192.3K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Laa (Episode 7)

Laa By Fatima Noor

چائے کا مگ میز پر رکھتے ہوئے اس نے لیپ ٹاپ سامنے کیا ، اسے ای میل بھیجنی تھی ، پھر گھر فون کرنا تھا ،پھر نماز پڑھنی تھی اور پھر سوجانا تھا ، روز کی روٹین ، روز کا معمول ، چند منٹ مزید سرکے اور اس نے لیپ ٹاپ بند کرتے ہوئے ہاتھوں کو سیدھا کرتے کرسی سے ٹیک لگائ ، سامنے کھلا آسمان تھا ، ازلنگٹن میں سردیوں کا آغاز ہوچکا تھا اور مزید بڑھنے کا امکان تھا ، اسے یہاں کی سردیاں پسند نہیں تھیں ، اسے شاید ازلنگٹن ہی پسند نہیں تھا ، پچھلے ایک برس میں وہ کئ بار واپس جانے کا سوچ چکا تھا ، یہاں اب بے زاریت ہوتی تھی ، اب بھی ہورہی تھی ، چائے کا مگ اٹھاتے ہوئے اس کی نظر ڈائری پر گئ ، وہ تھوڑی دیر پہلے چائے بنانے گیا تھا تو وہ ڈائری لکھ رہا تھا ، ہاتھ بڑھاتے ہوئے اس نے سرخ کور والی ڈائری اٹھائ ، سامنے چند دن پہلے کی تحاریر لکھی ہوئ تھیں ، اس نے بے اختیار پچھلا صفحہ پلٹایا

سنان سعدی خان !

تاریخ : یکم نومبر 2025 !

مقام : برطانیہ ، ازلنگٹن !

یہ چوتھا دن ہے اور میں دوسرے دن ہی اس سے تنگ آگیا تھا ، بچے پیارے ہیں لیکن تب تک جب تک تنگ نا کریں ، اور لوئ تنگ کرتی ہے ، جیسے آج کچھ زیادہ ہی کردیا تھا ۔۔۔۔مجھے بھی اور

وہ مشرق سے تھی ، اس نے چوڑیاں پہن رکھی تھیں ، جانے مجھے ان چوڑیوں نے متوجہ کیا تھا ، ان کے ٹوٹنے نے یا اس کے ان چوڑیوں کے ٹوٹنے پر غمگین ہونے نے ، اسے چوٹ لگی تھی ، اس کی چوڑیاں ٹوٹی تھیں ، اسے غم چوڑیوں کا تھا ، چوٹ کا نہیں

وہ ایک دلچسپ لڑکی تھی اور میں اس سے دوبارہ ملنا چاہوں گا

اس کا ہاتھ میکانکی انداز میں اگلے صفحے کی طرف بڑھا

سنان سعدی خان

تاریخ: 2 نومبر ، 2025

مقام برطانیہ ، ازلنگٹن !

دوسری ملاقات !

وہ پاکستان سے ہے , وہ پاکستان میں لاہور سے ہے , مجھے حیرت اور خوشی کیوں ہورہی ہے ؟ ہاں ٹھیک ہے اپنے ملک کا پرندہ بھی عزیز ہوتا تھا ، وہ تو پھر ۔۔۔۔ انسان ہے , میں کچھ غلط نہیں سوچ رہا ، پڑھنے والا میری نیت پر شک مت کرے

اس کی کلائ خالی تھی ، کسی کی خالی کلائ پہلی بار بری لگی ، اس نے کہا کہ اگر میں بنجارا ہوں تو میں اسے لندن کی گلیوں میں ڈھونڈ لوں, وہ مجھے بنجارہ کہہ کر گئ ہے ؟ یہ اچھا لقب ہے !

سنان سعدی خان

تاریخ: 5 نومبر، 2025

مقام لندن ، ازلنگٹن

آفس سے واپسی پر میں نے اس کے لئے چوڑیاں لی ہیں ، میں یہ چوڑیاں دو دن سے اپنی جیب میں لے کر گھوم رہا ہوں , وہ کسی گلی میں نظر کیوں نہیں آتی ؟ میں اس سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ یہ چوڑیاں پہن لے ، کیا وہ پہن لے گی ؟ یا شاید وہ انہیں میرے منہ پر ماردے ؟ ٹھیک ہے میں اس کے لئے تیار ہوں

اگلا صفحہ پلٹتے ہوئے وہ لمحہ بھر کو رکا پھر سر جھٹکا

سنان سعدی خان

تاریخ : 6 نومبر، 2025

مقام : برطانیہ ، ازلنگٹن

تیسری ملاقات !

میں اس تیسری ملاقات کو ایک جملے میں سمیٹ رہا ہوں

ھغی ده د بنګړو اخیستل منع کړل

( اس نے چوڑیاں لینے سے منع کردیا )

مگ ہونٹوں سے لگاتے اس کا چہرہ بے تاثر ہوا ، نگاہیں اب بھی صفحے پر تھیں

سنان سعدی خان

تاریخ چھ اکتوبر, 2025

مقام : برطانیہ ، ازلنگٹن

چوتھی ملاقات ، آخری ملاقات !

اس نے چوڑیاں نہیں لیں ، ٹھیک ہے ، میں یہ توقع کرسکتا تھا ، لیکن اس کے بعد اس نے کیا مجھ پر شک کیا ؟ میں صرف اس کی مدد کرنا چاہ رہا تھا ، وہ پاکستان سے ہے ، وہ عورت ہے ، میری غیرت گوارا نہیں کرتی کہ وہ میرے ہوتے ہوئے خوار ہو لیکن ۔۔۔۔

کیا وہ مجھے غلط سمجھ رہی تھی ؟ سنان سعدی کو ؟ ٹھیک ہے ایسا ہے تو ایسا ہی صحیح ، میں اسے ڈائری سے مٹا رہا ہوں ، زہن سے بھی ، اس کاغذ پر وہ اسے دوبارہ نہیں لکھا جائے گا، اب وہ مجھے ازلنگٹن کی گلیوں میں نظر آئ تو میں رخ پھیر لوں گا

سنان نے ڈائری ٹھک سے بند کی ، اس دن وہ غصہ تھا ، آج اسے دکھ ہوا تھا ، وہ صرف اس کی مدد کرنا چاہتا تھا اور بدلے میں کیا وہ اس طرح کے رویے کا حقدار تھا ؟

” ہیلو سنان ….”

