192.3K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Laa (Episode 11)

Laa By Fatima Noor

” وہ کیوں آرہا ہے یہاں ؟”

” ہنی مون کے لئے، وہ نئے سال کا فائر ورکس لندن میں دیکھنا چاہتے ہیں “

یہاں اس کی زندگی آگ میں جھونک کر وہ فائر ورکس دیکھنے آرہا تھا ؟

” یعنی ازلنگٹن نہیں آئیں گے “

کچھ سکون ملا ، ازلنگٹن لندن کے شمالی حصے میں واقع تھا

” ممکن ہے ازلنگٹن بھی جائیں “

” دو ماہ بعد ہنی مون کے لئے اسے لندن ہی ملا تھا ؟”

وہ جھنجھلائ

” پہلے پھپھو کی طبیعت خراب تھی ، جب ٹھیک ہوئیں تو انہیں یاد آیا تیمور بھائ کو ہنی مون پر جانا ہے ، انہیں یکدم لندن کی خوبصورتی کا احساس ہوا اور یہ بھی کہ وہاں معطر ہے تو تم دونوں کو گھما پھرا دے گی “

معطر کو اب یہی کام رہ گیا تھا ؟ اس کا دل جل رہا تھا ،دماغ کھول رہا تھا ،بمشکل خود کو ٹکڑے ٹکڑے جمع کیا تھا ، وہ آ کر سب بکھیر دیتا ، وہ آ کر سب تباہ کردیتا

” میں کیسے گھماؤں گی ؟ میں ازلنگٹن میں ہوں “

” اور ازلنگٹن لندن میں ہے “

” تم ان سے کہو یہاں مت آئیں “

” میں کیسے کہہ سکتا ہوں ؟”

” کچھ کرو دانیال ، ان سے کہو یہاں مت آئیں ، پوری دنیا ہے ، پوری دنیا میں سینکڑوں ملک ہیں ، سینکڑوں ملکوں میں ہزاروں شہر ہیں ، ان ہزاروں شہروں میں سے تیمور حیدر کو ایک لندن کیوں یاد آیا ؟”

” صاف ظاہر ہے کیوں یاد آیا ۔۔۔ وہ تمہیں دکھانا چاہتے ہیں کہ وہ خوش ہیں ، وہ خود کو دکھانا چاہتے ہیں کہ تم کتنی نا خوش ہو “

وہ خوش تھا تو خوش رہے ، وہ نا خوش تھی تو اسے مزید نا خوش نہیں ہونا تھا ، کال کاٹ کر وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئ ، زندگی مزید مشکل ہوگئی ، آسان تو پہلے بھی نہیں تھی , اس کا دل کیا چند دن کے لئے ازلنگٹن سے چلی جائے، اسے یقین تھا اگر وہ دونوں لندن آتے تو پھر ازلنگٹن بھی لازماً آتے ، اور وہ تیمور کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

وہ اب ایرک کیان کا بھی سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی ، وہ اگلے دن کیفے کے باہر ٹھہرا تھا ، وہ لمبا کوٹ پہنتی کچھ بے زاری سے اسے دیکھتی آگے بڑھ گئ ، ازلنگٹن میں کل سے ہلکی ہلکی بارش ہورہی تھی ، ایرک کے ہاتھ میں چھاتا تھا

” تمہارا دوست اچھی بحث کرتا ہے ،میرے پاس وقت ہوتا تو اس کی اچھی بحث کا جواب زیادہ اچھے سے دیتا “

وہ اس کے ساتھ چلنے لگا

” وہ میرا دوست نہیں ہے”

” اچھی بات ہے, تم نے ٹیٹنس شاٹ لگوایا تھا ؟”

اس نے سر ہلادیا ، ایرک چھاتا کھولتا درمیان میں کررہا تھا ، بارش تیز ہورہی تھی

” نئے سال کا فائر ورکس دیکھنے لندن آئ (London eye ) چلو گی ؟”

” نہیں “

” کیوں ؟”

” ٹکٹ نہیں ہے میرے پاس “

” میرے پاس دو لوگوں کے لئے ہے ، دو میں سے ایک میں ہوں ، دوسرا نہیں مل رہا ، وہ دوسرا تم بن جاؤ “

” وہ دوسرا تم اپنے کسی دوست کو بنا لو “

” وہ اس قابل نہیں کہ میں ان پر اپنی رقم خرچ کروں ، صاف صاف انکار مت کرو ،میں اتنی فراخدلی کا مظاہرہ کم ہی کرتا ہوں “

” مجھے نہیں جانا ایرک”

اس کی آواز بے زار ہوگئ

” تم غالباً مجھ سے ناراض ہو ؟ اس کی وجہ اگر وہ بحث تھی تو میں دوبارہ سے بتادوں کہ میں سیاسی بحث پر ناراض نہیں ہوتا اور میں تم سے بھی یہی توقع رکھتا ہوں “

معطر یکدم رکی تو وہ بھی رک گیا

” تم آج بتا ہی دو کہ تمہیں آخر مسلمانوں سے مسئلہ کیا ہے ؟”

” میں وضاحت کردوں مجھے کوئ مسئلہ نہیں ہے ، تم لوگ غلط سمجھتے ہو کہ میں مسلمانوں کو ناپسند کرتا ہوں ،میرے یونیورسٹی فیلوز مسلمان ہیں اور وہ میرے دوست ہیں ،میرے دو پرفیسر مسلمان ہیں اور میں انہیں پسند کرتا ہوں ، تم بھی میرے جاننے والوں میں سے ہو اور میں تمہاری عزت کرتا ہوں ، میں صرف یہ حقیقت بتانا چاہتا ہوں کہ مسلمان ملکوں کو مظلوم بن کر یہ کہنے کی بجائے کہ مغربی طاقتیں انہیں آگے نہیں بڑھنے دے رہیں ، انہیں بہادری سے یہ قبول کرنا چاہئے کہ وہ اپنی وجہ سے پیچھے ہیں، ان میں سے بہت سے ہیں جو شدت پسند ہیں ، وہ اپنا امیج خراب کررہے ہیں ، بات اتنی سی ہے کہ ان بہت سوں نے باقی سب کو بھی مجرم بنا دیا ہے، بس ، اتنی سی بات ہے ” کاندھے اچکائے

