192.3K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Laa (Episode 4)

Laa By Fatima Noor

یہ شہر لندن ہے۔۔۔۔۔

لندن میں قدیم روم کی جھلک دیتا ازلنگٹن

اونچی عمارتوں ، پرانی گلیوں والا

اونچی عمارتوں میں سے ایک کے سبز قطعے پر وہ چلتا ہے

جس کے ہاتھ میں کیمرہ ہے

تصویر بنانے والا اپنی مٹھی میں دنیا قید کرکے رکھتا ہے

وہ جو چلتا ہے تو زمین اسے تخت پیش کرتی ہے

رکتا ہے تو اسے رک کر دیکھا جاتا ہے

سنتا ہے تو کلام کرنے والا کلام بھول جاتا ہے

بولتا ہے تو اس کی خاموشی کی دعا کی جاتی ہے

وہ جو۔۔۔۔۔۔۔

” تم نے میرے کمرے سے چپس اٹھائے ؟”

تڑخ کر کہتا کوئ اس کے سامنے آیا

” میں ایک عزت دار شہری ہوں ،مجھ پر الزام مت لگاؤ “

اس نے آنکھیں گھمائیں

” عزت دار لفظ تم سے پناہ مانگتا ہے “

” کوئ ثبوت کہ چور میں ہوں ؟”

” گواہ ۔۔۔ مارک نے خود دیکھا ہے “

” اس نے پچھلی مرتبہ مجھ پر چیٹنگ کا الزام لگایا تھا “

” وہ پہلا الزام تھا جو غلط تھا “

” میں ایک شریف شہری ہوں ، مجھے بدنام مت کرو “

” شرافت یہ سننے کے بعد دنیا سے رخصت ہوچکی “

” تم میرا وقت برباد کررہے ہو “

” تم ہماری زندگی برباد کررہے ہو “

” میں ایک امن پسند شہری ہوں ، مجھ پر بہتان مت باندھو

” تم جسے امن کہتے ہو ، وہ درحقیقت طوفان سے پہلے والی خاموشی ہے “

” اور میں طوفان ہوں ،میرے سامنے سے ہٹ جاؤ “

” میرے چپس واپس کرو “

” وہ میں کھا چکا “

ڈھٹائ کے ساتھ سچائ کا اعتراف کیا گیا

” مجھے اس کی رقم دو “

” جس دن میں نے اپنی جیب سے تمہیں رقم دی وہ دن دنیا کا آخری دن ہوگا “

” تم ناقابل برداشت انسان ہو “

وہ چلایا

” میں برا انسان بھی ہوں ، مجھ سے دور رہو “

” تم۔۔۔ تم “

اس کے پاس الفاظ ختم ہوگئے

” میں بہت مصروف بھی ہوں ، اور تم میرا وقت برباد کررہے ہو مجھے اہم کام کرنا ہے “

وہ منہ پر ہاتھ رکھتا جمائ روک رہا تھا

” کون سا اہم کام ؟”

” مجھے سونا ہے ،پھر جاگ کر کھانا ہے ، پھر سونا ہے ، اس کے بعد میں سوچوں گا کہ میں کون سا اہم کام کروں ، تم جاسکتے ہو ، اپنی شکل گم کرو تاکہ میں اگلی مرتبہ تمہاری تصویر نا بناؤں “

سامنے والا اسے گھورتا رہا پھر اس کی ڈھٹائ پر لعنت بھیجتا پیچھے ہٹ گیا ، اس کے کیمرے کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ اس سے پناہ مانگنی چاہئے ، اور اس شخص کے بارے میں ؟

وہ ہزار ڈھیٹوں کے مرنے کے بعد ان کا تخت سنبھالنے والا ان کا اکلوتا وارث تھا !

وہ برا انسان جو ــــــ؟

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

ان سے دور شہر ازلنگٹن میں

گیلی سڑک پر کوئ ڈائری تھام کر چلتا ہے

کسی نے چوک میں قمفے جلا رکھے ہیں

ان قمفوں کے نیچے ستارے جھلکتے ہیں

کسی درخت سے سرخ پھول گرتے ہیں

کسی کی گزرگاہ ان پھولوں پر سے ہے

جس نے ہاتھوں میں سفید کاغذ تھام رکھے ہیں

جن پر وہ کچھ لکھتا ہے

وہ جو۔۔۔۔۔

سنان سعدی خان

18 اکتوبر !

