Laa By Fatima Noor Readelle50338

Laa By Fatima Noor Readelle50338 Laa (Episode 36) Last Episode (Last Part)

192.3K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Laa (Episode 36) Last Episode (Last Part)

Laa By Fatima Noor

” یہ کچھ نہیں کرے گا معطر ، یہ صرف تمہیں ڈرا رہا ہے ، یہ صرف طریقہ بدل کر تمہیں ڈرا رہا ہے “

وہ بے خوف تھا جیسے اسے معلوم تھا کچھ نہیں ہوگا

” تمہیں یوں لگتا ہے تو یوں ہی صحیح “

اس نے پسٹل کا زور بڑھایا ، ہاتھ ٹریگر پر گیا ، معطر کے منہ سے چیخ نکلی لیکن کلک کی آواز اس سے زیادہ بھاری تھی ، آواز نکلی اور پل بھر کو اردگرد سب تھم گیا ، معطر صبا کی سانس اندر رکی ،روح باہر نکلی، چہرہ یوں ہو گیا گویا کسی نے سفید پینٹ پھینک دیا ہو ،کئ لمحے وہ ساکت رہی پھر نظر تیمور پر گئ ، وہ غضبناک نظروں سے سامنے کھڑے لڑکے کو دیکھ رہا تھا ، معطر نے رخ پھیرا ، اس لڑکے کی آنکھیں بند تھیں ، پھر اس کی نظر اس کے سینے پر گئ وہاں پسٹل کی نال رکھی تھی اور…..وہ تھک کر پیچھے صوفے پر بیٹھی

گولی نہیں چلی تھی

کسی نے سانس باہر نکالی ، روح اندر ڈالی ، وہ چہرے پر دونوں ہاتھ رکھے رو دی ، اس کی دائیں سمت ٹھہرے آدم کی بند آنکھیں کھلیں اس نے اپنے سینے کو دیکھا پھر تھکی سی سانس باہر نکالی ، پل بھر کو واقعی لگا کہ گولی سینے میں اتر گئ ہو ، اس نے ہاتھ تیمور کے ہاتھ پر سختی سے جمایا پھر اسے پیچھے دھکیلا ، وہ لڑکھڑایا ، چہرہ سفید پڑا ، ہاتھ میں تھامی پسٹل کو بے یقینی سے دیکھا

” پہلے چیک تو کرلیتے کہ گولیاں ڈالی تھیں یا نہیں”

چبا چبا کر کہتے اس نے تیمور کو ایک اور دھکا دیا

” یہ کیسے …”

اس کی زبان لڑکھڑا گئی پھر بے یقین نظریں رضیہ کی طرف گئیں

” امی …..”

” مجھے ۔۔۔ مجھے لگا کہ۔۔۔ تم خود کو ختم کردو گے ، اس ۔۔ لئے نکال دی تھیں “

وہ معطر سے زیادہ نڈھال تھیں گرنے کے انداز میں صوفے پر بیٹھیں ، ان کی آواز ہچکیوں میں بدل گئ ، ساجدہ نے بے ساختہ دانیال کو تھاما جو درشت نظروں سے تیمور کو دیکھ رہا تھا ، صدمہ زدہ عون اب تک دروازے میں ٹھہرا تھا ، اس کے ساتھ ٹھہری مبشرہ گہری سانس لیتے خود کو یقین دلا رہی تھی کہ سب ٹھیک تھا

” کس کی اجازت سے نکالیں گولیاں ” وہ اپنی ماں پر دبی دبی آواز میں چلایا

ایک کلک سے پیدا ہونے والا خوف ختم ہوگیا تھا ، فضا میں ٹھہری کافور کی خوشبو ختم ہوگئ ، کسی نے مردہ وجودوں میں جان ڈالی ، چہرے پر ہاتھ رکھ کر روتی معطر نے تیمور کی آواز پر ہاتھ ہٹائے ، چند لمحے اسے دیکھتی رہی پھر وہ آنسو صاف کئے بغیر اٹھی ، تیمور تک آتے اس کے سینے پر ہاتھ رکھے اسے دھکا دیا

” تم کب تک میری جان نکالتے رہو گے تیمور ؟ کتنی بار نکالو گے ؟ مر کیوں نہیں جاتے تم ؟”

وہ چیخ رہی تھی ، جس پر چیخ رہی تھی اس کی آنکھوں سے کسی نے واقعی جان نکالی تھی

” معطر ۔۔۔۔۔ “

” میرا نام مت لو تم ، مت لو میرا نام ، میں نے اچھے دنوں کی چاہ میں تم سے محبت کی ، تم برے دن بن گئے ، اللہ تمہیں غارت کرے تیمور “

اس نے ایک مکا اس کے سینے پر مارا ، آدم پیچھے سے آگے کو بڑھا اور اسے تھاما

” معطر….”

” اسے کچھ ہوجاتا تو ؟ وہ مرجاتا تو ؟ میرے جسم سے نکل جانے والی جان کیسے واپس لوٹتی ؟ وہ اچھے دن لانے والا تھا ، تم ان اچھے دنوں میں بھی برے لمحے کی طرح آ گئے “

اس کے آنسو تواتر سے بہہ رہے تھے ، آدم نے اس کے کاندھے کو تھامتے پیچھے کیا

” میں صرف تم سے محبت کرتا ہوں معطر “

وہ نا آدم کو دیکھ رہا تھا نا کسی اور کو ، وہ اس لڑکی کو دیکھ رہا تھا جو تین سال پہلے اس کے کمرے میں آئ تھی اور اس سے کہہ رہی تھی کہ وہ اس کا دل نا توڑے ،تیمور حیدر نے یاد کرنا چاہا کیا اس کے لہجے میں بھی ایسی ہی اذیت تھی جو اس وقت اس کے اندر تھی ؟

” محبت نہیں ضد کہو ، تم تین سال پہلے پیچھے ہٹ گئے تھے میں تین سال پہلے دور چلی گئ ، تمہارا پیچھے ہٹنا مبارک میرا دور ہونا خیر ، پھر تم میری زندگی میں آئے اور میرے باپ کو چھین لیا ، تم میرے باپ کے قاتل ہو ، کس محبت کا دعویٰ کررہے ہو ؟”

تیمور کا سر نفی میں ہلا ، باہر سے سائرن کی آواز آرہی تھی ، معطر کو تھام کر ٹھہرے آدم نے دانیال کو اشارہ کیا وہ سر کو خم دیتا دروازے کی طرف گیا

” میں صرف تم سے محبت کرتا ہوں معطر”

” میری بیوی کا نام مت لو تیمور ” اسے اپنے ساتھ ٹھہرائے وہ سخت لہجے میں بولا ، تیمور رکا ، روتی ہوئ معطر جس کی آنکھیں سرخ تھیں ، اس کے کاندھے پر بازوں پھیلائے آدم ، وہ انہیں دیکھے گیا ، داستان تو مکمل تھی ، کردار پورے تھے ، اختتام سامنے تھا ، تو کیا کہانی کا ولن وہ خود تھا ؟ ، اس کے اندر کچھ زور سے ٹوٹا ، دروازے سے وردی میں ملبوس پولیس والا اندر آرہا تھا

” یہ ہے تیمور حیدر “

دانیال کی آواز پر سب کی نظر لاؤنج کے سرے پر گئ سوائے تیمور کے ، وہ اب بھی معطر کو دیکھ رہا تھا

” ہمارے پاس رپورٹ درج کرائ گئ ہے تیمور حیدر کے خلاف “

آدم معطر سے دور ہوتا پولیس انسپکٹر تک آیا ، ہاتھ بڑھاتے سلام کیا

” میں آدم کیان ہوں “

” جانتا ہوں آپ کو ، ہمارے پاس اریسٹ وارنٹ ہیں ان جناب کے “

” میں آپ کو روک نہیں رہا ، بلکہ مدد کررہا ہوں ، ایک مقدمہ اب مجھے بھی درج کرانا ہے تیمور پر” وہ تیمور کو دیکھتا بولا جس نے پہلی بار معطر سے نظر ہٹا کر آدم کو دیکھا تھا پھر انسپکٹر کو

” کس لئے گرفتار کرنے آئے ہیں میرے بیٹے کو ؟”

رضیہ پھپھو ہونق چہرے سے اٹھیں

” ان کے ڈسٹری بیوٹر فرید الدین نے رپورٹ درج کرائ ہے کہ ان کو بیچے گئے مصالحہ جات میں نقصان دہ کیمیکلز ملائے گئے تھے جس سے ان کے کئ گاہک بیمار ہوکر ہوسپٹل میں ایڈمٹ ہیں ، دو چار اور ڈیلرز نے بھی رپورٹ درج کرائ ہے ۔ “

تیمور کی آنکھوں میں پہلی بار کوئ ہلکا سا خوف ہلکا سا چونکنے کا تاثر ابھرا

” جھوٹ بول رہے ہیں یہ سب ، ہمارے مصالحے فوڈ اتھارٹی کی طرف سے کلیئر قرار دیئے گئے ہیں ” وہ بھڑکا

” پرانی بات ہے یہ تیمور صاحب ، ہم نے دوبارہ ٹیسٹس کروائے ہیں اور ان کی بات سچ ہے ، آپ جیل جارہے ہیں اور صرف اسی مقدمے کی وجہ سے نہیں جارہے “

” کیا مطلب ؟”

” آپ کی اہلیہ نازنین عامر نے آپ کے خلاف ڈومیسٹک وائلنس کا کیس درج کروایا ہے “

رضیہ پھپھو کے ساتھ ساتھ باقی سب بھی چونکے تھے ، ان سب میں واحد آدم تھا جو سکون سے تیمور کو دیکھ رہا تھا

” یہ ۔ یہ سب بکواس ہے ،میں نے کبھی اس پر ہاتھ نہیں اٹھایا “

وہ ابھی تک گن تھامے ہوئے تھا ، وہ ابھی تک طیش میں تھا ، آدم کھنکھارا ، سب کی نظر اس پر گئ

” ایک کیس نیا بھی شامل کرلیں ، تیمور حیدر نے ابھی ابھی مجھ پر قاتلانہ حملہ کیا ہے ، گن اس کے ہاتھ میں ہے ، گواہان آپ کے سامنے ہیں ، وہ تو شکر ہے اتفاق سے گن خالی تھی ورنہ اس وقت تک میں زندہ نا ہوتا “

انسپکٹر کی نظر تیمور کے ہاتھ پر گئ ، اس نے گن یوں پھینکی جیسے انگارہ ہو

” میں نے کچھ نہیں کیا”

” یہ عدالت طے کرے گی ، جبران اندر آ کر اریسٹ کرو اسے “

” نہیں رکیں ، بات سنیں ، نازنین جھوٹ بول رہی ہے ، وہ غلط کہہ رہی ہے”

