Laa By Fatima Noor Readelle50338 Laa (Episode 23)
Rate this Novel
Laa (Episode 23)
Laa By Fatima Noor
کوزی مگ سے باہر نکلتے اس نے بیگ کھول کر اندر سے سرخ ڈائری نکالی ۔ پھر بیگ بند کرتے اسے دیکھا
سنان سعدی
وہ اس ڈائری کو پریزے تک پہچانا چاہتی تھی لیکن اس کا دوبارہ پریزے سے کوئ رابطہ نہیں ہوا تھا ۔ اس نے سنان کے نمبر پر کئ بار کال بھی کی تھی لیکن نمبر بند جارہا تھا ۔ اس کی ڈائری کا آخری صفحہ کھولتے وقت آس پاس کوئ حزن سا آ ٹھہرا ۔ جانے وہ کیا کہہ رہا تھا ۔ کوئ بات ۔ کوئ ادھورا قصہ ۔ کوئ اور پشتو جملہ ۔ یا شاید کچھ اور ۔ وہ اب کبھی نا جان پاتی کہ سنان اس آخری ملاقات کا اختتام کیسے چاہتا تھا
” تم ایک بار رک کر مجھے سن سکتی ہو ؟”
کیفے سے نکلتے وہ ابھی چار قدم ہی چلی تھی جب وہ یکدم اس کے سامنے آیا ، بلیو جینز پر سفید شرٹ جس کے بٹن کھلے ہوئے تھے نیچے سفید ٹی شرٹ تھی ، مارچ کا آغاز تھا اور موسم سرما کا اختتام چل رہا تھا اسی لئے اس نے بھی آج صرف سوئیٹر پہن رکھا تھا ، اونی ٹوپی اور کوٹ غائب تھے
” میرے پاس تمہارے لئے وقت نہیں ہے “
وہ بنا اس کی سنے آگے بڑھنے لگی جب ایرک ایک بار پھر سامنے آیا
” میری بات سنو معطر ، صرف ایک بار تسلی سے بیٹھ کر مجھے سن لو ، اگر تم بات نہیں سنو گی تو معاملہ حل کیسے ہوگا ؟”
” مجھے نا معاملہ حل کرنے میں دلچسپی ہے نا تمہیں سننے میں”
وہ سخت نظر آرہی تھی ، ایرک نے ہونٹ گول کرکے گہری سانس لی
” ٹھیک ہے ۔ میں سمجھ سکتا ہوں لیکن کیا تم مجھے صرف چند منٹ دے سکتی ہو ؟ صرف چند منٹ ؟”
وہ اسے دیکھتی رہی پھر بیگ کاندھے سے ہاتھ میں منتقل کرتے سائیڈ پر رکھی کرسی کھینچی اور اس پر بیٹھی ، ہاتھ میں تھامی سرخ ڈائری اس نے ٹیبل پر رکھ دی
” دس منٹ ۔۔۔۔ اس کے بعد میں چلی جاؤں گی “
ایرک سر ہلاتا دوسری طرف بیٹھا ، سامنے لکڑی کی میز رکھی تھی جس پر سرخ ٹیولپ کے پھول گلدان میں سجائے گئے تھے
” سب سے پہلے مجھے یہ بتاؤ تمہیں غصہ کس بات پر ہے ؟”
” تمہاری سوچ پر “
” میں تمہیں سوچتا ہوں”
” اسی پر غصہ ہے ۔ میں تمہیں ایسا نہیں سمجھتی تھی “
” میں نے کچھ غلط نہیں کیا ۔ صرف محبت کا اظہار کیا ہے “
” اور اگر تم سنجیدہ نا ہوتے تو میں تم پر ہنس دیتی ایرک ۔ تمہارے منہ سے مجھے یہ لفظ عجیب لگتا ہے “
” تم مانتی ہو کہ میں سنجیدہ ہوں ؟”
معطر اسے دیکھتی رہی پھر کہنیاں آگے کو رکھتی اس کی طرف مکمل متوجہ ہوئ
” تم جانتے ہو محبت کیا ہے ؟”
” ظاہر ہے “
” کیا ہے ؟”
” کسی کو پسند کرنا ، اس کی طرف اٹریکٹ ہونا ، اسے سننا اور سنتے رہنا دیکھنا اور دیکھتے رہنا “
وہ گویا رٹو طوطے کی طرح شروع ہوگیا تھا
” میرے نزدیک یہ محبت نہیں ہے ایرک ، ہم ہر دوسرے انسان کو پسند کرتے ہیں۔ اسے سنتے ہیں ، سن کر اچھا محسوس کرتے ہیں تو کیا ہم ہر دوسرے انسان سے محبت کرتے ہیں ؟”
” اب تم اپنی باتوں سے مجھے قائل کرنے کی کوشش کرو گی کہ یہ محبت نہیں ہے “
وہ اسی کے انداز میں کہنیاں میز پر رکھے آگے کو ہوا
” یہ واقعی محبت نہیں ہے “
” اور تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے ؟”
” کیونکہ میں مغرب کی محبت پر یقین نہیں رکھتی ، میں نے تم لوگوں کی کہانیاں سن رکھی ہیں ۔ مغرب کے لوگ محبت سے واقف نہیں ہوتے ۔ یہاں صرف اٹریکشن ہوتی ہے اور کچھ نہیں”
” مادام معطر ۔۔۔ تمہاری سوچ مغربی معاشرے کو لے کر بہت غلط ہے” وہ افسوس سے اسے دیکھنے لگا ” تمہیں لگتا ہے محبت صرف مشرق کے لوگ کرسکتے ہیں ؟ “
” کم از کم ۔۔۔۔”
