192.3K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Laa (Episode 20)

Laa By Fatima Noor

وہ اپنے کمرے میں بیڈ کے پاس بیٹھی تھی ، گھٹنوں میں سر دیئے ہچکیوں سے روتے ہوئے ، اس کے پاس کارپٹ پر خون میں ڈوبی چوڑیاں اور سفید جھمکے پڑے تھے ، دوپٹہ فرش پہ پھیلا تھا ، لباس نیلے رنگ کا تھا ، آنکھیں سرخ ، چہرہ سفید ، اس کے وجود پر چار رنگ اکٹھے ہوگئے تھے ، چوتھا رنگ غم کا تھا

وہ قحط زدہ علاقوں کی حزن زدہ باسی لگتی تھی

تباہ حال مکانوں کی تھک چکی مکین

اس کے پاس رکھا فون بج رہا تھا ، وہ نہیں اٹھا رہی تھی ، وہ جانتی تھی وہ ایرک ہوگا

” وہ پاکستان جارہا ہے معطر “

وہ زندہ جارہا ہوتا تو وہ ملنے جاتی ، مل کر مسکراتی ، وہ میت کی صورت جارہا تھا تو وہ ملنے نہیں جانا چاہتی تھی ، وہ ملنے جاتی تو رو پڑتی تھی ، ہیر کی آنکھوں میں دو دن سے پانی ختم نہیں ہورہا تھا ، رانجھے کا وجود مٹی ہوچکا تھا

” رونا بس کردو معطر “

اس کے پاس گننے کو ایک یہی خسارہ باقی رہ گیا تھا ، رونے کو ایک یہی غم ، پشاور کا سنان سعدی

بانو آپا خود تھکی سی تھیں ، وہ روتی معطر کو چپ کراتیں بھی تو کتنا ، ایک شخص بچھڑا تھا تو آنکھیں یعقوب کر گیا تھا

سنان سعدی ۔۔۔۔ اس کا قتل برطانوی حکومت کے لئے بدترین واقعہ بن گیا ، ہاشم بن عبد اللہ ٹرسٹ پر مظاہرانہ حملے میں پاکستانی شہری کا قتل ۔۔

پاکستانی میڈیا جتنا یہ معاملہ اچھال سکتا تھا اتنا اچھالا ، سوشل میڈیا پر جتنا عوام غصے کا اظہار کرسکتی تھی اتنا کیا ، برطانوی وزیراعظم کی طرف سے سنان سعدی کے گھر والوں سے بذات خود معافی مانگی گئ ، جو لوگ زخمی ہوئے تھے ان کے علاج کا سارا خرچہ حکومت اٹھائے گی ، برطانیہ میں جو غصہ الارا کے قتل پر ابھرا تھا وہ سنان کے قتل پر جھاگ کی طرح بیٹھا تھا

اگر الارا کا قتل مسلمانوں کی شدت پسندی تھی تو سنان سعدی کا قتل کس زمرے میں آتا تھا ؟

پولیس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق گولی کسی شہری کی طرف سے چلائ گئ تھی ، شہری کون تھا ؟ اس کی فلحال کوئ وضاحت نہیں کی گئ تھی ،پولیس نے جائے وقوعہ پر موجود ان تمام افراد کو گرفتار کرلیا تھا جو مشکوک تھے ، الارا کے قتل سے سب کی توجہ ہٹتی سنان کی طرف چلی گئ ، معاملہ صرف پاکستان کا ہوتا تو بات صرف پاکستان تک رہتی معاملہ اسلام سے جڑ گیا تھا تو بات بھی دنیا تک پھیلی تھی ، برطانوی حکومت جتنا اس معاملے کو سنبھالنے کی کوشش کررہی تھی اتنا معاملہ پھیل رہا تھا ، ازلنگٹن پولیس کی مکمل کوشش تھی کہ بات دب جائے اور زیادہ بدنامی نا ہو ، سوال یہ بھی تھا کہ مظاہرین فنسبری پارک سے ہوتے ہوئے جتھے کی صورت ٹرسٹ پر حملہ آور ہوئے تھے اور پولیس اس سب لا علم کیسے رہی ؟

ان کے نام نہاد حقوق مسلمانوں کے لئے کہاں جاتی ہیں ؟

کیا یہ جائز تھا کہ ایک معصوم شخص کو یوں مار دیا جاتا ،؟

برطانوی حکومت اب کیا کہے گی ؟

جو الارا گریس کے قتل پر چیخ رہے تھے وہ سنان کے قتل پر خاموش کیوں ہیں ؟

شیم آن یو برطانیہ

برطانوی وزیراعظم کی اظہار افسوس کے لئے کی گئ پوسٹ پر لاکھوں کمنٹس تھے ، پاکستان کی حکومت کی طرف سے مذمتی بیان کے بعد امید ظاہر کی گئ تھی برطانوی حکام کی طرف سے فوری انصاف کو یقینی بنایا جائے گا

اسے ایرک نے آ کر یہ ساری خبریں دی تھیں ، لاشعوری طور پر وہ اس کا دل برطانیہ کی طرف سے صاف کرنا چاہتا تھا ، اس نے کچھ نہیں کہا ، بس صوفے پر بیٹھی گھٹنوں پر سر رکھے سامنے دیکھتی رہی

” اور کتنا روؤ گی معطر ؟”

” تم اسے الوداع کرنے جاؤ گے ؟”

اس کی آواز زکام زدہ ہوگئ

” تم جانا چاہتی ہو ؟”

” اس نے کہا تھا اگر میں الوداع کرنے نا گئ تو وہ برطانیہ سے نہیں جائے گا ، اگر میں نا گئ تو وہ ایسا کرے گا ؟”

” وہ مر چکا ہے معطر “

” تم بار بار یہ بات کیوں دہراتے ہو ؟ تمہیں پتا ہے مجھے کتنی تکلیف ہوتی ہے ؟”

ایرک صوفے پر بیٹھا گٹنوں پر کہنیاں رکھے اسے دیکھتا رہا ، اس کا وجود تھکا تھکا سا تھا

” تمہارے افسوس سے وہ واپس نہیں آئے گا “

” میں جانتی ہوں لیکن میں اپنا دکھ کم نہیں کرسکتی “

اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے

” اپنی آنکھوں کو مت تھکاؤ “

” وہ میرا یوسف تھا ، وہ بچھڑ گیا تو میں اپنی آنکھیں یعقوب کر بیٹھی ہوں “

وہ کسی یوسف کے قصے سے واقف نہیں تھا نا وہ یعقوب کا غم جانتا تھا

” تم ۔۔۔۔ تم اس سے محبت کرتی ہو ؟”