بالکل کہیں قریب سے آواز گونجی ، اس کا سر بے ساختہ دائیں طرف گھوما ، وہ ساتھ والے گھر کی بالکنی سے جھانک رہی تھی ، ہونٹوں پہ بہت گہری مسکراہٹ تھی

” ہیلو مادام لوئ “

وہ کپ اٹھاتے اس تک آیا

” کیا تم ڈائری لکھتے ہو ؟”

” ہاں “

” مجھے پڑھواؤگے ؟”

” نہیں ۔۔۔۔”

” کیوں ؟”

” تمہیں دوسروں کی پرسنل چیزوں سے دور رہنا چاہئے “

” دوسروں کو اپنی پرسنل چیزیں مجھے نہیں دکھانی چاہئیں “

” تم میرے گھر میں جھانک رہی تھیں “

اس نے بالکنی سے ٹیک لگالی، ایک ہاتھ جیب میں تھا، دوسرے ہاتھ میں تھاما کپ لبوں سے لگایا

” میں تمھاری زندگی میں جھانکنے کی اِجازت چاہتی ہوں “

اس نے دونوں ہاتھ گول گول گھمائے ، سنان کی نظر اس کے دائیں ہاتھ پر گئ ، سفید لفافہ

” میں اجازت نہیں دوں گا ، جا کر سو جاؤ “

وہ ہٹنے لگا جب لوئ تیزی سے بولی

” آج معطر ملی تھی مجھے “

اس کے قدم رک گئے ، دھیرے سے پلٹتے اس سفید کاغذ کو دیکھا

” تو ـــ؟”

” تم پوچھو کہ وہ کیا کہہ رہی تھی ؟”

” کیا کہہ رہی تھی ؟ “

سرسری لہجہ ، جیسے وہ بس یوں ہی جاننا چاہ رہا تھا

” تمہارا پوچھ رہی تھی”

وہ شوخی سے مسکرا رہی تھی

” میرا کیا ؟”

” اس نے مجھے یہ خط دیا ۔۔۔۔” دایاں ہاتھ بلند کیا ” اور کہا تمہیں دے دوں ، کیا تمہیں یہ چاہئے ؟”

” یہ بھی پوچھنے والا سوال ہے ؟ میرے لئے ہے تو مجھے دو “

” مفت میں ؟”

” تمہارا کتنا خرچ لگا ہے اسے اٹھانے پر ؟”

اس کے چہرے پر خفگی ابھری

” میری انرجی لگی ہے ، کیا تم نہیں جانتے میرا بیگ کتنا بھاری ہے ، اس بھاری بیگ کے ساتھ تمہارا یہ خط اٹھایا ، کیا یہ کم ہے ؟”

سنان کے ماتھے پر بل پڑے

” کیا لو گی ؟”

” امممممم۔۔۔۔۔” اس نے ہاتھ ماتھے پر رکھا ” دو چاکلیٹ کے ڈبے “

” تمہارے دانت کسی دن گر جائیں گے لوئ “

” وہ گر جائیں اس سے پہلے میں ہر شے کھا لینا چاہتی ہوں “

” اچھا ٹھیک ہے۔۔۔۔” اس نے اکتاہٹ سے ہاتھ ہلائے ” خط دو ، پھر کل میں چاکلیٹ لا دوں گا “

” میں تم پر بھروسہ کررہی ہوں “

اس نے سفید کاغذ آگے بڑھایا ، سنان نے آہستگی سے تھامے اسے کھولا ،یوں جیسے وہ خود کو اور لوئ کو دکھانا چاہتا تھا کہ اسے یہ خط پڑھنے کی جلدی نہیں تھی

” سلام سنان !

لاہور کی معطر صبا اپنی تلخی کے لئے پشاور کے سنان سعدی سے معذرت کرتی ہے ، اپنا دل میری طرف سے صاف کرلیں ، میں آپ کا دل نہیں دکھانا چاہتی تھی”

خط بند کرتے ہوئے اس نے سر اٹھا کر لوئ کو دیکھا

” کیا لکھا ہے ؟”

” تم سے مطلب ؟”

مسکرا ہٹ ضبط کرتے اسے کچھ سختی دکھانا چاہی

” تم دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہو ؟”

” میں اسے پسند کرتا ہوں کیونکہ وہ ایک اچھی لڑکی ہے “

وہ مسلسل مسکرا کیوں رہا تھا ؟ بے زاریت یکدم خوشگواری میں کیوں بدلی تھی ؟ ازلنگٹن کی سرد رات پیاری کیوں ہوگئ تھی ؟

” اور وہ تمہیں کیوں پسند نہیں کرتی ؟ حالانکہ تم زیادہ اچھے ہو “

” تم فکر مت کرو ،میری تعریف نا بھی کرو تب بھی میں تمہیں چاکلیٹ لادوں گا “

” تم نا لائے تو میں نے بہت سی دھمکیاں بچا رکھی ہیں “

” اوہ میں ڈر گیا ۔۔۔” اس نے گویا ناک سے مکھی اڑائ ، پھر خط جیب میں ڈالتے لوئ کو دیکھا ” جا کر سوجاؤ اس سے پہلے کہ تمہاری ممی آ کر مجھے اور تمہیں ڈانٹے “

وہ جھٹکے سے ریلنگ سے ہٹتی پیچھے ہوئ ،پھر بالکنی سے اندر جھانکا

” تم صحیح کہہ رہے ہو۔ ،وہ تو تمہارا بھی لحاظ نہیں کرتیں ، گڈ نائٹ “

بنا سنان کا گڈ نائٹ سنے وہ فوراً سے اندر بھاگی ، سنان سر جھٹکتے پیچھے کی طرف گیا ، نظر ڈائری پر گئ ، آخری ملاقات کا صفحہ سامنے تھا ، اس نے چور نظروں سے اس صفحے کو دیکھتے ڈائری بند کردی ، اب انسان کو کبھی کبھی غصہ آجاتا ہے تو کیا غصے میں کہی گئ ہر بات مان لے؟

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

دو دن بعد وہ اپنے چند دوستوں کے ساتھ سٹور میں موجود تھا ، پتا نہیں وہ کوئ جن تھا یا شیطان ،لیکن وہ وہی تھا جسے دیکھنے کا دل نہیں کرتا اور وہ پھر بھی ہر جگہ نظر آجاتا تھا

