192.3K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Laa (Episode 28)

Laa By Fatima Noor

وہ ایک منٹ کا مختصر سا ویڈیو کلپ تھا جو کسی نے سوشل میڈیا پر شیئر کیا تھا ، چند لوگ جو گول دائرے کی صورت بیٹھے تھے ، خاموشی سے سامنے والے مرد کو سنتے ہوئے جو اپنے سامنے بیٹھے لڑکے سے کچھ کہہ رہا تھا ، ریکارڈنگ قریب سے کی گئی تھی لہذا آواز واضح تھی

کلمہ

تصویر صاف تھی اس لئے چہرہ بھی واضح تھا

کلمہ پڑھتا ایرک کیان

جنگل میں آگ کی طرح یہ ویڈیو اور خبر پھیلی ، ایرک کیان کا قبولِ اسلام ، جو جتنے قیاس کرسکتا تھا اس نے کئے ، جو جتنا بول سکتا اس نے بولا ، آدم کی طرف سے فلحال خاموشی تھی ، یہ خاموشی دو دن بعد تب ٹوٹی جب اس نے اپنے ہر سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اپنا نام تبدیل کرکے آدم کیان رکھ دیا ، ساتھ ہی ایک مختصر سا ویڈیو پیغام بھی جاری کیا جس نے اس نے مبارکباد دینے والے ہر انسان کا شکریہ ادا کیا اور ان خبروں کی تصدیق کی کہ وہ واقعی اسلام قبول کرچکا ہے اور اس کا نام اب آدم ہے لہذا اسے اسے نام سے پکارا جائے ، نیز مزید اس کی ذاتی زندگی پر تبصرہ کرنے کی بجائے وہ سب سے توقع رکھتا ہے کہ اس کی پرائیویسی کا خیال رکھا جائے گا

اس کی اس ویڈیو کو کروڑوں لوگوں نے دیکھا ، لاکھوں نے شیئر کیا ، مسلمانوں نے مبارکباد دی اور خوشی کا اظہار کیا جبکہ برطانویوں میں سے چند نے منفی تبصرے دیئے اور چند نے اس کا ذاتی معاملہ قرار دے کر خاموشی اختیار کرلی ۔ اسے صرف چند لوگوں کی طرف سے رد عمل کا انتظار تھا ، اس کے گھر والے ، دوست ، اور وہ جو اس کے مخلص تھے

” میں تمہارے لئے تمہارے جتنا خوش ہوں آدم “

سب سے پہلا فون اسے ہاشم بھائ کا آیا تھا ، وہ ہلکا سا مسکرایا

” جانتا ہوں “

” اور تم کتنا خوش ہو ؟”

” آپ پوری زمین گھوم کر دیکھیں کسی نے کہہ دیا کہ وہ مجھ سے زیادہ خوش ہے تو سمجھ لیجئے گا وہ جھوٹ بول رہا ہے”

” ملنے آ سکتے ہو یا میں آجاؤں ؟” ہاشم بھائ مسکرائے

” کچھ دنوں تک فرصت سے آؤں گا ہاشم بھائ ، فلحال سب چیزیں درست کرنی ہیں “

” تمہارے گھر والوں نے کیا رئیکشن دیا ؟”

” مام کا فون آیا تھا ، وہ اور ڈیڈ یہیں آرہے ہیں ، میں جانتا ہوں وہ ناراض ہوں گے”

دوسری طرف کچھ دیر کو خاموشی چھا گئ

” صبر رکھنا بیٹا “

” کس لئے ؟”

وہ سمجھا نہیں تھا

” اگر لوگ تمہیں چھوڑ دیں تو یاد رکھنا کہ تم نے اللہ کو پالیا ہے ، اگر لوگ تم سے پیچھے ہٹ جائیں تو یاد رکھنا اللہ نے تمہیں قریب کرلیا ہے”

” لوگ مجھے کیوں چھوڑیں گے ؟”

” میں دعا کرتا ہوں وہ تمہیں نا چھوڑیں “

وہ کچھ حیران ہوا لیکن پھر سر جھٹک دیا

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

” تم اسلام چھوڑ دو “

ہیزل نے سب سے پہلی بات یہی کہی تھی

” مجھے آپ سے اسی شے کی توقع تھی ، اب میں نہیں جانتا آپ کو کس جواب کی توقع ہے لیکن میرا جواب “ناں” ہے “

” تم بے وقوفی کررہے ہو ایرک “

” میرا نام آدم ہے مام “

وہ پرسکون تھا

” مجھے نا تمہارا یہ نام منظور ہے نا تمہارا مذہب “

” ٹھیک ہے ” اس نے سر ہلا دیا پھر کیان کو دیکھا جو صوفے پر بیٹھے خاموشی سے ان کی گفتگو سن رہے تھے ” اب آپ کیا کہیں گے ؟”

” تم اتنے بڑے کب ہوئے کہ اتنے بڑے فیصلے خود سے لے سکو ؟”

” میں نے پہلا فیصلہ سات سال کی عمر میں لیا تھا ڈیڈ ، جب آپ میرا سکول شفٹ کرنا چاہتے تھے اور میں نے منع کردیا تھا ، آپ کو اسی دن جان لینا چاہئے تھا کہ میں اپنے فیصلے خود لے سکتا ہوں “

” یہ فیصلہ بڑا ہے “

” اسی لئے خود لیا “

” تم ہم سے اجازت لے سکتے تھے “

” اس فیصلے پر کسی کی رائے بھی نہیں بنتی تھی ، اجازت کیسے لیتا ؟ “

اس نے کاندھے اچکائے ۔ ہیزل اور کیان نے خاموش نظروں کا تبادلہ کیا پھر کیان آگے کو ہوئے