وہ جانتی تھی کہ کچھ حد تک وہ ٹھیک تھا ، مسلمانوں کے اندر شروع سے یہ سوچ بٹھا دی گئ تھی کہ ان کی ناکامیوں کے پیچھے انگریزوں کا ہاتھ ہے کیونکہ وہ انہیں کامیاب ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے ، وہ سائنسی میدان میں ، معاشی میدان میں پیچھے ہیں کیونکہ ان سب پر غیر مسلموں نے قبضہ جما رکھا ہے ، ورنہ ایک وقت تھا جب وہ طاقتور تھے ،دنیا پر ان کی حکمرانی تھی، اور اب اپنی ہر ناکامی کا الزام ڈالنے کے لئے ان کے پاس طاقتور غیر مسلم تھے، یہ سستی اور ناکامی تھی جسے قبول کرنے کے بجائے وہ اسے مغربی سازشوں کا نام دے دیتے تھے ، لیکن وہ چاہتی تھی کہ ایرک یہ بات بھی سمجھ لے کہ یہ سب ایک حد تک سچ بھی تھا کہ مغربی طاقتیں مسلمانوں کے خلاف کام کررہی ہیں ، وہ اسے فلسطین، سلطنت عثمانیہ، ہندوستان میں مسلمان حکومت کے زوال کی داستانیں سنانا چاہتی تھی ، اندرونی حکومت کی کمزوری بجا لیکن ان سب میں زیادہ ہاتھ مغربی سامراج کا تھا ، وہ اس سے یہ بھی پوچھنا چاہتی تھی کہ دنیا کا کوئ ایک مسلمان کچھ غلط کرے تو الزام سب مسلمانوں پر کیوں لگا دیا جاتا ہے ؟ ،دنیا کا کوئ ایک غیر مسلم غلط کرے تو الزام صرف اسی پر کیوں لگتا ہے ؟ مسلمانوں کے لئے دہرا معیار کیوں تھا ؟ صرف چند وجوہات کی بنا پر وہ لوگ مسلمانوں کو دہ شت گرد بنا رہے تھے اور وہ ایرک سے دنیا کے ان تمام ممالک کا پوچھنا چاہتی تھی جہاں مسلمانوں پر کھلے عام زیادتیاں ہورہی تھیں ،کیا وہ دہ شت گردی نہیں تھی ؟ لیکن فلوقت اس کے اندر بحث کرنے کی ہمت نہیں تھی، سر جھکتے وہ آگے بڑھنے لگی

” اب یہ بتاؤ کیا تم واقعی مجھ سے ناراض ہو ؟”

” نہیں ہوں ۔۔۔۔ “

” کسی بات پر پریشان ہو ؟”

” نہیں “

” پھر اگر تم چاہو تو میں تمہیں لفٹ دے سکتا ہوں “

” مجھے نہیں چاہئے لفٹ “

” یہ جملہ اتنا ہی کافی ہے ، آگے میری شاہی سواری کی تعریف مت کرنا “

” مسئلہ کیا ہے تمہارے ساتھ ؟”

وہ جھنجھلا گئ

” لندن آئ چلو گی ؟ فلوقت یہی مسئلہ ہے “

” مجھے نہیں جانا ۔۔۔۔”

” تم زندگی بھر پچھتاؤ گی اگر انگلینڈ میں آ کر تم نے نئے سال کا جشن نہیں دیکھا تھا ، تم جانتی ہو لندن آئ کی آتش بازی پوری دنیا اپنے گھر بیٹھ کر دیکھتی ہے ، واٹر لو بریج (wateloo bridge ) پر کھڑے ہو کر دنیا کا خوبصورت ترین منظر دیکھا جاتا ہے، اگر تمہیں یہ موقع مل رہا ہے تو خود کو خوش قسمت سمجھو “

اس کی بلا سے پوری دنیا لندن آکر دیکھے وہ ان خوش قسمت لوگوں میں سے نہیں بننا چاہتی تھی

” پھر ؟”

وہ ابرو اچکائے پوچھنے لگا

” کیا پھر ؟”

” میں ہاں سمجھوں ؟”

” ناں سمجھو۔۔۔۔”

” تم غلطی کرنے ۔۔۔۔۔۔”

” مجھ سے دور رہو ایرک “

وہ یکدم رکتی سختی سے کہہ گئ

” میں دو فٹ کے فاصلے پر ہوں “

” میں مزاق نہیں کررہی “

” میں بھی نہیں کررہا ، تم چاہو تو فاصلہ ماپ سکتی ہو “

” میں سنجیدہ ہوں ایرک اور میں واقعی سنجیدہ ہوں ،مجھ سے دور رہو ،کیفے آؤ تو مجھ سے مت ملا کرو ، باہر ہو تو میرے ساتھ مت چلا کرو ، ساتھ چلو تو اجنبی بن جایا کرو “

ایرک کا چہرہ پہلی بار کچھ سنجیدہ ہوا

” تم شاید واقعی ناراض ہوگئ ہو ،ٹھیک ہے میں اپنے الفاظ واپس لیتا ہوں ، ہم آئندہ سیاست پر بحث نہیں کریں گے”

” وہ مذہب کا معاملہ ہے ، اور نہیں میں اس وجہ سے نہیں کہہ رہی ، بہتر ہے مجھ سے فاصلے پر رہو ،یوں کرو بھول جاؤ کہ تم کبھی لاہور کی کسی معطر صبا سے ملے تھے”

ایرک کے چہرے پر الجھن ابھری

” تم ایسا کیوں کہہ رہی ہو ؟”

“کیونکہ مجھے احساس ہوا کہ میں تمہیں نہیں جانتی ، میں اس شخص پر بھروسہ نہیں کرسکتی جو مجھے جاب سے نکلوا چکا ہے “

” جاب پر واپس بھی رکھوا چکا ہے “

” جس نے مجھے ازلنگٹن کی گلیوں میں خوفزدہ کیا تھا “

” اور پھر معذرت بھی کی تھی “

” جس نے میرے ملک کے خلاف بات کی “

” وہ صرف رائے تھی “

” میرے مذہب کے خلاف۔۔۔۔”

” وہ صرف صحافتی تجزیہ تھا ،لیکن ٹھیک ہے ہم آئندہ اس پر بات نہیں کریں گے “

ایک ہاتھ اٹھا کر احتیاطاً کہا ، دوسرے ہاتھ سے وہ چھاتا بلند کئے ہوئے تھا

” آئندہ کی نوبت نہیں آئے گی ،میں مغربی معاشرے کے مرد پر بھروسہ نہیں کرسکتی “

” مجھ سے کس طرح کا خطرہ ہے تمہیں ؟”

” میں تم پر بھروسہ نہیں کرتی ، کیا یہ کافی نہیں ؟ تم اسی مغربی ملک سے ہو جہاں لڑکیوں کے ساتھ دوستی عام ہے ، جہاں شراب عام ہے ، میں کیسے بھروسہ کروں کہ کسی انجان راستے پر چلتے ہوئے تم مجھے کوئ نقصان نہیں پہنچاؤگے؟”

وہ سختی سے کہہ رہی تھی ، ایرک کے چہرے پر سرخی دوڑی

” مس معطر صبا ، میں بھلے ہی آذاد معاشرے کا حصہ ہوں لیکن کم ازکم اتنا گھٹیا نہیں ہوں کہ تمہارے ساتھ کچھ غلط کرنے کا سوچوں گا ، اتنا برا بھی نہیں ہوں کہ تمہارے ساتھ غلط کروں گا “