” تم نے ابھی تک جاب نہیں چھوڑی ؟”

سیٹی بجاتے وہ اس تک آیا

” نہیں ، میں تمہارے ملک کا نقصان کرنے کے لئے تیار ہوں “

” محتاط رہو لڑکی “

” تم سے ؟ محتاط ہوں “

” تم انڈیا سے ہو ؟”

” نہیں “

” تم یقیناََ ایشین ہو لیکن مسئلہ یہ ہے کہ تم سارے ایشین ایک جیسے لگتے ہو “

لاپرواہی سے کاندھے اچکائے

” تم سارے انگریز بھی ایک جیسے ہی ہو ، مکار ، دوغلے ، منافق ، برے “

آخری چار الفاظ اس نے اردو میں کہے تھے

” میری برائ میری زبان میں کروگی تو بہتر ہوگا “

” بے فکر رہو ،تمہاری برائ تمہاری زبان میں ہی کروں گی “

ایرک نے ابرو اچکائے ، اتنی پرسکون ؟ ورنہ پہلے تو کاٹنے کھانے کو دوڑتی تھی

” اچھا یہ بتاؤ کس ملک سے ہو ؟ مجھے تجسس ہے “

وہ اس کے ساتھ چلنے لگا ، سامان ریکس میں رکھتے ہوئے وہ پہلے کی نسبت پرسکون تھی

” پاکستان “

ایرک کے ہونٹ گول ہوئے

” دا لینڈ آف ٹیررسٹ “

اس کا دماغ کھول اٹھا ، جھٹکے سے اس کی طرف گھومی

” میرے سامنے میرے ملک کے خلاف بات کرتے ہوئے محتاط رہنا مسٹر ایرک “

” اوہ تم مجھے دھمکی دے رہی ہو ، کیا کروگی ؟”

وہ دو قدم آگے کو ہوئ

” ہم لاہور والوں کو منہ توڑنا بھی آتا ہے ، ہڈیاں توڑنا بھی اور دل توڑنا بھی ،کیا تڑوانا پسند کروگے ؟”

اس کے لبوں پہ محظوظ کن مسکراہٹ ابھری

” میں تو وہی کہہ رہا تھا جو میڈیا دکھاتا ہے “

” تم اور تمہارا میڈیا ایک نمبر کا دوغلا ہے ، میرا منہ مت کھلواؤ ورنہ میں تم لوگوں کی اصلیت بتانے پر آئ تو تمہیں برا لگ جائے گا “

پٹخ کر سارا سامان ایک طرف کیا ، اسے لسٹ بنانی تھی ، سارا سامان ریکس میں رکھوانا تھا اوپر سے یہ آ ٹپکا تھا

” تمہیں تو غصہ آگیا … بلکہ تم شدت پسند بن رہی ہو ، اب میں یہ کہوں کہ تم مسلمان شدت پسند ہوتے ہو تو پھر تم یہ کہو گی کہ میں کرسچنز کی اصلیت بتانے پر آئ تو تم برا مان جاؤگے ، میں بتادوں یہ بھی شدت پسندی کی ہی ایک قسم ہے “

” اب کیا تم مجھ سے یہاں کھڑے ہو کر مذہب پر بحث کرنا چاہتے ہو ؟”

سیدھے ہوتے اس نے سینے پر ہاتھ باندھے

” میں پیشگی ہار کا اعلان کرتا ہوں ،میں زندگی میں صرف تین بار چرچ گیا ہوں، میں صرف سیاست پر بحث کرسکتا ہوں ، تمہارا سیاسی علم کیسا ہے ؟”

” کسی دن بتاؤں گی کیسا ہے ، ابھی شکل گم کرو اپنی “

اس نے ہاتھ جھلاتے رخ موڑ لیا ، ماتھا سلگ اٹھا تھا ، وہ کاندھے اچکاتا بنا مزید کچھ کہے سٹور میں آگے بڑھ گیا ، کچھ الم غلم سامان لیا اور جانے ہی لگا تھا جب معطر کی آواز پر رکا

” بل کون بھرے گا ؟”

” ظاہر ہے میں یعنی ایرک کیان “

” واقعی ؟”

” ہاں واقعی “

آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھا ، وہ اسے دیکھتی رہی پھر مسکراتی ہوئ آگے کوئ ہوئ

” جیسے اس دن والے سامان کا بھرا تھا ؟”

اس کے ہونٹ گول ہوئے پھر وہ سیدھا ہوتا دیوار سے ٹیک لگا گیا ، پاؤں قینچی کی صورت کرلئے

” یعنی تم مجھے دھمکی دے رہی ہو کہ اس دن تم نے مجھے مسز تھامسن کے سامان سے چیزیں نکالتے ہوئے دیکھ لیا تھا ؟”

وہ چند لمحے کو چپ رہ گئ ، اس کا خیال تھا وہ اتنی آسانی سے نہیں مانے گا

” تم چیزیں نہیں نکال رہے تھے ، چوری کررہے تھے “

” اکارڈنگ ٹو لاء چوری وہ ہوتی ہے جو چھپ کر کسی قیمتی چیز کی کی جائے ، میں نے تقریبا بیس لوگوں کی موجودگی میں سامان نکالا تھا ، اور وہ میرا اپنا سامان تھا ، بل بس مسز تھامسن نے بھرا تھا “

اسی ڈھٹائ اور لاپرواہی سے شانے اچکائے

” تم یہ ظاہر نہیں کرسکتے کہ تمہیں فرق نہیں پڑتا “

وہ کچھ جھنجھلائ ، اس کا خیال تھا کہ وہ پریشان ہوگا ، گھبرائے گا لیکن یہ انسان ڈھیٹ نہیں مہا ڈھیٹ تھا

” مجھے فرق نہیں پڑرہا لیڈی ، گو تمہاری کوشش اچھی تھی دھمکانے کی لیکن افسوس ناکام ہوگئ “

وہ تپانے والے انداز میں مسکرا رہا تھا

” میں دھمکا نہیں رہی تھی ، سمجھے ؟”