رضیہ پھپھو فوراً تیمور کے ساتھ آ ٹھہریں ، تیمور اب آدم کو گھور رہا تھا جو جیبوں میں ہاتھ ڈالے سکون سے اس کے سامنے آیا

” تیمور حیدر ، اگر میں کہتا ہوں کہ میری بیوی سے دور رہو تو تمہیں اس سے دور رہنا چاہئے ، اگر میں کہتا ہوں کہ میری دھمکی سے ڈرو تو ڈرنا چاہئے ، میں نے مذہب بدلا ہے ، فطرت نہیں ، نام بدلا ہے ،کام نہیں ، اور اب تم دیکھو گے کہ میں تمہیں کیسے عدالتوں ،جیل اور وکیلوں کے دفاتر کے دھکے کھلاؤں گا” اس کے سامنے ٹھہرتے چبا چبا کر کہتے وہ وہی آدم کیان لگ رہا تھا جس کے بارے میں برطانیہ میں مشہور تھا کہ اس کے اردگرد رہنے والے انسان کو مشہور یا بدنام ہونے سے کوئ نہیں بچا سکتا

” یہ سب تم نے کیا ہے ؟” وہ پوچھ نہیں رہا تھا بتارہا تھا اور غصے سے بتارہا تھا

” یہ سب تم نے خود کیا ہے ،میں صرف تمہارا کیا گیا ڈھونڈ کر سامنے لایا ہوں ، پہلے ہی بہت کیس تھے تم پر ۔ مجھ پر حملہ کرکے مزید مشکل کھڑی کرلی اپنے لئے” افسوس سے اسے دیکھا ، تیمور بپھر کر آگے کو ہوا جب وہ دو قدم پیچھے ہٹا ، سر ہلکا سا جھکایا اور تپانے والے انداز میں مسکرایا ” تھینکس می لیٹر “

وہ مڑتا معطر کے ساتھ آ ٹھہرا جس نے اسے دیکھتے خفگی سے رخ موڑ لیا تھا

” باقی باتیں بعد میں ہوں گی اریسٹ کرو اسے جبران “

سپاہی آگے بڑھتا اس کی طرف آرہا تھا ،نفی میں سر ہلاتی رضیہ کو لیڈی کانسٹیبل نے پکڑ کر پیچھے کیا ، دوسرا کانسٹیبل نیچے پڑی گن اٹھاتا تیمور کی طرف بڑھ رہا تھا ، صوفے کے ساتھ کھڑی ساجدہ افسوس اور ان کے دائیں بائیں ٹھہرے عون اور مبشرہ نفرت سے ان دونوں کو دیکھتے رہے ، تیمور کو ہتھکڑی لگا کر کانسٹیبل لے جانے لگا تو وہ وہیں جم گیا ، کانسٹیبل ناگواری سے اسے دیکھتے کچھ کہنے لگا پھر رکا ، تیمور اپنی ماں کی طرف جارہا تھا، وہ جو لیڈی کانسٹیبل سے خود کو چھڑوانے کی کوشش کررہی تھیں تیمور کو آتے دیکھ رکیں

” میں آپ سے کچھ کہنا چاہتا تھا امی “

” تمہیں کچھ نہیں ہوگا تیمور ، میں…”

” میری بات سنیں امی ” رضیہ یکدم رک کر اسے دیکھنے لگیں ، وہ ان کے سامنے ٹھہرا تھا ، آنکھوں میں نرمی تھی ” میں آپ سے کہنا چاہتا تھا امی کہ میں بچپن سے جوانی تک آپ کا شکر گزار رہا ہوں ، آپ نے ابو کے بعد مجھے پالا اور ماں اور باپ دونوں بن کر پالا ، مجھے آپ سے ماں اور باپ دونوں کے حصے کی محبت ہے ، اس محبت نے مجھ سے معطر کو بھی لے لیا ، میں آپ سے ہمیشہ کہنا چاہتا تھا لیکن نہیں کہہ سکا ، آج یہاں مجھے کہہ لینے دیں ” اس نے رک کر ایک سانس لی ” میں آپ سے اس دنیا میں سب سے زیادہ محبت کرتا ہوں امی لیکن آپ اچھی ماں نہیں ہیں ، آپ نے مجھے اپنا غلام بنا لیا تھا ، میں نے ہمیشہ آپ کے زہن سے سوچا ، آپ کے کہے پر عمل کیا ، میں آپ کا بیٹا تھا لیکن پھر غلام بن گیا ، میں نے جب غلامی کی زنجیریں اتاریں تو بہت دیر ہوگئ تھی ، میں جن دو عورتوں سے محبت کرتا تھا مجھے ان دو عورتوں کو برابر رکھنا چاہئیے تھا ، میں نہیں رکھ سکا ، مجھے کہنے دیں امی کہ میری بربادی کی زمہ داری ماموں اور آپ دونوں پر آتی ہے ، آپ بری ماں تھیں امی ، آپ ہاجرہ کے لئے اچھی ماں بن گئیں لیکن میرے لئے صرف ” ماں ” بنیں ، آپ سے محبت نے مجھ سے میری سب محبتیں چھین لیں ” وہ ایک قدم آگے کو ہوا اور ساکت ٹھہری رضیہ کے سر پر بوسہ دیا ، چند لمحے یوں ہی ٹھہرا رہا پھر پیچھے کو ہوا اور اُنہیں دیکھا ” اور میں اس کے لئے آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گا امی ، کبھی بھی نہیں “

وہ دو قدم پیچھے مڑا ، آنکھوں میں ٹوٹے کانچ بکھرے ، ساکت ٹھہری رضیہ میں کوئ جنبش نا ہوئ ،تیمور پلٹا پھر رکا ، معطر اور اس کے ساتھ ٹھہرا آدم ، وہ ان تک آیا ، کانسٹیبل کا منہ بنا لیکن وہ اسے نہیں دیکھ رہا تھا وہ معطر کو دیکھ رہا تھا جس کی آنکھوں میں تنفر تھا

” میں نے جب کہا تھا کہ تم زندگی میں سرخ گلاب کی طرح آئ ہو تو سچ کہا تھا معطر ، تم واقعی سرخ گلاب تھیں ،مجھے افسوس ہے کہ میں نے تمہیں کھو دیا ، دل کے اندر میں کبھی تمہیں کسی اور مرد کے ساتھ خوش نہیں دیکھنا چاہوں گا ، کبھی بھی نہیں ، تم کہو گی یہ انا ہے ، لیکن میں نے جان لیا کہ یہ محبت ہے معطر ” اس کی آواز آہستہ ہوئ ” اور اگر مجھے موقع ملے تو میں دوبارہ تمہارے شوہر کو مارنے کی کوشش کروں گا ، اور ضرور کروں گا ، تم اسے بھی پاگل پن کہو گی لیکن معطر ۔۔۔ یہ ۔۔۔بھی ۔۔۔۔محبت ۔۔۔ہے “

دھیمی سی سرگوشی میں کہتے وہ پیچھے ہوا ، چند لمحے اس کے چہرے کو دیکھا پھر آدم کو

” تم جیتے نہیں ہو آدم ، ابھی نہیں جیتے ، اس ملک کا نظام مجھے قید نہیں رکھ پائے گا تو منتظر رہو کہ میں کب باہر آتا ہوں “

” میں بہت زیادہ ڈر گیا ہوں تیمور ،یقین کرو “

آدم نے بے زاری سے آنکھیں گھمائ ، وہ ہلکا سا مسکرایا پھر معطر کو دیکھا

” مجھے واقعی افسوس ہے معطر ، تمہیں کھونے کا مجھے واقعی افسوس ہے “

وہ پلٹ گیا ، پولیس آگے جارہی تھی ، ساکت مجسمے جیسی رضیہ وہیں تھیں ، معطر سر جھٹکتی صوفے پر بیٹھی ، اس کا وجود غائب ہوتا گیا پھر دروازہ کھلا اور تیمور حیدر ان کے گھر اور زندگیوں سے چلا گیا ، وہ جاتے جاتے کسی پر زہر پھونک کر گیا تھا ، وہی جو ساکت ٹھہری تھیں پھر وہ ہلیں ، معطر کو دیکھا پھر آدم کو ، پھر پیچھے کی طرف مڑتے بیگ اٹھایا اور دروازے کی طرف بڑھیں ، قدم آہستہ تھے ، تھکے سے لیکن وہ چل رہی تھیں ، انہیں تیمور کے پاس جانا تھا ، تیمور کو ان کی ضرورت تھی

معطر آنکھوں میں تپش لئے انہیں دیکھتی رہی ، سارا قصور ان کا تھا

” مجھے تو لگا بس گولی چل ہی گئ ہے”

خاموش ماحول میں پہلی آواز مبشرہ کی گونجی ، معطر کو دیکھتے آدم نے رخ موڑ کر اسے دیکھا

” میں نے کہا تھا نا کہ وہ صرف ڈرا رہا ہے”

” ڈرا نہیں رہا تھا ” اب کے اس کی نظر معطر پر گئ جو سلگتی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی ” اس نے گولی چلا دی تھی ، اگر گن خالی نا ہوتی تو تم یہاں زندہ نا ٹھہرے ہوتے “

” گن خالی نا بھی ہوتی تب بھی میری قسمت میں مرنا نہیں لکھا تھا معطر “

معطر اسے گھورتی رہی پھر اٹھ کر اس تک آئ

” خود کشی کا شوق چڑھا ہے تمہیں ؟”

” خود کشی ؟” وہ سٹپٹایا ، ایک نظر حاضرین پر ڈالی پھر اس کے بپھرے انداز پر

” مجھ سے یہ تو مت ہی کہو کہ وہ تمہیں مار رہا تھا ، کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ تم خود کو اس کے سامنے مرنے کے لئے پیش کررہے تھے “

” استغفرُاللہ معطر ، میں کیوں ایسا کروں گا ؟” اس نے آنکھیں گھمائیں

” جھوٹ مت بولو ، جب میں کہہ رہی تھی کہ اسے مت بھڑکاؤ تو چپ کیوں نہیں کی تم نے ؟ وہ پسٹل رکھے ہوئے تھا تم پر ، پسٹل میں گولی ہوتی تو ؟” وہ غصے میں تھی ، غصے میں بھی رو رہی تھی

” میں ۔۔۔”

” میں نے کہا جھوٹ مت بولو آدم کیان “

اس بار وہ چیخی تھی ، آدم نے ہاتھ احتیاطاً اوپر اٹھائے پھر رک کر سانس لی

” اچھا ٹھیک ہے ، میں قبول کرتا ہوں ،میں جان بوجھ کر اسے غصہ دلارہا تھا تاکہ وہ گولی چلائے لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں تھا کہ میں خودکشی کا ارادہ رکھتا تھا ،میں صرف پولیس کی آمد کا انتظار کررہا تھا جنہیں میں نے دانیال کے بتانے پر پہلے ہی کال کردی تھی ، لیکن تمہارے ملک کی پولیس نے دیر کردی وہ تو میری قسمت اچھی تھی کہ گن خالی تھی لیکن واللہ میرا خود کشی کا ارادہ نہیں تھا “