مقام : برطانیہ ، ازلنگٹن

لندن اس قدر روکھا کیوں ہے ؟ روکھے لندن میں میں کس قدر بے زار کیوں ہوں ؟ یہاں زندگی دوڑتی ہے ، اس دوڑتی زندگی میں کچھ اچھا کیوں نہیں لگتا ؟ مجھے لگتا ہے مجھے کسی سنسان گلی سے سرخ پھول چن کر زندگی میں بھرنے چاہئیں ۔۔۔۔ کیا یہ بہتر طریقہ ہے ؟ یا پھر مجھے کسی رنگ بھرنے والے کو ڈھونڈنا چاہئے ؟

” تم ڈائری بھی لکھتے ہو ؟”

کوئ مرد پاس آ کر ٹھہرا تو وہ چونکا

” ڈائری میں خود کو لکھتا ہوں “

” خود کے علاوہ بھی کوئ اور ہے جسے لکھو ؟”

” کوئ نہیں۔۔۔۔”

” کوئ تو ہوگا “

” جب ہوگا۔۔۔ تب لکھوں گا “

وہ سر جھکا کر مسکرایا

” میں پڑھنا چاہوں گا ۔۔۔۔ کیا تم میرا ایک کام کرسکتے ہو ؟”

” میں نہیں پڑھواؤں گا ۔۔۔۔۔ نہیں میں وہ کام نہیں کرسکتا “

” تم چھوٹی سی بچی سے اتنا ڈرتے کیوں ہو ؟”

سامنے والے کے چہرے پر افسوس تھا

” وہ چھوٹی سی بچی اس قابل ہے کہ اس سے ڈرا جائے “

” چند دن بعد صرف تین دن کے لئے”

” تین دن بعد میں چند دن کے لئے غائب ہورہا ہوں “

” تم ایک مہربان شخص ہو ،میری مدد کردو “

” میں اب مہربان شخص نہیں رہا “

” میری بیٹی بہت پیاری لڑکی ہے “

” تمہاری بیٹی بہت پیاری لڑکی ہے لیکن مجھے اس پیاری لڑکی سے دور رکھو “

” وہ تمہیں بہت پسند کرتی ہے “

” وہ میری جیب میں موجود رقم کو مجھ سے زیادہ پسند کرتی ہے “

وہ آگے جارہا تھا ، جو پیچھے تھا وہ کچھ کہہ رہا تھا ، جو دونوں تھے وہ جانتے تھے کہ وہ مان جائے گا ، وہ اچھا انسان تھا ، اچھے انسان کی اچھائ کا فائدہ وہاں ہر شخص اٹھاتا تھا ، وہ اچھا انسان جو سنان سعدی خان تھا !

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

اس نے ویزہ ارجنٹ بیس پر اپلائے کیا تھا تو ایک مہینے سے پہلے مل گیا ، نادر بھائ نے اس دوران اس کی پوری مدد کی ، وہ جنتی ان کی مشکور ہوتی کم تھا ، جانے سے پہلے اس نے بابا کی اگلے مہینے کی ساری دوائیاں لے کر رکھ دیں ، مبشرہ کو ڈھیروں چیزیں سمجھائیں ، عون کو ڈھیروں نصیحتیں ، ذمہ دار بننے، مبشرہ کے ساتھ نا لڑنے ، دانیال کی مدد کرنے ، ہر وہ نصحیت جو وہ کرسکتی تھی

دنیا کی سب سے زیادہ ذمہ دار مخلوق گھر کی بڑی اولاد ہوتی ہے ، وہ بچپن سے اپنے خوابوں اور ذمہ داریوں کا بوجھ لے کر بڑے ہوتے ہیں ، وہ ماں باپ کے بنا بتائے بھی ان کی ہر پریشانی سے واقف ہوتے ہیں وہ پریشانیاں ان کے خواب بدل دیتی ہیں ، خواہشات ختم کردیتی ہیں ، گھر کی بڑی اولاد دنیا کی سب سے ڈپریسڈ ترین مخلوق ہوتی ہے

” مجھے کوئ نصحیت نہیں کرو گی ؟”

سامان صحن میں رکھتے دانیال نے کب سے عون اور مبشرہ کو سمجھاتی معطر سے کہا تو وہ آزردہ سا مسکرائ

” تمہیں نصیحت کرنے کی ضرورت ہے ؟”

” کیوں نہیں ہے ؟”

” تم پہلے ہی بہت ذمہ دار ہو “

وہ بیگز تک آئ ، بیگ دیکھے ، سامان زیادہ لگ رہا تھا

” تم ہو تو میں بھی ذمہ دار ہوں، تمہاری موجودگی مجھے ہمت دیتی ہے”

” میری غیر موجودگی زیادہ ہمت دے گی “

” ہم دوست ہیں معطر ، تم مجھ سے میرا دوست لے کر جارہی ہو ، میں اکیلا پڑ جاؤں گا یارر “