” چچ ، اب تم مکر رہی ہو بات یہ ہے کہ تمہارے پاس ثبوت ناکافی ہیں ، اگر تم میری کوئ پک بناتیں تو شاید کوئ فائدہ تھا ،لیکن تم نے کوئ ثبوت جمع نہیں کیا اور مجھے دھمکانے آگئیں “

اسے اس صورتحال سے غالباً مزہ آرہا تھا اور معطر کو غصہ

” ایسی کوئ بات نہیں”

” چلو میں تمہیں ایک فری کی ٹپ دیتا ہوں ، ایک شے ہوتی ہے کانفیڈنس ، ایک ہوتا ہے اسی کانفیڈںس کے ساتھ جھوٹ بولنا ، تمہارے اندر پہلی نہیں ہے ، میرے اندر دونوں ہیں ، کیا معلوم مجھے فرق پڑا ہو ؟ لیکن میں نے ظاہر نہیں کیا ، کیونکہ جیسا کہ میں نے کہا میں کانفیڈنس سے جھوٹ بول لیتا ہوں”

” میں تمہیں دھمکی نہیں دے رہی ، میں صرف سمجھا رہی ہوں کہ یہ کتنی غلط حرکت تھی “

” ایہہہ ۔۔۔۔ کون سی غلط حرکت ” اس نے منہ بنایا ” انہی مسز تھامسن کے ہزبینڈ ٹیکس ڈیپارٹمنٹ میں ہیں ، آئے روز ملکی خزانے کا نقصان کرتے ہیں ، میں نے صرف اپنے ٹیکس کی رقم واپس لی تھی “

” تمہارے پاس ہر غلط کام کے لئے تاویل ہے “

افسوس سے اسے دیکھا

” ہر غلط نظر آنے والے صحیح کام کی ، اور اگر تم نے اب مجھے دھمکا لیا ہو تو کیا میں جاسکتا ہوں ؟ “

معطر نے ہونٹ بھینچے ،پھر ہاتھ سے دفع ہونے کا اشارہ کرتے وہ مڑ گئ ، اسے ایرک سے دور ہی رہنا چاہئے ، وہ شہد کا چھتہ تھا اور وہ اس میں ہاتھ ڈال کر پھنس جاتی تھی

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

سٹور سے فنسبری پارک کا راستہ کم تھا تو وہ پیدل ہی طے کرلیا کرتی تھی ، اسے ایک ایک پاؤنڈ بچانا تھا ، آج بھی اس کا اردہ پیدل مارچ کا تھا جب راستے میں اس نے کسی کے قدموں کی آواز اپنے ساتھ سنی ، جھکی نظریں درمیانی فاصلے سے ہوتی ساتھ چلتے قدموں کی طرف مڑیں ، سیاہ بوٹ ، سیاہ جینز ، پھر سفید شرٹ ، اور پھر اس کا چہرہ

سنان !!

اس نے رخ موڑ لیا

” مجھے آپ کا خط ملا تھا “

گویا وضاحت دینا چاہی کہ وہ وہاں کیوں آیا تھا

” وہ خط نہیں ، معذرتی خط تھا “

” میں نے معذرت نہیں مانگی تھی “

” میں نے آپ کا دل دکھایا تھا ، معافی بنتی تھی “

” نہیں ، اٹس اوکے ، اتنی بڑی بات نہیں تھی “

” واقعی ؟ پھر آپ کا منہ کیوں پھولا ہوا تھا ؟”

” میں کسی اور وجہ سے پریشان تھا “

وہ ہلکا سا مسکرایا

” کس وجہ سے ؟”

” چھوڑیں ، آپ کے کام کی بات نہیں ہے”

اس نے کچھ نہیں کہا ، زہن الجھا الجھا سا تھا

” ویسے آپ کے ہاں معذرت ایسے روکھی سوکھی کی جاتی ہے ؟”

” میں نے ساتھ ایک چاکلیٹ بھی بھیجی تھی “

” کون سی چاکلیٹ ؟”

وہ یکدم رکا تو اسے بھی رکنا پڑا

” لوئ کو جو خط دیا تھا اس کے ساتھ تھی ۔۔۔۔”

لب بھینچ گئے ، افف وہ موٹو ، یقیناً خود کھا گئ ہوگئ ، سنان ہنس دیا

” اسے کھانے کی کوئ چیز مت دیا کریں ، خاص کر دوسروں کو دینے کے لئے”

” آئندہ نہیں دوں گی “

نفی میں سر ہلاتے اسے افسوس ہوا ، وہ لب آپس میں ملائے مسکراہٹ ضبط کرنے کی کوشش کررہا تھا

” ویسے میں نے ابھی تک آپ کی معذرت قبول نہیں کی “

” پھر کیسے کریں گے ؟”

وہ اب کے اکتا گئ ، سنان جواب دینے کے بجائے اپنی جیب سے کچھ نکال رہا تھا ، سیاہ کاغذ میں لپٹی چوڑیاں ، سر اٹھا کر اسے دیکھا

” کیا آپ یہ قبول کرسکتی ہیں ؟'”

معطر کی نظر چوڑیوں پہ جمی رہ گئ

” آپ کسی اور کو دے دیں “

” میں آپ کے علاؤہ کسی خاتون کو نہیں جانتا جو چوڑیاں پہنتی ہوں ، میں آپ کے علاؤہ کسی کو نہیں جانتا جس کے ہاتھ میں چوڑیاں اتنی اچھی لگتی ہوں “

وہ کچھ تذبذب سے اسے دیکھتی رہی ، یہ صحیح نہیں تھا ، اسے یہ قبول نہیں کرنی چاہئیں ، لاکھ وہ چوڑیوں کی دیوانی تھی ، پچھلے برسوں میں ہر سجنا سنورنا بھول گیا تھا ، ایک یہی چوڑیاں تھیں جنہیں وہ نہیں چھوڑ سکی تھی ،لیکن پھر بھی ،پھر بھی وہ یہ قبول نہیں کرسکتی تھی

” سنان ۔۔۔۔۔”

” آپ منع کرنے لگی ہیں ؟”