معطر کے چہرے پر شاک کی سی کیفیت چھا گئ ، عون پیچھے ٹھہری ساجدہ کو ترجمہ کرتا بتا رہا تھا

” کیوں کیا تم نے یہ سب ؟”

” کیونکہ میں جانے سے پہلے یہ تیمور نامی بلا کا خاتمہ کرکے جانا چاہتا تھا ، نجیب نے مجھے یہ ساری معلومات لا کر دی تھیں ، میں نے جاکر ان ڈیلرز کو کیس کرنے پر رضا مند کیا لیکن مجھے معلوم تھا یہ کافی نہیں ہوگا ، عنقریب وہ چھوٹ جاتا اور یقیناً چھوٹ جاتا کیونکہ بقول نجیب تمہارے ملک میں پیسوں سے کسی کو خریدنا بازار سے سوٹ خریدنے جیسا ہے ، تو مجھے کوئ ایسا چاہئے تھا جو تیمور پر کیس کرے اور جسے تیمور خرید نا سکے ، کسی دوسرے پر بھروسہ کرنے کی بجائے میں نے وہ انسان خود کو بنا لیا ، اب کم ازکم مجھ پر قاتلانہ حملہ کرنے کی وجہ سے میں اسے کئ سال جیل سے باہر نہیں نکلنے دوں گا “

اختتام تک اس کی آواز سخت ہوگئ

” تو پھر تو یہ جھوٹا کیس ہوا نا ؟”

” جھوٹا کیس نہیں ہے مبشرہ ، میں نے اسے خود پر گولی چلانے کا نہیں کہا تھا ، گن اس نے خود نکالی تھی میں نے صرف اسے اکسایا تھا ” نظر واپس معطر کی طرف موڑی جو کھاجانے والی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی ، اس نے دنیا جہاں کی معصومیت چہرے پر سجالی ” آئ ایم سوری “

” تم ہر بار سب کچھ صرف سوری سے کیوں ٹھیک کردینا چاہتے ہو ؟” وہ تپی ، آنسو مزید تیزی سے چہرے پر گرے ” اگر تمہیں کچھ ہوجاتا تو ؟ “

” کچھ ہوا تو نہیں نا “

” ہوجاتا تو ؟”

” تو ….؟”

تو ؟ وہ رک کر اسے دیکھنے لگی ، اس کے سینے پر رکھی پسٹل ، کلک کی آواز ، جسم سے نکلتی جان ، سفید پڑتا چہرہ ، وہ اب بھی پوچھ رہا تھا تو ؟ وہ اسے گھورتی رہی پھر سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئ

” اپنی شاپنگ کا سامان تو لیتی جاؤ “

وہ پیچھے سے بولا تھا

” پھینک دو کہیں پہ “

اس کی بے چارگی مزید بڑھی ، اب یہ روٹھی مشرقی بیوی کو کیسے مناتے ہیں ؟ دانیال مسکراہٹ دباتا اس تک آیا ، مبشرہ اور عون کھی کھی کرتے جاچکے تھے

” آدم بھائ ! کل صبح یہیں آجائیے گا ، اصولاً تو یہ دعوت معطر کو دینی چاہئے تھی لیکن میرا خیال ہے اسے منانے کے لئے آپ کو تھوڑی سی محنت کرنی پڑے گی پہلے “

اس نے سر جھٹکتے گہری سانس لی پھر ساجدہ تک آتے سر جھکایا تو اُنہوں نے سر پر ہاتھ پھیرا ساتھ وہ اسے شکریہ بھی کہہ رہی تھیں ، وہ ہلکا سا مسکرایا پھر ایک نظر سیڑھیوں پر ڈالی پھر دانیال کو اللہ حافظ کہتے پیچھے کی طرف بڑھ گیا۔ اس کے پاس بہت سے کام تھے ، سب سے پہلے پولیس اسٹیشن جا کر تیمور کے خلاف رپورٹ درج کرانی تھی لیکن اس سے پہلے معطر کی پہلی عید کی شاپنگ اس تک پہنچانی تھی

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

وہ پہلی بقرہ عید تھی جو وہ پاکستان میں منا رہا تھا ، ایک خاندان کے ساتھ ، کیفیات عجیب سی تھیں ، وہ ہوٹل میں رہ رہا تھا لیکن پھر بھی نماز اس نے دانیال اور عون کے ساتھ پڑھی تھی ، ان کے گھر کے سامنے والی مسجد میں ، برطانیہ اور یہاں کے ماحول میں بہت فرق تھا ، وہاں وہ نماز پڑھ کر گھر واپس آجاتا ، دو سالوں میں اس نے ہر سال قربانی کی تھی لیکن گوشت سارا بانٹ دیتا ، اس بار وہ ایک نئ کیفیت سے گزر رہا تھا ، سب کے ساتھ نماز پڑھنا پھر ہر ایک کو گلے ملنا ، قربانی کے لئے سب کا اکٹھا ہونا ،یہ سب عجیب لیکن دلچسپ تھا ، وہ نماز کے بعد دانیال اور عون کے ساتھ گھر گیا تو دروازے میں سب سے پہلے مبشرہ ملی

” تینوں بھائ الگ الگ عیدی دیں “

تیز نیلے رنگ کے فراک میں ملبوس وہ بال کھلے چوڑے میک اپ لگائے پیاری لگ رہی تھی

” شکل ہے تمہاری عیدی والی ؟”

عون نے ہاتھ جھلایا

” تمہاری بھی دینے والی نہیں ہے ، میں تمہیں اپنے بھائیوں کی فہرست سے خارج کرتی ہوں ، اس بار آدم بھائ عیدی دیں گے”

وہ مسکرایا پھر شانے اچکائے

” میرا نہیں خیال میں شکل سے امیر نظر آتا ہوں ، اور کیونکہ میں امیر نظر نہیں آتا اس لئے میں امیر نہیں ہوں “

” میں تینوں سے ناراض ہو جاؤں گی “

اس نے منہ پھلا لیا ، دانیال نے افسوس سے اسے دیکھتے جیب سے پانچ ہزار نکالتے اس کے ہاتھ پر رکھا ، مجبوراً اسے بھی عیدی دینی پڑی ، یہ سب عجیب سی خوشی دے رہا تھا ، نیا خاندان ،نئے لوگ ، اور جس کی وجہ سے یہ نیا خاندان ملا تھا وہ کہاں تھی ؟

لاؤنج میں بیٹھے شیر خورمہ کھاتے اسے وہ کھنک سنائ دی ، کسی کی چوڑیوں کی آواز ، اس کا سر اٹھا پھر نظر وہیں جمی رہ گئ ، سیڑھیوں سے وہ نیچے اتر رہی تھی ، گلابی لمبی قمیص جس کے دامن پر گلابی کڑھائ تھی ، قمیص کے بازوں لمبے اور کھلے تھے ، بازوں کے بارڈر پر بھی پھول بنے تھے ، لمبا شیفون کا دوپٹہ کاندھے پر رکھا تھا جو پیچھے سیڑھیوں پر لگ رہا تھا ، چہرے پر ہلکا سا میک اپ ، آنکھوں میں کاجل ڈالے ، بال جوڑے میں باندھے ایک لٹ چہرے پر آرہی تھی

کیا وہ شروع سے اتنی ہی حسین تھی یا جب سے وہ اس سے محبت کرنے لگا تھا تب سے اس کی آنکھوں نے اسے حسین دیکھا تھا ؟

چمچ ہاتھ میں ہی رہ گیا ، نظر اسی پر جمی رہ گئ ، وہ بے نیاز نظر آنے کی پوری کوشش کرتی دانیال تک آئ ، اسے گلے لگاتے عید کی مبارک دی پھر عون کو ، دانیال کچھ کہتے جیب سے پیسے نکال رہا تھا ، وہ مسکرائ پھر اس کے ہاتھ سے پیسے لئے

” آدم بھائ سے بھی تو عیدی لیں آپی “

مبشرہ کی پکار پر وہ یکدم ہوش میں آیا ، سب کی نظر اس پر تھی ، پلیٹ میز پر رکھتے وہ پیچھے کو ہوا پھر معطر کو دیکھا ، وہ اب بھی اسے نہیں دیکھ رہی تھی

” ہاں آپی ، ان کی آدھی جائیداد مانگ لیں “

وہ مسکرایا ، وہ اس سے پورا کا پورا آدم مانگ لیتی وہ تب بھی منع نا کرتا

” بعد میں لے لوں گی”

ہاتھ جھلایا ، چوڑیوں کو ساز ہوا میں بکھرا ، چوڑیاں پہننے والی کچن کی طرف جارہی تھی ، محفل ویران ہوئ ، اس نے سر پر ہاتھ پھیرا ، وہ ناراض کیوں تھی ؟ مبشرہ اور عون اب اس کے پاس بیٹھے اس سے جانے کون سی باتیں کررہے تھے اور اس کا دل دماغ ان چوڑیوں میں الجھ گیا تھا ، ان کے سامنے سے ہٹتے کچن کی طرف آؤ تو معطر سالن کے لئے مصالحہ بنا رہی تھی جب اسے دانیال کی آواز سنائ دی

” معطر …..”

اس نے رک کر دانیال کو دیکھا

” کیا ؟”

” آدم بھائ تمہیں باہر لے جانا چاہتے تھے ، فری ہو کر چلی جانا “

وہ کچن کی سلیب سے ٹیک لگا کر کھڑا ہوگیا

” کچھ زیادہ ہی آذاد خیال نہیں بن گئے تم ؟”

” شوہر ہیں تمہارے “

اس نے سر جھٹکتے گوشت دھویا ، امی باہر تھیں

” آئ ایم سوری “

اس کا سر دھیرے سے اٹھا ، دانیال سینے پر بازوں باندھے اسے دیکھ رہا تھا

” کس لئے ؟”

” میں اچھا بھائ نہیں بن سکا نا ؟”

” دانیال …..”