اس نے دھیرے سے سر اٹھا کر دانیال کو دیکھا ، وہ اسے دیکھ رہا تھا ، دکھ سے ، محبت سے

” جانا مجبوری ہے “

” واپس آنا ہمیشہ آپشن رکھنا “

” تمہیں کیا لگتا ہے میں برطانیہ میں کہیں کھو جاؤں گی ؟”

وہ مسکرائ

” تم پاکستان میں ہی کھو گئ ہو “

وہ آہستہ سے کہتے سامان باہر رکھنے کے لئے لے گیا ، معطر کی مسکراہٹ غائب ہوئ ، پھر سر جھٹکتے اس نے سر اٹھا کر گھر کو دیکھا ، اماں ہر تھوڑی دیر بعد کچھ نا کچھ لاکر دے دیتیں ، عون آنسو ضبط کرنے کی کوشش میں سرخ ہورہا تھا ، مبشرہ یہ کوشش کئے بنا شوں شوں کرکے رو رہی تھی اور بابا۔۔۔۔

اس نے دھیرے سے سر گھمایا ، وہ برآمدے میں بیٹھے تھے ، اس کا بیگ لے کر ، ٹوٹا بیگ جو وہ کب سے بنا چکے تھے لیکن پھر بھی مزید کوئ نقص ڈھونڈنے میں لگے تھے ، وہ جوتا صحن میں اتارتی ان تک آئ ، آہستہ سے ان کے قدموں کے پاس بیٹھی اور سر گھنٹوں پر رکھ لیا ، افتخار صاحب کا ہاتھ بیگ پر تھم گیا

” اپنا خیال رکھئے گا “

” جو رکھتی تھی وہ تو جارہی ہے”

” مبشرہ یہاں ہے ،میں روز کال کروں گی “

” مت جاؤ معطر ، میرا دل ڈر رہا ہے “

ان کا ہاتھ اس کے سر پر آ ٹھہرا

” میرا دل کب سے ڈرا ہوا ہے بابا ، یہ ڈر سچ نا ہو اسی وجہ سے جارہی ہوں “

وہ اس کا سر سہلا رہے تھے ، اسے نیند آنے لگی، شفقت ، محبت ، نرم لمس ، دنیا کی ساری راحت باپ کے ہاتھ میں منتقل کردی گئ تھی

” اپنا خیال رکھنا ۔۔۔۔”

” جو رکھتے تھے انہیں یہیں چھوڑ کر جارہی ہوں “

” تمہارے پاس تو وہاں کوئ ہوگا بھی نہیں “

” اللہ ہے نا !”

اگلے کئ لمحے وہ دونوں چپ رہے ، پھر معطر نے گہری سانس لے کر سر اٹھایا ، اس کی فلائٹ کا وقت ہورہا تھا

” الوداع نہیں کہیں گے ؟”

” تم بھی نہیں کہو گی ؟”

اس کے حلق میں آنسو اٹکے

” نہیں۔۔۔۔ میں واپسی کی امید پر جارہی ہوں “

” میرے مرنے سے پہلے واپس آجاؤ گی نا ؟”

یوں جیسے کوئ روح کھینچتا ہے ، یوں جیسے کوئ بے رحمی سے دل کا ایک حصہ کاٹ ڈالتا ہے ، یوں جیسے کوئ آہستہ سے جسم سے جان نکال لیتا ہے ، اس نے جسم سے نکلتی جان محسوس کی تھی ، اس بے جان وجود کے ساتھ وہ کتنی ہی دیر انہیں دیکھتی رہی ، دل کیا ہر شے چھوڑ دے ، جو ٹکٹ بیگ میں تھی اسے پھاڑ دے ، جو دل پھٹ رہا تھا اسے سلامت رہنے دے

” آپ میرے جسم سے روح نکال رہے ہیں بابا “

” تم میرے جسم سے دل نکال کر جارہی ہو معطر “

” یوں کہیں گے تو میں رک جاؤں گی “

” میں یوں کہہ رہا ہوں ، تم رک جاؤ “

اسے رک جانا چاہئے ، اسے واقعی رک جانا چاہئے لیکن مجبوریاں ،ذمہ داری ، ظالم زندگی ، وہ نفی میں سر ہلاتی تھوڑا سا آگے ہوئ اور ان کا ہاتھ تھاما

” آپ روکیں گے تو میں رک جاؤں گی ، اور میں چاہتی ہوں کہ آپ مجھے مت روکیں”