جانے اس نے کس دل سے سوال کیا تھا

” تم دیکھو مجھے اس کا کتنا غم ہے ، محبت کا تو میں سوچ ہی نہیں رہی ، میں تو اس غم کا سوچ رہی ہوں جو مجھے اس کے جانے سے ہوا ہے “

وہ وہیں بیٹھی روتی رہی ، اسے نہیں مرنا چاہئے تھا ، اسے تو نہیں مرنا چاہئے تھا ، وہ جاتے جاتے اس کا دل بدل گیا تھا ، وہ جاتے جاتے اس کا دل زخمی کر گیا تھا ، ایرک وہاں سے چلا گیا ، اسے سنان کی لاش کلیئرنس کے بعد پاکستان روانہ کرنی تھی ، وہ وہیں بیٹھی روتی رہی ، وہ کہتا تھا وہ نہیں آئے گی تو وہ برطانیہ کے ایئرپورٹ سے کسی جہاز کو نہیں جانے دے گا ، وہ دیکھنا چاہتی تھی کہ وہ مر کر بھی قول پورا کرتا تھا یا نہیں

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

وہ قول کا پکا تھا لیکن اس بار وہ قول پورا کرنے سے قاصر تھا ، اس کی لاش پاکستان بھیج دی گئ ، اسی شام پشاور کے قبرستان میں سنان سعدی کو دفن کردیا گیا ، اس کے حصے میں زمین مر کر آئ تھی

پاکستان میں عوامی دباؤ بڑھنے لگا ، مسلم ممالک نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے برائے نام مذمت کردی ، سنان کے خاندان کی طرف سے فلحال خاموشی تھی ، وہ غم میں تھے

اور وہ صدمے میں تھی

ازلنگٹن کی گلیاں ویران ہوگئیں ، اگلے دن برف پھر زور سے ہوئ ، اسے اب اس برف سے خوف آتا تھا ، اگلے دن بارش ہوئ ، اسے اس بارش وحشت ہونے لگی ، برطانیہ کی بارش اس کا وجود زخمی کر گئ تھی ، برطانیہ کی برف اس کا دل زخمی کر گئ تھی

وہ کیفے جاتی تو واپسی پر نظر بے ساختہ سامنے اٹھتی ، وہاں سنان نہیں تھا ، وہ اسٹیشن پر ٹھہرتی تو قدموں کی آہٹ کا انتظار کرتی ، پشتو غزلیں گنگنانے والا اردگرد نہیں تھا ، مسکراہٹ دبا کر اسے دیکھنے والا غائب تھا ، چوڑیاں لانے والا بنجارہ دیس چھوڑ گیا تھا ، رانجھے نے ہیر کے باغ چکر لگانے ترک کردیئے تھے

” مانچسٹر چلو گی ؟”

سنان کی جگہ ایرک کے قدموں نے لے لی

” نہیں۔۔۔”

” لندن آئ پر ؟”

” دل نہیں۔۔۔”

” مووی دیکھنے ؟”

” دلچسپی نہیں ۔۔۔”

” کہیں تو چلو “

” کہیں لے چلو جہاں سنان کی یاد نا ہو “

وہ رک گیا تھم گیا ، اسے دکھ تھا ، لیکن اس کا دکھی ہونا اذیت ناک تھا ، پھر سر جھٹکا

” تم اسے زہن سے نکال سکتی ہو “

” اسے زہن سے نکالنے کا کوئ طریقہ بتادو “

” بھول جاؤ ۔۔۔”

” بھلانے کا کوئ منتر آتا ہے تمہیں ؟”

” اس کا زکر کرنا چھوڑ دو “

” اس کا زکر کہاں کرتی ہوں ؟”

” اسے یاد کرنا چھوڑ دو “

” وہ مجھے ازلنگٹن کی ہر گلی میں نظر آتا ہے ،جو نظر آتا ہے اسے کیسے بھلاؤں ؟”

ایرک فنسبری پارک میں اس کے ساتھ بیٹھا تھا ، بینچ پر تتلیاں رقص کرتی تھیں ، ان تتلیوں کے پنکھ سیاہ تھے

” وہ تمہیں ایسے دیکھتا تو اداس ہوتا “

” میں اداس ہوں ، اس سے کہو وہ آ جائے “

یہ محبت نہیں تھی ؟ ایرک نے جھٹکا

” پولیس اس کے قاتل کو ڈھونڈ رہی ہے “

اس نے موضوع تبدیل کرنا چاہا

” پورے برطانیہ کو کیسے گرفتار کرے گی پولیس ؟”

” اس میں برطانیہ کے ہر شخص کا قصور تو نہیں ہے “

اس نے وضاحت دینی چاہی ، لہجہ کمزور تھا ، پورا برطانیہ ؟ پورے برطانیہ میں وہ بھی آتا تھا

” کیوں ؟ مجھے بتاؤ ایرک۔۔۔۔” وہ ہتھیلی سے آنسو صاف کرتی اس کی طرف مڑی ” تمہارے لوگوں میں یہ بات کس نے پھیلائ کہ مسلمان برے ہیں ؟ تمہارے لوگوں میں اسلاموفوبیا کس نے پیدا کیا ؟ وہ مظاہرہ کرنے والے جو اسلام کے خلاف بول رہے تھے وہ کس لئے وہاں جمع تھے ؟ سنان کی تو ان کے ساتھ کوئ دشمنی نہیں تھی ،وہ تو اسلام کے نام پر مارا گیا نا ؟ یہ دشمنی کس نے ان لوگوں کے اندر بھری تھی ؟ الارا کے قتل پر شور مچانے والا معاشرہ اب کہاں ہے ؟ اب کیوں عیسائیوں یا برطانویوں کو شدت پسند نہیں کہا جارہا ؟ اتنا دہرا معیار کیوں رکھتے ہو تم لوگ ؟ سنان کے قتل کا ذمہ دار میں تم میں سے ہر کسی کو سمجھتی ہوں “

” یہ ۔۔۔ صرف ایک شخص کا عمل تھا “

جگہیں تبدیل ہوگئ تھیں ،کچھ عرصہ قبل وہ اس سے ایسا ہی کچھ کہہ رہی تھی ، ایک مسلمان کا عمل ایک کا عمل تھا ، کچھ عرصے بعد وہ اس سے کہہ رہا تھا ، ایک برطانوی کا عمل ایک کا تھا ، مقام بدل گیا ، الفاظ وہی رہے ، الفاظ کہنے والے بدل گئے

” یہی بات جب میں کہتی تھی تو تم کیوں ڈٹ جاتے تھے ؟ میں تو سچ کہتی تھی ایرک ، تم مجھے بتاؤ جو مظلوم ہو وہ ظالم کیسے ہوسکتا ہے ؟ جو ظالم ہو وہ مظلوم کیسے ہوسکتا ہے ؟ سنان کا قاتل تمہارا میڈیا ہے ، تمہارا معاشرہ ہے ، تم میں سے ہر شخص ہے ،۔۔۔ تم بھی ہو “

