وہ تبدیلی کے لیے کسی کی آمد کی منتظر نہیں رہتی تھی بلکہ خود تبدیلی لانے والا مسیحا بن جاتی تھی، وہ بلا امتیاز ہر مذہب کے لوگوں کی مدد کے لئے آگے رہتی تھی ،وہ ان لوگوں میں سے تھی جو نرم اور خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہوتے ہیں لیکن یہ ان کا نرم دل ہے جو انہیں خوبصورت بناتا ہے

( بعض مفکرین اسلاموفوبیا کو دور جدید کا مسئلہ بتاتے ہیں جبکہ بعض اسے صدیوں قبل صلیبیوں اور مسلمانوں کے درمیان ہونے والی جنگوں کے وقت کا مسئلہ بتاتے ہیں ، لیکن اگر ہم غور کریں تو کہیں نا کہیں یہ مسئلہ دنیا کے آغاز سے ہی موجود رہا ہے مختلف دور میں اس کے مختلف نام رہے ہوں گے مختلف صورتیں رہی ہوں گی لیکن یہ مسئلہ قدیم ہے ، نمرود کا اسلام سے خوفزدہ ہوکر حضرت ابراھیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالنا ، فرعون کا پیدا ہونے والے ہر بچے کو مارنے کا حکم دینا ، اور مشرکین مکہ کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسلام کا پیغام دینے پر پریشان کرنا، قدیم اسلاموفوبیا کی ہی ایک شکل تھی ، مختلف دور میں یہ مختلف شکل اور مختلف طریقوں میں رہا ہے لیکن۔۔۔۔ اسلاموفوبیا ہر دور کا مسئلہ ہے )

الارا گریس مسلمانوں کے خلاف تعصب میں اور اسلاموفوبیا کے خلاف مہم چلانے میں ہمیشہ آگے رہتی تھی ، اس کے دوستوں کا خیال تھا کہ وہ یہ سب اپنے قطری بوائے فرینڈ کو خوش کرنے کے لیے کرتی ہے جبکہ وہ ان باتوں کی پرواہ نہیں کرتی تھی ، وہ مذہباً ایک عیسائ تھی اور اسے نا کسی کو خوش کرنے کا شوق تھا نا خیال ، وہ اپنے مقاصد میں آگے بڑھنے اور راستے کی مشکلوں سے خوفزدہ ہونے والی لڑکی نہیں تھی ، اپنی دنیا میں گم رہنے والی مسکراتی الارا اپنے اردگرد کے لوگوں کے لئے ایک رول ماڈل تھی

( قدیم زمانے کے اسلاموفوبیا اور جدید زمانے کے اسلاموفوبیا میں فرق صرف چند باتوں کا ہے ، اس دور میں یہ خوف حکمرانوں میں زیادہ تھا ، موجودہ دور میں عوام میں زیادہ ہے ، بارھویں صدی میں لڑی جانے والی مسلمانوں کے خلاف جنگوں کا جواز پیش کرنے کے لئے غیر مسلم حکمرانوں نے اپنی عوام کو یہ جواز دیا کہ مسلمان دنیا میں دہ شت گردی اور فتنے کی وجہ ہیں لہذا ان کا خاتمہ اور ان کی اندر کی برائ کو دور کرنا ضروری ہے ، قدیم دور سے آغاز ہونے والے اس مسئلے نے آگے جا کر شدت اختیار کرلی ، مسلمانوں کے خلاف نفرت کی یہ مہم ہندوستان پر قبضے کے دوران مزید تیز کردی گئ )

15 جنوری 2025 کی صبح الارا معمول کے مطابق یونیورسٹی گئ ، کلاسسز لیں اپنے دوستوں کے ساتھ لنچ کیا اور گھر چلی گئ ، اگلے دن وہ یونیورسٹی نہیں گئ ، دوپہر تک اس کی دوستوں نے اسے کالز کیں لیکن اس نے کالز کا جواب نہیں دیا ، شام تک اس کے دوست اس کے اپارٹمنٹ گئے ، دروازہ لاکڈ تھا ، اسے توڑ کر کھولا گیا ، الارا اندر نہیں تھی ، اس کا اپارٹمنٹ مکمل خالی تھا ، اس کے جاننے والوں سے رابطہ کیا گیا ، ہر شخص سے معلومات لی گئیں اور ناکامی کے بعد پولیس میں رپورٹ درج کرادی گئ

( قدیم دور سے ہوتا یہ مسئلہ جدید دور میں بھی جوں کا توں رہا اور کئ لحاظ سے بڑھ بھی گیا لیکن مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تعصب اس وقت زیادہ ہوا جب نائن الیون کے واقع میں امریکہ میں تین ہزار کے قریب لوگ ہلاک ہوئے ، وہ وقت امریکہ کے لئے بدترین وقت تھا اور اس کے بعد کا وقت مسلمانوں کے لئے بدترین بن گیا ، امریکی حکومت کی جانب سے مسلمانوں پر الزام عائد کیا گیا ، زمانہ قدیم کی طرح اس بار بھی دہ شت گردی کا نام لے کر افغانستان پر جنگ مسلط کردی گئ ، ان سب میں دیگر مسلمانوں کے مشکلات بڑھ گئیں، انہیں ہر غیر مسلم ملک میں دہ شت گرد قرار دیا جانے لگا ، ان کے لباس کو دہ شت گردوں کا لباس کہا جانے لگا اور مسلمانوں کو ان کے مذہب کی بنا پر نفرت کا نشانہ بنایا گیا )