” تمہیں کسی نے مجبور کیا ہے ؟”

” آپ کو لگتا ہے مجھے کوئ مجبور کرسکتا ہے ؟”

وہ ہنسا

” تم مسلمانوں کے خلاف تھے ایرک “

” اٹس آدم ڈیڈ…”

اس نے نرمی سے ٹوکا

” مذاق سے گریز کرو ، یہ سنجیدہ معاملہ ہے “

ان کی آواز سخت ہوئ ، پہلی بار ان تینوں کو اندازہ ہوا گفتگو واقعی سنجیدہ تھی ، وہ صوفے پر سیدھا ہوا

” نا ہی مجھے کسی نے مجبور کیا ہے نا ہی میں نے کسی کے دباؤ میں آ کر یہ فیصلہ لیا ہے اور نا ہی یہ فیصلہ جذباتی ہے ، میں اسلام قبول کرچکا ہوں اور یہ سچ ہے “

” تمہیں علم ہے ہمیں اپنی سوسائٹی میں کیا کیا برداشت کرنا پڑے گا ؟”

” آپ دونوں کو علم ہے اگر ہم اسلام قبول نا کریں تو ہمیں آخرت میں کیا کیا برداشت کرنا پڑے گا ؟، میں دنیا کا خوف دل سے نکال چکا ہوں ، دنیا میرا رب نہیں ہے “

” تم پچھتاؤگے “

” کبھی نہیں “

” دیکھو ایرک….” ہیزل اس کے ساتھ آ کر بیٹھیں ، وہ اس بار ضبط کر گیا ( آدم !!! ) ” تم بچے ہو ، تم نہیں سمجھ رہے کہ تمہیں کیا کیا برداشت کرنا پڑے گا ، یہ ایک جذباتی اور غلط فیصلہ ہے ، تم ایسا کرو میرے ساتھ چلو یا اپنے ڈیڈ کے ساتھ ، تم عیسائی ہو ، یا پھر یہودی بھی بن سکتے ہو چلو اٹھو “

وہ گویا اٹھنے لگی تھیں جب آدم نے ان کا ہاتھ تھاما

” مام ! میں اسلام قبول کرچکا ہوں ، آپ مجھے اب کبھی بھی اپنا مذہب تبدیل کرتے ہوئے نہیں دیکھیں گی لیکن ” اس نے گلا کھنکھار کر ان دونوں کو دیکھا ” میں اللہ کے دین کی طرف آپ دونوں کو بھی دعوت دیتا ہوں ، جس مذہب پر آپ ہیں وہ برحق نہیں ہے ، اسلام قبول کرلیں “

پل بھر کو وہاں سناٹا چھا گیا ، ہیزل کا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نکلا ، کیان کا چہرہ سرخ پڑا ، وہ اسے اسلام سے برگشتہ کررہے تھے اور یہ لڑکا اُنہیں ہی اسلام کی دعوت دے رہا تھا ، گھامڑ !!

” ہم تمہاری طرح بیوقوف نہیں ہیں ایرک “

وہ غصے سے کھڑے ہوئے

” میرا نام آدم ہے ڈیڈ ، مجھے بار بار ایرک کہہ کر مت بلائیں “

وہ بھی اٹھ کھڑا ہوا

” تمہیں یہ سکھایا ہے اسلام نے کہ ماں باپ سے بدتمیزی کرو گے ؟”

وہ مشتعل ہوئے

” میں پہلے بھی آپ سے ایسے ہی بات کرتا ہوں “

” تم … ” وہ اس کے سامنے آئے ” تم اپنا مذہب تبدیل کررہے ہو اور اسی وقت کررہے ہو ، میں سوسائٹی کی تمسخرانہ نظریں نہیں برداشت کرسکتا “

” آپ نے دنیا کو اپنا خدا بنا لیا ہے “

اس نے افسوس سے ان دونوں کو دیکھا جو غصے میں اس کے سامنے ٹھہرے تھے

” مجھے مت سکھاؤ ، تم اسی وقت میرے ساتھ چل کر مذہب تبدیل کررہے ہو “

” میں نہیں کروں گا “

وہ دو ٹوک لہجے میں بولا

” پھر ہمیں مجبور مت کرو کہ ہم کوئ سخت فیصلہ لیں “

” کیسا فیصلہ ؟”

وہ کیا کرلیں گے ؟ ہاں ٹھیک ہے ناراض ہوں گے ، چند دن بات نہیں کریں گے ، ممکن ہے چند سال بات نا کریں لیکن اس سے زیادہ وہ کیا کریں گے ؟

” ہم سمجھ لیں گے کہ تم ہمارے لئے مر چکے ہو ایرک اور یاد رکھو مر جانے والوں سے ساری زندگی ملاقات نہیں ہوتی “

کوئ جو دل کو ٹکڑوں میں کاٹتا ہے ایسے ہی کاٹتا ہوگا

” ڈیڈ ….”

اسے صدمہ ہوا

” میں ایسا ہی کروں گا ، تمہاری شکل تک نہیں دیکھوں گا ،میں ہر ایک انسان کو بتاؤں گا کہ میرا کوئ ایرک نام کا بیٹا نہیں ہے ، تم ہمارے لئے اور ہم تمہارے لئے مر جائیں گے “

اتنی سنگدلی ؟ اتنی بے حسی ؟ اس نے بے جان ہوتی آنکھوں سے ہیزل کو دیکھا ، ویسے ہی تاثرات جیسے کیان کے تھے

” مام….”