ایرک کیان کا دل کسی نے مٹھی میں بھینچا

” تم مجھ پر الزام لگا رہی ہو ؟”

” کیوں نا لگاؤں ؟ کیا تم نے اپنے لوگوں میں اسلاموفوبیا بڑھانے میں کردار ادا نہیں کیا ؟ تم اسلام کے خلاف کالمز نہیں لکھتے رہے ؟ تم مظاہروں میں شرکت نہیں کرتے رہے ؟ تم اسلام کے خلاف نہیں بولتے رہے ؟ تو پھر سنان کے قاتل تو تم بھی ہو “

وہ بے رحم تھی تو حد سے زیادہ تھی ، وہ بے حس بنی تھی تو مکمل بن گئ تھی

” میں سنان کے ساتھ یہ سب نہیں چاہتا تھا “

” پھر بھی یہ سب ہوا ۔۔۔۔ تم خود کے گریبان میں جھانکو ایرک ۔۔۔ تم نے لکھا ہوگا کہ مسلمان شدت پسند ہوتے ہیں ، تم نے لکھا ہوگا کہ وہ بے حس ہوتے ہیں ، ظالم ہوتے ہیں ، اس مجمعے میں کوئ ہوگا جس نے تمہارا کالم بھی پڑھا ہوگا ، اس مجمعے کو غور سے دیکھو ….سنان کے قاتلوں میں تمہیں اپنا چہرہ بھی نظر آئے گا “

وہ سختی سے کہتی اٹھی ، رونقیں ماند پڑ گئ تھیں ، چہرے خالی ہوگئے تھے ، ایرک پیچھے بیٹھا تھا ، اس کا چہرہ سفید پڑا تھا ، وہ اس کے منہ پر تمانچہ مار کر گئ تھی

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

تو زندگی رکتی تھی نا وہ رکنے والی تھی ، کیفے آنے والے کسٹمرز کا رویہ بدل گیا ، افسوس معذرت ، اور معافی کی نگاہ ، وہ سپاٹ تاثرات کے ساتھ سب کام نبٹاتی رہی ، سنان کے خاندان سے کوئ برطانیہ نہیں آیا تھا ، ان لوگوں کی طرف سے حکومت پاکستان سارے معاملات دیکھ رہی تھی اور وہ اچھی طرح جانتی تھی معاملہ دبا دیا جائے گا ، چند میڈیا چینلز نے ایرک کے زریعے اس سے بھی رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن اس نے صاف منع کردیا ، ٹرسٹ میں لگے کیمرے میں اس کا نیم رخ نظر آتا تھا تو کسی کو علم نہیں ہوسکا تھا کہ سنان سعدی کے سامنے بیٹھنے والی لڑکی کون تھی ، ازلنگٹن کی فضا ایک شخص کے جانے سے بدل گئ تھی ، وہ وہ ایک شخص بن گیا جو جاتے جاتے برطانیہ کے باسیوں کے خیالات بدل گیا تھا ، اور معطر صبا اچھی طرح جانتی تھی کہ یہ سب وقتی تھا ، کوئ ایک سانحہ اور چند دن بعد یہی انگریز پھر مسلمانوں پر شدت پسندی اور دہ شت گردی کا الزام لگاتے اٹھ کھڑے ہوں گے

وہ کیفے سے واپسی پر لوئ کے اسکول کے راستے سے چلی گئ ، وہ سکول کے باہر بنے بینچ پر بیٹھی تھی ، بیگ ساتھ رکھا تھا ، سر نیچے گرا تھا

” کیسی ہو لوئ …؟”

وہ چونکی پھر سر اٹھایا

” ٹھیک ہوں ۔۔۔ تم کیسی ہو ؟”

” میں اچھی ہوں۔۔”

وہ اس کے ساتھ بیٹھتی بیگ سے چاکلیٹ نکالنے لگی ، پھر اس کی طرف بڑھاتے ہوئے ہلکا سا مسکرائی

” میں اپنی دوست کے لئے تحفہ لائ تھی “

لوئ کا سر نفی میں ہلا

” تم بعد میں کھا لینا ۔۔۔”

” مجھے اب چاکلیٹ اچھی نہیں لگتی “

معطر کی مسکراہٹ غائب ہوئ ، ہاتھ نیچے آ گرا

” کیوں۔۔۔؟”

” سنان کہتا تھا چاکلیٹ کھا کھا کر پانڈہ بن جاؤ گی ، جب وہ زندہ تھا تو میں نے اس کی بات نہیں مانی ، اب ماننا چاہتی ہوں “

” تم اسے پسند کرتی ہو ؟”

” سنان کو کون نا پسند کرسکتا ہے ؟”۔۔۔اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے ” تمہیں پتا ہے وہ اپنے اپارٹمنٹ نہیں ہوتا تھا تو میں اس کے کچن سے جا کر اس کے چپس اور چاکلیٹ کھاجایا کرتی تھی ، وہ جانتا تھا یہ میں کرتی ہوں پھر بھی ہر ماہ نئے چپس لے آتا تھا ، وہ میرا خیال رکھتا تھا ، وہ اچھا تھا اور میرا دوست تھا “

” وہ۔۔۔ وہ وہاں خوش ہوگا “

اس کے حلق میں کانٹے اگے

” اسے اپنی خوشی نہیں ہمارا غم دیکھنا چاہئے “

تم صبر کرلو لوئ “

” تم کررہی ہو ؟”

روتی آنکھیں اٹھا کر معطر کو دیکھا ،معطر کا سر ہلا ، اسے نہیں معلوم وہ ہاں میں ہلا تھا یا نفی میں

” وہ مجھے تمہارا بتاتا تھا ، وہ کہتا تھا وہ مجھے ہیر رانجھا کا قصہ سنائے گا تو میں معطر کو ہیر سمجھوں گی ، وہ کہتا تھا وہ بالکل ہیر جیسی لڑکی ہے ، تم مجھے یہ کہانی سنا سکتی ہو معطر ؟ تاکہ میں جان سکوں کہ اس کہانی میں وہ کون تھا ؟”

اس کا حلق درد کرنے لگا ، مزید بولنے کی ہمت نہیں تھی اسے ہمت نہیں کرنی پڑی ، لوئ کی مام کی گاڑی اس کے سکول کے باہر رک رہی تھی

” تمہاری مام آ گئیں “

وہ سر ہلاتی بیگ سنبھالتی اٹھی پھر معطر کو دیکھا

” ہم لوگ ازلنگٹن سے جارہے ہیں ، میرے ڈیڈ کا ٹرانسفر ہوگیا ہے ، تم یہ چاکلیٹس کسی اور کو دے دینا ، مجھے سنان کی بات ماننی ہے “