” نہیں معطر ، بابا کی بیماری کے وقت میں کیسے بھول گیا کہ اس گھر کا بیٹا میں ہوں ؟ مجھے تمہیں انگلینڈ نہیں جانے دینا چاہیے تھا ، مجھے لگا مجھے اپنی پڑھائ پر فوکس کرنا چاہئے ، پھر جاب ،پھر سیلری سے بابا کا علاج کروانا چاہئے ، تب تک تم کما کر ان کا خرچ برداشت کرسکتی ہو ، تمہیں پتا ہے معطر ؟ میں اس چیز کے گلٹ کا شکار ہر شے سے زیادہ ہوں “

” ایسی بات نہیں ہے ، تم غلط سوچ رہے ہو ” اسے دکھ ہوا

” ایسا ہی ہے ۔ تیمور نے منگنی توڑ دی ، تم نے انگلینڈ میں مصیبتیں برداشت کیں ، سب کی تہمتیں برداشت کیں ، یہ سب اسی وجہ سے ہوا نا ؟ میں بیٹا تھا ،کمانا میرا فرض تھا ” اس نے سر جھٹکا ، اذیت سی تھی جو اسے دانیال کے چہرے پر نظر آرہی تھی ،معطر چھرا وہیں رکھتی اس تک آئ

” جب میری تیمور سے منگنی ٹوٹی تھی تو میں بہت روئ تھی دانیال ، سب کے سامنے نہیں لیکن میں روئ تھی ، مجھے دکھ تھا کہ یہ سب اسی وجہ سے ہوا کیونکہ میں نے انگلینڈ جانے کی بات کی تھی ،نا کرتی تو منگنی نا ٹوٹتی لیکن کچھ عرصے بعد احساس ہوا یہ سب ایسے ہی ہونا تھا ، دو ڈھائی سال قبل وہ سب نا ہوتا تو آج میری زندگی میں تیمور حیدر ہوتا اور وہ میری قدر نا کرتا ، بابا کا جانا طے تھا ، سبب تیمور بن گیا لیکن ان کا جانا طے تھا ، میں یہاں رہتی یا دنیا بھر کی دولت لے آتی ہم بابا کو موت سے نہیں بچا سکتے تو اس گلٹ سے نکل آؤ کہ تم کمانے لگ جاتے تو وہ سب نا ہوتا “

وہ جتنا بھی بڑا بن جاتا لیکن وہ اس سے چھوٹا تھا ، وہ اب بھی اس سے چھوٹا تھا اور وہ اسے بڑی بہن کی طرح سمجھا رہی تھی ، دانیال ہلکا سا مسکرایا

” سمجھدار ہوگئ ہو “

” بیوقوف تھی کیا پہلے ؟” وہ خفا ہوئ

” اب زیادہ سمجھدار ہوگئ ہو ، آدم بھائ کی سنگت کا اثر ہے ؟”

” سمجھداری کو کس کی طرف منسوب کررہے ہو ؟”

سر جھٹکتے وہ دوبارہ سے گوشت کاٹنے لگی ، چوڑیاں اتار کر رکھ دی تھیں

” ان سے ناراض ہو ؟”

” تم ہم میاں بیوی کے معاملات سے دور رہو “

” بچارے…”

معطر نے سر اٹھا کر اسے گھورا تو اس نے کاندھے اچکائے

” میں تو صرف ہمدردی کررہا ہوں ، ویسے۔۔۔۔ اچھے انسان ہیں اور اچھے انسانوں کی قدر کرنی چاہئے “

وہ مسکرا کر کہتے باہر بڑھ گیا ،معطر گوشت کاٹتی رہی جب موبائل کی ٹون بجی ، پریزے کا عید مبارک کا میسج آیا تھا اور اس کی بھیجی گئ تصویر پر رپلائے

” بہت بہت پیاری لگ رہی ہیں ، سوٹ بھی بہت پیارا ہے”

” آدم نے دلایا تھا ” اس نے جوابی میسج بھیجتے گوشت دھویا

” انہیں احساس ہوگیا کہ عیدی دیتے ہیں ؟” ساتھ ہنسنے والے ایموجی تھے

” تم نے ڈانٹا ورنہ کہاں لا کر دینے والے تھے یہ جناب”

” ڈانٹا ؟ میں ان کو ڈانٹ سکتی ہوں ؟ میں نے تو بس پوچھا تھا کہ معطر کو عیدی دی یا نہیں ، انہوں نے کہا نہیں ، پھر میں ان کو جواب نہیں دے سکی تھی ، بزی تھی “

اس کا سر بے ساختہ اٹھا ، وہ سامنے بیٹھا تھا ، سیاہ شلوار قمیص پہنے ، ہاتھوں میں سلور واچ تھی ، بال سلیقے سے پیچھے جمے تھے ، ہلکی سی بیئرڈ جو اس پر اچھی لگتی تھی ، نیلی آنکھیں چمک رہی تھیں ، وہ اسے دیکھتی رہی ، تو وہ اپنی مرضی سے آیا تھا ؟ اپنی مرضی سے اس کے ساتھ بازار میں خوار ہوتا رہا ، پریزے کا تو صرف بہانہ تھا وہ اسے خود شاپنگ کرانا چاہتا تھا

کسی بات پر ہنستے آدم نے یوں ہی نظر اٹھا کر اسے دیکھا ،معطر نے رخ پھیر لیا ، وہ شلوار قمیص میں اچھا لگتا تھا ، آج کچھ زیادہ ہی لگ رہا تھا

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

شاہی قلعہ لاہور کے داخلی دروازے جسے شاہ برج گیٹ کہا جاتا ہے وہاں سے آگے کی طرف دیکھو تو وہ دونوں چلتے نظر آرہے تھے ، قدم سے قدم ملا کر ، ایک وہ جو نیچے دیکھ رہی تھی دوسرا وہ جو اسے دیکھ رہا تھا ، نیچے دیکھتی لڑکی نے نظریں اٹھا کر اسے گھورا

” نظریں نیچی رکھو “

” تم میری نظروں پر پابندی نہیں لگا سکتیں”

” یہ پاکستان ہے “

” یہ پاکستان میں میری بیوی ہے “

معطر نے خفگی سے رخ موڑا ، راستہ لمبا تھا اور اونچائ کی طرف جارہا تھا ، آدم کو پرسوں واپس جانا تھا اور وہ ان دو دنوں میں لاہور گھومنا چاہتا تھا اس لئے دانیال کے کہنے پر آج وہ اکیلی اس کے ساتھ قلعے کی طرف آگئ ،کل سب کا مل کر گھومنے کا پلین تھا

” اگر میں تمہارے لاہور کی تعریف کروں تو کیا تم مان جاؤگی ؟”

” میرے لاہور کو تمہاری تعریف کی ضرورت نہیں ہے”

شاہی قلعے کی سڑکوں پر چلتی وہ لڑکی مغل دور سے آ نکلی تھی ، اس کے ساتھ چلتا لڑکا کوئ غیر ملکی سیاح لگتا تھا جو اس کے حسن کو دیکھ کر وہیں قیام کر گیا ہو

” تمہاری کردوں ؟”

” مجھے بھی ضرورت نہیں ہے”

” اب تم ناراض رہو گی تو مجھے اس قلعے کی تاریخ کون بتائے گا ؟”

” گوگل سے دیکھ لینا “

” گوگل تمہارے جتنا پیارا تھوڑی بولتا ہے”

کیمرہ اٹھائے اس نے ان دیواروں کی تصاویر اتاریں معطر وہیں رک گئ ، آگے دیوان عام تھا تو وہ اسے اس کی تاریخ پڑھوا دے گی ، اس نے رخ موڑ کر اوپر دیکھنا چاہا جب کلک کی آواز آئ ، جھٹکے سے سر پیچھے کیا لیکن وہ کسی اور طرف متوجہ تھا

” تم میری تصاویر بنا رہے ہو ؟”

” میں تمہاری تصاویر کیوں بناؤں گا ؟ میں تو قلعے کی بنا رہا ہوں ” وہ کیمرہ گلے میں لٹکائے اس تک آیا ” آگے کہاں جانا ہے ؟”

وہ ہنہہ کرتی آگے بڑھی ، دوپہر میں شدید گرمی تھی تو وہ عصر کے بعد آئے تھے ، اب سورج غروب ہونے والا تھا ، عام دنوں میں اتنا رش نہیں ہوتا تھا لیکن عید پر جیسے ہر کوئ اِدھر آ نکلتا تھا

” ویسے تو یہ قلعہ کئ صدیوں پرانا ہے لیکن بادشاہ اکبر کے دور میں اس کی تعمیر دوبارہ کی گئ ، یہ جو شروع میں ہم جس جگہ سے آئے ہیں ، اس کے ساتھ اکبری محل تھا پھر کھڑک سنگھ کا محل ، اور یہ دیوان عام ہے ، یہاں تقریباً چالیس پلر لگے ہیں” دیوان عام کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے وہ چاروناچار اسے ساتھ تاریخ بھی بتارہی تھی جسے وہ بظاہر سر ہلاتے سن رہا تھا” اس کے آگے دیوان خاص ہے ، پھر یہاں ساتھ میں شہزادہ جہانگیر کا محل ، مہمان خانہ …”

” یہ کیا ہے ؟”

معطر نے رخ موڑا وہ سامنے دیکھ رہا تھا جہاں جھروکہ تھا

” یہاں بیٹھ کر بادشاہ اپنا دیدار کرایا کرتے تھے اور لوگوں کی شکایات سنا کرتے تھے “

” اور جو شکایات شہزادیوں کو بھیجنی ہوں وہ کہاں بھیجی جاتی تھیں ؟”

” ان کے محل الگ ہوتے تھے ، یونو اس دور میں شہزادیاں….” اس کی زبان رکی ، رک کر اسے دیکھا ،وہ مسکرایا

” شہزادیاں کہاں سے دیدار کرایا کرتی تھیں معطر ؟ اور اگر ان شہزادیوں سے کسی ایک روٹھ چکی شہزادی کو منانے کا طریقہ پوچھنا ہو تو کیسے پوچھا جاسکتا ہے ؟”

وہ پلر سے ٹیک لگائے ہاتھ سینے پر باندھے اسے دیکھ رہا تھا

” غیر ملکی سیاح اپنی نظریں اور زبان قابو میں رکھیں ، سلاطین ان معاملات میں سخت طبع واقع ہوئے ہیں”

غیر ملکی سیاح سر جھکا کر ہنسا ، معطر نے رخ موڑ لیا ، جب وہ سر جھکا کر ہنستا تھا تو اسے لگتا تھا اسے کسی کی نظر لگ جائے گی ، ہنستے ہوئے کسی کو اتنا پیارا نہیں لگنا چاہئے

” پھر اپنے سلاطین سے ہی ملا دو ، کسی سرخ لباس والی شہزادی تک معافی کی درخواست پہنچانی ہے ، سیاح کا دل اس کی آنکھوں میں اٹک گیا ہے”

” حد ادب ، سر قلم کردیا جائے گا “

” سر تسلیمِ خم ہے ، قلم کردیا جائے “

وہ اسے گھورتی پیچھے کی طرف مڑی ، آدم ساتھ ہولیا

” اچھا سوری یار ، مان بھی جاؤ اب ، میں سچ میں خود کشی نہیں کرنا چاہتا تھا ، میں صرف اسے جیل میں ڈالنے کی ایک مضبوط وجہ فراہم کرنا چاہتا تھا”