ایرک نے اس کی بات کاٹ دی
” میرے پاس ہزاروں کہانیاں ہیں سنانے کو لیکن میں تمہیں اپنی یونیورسٹی کا بتاتا ہوں ۔ میرے ڈیپارٹمنٹ میں ملر پڑھتا ہے اسے ایک لڑکی سے محبت ہے ، اب بھی ہے حالانکہ وہ اپنے ملک واپس جاچکی ہے پھر بھی وہ ہر روز اس سڑک پر جاتا ہے جہاں سے وہ آیا کرتی تھی ، وہ ہر روز کینیڈا سے آنے والی فلائٹ چیک کرتا ہے کیونکہ وہ لڑکی کہہ کر گئ تھی کہ وہ واپس آئے گی ۔ ہم پریکٹیکل قوم ہیں ۔ ہم نے اپنے قصے تم لوگوں کی طرح مشہور نہیں کر رکھے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے ہم محبت نہیں کرسکتے ۔ تم محبت کو کسی ایک قوم سے کیسے جوڑ سکتی ہو ؟”
وہ سنجیدہ تھا اور ازحد تھا
” تم مجھے ایسی باتیں سنا کر اپنی محبت کا یقین نہیں دلا سکتے “
” مجھے بڑی بڑی باتیں کرنی نہیں آتیں ۔ میں لفظوں کے ساتھ اچھا ہوں لیکن محبت کے معاملے میں مجھے الفاظ کے ساتھ کھیلنا نہیں آتا ۔ لیکن ” وہ ہلکا سا آگے کو ہوا ” جس رات میں نے تمہارے سر سے خون نکلتے دیکھا اس وقت میرے جسم سے پہلے جان نکلی تھی ۔ میں اگر کہتا ہوں کہ میں محبت کرتا ہوں تو میں سچ کہتا ہوں “
معطر لمحہ بھر کو چپ رہ گئ پھر اس نے گہری سانس لی
” ٹھیک ہے ۔ اگر میں تمہاری محبت پر یقین کرلوں تو پھر ؟”
پھر ؟ پھر کیا ؟ اس کے بعد کیا تھا ؟
” ہم شادی کرلیں گے “
سادہ سوال کا سادہ جواب ۔ جیسے اس کے زہن میں تھا کہ وہ پوچھے گی تو یہی کہنا ہوگا ، معطر کے چہرے پر ضبط جھلکا
” یہ ناممکن ہے “
” کیوں ؟ “
” میرے لئے یہ ناممکن ہے ایرک “
” میں تمہارے گھر والوں سے بات کرسکتا ہوں ، انفیکٹ میرے پیرنٹس پاکستان جاکر سب معاملات دیکھ لیں گے “
” میرے انکار کی یہ وجہ نہیں ہے “
” پھر کیا ہے ؟ میرا مستقبل کامیاب ہے ۔ مجھے کوئ فائنشل پرابلم نہیں ہے ۔ اور۔۔۔۔”
” تم مسلمان نہیں ہو۔۔۔”
اس کی چلتی زبان رکی ۔ ناسمجھی سے معطر کو دیکھا
” کیا مطلب ؟”
” تم مسلمان نہیں ہو ایرک ۔ اور جس مذہب کو میں مانتی ہوں وہ کہتا ہے کہ ایک مسلمان عورت کسی غیر مسلم سے شادی نہیں کرسکتی “
اس نے کچھ تحمل کا مظاہرہ کرتے ایرک کو سمجھانا چاہا
” لیکن میری یونی میں کئ مسلمان ہیں جو کرسچن لڑکی سے کمیٹڈ ہیں “
وہ کچھ حیران تھا
” یہ اجازت صرف مردوں کو ہے ۔ مسلمان مرد عیسائی عورت سے شادی کرسکتا ہے لیکن مسلمان عورت عیسائ مرد سے شادی نہیں کرسکتی نا کسی اور غیر مسلم سے ۔ یہ چیز مرد اور عورت دونوں کے لئے یکساں ہے ۔ اور پھر تم تو سرے سے کسی مذہب کو مانتے ہی نہیں ہو “
” میں نے ایسا نہیں کہا ۔ میں نے کہا تھا کہ میں مذہب کو لے کر کنفیوژن کا شکار ہوں ۔ لیکن میرے ڈاکیومنٹس پر میرا مذہب عیسائیت ہی لکھا ہوا ہے “
” یہ پھر بھی ممکن نہیں ہے ۔ میں نے کہا نا مسلمان عورت صرف مسلمان سے ہی شادی کرسکتی ہے “
” لیکن کوئ تو وجہ ہوگی اس پابندی کی ؟”
وہ نا کوئ عالم تھی نا مفتی جو اسے علم ہوتا ۔ اس نے کچھ سوچنا چاہا لیکن وہ فقہی مسائل نہیں جانتی تھی
” حکم ہے تو ہے بس ۔ ہم نے بس ” سمعنا و اطعنا ” پر عمل کیا ہے ، ہم نے سنا اور اطاعت کی ۔ کیوں ؟ کیا ؟ کیسے ؟ جیسے سوالات اللہ کے حکم پر نہیں پوچھے جاتے “
وہ اسے یوں سمجھا رہی تھی جیسے کوئ بچے کو سمجھاتا ہو لیکن وہ بچہ نہیں تھا
” اوکے ۔ لیکن ہر حکم کی کوئ نا کوئ لاجک ہوتی ہے ۔ اس کی بھی کوئ ہوگی “
” مذہب میں لاجک نہیں ڈھونڈے جاتے ۔ ایسا ہے تو بس ہے ۔ مل گیا جواب ؟ میں جارہی ہوں “
وہ بیگ اٹھاتی اٹھنے ہی لگی جب ایرک نے دونوں ہاتھ اوپر کئے