” اتنے ہی اچھے ہو تو مجھ سے دور رہو “

بارش تیز ہورہی تھی ، وہ برستی بارش میں اس پر چھاتا تانے ٹھہرا تھا ، وہ خود آدھا بھیگ رہا تھا اور وہ کہہ رہی تھی کہ ایرک کیان اسے نقصان پہنچائے گا

” میں اتنا اچھا ہرگز نہیں ہوں کہ تمہاری بات مان لوں جبکہ تم میرے کردار پر بات کررہی ہو “

اس کی آنکھوں میں کچھ سختی ابھری

” تمہیں جو سمجھنا ہے سمجھو ، سنان کہتا ہے تم مسلمانوں کو شدت پسند کہتے ہو حالانکہ تم خود زیادہ شدت پسند ہو ، وہ ٹھیک کہتا ہے اس لئے بہتر ہے میں تم سے دور رہوں “

” تمہیں سنان نے مجھ سے دور رہنے کا کہا ہے ؟”

اس کی آنکھوں میں یکدم اتنی بے یقینی ابھری کہ پل بھر کو وہ بھی تھم گئ

” وہ میرا بھلا چاہتا ہے “

” بہت خوب ۔۔۔۔ ” اس کا لہجہ ضبط سے پر ہوگیا ” تو یعنی اسے یہ بھلا مجھ سے دور رہنے کی صورت نظر آیا ؟”

” وہ برطانیہ کو چار سال سے جانتا ہے، اس نے کہا ہے کہ یہاں مجھے محتاط رہنا چاہئے “

” واہ ۔۔۔۔ یہاں آ کر ہم دونوں برابر ہوگئے ، اگر وہ مجھے یہ کہہ کر گیا تھا کہ میں چند مسلمانوں کے عمل کی وجہ سے باقی سب کو جج کررہا ہوں تو کیا وہ یہ کام نہیں کررہا ؟”

” دیکھو ایرک۔۔۔۔”

” مجھے صرف یہ بتاؤ، ان دو ڈیڑھ ماہ میں ایک بار بھی تمہیں لگا کہ میں تمہیں کسی بھی طرح کا نقصان پہنچاؤں گا ؟ جاب اور اس مزاق کی بات مت کرنا وہ صرف شرارت تھی ، کم از کم تم شرارت اور نقصان میں فرق سمجھتی ہوگی “

اس کے چہرے پر کچھ ٹوٹنے کی اذیت تھی ،معطر لمحہ بھر کو بالکل چپ رہ گئ

“ایرک ۔۔۔۔۔”

ایرک نے اس کی بات کاٹ دی

” تمہیں علم ہے معطر اس لمحے میں تم نے مجھے میری نظروں میں کتنا گرادیا ہے ؟” اس کا لہجہ ، اس کی آنکھوں کا کرب ، جیسے جو ٹوٹا تھا اس نے اندر تک زخمی کیا تھا ” اگر میں ایسا انسان ہوں جیسا تم سمجھتی ہو تو پھر تمہیں واقعی مجھ سے دور رہنا چاہئے ، بلکہ مجھے ہر انسان سے دور رہنا چاہئے ، ٹھیک ہے میں آئندہ تمہیں تمہارے راستے میں نہیں ملوں گا ، ملوں گا تو اجنبی بن کر ملوں گا “

بارش کی بوچھاڑ اس کے سر پر گر رہی تھی لیکن اس نے چھاتا اپنے اوپر نہیں کیا ،معطر خاموشی سے اسے دیکھتی رہی

” تم غلط سمجھ رہے ہو “

” میں وہ سمجھ رہا ہوں جو تم کہہ رہی ہو ، تم طے کرو اور سوچو کیا کہہ رہی ہو ” اس نے ایک زکام دہ سانس اندر کھنچی پھر چھاتا تھاما، ہاتھ اس کی طرف بڑھایا ” آئندہ ایرک کیان تمہیں اپنے راستے میں نظر نہیں آئےگا”

سپاٹ ٹوٹا لہجہ ، معطر نے چھاتا نہیں لیا ، وہ چند لمحے اسے دیکھتا رہا پھر اس کے لمبے کوٹ کی بڑی جیب میں وہ چھاتا اس کے ہاتھ کے ساتھ گھسایا ، چھاتا کہنی پر ٹک کر ڈھلک گیا لیکن وہ اب بھی بارش سے محفوظ تھی ، ایرک چند لمحے اسے دیکھتا رہا پھر واپس پلٹ گیا ، وہ اسے جاتا دیکھتی رہی ، بارش کے قطروں میں وہ دھندلا سا ہوتا جارہا تھا ،پھر وہ نقطہ بن گیا ، اور چند لمحے بعد مکمل غائب ہوگیا ،معطر کی آنکھوں سے آنسو پھسلا

وہ جانتی تھی اس نے ایرک کا دل دکھایا تھا ، لیکن اسے اس دیس کے کسی باسی سے تعلق نہیں رکھنا تھا، اتنی بچی تو وہ بھی نہیں تھی کہ سنان کی باتوں میں آ کر ایرک کو غلط سمجھتی ، لیکن اسے اب سب سے دور رہنا چاہئے ، ہاتھ باہر نکالتے ہوئے اس نے وہ چھاتا تھاما ، کچھ عرصے بعد جب وہ پاکستان چلی جائے گی تو لاہور کی گلیوں میں کھیلتے بچوں کو بتائے گی کہ ازلنگٹن کی سر زمین پر اسے ایک ایرک کیان بھی ملا تھا ، جو سیٹی کی دھن بجا کر چلتا تھا ، جس کے پاس کیمرہ تھا ، جس کے کیمرے میں لاتعداد تصویریں تھیں ،جن تصویروں سے اس کا ہر دوست ڈرتا تھا ، وہ انہیں ازلنگٹن کے ایرک کیان کے قصے سنایا کرے گی اور وہ انہیں وہ چھاتا دکھائے گئ جس کے سائے میں ٹھہر کر اس نے ایرک کیان کا دل توڑا تھا

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

اگر اس کا خیال تھا کہ وہ دونوں ازلنگٹن پہنچنے کے بعد اس سے رابطہ نہیں کریں گے تو اس کا خیال غلط تھا ، ایئرپورٹ سے اترنے کے بعد نازنین نے سب سے پہلی کال اسے کی

” تم ہمیں لینے نہیں آئیں ؟”

کھنکتا لہجہ ، ہشاش آواز

” مجھے آپ لوگوں کے آنے کا وقت نہیں معلوم تھا “

” تم پوچھ لیتیں “

اسے جیسے شوق تھا نا ؟

” ضروری نہیں لگا “

نازنین ہنسی

” کب مل رہی ہو ؟”