” کیوں ؟ میں نے تو تم سے نہیں کہا تھا یہ کرنے کو ؟ کیا ضرورت تھی پھر ؟” اسے پھر سے غصہ آنے لگا ، آدم یکدم اس کے سامنے آیا وہ رکی

” کیونکہ تم میری بیوی ہو معطر ، میں نے تم سے کہا تھا کہ میں تمہیں نہیں رلاؤں گا میں یہ کہنا بھول گیا کہ کسی کو رلانے بھی نہیں دوں گا ، تمہارا ہر مسئلہ تمہارے ” قبول ہے” نے ہمارا مسئلہ کردیا تھا ، تم مجھے ایسا انسان سمجھتی ہو کہ اپنی بیوی کو یوں کسی ایسے شخص کے ساتھ چھوڑجاؤں گا جسے میں صدی کا گھٹیا ترین انسان سمجھتا ہوں ؟”

دیوانِ عام میں خاص سے لگتے وقت کے مسافر ٹھہرے تھے ، نرمی سے اس کے سامنے ٹھہر کر اسیر کرتا سیاح ، نم ہوتی آنکھوں کو رونے سے روکتی شہزادی ، وہاں کوئ اور نا ہوتا تو وہ اس کے سینے پر سر رکھ کر روتی اور بے انتہا روتی

” ایسے مت کرو آدم “

” کیا نا کروں ؟”

” مجھے اکیلے لڑنے کی عادت ہے ، تم میرے لئے لڑنے لگو گے تو مجھے تمہاری عادت ہوجائے گی “

” پھر مجھے تمہارے لئے لڑنے دو تاکہ یہ عادت محبت میں بدل جائے “

وہ نم آنکھوں سے ہنس دی

” جس دن تم سے محبت ہوگئ وہ اس صدی کا عظیم ترین سانحہ ہوگا “

” یہ سانحہ رونما ہو اس کے لئے مجھے کیا کرنا ہوگا ؟”

” کچھ نہیں ، مجھے نہیں لگتا کہ میں دوبارہ محبت کرپاؤں گی “

” کیوں ؟”

” ایک بار ایک شخص سے کی تھی ، اس ایک شخص نے ہزار ٹکڑوں میں تقسیم کرکے چھوڑا تھا ، دل اس محبت لفظ سے ڈر گیا ہے “

آدم کیان اس کی نم آنکھوں کو دیکھتا رہا

” کیا معلوم مجھ سے ہو جائے “

” اگر تم سے محبت ہوگئ تو سمجھ لینا تیمور سے نہیں کرتی تھی “

” تم ایک محبت پر یقین رکھتی ہو ؟”

” میں “صرف” ایک محبت پر یقین رکھتی ہوں ” وہ آگے بڑھنے لگی

” اور اگر تمہیں مجھ سے محبت ہوگئ تو مجھے کیسے علم ہوگا ؟”

آگے کی سمت چلتی لڑکی رکی ، پلٹ کر سیاح کو دیکھا

” مجھے الفاظ میں کہنا نہیں آتا ، تم آنکھیں پڑھ لیتے ہو نا ؟”

” تمہاری پڑھ لیتا ہوں ، باقی دنیا سے مجھے کیا سروکار ؟”

گلابی لباس والی لڑکی نے رخ موڑ لیا ، سیاہ لباس والا مرد اس کے ساتھ چلنے لگا ، لڑکی کو آنکھیں نم کرنے کی عادت سی ہونے لگی تھی ، آنکھیں واقف تھیں کہ کوئ ہے جو آنسو پونچھ لے گا

” ویسے تمہارے لاہور کی ایک بات بہت بری ہے “

” کیا ؟”

” یہاں گرمی بہت ہے “

وہ مسکرائ ، قدم آگے بڑھ رہے تھے ، سیڑھیاں اترتے وہ شاہی قلعے کی اونچی دیواروں کو دیکھ رہی تھی ، ہاتھ بڑھا کر دوپٹہ درست کیا ، وہ کچھ زیادہ ہی لمبا تھا ، نیچے زمین پر لگ رہا تھا

” بار بار پاکستان آؤگے تو عادت ہو جائے گی “

” اب تو ایک بار ہی آؤں گا ، لاہور کے سپرد اپنی ایک امانت کرکے جارہا ہوں ، تمہارا لاہور خائن تو نہیں ہے نا ؟”

” میرے لاہور کو برا مت کہو “

” محبوب کے شہر کی شان میں گستاخی کی معافی چاہتا ہوں “

معطر نے ایک بار پھر دوپٹہ درست کرتے اسے سمیٹنا چاہا جب وہ رکا ، اس کے لمبے دوپٹے کو دیکھا اور دوپٹے کا کنارہ تھاما

” کیا کررہے ہو ؟” وہ گڑبڑائ

” یہ تمہیں تنگ کررہا ہے ، اور میلا بھی ہورہا ہے ” وہ اس کے دوپٹے کا پلو اکٹھا کررہا تھا ، دوپٹے کو کنارے سے پکڑتے اپنی ہتھیلی سامنے کی اور اس پر گول گول گھماتے ہتھیلی والے حصے پر گرہ لگائ ” اب نا میلا ہوگا نا تنگ کرے گا “

سکون سے کہتے سر اٹھایا تو معطر کے سرخ چہرے پر نظر گئ

” یہ واپس کرو مجھے ، لوگ دیکھ رہے ہیں”

” مجھے ایک بھی انسان اس طرف متوجہ نظر نہیں آرہا ، اپنا کہو کہ تم شرما رہی ہو “

معطر نے دانت پیستے قدم آگے بڑھائے پھر رکی ، وہ وہیں ٹھہرا تھا اور دوپٹہ اس کے ہاتھ سے بندھا تھا

” اب کیا ہے ؟”

” ایک تصویر کھنچواؤ گی ساتھ ؟”

اس نے رک کر گہری سانس لی پھر پیچھے ہوئ ، وہ مسکراتے ہوئے کیمرہ کسی لڑکے کو تھما رہا تھا پھر تھوڑا سا اس کے قریب ٹھہرتے ہاتھ سینے پر باندھے

” میری بیوی کی تصویر اچھی آنی چاہئے ،مجھے اگلے کچھ دن اسی تصویر کے ساتھ گزارنے ہیں “

وہ تھوڑا سا مزید ساتھ ہوا ،معطر مزید دور ہٹی

” کھا نہیں جاؤں گا”

” لوگ…”

” تمہارے ان لوگوں کو تو بندہ قید کردے کہیں”

اس کے ماتھے پر بل پڑے لیکن خاموشی سے پک بنوالی ، آدم لڑکے کو شکریہ کہتے کیمرہ لے رہا تھا پھر تصویر دیکھتے منہ بنایا

” ڈھنگ کی تصویر تک نہیں آئ “

معطر نے قریب ہوتے تصویر دیکھی ، وہ مسکرا رہا تھا اور وہ ماتھے پر بل ڈالے خفگی سے کیمرے کو دیکھ رہی تھی ، اسے ہنسی آگئ ، ساتھ کھڑے آدم نے گھورا

” تمہارا ہنسنا اس وقت برا لگ رہا ہے”

” تمہارے لئے تھوڑی ہنس رہی ہوں “

وہ محظوظ سی کہتی وہیں دیوار پر بیٹھی ، چھوٹی سی دیوار سے قدم نیچے لٹکا لئے ، آدم ساتھ ہی بیٹھا ، وہ تھکا نہیں تھا لیکن وہ تھک چکی ساتھی کو مزید نہیں چلا سکتا تھا

” میرے لئے ہنستے ہوئے تو تمہیں لوگ نظر آجاتے ہیں ، پہلی پک تھی ہماری ساتھ ، خراب کردی “

” کیوں ؟ تم نے چوری چوری بنائ تو ہیں میری تصاویر “

” کس نے کہا ؟”

وہ مکر گیا

” نہیں تم مکر جاؤ سچ تو پھر بھی وہی رہے گا “

اس کا جملہ لوٹایا

” بالکل جیسے تم مکر گئ تھیں لیکن سچ یہی رہا تھا کہ تم مجھے سٹالک کیا کرتی تھیں “

وہ جملہ لوٹا کر پچھتائ

” تم شادی کے بعد اپنی زبان قابو میں رکھنا ورنہ ہماری روز جنگ ہوگی “

” تم روز ہارو گی “

” مجھے ہرا کر جیت سکو گے تم ؟”

وہ ایک جملے میں الفاظ کھینچ لیتی تھی

” جس جنگ میں تمہیں ہرانا پڑا میں اس جنگ میں اپنا تخت چھوڑ دوں گا “

وہ بھی ایک جملے میں الفاظ کھینچ لیتا تھا ،معطر نے رخ سامنے کیا ، سبزے پر لوگ بکھرے تھے ، سورج اب غروب ہونے کو تھا

” تم نے چوڑیاں نہیں پہنیں ؟”

وہ چونکی ،نظر کلائ پر گئ

” سالن بناتے وقت کچن میں رکھی تھیں پھر پہننا بھول گئیں “

” تو کیا ساری زندگی میں یاد دلاتا رہوں گا ، ایک تو مہندی بھی خراب کردی تھی “

وہ کیمرہ ساتھ رکھتا جیب سے چوڑیاں نکال رہا تھا ، وہی چوڑیاں جو کل رات اسے پہنائ تھیں ، چند چوڑیاں نکالتے اپنی ہتھیلی پھیلائ تو معطر نے بنا احتجاج کے کلائ آگے کردی ، یہ حق اسے حاصل تھا ، وہ جیب سے سرخ رنگ کی ہلکے سے کام والی چوڑیاں نکالتے اسے پہناتا رہا وہ خاموشی سے دیکھتی رہی ، دونوں کلائیاں بھر گئیں تو اس نے وہ سامنے کیں

” میری عادت خراب کررہے ہو تم “

” جو عادت مجھ سے جڑی ہو وہ کبھی خراب نہیں ہوگی “

” تمہارا بہت خرچہ آجائے گا چوڑیوں پر “

” تمہاری چوڑیوں پر آنے والا مجھے ہر خرچ منظور ہے “

” کسی دن اکتا جاؤگے “

” تم سے جڑی کسی شے سے میں نہیں اکتا سکتا “

” تم ایسے کیوں بن گئے ہو آدم ؟”

” کیسا بن گیا ہوں ؟”

” ہم لڑتے تھے “

” تم سے لڑتے لڑتے میں خود کو ہار گیا “

” تم مجھے تنگ کرتے تھے “

” تمہیں تنگ کرتے کرتے میں محبت سیکھ بیٹھا “

” تم کہتے تھے تم بری لگتی ہو “

” تم ڈھونڈو ، روئے زمین پر تم سے زیادہ کوئ اچھا لگنے والا باقی نہیں رہا “

” تم بدل گئے ہو “

” میں بدل کر بھی تمہارا رہا ہوں “

” تم بدل جاؤگے “

” میں بدل کر پہلے سے زیادہ تمہارا ہوجاؤں گا “

وہ رخ موڑے اسے دیکھتی رہی ، وہ رخ موڑے اسے ہی دیکھ رہا تھا

” کچھ مانگوں ؟”