یوں جیسے وہ چاہتی تھی کہ وہ مزید کچھ نا کہیں ، افتخار صاحب کچھ دیر اسے دیکھتے رہے ،پھر ان کا کپکپاتا ہاتھ اس کے سر پر آٹھہرا

” تم ایک سال کی تھیں جب پہلی بار میرا ہاتھ چھڑا کر چلنے لگی تھیں ، دو قدم چل کر تم گر گئیں ،میں اس کے بعد ہمیشہ تمہارا ہاتھ تھام کر چلا ہوں ، تم اب ہاتھ چھڑا کر جارہی ہو ، اس بار مت گرنا ، تمہارا بابا ہاتھ تھامنے کے لئے نہیں ہوگا”

وہ آہستہ سے اٹھ کھڑے ہوئے ، کچھ تھکن سے ،دو قدم چل کر وہ رکے ” میری معطر صبا کا دھیان رکھنا “

بنا پلٹے وہ اسی شکستہ قدموں سے چلتے گئے ، اس کی نم آنکھ سے آنسو نکلا ، نظر ان کے قدموں پر گئ ، جب وہ چھوٹی تھی اور ان کے قدم گنا کرتی تھی

ایک۔۔۔ دو ۔۔۔تین۔۔۔چار۔۔۔۔ پانچ۔۔۔۔چھ۔۔۔سات

اور ان کا وجود غائب ہوگیا، ارگرد ویرانی چھا گئ ، وہ کئ لمحے دروازے کی چوکھٹ کو دیکھتی رہی

” معطر۔۔۔۔۔”

امی کی آواز پر وہ چونکی ، وہ چھوٹے سے بیگ میں پھر سے سامان بھر رہی تھیں

” یہ دیسی گھی ہے ، ضائع مت کرنا ، تھوڑا سا رکھا تھا ، وہی دے رہی ہوں “

تیزی سے چلتے ہاتھ ، کانپتے ہاتھ ، وہ جانتی تھی وہ ایک بار پھر گھر کے اندر غائب ہوجائیں گی ، آنسو صاف کرتے اس نے کرسی پر رکھا بیگ اٹھا اور ان تک آئ

” زیادہ گھلنا مت انگریزوں سے ، سنا ہے بہت بے حیا لوگ ہیں ، کسی پاکستانی ۔۔۔۔”

الفاظ منہ میں رہ گئے ، معطر نے آہستہ سے ان کو گلے لگایا تھا

” اپنا خیال رکھئے گا “

ان کا کپکپاتا ہاتھ اس کی پشت پر گیا ، چند لمحے وہ اس کی پشت سہلاتی رہیں پھر الگ ہوئیں ، اس نے دیکھا تھا ان کی آنکھیں نم تھیں ، سب اتنا جذباتی کیوں ہورہے تھے ؟ وہ بے بس ہوئ

” دھیان رکھنا ، جاؤ ،دانیال ٹیکسی بلانے گیا تھا ، آگیا ہوگا “

آخری بار انہیں خدا حافظ کہتے ، مبشرہ اور عون سے ملتے وہ باہر کی طرف بڑھی ، نظر اندرونی دروازے پر گئ ، مغرب کا وقت تھا تو اندر اندھیرا تھا ، کسی کو لائٹیں جلانا یاد نہیں رہا تھا ، اندھیرے میں بابا نظر نہیں آتے تھے ، وہ بس ایک بار انہیں دیکھنا چاہتی تھی ، صرف ایک بار ، اسے واپس جانا چاہئے ، بابا کمرے میں ہوں گے ، اسے ان کے پاس جانا چاہئے ، ایک بار ان کے گھٹنے پر سر رکھنا چاہئے ، جو نیند تھوڑی دیر پہلے آرہی تھی وہ نیند اب کرنی چاہئے ، لیکن وقت نہیں تھا ، مہلت نہیں تھی ، اسے دیر ہورہی تھی ،اس کی نظر واپس پلٹ گئ ، وہ گھر سے باہر رک کی ایک آخری نظر گھر پر ڈال لے گی ، جیسے ہر پردیس جانے والا ڈالتا ہے

” تم ٹیکسی میں بیٹھو ،میں والٹ لے لوں “

دانیال عجلت میں کہتے اندر آیا تو وہ سر ہلاتے آگے بڑھنے لگی جب نظر یوں ہی ساتھ والے گھر کی طرف گئ ، چچا ناراض تھے ، خاندان کا ہر دوسرا فرد ناراض تھا ، وہ ان کے خاندان کو بدنام کرنے جارہی تھی ، اکیلی لڑکی برطانیہ کی سڑکوں پر گھومے گی ؟ شرمناک ، اس نے سر جھٹکا