اس نے یکدم گہری سانس لی ، انکار کے الفاظ زبان تک رہ گئے

” اب نہیں کررہی “

ہتھیلی سامنے پھیلائ ، اس نے آہستہ سے وہ سیاہ چوڑیاں اس کی ہتھیلی پر رکھ دیں

” قبول کرنے کا شکریہ “

وہ بس ہلکا سا مسکرائ ، چوڑیاں دل پر بھاری پڑنے لگیں ، واحد تیمور حیدر تھا جو اسے یہ تحفہ دیا کرتا تھا ، واحد وہی تھا جس کی دی گئ چوڑیاں وہ قبول کرلیتی تھی ، اس شام اس نے پہلی بار کسی اور کی طرف سے دی گئ چوڑیاں بھی قبول کرلیں ، بھلے بھاری دل سے لیکن کرلیں

” پیاری ہیں۔۔۔۔”

” جانتا ہوں ۔۔۔۔ ” اس نے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر گلا کھنکارا پھر پشتو میں بولا

“د دنیا هر ساز د هغې په کلائی کې د اغوستل شویو چوڼیو په وړاندې بې رنګ ښکاري۔

( دنیا کا ہر ساز اس کی کلائ میں پہنی چوڑیوں کے سامنے ماند پڑ جاتا ہے)”

” اس کا کیا مطلب ہے ؟”

اسے سمجھ نہیں آئ تھی

” میں نے آپ کو مطلب بتادیا تو آپ ان چوڑیوں کو یہیں پھینک کرچلی جائیں گی “

وہ ہنسا

” آپ نے نا بتایا میں تب بھی یہ کرسکتی ہوں “

” تعریف کی ہے “

” مجھے اس تعریف ۔۔۔۔۔”

اس کے باقی الفاظ زبان میں رہ گئے ، پیچھے سے بالکل پیچھے سے کسی نے کوئ نام پکارا تھا ، اس کا چہرہ زرد ہوا، بیگ پر گرفت مضبوط ہوگئ

” آپ ٹھیک ہیں؟”

سنان کچھ حیران سا آگے کو ہوا، معطر نے جواب نہیں دیا ، زرد چہرے سے گہری سانس لیتے وہ بمشکل پیچھے پلٹی

” تیمور۔۔۔۔۔ “

کوئ بزرگ کسی کو بلا رہے تھے ، اس کی نظر بزرگ کے تعاقب میں گئ ، پانچ سالہ بچہ جو بھاگتے ہوئے آگے کی طرف جارہا تھا ، اس نے یکدم پرسکون سانس لی ، پیچھے پلٹ کر دیکھا تو وہ کچھ حیران نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا

” آپ کو کیا ہوا ہے ؟”

” تیمور رکو۔۔۔۔۔”

آواز اب تک آرہی تھی

” کچھ نہیں ۔۔۔”

اسے لگا فضا میں آکسیجن کم ہوگئ تھی ، سنان کی نظر پیچھے گئ ، بزرگ ، بچہ ، بچے کو پکارتے بزرگ

” تیمور گرجاؤگے “

اس میں ایسی کیا چیز تھی جو وہ یوں پریشان ہوگئ تھی ؟

” آر یو شیور ؟”

” جی ۔۔خدا حافظ ۔۔”

چہرے پر ہاتھ پھیرتے وہ خود کو نارمل کررہی تھی ، چوریاں بیگ میں ڈالے بغیر وہ آگے بڑھ گئ گال دہکنے لگے تھے ، گزرے سال پوری شدت سے یاد آئے ، کوئ بے وفا پوری شدت سے نظروں کے سامنے گھوما ، سنان کی نظر اس کے قدموں پر گئ ،پھر ان بزرگ پر ، اس منظر میں ایسا کیا تھا ؟

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

” تم وہاں خوش ہو ؟”

صوفے پر آلتی پالتی مار کر بیٹھے اس نے بابا کی آواز سنی

” بالکل۔۔۔۔ میں یہاں ٹھیک ہوں ، خوش ہوں ، سکون سے ہوں “

مسکرا کر کہتے اپنی آواز میں زبردستی بشاشت پیدا کرنی چاہی

” میں نے صرف خوش ہونے کا پوچھا تھا”

” میں ٹھیک اور پرسکون بھی ہوں “

” لمبا جواب دوسرے کو مطمئن کرنے کے لئے دیا جاتا ہے ، جھوٹ پر مطمئن کرنے کے لئے “

اس کی مسکراہٹ غائب ہوئ

” ایسی کوئ بات نہیں بابا ، ظاہر ہے آپ لوگ یاد آتے ہیں لیکن مجھے یہاں کوئ مسئلہ نہیں”

” دوسری طرف چند لمحے کو خاموشی چھا گئی

” واپس آ جاؤ معطر …..”

اس کا دل دکھ سے بھر گیا

” کچھ عرصے بعد آجاؤں گی بابا، ابھی فون رکھتی ہوں “

اس نے کال کاٹ کر موبائل گود میں رکھ دیا ، دانیال سے تھوڑی دیر پہلے بات ہوئ تھی ، وہ بھی یہی پوچھتا تھا وہ ٹھیک تھی ؟ وہ لوگ اسے اتنا کمزور کیوں سمجھتے تھے ؟ معطر صبا اپنے پسندیدہ شخص کو چھوڑ کر ، اپنے ملک کو چھوڑ کر انجان ملک ، انجان شہر میں تھی ، وہ کمزور تو نہیں تھی

گہری سانس لیتے اس نے موبائل میز پر رکھنا چاہا تو سیاہ کاغذ پر نظر گئ ، ہاتھ بڑھاتے اس نے وہ اٹھایا ، گول گول کرکے باندھا گیا کاغذ کھولا تو سامنے سیاہ چوڑیاں نظر آئیں ، سادہ بنا کسی آرائش کی سیاہ چوڑیاں جن میں پہلی اور آخری چوڑی پر موتی لگے تھے ، اس نے وہ ہاتھ میں تھامیں تو مدھم ساز بجا ، جانے وہ پشتو میں کیا کہہ رہا تھا ؟

چوڑیاں واپس رکھتے اس کی نظر ایک اور کاغذ پر گئ ، کچھ اچھنبے سے اس نے وہ اٹھا کر کھولا

” اگر کبھی ازلنگٹن میں خود کو تنہا محسوس کریں تو میں صرف چند ہندسوں کے فاصلے پر ہوں ، میں بتادوں اس حرکت پر میں آپ کی طرف سے تھپڑ کی توقع رکھتا تھا اس لئے ایسے نمبر دینا پڑا ،”