” سب کچھ مانگ لو “

” میرا دل مت توڑنا آدم ،میرے پاس اب صرف ایک دل ہی بچا ہے “

” تمہارا دل توڑ کر اپنا دل کیسے سلامت رکھوں گا ؟” اسے رونا آیا ، اسے خود پر رشک کے ساتھ رونا آیا ، آدم نے اس کا ہاتھ تھاما

” ہم سب بھول جاتے ہیں معطر ، جو ہوا سب ، میں ماضی تم حال ، ماضی میں سنان تھا ، حال میں تیمور ہے ، ہم اس سب کو ” تھا ” میں بدل دیتے ہیں ، ہم مل کر نئے سرے سے شروع کریں گے “

اسے جانے کون سے خدشے تھے جو ختم ہی نہیں ہوتے تھے

” تیمور ماضی تھا آدم ، سنان یاد تھا ، تیمور کو میں نے بھلادیا ، سنان ایک اچھی یاد کی طرح رہے گا ، میں نے نکاح نامے پر سائن کرتے وقت ہر وفا تمہارے نام کی تھی ، مجھے دنیا کے کسی دوسرے مرد سے سروکار نہیں ہے ، دنیا کے کسی دوسرے مرد کو مجھ سے سروکار ہو اس سے فرق نہیں پڑتا ، میری ہر وفا تمہارے نام ، محبت کا وعدہ نہیں کرتی ، لیکن باوفا رہوں گی “

آدم کیان کی زندگی کا آدھا حصہ اس دن کے نام ، آدھی خوشی اس اقرار کے نام ، اس نے معطر کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا ، یوں جیسے مان تھا ، یوں جیسے یقین تھا

” مجھے خود پر رشک ہے کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں “

وہ ہنس دی ، پھر ایک ہاتھ سے آنکھ سے پھسلنے والا آنسو صاف کیا اور اسے دیکھا

” سنان کی ڈائری کہاں ہے آدم ؟”

” وہ میں نے پریزے کو دے دی تھی “

وہ چپ کرگئ ، وہ پوچھنا چاہتی تھی کہ اس نے وہ ڈائری پڑھی تھی یا نہیں لیکن مزید اسے سنان کی یاد نہیں دلانی تھی نا خود کو نا اسے

” میں ہاشم بھائ کے ساتھ کام کررہا ہوں “

اور وہ یاد یکدم ہی آئ تھی

” کون سا کام ؟”

” اسلاموفوبیا کے خلاف “

وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا ،نڈر ، وہی جسے دنیا کا خوب نہیں تھا

” آدم ۔۔۔” اس نے نفی میں سر ہلایا

” میں خوفزدہ نہیں ہوں معطر ، جس دن میں نے ” لا ” کا مطلب جانا اس دن میں نے ہر دنیاوی ” الہ ” کا خوف دل سے نکال دیا تھا ، میں جو کرسکتا تھا وہ کیا ، جو کرسکوں گا وہ کروں گا ، میں نے ہر دنیاوی خدا کو دل سے نکال دیا ہے ، میں کسی سے خوفزدہ نہیں ہوں ، اور میں چاہوں گا کہ تم بھی خوفزدہ نا ہو “

وہ کیا مانگ رہا تھا ؟ بہادری ؟ وہ بھی کیسی ؟

” وہ تمہیں بھی ماردیں گے” وہ خوفزدہ ہوئ

” اگر موت لکھی ہے تو ایسے ہی صحیح ، مجھے اپنے حصے کا کام کرکے مرنا ہے ، ہم سب دیکھتے رہے تو یہ نظام اسلام کو جھکانے کے لئے کام کرتا رہے گا ، کسی ایک کو ، کسی دو کو ، کسی نا کسی گروہ کو تو اٹھنا ہوگا نا ، سنان وہ ایک تھا ، میں وہ ایک بن رہا ہوں ، ہاشم بھائ وہ دوسرے ہیں ، ہمارے ساتھ کے لوگ وہ گروہ ہیں ، میں فی الحال اس پوزیشن میں نہیں ہوں لیکن آگے چل کر میں اپنا چینل کھولوں گا ، مجھے ان دوغلے لوگوں کی دوغلی پالیسیز سے لڑنا ہے ، یوں صحیح تو یوں ہی صحیح “

تو جو بہادری وہ کلمے سے سیکھ بیٹھا تھا وہ بہادری وہ اسے بھی سکھا رہا تھا ،معطر صبا نے لب کاٹا, وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا

” تم مجھے منع کرنا چاہتی ہو ؟”

” کرسکتی ہوں ؟”

” حق رکھتی ہو “

” رک جاؤگے ؟”

” کمزور پڑجاؤں گا ۔۔۔۔ کمزور ہونے دوگی مجھے ؟”

” یعنی رکو گے نہیں ؟”

” مت روکنا معطر “

وہ بے بس ہوا ، معطر نے سر جھٹکا ،پھر سامنے دیکھا ، چند لمحے سامنے دیکھتی رہی پھر رخ ہلکا سا اس کی طرف کیا

” میں تمہارے کاندھے پر سر رکھ لوں آدم ؟ میں تھک گئ ہوں “

وہ بیٹھے بیٹھے نزدیک ہوا ،معطر نے کچھ تھک کر سر اس کے کاندھے پر ٹکایا، یوں جیسے صدیوں بعد کوئ کاندھا ملا تھا جس کے سہارے وہ تھک کر لگ سکتی تھی ، کوئ تھا جو غم سمیٹ سکتا تھا ، چند لمحے وہ دونوں خاموش رہے پھر معطر نے گہری سانس لی

” میں تمہیں منع نہیں کررہی ، کرہی نہیں سکتی ، جس مفہوم کو تم نے سمجھا ہے وہ مفہوم میں شاید ویسے نہیں سمجھ سکتی ، میں خوفزدہ بھی ہوں ، مزید لوگ کھونے کی ہمت نہیں بچی لیکن میں منع نہیں کروں گی ، میں صرف دعا کرسکتی ہوں ، میں صرف دعا کروں گی”

سر اس کے کاندھے پر ٹکائے وہ سامنے دیکھ رہی تھی ، ہاتھ اس کے ہاتھ میں تھا ، احاطے کی اس طرف زیادہ لوگ نہیں تھے

” تم مجھے ہمت دیتی ہو “

” کاش ہم یہاں سے کہیں دور چلتے نا ، میں تھک گئ ہوں “

” دور کہاں ؟”

” کہیں پہاڑوں کے بیچ ، کسی جنگل میں”

” کھاتے کیا وہاں ؟”

” پھل کھالیتے “

” زندہ کیسے رہتے ؟”

” تم میرے ساتھ زندہ رہ لیتے میں تمہارے ساتھ “

آدم نے رخ اس کے چہرے کی طرف موڑا پھر ہلکا سا مسکرایا

” ہم یہ کام لندن میں کرلیں گے معطر ، زندگی آسان نہیں رہے گی لیکن ہم مشکل زندگی بھی گزار لیں گے ، میں تمہارے ساتھ رہوں گا ،تم میرے پاس رہنا ، مل کر ، لڑ کر ہم گزار لیں گے ، پھر جنت میں تو سب آسانی ہوگی “

وہ ہلکا سا ہنسی ، سر ابھی تک اس کے کاندھے پہ تھا ،بابا کی گود کے بعد یہ دوسری جگہ تھی جہاں سکون میسر تھا

” تمہیں اتنا یقین کیوں ہے کہ ہم دونوں جنت میں جائیں گے ؟”

” میں صرف اچھی امید رکھتا ہوں ، نیک گمان ، ہم مل کر کوشش کرلیں گے جنت کے لئے ، جنت کا سفر اکٹھے کرلیں گے ، کرلو گی نا ؟ میرے ساتھ جنت کے راستے پر چلو گی ؟”

” پورے دل سے “

ہاتھ اس کے ہاتھ میں تھامے وہ مضبوطی سے بولی تھی ، آدم کی گرفت مضبوط ہوئ ، وہ سامنے دیکھ رہا تھا ، وہ بیٹھے بیٹھے تھک بھی جاتا تب بھی اس سے سر ہٹانے کا نا کہتا

معطر سامنے دیکھتی رہی ، وہ بھی سامنے دیکھ رہا تھا ، راستہ مشکل تھا لیکن وہ ساتھ تھی تو وہ طے کرلے گا ،

راستہ مشکل تھا لیکن اب وہ ساتھ تھا تو وہ چل لے گی

اور ان سے دور ایک اور خطے میں جسے پشاور کہتے ہیں ، سنان سعدی کا پشاور ، اس پشاور کے پہاڑوں ، سبزوں ، سڑکوں سے ہوتے نظریں ایک حویلی کے سامنے رکیں ، سبز قطعے والی حویلی ، جس کے صحن سے اندر جھانکو تو سیڑھیوں سے ہوتے آخری کمرے کا دروازہ کھلا تھا ، کھلے دروازے سے سٹڈی ٹیبل پر بیٹھی سرخ لباس والی لڑکی نظر آتی تھی ، وہ جس کے سامنے سرخ ڈائری کھلی تھی ، جس پر پانی کے قطرے تھے ، وہ پانی جو اس لڑکی کی آنکھوں سے بہہ رہا تھا ، وہ چہرے پر ہاتھ رکھے ہچکیوں سے رو رہی تھی ، پھر چہرے سے ہاتھ ہٹاتے اس نے ڈائری کو دیکھا

” ہم دونوں پشاور کی گلیوں میں ایک ساتھ چلیں گے ،میں اسے پشتو غزلیں سناؤں گا ، اس بار میں ترجمہ کردیا کروں گا کیونکہ مجھے یقین ہے وہ اب مجھے تھپڑ نہیں مارے گی ، میں ۔۔۔ “

آگے لفظ نہیں تھے ، آگے صفحات خالی تھے ، جانے وہ کیا کہنے لگا تھا ، کیا لکھنے لگا تھا ، کون سا خواب صفحات پر درج کرنے لگا تھا ، جانے معطر صبا کے ساتھ اس نے کون سی زندگی سوچی تھی ، پریزے نے کانپتے ہاتھوں سے قلم اٹھایا ، ساتھ رکھی اس کی تصویر کو دیکھا ، چہرے پر پیاری سی مسکراہٹ ، آنکھوں میں کچھ نرم سا ، وہ کیمرے کی طرف دیکھ رہا تھا ، ہاتھ جیبوں میں تھے ، سیاہ جینز پر سیاہ سوئیٹر ، بازوں کلائ تک تھے ، چہرہ ویسا ہی جسے دیکھ کر رکا جائے ، مسکراہٹ ویسی ہی جسے دیکھ کر نظر اتاری جائے ، پشاور کا سنان سعدی

اس کے کمرے کی ہر شے ویسی ہی تھی ، مورے ہر روز صفائ کرواتی تھیں ، وہ تصویر کو دیکھتی رہی پھر نظر اس کی ڈائری پر ڈالی ، قلم اٹھاتے نوک وہاں رکھی

” آپ کے خواب آپ کی آنکھوں کے ساتھ بند ہوگئے ، رانجھے کو ہیر نہیں ملا کرتی ، وہ ہیر جیسی لڑکی کسی اور کی ہوچکی ہے ، معطر صبا کو سنان سعدی کے لئے نہیں لکھا گیا تھا ، جس کے لئے لکھا گیا تھا ان کا ساتھ مبارک “

نوک وہیں رکھ دی ، قلم ٹوٹ گیا ، اس نے آنسو صاف کرتے ڈائری اٹھائ ، بند کرتے ساتھ رکھے وہ خون آلود چوڑیاں اٹھاتے الماری تک گئ ، وہاں سنان کا برطانیہ سے آنے والا سامان رکھا تھا ، پریزے نے ڈائری وہیں رکھ دی ، چند لمحے وہ اس ڈائری کو دیکھتی رہی پھر الماری کا دروازہ بند کردیا ، منظر چھپ گیا ، قصہ بند ہوگیا ، سنان سعدی کی داستان کا انجام دروازے کے پیچھے ٹھہر گیا ، ہمیشہ کے لئے !