وہ ہاتھ ہلاتی بڑھ گئ ،معطر وہیں بیٹھی رہی ، لوئ چلی گئ تو روک رکھے آنسو بہہ نکلے ، اس نے گال رگڑتے بے دردی سے انہیں صاف کیا پھر بیگ میں رکھا موبائل اٹھایا ، ایک پل کو دل سکڑ کر پھیلا

سنان کے نمبر سے کال آرہی تھی

” ہیلو۔۔۔۔”

آواز کانپ گئ

” سنان۔۔۔”

” یہ تم ہو سنان ؟ ہیلو “

” میں پریزے بات کررہی ہوں ، سنان لالا کی بہن “

اس کا وجود تھما ، آنکھیں اذیت سے بند کیں ، وہ کیسے ہوسکتا تھا ؟ اب وہ کیسے ہوسکتا تھا ؟

” آپ معطر ہیں ؟”

” جی۔۔۔۔”

اس نے آنسو رگڑ کر صاف کئے

” کیسی ہیں ؟”

اس کی آواز میں پشتو لہجے کی جھلک تھی ، تھکا سا سوگوار لہجہ

” میرا حال مجھے نہیں معلوم ۔۔۔ تم کیسی ہو پریزے ؟”

وہ سنان سے اس کا کئ بار زکر سن چکی تھی

” میں اپنے حال کی خبر نہیں رکھ رہی ۔۔۔۔ لالا رکھا کرتے تھے وہ نہیں ہیں تو میں نے بھی حال کا خیال رکھنا چھوڑ دیا ہے “

پل بھر کو دونوں طرف خاموشی چھا گئی ، ایک کا دل پھٹ رہا تھا ایک کا دل پھٹ چکا تھا

” سنان کا نمبر تم استعمال کررہی ہو ؟”

گلا کھنکارتے اس نے آنکھوں کو صاف کیا

” پہلی کال آپ کو کی ہے ، آخری بھی ، بابا یہ نمبر بند کروارہے ہیں ، وہ کہتے ہیں اس نمبر سے کال آتی ہے تو لالا کی یاد آتی ہے “

شاید وہ رو رہی تھی ، معطر نے لب کاٹا

” تمہارے گھر میں سب کیسے ہیں ؟”

” جیسا سب کو ہونا چاہئے “

” تم لوگ کیس کی پیروی کیوں نہیں کررہے ؟ تم لوگوں کو سنان کے لئے لڑنا چاہئے “

” میڈیا والے بتارہے تھے قریب تین سو لوگ تھے ، حکومت کہتی ہے کس کس سے لڑیں گے ؟ بابا وہاں نہیں جانا چاہتے ،ہم نے معاملہ اللہ کے سپرد کردیا ہے “

وہ مزید کچھ نا کہہ سکی ، مسئلہ مالی مشکلات کا نہیں تھا ، وہ جانتی تھی سنان کی فیملی کافی مالدار تھی ، وہ خود شاید یہاں شوقیہ جاب کررہا تھا ، مسئلہ تو دل کا تھا

” تم مجھے کیسے جانتی ہو پریزے ؟” سنان نے بتایا تھا ؟”

” ان کی گفتگو آپ سے شروع ہوتی تھی ، درمیان میں آپ کا حال آتا تھا ، اختتام آپ پر کرتے تھے “

پل بھر کو اس کا دل وہیں رک گیا

” پریزے ۔۔۔۔۔”

” وہ مجھے لاھور کی معطر صبا کا بتایا کرتے تھے ، وہ مجھے ہیر کے قصے سناتے تھے ، وہ آپ کو بتانا بھول گئے کہ وہ خود کو رانجھا سمجھتے تھے “

معطر کا سر نفی میں ہلا ، وہ چپ کر جائے مزید نا بولے ، اس کا دل پھٹنے لگا تھا لیکن پریزے چپ نہیں ہوئ

” وہ کہہ رہے تھے پاکستان آئیں گے تو آپ سے بات کروائیں گے ، میں ان کے پاکستان آنے کی منتظر تھی ، پھر ہم نے لاھور جانا تھا ۔۔۔” وہ اب ہچکیوں سے رو رہی تھی ،معطر صبا کا وجود کوئ آرے سے کاٹ رہا تھا

” پریزے ۔۔۔۔۔”

” مجھے نہیں معلوم وہ آپ کو بتا کر گئے ہیں یا نہیں لیکن وہ آپ کا زکر خود سے زیادہ کرتے تھے ، وہ آپ کا نام خود سے زیادہ لیتے تھے ، انہوں نے خود کو لکھنا چھوڑ دیا تھا وہ آپ کو لکھتے تھے “

اس کا ہاتھ سن ہوا ، جو وہ کہہ رہی تھی وہ دل روک رہا تھا

” تم غلط ۔۔۔۔”

الفاظ رک گئے ، وہ غلط سوچ رہی تھی تو سنان کی آنکھوں کا سچ وہ کیسے جھٹلاتی ؟ اس کی نظروں کا احساس کیسے رد کرتی ؟

” ان کے پاس ایک ڈائری تھی معطر ، اسے میرے پاس بھجھوادیں ، وہ ڈھونڈ دیں کہیں سے ، بس وہ مجھے بھجوادیں “

معطر کا ہاتھ نیچے آ گرا ، وہ کتنی ہی دیر وہیں بیٹھی رہی ، ساکت جامد ۔ پھر نظریں اٹھائیں ۔ ازلنگٹن ویسا ہو کر بھی ویسا نہیں رہا تھا ، پھر وہ اٹھی ، قدم خود بخود اسٹیشن کی طرف اٹھے ، بس میں بیٹھنے ، ٹرسٹ آنے تک دماغ کام کرنا چھوڑنے لگا ،جو وہ سوچ رہی تھی اس کے سچ نا ہونے کی دعا دل میں تھی ، جو دل میں تھا کاش وہ سچ ہوجاتا ، اسٹیشن سے اترتے قدم زمین پر رکھتے قدم بھاری ہونے لگے ، دل بند ہونے لگا ، بیسواں دن تھا، چوبیس گھنٹوں میں بیس بار وہ شخص یاد آتا تھا ، سڑک خالی تھی ، اس دن کا ہجوم غائب تھا ، اس دن جیسا شور بھی غائب تھا ، اس دن جیسی اذیت موجود تھی ، گیٹ کھولتے اندر داخل ہوتے وہ صحن میں رکی ، سانس رکنے لگی ، وہ جگہ صاف تھی وہاں خون نہیں تھا ، وہ جگہ صاف نا ہو کر پہلے سے زیادہ اذیت دے رہی تھی ، اس کا آفس خالی تھا ، خالی آفس میں وحشت تھی ، وہ بنا اس کے آفس پر نظر ڈالتی ساتھ والے دروازے کی طرف گئ