ساتھ ایک سمائلی بنا ہوا تھا اور نیچے اس کا نمبر دے رکھا تھا

معطر دھیمے سے ہنس دی ، عجیب انسان تھا ، یوں جیسے کوئ اجنبی مل جاتا ہے اور اس سے کوئ بے نام سا تعلق بن جاتا ہے ، جو کچھ نہیں لگتا اور پھر بھی ہمیشہ آپ کے لئے موجود رہتا ہے

” یہ کسی لڑکے نے دی ہیں ؟”

اس نے چونک کر سر اٹھایا ، بانو آپا سامنے ٹھہری عجیب نظروں سے اسے دیکھ رہی تھیں

” جی۔۔۔۔”

اس نے کچھ خفت سے چوڑیاں سیاہ کاغذ میں لپیٹیں

” کون ہے ؟”

سرد انداز

” پاکستان سے ہے سنان ، میری کافی مدد کی ہے اس نے “

” چوڑیاں دینا کون سی مدد ہے ؟”

” اس کی پڑوسی نے میری چوڑیاں توڑی تھیں ، ازالے کے طور پر دی ہیں ۔۔۔۔” اسے ان کی تفتیش بری نہیں لگی تھی انداز برا لگا تھا

” مرد پر اتنی جلدی بھروسہ نہیں کرتے “

” وہ میرا محسن ہے بانو آپا “

” اور ہر محسن اس قابل نہیں ہوتا کہ اس سے تحفے لئے جائیں ، جو کام کرنے آئ ہو وہی کرو ، لڑکوں سے میل جول بڑھانے کی ضرورت نہیں ہے”

اس کے چہرے پر سرخی دوڑی ، سامان اٹھاتے ہوئے وہ چل کر ان کے سامنے آئ

” میں بائیس سال کی ہوں آپا ، مجھے مردوں سے بات کرنا بھی آتا ہے اور انہیں ان کی اوقات میں رکھنا بھی ، میں جانتی ہوں کون کس طرح کا مرد ہے ، اور سنان ویسا مرد نہیں ہے جس سے میں ڈروں ، وہ ویسا مرد بھی نہیں ہے جس سے میں متاثر ہوجاؤں ، مجھے اپنی عزت اور کردار کی فکر آپ سے زیادہ ہے “

نرمی لیکن دو ٹوک لہجے میں کہتے وہ اوپر کی طرف بڑھ گئ ، کردار پر بات آتی تو وہ کسی کا لحاظ نہیں کرے گی ، پیچھے ٹھہری بانو آپا کی نظر ٹیبل پر گئ

” تم نہیں جانتیں معطر ، کوئ مرد بھروسے کے قابل نہیں ہے “

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

اس کے لئے ایک جاب ناکافی تھی ، گھر پیسے بھیجنا آپشن نہیں فرض تھا ، جتنی تنخواہ اسے پہلی بار ملی اس نے کرایے کی رقم نکال کر سب پاکستان بھجوادی ، اس کے لئے بانو کی طرف سے کروشیا کا معاوضہ کافی تھا ، اس کی ضروریات بابا کے علاج سے زیادہ اہم نہیں تھیں ، وہ خرچے کرنے سے پرہیز کرتی ، اسٹور سے فنسبری کا فاصلہ زیادہ نا صحیح کم بھی نہیں تھا لیکن وہ چل لیتی ، ٹیوب پر یا لوکل بس پر جانے کے لئے وہ پاؤنڈز خرچ نہیں کرسکتی تھی ، وہاں لوکل بس اور ٹیوب پر صرف سٹوڈنٹس کو تیس فیصد ڈسکاؤنٹ ملتا تھا یا پھر بعض معذور افراد کو ، اسے ڈسکاؤنٹ ملتا وہ تب بھی پیسے بچانے کیلئے پیدل سفر کرنے کو ترجیح دیتی ، اس نے گھر والوں کو بھی زیادہ کال کرنے سے منع کردیا ، وہ لوگ کرتے تو چند منٹ بات کرکے بند کردیتی ، خود وہ کال کرتی نہیں تھی

یہ اس کی لندن میں آنے کے ڈیڑھ ماہ بعد کا واقعہ تھا جب ایک رات اسے واپسی پر دیر ہوگئ ، سڑکیں آج کل سنسان تھیں کہ کل رات ازلنگٹن میں قتل کی واردات کے باعث پولیس کی جانب سے احتیاط کا کہا گیا تھا ، وہ تیزی سے چلتی گھر کی طرف جارہی تھی جب پاس سے کسی کھٹکے کی آواز ابھری ، ایک لمحے کو اس کا دل سکڑ گیا پھر ہمت کرتے وہ آگے بڑھ گئ ، لبوں پہ آیت الکرسی کا ورد جاری ہوگیا ، چند قدم چلنے کے بعد اسے احساس ہوا کہ کوئ اس کے پیچھے تھا ، اس کی پوری ہستی وہیں رک گئ ، قدم تیز تھے یوں جیسے کوئ پیچھے سے بھاگ رہا ہو ، خوفزدہ وجود کے ساتھ وہ پلٹی

وہ کوئ لڑکا تھا جو زخمی تھا ، زخمی ٹانگ کے ساتھ وہ جس قدر تیزی سے بھاگتے ہوئے آسکتا تھا آرہا تھا

” تم۔۔۔ بات سنو ۔۔میری مدد کردو پلیز “

اس کے پاس آکر وہ رکا تو معطر کو ہوش آیا ، اس کی ٹانگ پر شاید کوئ زخم تھا

” تم ٹھیک ہو ؟”

وہ پریشانی سے آگے بڑھی ، گلی مکمل سنسان تھی

” مجھے گولی لگی ہے ، وہ لوگ میرے پیچھے ہیں ، خدا کے واسطے پولیس کو کال کرو “

وہ ہراس تھا ، معطر کا دماغ دو سو کی سپیڈ سے دوڑنے لگا ،

” پرسکون۔۔۔ پرسکون رہو ، میں کال کرتی ہوں “

یگ سے موبائل نکالتے بوکھلاہٹ سے اس نے نمبر ملانا چاہا ، اسے نمبر نہیں آتا تھا

” نم۔۔۔ نمبر کیا ہے پولیس کا ؟”