” تمہارے ڈیڈ صحیح کہہ رہے ہیں ، میں بھی ایسا ہی کروں گی ، میرے سارے دوست ، فیملی سب جیوز ہیں یا کرسچن ، میں کسی مسلمان سے تعلق بناتی ہوں تو صرف کام کی غرض سے ، میں اپنے بیٹے کو اسلام قبول کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی “

وہ دونوں ساتھ ٹھہرے تھے ، علیحدگی کے پندرہ سال بعد ان میں اتفاق ہوا تو کس بات پر ؟

اس نے گہری سانس لی پھر سر جھٹکا

” آپ دونوں کیا چاہتے ہیں ؟”

” ہمارے لئے اسلام چھوڑ دو ، عیسائ بن جاؤ “

اور اس لمحے اس نے جانا کہ جب اس نے معطر سے کہا تھا کہ وہ اسلام کو چھوڑ دے تو اس کے دل پر کیا گزری ہوگی ، جیسے کوئ روح نکالتا ہے اور واپس ڈال دیتا ہے ، جیسے کوئ اردگرد کا ہر منظر ساکت کردیتا ہے ، جیسے کوئ دنیا سے سارے کانٹے چن کر آپ کے وجود میں اتار دیتا ہے ، اس لمحے معطر نے وہی تکلیف محسوس کی ہوگی ، اس لمحے وہ بھی وہی تکلیف محسوس کررہا تھا

” میں ایسا نہیں کرسکتا “

اس کا چہرہ ضبط سے سرخ پڑا

” تو پھر بھول جاؤکہ تمہارے کوئ ماں باپ تھے “

بیگ تھامے ہیزل اور جھپٹ کر موبائل اٹھاتے کیان دونوں باہر کی طرف بڑھے جب وہ تیزی سے ان کے سامنے آیا

” آپ دونوں مجھے تنہا نہیں چھوڑ سکتے “

” جس خدا کو مانتے ہو وہ تمہارے لئے کافی ہے “

” ماں باپ بھی اسی خدا نے بنائے ہیں ، آپ دونوں کیوں مجھے مجبور کررہے ہیں ؟”

وہ بے بس ہوا ، اذیت ، تکلیف ہر شے غالب آ گئ

” مجبور کررہے ہیں تو مجبور صحیح ، فیصلہ تمہارے پاس ہے ، اپنے ماں باپ یا اپنا مذہب “

فیصلہ کرنے کی تو ضرورت ہی نہیں تھی ، ایک بار اسلام قبول کرلیا تو موت تک یہیں رہنا تھا

” میں ایسا نہیں کرسکتا ، میرے لئے مشکل مت بنائیں “

” تم سوچ لو ایرک ، تم سوچ لو “

وہ دونوں آگے بڑھ گئے ، وہ وہیں ٹھہرا رہا ، ہر تلخی کے باوجود ، ہر ٹراما کے باوجود وہ اپنے ماں باپ سے محبت کرتا تھا ، تو اگر اسے لگا تھا کہ فیصلہ آسان ہوگا تو اس فیصلے کے بعد کے نتائج مشکل تھے

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

دروازہ کھولتے اُنہوں نے قدم باہر رکھا تو نظر سیڑھیوں پر گئ ، وہ پہلی سیڑھی پر بیٹھا تھا ، گھٹنوں پر کہنیاں جما رکھی تھیں ،سیاہ جینز پر سفید ٹی شرٹ ، سفید جیکٹ ، سفید جوگر ، وہ مکمل سفید پہن کر آیا تھا

” تم اندر کیوں نہیں آئے ؟”

برآمدے سے گزرتے وہ سیڑھیوں پر اس کے ساتھ آ بیٹھے ، آدم نے رخ موڑ کر اُنہیں دیکھا

” باہر سکون مل رہا تھا “

” سکون چاہئے کیوں ؟”

” سکون کیوں نہیں چاہئے ہوتا ؟”

اس نے نظر جھکا کر اپنے سفید جوگر دیکھے

” تمہیں تو مل گیا ہے آدم “

وہ جھکے سر کے ساتھ ہلکا سا مسکرایا

” اچھا لگتا ہے “

” کیا ؟”

” یہی نام سننا….آدم “

” یہ فیصلہ اچانک کیسے لے لیا تم نے ؟”

” اچانک نہیں لیا ، کئ ماہ ہیں اس کے پیچھے ، کئ دن ہیں اس کے پیچھے ، کئ سوال ، کئ جواب “

” یعنی تم نے آہستہ آہستہ اللہ کو پایا ہے “

وہ خاموشی سے نیچے دیکھتا رہا ، سفید جوگر سبز گھاس پر لگے ، پھر اس نے سر اٹھا کر اُنہیں دیکھا

” مجھے ڈر لگ رہا ہے “

” کس چیز سے ؟” وہ ٹھٹکے

” اللہ کو کھونے سے “

” آدم….”

” مجھے ڈر لگ رہا ہے ہاشم بھائ ، مجھے لگا تھا سب آسان ہوگا ، آسان ہی تھا لیکن مام ڈیڈ نے مشکل بنا دیا ، وہ کہہ رہے ہیں کہ اسلام چھوڑدوں ورنہ وہ مجھے چھوڑدیں گے “

” تم کمزور پڑ رہے ہو ؟”

” اللہ کو منتخب کرنے میں نہیں ، والدین کو چھوڑنے میں ، میں جانتا ہوں میں اپنے ماں باپ کو کھودوں گا “

وہ کتنے ہی لمحے اسے خاموشی سے دیکھتے رہے اور اُنہیں احساس ہوا وہ لڑکا جو پوری دنیا سے لڑ گیا تھا وہ اپنے ماں باپ کو کھونے سے خوفزدہ تھا

” تم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے واقعات پڑھے ہیں آدم ؟”