” میں مصروف ہوتی ہوں “

” ہم ملنے آجائیں گے”

وہ ان دونوں کی شکل تک نہیں دیکھنا چاہتی تھی ، مسئلہ محبت نہیں تھا ، مسئلہ کچھ اور بھی تھا ، پاکستان میں کوئ نہیں جانتا تھا کہ وہ وہاں ایک کیفے اور اسٹور میں جاب کرتی ہے ،اس کی بلا سے پورے خاندان کو پتا چل جاتا لیکن اس کے گھر میں کسی کو پتا نا چلے ،اس نے دانیال تک کو بھی نہیں بتایا تھا

” آپ لوگ چند دن کے لئے آئے ہیں نازنین ، انجوائے کریں ، میرے ساتھ آپ کا وقت ضائع ہوگا “

سپاٹ سےانداز میں کہتے اس نے فون بند کردیا، پاکستان میں صرف اس کے گھر والے جانتے تھے کہ وہ کہاں رہ رہی تھی ، پاکستان میں کوئ نہیں جانتا تھا کہ وہ کہاں جاب کررہی تھی ، ٹھیک ہے سب ٹھیک رہے گا ، وہ دونوں اسے نہیں ملیں گے ، سب ٹھیک رہے گا ، اس نے خود کو پرسکون کرنا چاہا

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

وہ واقعی یوں ہوگیا جیسے اسے جانتا تک نا ہو ، کافی لینے آتا تو مایا سے کہہ دیتا ، وہ اٹھا کر دے دیتی ، اس کے راستے میں آنا بند کردیا ، اس کے ساتھ چلنا چھوڑ دیا ، اس کے آس پاس نظر آنا بند کردیا ، اسے اندازہ نہیں تھا کہ وہ اتنا ہرٹ ہوجائے گا

” تم نے میری بات کو غلط سمجھا تھا “

وہ کیفے سے واپسی پر ایک دن اس کے سامنے رک گئ

” میں ایک بگڑے ہوئے معاشرے کا بگڑا ہوا انسان ہوں مادام ،مجھ سے دور رہیں ، ممکن ہے کہ میں آپ کو نقصان پہنچادوں “

” اوہ اللہ ، ایرک میں چاہتی تھی تم مجھ سے فاصلے پر رہو ، تم نے میری بات کو صحیح سے نہیں سمجھا “

” تم ٹھیک کہہ رہی تھیں ،کیونکہ میں ایک برا انسان ہوں تو بہت بہتر ہے کہ تم مجھ سے فاصلے پر ہی رہو “

میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ تم برے ہو “

” تم نے کہا تھا اور تم نے ٹھیک کہا تھا ، بلکہ رکو میں تمہیں اپنے مطلق چند مزید بری باتیں بتاتا ہوں ، کیونکہ میں برطانیہ کے آذاد معاشرے کا حصہ ہوں تو میں لڑکے لڑکی کے تعلقات کو برا نہیں سمجھتا، بلکہ تم فرض کرلو کہ میری بہت سی لڑکیوں کے ساتھ دوستی بھی ہے ، میں شراب بھی پیتا ہوں ، جوا بھی کھیلتا ہوں ، انفیکٹ میں ایک دو بار مسلمانوں کے خلاف ہونے والے مظاہرے میں شرکت بھی کرچکا ہوں ، تم دیکھو میں کتنا برا ہوں ، تم ٹھیک کہتی ہو تمہیں مجھ سے فاصلے پر رہنا چاہئے “

وہ رکا ، پھر سر پر پہنی کیپ اتاری ، اپنے مخصوص انداز میں ایک ہاتھ سینے پر رکھا اور ایک ہاتھ کمر پر باندھے ایک قدم پیچھے لے جاکر ہلکا سا سر کو خم دیا

“اور میں بھول چکا کہ میں لاہور کی کسی معطر صبا کو جانتا ہوں “

اور وہ تیزی سے چلتا غائب ہوگیا ، اسے مزید اکتاہٹ ، بے زاری نے آن گھیرا

” ایرک کہاں ہے رائن ؟”

وہ اگلا پورا دن نظر نہیں آیا تو اس نے رائن سے پوچھ لیا ، وہ ایرک کا دوست تھا اور وہی تھا جس کے ساتھ وہ اسے ازلنگٹن کی گلیوں میں ڈرا چکا تھا

” بزی ہے “

” کہاں ؟”

” اس کی مام آئ ہوئ ہیں امریکہ سے ، ان کے ساتھ “

وہ سر جھٹک کر رہ گئ ، اس کی بلا سے وہ جہاں رہتا لیکن مسئلہ یہ تھا کہ وہ اسے دکھ نا پہنچا چکی ہوتی تو اسے واقعی فرق نا پڑتا

” تم دونوں کی کوئ لڑائ ہوئ ہے ؟”

” میری ایرک سے کیوں اور کس لئے لڑائ ہوگی ؟”

” ایرک کو بھی کوئ وجہ چاہئے لڑنے کے لئے ؟ ، اس کا بس چلے تو پوری دنیا سے لڑنا شروع کردے “

” مجھے وجہ چاہئے ہوتی ہے ، میں دل چاہنے پر پوری دنیا سے نہیں لڑ سکتی “

” تم دونوں کی واقعی لڑائ ہوئ ہے “

معطر کچھ اکتائ

” میری کوئ لڑائ نہیں ہوئ ، میرا اس سے لڑائ والا تعلق ہی نہیں ہے ، صرف دشمنی والا ہے،مجھے اچھے سے یاد ہے کہ یہ وہی ایرک ہے جس نے میری جاب چھینی تھی ،مجھے ڈرایا تھا ، بلکہ تم بھی ساتھ تھے ، اس لئے شکل گم کرو اِدھر سے “

اسے یکدم رائن پر بھی غصہ آیا

” وہ صرف مزاق تھا ، تمہیں ہمارا احسان مند ہونا چاہئے بجائے اس کے کہ ہم پر غصہ ہورہی ہو “

” کس بات پر احسان مند ؟ مجھے ڈرایا دھمکایا اس پر مستزاد ویڈیو بنا کر پوری یونیورسٹی کو دکھائ ،اس پر کیسا احسان مند ؟”

” کون سی ویڈیو ؟ اسی ایک ویڈیو کی وجہ سے ہماری اچھے خاصے نمبر کٹ جائیں گے اگزیمز میں سے “

” کیا مطلب ؟”

وہ ٹھٹکی

” تمہیں بتایا نہیں ایرک نے ؟ اس نے وہ ویڈیو ڈلیٹ کروادی تھی ، اچھی خاصی ویڈیو تھی ، یونو بلکہ بیسٹ تھی ۔۔۔۔”

وہ اور بھی کچھ کہہ رہا تھا لیکن اس کا زہن وہیں تک رک گیا ، ایرک نے وہ ویڈیو ڈلیٹ کروادی تھی ؟ کیوں ؟ اتنا مہربان کیوں ہورہا تھا وہ اس پر ؟ اور وہ سڑک پر ٹھہر کر اس سے کہہ آئ تھی کہ وہ اس سے دور رہے کیونکہ اسے لگتا ہے وہ اسے نقصان پہنچائے گا

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

فیملی گروپ کھولنے کی دیر تھی کہ یکدم میسجز کی بوچھاڑ آگئ ،موضوع گفتگو ایک ہی تھا

خاندان کے موسٹ پاپولر کپل کا دورہ لندن !