” فاتح بھائی ۔۔۔۔”

فاتح نے چونک کر سر اٹھایا پھر اسے دیکھتے ہلکا سا مسکرائے

” کیسی ہو معطر ؟”

” میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔ آپ کیسے ہیں ؟”

وہ دروازے میں یوں چپکی تھی جیسے بھاگ جانا چاہتی ہو

” ٹھیک ہی ہوں۔۔۔۔ بیٹھو “

” نہیں ۔۔۔ میں کچھ لینے آئ تھی “

وہ دو قدم آگے کو ہوئ

” کیا۔۔۔؟”

” سنان کی ڈائری آپ کے پاس ہے ؟ وہ اس کے سامان کے ساتھ پاکستان نہیں گئ تھی “

انداز مضطرب تھا ، بے چینی اندر باہر پھیلی تھی ، جو وہ سوچ رہی تھی وہ سچ نا ہو

” ہاں۔۔وہ یہیں تھی ، چند دن پہلے ہی بلڈنگ کو دوبارہ درست کروایا ہے تو کام کرنے والے لڑکوں کو ملی تھی ، ہاشم بھائ کے پاس ہوگی ، تم یہاں سے سیدھا جاؤ پھر بائیں مڑ جانا ، ان کا کمرہ وہیں ہے “

اس نے سر ہلادیا ، ہاشم بھائ ، سنان کے منہ سے سب سے زیادہ ان کا زکر نکلتا تھا ، عقیدت سے ،محبت سے ، وہ سیدھی ہوتی بائیں طرف مڑی ، لکڑی کا بنا دروازہ کھٹکھٹایا پھر کھول کر اندر داخل ہوئ ، سامنے سٹینڈ تھا جس پر سیاہ کوٹ لٹکا تھا ، بائیں طرف صوفے ان کے پیچھے الماری جس میں ڈھیروں کتابیں رکھی تھیں ، بائیں طرف میز کے پار کرسی تھی جس پر بیٹھے ادھیڑ عمر شخص نے دروازہ کھلنے کی آواز پر سر اٹھا کر دیکھا تھا ، دروازے میں ہلکا گلابی جوڑا پہنے لڑکی ٹھہری تھی ، دوپٹہ گلے میں تھا اوپر سفید سوئیٹر جس کی لمبی آستین اس کی کلائیوں سے اوپر تک آرہی تھیں ، وہ لب کاٹتی بے چینی سے وہاں ٹھہری تھی

” جی ۔۔۔؟”

” السلام علیکم ۔۔۔ میں معطر صبا ہوں”

وہ انگلیاں مروڑتی ان کی میز تک آئ ، نیوی بلیو پینٹ کوٹ پہنے ٹائی لگا کر رکھی تھی ، وہ پر شفیق چہرے والے انسان تھے ، چہرے پر چھوٹی سی داڑھی تھی جو سفید ہورہی تھی

” وعلیکم السلام ، بیٹھو بیٹا “

آگے کو ہوتے مسکراتے ہوئے کہا تو اس نے نفی میں سر ہلایا

” مجھے جلدی ہے ، بس ایک کام تھا ، کچھ چیز چاہئے تھی یہاں سے “

” کیا چاہئے ؟”

” سنان سعدی کی ڈائری “

لمحہ بھر کو ان کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوئ ، آنکھوں میں کوئ دکھ سا ابھرا ، تھکی سی سانس لیتے وہ پیچھے کو ہوئے

” اس کی ڈائری یہاں کیوں ہوگی ؟”

” میں جانتی ہوں وہ یہیں ہے ، آپ مجھے وہ دے دیں پلیز “

” وہ سنان کی امانت ہے “

” وہ اپنی امانت اب واپس نہیں لے سکتا “

” پھر میں آپ کو کیوں دوں ؟ کس تعلق سے دوں ؟”

تعلق ؟ اس کا سنان سے کیا تعلق تھا ؟ کچھ بھی تو نہیں

” اس کی بہن کی کال آئ تھی وہ مانگ رہی تھی “

” میں وہ اس کے گھر والوں تک بھجوادوں گا “

معطر نے تھک کر انہیں دیکھا

” مجھے وہ پڑھنی ہے “

” میں خائن نہیں ہوں “

” میں آپ کو واپس کردوں گی “

” تم کاذب نہیں لگتیں لیکن میں ڈائری نہیں دے سکتا “

وہ نرم لیکن دو ٹوک انداز میں کہہ رہے تھے ، معطر صبا کا حلق نم ہوا

” وہ اس ڈائری میں میرا نام لکھتا تھا “

” وہ عورتوں کی عزت کرتا تھا آپ کو کسی نے غلط خبر دی ہے “

” پلیز ۔۔۔”

” آپ جا سکتی ہیں بیٹے ، میں معذرت خواہ ہوں “

وہ آگے کو ہوتے دوبارہ سے فائل پر جھک گئے ، معطر کچھ دیر انہیں دیکھتی رہی پھر سر جھٹکتے جانے لگی جب پیچھے سے ان کی آواز آئ

” سنان تمہارا کیا لگتا تھا ؟”

اس کی نظر اپنی کلائ پر گئ ، وہاں سیاہ رنگ کی تین چوڑیاں تھیں ، وہی چوڑیاں جو سنان لایا تھا

” وہ میرے لئے یوسف جیسا تھا جو مجھ سے بچھڑ گیا اور اب واپس نہیں ملے گا “

آہستہ سے کہتے وہ دروازہ کھول کر باہر نکلی ، مرینہ کا ڈیسک خالی تھا ، دروازے سے ہوتے وہ باہر چھوٹے سے برآمدے تک آئ ، لکڑی کی ریلنگ پر ہاتھ رکھ کر نیچے دیکھا ، سامنے اسی جگہ پر وہ گرا تھا ، وہ کچھ کہنا چاہتا تھا ، وہ اب سننا چاہتی تھی ، جب لوگ موجود ہوتے ہیں تو ہم مصروف ہوتے ہیں جب وہ بچھڑ جاتے ہیں تو ایک انہیں کو سننے کو دل تڑپتا ہے

ازلنگٹن اپنی رونق کھو چکا تھا ، ہاشم بن عبد اللہ ٹرسٹ آنے کا اب دل نہیں کرتا تھا ، کیا ہوا گر وہ اس قید سے رہا ہوسکے ؟

” معطر۔۔۔۔۔”