اس نے نفی میں سر ہلایا

” پڑھنا، حضرت عمار بن یاسر کو اسلام لانے کی وجہ سے زدو کوب کیا گیا ، ان کے ماں اور باپ کو ان کے سامنے شہید کردیا گیا ، اور اُنہیں کلمہ کفریہ کہنے پر مجبور کیا گیا ، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس روتے ہوئے گئے اور بتایا کہ اُنہوں نے کفریہ کلمہ کہا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے چہرے سے آنسو صاف کرتے جاتے اور فرماتے جاتے کہ ” وہ دوبارہ کہیں تو تم دوبارہ بھی کفریہ کلمہ بول دینا ” کیونکہ ان کے دل میں ایمان تھا زبان سے جو بھی کہہ دیتے کیا فرق پڑتا تھا ؟ ، پھر حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں ، حضرت ابو جندل رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ، حضرت سمیہ بنت خباط رضی اللہ تعالیٰ عنہا ، تم تاریخ پڑھو گے تو تم جانو گے کہ صحابہ نے اسلام قبول کیا تھا تو کیا ہوا تھا ، انہوں نے کتنی تکلیفیں برداشت کی تھیں ، کتنے اپنوں کو کھویا تھا ، جانتے ہو میں تمہیں یہ کیوں بتارہا ہوں ؟”

اس نے خاموشی سے نفی میں سر ہلا دیا ، ہاشم بھائ نے گہری سانس لی

” کیونکہ میں چاہتا ہوں تم جان لو کہ جس دین کو تم نے چنا ہے اس میں تم آزمائے جاؤ گے ، تمہیں لوگ چھوڑدیں گے ، تمہارے بہت قریبی بھی ، دوست بھی ، جس معاشرے میں تم رہتے ہو وہ معاشرہ تمہارا ساتھ چھوڑ دے گا ، اپنے آپ کو تیار رکھو آدم “

” یہ سب ضروری ہے کیا ؟”

” بنا امتحان کے اپنے دل کی مضبوطی کو کیسے پرکھو گے ؟”

اس نے اپنے ہاتھوں میں تھاما سبز پتا دیکھا

” کچھ بھی ہوجائے لیکن میں اللہ کو کبھی نہیں چھوڑوں گا “

” اللہ بھی تمہیں کبھی نہیں چھوڑے گا “

اس نے رخ سامنے کی طرف موڑ لیا ، باغیچہ خزاں کے باعث خشک ہوگیا تھا ، کچھ ماہ پہلے اسی باغیچے نے ان سب کی زندگی بدل دی تھی

” میں آپ سے شرمندہ ہوں “

” کس لئے ؟”

” میں سنان کو انصاف نہیں دلا سکا “

اس نے دونوں ہاتھ جیکٹ میں ڈال لئے ، چہرے پر تکلیف ابھری

” تم بھی جانتے تھے کہ یہ ناممکن سی بات ہے ، اس کا قاتل یہ معاشرہ اور نظام ہے ، تم اکیلے اس نظام سے نہیں لڑ سکتے “

” میں نے کوشش کی “

” تمہاری کوشش لکھ لی گئ ہے “

” مجھے زیادہ کوشش کرنی چاہیے تھی ، میں سوچتا ہوں اور پچھتاتا ہوں ، زندگی کا ایک بڑا حصہ میں نے کہاں خرچ کردیا ، زندگی کا ایک بڑا حصہ کن لوگوں کے پیچھے خرچ کردیا ، آپ لوگ بھی تو ہیں ، شروع سے حق پر قائم ، شروع سے حق کے لئے لڑنے والے ، شروع سے مسلمان ، ایسا تو مجھے بھی ہونا چاہئے تھا ، میں کہاں کہاں بھٹکتا رہا ؟ میں کیوں گمراہ رہا ؟ جو حق ہے وہ اتنا عرصہ مجھ سے پوشیدہ کیوں رہا ؟ “

” اپنا مقابلہ ہم سے مت کرو ، تم ہمارے جیسے نہیں ہو “

وہ رخ موڑے اسے دیکھ رہے تھے جس کے چہرے پر سایہ لہرایا تھا پھر اس نے سر کو خم دیا

” واقعی ، آپ سب سے کیسے مقابلہ کرسکتا ہوں ، آپ شروع سے اچھائ پر قائم ہیں ، میں شروع سے برائ پر ، موازنہ بنتا بھی نہیں ہے ، آپ سب مجھ سے بہتر ہیں “

” در حقیقت تم ہم میں سے کئ لوگوں سے بہتر ہو “

اس کے الفاظ زبان پر رہ گئے ، وہ کچھ حیرانی سے اُنہیں دیکھنے لگا ، ہاشم بھائ نے رخ سامنے کرلیا تھا

” آپ تسلی دینا چاہ رہے ہیں ؟”

” ہاں…. لیکن میں جھوٹ بھی نہیں بول رہا ، ہم پیدائشی مسلمان ہیں ، ہمیں گویا اسلام وراثت میں ملا تھا ، تمہاری طرح ہمیں چن کر ہمیں اسلام کی طرف نہیں لایا گیا ، ہم نے اللہ کو تمہاری طرح تلاش کرکے نہیں پہچانا ، ہمیں تو شروع سے بتادیا گیا کہ ہمارا خدا اللہ ہے ، تم دیکھو دنیا میں اربوں لوگ ہیں ، ان اربوں میں سے بہت چند ہیں جنہیں چنا جاتا ہے ، مجھے تم پر رشک آرہا ہے آدم ، تمہیں چنا گیا ہے ، چن کر لایا گیا ہے ، ہم اور تم برابر کیسے ہوسکتے ہیں ؟ ہم تو عام سے ہیں ، تمہیں تو خاص کردیا گیا ہے “