” اگر تم چاہو تو میں اسلام قبول کرسکتا ہوں “
وہ دھیرے سے واپس بیٹھی ، آنکھوں میں بے یقینی اتری
” تم جانتے ہو تم کیا کہہ رہے ہو ؟”
” میں نے کہا کہ میں تمہارے لئے اسلام قبول کرسکتا ہوں “
اس کا چہرہ سرخ ہوا
” کل تک جو شخص اسلام کے خلاف بولتا تھا وہ آج اسلام قبول کرنے کی بات کررہا ہے ۔ تعجب “
” میں جانتا ہوں میں اسلام کے خلاف رہا ہوں لیکن وہ صرف ایک غلط فہمی تھی ۔ مجھے اب چیزیں سمجھ آرہی ہیں “
” جتنی سمجھ آئ ہیں اور جتنی سمجھ آئیں گی کیا ان کے بعد اگر تمہاری زندگی میں میں نا آتی تو تم اسلام قبول کرلیتے ؟ سچ بتانا صرف سچ “
ایرک کے چہرے پر تذبذب دوڑا
” یہ مشکل سوال ہے لیکن اگر میں صاف گوئ کا مظاہرہ کروں تو نہیں ۔ میں اسلام قبول نا کرتا ۔ میں یہ فیصلہ صرف تمہارے لئے لے رہا ہوں “
” میرے لئے ؟ سچ میں ایرک ؟ اگر تم ہجرت کررہے ہو تو میرے لئے مت کرو ۔ کم از کم ایک عورت کے لئے مت کرو ۔ یہ فیصلہ دنیا کے لئے تو مت کرو ۔ اسلام قبول کرنا ہے تو بہت خوشی سے کرو ۔ مجھے واقعی خوشی ہوگی لیکن کم از کم اس کی وجہ مجھے مت بناؤ “
اس کی مٹھیاں بھینچی ہوئ تھیں ، ایرک اب کے کچھ بے بسی سے جھنجھلایا
” تمہیں ہر چیز پر اعتراض ہے “
” چلو فرض کرتے ہیں ” وہ سنجیدگی سے اسے دیکھتی گویا ہوئ ” تم اسلام قبول کرلیتے ہو ۔ ہماری شادی بھی ہوجاتی ہے ۔ کچھ عرصہ بہت اچھا گزرتا ہے ۔ جب آپ اسلام قبول کرتے ہیں تو وہ آپ پر کئ پابندیاں لگاتا ہے ۔ تم نے کہا تھا تم شراب پیتے ہو تمہیں وہ چھوڑنی پڑے گی ۔ تم ممکن ہے پورک کھاتے ہو ( حلق تک زہر گیا لیکن اس نے ضبط کرلیا ) وہ بھی تمہیں چھوڑنا پڑے گا ۔ تمہاری زندگی اپنے مطابق نہیں اسلام کے مطابق گزارنی ہوگی ۔ تم یہ سب پابندیاں برداشت نہیں کر پاؤگے اور اسلام سے بے زار ہو جاؤگے ۔ پھر میرا کیا ایرک ؟ میں تمہارے ایک مفروضے کی بنا پر اپنا سب چھوڑ دوں اور اختتام پر تم اسلام ہی سے متنفر ہوجاؤ میری زندگی تو برباد ہوگئ نا ؟”
” ایسا نہیں ہوگا ۔ میں کمٹمنٹس ادھوری نہیں چھوڑا کرتا “
” مسئلہ ہی یہی ہے کہ تم اسے کمٹمنٹ سمجھ رہے ہو ۔ اسلام قبول کرنا چھوٹی بات نہیں ہے ۔ اگر تم یہ فیصلہ اسلام کو سچ اور حق مذہب جان کر کرتے تو ممکن تھا کہ میں کچھ سوچ لیتی لیکن تم آغاز پر ہی کہہ رہے ہو کہ تم یہ فیصلہ میری وجہ سے کررہے ہو ۔ میں اس پر کیسے یقین کروں ؟”
اس نے پرس ہاتھ میں بھینچا ۔ آواز بلند ہوگئ ۔ غصہ ابل کر آرہا تھا
” تم دراصل میرا پرپوزل ریجکٹ کرنا چاہتی ہو اور تمہیں اس کے لئے بہانہ چاہئے “
” تم پھر یہی سمجھ لو “
وہ بیگ اٹھاتی جھٹکے سے اٹھی ۔ بھاڑ میں گیا تحمل ۔ دل کررہا تھا کہ
” اگر میں اسلام قبول نہیں کرسکتا تو تم عیسائیت قبول کرلو “
دل رکا ۔ روح جسم سے جدا ہوئ ۔ چہرہ سفید پڑا ۔ میز کے کونے کو اس نے بے اختیار تھاما پھر دھیرے سے پلٹ کر اسے دیکھا
” کیا کہا تم نے ؟”
آواز بمشکل نکلی ۔ ایرک گہری سانس لیتا کھڑا ہوا
” اگر مذہب کے فرق کی وجہ سے شادی نہیں ہوسکتی اور تمہیں میرا اسلام قبول کرنا بھی منظور نہیں ہے تو تم بھی مذہب تبدیل کرسکتی ہو ۔ میری مام نے بھی کیا تھا “
یوں جیسے نارمل سی بات تھی۔ جیسے بیگ پسند نہیں آیا تبدیل کرالو۔ گاڑی میں کوئ مسئلہ ہے کوئ بات نہیں نئ لے لو ۔ اتنی سی بات جو وہ کہہ رہا تھا اور جس سے کہہ رہا تھا اس کے جسم سے جان نکلی تھی
” تم غور کرو ایرک تم کیا کہہ رہے ہو “
آواز حلق میں پھنس گئ ۔ وہ بے یقین تھی