قدم باہر رکھتے ہوئے ساتھ والے دروازے سے کسی کی ہنسی کی آواز آئ ، اس کا سر ایک بار پھر اٹھا ، اور دنیا وہیں رک گئ

وہ تیمور تھا ، نازنین کے ساتھ ٹھہرا ہوا، وہ شاید چچا کے گھر دعوت پر آئے تھے ۔ اپنی بیوی کے ساتھ ٹھہرا مسکرا کر چچی کی بات سنتا وہ کسی بات پر ہنسا تھا ، وہ قدم بڑھانا بھول گئ ، پیچھے سے آتی گھر والوں کی آوازیں بھی ، نگاہیں اسی پر ٹک گئیں ، وہ اپنے پہلو میں ٹھہری نازنین کو دیکھ رہا تھا ، دیکھ سکتا تھا ، حق تھا لیکن وہ نگاہیں۔۔۔ وہ نگاہوں میں چھپا احساس ؟ اس کا وجود کسی نے خاک میں اڑا دیا ، اسی لمحے تیمور کی نظر اس پر پڑی ، مسکراہٹ سمٹی ، خاک ہوئ وہ راکھ میں بدلنے لگی ، دھڑکتا دل ساتھ چھوڑنے لگا ، لڑکھڑاتا وجود کسی کے سہارے آن ٹھہرا

دانیال ، وہ اس کے پاس ٹھہرا اس کا ہاتھ تھامے ہوئے تھا

” چلیں ؟”

گلے میں ابھرتی گلٹی سے اس نے سر ہلادیا ، سامان کہاں تھا ؟ دل کہاں تھا ؟ زہن کہاں تھا ؟ وہ بنا کسی شے کو یاد رکھے گاڑی کی طرف بڑھ گئ ، کسی کی چبھتی نظریں پشت پر تھیں ، آگ میں جھلستا دل اندر تھا ، دانیال خاموشی سے سامان گاڑی میں رکھتا خود بھی اندر بیٹھ گیا ، وہ جسے آخری بار اپنے گھر کو دیکھنا تھا آخری نظر بھی نا ڈال سکی ، کوئ تھا جو ساتھ والے دروازے پر ٹھہرا تھا ، اس نے پتھر نہیں بننا تھا

موم میں ڈھلی معطر ایئرپورٹ سے روانہ ہونے لگی تو اس نے بنا کپکپاہٹ کے ہاتھ میں پہنی انگوٹھی اتار کر دانیال کو دی

” یہ تیمور کو پہنچا دینا “

” صرف انگوٹھی دے رہی ہو یا اس کی یاد بھی یہیں چھوڑ کر جارہی ہو ؟”

” یاد بھی۔۔ خیال بھی۔۔۔محبت بھی “

” اتنی آسانی سے ؟”

وہ تلخی سے مسکرایا

” ہمت سے ۔۔۔آسانی سے نہیں ۔۔۔۔ جس لمحے اس نے اپنے کمرے کا دروازہ میرے اوپر بند کیا میں نے اسے زندگی سے نکال دیا ۔ جس لمحے اس نے اپنی وہ نظریں جن سے مجھے دیکھتا تھا کسی اور پر ڈالیں اس لمحے اسے دل سے بھی نکال دیا ۔ میں تیمور حیدر سے خود کو آذاد کرکے جارہی ہوں “

اسے لگا یہ آخری بار ہے جب وہ اس کا نام لے رہی ہے ، جہاز کی کھڑکی سے باہر دیکھتے اس نے یہ بھی سوچ لیا کہ وہ واپس آئے گی تو وہ تیمور حیدر نام کے شخص کو جانتی بھی نہیں ہوگی ۔ جانے والے واپس آتے ہیں تو نئے ناموں کے ساتھ آتے ہیں وہ نئے نام حفظ کرکے آئے گی ۔ نئے دیس سے نئے نام !!

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

ازلنگٹن شمالی لندن میں ایک قدیم شہر ہے جس کی تاریخ رومن دور سے ملتی ہے ، یہ لفظ ” گسڈ کا قلعہ ” سے ماخوذ ہے ، قدیم دور کی عمارتوں کی جھلک دیتا یہ شہر کاروباری تعلیمی اور صنعتی لحاظ سے برطانیہ کے اہم شہروں میں شمار ہوتا ہے ، آج کے ازلنگٹن میں بھی قدیم دور کی جھلک بازاروں ، گلیوں اور عمارتوں میں نظر آتی ہے