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

چھ ماہ بعد !

سڑک کی دوسری طرف ٹھہرے اس نے ایک بار پھر ہاتھوں کو منہ کے سامنے کرتے گرم سانس دی ، ٹھنڈ بڑھ گئ تھی ، وہ اب تک لندن کی سردی کی عادی نہیں ہو پائ تھی ، اردگرد نظر دوڑائی ، سوئیٹر ، جیکٹس پہنے ہجوم ،پھر اسے وہ نظر آیا ، سیاہ پینٹ پر سفید شرٹ پہنے ، اوپر سیاہ جیکٹ پہن رکھی تھی ،بال نفاست سے پیچھے کو جمے تھے ، وہ ہاتھوں میں آئسکریم اٹھائے اس کی طرف آرہا تھا

” بہت ہی برا آئیڈیا ہے یہ “

اس کے ہاتھ میں آئسکریم دیتے اس نے پھر سے تبصرہ کیا ، معطر نے ڈبہ تھام لیا

” تم نا کھاؤ پھر “

” تم کنویں میں چھلانگ لگا رہی ہو ، رک بھی نہیں رہیں تو مجھے تو ساتھ چھلانگ لگانی ہوگی نا “

” تم اوپر ٹھہر کر میرے باہر آنے کا انتظار کرلیتے “

وہ چمچ سے آئسکریم کھا رہی تھی ، ہاتھ منہ کی طرف لے جاتے چوڑیاں آپس میں ٹکراتیں ، سرخ فراک پر اس نے سفید لمبا کوٹ پہن رکھا تھا ، کانوں میں جھمکے تھے اور لمبے بال اونی ٹوپی کے نیچے سے کمر پر پھیلے تھے ، اپارٹمنٹ سے پیدل وہ اسٹیشن جارہے تھے ، آدم کے کسی دوست کی شادی تھی جس میں شرکت کرنی تھی ، ٹیوب کا سفر آسان تھا

” اور تمہیں اپنی ناک سرخ کرتے دیکھتا ، مجھے تو یہ فکر ہورہی ہے کل میں شو میں بولوں گا کیسے” وہ جلا بھنا ہوا تھا ، اتنی ٹھنڈ میں آئسکریم کون کھاتا ہے ؟

” تیاری شو کی خود کی نہیں ہے الزام مجھ پر لگارہے ہو “

وہ رکی ، رک کر خفگی سے اسے دیکھا

” تم اگر اپنے یہ فضول پاکستانی ڈرامے دیکھنے کی بجائے میرا شو دیکھ لیا کرو تو جانوں گی کہ کیسے میں سامنے والے کو چپ کراتا ہوں “

” رہنے دو ، کون تمہارا بورنگ شو دیکھے ” اس نے ہاتھ جھلایا

” مادام ، میرا شو اس وقت برطانیہ کے ٹاپ شوز میں سے دوسرے نمبر پر ہے”

” برطانیہ والوں کا ٹیسٹ بہت برا ہے ” گویا وہ متاثر نہیں تھی

” تم دراصل آج تک یہ حقیقت تسلیم نہیں کرپارہیں کہ میں واقعی میں کامیاب ہوگیا ہوں “

ساتھ کوئ لڑکی گزری ، اسے دیکھ کر مسکرائ ، معطر رکی ، رک کر اسے گھورا

” یہ کون تھی ؟” وہ گڑبڑایا

” مجھے کیا معلوم ؟”

” پھر تمہیں دیکھ کر مسکرائ کیوں ؟”

” اس کا دل چاہ رہا ہوگا ، میں اب اتنا ہینڈسم تو ہوں کہ مجھے دیکھ کر مسکرایا جائے “

” تمہیں اپنے بارے میں بہت سی خوش فہمیاں ہیں “

” جیسے تمہیں میرے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں ہیں ،میرے ملنے پر تمہیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے ، الٹا تم ہر وقت مجھ سے لڑتی رہتی ہو “

وہ جھٹکے سے اس کے سامنے رکی

” تمہیں پتا ہے پچھلے تین ماہ میں سب سے زیادہ میں کس بات پر پچھتائ ہوں ؟ کاش تم سے شادی کے لئے ہاں ہی نا کی ہوتی “

” چچ ۔۔۔۔ افسوس ، اب کیا فائدہ پچھتانے کا ؟” پورے دل سے ، چہرے پر افسوس لا کر افسوس کیا گیا ،معطر پیر پٹختی آگے بڑھی

شادی کو تین ماہ ہوگئے تھے اور یہ آدمی آج بھی اسے زچ کردیتا تھا ، وہ آج بھی زچ ہوجاتی تھی ، ان چھوٹی چھوٹی لڑائیوں کے علاوہ وہ اچھا شوہر ثابت ہوا تھا ، اس کی روٹین بزی تھی ، اپنی جاب پھر ہاشم بھائ کے ساتھ کام ، پورا دن گھوم پھر کر گزر جاتا اور ان سب میں اسے یقین ہوتا کہ وہ دن میں تین مرتبہ اسے لازمی کال کرے گا ، خیریت پوچھتے گا پھر کسی بات پر ان کی نوک جھوک ہوگی ، وہ غصے سے فون بند کرے گی ، وہ سوری کہے گا اور اگلے دن پھر سے کسی بات پر لڑائ ہوجائے گی ، وہ لاعلم تھی وہ جان بوجھ کر اسے خفا کرتا ہے ، اس کا روٹھنا ، اپنا منانا ، اس کا منہ پھلانا سب اچھا لگتا تھا

” ایک تو تم ناراض بہت ہوتی ہو “

وہ آئسکریم کھاتا قریب آیا

” کسی نے کہا تھا منا لوں گا “

” یہ نہیں کہا تھا کہ ہر دو گھنٹے بعد ناراض ہوجایا کرو “

” تم بات ہی مت کرو مجھ سے ، زرا آنے دو ویک اینڈ پر سوزی کو ، شکل تک نہیں دیکھوں گی تمہاری “

وہ ہنوز خفا تھی ، ایک واحد وہی تھا جس سے وہ ہمیشہ خفا ہوجاتی ، ایک واحد وہی تھا جو اس کی خفگی بھانپ کر منا لیتا تھا

” سوزین کیان دشمن بن گئ ہے میری ، اس سے کہو زرا تم سے دور رہے ورنہ گھر نہیں آنے دوں گا “

” بہن ہے وہ تمہاری ” معطر نے ملامت بھری نظروں سے اسے دیکھا وہ ڈھٹائ سے شانے اچکا گیا

” مجھ سے زیادہ تو وہ تمہاری سگی بنتی ہے”

سوزین سے اس کے تعلقات بہتر تھے ، وہ ہر ویک اینڈ پر ملنے آجاتی ، وہ تینوں گھومنے چلے جاتے ، کیان اور ہیزل کی طرف سے اب بھی سرد رویہ تھا لیکن اسے یقین تھا کہ ایک دن وہ اُنہیں منا لے گا

” کوئ جل رہا ہے ؟”

” بخدا جل رہا ہے”

” اپنی باری تو احساس نہیں ہوتا ، کل کس امانڈا کا بتا رہے تھے ؟ پھر وہ کون ایما تھی ؟ “

” وہ تو میری کولیگز ہیں “

” اپنی کولیگز کا زکر بیوی سے کرتے ہوئے شرم آتی ہے ؟”

” نہیں “

اس کا چہرہ غصے سے سرخ پڑا ، پھر پٹخ کر ہاتھ میں تھامی آئسکریم اس کے ہاتھ میں رکھی ، دونوں ہاتھ جیبوں میں ڈالے اور آگے بڑھی ، رخ اسٹیشن کی طرف تھا ، وہ دونوں چلتے چلتے کچھ زیادہ ہی دور آگئے تھے ، اپارٹمنٹ ساتھ ہی تھا لیکن وہ فی الحال غصہ تھی تو ظاہر ہے اس کے ساتھ جانے سے تو رہی

” معطر ….”

وہ بنا جواب دیئے چلتی رہی جب وہ یکدم سامنے آیا ، معطر جھٹکے سے رکی پھر اسے گھورا

” سوری …..”