” آپشن دے رہا ہوں ۔۔۔ میں اب تم سے دستبردار نہیں ہوسکتا معطر ۔ اب یہ ممکن نہیں ہے ۔ تین راستوں میں سے دو تمہیں نا منظور ہیں تو یہی ۔۔۔۔ “
معطر کا ہاتھ اٹھا اور پوری قوت سے اس کے گال پر پڑا ۔ ایرک کے الفاظ زبان میں رہ گئے ۔کتنی ہی دیر وہ ششدر رہ گیا پھر ہاتھ گال پر گیا ۔ بے یقینی سے معطر کو دیکھا۔ وہ گہرے سانس لیتی غصے سے اسے گھور رہی تھی ۔ اس کا ہاتھ کپکپا رہا تھا
” معطر ۔۔۔”
” تمہاری ہمت کیسے ہوئ یہ بات کرنے کی ؟ کس ہمت سے کی تم نے؟”
اس نے آگے بڑھتے ایرک کو دھکا دیا ۔ وہ ہلا تک نہیں
” تم نے ۔۔۔تم نے مجھے تھپڑ مارا ؟”
وہ بے یقین تھا
” تم نے کس زبان سے یہ الفاظ کہے ہیں ؟ تمہیں اندازہ ہے تم نے کیا کہا ہے ؟ یا اللہ میرے جسم سے روح نکل رہی ہے “
” میں صرف۔۔۔۔”
” تم صرف مفاد پرست ہو ایرک ۔۔” وہ چلائ اردگرد لوگ رک گئے تھے ” تم دنیا کے لئے اپنا مذہب تبدیل کرنا چاہتے ہو۔ جو اپنے خدا سے وفادار نہیں وہ مجھ سے کہہ رہا ہے کہ وہ ساری زندگی مجھ سے وفا کرے گا ۔ تم اپنے لئے مجھے میرا رب چھوڑنے کا کہہ رہے ہو ؟ کس منہ سے محبت کا دعویٰ کرتے ہو تم ؟”
اس کا ضبط ختم ہوا ۔ آواز غراہٹ میں بدلی ۔ ایرک نے گال پر سے ہاتھ ہٹا کر اسے دیکھا ۔ اس نے ہونٹ بھینچ لئے تھے
” میرے نزدیک یہ اتنی بڑی بات نہیں تھی “
” تمہارے نزدیک نہیں ہوگی میرے نزدیک زندگی اور موت کا معاملہ ہے ۔ تمہاری مام یہ کرسکتی ہیں تو کیا ہر عورت کرلے گی ؟ میں موت کے خوف سے اپنے رب کو نا چھوڑوں تم مجھے دنیا کے لئے یہ کرنے کا کہہ رہے ہو ؟”
اس کا چہرہ سرخ تھا ۔ آنکھیں جیسی آگ میں ڈوبی ہوئی تھیں
” اوکے آئ ایم سوری ۔۔۔ مجھے علم نہیں تھا تم اتنا رئیکٹ کروگی “
وہ اب بھی تحمل سے اسے دیکھ رہا تھا ،نا اردگرد موجود لوگوں کی پرواہ تھی نا کسی اور کی ، وہ اسے تھپڑ مارچکی تھی وہ اب بھی ضبط کررہا تھا
” تم نے یہ سوچ بھی کیسے لیا ؟ یا اللہ “
اس نے بے یقینی سے نفی میں سر ہلایا ، گہرے سانس لئے پھر زکام زدہ سانس اندر اتاری ، جھپٹ کر بیگ اٹھایا
” تم بات مکمل کئے بغیر نہیں جا سکتیں معطر “
وہ آگے جارہی تھی جب وہ جھٹکے سے اس کے سامنے آیا
” تم نے بات ہی ختم کردی ہے ۔ میرے سامنے دفع ہوجاؤ “
” تم سمجھ کیوں نہیں رہیں۔مجھے علم نہیں تھا کہ تمہارا رئیکشن اتنا شدید ہوگا ۔ میں واقعی پتا نہیں یہ کیوں بول گیا ۔ سوری ۔۔۔ اچھا تم رکو ۔ میں ابھی یہی اسلام قبول کرلیتا ہوں۔ معاملہ ختم”
” تم اب اسلام قبول کرو یا وقت کے ولی بن جاؤ میں تمہیں دیکھنا بھی پسند نہیں کروں گی”
وہ رک کر پھنکاری ۔ اندر آگ دہک رہی تھی
” معطر ۔۔۔۔”
” میرا نام بھی مت لو ایرک ۔۔۔” انگلی اٹھائ ” میں تمہاری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی اب “
اس نے بس سے جانا تھا لیکن اس وقت یہ حال تھا کہ دل چاہ رہا تھا پوری دنیا کو آگ لگا دے ، کاٹ دار نظر ایرک پر ڈالی پھر ٹیکسی روکی
” تم خفا مت ہو “
” یہ قہر ہے ۔۔۔ “
اس نے ٹھک سے دروازہ بند کیا ۔۔ ایرک دو قدم پیچھے کو ہوا پھر خود پر لعنت بھیجی ۔ یہ وہ کیا کہہ بیٹھا تھا ؟ ٹیکسی اب اس کی نظروں سے دور جارہی تھی ۔ اس کے سامنے والے شیشے سے معطر کا سرخ پڑتا چہرہ نظر آرہا تھا ، وہ کئ لمحے وہیں ٹھہرا رہا پھر بالوں میں ہاتھ پھیرتے پیچھے کی طرف مڑا اور ایک ہاتھ سے ٹیبل پر مکا مارا
” تم زبان کے ساتھ کس قدر برے ہو ایرک”