ہر ایک اسی بات کو ڈسکس کررہا تھا ، پتا نہیں کتنے میسجز تھے جو موجود تھے ، وہ سب کو نظر انداز کرتی وہ ایک میسج ڈھونڈنے لگی جس پر کسی نے اسے مینشن کیا تھا اور واٹسپ کھولتے ہی اسے نوٹیفیکیشن مل گیا تھا ، چچی ، ان کی سولہ سالہ بیٹی ، پڑوس والے رضا انکل کا بیٹا ، ہر دوسرا بندہ گروپ میں ایڈ تھا ، اسے سخت چڑ تھی یوں گھنٹوں کسی ایک مسئلے کو لے کر ساروں کا بحث میں پڑ جانا

” معطر سے کہاں ملاقات ہوئ ابھی تک “

میسج مل گیا ، مینشن کرنے والی نازنین تھی ، اوپر کسی نے پوچھا تھا کہ معطر سے ملاقات ہوئ یا نہیں ، اور بس نیچے جیسے ایک ہی بحث چھڑ گئ ، معطر صبا تیمور کا سامنا نہیں کرنا چاہتی ، لاؤنج میں بیٹھے صوفے پر آلتی پالتی مارے بیٹھی معطر صبا کچھ ازیت سے وہ میسجز پڑھتی گئ ، نیچے ہر ایک نے اپنی رائے دے رکھی تھی

وہ اب تک تیمور کو نہیں بھلا سکی

وہ اب بھی اسے پسند کرتی ہے

وہ اب بھی اسے یاد کرتی ہے

وہ اب بھی اس کی منتظر ہے

وہ اب بھی ۔۔۔

وہ اب بھی۔۔۔۔

اس نے سر پیچھے ٹکا لیا، کتنا آسان تھا ان کے لئے یوں کہنا ؟ کتنا آسان تھا ان کے لئے یہ سوچنا ، سب کا خیال تھا وہ میسجز نہیں پڑھتی ہوگی ، وہ نہیں پڑھتی تھی ، آج جانے کیوں پڑھ لئے تھے ، گروپ میں تیمور بھی تھا ، وہ جانتی تھی وہ بھی میسیجز نہیں پڑھتا تھا ، شاید اس نے بھی آج پڑھے ہوں

” تم ملنے نہیں گئیں اپنے کزن سے ؟”

بانو آپا سوئیٹر پہنے سامنے والے صوفے پر آ بیٹھیں تو اس نے تھکے تھکے انداز میں سر اٹھایا

” میں مصروف تھی “

” کل سنڈے ہے “

” کل زیادہ مصروف ہوں “

وہ کچھ خاموش ہو گئیں ، پھر سر جھٹکا

” پرسوں لندن آئ پر فائر ورکس ہے ،میں نے ٹکٹ لی ہیں ہم دونوں کی ، تم چل رہی ہو “

” آپا۔۔۔ میں “

” خبردار جو کوئ بہانہ کیا “

وہ گہری سانس لے کر رہ گئ

” مجھے اتنے ہجوم سے وحشت ہوتی ہے”

” کیونکہ تم نے خود کو تنہا کرلیا ہے ، ٹھیک ہے میرے ساتھ تمہیں مزہ نہیں آئے گا تو اپنی کسی دوست کو بلا لو “

دوست ؟ دوست کہاں تھے اس کے ؟ اس اجنبی ملک میں وہ صرف ایرک اور سنان کو جانتی تھی ، ایرک ناراض تھا اور سنان ؟

اس نے واٹسپ پر سنان کے ساتھ چیٹ کھولی ، دو دن سے وہ غائب تھا ، اس کے میسج کو بھی نظر انداز کررہا تھا ، ایرک اور سنان یوں لگتا تھا جیسے اس کی زندگی سے یکدم ہی کہیں چلے گئے ہوں ، بانو آپا اٹھ کر نماز پڑھنے جارہی تھیں ، اس نے کچھ سوچتے سنان کو کال ملائ

موبائل پر بیپ بجنے لگی ،وہ سنتی رہی ، چند لمحے سرکے اور کال ڈراپ ہوگئ ، سنان فون نہیں اٹھا رہا تھا ، وہ کچھ حیران ہوئ ، دوبارہ کال ملانے کا سوچا لیکن پھر سوچ جھٹک دی

میز پر رکھی ٹرے اٹھاتے وہ اٹھنے ہی لگی تھی جب موبائل پر سنان کی کال آنے لگی

” السلام علیکم ، آپ کی کال آئ تھی “

وہ مصروف سے انداز میں کہہ رہا تھا ،جیسے جلدی میں ہو

” وعلیکم السلام ، آپ بزی تھے تو اٹس اوکے”

” ہوں ۔۔۔ لیکن دو منٹ آپ کو سن سکتا ہوں “

وہ چند لمحے کو خاموش ہوگئ

” میں اور بانو آپا کل لندن آئ پر جارہے ہیں ، آپ چلیں گے ؟”

دوسری طرف وہ کچھ دیر خاموش رہا

” میں مصروف ہوں “

” شام کو بھی ؟”

” جی۔۔۔۔”

وہ مختصر بول رہا تھا ، معطر کو سبکی سی ہوئ ، شاید وہ واقعی مصروف تھا

” اوکے۔۔۔۔ میں کال رکھتی ہوں “

کھٹاک سے کال کاٹتے اس نے فضا میں بوجھل سانس خارج کی

لندن کا شہر یکدم اجنبی لگنے لگا تھا

دوسری طرف معطر کی کال بند ہونے پر بالکنی میں ٹھہرے سنان سعدی نے گہری سانس لیتے سر جھٹکا ، وہ دو دن سے اسے نظر انداز کررہا تھا ، وہ دو دن سے خود کی حالت کو نظر انداز کررہا تھا ، وہ دو دن سے سرخ ڈائری کو نظر انداز کررہا تھا وہ ڈائری جو سنان سعدی کے اعتراف کی منتظر تھی ، وہ اعتراف جو اسے اب کبھی نہیں کرنا تھا