آواز پر وہ پلٹی ، پیچھے سے سرخ رنگ کی ڈائری اٹھائے ہاشم بھائ آرہے تھے ، اس کی نظر ڈائری پر جم گئ ، سادہ سی سرخ رنگ کی ڈائری جس کے آخری کونے پر تین ننھی تتلیاں بنی تھیں

” میرے لئے وہ یوسف جیسا نہیں تھا اسی لئے میرے لئے اس کی ڈائری بھی اتنی اہم نہیں ہوگی جتنی تمہارے لئے ہے “

وہ ڈائری اس کی طرف بڑھا رہے تھے ساتھ بھوری شال بھی تھی وہی شال جو اس نے آخری بار یہیں کھڑے ہو کر پہنی تھی ، وہی شال جسے پہن کر ٹھہرتے سنان نے کوئ غزل سنائ تھی ، وہی غزل جس کا ترجمہ کرنا وہ بھول گیا تھا

” آپ کا شکریہ۔۔۔۔”

وہ اس سے زیادہ کچھ نا کہہ سکی ، ہاشم بھائ ہلکا سا مسکراتے ہوئے پلٹ گئے ، ان کا چہرہ ان کی مسکراہٹ سے میل نہیں کھاتا تھا ، ہاتھ میں تھامی ڈائری کو دیکھتے اس نے نظر اٹھائ ، وہ ان چوڑیوں کا بھی پوچھنا چاہتی تھی جو وہ کیمیڈن پیسیج سے لے کر آیا تھا ،اس جھمکے کا بھی جو وہ پریزے کے لئے لایا تھا لیکن شاید وہ کہیں گم ہوگئے تھے ، اسے اب یہ ڈائری پڑھنی تھی

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

سنان سعدی خان !

تاریخ : 20 ستمبر 2024

مقام : برطانیہ ، ازلنگٹن

میں سنان ہوں ، یہ تعارف ڈائری کے لئے تھا ، قلم مجھ سے پہلے ہی واقف ہے

میں ایک اچھا انسان ہوں ، ایسا میں نے لوگوں سے سنا ہے ، میں ایک برا انسان ہوں ایسا لوئ کہتی ہے جب میں اسے اس کے موٹا ہونے کا طعنہ دوں ( اور جو طعنے وہ مجھے دیتی ہے ان کا کیا ؟)

آج کا پورا دن ٹھیک گزرا سوائے باس کی ڈانٹ کے ، مجھے یہ انگریز برے لگتے ہیں جب یہ ڈانٹتے ہیں ، میں بچہ تو نہیں ہوں جسے ڈانٹا جائے (خفگی )

پورے دن میں اس سے زیادہ بری اور قابل زکر شے کوئ نہیں ہوئ اس لئے آج میں اس چیز کا زکر ہی کروں گا

یہاں دس بج رہے ہیں یعنی یہ سونے کا وقت ہے ، ملتے ہیں کل یا پرسوں یا کبھی !

سنان سعدی خان !

تاریخ: 25 ستمبر,2024

مقام : برطانیہ ، ازلنگٹن

اگر دنیا میں میں نا ہوتا تو لوئ کا کتنا نقصان ہوتا ؟ وہ پڑھنے سے بھاگتی ہے میں اسے سکول چھوڑنے سے ، لیکن اس کا باپ نا اسے سکول چھوڑنا بند کرتا ہے نا ہر دوسرے دن مجھے اسے پک کرنے کا کہنا ، ٹھیک ہے میں غریب نہیں ہوں لیکن میری سیلری زیادہ بھی نہیں ہے برطانیہ میں مہنگائ بڑھ رہی ہے، اور اس کا باپ ڈیزل کا خرچہ بھی نہیں دیتا ، اور پریزے کی لسٹ ؟ وہ ساری چیزیں کون لے گا ؟ لوگوں کو میری جیب پر رحم نہیں آتا ؟”

وہ ڈائری کے صفحے پلٹتی رہی ، بینچ سے ٹیک لگائے سامنے نظر آتی مصنوعی جھیل سے بے نیاز وہ سنان سعدی کو پڑھتی رہی جب ایک صفحے پر ہاتھ رکے

سنان سعدی خان !

تاریخ : یکم نومبر، 2024

مقام : برطانیہ ، ازلنگٹن !

یہ چوتھا دن ہے اور میں دوسرے دن ہی اس سے تنگ آگیا تھا ، بچے پیارے ہیں لیکن تب تک جب تک تنگ نا کریں ، اور لوئ تنگ کرتی ہے ، جیسے آج کچھ زیادہ ہی کردیا تھا ۔۔۔۔مجھے بھی اور

وہ مشرق سے تھی ، اس نے چوڑیاں پہن رکھی تھیں ، جانے مجھے ان چوڑیوں نے متوجہ کیا تھا ان کے ٹوٹنے نے یا اس کے ان چوڑیوں کے ٹوٹنے پر غمگین ہونے نے ، اسے چوٹ لگی تھی ، اس کی چوڑیاں ٹوٹی تھیں ، اسے غم چوڑیوں کا تھا چوٹ کا نہیں

وہ ایک دلچسپ لڑکی تھی اور میں اس سے دوبارہ ملنا چاہوں گا

اگلا صفحہ پلٹتے ہاتھ کپکپایا

سنان سعدی خان !

تاریخ: 2 نومبر ، 2024

مقام برطانیہ ، ازلنگٹن

دوسری ملاقات !

وہ پاکستان سے ہے وہ پاکستان میں لاہور سے ہے , مجھے حیرت اور خوشی کیوں ہورہی ہے ؟ ہاں ٹھیک ہے اپنے ملک کا تو پرندہ بھی عزیز ہوتا تھا وہ تو پھر ۔۔۔۔ انسان ہے , میں کچھ غلط نہیں سوچ رہا پڑھنے والا میری نیت پر شک مت کرے

اس کی کلائ خالی تھی ، کسی کی خالی کلائ پہلی بار بری لگی ، اس نے کہا کہ اگر میں بنجارا ہوں تو میں اسے لندن کی گلیوں میں ڈھونڈ لوں, وہ مجھے بنجارہ کہہ کر گئ ہے ؟ یہ اچھا لقب ہے !

وہ پڑھتی گئ ، بے یقینی سی اترتی گئ ، دل دعا کرتا رہا سنان کچھ ایسا نا سوچتا ہو ، جو وہ سوچتا ہو اس سوچ میں وہ نا آتی ہو

سنان سعدی خان !