خود کو کوئ بار کوسا پھر گہری سانس لیتے سیدھا ہوا تو نظر سرخ ڈائری پر گئ ، بے اختیار مڑ کر سڑک کی طرف دیکھا ، ٹیکسی وہاں نہیں تھی ، پیچھے کو مڑتے اس نے وہ ڈائری اٹھائ اور سر جھکائے دھیمے قدموں سے واپسی کی طرف مڑا ، وہ کل یا پھر پرسوں یا چند دن بعد معطر سے دوبارہ بات کرے گا ۔ وہ اسے بتائے گا کہ وہ یہ نہیں کہنا چاہتا تھا
وہ نہیں جانتا تھا کہ یہ آخری بار تھا جب اس نے وہ چہرہ دیکھا تھا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
گھر آنے کے بعد وہ سیدھا اوپر گئ ۔ بانو آپا جانے کہاں تھیں ۔ اسے اس وقت کسی کا سامنا کرنا بھی نہیں تھا
اندر باہر کسی نے آگ سی جلا رکھی تھی ۔ ایرک سے کم از کم وہ اس بات کی توقع نہیں رکھتی تھی۔ وہ کیا سمجھتا تھا اسے ؟ اتنی آسانی سے وہ یہ کیسے کہہ سکتا تھا ؟ چھوٹی بات تھی ؟ پانی کے کئ چھینٹے مار کر وہ باہر آئ ، مغرب کے قریب کا وقت تھا ۔ نماز پڑھی پھر کچن میں جا کر کھانا تیار کیا ۔ بانو آپا کو کال کی تو وہ کہنے لگیں کہ دیر ہوجائے گی ۔ وہ وہیں لاؤنج میں بیٹھ گئ ۔ چہرے پر ابھی تک غصہ تھا ۔ وہ ایسا سوچ بھی کیسے سکتا تھا ؟ اتنی بڑی بات ؟ اس کی بلا سے محبت کرتا ہو لیکن ۔۔
دفعتاً وہ چونکی ۔ موبائل پر کال آرہی تھی
بابا کالنگ
ساتھ ڈھیروں دل بنا رکھے تھے ۔ اس نے گہری سانس لیتے خود کو پرسکون کیا پھر موبائل کان سے لگایا
” السلام علیکم ، کیسے ہیں بابا ؟”
دوسری طرف کچھ دیر خاموشی چھائ رہی
” بابا ؟”
” تم واپس آجاؤ معطر “
” آپ تو یہ کہنا بھول نہیں گئے تھے ؟”
وہ مسکرائ ۔ پل بھر کو ہر شے بھول گئ
” میں نے یہ کہنا چھوڑ دیا تھا ۔ اب دوبارہ سے کہہ رہا ہوں “
” وقت لگتا ہے نا بابا ۔ ایسے اٹھ کر تو نہیں آ سکتی “
” جیسے بھی آنا ہے آؤ ۔ بس تم واپس آجاؤ “
وہ کچھ ٹھٹک کر سیدھی ہوئ ۔ وہ واپسی کا کہنا چھوڑ چکے تھے اب ایسا کیا ہوا تھا ؟
” بابا سب ٹھیک ہے ؟”
” نہیں ہے۔ میرا دل ٹھیک نہیں ہے ۔ تمہاری واپسی کے ساتھ میرے دل کی سلامتی جڑی ہے ۔ واپس آجاؤ معطر “
” آپ ٹھیک ہیں ؟ دانیال کہاں ہے ؟”
وہ گھبرا گئ
” سب یہاں ہیں ۔ صرف تم نہیں ہو ۔ تمہارا نا ہونا باقی سب کا ہونا بے معنی کررہا ہے “
وہ کچھ تھکے سے لہجے میں کہہ رہے تھے
” آپ مجھے پریشان کررہے ہیں بابا “
” تمہیں یاد ہے معطر تم دس سال کی تھیں جب میں نے تمہیں کہا تھا کہ اپنی ہمت بڑی رکھو ۔ جانے کیوں میں نے ہر وہ سبق جو تمہیں پڑھایا خود بھول گیا ہوں “
وہ سیدھی ہوتی صوفے سے اتری ۔ دل گھبرانے لگا
” بابا …”
” میں ٹھیک ہوں معطر ۔ میں تمہارا منتظر ہوں ۔ آجاؤ بچے اس سے پہلے کہ میں تیز چلتا نکل جاؤں ۔ ایک بار مجھ سے مل لو “
” میں آجاؤں گی ۔ میں آرہی ہوں آپ ایسی باتیں مت کریں ۔ میرے دل کو تکلیف ہورہی ہے “
” میرے دل میں بھی ۔ لیکن تم آرہی ہو نا ؟”
” میں آرہی ہوں۔۔میں کل ہی واپسی کی ٹکٹ بک کرواتی ہوں “
فون کی دوسری طرف اسے اب خاموشی سنائ دے رہی تھی
” میں تمہارا منتظر ہوں معطر “
کال کٹ گئ ، وہ فون ہاتھ میں لئے کھڑی رہی پھر چونکی ۔ ہاتھ چہرے پر گیا ۔ وہ رو رہی تھی ؟ اس کا دل آہستہ سے دھڑک رہا تھا ۔ باہر بیل بج رہی تھی ۔ وہ مرے مرے قدموں سے باہر کی طرف بڑھی ۔ دروازہ کھولا تو بانو آپا اندر آئیں
” دیر ہوگئ مجھے ۔ ۔ تم ڈری تو نہیں ؟”
وہ صوفے کی طرف جاتی پوچھ رہی تھیں ۔ اس کا سر ہلا
” میں ڈر رہی تھی آپا “
” سوری بچے ۔یہ مسز صفدر سے ملنے جاؤ تو ایسے ہی دیر ہوجاتی ہے ۔ ایک وہی یہاں اپنی لگتی ہیں۔ کھانا کھایا تم نے ؟”
” بھوک نہیں ہے”
وہ انہی مرے قدموں سے اوپر کی طرف بڑھی
” تم ٹھیک ہو ؟”