وہ کسی اور سے محبت کرتی تھی ، اس کے دل میں کوئ اور تھا ، تو اب اس کے پیچھے جانے کا کیا فائدہ ؟ اچھا تھا کہ وہ پسندیدگی تھی ، بہتر تھا کہ وہ پسندیدگی ہی رہتی ، بہترین تھا کہ وہ پسندیدگی کو ہی بھول جاتا ، اور کیا بھول جانا اتنا آسان تھا ؟

ایک بار پھر گہری سانس لیتے اس نے دونوں ہاتھ ریلنگ پر رکھے ، ٹھنڈک اندر تک اتر رہی تھی ، وہ اس ٹھنڈک سے بے نیاز تھا ، آگ اندر تک جل رہی تھی ، وہ اس جلن سے بے نیاز نہیں رہ سکتا

اس لمحے اس نے طے کیا اسے اب پاکستان واپس چلے جانا چاہئے ، وہ یہاں رہتا تو ازلنگٹن کی گلیوں میں وہ نظر آجاتی ، وہ نظر آتی تو پسندیدگی سے محبت بن جاتی ، پسندیدگی تھی تو یہ کیفیت تھی ،محبت بن جاتی تو دل کا کیا حال ہوتا

کیا ،مگر۔۔۔۔۔۔۔ابھی محبت بننا باقی تھا ؟

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

وہ دریائے ٹیمز پر واٹر لو برج (bridge waterloo) پر ٹھہری تھی ، اکتائے انداز میں اردگرد دیکھتی ہوئ ، لوگ تھے کہ سمندر امڈ آیا تھا ، گویا پوری دنیا دریائے ٹیمز پر آتش بازی دیکھنے آ گئ تھی ، پتا نہیں یہ لوگ اتنی سردی میں باہر کیسے نکل آتے تھے ،ایک وہ تھی سوئیٹر پر کوٹ پہن رکھا تھا ، دستانے بھی تھے ، سر پر سفید اونی ٹوپی اور پھر بھی وہ کانپ رہی تھی

” اگر تم یہ فائر ورکس نا دیکھتیں تو ساری زندگی پچھتاتیں “

بانو آپا کی آواز پاس سے ابھری تو اس نے رخ ان کی طرف موڑا

” اللہ کرے یہ فائر ورکس دیکھنے کے بعد میں ساری زندگی نا پچھتاؤں “

وہ صرف سوچ کر رہ گئ کہا تو بس اتنا

” شکریہ بانو آپا آپ نے مجھے ساری زندگی کے پچھتاوے سے بچا لیا “

” تم پاکستان جاؤ تو سب کو بتانا کہ تم دنیا بھر میں براہ راست ٹی وی پر دکھایا جانے والا فائد ورکس براہ راست آنکھوں سے دیکھ کر آرہی ہو “

” آپ کو تو انگریز ناپسند نہیں تھے ؟”

” انگریز جس ملک میں رہتے ہیں وہ تو اللہ نے بنایا ہے نا ؟ “

اس نے رخ موڑ کر ٹائم دیکھا ، بیس منٹ رہتے تھے پھر دنیا براہ راست لندن آئ پر آتش بازی کا مظاہرہ دیکھتی ، عجیب مخلوق تھے انگریز ، جب دیکھو بچت کا راگ الاپتے تھے اور اتنی فضول خرچی ؟ اسے فضول خرچی نا لگتی اگر بانو آپا کے علاوہ کسی کے ساتھ آتی ، نظریں یوں ہی اردگرد گئیں ، جانے ایرک آیا تھا یا نہیں، جانے وہ اسی برج پر تھا یا نہیں ؟

” تم ویڈیو کیوں نہیں بنا رہیں ؟”

” پندرہ منٹ رہتے ہیں ابھی آپا “

” بہانہ مت بناؤ، موبائل نکالو اور ابھی سے ریکارڈ کرو “

اس نے سر ہلاتے موبائل نکال کر کمرہ فوکس کیا ،کل سے عون اور مبشرہ کے میسج آرہے تھے کہ وہ فائز ورکس کی ویڈیو بنا کر انہیں ضرور بھیجے ، پتا نہیں پوری دنیا کیوں اس منظر کی دیوانی تھی ، ایک وہ تھی جسے اکتاہٹ ہوتی تھی ، تیمور ٹھیک ہی کہتا تھا اس کے اندر کوئ بزرگ روح تھی

تیمور حیدر۔۔۔ جانے کیوں وہ ہر وقت یاد آجاتا تھا جانے کیوں وہ اس وقت یاد آیا تھا

جانے کیوں وہ اس لمحے نظر آیا تھا

اس کا موبائل تھامے ہاتھ نیچے آ گرا

وہ سامنے سے آرہا تھا ، ایک ہاتھ میں نازنین کا ہاتھ تھامے دوسرا ہاتھ جیب میں تھا ، سیاہ لمبا کوٹ پہنے ، تیمور حیدر بالآخر دو ماہ بعد اس کے سامنے تھا ، مگر وہ اکیلا نہیں تھا

” کیسی ہو معطر ؟”

نازنین آگے بڑھتی اسے گلے لگا رہی تھی ، اس کی نظریں پیچھے تھیں ، پیچھے والے کی نظریں اس پر تھیں ، دو ماہ بعد !

” تم لندن آ کر کچھ مغرور ہوگئ ہو ،ملنے تک نہیں آئیں “

وہ نہیں جانا چاہتی تھی ، وہ جانتی تھی جس لمحے اس نے تیمور کو دیکھا دل کا وہی حال ہوتا جو اس لمحے ہوا تھا ، آنکھیں بند کرتے وہ گہری سانس لیتی نازنین سے الگ ہوئ

” میں نے بتایا تھا میں مصروف ہوتی ہوں “

” اپنوں کے لئے وقت نکال لینا چاہئے ،اتنی بھی کیا مصروفیت ؟”

اپنوں کے لئے ؟ وہ اپنا رہا ہی کہاں تھا ؟

” کیا تم میرا تعارف نہیں کرواؤ گی ؟”

اس نے گلے میں اٹکتے آنسو دھکیلتے بانو آپا کو دیکھا پھر مسکرانے کی کوشش کی

” یہ بانو آپا ہیں ،میں ان کے گھر پے انگ گیسٹ کے طور پر رہ رہی ہوں ، اور بانو آپا یہ نازنین ہے ، میری کزن سمجھ لیں “

” اور میں تیمور حیدر ہوں ، سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ میں حقیقتاً معطر کا کزن ہو “

سامنے ٹھہرا شخص مسکراتے ہوئے کہہ رہا تھا، وہ جانتی تھی وہ مسکراہٹ کھوکھلی تھی

” یہ نازنین کے شوہر ہیں “

اس نے سپاٹ تاثرات کے ساتھ بتایا ، جیسے ایک یہی حوالہ تھا جو باقی رہ گیا تھا

” اچھا اچھا، یہی ہیں وہ جو لاہور سے آئے ہیں ؟”

” جی۔۔”