تاریخ: 25 دسمبر 2024

مقام : ازلنگٹن ، برطانیہ

ملاقات ۔۔۔۔۔ بنجارے کا زہن اب فقط مناظر یاد رکھ رہا ہے

” دو دن ، اور ان اٹھتالیس گھنٹوں میں میں نے پچاس بار اسے کال کرنے کا سوچا ، مجھے علم نہیں تھا کہ میں اسے اتنا یاد کروں گا ، مانچسٹر کے بازاروں میں میں چوڑیاں ڈھونڈرہا تھا حالانکہ میں جانتا ہوں وہ چوڑیاں نہیں لے گی ،پھر بھی۔۔۔۔۔ پریزے کہہ رہی تھی میری ہر پہلی بات اس سے شروع ہوتی ہے ہر دوسری بات میں اس کا زکر آجاتا ہے ، وہ کہہ رہی تھی وہ مجھے اچھی لگنے لگی ہے ، وہ اچھی لگنے والی لڑکی ازلنگٹن کی گلیوں میں اداس آنکھوں کے ساتھ گھومتی اچھی نہیں لگتی ، سنا ہے پھول مسکراہٹ لانے کی وجہ بنتے ہیں ایسا ہے تو

“زه غواړم د نړۍ ټول سره ګلان ورټول کړم او هغې ته یې ورکړم”

(میں دنیا کے سارے سرخ پھول توڑ کر اسے دینا چاہتا ہوں )

معطر صبا کے ہاتھوں کے ساتھ اس کا دل بھی کپکپانے لگا

سنان سعدی خان !

تاریخ : 26 دسمبر, 2024

مقام : برطانیہ ، ازلنگٹن

میری ہتھیلی میں سرخ پھول تھے ، وہ کسی اور کا زکر نا کرتی تو میں اسے بتاتا کہ وہ ان سرخ پھولوں جیسی ہے ، وہ کسی اور کو بیچ میں نا لاتی تو میں اسے بتاتا کہ میں نے ازلنگٹن کی کیمیڈن پیسیج سے چوڑیاں اس کے لئے لی تھیں ، اس نے کہا وہ کسی اور سے محبت کرتی ہے

زمین پر اس سے زیادہ تکلیف دہ الفاظ کوئ ہیں ؟ ہیں تو میرے لئے بے معنیٰ ہیں ، ٹھیک ہے مجھے بتانے دو ۔ میں اقرار کرتا ہوں یہ محبت ہے ، میں نے لاھور کی ہیر کی چوڑیوں میں اپنا دل کھودیا ہے ، اس کی چوڑیوں کی کھنک میں میری ہر غزل کا ساز گم ہورہا ہے ، پر اب ؟ میں اعتراف کس مقام پر کررہا ہوں ؟جب میں اپنے ٹوٹے دل کی کرچیاں جمع کررہا ہوں ، وہ میری قسمت میں کیوں نہیں لکھی ؟

اس کی نگاہیں اسی ایک مقام پر ساکت ہوئیں ، اسی ایک لفظ محبت پر منجمد ہوئیں ، باقی ہر لفظ مٹ گیا ، ہر لفظ ماضی ہوا ، وہ اسی ایک مقام پر رک گئ ، ایک مقام پر فنا ہوئ ، اس کی ہیر پشاور کی وادیوں سے نہیں لاھور کی گلیوں سے تھی ، وہ پشاور کی کسی چنری اوڑھنے والی لڑکی کے لئے نہیں لاھور کی چوڑیاں پہننے والی لڑکی کے آتا تھا ، وہ بنجارہ پشاور کے پہاڑوں نہیں لاھور کی دھول جماتی سڑکوں پر کسی تلاش میں نکلتا تھا ، اس کے کپکپاتے ہاتھ اگلے صفحے کی طرف بڑھے

سنان سعدی خان !

تاریخ:5جنوری ,2025

مقام : برطانیہ, ازلنگٹن

میں پہلی بار محبت کرنے پر راضی ہوں

دل ٹوٹ کر پھر ٹوٹے اور پھر جڑ جائے ، ان دس دنوں میں میں ہر کیفیت سے گزرا ہوں ، اس نے کہا وہ پرانی محبت دل سے نکال چکی ہے ، وہ شخص اسی لائق ہے کہ اسے یاد بھی نا رکھا جائے ، اسے احساس ہے اس نے کیا گنوایا ہے ؟ وہ خسارہ شمار کرنے لگے تو فہرست میں پہلا نام اس کا گنے

میں دو سال لاھور رہا ہوں ، ان دو سالوں میں لاہور پیارا لگتا تھا ، ان دو ماہ میں اچھا لگنے لگا ہے یعنی

یہ جو لاہور سے محبت ہے یہ کسی اور سے محبت ہے !

میں فائدہ گننے لگوں تو اس سے ملاقات کا لکھوں گا ، وہ لڑکی مثل ہیر ہے ،میں خود کو رانجھا سمجھنے لگا ہوں ، زمین پہ روشنیاں کیوں اتر رہی ہیں ؟ ازلنگٹن یکدم پیارا کیوں ہوگیا ہے ؟ یا یہ اس کی بدولت ہے ؟ وہ لڑکی جو حرف محبت جیسی ہے ، وہ جو کسی غزل جیسی ہے

“ما هر غزل کې د مینې پر ځای د هغې نوم لوستی دی.”

(میں نے ہر غزل میں محبت کی جگہ اس کا نام پڑھا ہے “)

سنان سعدی کا انداز ، وہ ہر گفتگو میں پشتو بولا کرتا تھا ، یوں ہی بے ساختہ زبان سے نکل جانے والا جملہ ، وہ اپنی زبان سے محبت کرتا تھا ، وہ اپنی زبان میں اس سے محبت کا اظہار کرتا تھا اور وہ سمجھ نہیں پاتی تھی ، اس کے دل کا بوجھ بڑھتا گیا ، یہ نہیں ہونا چاہئے تھا۔ یہ نہیں ہونا چاہئے تھا ۔ کبھی نہیں

سنان سعدی خان !

تاریخ :15 جنوری ,2025

مقام : برطانیہ ، ازلنگٹن

بانو آپا کا کہنا ہے مجھے اسے پرپوز کرنے کی بجائے اس کے گھر بات کرنی چاہئے ، وہ ٹھیک کہہ رہی ہیں ، وہ میرے لئے قابلِ احترام ہے ، محترم انسان کو عزت سے اپنے نام لکھا جاتا ہے ، میں یوں ہی کروں گا لیکن کیا اسے میری محبت کا احساس نہیں ہوتا ؟ تھوڑا سا بھی نہیں ؟ کیا اسے نظر نہیں آتا کہ میں اپنے آفس سے دور اس سے ملنے کیوں آتا ہوں ؟ وہ اسے دیکھ کر میرے چہرے پر آنے والی مسکراہٹ سے میرے دل کا حال نہیں سمجھتی ؟ میرا محبوب بے نیاز ہے ، اس کا بے نیاز ہونا میرے ساتھ ظلم ہے

میں نے چوڑیاں سنبھال رکھی ہیں ، وہ اس کی کلائیوں کے لئے بنی ہیں ، میں وہ ان کلائیوں میں خود پہنانا چاہوں گا (محتاط سنان ! خاتون یہ پڑھ کر تھپڑ ماریں گی یقیناً ) پتا نہیں میں اس کے ہاتھوں سے اتنا ڈرتا کیوں ہوں ؟ ان کلائیوں میں اتنا الجھتا کیوں ہوں ؟ جن کلائیوں میں وہ چوڑیاں پہنتی ہے

“هغې زما زړه په خپلو بنګړو کې ګرځوي.”