بانو آپا نے رک کر اسے دیکھا ۔ اس نے بس سر ہلایا اور اوپر بڑھ گئ ۔ دروازہ کھولتے موبائل بیڈ پر پھینکا اور صوفے پر پاؤں اوپر کرلئے
اتنا عجیب کیوں لگ رہا تھا ؟ اتنا زیادہ عجیب ؟ دل کی حالت ایسی کیوں تھی ؟ وجود کپکپا کیوں رہا تھا ؟ بابا کی آواز ۔ ان کا لہجہ ۔ وہ تڑپ ؟ یہ سب نارمل ہو کر نارمل کیوں نہیں لگ رہا تھا ؟ اس نے سر صوفے پر رکھا
وہ واپس چلی جائے گی ۔ اسے مزید یہاں نہیں رہنا تھا ۔ اس ملک سے دور ۔ اس ملک کے لوگوں سے دور ۔ وہ واپس اپنے ملک اپنے لوگوں میں چلی جائے گی ۔ یہاں اب وحشث ہورہی تھی ۔ وہ چلی جائے گی ۔ ہاں وہ چلی جائے گی ۔وہ کتنی ہی دیر وہیں بیٹھی رہی پھر جانے کب آنکھ لگ گئی
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
رات کا پہلا پہر تھا جب اس کی آنکھ جھٹکے سے کھلی ۔ پسینے میں شرابور چہرہ ۔ تیزی سے دھڑکتا دل ۔ کپکپاتا وجود ۔ وہ کتنی ہی دیر گہری سانسیں لیتی رہی ۔ دل ابل کر حلق میں آرہا تھا ۔ آنکھوں سے پانی نکل رہا تھا پھر وہ ٹھٹکی ۔ اردگرد دیکھا ۔ وہ لندن میں تھی اور اس نے خواب دیکھا تھا ۔ وہی خواب جو تب دیکھا تھا جب وہ ہاسپٹل میں تھی ۔ تیزی سے چلتے بابا اور انہیں رکنے کا کہتی وہ
جھٹکے سے کھڑے ہوتے وہ بیڈ تک گئ ۔ سر چکرا گیا ۔ کانپتے ہاتھوں سے فون اٹھایا ۔ دانیال کا نمبر ڈھونڈا ۔ آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا رہا تھا ۔ مناظر دھندلے ہورہے تھے ۔ گھنٹی جارہی تھی اس کا دل بند ہورہا تھا
” ہیلو۔۔۔۔”
دوسری طرف اس کی نیند میں ڈوبی آواز سنائ دی
” دا دانیال ۔۔۔ کہاں ہو ؟”
” معذرت کے ساتھ آپ کے ہاں بج رہے ہوں گے گیارہ لیکن یہاں رات کے دو بج رہے اور یہ سونے کا وقت ہے”
” تم جواب دو کہاں ہو ؟”
” تم صبح بھی یہ پوچھ سکتی تھیں۔ ظاہر ہے گھر پر ہوں “
وہ جھنجھلایا
” بابا کہاں ہیں ؟”
اس کے گال تر ہورہے تھے
” تمہیں ہوا کیا ہے معطر ؟ سورہے ہوں گے “
” تم پلیز جا کر دیکھو کہ وہ سورہے ہیں یا نہیں “
” رات کے اس وقت میں ان کے کمرے میں جاؤں ۔ وہ سورہے ہوں گے ڈسٹرب ہو جائیں گے “
” پلیز۔۔۔۔” اس کی ہچکی نکلی ” پلیز جاؤ ۔ میرا دل بند ہورہا ہے “
دانیال چونکا
” تم رو رہی ہو ؟”
” تم بابا کے پاس جاؤ ۔ دیکھو وہ سورہے ہیں یا نہیں۔ پھر مجھے بتانا “
” اچھا ٹھیک ہے ۔ تم رو مت ۔ میں جاتا ہوں۔ ریلیکس “
اس نے کال کاٹ دی ۔ وہیں بیڈ پر بیٹھے بیٹھے ہاتھ ہونٹوں پر رکھے سسکیاں دبانے لگی ۔ بابا ٹھیک ہوں گے ۔ وہ ٹھیک ہوں گے ۔ یہ صرف خواب تھا۔ صرف خواب
چند منٹ گزرے پھر آدھا گھنٹہ ۔ وہ بے چینی سے اٹھتی کمرے میں چکر لگانے لگی ۔ دانیال کو کال کی لیکن وہ اٹھا نہیں رہا تھا ۔ بابا کو کی نمبر بند تھا ۔ گھر پر کی کسی نے اٹھائ نہیں ۔ اس کا سر نفی میں ہل رہا تھا ۔ قدم تھک گئے تھے ۔ دل مر رہا تھا ۔ قریب دو گھنٹے بعد جب وہ سوویں دفعہ اسے کال ملا رہی تھی تو دانیال کی کال آنے لگی۔ اس نے فوراً فون کان سے لگایا
” کہاں چلے گئے تھے ؟ “
وہ چلائ۔ دوسری طرف خاموشی تھی
” تمہیں احساس ہے میں یہاں مرنے لگی تھی ۔ پانچ منٹ کا کام تھا دو گھنٹے کون لیتا ہے ؟ تم سو گئے تھے نا ؟ تم یقیناً سو گئے تھے ؟”
وہ چپ تھا
” اب بولو بھی ۔۔۔” اس نے بے دردی سے آنسو رگڑے ” بابا سو رہے ہیں نا ؟وہ سورہے ہیں نا دانیال ؟”
اس کی ہچکی نکلی
” معطر ۔۔۔”
اس کی آواز بھاری تھی
” تم جواب کیوں نہیں دے رہے ؟ بابا کیسے ہیں ؟ ان کی ایک تصویر بنا کر بھیج دو پلیز ۔ میں نے صدیاں ہوگئ ہیں ان کا چہرہ نہیں دیکھا “
وہ ہچکیوں سے رو رہی تھی
” میری بات سنو “