” کسی دن گھر آؤ تم دونوں “

اس کی نظر بے ساختہ تیمور پر گئ ، وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا

” نہیں۔۔۔ایکچولی ہم۔۔۔۔”

نازنین منع کرنے لگی تھی جب تیمور نے اس کی بات کاٹ دی

” خوش قسمتی سے ہم معطر کی طرح مصروف نہیں ہیں ،تو ضرور آئیں گے “

اس نے ضبط سے آنکھیں بند کیں ، بانو آپا اس انسان سے جڑی کوئ کہانی نہیں جانتی تھیں ، برا تھا جو نہیں جانتی تھیں

” تیمور کہہ رہے ہیں تو ضرور”

نازنین نے جبرا مسکراتے تائید کی ، بانو آپا سر ہلاتے اپنا موبائل نکال رہی تھیں ، فائر ورکس شروع ہونے لگا تھا تو وہ دونوں مڑ گئے ، بانو آپا بھی موبائل تھامے آگے بڑھ گئیں ، اسے نا فائر ورکس میں دلچسپی تھی نا کسی اور شے میں ، پیچھے ہٹتے اس نے برج سے ٹیک لگالی ، اذیت سی اذیت گھر گئ ، اسے لگا تھا اس نے تیمور حیدر سے خود کو آذاد کرلیا ہے ، اسے غلط لگتا تھا ، اسے لگتا تھا وہ اب محبت نہیں رہا تھا ، یہ بھی وہم تھا ،وہ سوچتی تھی اگر وہ کبھی سامنے آیا تو نگاہیں پھیر لے گی ، اجنبی بن جائے گی ، وہ شخص اجنبی بننے ہی نہیں دیتا تھا

” لندن آنے کے بعد اور زیادہ خوبصورت ہوگئ ہو “

سرگوشی قریب سے ہی ابھری تھی ،بالکل قریب سے ،اس نے جھٹکے سے رخ موڑا ، وہ اس کے ساتھ ٹھہرا تھا ، اس کے انداز میں پیچھے سے ٹیک لگائے ، جیبوں میں ہاتھ ڈالے ،اسے دیکھتا ہوا

” حد میں رہو تیمور”

اس نے کچھ سختی سے کہنا چاہا

” اور ظالم بھی ۔۔۔۔”

آواز اب بھی سرگوشی میں تھی

” جاؤ یہاں سے “

” اجنبی بھی ۔۔۔۔ “

وہ اب بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا ، وہ اب بھی اسے ہی دیکھ رہی تھی ، اردگرد کا ہر منظر غائب ہوگیا ، صرف وہ دونوں باقی رہ گئے ، وہ جو کچھ نرمی سے اسے دیکھ رہا تھا ،وہ جو سختی سے اسے دیکھ رہی تھی

” اور تم اب بھی ویسے ہو”

سختی کا خول چٹخنے لگا ، وہ وہی معطر صبا بن گئ جس نے تیمور حیدر سے محبت کی تھی

” کیسا ؟”

” بے حس۔۔۔۔۔”

” ہمیشہ سے۔۔۔۔”

” خود پسند …”

” ہمیشہ کے لئے ۔۔۔۔” سر کو خم دیا

” بے وفا “

تیمور کے لبوں کے کونے پہ مسکراہٹ ابھری

ایک دم سے زور کی آواز آئ اور آسمان روشن ہوگیا ، نیا سال شروع ہوچکا تھا ، گھنٹیاں بج گئ تھیں ،ان کے بالکل سامنے کسی نے ڈھیروں رنگ چھوڑ دیئے تھے ، رنگی برنگی روشنیاں آسمان میں بکھری تھیں ، اردگرد کا ہجوم چیخیں مار رہا تھا ، وہ دونوں اس منظر سے بے نیاز تھے

” جسے قدر کرنا نہیں آتی ، جو صرف خود کو عزیز رکھتا ہے ۔۔۔یہ نہیں کہو گی ؟”

” وہ بھی ہے “

” کبھی تم یہ تعریف کے طور پر کہا کرتی تھیں “

” آج تعریف نہیں تھی “

” جانتا ہوں “

تیمور نے رخ سامنے کی طرف کیا ، ڈھیروں آگ کی طرح لگتے سرخ رنگ، اس نے سامنے نہیں دیکھا تھا ، وہ ان رنگوں کو تیمور کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی ، چند لمحے وہ خاموشی سے سامنے دیکھتا رہا پھر دھیرے سے بولا

” میں تمہیں یاد کرتا ہوں معطر “

کسی نے دل کو زور سے بھینچا تھا ، وہ سامنے دیکھتا کہہ رہا تھا ، آنکھوں میں اب صرف آتش بازی کا سرخ رنگ نہیں تھا

” میں وہ سرخ پھول یاد کرتا ہوں جو میں تمہیں بھیجا کرتا تھا ، وہ خط جو تم مجھے بھیجا کرتی تھیں، وہ محبت کے رنگ جو ہم دونوں ایک دوسرے کو بھیجا کرتے تھے ” رخ موڑ کر اسے دیکھا ، وہ ضبط سے پر آنکھیں اسی پر رکھے ہوئے تھی ” کیا تم مجھے یاد کرتی ہو ؟”

” تمہیں یہاں نہیں آنا چاہئے تھا تیمور “

” یہاں آنا میرا انتخاب تھا ،دنیا میں سینکڑوں ملک میں سے میں نے برطانیہ چنا ، برطانیہ کے سینکڑوں شہروں میں سے لندن چنا ۔۔۔” وہ اس کے پاس سے ہٹتا سامنے آ گیا ، آتش بازی کا ہر رنگ معطر صبا کی آنکھوں کا حصہ بن گیا

” کیوں ؟”

” کیونکہ میں تمہیں دیکھنا چاہتا تھا”

اس کی آنکھوں میں کسی نے رنگوں کے ساتھ مرچیں بھر دیں ، پیچھے اب بھی رنگ جل رہے تھے ، گویا آج برطانیہ ہر کسی کو اپنا آسمان دکھانا چاہتا تھا

” اور میں تمہیں نہیں دیکھنا چاہتی “

تیمور حیدر کی انکھوں میں لمحہ بھر کو کرب اترا ، پھر اس نے سر کو خم دیا

” جانتا ہوں “

” پھر کیوں آئے ہو ؟”

” کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ تم مجھے نا بھلا سکو ، میں چاہتا ہوں تم مجھے ساری زندگی یاد رکھو “

اس نے خواہش کی کہ وہ شخص اس کے سامنے سے ہٹ جائے ، اس نے خواہش کی وہ اس شخص کے سامنے سے غائب ہوجائے