اس کا جہاز ازلنگٹن سے کچھ دور سٹی ایئرپورٹ آف لندن پر اترا تھا ، ایئرپرٹ پر ڈیڑھ گھنٹہ انتظار کرنے کے بعد بھی اسے کوئ لینے نا آیا ، وہ ویٹنگ روم میں بیٹھی بے چینی سے پاؤں جھلاتی اردگرد دیکھتی رہی ، کئ بار جاکر باہر دیکھا کوئ تو ہو جس نے اس کے نام کا بورڈ اٹھا رکھا ہو ؟ نادر بھائ نے کہا تھا کہ ان کے دوست خود لینے آئیں گے یا کسی کو بھیجیں گے ، ان کے دوست آئے نا کوئ دوسرا، اس نے دو مرتبہ نادر بھائ کو کال کی لیکن ان کا فون بند جارہا تھا ، تیسری مرتبہ خدا خدا کرکے انہوں نے کال پک کی تو وہ فوراً شروع ہوگئ

” آپ کے دوست کہاں ہیں نادر بھائ ؟”

” تمہیں لینے نہیں آیا ؟”

وہ حیران ہوئے

” نہیں ،میں ڈیڑھ گھنٹے سے انتظار کررہی ہوں “

” ڈیڑھ گھنٹہ ؟ اچھا تم رکو میں پتہ کرتا ہوں “

وہ انتظار کرنے لگی ، ہاتھ پاؤں شل ہونے لگے لندن کی ٹھنڈ یخ بستہ ہوائیں ہڈیوں میں گھس رہی تھیں ، موسم میں خنکی تھی اور پاکستان سے آنے والی معطر صبا کے لئے یہ خنکی ناقابل برداشت تھی ، مایوسی ، بے چینی اضطراب ،ہر شے اندر تک پھیل گئ ، اس نے سامان اٹھایا اور بنا کچھ سوچے باہر کی طرف بڑھ گئ ، ایئرپورٹ کی عمارت سے نکلتے لمبی گاڑیوں کی لائنیں تھیں ، وہ کچھ بوکھلائ ، کہاں جاتی ؟

چند ڈرائیور اس کی طرف بڑھے

” کہاں جانا ہے مادام ؟”

اس نے کہاں جانا تھا ؟ اسے ایڈریس تک معلوم نہیں تھا ، کچھ بوکھلائے انداز میں وہ وہاں سے ہٹی تو سامنے سے کسی سے ٹکراتے ٹکراتے بچی

” معطر صبا ؟”

وہ چالیس کے قریب کے شخص تھے ، اس نے بے اختیار تھکی تھکی سانس خارج کی

” عمر بھائ ؟”

نادر بھائ نے انہی کی تصویر دکھائ تھی ،تصویر میں کچھ تبدیل سے لگ رہے تھے لیکن یہ وہی تھے

” جی جی ، عمر درانی ہوں ، آجائیں ، معذرت دیر ہوگئ”

وہ پریشان لگ رہے تھے گویا کچھ عجلت میں اکتائے ہوئے ہوں

” کوئ بات نہیں ،لیکن میں پریشان ہورہی تھی”

اپنا سامان خود ہی گھیسٹے وہ ان کے پیچھے گئ ، وہ ٹیکسی میں آئے تھے، اس کی بات کا جواب دیئے بغیر دروازہ کھولتے بیٹھ گئے ، وہ کچھ خائف ہوئ پھر سامان پچھلی سیٹ پر گھسیٹ کر رکھنے لگی کہ ڈرائیور آگے بڑھا اور اس کے ہاتھ سے سامان لیتے ڈگی میں رکھا

گہری سانس لیتے معطر صبا نے اپنی شرمندگی ، درد ، خفت ہر شے پیچھے پھینک دی ، سارا راستہ وہ باہر دیکھتی رہی ، لندن کی صاف ستھری سڑکیں ، بڑی بڑی عمارتیں ،مشین سی زندگی ، اسے رونا آنے لگا ، گھر ابھی سے یاد آرہا تھا

وہ ازلنگٹن میں رہتے تھے ، وہ جانتی تھی ، کسی پوش ایریا میں کار رکی تو وہ اتر گئ ، عمر بھائ نے پیچھے بڑھ کر اس کا سامان نکالا ، شاید مروت کا احساس ہوگیا تھا ، دروازہ بجا تو سامنے سے کرخت تاثرات والی نادیہ بھابھی نکلیں

” سامان رکھ دو معطر کا گیسٹ روم میں”

سامان گویا پٹخنے کے انداز میں انہیں دیا ، جوابا وہ اکتائ نظروں سے معطر کو دیکھتی اس کا سامنا گھسیٹنے لگیں ، وہ ایک پل کو وہیں رک گئ ، عجیب شرمندگی ہونے لگی ، اتنا سرد رویہ ؟