” میں سن رہی ہوں ۔ تم کہو کہ وہ ٹھیک ہیں “
” ان کو ہارٹ اٹیک آیا تھا”
” میں یہ نہیں سننا چاہ رہی ۔۔ پلیز کچھ اور کہو۔ تم میری ان سے بات کروادو ۔ ان سے کہو میں آرہی ہوں “
وہ وہیں نیچے بیٹھی۔ ہچکیاں بلند ہوگئیں
” وہ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے ہیں “
وہ دوسری طرف رو رہا تھا
” ان سے کہو میں آرہی ہوں۔ پلیز دانیال ان سے کہو وہ میرا انتظار کریں “
اس نے دانیال کو نہیں سنا تھا ۔ اس کی ہچکیاں بلند ہوگئیں
” وہ ہمارے ساتھ نہیں رہے معطر “
” چپ کرو ۔ پلیز چپ کرو ۔ مجھے ان کی تصویر دکھا دو دانیال ۔ مجھے ان کی یاد آرہی ہے”
دروازہ یکدم کھلا اور بانو آپا گھبرائے چہرے کے ساتھ اندر آئیں ۔ اسے فرش پر ہچکیوں سے روتے دیکھ قدم وہیں جم گئے پھر تیزی سے اس تک آئیں
” معطر سنبھالو خود کو “
وہ دوسری طرف ضبط سے کہہ رہا تھا
” نہیں۔ میری ان سے بات کروادو ۔ تم سن کیوں نہیں رہے ؟ میں کال کررہی ہوں وہ اٹھا نہیں رہے ۔ میں واپس آجاؤں گی لیکن ان سے کہو وہ مجھ سے بات کرلیں “
” معطر ۔۔۔۔”
بانو آپا نے وہیں نیچے بیٹھے اسے گلے سے لگایا
” تم سن رہے ہو ؟ کچھ کہو پلیز “
اس کا دل پھٹ رہا تھا ۔ نا ہوش تھا نا کچھ احساس
” معطر بابا چکے ہیں”
” چپ کرو ۔ چپ کرجاؤ ۔ مت کہو “
وہ روتے روتے چیخی ۔ بانو نے موبائل اس کے کان سے لیا
” ہیلو ؟ میں بانو بیگم بات کررہی ہوں “
دوسری طرف کچھ کہا گیا ۔ ان کا چہرہ زرد ہوا پھر معطر کو دیکھا ۔ وہ مسلسل روتے ہوئے بابا کہے جارہی تھی
” اس کا دھیان رکھیں پلیز ۔ میں اس کی ٹکٹ بک کرواتا ہوں “
انہوں نے کال کاٹ دی پھر معطر کو زور سے بھینچا
” بچے چپ کرو “
” وہ کیا کہہ رہا تھا ؟ وہ بول کیوں نہیں رہا تھا آپا ؟ وہ کہہ رہا تھا نا کہ بابا ٹھیک ہیں ؟”
وہ رو رہی تھی۔ مسلسل۔ کرب سے ۔ ہچکیوں سے ۔ آواز سے
” وہ ٹھیک ہیں۔ وہ اب ٹھیک ہیں۔ تم چپ کرو “
اس کا سر نفی میں ہلا ۔ دل بند ہونے لگا۔ حواس کام کرنا چھوڑتے گئے۔ وہ ان کے سینے سے لگے ہوش و خرد سے بیگانہ ہوگئ ۔ کان میں کوئ جملہ گونجا
” میرے مرنے سے پہلے واپس آجاؤ گی نا ؟”
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ایک ماہ اور چار دن وہ یوں مصروف رہا گویا دنیا میں ایرک کیان نام کے شخص کا وجود ہی نہیں پایا جاتا ۔ اگزیمز کی تیاری پھر اگزیمز ۔ آج جا کر جیسے ہر شے سے فرصت ملی تھی تو وہ بانو آپا کے گھر آیا تھا ۔ دروازہ کھلا تو وہ مسکرایا
” سلام علیکم ۔ کیسی ہیں ؟”
اردو کے چار لفظ جو اسے آتے تھے ۔ بانو آپا اسے دیکھ کر ٹھٹکیں پھر دروازہ بند کیا
” تم یہاں کیا کررہے ہو ؟”
“آپ سے مل رہا ہوں۔ معطر سے ملنے آیا تھا ۔ اسے بلا دیں پلیز “
” وہ یہاں نہیں ہے “
ان کا چہرہ سپاٹ ہوا
” کیفے سے تو میں ہو کر آرہا ہوں ۔ وہ وہاں نہیں تھی ۔ کہیں اور جاب سٹارٹ کردی ہے ؟ ایڈریس بتادیں پلیز “
وہ عجلت میں لگ رہا تھا ۔ جیسے بس جلدی سے معطر سے ملاقات ہوجائے
” وہ جاب پر نہیں ہے “
” کہیں اور گئ ہے ؟”
” نہیں “
” پھر کہاں ہے ؟”
اندر ہی اندر وہ کچھ جھنجھلا یا ۔ وہ صاف صاف بتا کیوں نہیں رہی تھیں ؟
” میں نے کہاں نا وہ یہاں نہیں ہے ایرک “
” وہی تو پوچھ رہا ہوں کہ کہاں ہے ؟ لندن…”
” وہ پاکستان واپس جا چکی ہے “
اس کا منہ بند ہوا ۔ چہرے پر بے یقینی پھیلی
” کب ؟”
” ایک ماہ ہوگیا ہے “
” لیکن کیوں ؟”
اسے یکدم پوری دنیا گھومتی ہوئ محسوس ہوئ
” اس کے فادر کی ڈیتھ ہوگئ تھی “
” اوہ ۔۔۔۔” دل میں دکھ سا ابھرا ” میں نہیں جانتا تھا “
” یقیناً….”