( وہ اپنی چوڑیوں میں میرا دل لئے پھرتی ہے )

ایک دن ، عرصے بعد ہم دونوں مل کر یہ ڈائری پڑھیں گے تو وہ مجھے پر ہنسے گی میں اسے ہنستا ہوا دیکھوں گا ، یا اللہ ! یہ میں ایسا کیوں بن گیا ہوں ؟ مجھے اسے لکھنے کے علاوہ کچھ کیوں نہیں آتا ؟ اسے سوچنے کے علاوہ کچھ کیوں نہیں کرتا ؟ اوہ سنان محبت تم پر بری طرح قابض ہے

معطر صبا نے ڈائری سے نظریں ہٹائیں پھر پلکیں جھپکیں ، منظر دھندلایا ، آنسو نیچے گرے ، منظر واضح ہوا ، دل پھٹنے کو ہوا ، ہاتھ سے اس نے آنسو صاف کئے ، آنکھوں سے اس نے ڈائری کو دیکھا ، ہونٹ کپکائے پھر سر جھٹکتے اگلا صفحہ کھولا

سنان سعدی خان !

تاریخ :21 جنوری ، 2025

مقام : برطانیہ ، ازلنگٹن

تمہیں پتا ہے اذیت کیا ہوتی ہے ؟ مجھے علم ہے ، اسے اس حال میں دیکھنا ، اس کا چہرہ زخمی تھا میرا دل زخمی ہوا ، اس کی کلائیاں خالی تھیں میرا دل خالی ہوا ، اس کے چہرے پر ویرانی تھی میرا اردگرد ویران ہے ، وہ مجھے مل گئ تو میں اسے ہر غم سے دور رکھوں گا ، وہ مجھے نا ملی تو میں کیا کروں گا ؟

“هغې د زما د زړه نیمه برخه ده.”

( وہ میرے دل کا آدھا حصہ ہے )

وہ آدھا حصہ کسی اور کے پاس چلا گیا تو میں کیا کروں گا ؟

معطر صبا کے قدموں سے زمین سر سے آسمان کھینچ لیا گیا تھا ، وہ ڈائری نہیں تھی وہ اذیت تھی ، اس کے اندر مزید ہمت نہیں بچی تھی وہ اس سے زیادہ نہیں پڑھ سکتی تھی ، سنان کو اس سے زیادہ نہیں لکھنا چاہیے تھا ، اسے ہمت جٹانے کی ضرورت نہیں پڑی ، آخری صفحہ سامنے تھا

سنان سعدی خان !

تاریخ : 1 فروری ، 2025

مقام : برطانیہ ، ازلنگٹن

آخری ملاقات ۔۔۔۔۔۔

پانچ گھنٹے بعد میری فلائٹ ہے ، چند گھنٹوں بعد میں اپنے ملک ہوں گا ، مورے پریزے بابا ، خان چاچو ، درخزئ ، اور باقی سب بھی ، سب سے ملنے کی خوشی کتنی عجیب ہے ؟ قید سے رہائ کی خوشی ؟ اور ان سب میں اس بار میں ایک اور خوشی ساتھ لے کر جارہا ہوں

پاکستان جانے سے پہلے ہم ایئرپورٹ پر ملیں گے تو میں اسے بتادوں گا کہ میں نے کس ہیر کے لئے چوڑیاں لی تھیں ، میں اسے بتادوں گا کہ میرے آفس کا راستہ اس کے کیفے سے نہیں گزرتا میں جان بوجھ کر اس کے راستوں میں آتا ہوں ، میں کسی راستے سے سرخ پھول توڑوں گا اور اسے بتاؤں گا کہ میں وہ ایک انسان بننا چاہتا ہوں جسے وہ ایک موقع دے ، کیا وہ دے سکتی ہے ؟

وہ تھپڑ تو نہیں مارے گی ؟ وہ اچھی لڑکی ہے ،میں پیارا لڑکا ہوں ، وہ اپنا اچھا ہاتھ میرے پیارے چہرے سے دور رکھے گی

میں خواب دیکھنا چاہتا ہوں ، ہم ایک ہو جائیں گے ، وہ پشتون لباس پہنے گی ، میں تصور کررہا ہوں وہ زمین پر زمین کی سب سے خوبصورت لڑکی لگے گی ، پھر ہم دونوں پشاور کی گلیوں میں ایک ساتھ چلیں گے ،میں اسے پشتو غزلیں سناؤں گا ، اس بار میں ترجمہ کردیا کروں گا کیونکہ مجھے یقین ہے وہ اب مجھے تھپڑ نہیں مارے گی ، می۔۔۔۔

آگے الفاظ نامکمل تھے شاید اسے کوئ کام آ گیا تھا ، شاید اسے کال آگئ تھی ، اس نے ڈائری بند کردی اپنا چہرہ ہاتھوں میں دیئے ہچکیوں سے رونے لگی ، وہ ہر جگہ اظہار ادھورا چھوڑ گیا تھا ، پشاور کا باسی لاھور کی مکین کو کبھی حال دل نہیں بتا سکا تھا

اللہ یہ سنان نے کیا کیا تھا ؟ وہ جاتے جاتے اس کے دل پر درد کے پہرے بٹھا گیا تھا ، اسے اب یاد آنے لگا اس کی ہر غزل کا رمز اس سے جڑتا تھا ، اس کی ہر پشتو جملے میں وہ آتی تھی ، ہاشم بن عبد اللہ ٹرسٹ کے باہر ٹھہر کر وہ اس کے الفاظ کا ترجمہ نہیں کررہا تھا ، وہ غزل بھی اس کے نام تھی

وہ جسے پشتو غزلیں سنانی تھیں وہ اظہار محبت کئے بنا چلا گیا تھا ، جسے اس کے ساتھ بیٹھ کر ہنسنا تھا وہ اسے رلا کر چلا گیا تھا ، جو کہتا تھا وہ اسے غمگین نہیں ہونے دے گا اسے کوئ بتائے معطر صبا کو فلوقت سب سے بڑا غم اسی کا لاحق تھا

وہ ایسا کیوں کر گیا تھا ؟

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