” آ بھی جاؤ لڑکی ، اب کیا پھولوں کا راستہ رکھوں تمہارے لئے ؟”

اندر سے انہیں خاتون کی آواز گونجی تو وہ ہڑبڑا کر اندر گئ ، سامنے کشادہ لاؤنج تھا جس کی دائیں طرف سیڑھیاں جارہی تھیں ، اوپر شاید کمرے تھے ، لاؤنج کی دائیں طرف کچن اور

” یہ کمرہ ہے ، کچھ لینا ہو تو بتادینا ، میں باہر ہی ہوں “

اس کی نظر ہڑبڑا کر واپس آئ ، خاتون جان چھڑوانے والے انداز میں کہتی کمرے کے سامنے سے جاچکی تھیں ، وہ گہری سانس لیتی اندر داخل ہوئ ، چھوٹا سا ایک بیڈ کا کمرہ ، دائیں طرف وارڈروب ، بائیں طرف واش روم ، کونے میں ایک صوفہ پڑا تھا ، صوفے کے سامنے ٹیبل

وہ بیگ اٹھاتی وارڈروب تک آئ ، وہاں کھڑا کیا اور خود تھک کر صوفے پر بیٹھی

عجیب احساسات ہوگئے ، اجنبی ملک ، اجنبی لوگ ، اجنبی جگہ ، اجنبی رویہ ، ماضی برا تھا ،مستقبل سے بے خبر ، موبائل اٹھا کر دیکھا ، پاکستان سے ازلنگٹن کا وقت چار گھنٹے پیچھے تھا ، ٹائمنگ سیٹ کی ، دانیال کو میسج کرکے اطلاع دی اور واش روم کی طرف بڑھ گئ

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

پورے دو گھنٹے کچھ سکون سے سونے کے بعد وہ اٹھی تو رات کے کھانے کا وقت ہوچکا تھا ، عمر بھائ کا دس سالہ بیٹا اسے بلانے آیا تو وہ منہ ہاتھ دھوتی باہر کی طرف بڑھ گئ ، ڈائننگ ٹیبل پر نادیہ بھابھی عمر بھائ سے کسی بحث میں مصروف تھیں اسے آتے دیکھ خاموش ہوگئیں ، وہ متذبذب سی ٹیبل تک آئ اور کرسی کھینچی

” سفر کیسا رہا ؟”

عمر بھائ کے پوچھنے پر اس نے سر ہلادیا

” اچھا گزرا “

” تھک گئ ہوگی ، ایسا کرو آرام کرو کچھ دن پھر دیکھتے ہیں کہ کیا کرنا ہے”

کیا کرنا ہے ؟ وہ پوچھنا چاہتی تھی کہ اب کیا کرنا تھا ؟ وہ انہی کے بلانے پر یہاں آئ تھی ، ان کا بزنس ،؟ لیکن فلحال خاموش ہی رہ گئ کہ اس وقت پوچھنا عجیب تھا

پھر دو دن وہ منتظر رہی کہ وہ کچھ کہیں گے لیکن ان کی طرف سے خاموشی رہی، نادیہ بھابھی اپنے کام میں مگن ، گھر کی فضا کچھ بوجھل تھی اس نے یہ دو دن میں ہی محسوس کرلیا تھا ، دو دن اس کے یوں ہی گزر گئے ،تیسرے دن رات کو عمر بھائ نے اسے ڈرائنگ روم میں بلایا

” سب ٹھیک ہے یہاں ؟’

” جی “

” کوئ مسئلہ ؟”

” نہیں “

” کسی چیز کی ضرورت ؟”

” شکریہ۔۔۔”

پھر وہ خاموش ہوگئے ، معطر چند لمحے ان کے بولنے کی منتظر رہی

” آپ کہہ دیں عمر بھائ “

” کیا ؟”

وہ چونکے

” جو کہنا ہے ،میں ہر شے سننے کے لئے تیار ہوں “

وہ کچھ خاموشی سے اسے دیکھتے رہے پھر تھکی تھکی سانس لی

” میرے پاس تمہیں یہاں دینے کے لئے کوئ جاب نہیں ہے معطر “

” جی ؟؟”