آواز کپکپا گئ

” ہم بتا دیتے ہیں مادام “

اس کا دل رک گیا ، آواز پیچھے سے آئ تھی ،اس کا دل کیا یہاں سے بھاگ جائے ، غائب ہوجائے ، تنہا وہ اور ایک زخمی نوجوان ، اللہ

” زرا دیکھیں تو کون ہے جس نے بہادری پلس بیوقوفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس قدر خراب حالات میں یہاں رکنے کی جرأت کی ، اےے پکڑو اسے “

وہ جو زخمی تھا وہ ڈر کر بھاگنے لگا جب ایک لڑکے نے آگے بڑھتے اسے پکڑا ، معطر کی چیخ نکلی ، دوسرا لڑکا فوراً سے آگے بڑھا اور اس کے منہ پر ہاتھ رکا ، اس کے ہاتھ رکھنے کی دیر تھی کہ اس کا رواں رواں سلگ اٹھا

” چھوڑو ۔۔۔۔ “

بھاری ہاتھ ہٹاتے اس نے جھٹکا دیا ، لڑکا کمزور نہیں تھا لیکن یونہی اسے لگا شاید وہ اسے دیکھ کر ٹھٹکا تھا ، شاید اس کا ہاتھ غیر ارادی طور پر ڈھیلا پڑا تھا ، وہ فوراً بھاگنے لگی جب وہ گویا ہوش میں آتے جھٹکے سے اس تک پہنچا ، اس کی کلائ تھام کر پیچھے دھکیلا وہ لڑکھڑا کر نیچے گری

” یہاں سے بھاگنے کی کوشش کی تو جان سے مار دوں گا “

وہ غرایا تھا ، معطر نے خشک ہوتے سانس سے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا، نقاب کی صورت باندھا گیا سیاہ رومال، سر پر سیاہ کیپ ، ان سب میں صرف اس کی آنکھیں نظر آرہی تھیں ، سرخ آنکھوں میں غصہ ، وہ آنکھیں ؟ وہ آنکھیں ؟

” پکڑو اسے۔۔۔۔ “

دوسرے لڑکے نے پٹخ کر زخمی کو وہیں نیچے پھینکا ، وہ کراہ کر رہ گیا

” زندہ رکھیں یا ؟”

اس کے وجود سے جان نکلنے لگی ، وہ اس طرح نہیں مرنا چاہتی تھی ، اس طرح نہیں ، کسی اجنبی ملک کی سنسان گلی میں یوں لاوارثوں کی طرح نہیں

” ما ر دو ، ہمارے خلاف جو جائے گا یہی ہوگا “

اس نے ختم ہوتی ہمت سے کچھ بولنا چاہا ، نظر اسی لڑکے پر تھی ، اس کی آنکھیں ؟ وہ ان آنکھوں کو جانتی تھی ، وہ ان آنکھوں سے اسے نہیں دیکھ رہا تھا

” ایسا مت کرو …”

بلاآخر حلق سے کچھ آواز نکلی ، لڑکا درد سے مسلسل کراہ رہا تھا ، اسے بہت شدت سے رونا آیا

” ایکس ۔۔۔۔ مار دو اسے “

” نہیں ۔۔مت کرو ۔۔۔خدا کے لئے “

وہ گڑگڑانے لگی ، لڑکا چھوٹا تھا ، وہ زخمی تھا ، وہ مر رہا تھا ، سفید نقاب والے نے اس کی بات نہیں سنی تھی

” خدا کے لئے مت کرو ، وہ چھوٹا ہے “

وہ گویا اس کی التجا نظر انداز کررہے تھے ، لمحوں کا کھیل تھا جب اس نے دیکھا کہ اسی نقاب والے لڑکے نے گن سیدھی کی ، سائلنسر لگی گن سے تین گولیاں یکے بعد دیگرے اس کے سامنے پڑے لڑکے کو لگیں ، اس کا دل کیا وہ زور سے چیخے لیکن آواز دب گئ ، اس کا دل کیا وہ اس لڑکے کے ہاتھ سے گن چھین لے لیکن ہمت ختم ہوگئ ، آنکھیں وحشت سے ابل پڑیں ، چہرہ سفید پڑنے لگا ، ختم ہوتی ہمت سے وہ بمشکل تھوڑا سا سرکی ، وہ زخمی کم عمر تھا ، بمشکل سترہ اٹھارہ سال کا

” سن۔۔سنو ۔۔۔۔”

اس کے کاندھے کو ہلایا ، وہ ساکت تھا ، اس کا دل بند ہونے لگا

” اس کا کیا کرنا ہے ؟”

سفید نقاب والا سیاہ نقاب والے سے پوچھ رہا تھا

” اسے بھی ما ر دو ۔۔۔”

بے تاثر لہجہ ، اجنبی سپاٹ انداز

” اٹھو ۔۔۔۔ پلیز۔۔۔۔”

وہ ابھی تک اسی لڑکے کے پاس بیٹھی تھی

” مار دیں ؟ میرے خیال سے چھوڑ دیتے ہیں”

” پولیس کو بتادیا تو ؟”

” نہیں بتائے گی …”

” تمہیں یقین ہے ؟”

” شاید۔۔۔۔۔”

وہ ان کی گفتگو سے بے نیاز سفید چہرے سے مردہ وجود کو دیکھ رہی تھی

” آنکھیں کھولو ، بچے ، پلیز “

” اے ۔۔۔۔۔”

” سنو پلیز۔۔۔۔ “

وہ اسی طرح بیٹھی رہی ، اس کا وجود ہلاتی رہی ، بال بکھر گئے تھے ، آنکھوں سے سیل رواں ہوگئے ، پھر کس نے گن سے اس کا کاندھا ہلایا ، وہ جی جان سے کانپتی جھٹکے سے اٹھی

” اس کی جان کی فکر چھوڑو ، اب اپنی فکر کرو “

اپنی ؟ یعنی وہ اب اسے بھی مار دیں گے ؟

” مجھے چھوڑ دو۔۔۔۔ پلیز “

اس کا رواں رواں کانپ اٹھا، اپنے گھر بستر پر پڑا باپ یاد آیا ، اسے صحن میں گھومتا دانیال یاد آیا ، اسے چیزوں کی فہرست بتاتی مبشرہ یاد آئ ، مبشرہ کے بال کھینچتا عون ، اسے اپنی ماں یاد آئ ، اسے چھت پر ٹھہرا تیمور یاد آیا