اگر وہ تسلی تھی تو بہترین تھی ، اگر دلاسہ تھا تو باکمال تھا ، اس کا دل سجدہ شکر میں گرنے کو چاہا ، اس کا دل سجدہ شکر میں پڑے رہنے کو چاہا

” میں نہیں جانتا کہ میں کیا کہوں لیکن مجھے اب واقعی ڈر لگ رہا ہے ، اندھیرے سے روشنی کی طرف آنا معجزے جیسا ہے ، روشنی سے واپس اندھیرے کی طرف جانا موت جیسا ہے اور میں مرنا نہیں چاہتا “

” اللہ تمہیں مرنے نہیں دے گا “

وہ کچھ دیر وہیں خاموشی سے بیٹھا رہا پھر تھکی سی سانس لی

” میں سنان کا کیس دوبارہ سے کھلوانا چاہتا ہوں “

” اگر تم پوچھ رہے ہو تو میں تمہیں منع کردوں گا “

” کیوں ؟”

” کیونکہ تم ساری زندگی لڑ کر بھی سنان کو انصاف نہیں دلا سکو گے ، یہ جنگ جاری رہے گی اور اختتام پر تم اپنی زندگی بھی کھو دو گے ، یہ سب سالوں کا بنایا گیا نظام ہے آدم ، تم اکیلے اسے نا ختم کرسکتے ہو نا کرسکو گے ، جتنی ذمہ داری تُمہاری تھی تم نے پوری کردی ، جتنی ذمہ داری ہر مسلمان کی ہے وہ اُنہیں پوری کرنے دو ، ہم سب یہ سوچ کر بیٹھ گئے ہیں کہ اس نظام سے ہم نہیں لڑ سکتے ، کافی حد صحیح بھی ہیں لیکن ہم سب ایک کام کرسکتے ہیں ، ہم میں سے ہر مسلمان اپنے دین کو دنیا کے سامنے اپنے عمل کی صورت پیش کرتا ہے ، جب تم مسلمان ہو تو دنیا کو بتاؤ کہ تمہارا دین کتنا خوبصورت ہے ، تم اپنا عمل درست کرو اور دنیا کو سوچنے دو کہ جس دین کے ماننے والے اتنے اچھے ہیں وہ دین برا کیسے ہوسکتا ہے ؟ ہم اس نظام کو ختم نہیں کرسکتے لیکن ہم مغرب کے لوگوں کا اسلام سے متعلق تصور ضرور تبدیل کرسکتے ہیں ، صاحب اقتدار مسلمانوں کو صاحب اقتدار اور ہم عام مسلمانوں کو عام غیر مسلموں کو اپنے عمل اور قول سے بتانا چاہئے کہ ہم جس دین کو مانتے ہیں وہ ہمارے عمل سے زیادہ خوبصورت ہے “

” میں یہ کوشش کروں گا لیکن میں مسلمانوں کے سامنے یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا ہوں کہ سنان کو انصاف مل سکتا ہے “

” تم نے جو کیا وہ کافی تھا ، تم نے کم از کم یہ بتانے کی کوشش تو کی کہ اسلاموفوبیا کیسے اس معاشرے کو خراب کررہا ہے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ مسلمان بہت اچھے ہیں ، ظاہر ہے ہم میں بھی بہت سی برائیاں ہیں ، ہم گنہگار بھی ہیں ، ہم میں قاتل بھی ہیں ، ہم میں ریپیسٹ بھی ہیں ، ہاں دہ شت گرد بھی ہیں لیکن ہم ویسے نہیں ہیں جیسا مغرب ہمیں بنا کر پیش کرتا ہے ، اتنے برے تو نہیں ہیں ہم “

” تو یعنی سنان کی داستان یہیں تک تھی ؟ میں مزید اس کے لئے کچھ نا کروں ؟”

” اس کی داستاں یہی تک تھی ، وہ اپنا کام کر گیا ہے اب یہ تمہاری کہانی ہے تم اپنا کام کرو “

وہ اُنہیں دیکھتا رہا پھر گویا ہار کر سر جھٹکا

” سنان کو میں نہیں بچا سکا لیکن کوئ اور ہے جسے بچانے کی کوشش کرسکتا ہوں ،اگر وہ بے قصور ہے تو “

” کون ؟”

” حامد رئیسی….” وہ اٹھا پھر انہیں دیکھا ” اس کا ایڈریس مجھے سینڈ کردیجئے گا ، میں چلتا ہوں اب ، مام سے ملنا تھا ، دعا کریں یا تو میں اُنہیں منا لوں یا انہیں کھو نا دوں “

وہ دھیمے سے کہتا آہستہ قدموں سے باہر کی طرف بڑھ گیا ، ہاشم بن عبد اللہ کی نظر اس کی چھوڑی گئ جگہ پر گئ

اسے احساس نہیں تھا کہ وہ کتنا خاص کردیا گیا تھا

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

” تو یعنی آپ مجھے واقعی میں چھوڑ کر جارہی ہیں ؟”

ہیزل بے ساختہ پلٹیں ، وہ پیچھے ٹھہرا تھا ، چہرے پر دکھ اور اذیت تھی

” میں نے تمہیں آپشن دیا تھا “

” آپ اس آپشن میں مجھے موت اور صرف موت کا انتخاب کرنے کا کہہ رہی ہیں”

” میں تمہیں تمہاری ماں کو چننے کا موقع دے رہی ہوں “

” آپ مجھے اللہ کو چھوڑنے کا کہہ رہی ہیں”

وہ دو قدم چل کر ان کے سامنے آیا ، ان کا سامان ساتھ رکھا تھا

” تم نے غلط کیا ہے ایرک “

وہ کہنا چاہتا تھا کہ وہ آدم ہے لیکن وہ اس بار یہ نہیں کہہ سکا

” مسلمان برے نہیں ہوتے مام “

” ہیں ، تم بھی ان کے جیسے بن جاؤ گے ، یہ لوگ ظالم ہیں ، تم ان کو چھوڑ دو ایرک ، ابھی بھی وقت ہے”