” میں کئ دن سے بتانا چاہ رہا تھا لیکن ہمت نہیں ہوئ ، میں نے اپنا سارا پیسہ جوڑ کر بزنس شروع کرنے کا سوچا تھا لیکن میرے پاس پرمٹ نہیں ہے ، جو ورک پرمٹ ہے وہ اپنا بزنس شروع کرنے کی اجازت نہیں دیتا ، یہاں کا قانون بہت سخت ہے ، دوسری صورت میں مجھے کسی برطانوی شہری کو ڈھونڈنا تھا جسے رقم دوں اور وہ اپنے نام سے بزنس شروع کرے ، میں نے یہی کیا ، سب ٹھیک تھا ، جارج کو میں سالوں سے جانتا ہوں ، سب بہتر تھا لیکن اب جب ہم سب شروع کرنے جارہے تھے تو وہ سارے پیسے لے کر فرار ہوگیا ہے ، کہاں ؟ میں نہیں جانتا ، پولیس اسے ڈھونڈ رہی ہے لیکن اس کا کچھ پتا نہیں چل رہا “

سر پر آسمان گرنا کسے کہتے ہیں یہ اس لمحے اس نے جانا تھا

” ایسے ۔۔۔۔ ایسے کیسے ؟”

اس کی زبان لڑکھڑا گئ

” یہ سچ ہے ، میں ان دو ہفتوں میں اتنا پریشان رہا ہوں کہ نادر کو فون کرکے کہنا یاد ہی نہیں رہا کہ تمہاری ٹکٹ کینسل کروادے ، جس دن تم یہاں آئیں اسی وقت مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ، لیکن تب دیر ہوچکی تھی ، آئ ایم سوری”

سوری ؟ صرف سوری ؟ وہ اپنا سب چھوڑ کر آئ تھی ، سب کچھ ، گھر ، محبت ، بہن بھائ ، سب کچھ ، سوری ؟

” آپ کو مجھے بتانا چاہئے تھا عمر بھائ “

وہ روہانسی ہوئ

” مجھے معاف کردو “

بس ؟ معافی ؟ وہ اٹھ کر چلے گئے ، وہ وہیں بیٹھی رہی ، چند لمحے سرکے جب نادیہ بھابھی اس کے ساتھ صوفے پر بیٹھیں

” دیکھو معطر شاید تم مجھے غلط سمجھو ،میں صفائ نہیں دوں گی لیکن سچ یہ ہے ہم اب تمہارے لئے کچھ نہیں کرسکتے ، ہمارے پاس جگہ نہیں ہے جہاں تم رہ سکو ، کوئ بزنس نہیں ہے جہاں تم کام کرسکو ، ہم لوگ اتنے خوشحال بھی نہیں ہیں کہ تم کئ دن ہمارے ساتھ آرام سے گزارا کرسکو ، اس لئے بہتر ہوگا کہ اپنا انتظام دیکھ لو “

اتنی سفاکی ، وہ بے بسی سے انہیں دیکھ کر رہ گئ

” میں اتنی جلدی کہا جاؤں گی بھابھی ؟”

” رینٹ پر رہ لینا ، یہاں کام کرسکتی ہو ، ویسے بھی تمہارا اوپن ورک ویزہ ہے ، تمہیں مشکل نہیں ہوگی ، میں جانتی ہوں میں سفاک بن رہی ہوں ، مجھے افسوس بھی ہے ، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم تمہارے جتنے ہی مجبور ہیں “

” کچھ وقت تو دیں بھابھی “

” میں فوراً جانے کا نہیں کہہ رہی ، ہم بھی چند دن اس گھر میں ہیں ، پھر یہ بیچ کر کہیں اور لے رہے ہیں ، ان چند دنوں میں تم اپنے لئے کوئ اور ٹھکانہ ڈھونڈ لو ، نادر سے جو ہوسکا وہ کریں گے ، ہم جانتے ہیں ہم سے بھول ہوئ ہے ،ہمیں تمہیں پہلے بتادینا چاہئے تھا اپنے حالات کا ،آئ ایم سوری “

دنیا کے پاس ایک یہی لفظ باقی رہ گیا تھا ، سوری ، بڑے سے بڑا نقصان کردو ، سوری کہہ دو ، اتنا چھوٹا لفظ اتنے بڑے نقصان کو کیسے دور کرسکتا ہے ؟ ، وہ اٹھ کر کمرے میں آئ اور بے چینی سے اردگرد گھومنے لگی ، گھر بتانے سے سب پریشان ہوجاتے ، یہاں وہ رہ نہیں سکتی تھی ، انجان ملک ، اجنبی لوگ ، ایک لاوارث سی معطر صبا ، اسے ایک بار خود ہی عمر بھائ سے ساری ڈیٹیل لے لینی چاہئے تھی ، یوں منہ اٹھا کر دوسرے ملک اس امید پر آجانا کہ گویا کام وہاں اس کا انتظار کررہا ہے ، سراسر بے وقوفی تھی اور وہ یہ بے وقوفی کرچکی تھی

اسے لگا اس پر زمین اس سے زیادہ تنگ کبھی نہیں رہی

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°