” جانے دیں تاکہ تم پولیس کو بتادو ؟”

سفید نقاب والا غصے سے گھور رہا تھا

” میں کسی کو نہیں بتاؤں گی ، وعدہ کسی کو نہیں بتاؤں گی “

اس کا وجود ہچکیاں کھانے لگا ، اسے لگا وہ مزید وہاں رہی تو مرجائے گی

” اگر بتادیا تو ؟”

” نہیں بتاؤں گی ۔۔۔ یقین کرو ۔۔۔مجھے جانے دو “

وہ یہاں اس طرح نہیں مرنا چاہتی تھی ، رواں رواں کانپ رہا تھا ، آنکھیں مسلسل رو رہی تھیں ، دل مسلسل کانپ رہا تھا

وہ دونوں چند لمحے اسے گھورتے رہے پھر سیاہ نقاب والے نے آنکھوں سے اشارہ کیا ، سفید نقاب والا ایک آخری نظر اس پر ڈالتا پلٹ گیا ، معطر ہونٹوں پر ہاتھ رکھے ہچکیاں روکنے لگی ، چند لمحے سرکے ، چند ساعتیں ، اس کا وجود تھمنے لگا ،چہرہ سفیدی سے زردی میں ڈھلنے لگا ، پھر وہ چونکی

وہ زندہ تھی۔ ؟ انہوں نے اسے نہیں مارا تھا ؟ معجزہ ؟ یا کچھ اور ؟ وہ زندہ تھی ؟ وہ دھپ سے نیچے بیٹھی ، ہاتھ ہونٹوں پر گیا ، وہ چیخ چیخ کر رونا چاہتی تھی ، ہانٹوں پر ہاتھ رکھ کر روتے اس کی نظر لڑکے پر گئ ، ، پھر خون پر ، پھر وہ تیزی سے اس تک آئ

” تم زندہ ہو ؟ سنو ؟ اٹھو ۔۔۔۔پلیز “

وہ ساکت رہا ، اسے وحشت ہوئ ، اسے لگا وہ مر جائے گی ، اسے لگا وہ زندہ نہیں رہے گی ، پھر دماغ جاگنے لگا ، اس نے نظریں گھمائیں ، فون کہا تھا ، وہ چند قدم دور پڑا تھا ، اس کے اندر وہاں تک جانے کی ہمت ختم ہوگئ ،خود کو اسی طرح بیٹھے بیٹھے گھسیٹ کر وہ فون تک لے کر آئ ، پولیس۔۔۔ پولیس کا نمبر ، وہ وہیں کہیں تھا ، وہ ہوگا ، مایا نے کہا تھا کہ اسے فون لاگ میں پولیس کا نمبر مل جائے گا

کال لاگ کھولی ، نمبر سیو تھا

اوہ خدایا

اس کا ہاتھ کانپنے لگا

بمشکل کپکپاتے ہاتھوں سے اس نے نمبر ملا کر کان پر لگایا

” لندن ، ازلنگٹن پولیس ہیئر ، ہم آپ کی کیا مدد کرسکتے ہیں ؟”

روانی بھری انگریزی میں آفیسر پوچھ رہا تھا ، اس کی ہچکی نکلی

” ہو از دیئر ؟ “

اس کی آواز دب گئ

” ہیلو “

” پولیس۔۔۔۔؟”

” یس ۔۔۔؟ ہو از دیئر ؟”

وہ معطر صبا تھی ، لاہور کی معطر صبا ازلنگٹن کی سڑک پر بیٹھی رو رہی تھی ، روتے وجود سے اس نے کچھ کہنا چاہا جب پیچھے سے کسی نے فون کھینچ کر اس کے ہاتھ سے پکڑا

وہ کرنٹ کھا کر پلٹی ، پیچھے سفید اور سیاہ نقاب والا لڑکا ٹھہرے تھے ، اس کا دل دھڑکن چھوڑنے لگا

” پولیس ؟ ہاں ؟ تو کیا ہم نے غلطی کی تھی ؟”

اسے لگا یہ اس کا آخری وقت ہے ، زندگی بس یہیں تک تھی ، جو تھا سب یہیں تک تھا

” میرا تو پہلے ہی یہی خیال تھا کہ اسے بھی ڈیوڈ کے ساتھ مار دو ، “

وہ سیاہ نقاب والے سے کہہ رہا تھا ، وہی سیاہ نقاب والا جس کی آنکھیں وہ پہنچانتی تھی ، سیاہ نقاب والا معطر کے سامنے آیا

” اب بھی عمل کیا جاسکتا ہے ، ہم نے رحم کیا اور غلط شخص پر رحم کیا “

لہجہ سرد ترین تھا ،وہ گن تھامے ہوئے تھا ، وہ گن اس نے معطر کی طرف موڑی ، اس کا جسم بے جان ہونے لگا ، بے جان ہوتے جسم سے اس نے آخری بار کچھ کہنا چاہا، زبان سب بھول گئ

” دیر کس بات کی ؟”

بس ، شاید سب یہیں تک تھا ، یعنی سب یہیں تک تھا، وہ خواب جو وہ لے کر آئ تھی سب ختم ، وہ خواب جو اس نے مستقبل کے لئے دیکھے تھے سب ختم ، ہر شے ، کیا زندگی ایسے ختم ہوجائے گی؟ یوں لاچاری کی حالت میں ؟ ایک اجنبی ملک میں ؟ اس کے گھر والوں کو پتا تک نہیں چلے گا کہ وہ کسی انجان سڑک پر یوں مر گئ, کیا وہ خود کو یوں ختم ہونے دے ؟ کیا وہ مقابلہ بھی نا کرے؟

مردہ ہوتے وجود میں شاید زندگی کی آخری کرن بھری، جب وہ ہر خوف بھلاتی جھٹکے سے آگے بڑھی اور سیاہ نقاب والے کا چہرہ نوچ کر نقاب اتارا ، اس کی ٹوٹی چوڑیاں سامنے والے کے چہرے پر لگیں

” آؤچ ۔۔۔۔”

وہ کراہ کر دور ہوا ، معطر کا اوپر کا سانس اوپر رہ گیا ، اس کا پورا وجود ساکت ہوا ، وہ آنکھیں ….وہ چہرہ

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