17 جنوری 2025 کو الارا کی لاش ازلنگٹن کے قریب سنسان گلی میں ڈسٹبن کے پاس سے ملی ، ابتدائی رپورٹ کے بعد پولیس نے اسے زیادتی کے بعد قتل کا کیس قرار دیا اور قاتل کی تلاش شروع کردی ، یہ واقعہ اس کی یونیورسٹی کے لئے دھچکے اور دکھ کا باعث تھا ، سٹوڈنٹس نے یونیورسٹی لیول پر احتجاج اور مظاہرے شروع کردیئے اور پولیس سے قاتل کی تلاش اور اسے انصاف کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ کیا جانے لگا

( نائن الیون کے بعد مسلمانوں کو اپنی شناخت غیر مسلم ممالک میں برقرار رکھنے کے لئے جدوجہد کرنا پڑی ، ان کے بچوں کو سکولوں میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا ، امریکہ میں غیر مسلم خواتین کے حجاب کو تنفر کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا ، فرانس میں ان کے حجاب پر پابندی لگا دی گئ ، اس واقعے کو مذہبی نقطہ نظر سے دیکھا گیا اور یہ تمام مسلمانوں کو اس کا قصوروار ٹھہرا دیا گیا ، ان سب میں غیر ملکی میڈیا میں مزید نقصان دہ کردار ادا کیا ، مسلمانوں کو اپنی فلمز میں شدت پسند اور دہ شت گرد قرار دیا گیا ، مسلمان ممالک کی پسماندگی کو ان کے مذہب کے ساتھ جوڑا گیا اور مسلمانوں پر زندگی مزید تنگ ہونے لگی )

ابتدائی تحقیقات کے بعد پولیس نے الارا کے مسلمان بوائے فرینڈ حامد رئیسی کو گرفتار کیا جسے آخری بار الارا کے اپارٹمنٹ جاتے دیکھا گیا تھا ، یہ خبر اخبارات سے ٹی وی چینلز پر چلنے گی ، مظاہرے یونیورسٹی سے پھیل کر شہر اور پھر ملک بھر میں پھیل گئے ، جو قتل پہلے عام تھا وہ اب خاص بن گیا ، معاملہ قتل سے شروع ہوتے اسلاموفوبیا تک پہنچ گیا ، احتجاجی مظاہروں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانیے دیئے گئے اور حامد رئیسی کو فوری سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا

( ان سب معاملات میں مسلمان ممالک کی خاموشی نے غیر مسلم ممالک کے پروپیگینڈے سے زیادہ برا کردار ادا کیا ، نامناسب اقدامات اور صرف مذمتی بیانات پر اکتفاء کرنے کی وجہ سے یہ مسئلہ جوں کا توں موجود ہے اور دن بدن مزید شدت پکڑ رہا ہے ، مسلمان ممالک غیر مسلم حکمرانوں کی حرکتوں پر اور بیانات پر خاموش ہیں ، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے اسلاموفوبیا کا دن مقرر کرنے کے بعد بہت معمولی سطح پر اس کے خلاف تقریبات کو کافی سمجھ لیا گیا ہے اور مسلمانوں کو لگتا ہے انہوں نے اپنی زمہ داری پوری کردی ، نا مناسب اقدامات کی وجہ سے غیر مسلموں کا اسلام کو لے کر رویہ دن بدن بدتر ہوتا جارہا ہے ، غیر مسلم یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ دہ شت گردی کا کوئ مذہب نہیں ہوتا ، وہ یہ بات سمجھنے سے بھی قاصر ہیں کہ جو اسلام ایک جان چاہے وہ غیر مسلم کی ہی کیوں نا ہو اسے پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے وہ اسلام ظالم کیسے ہوسکتا ہے ؟)

یونیورسٹی میں شروع ہونے والا مظاہرہ جلد وکلاء برادری اور پھر سوشل ورکرز اس کے بعد لندن سے پھیل کر پورے ملک میں شروع ہوگیا ، برطانیہ میں موجود مسلمانوں کے لئے حالات تنگ سے مزید تنگ ہوگئے ، پبلک پلیسز پر سر عام مسلمانوں کے خلاف باتیں اور اقدامات ہونے لگے ، ورکنگ پلیسز پر انہیں ہتک کا نشانہ بنایا جانے لگا اور یہ سب آغاز تھا ، ایک بڑی تباہی سے پہلے کا آغاز !

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