وہ اس کے سامنے ٹھہری تھیں

” میں یہ نہیں کرسکتا “

” تم مجھے تنہا چھوڑ دو گے ؟، کیان کے پاس اس کی بیٹی ہے ،میرے پاس صرف تم تھے ایرک ، میری تو کوئ اولاد بھی نہیں ہوئ ، اپنے ماں کو اکیلا کردو گے ؟”

ان کا لہجہ بھرا گیا ، آدم کے اندر تک اذیت ابھری ، یہ اتنا مشکل کیوں ہوگیا تھا ؟

” مجھے اموشنل مت کریں “

” تم سوچو ایرک ، میں کیسے تمہارا مذہب قبول کرلوں ؟ میری ایک پہچان ہے سوسائٹی میں ، میں مسلمانوں کے خلاف کھلے عام بولتی ہوں میں کیسے لوگوں کو جا کر بتاؤں گی کہ میرا بیٹا مسلمان بن گیا ہے ؟ تم نے مجھے مشکل میں ڈال دیا ہے “

” آپ یہیں رہ جائیں “

ماں کو کھونا کتنا ازیت ناک تھا

” تم میرے لئے جو نہیں کررہے وہ میں تمہارے لئے کیوں کروں ؟”

” میرے لئے مشکل مت بنائیں مام “

وہ بے بس ہوا ٫ ہیزل کچھ لمحے اسے دیکھتی رہیں پھر زکام زدہ سانس اندر اتاری

” میں یہ آخری بار کہہ رہی ہوں ایرک مجھے چن لو یا اپنے نئے دین کو ، آخری بار “

ان کا لہجہ دو ٹوک تھا۔ آنکھوں میں سختی تھی ، وہ کئ لمحے اُنہیں دیکھتا رہا ، تو آزمائش آغاز میں ہی سامنے آ ٹھہری تھی ، اگر وہ اس مقام پر پھسل گیا تو سب کھو دے گا ، اس ایک مقام پر چوک گیا تو سفر پہلے ہی پڑاؤ پر واپسی کی طرف مڑ جائے گا ، واپس جہاں اندھیرا تھا واپس جہاں گمراہی تھی ، اس نے دل کو مضبوط کیا ، کچھ کھونے کے لئے خود کو تیار کرلیا

” میں اللہ کو چنتا ہوں….”

ہیزل کی آنکھوں میں کچھ بہت زور سے ٹوٹا پھر اُنہوں نے سر کو خم دیا ، سیاہ گلاسسز آنکھوں پر لگائیں

” تم نے اپنی مام کو کھو دیا ہے”

وہ بیگ اٹھاتی پلٹنے لگیں جب پیچھے سے اس کی آواز ابھری

” مام ! مت جائیں پلیز ، مجھے چھوڑ کر مت جائیں “

اس کی آواز نم تھی ، نم آواز میں درد تھا ، ٹوٹا بکھرا لہجہ ، ہیزل کی گرفت بیگ پر مضبوط ہوئ ، وہ ایک قدم آگے بڑھیں پھر رکیں ، پھر دل کو مضبوط کیا

” جس دن اسلام کو چھوڑ دو گے اس دن میں واپس آجاؤں گی ایرک “

وہ بیگ گھسیٹتی ایئرپورٹ کی طرف بڑھ گئیں ، وہ وہیں ٹھہرا رہا ، اس نے تصحیح نہیں کی کہ وہ اب آدم تھا ، اسے اب آدم ہی رہنا تھا ، اس نے ایرک کو ہیزل کے ساتھ جانے دیا اس نے آدم کو یہیں رہنے دیا

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

اور وہ صرف ہیزل نہیں تھیں جس نے اسے چھوڑا تھا ، کیان نے بھی اس سے لا تعلقی کرلی ، وہ ان کے گھر گیا تو دروازے پر نازلی ملیں

” ایرک “

” نازلی آنٹی ڈیڈ گھر پر ہیں ؟ مجھے ان سے ملنا ہے”

” وہ آفس ہیں ، کیس تھا آج کوئ “

سینے پر بازو باندھے آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھا

” میں رات میں آجاؤں گا “

وہ پلٹنے لگا

” یہاں مت آنا “

” آپ مجھے میرے باپ کے گھر آنے سے نہیں روک سکتیں “

اس کے چہرے پر سختی ابھری

” کیان تم سے سارے تعلق توڑ چکا ہے”

” وہ صرف غصے میں ہیں “

” اس نے اپنی سوسائٹی میں سب سے کہہ دیا ہے کہ اس کا ایرک نام کا کوئ بیٹا نہیں ہے”

اس کے دل کو دھچکا لگا

” جھوٹ مت بولیں “

” اوہ مائے بوائے ، میں کیوں جھوٹ بولوں گی ایرک ؟ ۔۔” وہ رکیں ” سوری اب تو تم آدم ہو ، تم چاہو تو کسی سے بھی پوچھ لو “

اسے پوچھنے کی ضرورت نہیں تھی اسے معلوم تھا اُنہوں نے یہی کیا ہوگا ، بنا کچھ کہے وہ سرخ چہرے سے پلٹنے لگا جب سوزی پر نظر پڑی ، وہ بیگ اٹھائے گاڑی سے نکلتی اسی طرف آرہی تھی جب اسے وہاں دیکھ کر رکی

” سوزی….” کیسی ہو ؟” وہ مسکرایا

” ٹھیک ہوں “

” میں تمہیں لینے آیا تھا ، شاپنگ پر چلو گی ؟”