” یہ محبت نہیں ہے “

” شاید۔۔۔۔ شاید یہ پاگل پن ہے ، انا ہے ، جانے کیا ہے ، مگر ۔۔۔” وہ ہلکا سا اس کی طرف جھکا ” میں چاہتا ہوں تم مجھے کبھی نا بھولو ، مجھے یہ خیال مار دیتا ہے کہ تم مجھے بھول جاؤ گی ، میں ہمیشہ تمہارے خیالوں میں رہنا چاہتا ہوں معطر “

اس کے حلق میں آنسو اٹکے

” تم خود غرض ہو تیمور ، تم نے ہر شے برباد کردی “

” مجھے افسوس ہے ، تم سے زیادہ ہے ، میں نے طے کیا تھا کہ شادی کے بعد ہم دونوں یہاں آئیں گے ، اسی جگہ ایک دوسرے کے ساتھ ٹھہر کر یہی منظر دیکھیں گے ، میں نے یہ منظر سوچا تھا معطر ، اس طرح نہیں سوچا تھا لیکن سوچا تھا ، ہم دونوں کے ساتھ کتنا غلط ہوا نا ؟”

اس کا گلا درد کرنے لگا ، آتش بازی روک دی گئ تھی ، تیمور اب بھی اس کے سامنے ٹھہرا تھا

” تم نے یہاں آ کر غلط کیا ہے “

” یہ بھی جانتا ہوں ، اگلے چند دن تم میرے لئے روتی رہو گی ، یہ بھی جانتا ہوں ، اگلے چند دن میں تمہاری یاد میں نازنین کو فراموش کردوں گا یہ بھی جانتا ہوں “

وہ قد میں اس سے لمبا تھا ، دونوں جیبوں میں ہاتھ ڈالے اس کے سامنے ٹھہرا تھا ، رک کر لب کاٹا پھر سر جھٹکتے اسے دیکھا” مجھ سے ملنے آ سکتی ہو کل ؟”

جو حلق میں اٹکا تھا وہ آنکھوں سے بہہ نکلا

” میں نہیں آؤں گی “

” پلیز….”

” مجھ سے دور رہو تیمور “

” ممکن نہیں “

وہ ایرک نہیں تھا کہ وہ ایک بار کہتی تو وہ سامنے آنا چھوڑ دیتا

” میرے لئے مشکل کھڑی مت کرو “

” اگر میرا یہاں آنا تمہارے لئے مشکل کھڑی کرتا ہے تو اس بات پر راضی ہوں “

وہ سنان بھی نہیں تھا جو اس کے لئے حل ڈھونڈا کرتا تھا

” چلے جاؤ یہاں سے پلیز “

” میں تمہارا انتظار کروں گا ۔۔۔۔ لندن میں ہم دونوں کی ایک آخری ملاقات ، تم ضد کہو یا جو بھی ، تم آؤ گی ، میں جانتا ہوں تم آؤ گی “

وہ تیمور حیدر تھا ، اسے گمان تھا کہ وہ دنیا تسخیر کر سکتا ہے ، اسے یقین تھا معطر صبا اسی دنیا میں آتی ہے ، جیبوں میں ہاتھ ڈالے وہ پیچھے کو ہوا ، پھر مڑ گیا ، اس کی بیوی یہیں کہیں تھی ، اسے اپنی بیوی کے پاس جانا تھا ، اس کے ساتھ وہاں چند تصویریں لینی تھیں پھر سب کو دکھانا تھا وہ کتنا خوش تھا ، وہ دہرے معیار کے ساتھ جی رہا تھا ، اور وہ خوش تھا

وہ صرف ایک معیار کے ساتھ زندہ تھی اور وہ کتنی ناخوش تھی ۔۔۔۔ اس کا ہاتھ ریلنگ پر گیا ، ایک ہاتھ سینے پر ، اندر گھٹن ہورہی تھی ، پھر وہ ڈگمگاتے قدموں سے ریلنگ کے ساتھ چلنے لگی ، نیچے دریا تھا ، نیچے کی طرف جاتے وہ وہاں سے دور ہٹتی گئ پھر ایک جگہ رکی ، ہاتھ ریلنگ پر رکھ لیا ، ضبط ختم ہوگیا ، وہ سینے پر ہاتھ رکھے گھٹ گھٹ کر روئے گئ

کیوں ؟ یہ ہونا ضروری تھا ؟ وہ کیوں نہیں ملا تھا ؟ نا ملنا مقدر تھا تو وہ یہاں کیوں آیا تھا ؟ اسے نہیں آنا چاہئے تھا ، وہ بھولنے لگی تھی کہ کوئ تیمور حیدر بھی تھا ، وہ بھولنے لگی تھی کوئ معطر صبا بھی تھی جو تیمور حیدر سے محبت کرتی تھی ، اسے سب بھولنے لگا تھا ، پھر وہ واپس کیوں آیا تھا ؟ ، اس کا سینہ درد کرنے لگا یوں جیسے اب دھڑکن رک جائے گی ، اس کا دل کیا وہ کسی کو سامنے بٹھا کر بتائے وہ کس قدر اذیت میں تھی ، لیکن وہاں کوئ نہیں تھا ، نا ایرک نا سنان ، وہ دونوں اسے تنہا چھوڑ گئے تھے یا شاید اس نے خود ہی سب کو تنہا چھوڑ دیا تھا

” معطر۔۔۔۔”

دور سے کسی نے بلایا ، وہ وہیں کھڑی رہی ، اردگرد سے سب گزرتے گئے ،کچھ اچھنبے سے اسے دیکھتے ہوئے کچھ ترس سے

” معطر۔۔۔”

وہ بانو آپا تھیں ، اس نے جھٹکے سے آنسو صاف کئے ، گہری سانس لی ، خود کو پرسکون کرنا چاہا

” معطر۔۔۔۔۔” وہ ہانپتی کانپتی اس کے پاس آئیں ” کہاں چلی گئ تھیں ؟ اوہ اللہ میں ڈر گئ تھی”

” یہیں تھی آپا ، وہاں وحشت ہورہی تھی”

” آواز کو کیا ہوا ہے ؟”

” سردی۔۔۔۔سردی ہے تو “

وہ مزید نا کہہ سکی ، وہ جس حصے میں تھی وہاں اندھیرا تھا تو وہ اس کی سوجی آنکھیں نہیں دیکھ سکتی تھیں

” ہاں۔۔سردی تو ہے ، چلو چلتے ہیں”

اس کا ہاتھ تھاما ، اسے اسی سہارے کی ضرورت تھی ، ورنہ شاید گرجاتی ، بانو آپا ساتھ چلتی کچھ کہہ رہی تھیں ، وہ ساتھ چلتی غور سے سننے کی کوشش کررہی تھی ، اسے پیچھے آتی آواز سے پیچھا چھڑانا تھا ، وہ آواز جو کانوں میں گونج رہی تھی ، زہن میں گونج رہی تھی ، دل میں بھی

” میں تمہیں یاد کرتا ہوں معطر !”

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