” تمہیں مجھے ناراض کرکے اچھا لگتا ہے ؟”

” مجھے تمہیں سوری کرکے اچھا لگتا ہے”

آئسکریم پیچھے رکھے بینچ پر رکھتے اس کے دونوں ہاتھوں کو تھامتے اپنے ہاتھوں میں رکھا ، وہ لندن کی سردیوں کی عادی نہیں ہوئ تھی ، باہر نکلنے پر ہاتھ ٹھنڈے پڑ جاتے تھے

” تم نے شادی سے پہلے جو وعدے کئے تھے سارے جھوٹے تھے نا ؟”

وہ آج بھی شرما جاتی تھی ، اس کے ہاتھ سے ہاتھ نکالنے کی کوشش کرتے وہ سرخ ہوئ

” میں نے سارے دعوے نکاح کے بعد کئے تھے”

” مکر جاؤ “

” مکر کون رہا ہے”

معطر کو مزید خفت ہوئ ، ہاتھ چھوڑ کیوں نہیں رہا تھا یہ؟ بھلا یہ بھی کوئ جگہ تھی ہاتھ پکڑنے کی ؟ اس نے اردگرد دیکھنا چاہا ،کوئ ان کی طرف متوجہ نہیں تھا ، ٹھنڈ نے ہر ایک کو جلدی چلنے پر مجبور کر رکھا تھا

” ہاتھ تو چھوڑدو “

” چھڑوا سکتی ہو تو چھڑوالو “

وہ اسے خفگی سے گھورتی رہی پھر شانے ڈھیلے پڑے

” تم مجھے بہت ناراض کرتے ہو “

” منا بھی لیتا ہوں “

” بہت غصہ دلاتے ہو “

” کیونکہ تم غصے میں زیادہ پیاری لگتی ہو “

” تم ۔۔۔ تم بہت بدتمیز ہو “

” میں فطرتاً ایک شریف انسان ہوں بس تمہارے سامنے شرافت بھول جاتا ہوں”

” تم نے کل شاپنگ بھی نہیں کرائ تھی ” اسے ایک اور شکوہ یاد آیا

” میں بزی تھا لیکن سوری ، تم مانگو جو چاہئے “

وہ اسے دیکھتی رہی پھر مسکراہٹ دبائ

” میرے لیے اپنا سب کچھ چھوڑ سکتے ہو ؟”

” نہیں”

” کیوں ؟” وعدے کرنے والا دعووں سے مکر رہا تھا

” میرا سب کچھ تو تم ہو ، تمہیں کیسے چھوڑ سکتا ہوں ؟”

وعدے کرنے والے کے دعوے سلامت رہیں ، ٹھنڈے ہاتھوں والی لڑکی نے ہاتھ نکالنے چاہے

” اووہوں ۔۔۔ گرم ہونے دو “

” میری آئسکریم پگھل جائے گی”

” ٹھنڈ میں کون سی آئسکریم پگھلتی ہے ؟” اسے گھورا

” میری پگھل جاتی ہے ” درحقیقت وہ دل تھا ، آدم نے ہاتھ چھوڑ دیئے پھر پیچھے پڑی آئسکریم اٹھائ

” جتنا تمہیں سردی لگتی ہے نا میں سوچ رہا ہوں تمہاری جاب چھڑوادوں ، کیسے جاب کروگی ؟ “

” ایویں چھڑوادوں ؟ ابھی مجھے پہلی تنخواہ بھی نہیں ملی “

وہ ایک مقامی یونیورسٹی میں ریسرچ اینالسٹ تھی ، ابھی پہلا ماہ ہی تھا جاب شروع کئے ہوئے

” بس اسی لئے ، اب تم مجھ پر اپنی تنخواہ کا رعب جھاڑو گی”

” جلو جلو ….”

آئسکریم ختم کرتے اس نے ڈبے آدم کی طرف بڑھائے تو وہ ڈبہ لیتا سڑک کی دوسری طرف جانے لگا ، شہر کی صفائ کا جناب کو گھر کی صفائ سے زیادہ خیال ہوتا تھا ، ڈسٹبن میں ڈبہ پھینکتے وہ واپس پلٹنے لگا جب راستے میں دو لڑکوں نے اسے آ لیا ، وہ رک کر ان سے ملنے لگا ، اس کے فین ، یہ ہر مرتبہ باہر جانے کی بات تھی

معطر ہاتھ جیبوں میں ڈالے اسے دیکھتی رہی ، جو گرمائش آدم کے ہاتھوں سے ملی تھی وہ یہ نرم گرم سا کوٹ دینے سے بھی قاصر تھا ، وہ ان کی بات سنتے ہوئے مسکرایا تو معطر نے رخ موڑا

تین ماہ ، ان تین ماہ میں اس نے زندگی کا نیا رخ دیکھا تھا ، جو خدشات شادی سے پہلے تھے وہ اس آدمی نے اس کے اندر سے یوں نکالے جیسے کبھی تھے ہی نہیں ، وہ اس کے لئے بہترین ثابت ہوا تھا ، احساس کرنے والا ، محبت کرنے والا ، عزت دینے والا ، اپنی بزی روٹین سے اس کے لئے ہمیشہ وقت نکال لیتا ، وہ گھر کے کام کررہی ہوتی تو ہاتھ بٹا دیتا ، وہ بیمار ہوتی تو سرے سے کام ہی نا کرنے دیتا ، آدم کو پرائیویسی کی وجہ سے گھر میں ملازمین پسند نہیں تھے سو وہ دونوں اپنا چھوٹا سا گھر خود سنبھال لیتے ، گروسری کی شاپنگ ، اس کے اخراجات ہر چیز مل کر کرلیتے ، وہ پچھلے تین ماہ میں اپنی آدھی سیلری اس کے ہاتھ میں تھمادیتا ، اسے آدم سے محبت نہیں تھی لیکن اسے آدم کی خود سے محبت کی عادت ہوگئ تھی ، اس سے خفا ہونا اچھا لگتا تھا ، اس کا منانا زیادہ اچھا لگتا تھا ، وہ دوسروں کے لئے جیسا بھی تھا اس کے لئے بہترین تھا ، دانیال ٹھیک کہتا تھا وہ اچھا تھا ، بہت اچھا ، وہ اب بھی مسلمانوں کے لئے لڑتا تھا ، وہ ہاشم بن عبد اللہ ٹرسٹ کے ساتھ ساتھ ان کی اسلاموفوبیا کے خلاف کام کرنے والی آرگنائزیشن میں بھی کام کرتا تھا ، وہ جو بہادری کا سبق سیکھا تھا اسے وہ سبق حفظ تھا

اور دانیال ، وہ اس کے لئے اب بھی فکر مند رہتا ، پاکستان میں سب ٹھیک تھا ، اس کے گھر والے خوش تھے ، حسن چاچو کے اسٹور پر پولیس نے تالہ لگوادیا تھا ، وہ عرصے سے ایکسپائرڈ مال بیچ رہے تھے ، سو اب وہ گھر پر فارغ بیٹھے تھے ، ان کے ساتھ تعلقات اب بھی خراب تھے ، پھپھو کے ساتھ اب تک صحیح نہیں ہوئے تھے ، تیمور حیدر جیل میں تھا ، آدم نے اپنا کہا پورا کیا تھا ، فرق صرف اتنا تھا کہ تیمور اپنا دماغی توازن بھی دھیرے دھیرے کھوتا جارہا تھا ، اس کی فیکٹری تباہ ہورہی تھی لیکن پھپھو کی رعونت اب تک ویسے ہی تھی ، کچھ لوگ کبھی نہیں بدلا کرتے

اور اس کی زندگی کا ایک اور اہم کردار ، پریزے ، اس کے ہاں پچھلے ہفتے بیٹا پیدا ہوا تھا ، وہ ان دونوں کو اپنے ہاں آنے کی کئ بار دعوت دے چکی تھی ، آدم ہر بار ٹال دیتا وہ وجہ نہیں جانتی تھی لیکن وہ جانتی تھی کہ وہ پریزے کو اپنی سگی بہن مانتا ہے

” تو اب تم مجھے اپنی سیلری میں سے قرضہ دے دوگی ؟”

اس کی آواز پر وہ چونک کر خیالوں سے باہر آئ ، موبائل پر کچھ دیکھتے وہ ساتھ چلنے لگا تھا

” مزاق اڑارہے ہو ؟ ” اس کی سیلری آدم کی سیلری کا آدھا بھی نہیں تھی

” میں سنجیدہ ہوں ، مجھے چینل کھولنے کے لئے رقم کی ضرورت ہے ، تم پارٹنر بن جاؤ”

معطر نے اب کے کچھ نہیں کہا ، وہ چلتے چلتے کانوں میں پہنے جھمکے اتار رہی تھی ، وہ بھاری تھے ، اُنہیں آدم کے کسی مسلمان دوست کی شادی میں جانا تھا تو وہیں جا کر پہن لے گی

” مجھے کئ سال لگیں گے تمہیں رقم دیتے دیتے “

” مجھے کئ سال لگیں گے تمہاری رقم لوٹاتے لوٹاتے ، تمہارا مقروض رہوں گا ، خوشی سے رہوں گا “

دوسرے کان سے جھمکا نکالتے اس نے وہ ہاتھ میں تھامے ہی تھے جب آدم نے اس کی ہتھیلی سے وہ جھمکے اٹھاتے اپنی سامنے کی جیب میں ڈال لئے ، ایک جھمکا لٹک گیا سو وہ سامنے نظر آرہا تھا، وہ سٹپٹائ

” میں اٹھا لیتی “

” جتنی تم نازک واقع ہوئ ہو ان کے بوجھ سے ہی تھک جاتیں”

وہ اب جیبوں میں ہاتھ ڈالے سکون سے چل رہا تھا

” ہاتھ میں نہیں کوٹ میں ڈال رہی تھی “

وہ خفا ہوئ

” کوٹ کا بوجھ بھی بمشکل برداشت کررہی ہو تم “

” اتنی بھی نازک نہیں ہوں “

وہ تپی

” اوہ ، مجھے یاد آیا کل کون ٹیبل کمرے سے ہٹوانے کے لئے مجھ سے مدد لینے آیا تھا ؟”

” تم اب مجھے طعنے دوگے ؟”

” میں صرف حقیقت بتارہا ہوں کیونکہ میں ایک حقیقت پسند انسان ہوں “

” تمہاری ساری حقیقت صرف مجھے تپانے کے لئے بنائ گئ ہیں “

” یہاں تم غلطی کررہی ہو ، میں تو صرف سچ بولتا ہوں “

” بھاڑ میں جھونکو ساری سچائیاں ، اور میرے جھمکے واپس کرو ، میری بالی کی طرح یہ بھی گم کردوگے “

” کتنی مرتبہ طعنہ ماروگی مجھے ، ؟” افسوس سے اسے دیکھا

” جب تک میری بالی ڈھونڈ نہیں دیتے ، چاندی کی تھی وہ “

” یقین کرو میں نے کبرڈ میں ہی رکھی تھی پتا نہیں کہاں گم ہوگئ “

” مجھے یقین ہے وہ اب بھی تمہارے پاس ہوگی ،تم بس مجھے تنگ……”

وہ غصے سے خفگی بھرے انداز میں کچھ کہہ رہی تھی ، وہ جوابا وضاحت دینے لگا ، آواز مدھم ہوتی ہوتی دور ہوتی چلی گئ ، سرخ لباس والی لڑکی اور سفید لباس والا مرد نئے مناظر کا حصہ بنتے چلے گئے ، ان کے پیچھے گیلی سڑک پر لگے قمقمے چمک رہے تھے ، ان کی چمک میں روشنیاں تھیں ، وہی روشنیاں جو کسی کی زندگی میں بھی تھیں

تو اگر تم دعویٰ کرو

محبت اور وفا کا

پھر یوں ہو کہ

تم پر انتخاب کا وقت لایا جائے

تو اگر تم محبت کرتے ہو تو

منتخب کرو وفا !

اختتام !

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