انہوں نے سر کو خم دیا ۔ چہرے پر تھکن سی تھی پھر دروازے کی طرف مڑیں
” کب تک واپس آئے گی وہ ؟”
وہ جو پلٹ رہی تھیں رک کر اسے دیکھا
” وہ ہمیشہ کے لئے واپس چلی گئی ہے ایرک “
اس لمحے ایرک کیان کا دل کسی نے مٹھی میں بھینچا
” ہمیشہ کے لئے ؟”
” ہمیشہ کے لئے “
” لیکن کیوں ؟ ایسے کیسے جا سکتی ہے وہ “
اس کے چہرے سے کسی نے زندگی نچوڑ لی تھی
” وہ اپنے باپ کے لئے یہاں کما رہی تھی ۔ وہی نہیں رہے تو کس کے لئے یہاں رہتی ؟”
” آئ کین انڈرسٹینڈ لیکن بنا کوئ بات کئے ۔ بنا ملے ایسے کیسے جاسکتی ہے ؟ آپ کے پاس ایڈریس ہے اس کا ؟ میں کال کرتا رہا ہوں لیکن نمبر بند ہے اس کا “
وہ جیبوں میں ہاتھ ڈالے سامنے کھڑا تھا ۔ پاؤں بے چینی سے اوپر نیچے ہورہے تھے ۔ چلی گئی ؟ ایسے کیسے ؟ ہاں ٹھیک ہے لیکن واپس تو آئے ۔ ہمیشہ کے لئے کیسے جاسکتی ہے وہ ؟
” اس نے نمبر بند کروادیا تھا میں جانتی ہوں “
” پھر آپ کے پاس اس کا ایڈریس بھی ہوگا ۔ بتائیں پلیز “
اس نے موبائل نکالتے ایڈریس نوٹ کرنا چاہا ۔ اگر اسے معطر کے لئے پاکستان جانا پڑا تو وہ یہ بھی کرسکتا تھا
” میرے پاس اس کا ایڈریس نہیں ہے”
اس کا سر بے ساختہ اٹھا
” جی؟”
” میرے پاس معطر کا ایڈریس نہیں ہے”
ان کا چہرہ بے تاثر تھا ۔ ایرک چند لمحے کو بالکل چپ رہ گیا
” آپ جھوٹ بول رہی ہیں نا ؟”
” میں جھوٹ کیوں بولوں گی ؟ اور تم سے کیوں بولوں گی ؟”
وہ کچھ بے چینی سے پہلی سیڑھی پر آیا
” دیکھیں۔۔۔ میرا اس سے ملنا ضروری ہے ۔ آپ کو اس کا ایڈریس معلوم ہے تو پلیز مجھے بتادیں “
اس کے چہرے پر دنیا جہاں کی بے چینی سمٹ آئ تھی
” میں نہیں جانتی “
” پلیز ۔۔۔۔۔”
” میں نے کہا نا میں نہیں جانتی “
” وہ مجھ سے ناراض تھی ۔ اوہ خدایا ۔ آپ سمجھ نہیں رہیں “
اس نے بے بسی سے بالوں میں ہاتھ پھیرا ۔ پہلی بار اندازہ ہوا صورتحال کیا تھی
” اس کی ناراضگی اس کے ساتھ چلی گئ ۔ بھول جاو کہ وہ ناراض تھی ” انہوں نے قدم پیچھے لئے پھر دروازہ کھولتے بند کرنے سے پہلے ایک نظر ایرک پر ڈالی ” آئندہ یہاں مت آنا ۔ جس لڑکی کے لئے تم میرے گھر کے چکر لگایا کرتے تھے وہ میرا گھر اور تمہارا ملک چھوڑ کر جا چکی ہے ۔ بہتر ہوگا کہ بھلادو کہ تم لاھور کی کسی لڑکی کو جانتے تھے “
انہوں نے کھٹاک سے دروازہ اس کے منہ پر بند کردیا ۔ ایرک نے آنکھیں بند کیں پھر تھک کر وہیں سیڑھیوں پر بیٹھا
آسان تھا یوں اس ایک لڑکی کو بھلانا ؟
آسان تھا اس ایک مشرقی لڑکی کو دل سے نکالنا ؟
وہ گئ تھی تو دل بھی ساتھ لے گئ تھی
ایرک کیان خود کو بھول سکتا تھا لیکن لاھور کے پرانے محلے کی اس لڑکی کو نہیں جو ملاقات ادھوری چھوڑ کر گئ تھی
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