” مجھے نہیں جانا “

” سوچ لو ، میرے پاس ایک اچھی خبر ہے تو میرا دل اور والٹ دونوں فراخدلی کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں “

” میں نہیں جاؤں گی “

” تم۔۔۔۔”

” ڈیڈ نے تم سے ملنے سے منع کیا ہے ، آئندہ یہاں مت آنا “

وہ رکھائ سے کہتی اس کی دائیں طرف سے ہوتی گزر گئ ، اور آدم کیان کا دل کئ حصوں میں بٹا ، کتنے ہی لمحے وہ وہیں ساکت ٹھہرا رہا ، پیچھے دروازہ بند ہونے کی آواز آئ پھر بھی وہ وہیں ٹھہرا رہا ، چونکا تب جب کیان کی گاڑی پورچ میں رکی پھر وہ گاڑی سے اترے ، لمحہ بھر کو اسے دیکھا پھر اس کے قریب سے گزرنے لگے تو وہ ان کے سامنے آیا

” آپ مجھے نظر انداز کررہے ہیں ؟”

” میں تم سے لا تعلقی اختیار کررہا ہوں “

” آپ لوگ اتنے سنگدل کیوں ہوگئے ہیں ڈیڈ ؟”

” اسلام چھوڑ دو ہم رحمدل بن جائیں گے”

” میں یہ نہیں کروں گا “

دو ٹوک لہجہ ، اس کا دل ٹوٹا تھا لیکن ٹوٹے دل کی سلامتی کے لئے وہ اسلام نہیں چھوڑ سکتا تھا

” بہتر….” وہ پیچھے ہوئے ، اسے دیکھا پھر گیٹ کیپر کو ” یہ چلا جائے تو دروازہ بند کردینا “

اور وہ اندر کی طرف چلے گئے ، آدم وہیں ٹھہرا رہا ، وہ اُنہیں بتانا چاہتا تھا کہ وہ آج خوش تھا ، وہ یہ خوشی اپنی فیملی کے ساتھ بانٹنا چاہتا تھا ، اسے بی بی سی میں جاب آفر ہوئ تھی ، اس کا خواب پورا ہورہا تھا

لیکن روئے زمین پر اب اس کا کوئ اپنا باقی نہیں رہا تھا جس سے وہ خوشی بانٹتا ، اس نے رائن کو پچھلے ایک ہفتے میں تین بار کال کی تھی

” بزی ہوں “

” ابھی زرا باہر ہوں بعد میں بات کروں گا “

تیسری مرتبہ اس نے اٹھائ نہیں ، چوتھی مرتبہ ملانے کی بجائے اس نے رائن کا نمبر ڈلیٹ کردیا ، اس کا حلقہ احباب وسیع تھا ، آدھی یونیورسٹی اسے جانتی تھی ، آدھی یونیورسٹی اس کی دوست تھی اور اب اس کے پاس ایک بھی دوست نہیں بچا تھا ،سر اٹھا کر اس نے آسمان کو دیکھا

وہ ہر اس انسان کو کھو چکا تھا جو اسے عزیز تھا

معطر ، ہیزل ، کیان ، سوزی ، رائن ، اور کیا باقی رہا تھا اب جسے وہ کھو دیتا ؟

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اس کے چہرے پر سنجیدگی تھی ، لفٹ خراب تھی ورنہ وہ یوں سیڑھیاں چڑھنے کی زحمت نا کرتا ، علاقہ بدبودار سا تھا ، اردگرد شور اور چنگھاڑتی آوازیں ، ان سب سے بے نیاز وہ جینز پر سیاہ شرٹ پہنے ایک ہاتھ جیب میں ڈالے ایک فلیٹ کے سامنے ٹھہرتا دوسرے ہاتھ سے اب دروازہ بجا رہا تھا ، ایک دستک ، دو ،پھر تیسری سے پہلے دروازہ کھلا اور سیاہ جینز پر ڈھیلی سی ٹی شرٹ پہنے لڑکا نظر آیا ، اس کے منہ میں برش تھا جو اسے دیکھ کر نیچے گرا پھر جھاگ سے بھرا منہ کھلا ،آدم نے بدقت خود کو کچھ کہنے سے روکا

” اندر آسکتا ہوں ؟”

اسے جیسے ہوش آیا ، اپنے حلیے کو دیکھا پھر شرمندگی سے اسے

” جی ۔ جی آجائیں”

وہ برش اٹھاتا پیچھے کو ہوا ، آدم جیبوں میں ہاتھ ڈالے اندر آیا

” جا کر حلیہ درست پہلے پھر واپس آؤ ،ہمیں بات کرنی ہے”

وہ فلیٹ کو دیکھتا کہہ رہا تھا ، وہ شاید لاؤنج تھا جہاں نام کا بھی فرنیچر نہیں پڑا تھا

” آپ یہاں کیا کررہے ہیں ؟”

وہ صاف بوکھلایا ہوا لگ رہا تھا

” تمہارے ساتھ ناشتہ کرنے سے تو رہا ، جس طرح فلیٹ کی حالت ہے لگ رہا ہے تم خود صدیوں سے فاقہ کشی کررہے ہو ” بے نیازی سے تبصرہ کرتے اسے دیکھا ، آنکھوں میں ناگواری ابھری ” … براہِ مہربانی پہلے جا کر دانت صاف کرو “

بس برداشت یہیں تک تھی ،وہ اس کی بات سن کر مزید شرمندہ ہوا ، جلدی سے سر ہلاتے اندر گیا ، منہ دھویا ، شرٹ بدلی اور جب واپس آیا تو مہمان اپنے لئے ایک کرسی ڈھونڈ کر ٹانگ پر ٹانگ رکھے وہیں بیٹھ چکا تھا ، ایک کرسی سامنے بھی رکھی تھی

” بیٹھو….”

اسے اشارہ کیا تو وہ چلتے ہوئے اس کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھا

” آپ کو میرا ایڈریس کیسے معلوم ہوا ؟”

دھلے دھلائے چہرے ، کچھ سنجیدہ نظر آتا ، خوش شکل سا قدرے سیاہی مائل رنگت والا حامد رئیسی

” تم ڈائریکٹ دوسرا سوال پوچھو تو بہتر ہوگا ، میں تمہارے فلیٹ پر کیا کرنے آیا ہوں ، بلکہ تمہارے دوست کے فلیٹ پر “

” جواب بھی دے دیں اب “

وہ کچھ مرعوب لگ رہا تھا لیکن خود کو سنجیدہ ظاہر کرنے کی پوری کوشش کررہا تھا

” میرے پاس آج کل سوال بہت ہیں ، ایک سوال تم سے بھی پوچھنے آیا ہوں ” ….ٹانگ سیدھی کرتے وہ ہلکا سا جھکا ” الارا کو تم نے قتل کیا تھا یا نہیں ؟”

حامد کے چہرے پر سایہ لہرایا ، کوئ دکھ ، کوئ چھپی اذیت پھر اس نے سر جھٹکا

” آپ میرا میڈیا ٹرائل کرنا چاہتے ہیں ؟”

” ایسا ہوتا تو میں کیمرہ ساتھ لے کر آتا “

” آپ کا کیا بھروسہ ، میڈیا والے۔۔۔”

” میں یہاں اینکر پرسن آدم کیان بن کر نہیں ایک مسلمان بن کر آیا ہوں جو اپنے دوسرے مسلمان بھائ کی مدد کرنا چاہتا ہے “

وہ اب کے کچھ نرمی سے بولا تو حامد کے کاندھے ڈھیلے پڑے ، وہ کچھ دیر خاموشی سے اسے دیکھتا رہا

” میں نے اس کا قتل نہیں کیا “

” کوئ ثبوت ہے تمہارے پاس ؟”

” ثبوت ہوتا تو میں یہاں ہوتا ؟”

وہ تلخ ہوا

” تمہیں بتایا نہیں گیا کہ عدم ثبوت کی موجودگی کی بنا پر تم پر سے کیس خارج کردیا گیا ہے ؟”

” جانتا ہوں “

” پھر تم واپس کیوں نہیں جارہے ؟ تم پر سے ٹریول بین ہٹا دیا گیا ہے ، لاسٹ سیمسٹر تم پورا کرچکے ہو ، جاب یہاں تم کر نہیں رہے ، پھر یہاں رہنے کی وجہ ؟”

” میں یہاں سے تب تک نہیں جاؤں گا جب تک الارا کے قاتل نہیں پکڑے جاتے “

” تمہارا روشن مستقبل ہے یہاں خود کو برباد کرنا بے سود ہوگا ، الارا کے ڈیڈ ایک طاقتور انسان ہیں اور وہ ۔۔۔۔۔”

” سوتیلے ڈیڈ …”

وہ رکا پھر ابرو اچکائے

” سوتیلے ؟”

” وہ اس کا سگا باپ نہیں تھا “

اوہ ! وہ ایک بار پھر سے پیچھے کو ہوا

” میں نہیں جانتا تھا “

” اکثر نہیں جانتے تھے “

وہ کچھ دیر خاموشی سے اسے دیکھتا رہا

” محبت کرتے تھے اس سے ؟”

کرسی پر بیٹھا حامد کچھ دیر خاموش رہا ، چہرے پر دکھ ابھرا

” ہم شادی کرنے والے تھے ، اس کی ڈگری کمپلیٹ ہوجاتی تو وہ اسلام قبول کرلیتی ، اسے معلوم تھا پڑھائ پوری ہونے سے پہلے اس کا باپ اسلام قبول کرنے پر اس کے ساتھ کیا کرتا ، وہ خوفزدہ تھی ، ہم نے طے کیا تھا کہ شادی کے بعد ہم قطر چلے جائیں گے ، ہم نے بہت خواب دیکھے تھے ، وہ اپنے ساتھ ساتھ میرے خواب بھی لے گئ ہے “

” موو آن کرلو “

وہ کسے مشورہ دے رہا تھا ؟ کس منہ سے دے رہا تھا ؟ خود کا دل کسی کو دن رات یاد کرتا تھا اور کسی دوسرے کو مووآن کا سبق پڑھا رہا تھا

” آسان نہیں ہے “

” سمجھ سکتا ہوں “

رخ موڑ کر اس نے اس دروازے کو دیکھا جہاں سے حامد باہر آیا تھا

” تمہارا دوست کہاں ہے ؟”

” وہ دوسرے شہر گیا ہے “

آدم نے سر کو خم دیا پھر جیبوں میں ہاتھ ڈالے وہ اٹھا اور لاؤنج میں لگی واحد شیشے کی کھڑکی تک آیا

” سنان کو جانتے ہو تم ؟”

” میں اس کے ساتھ کام کرتا تھا “

وہ کچھ دیر خاموشی سے باہر دیکھتا رہا پھر حامد کو اس کی آواز سنائ دی

” الارا کے قاتل کون ہیں ؟”

” وہی پتا لگانے کی کوشش کررہا ہوں “

” تم نے میرا سوال نہیں سنا ، میں نے پوچھا الارا کے قاتل کون ہیں ؟ الارا کا قاتل نہیں ، میں جمع کا صیغہ استعمال کررہا ہوں “

حامد ٹھٹکا

” مجھے کیسے علم ہوگا ؟ “

” پھر تم نے یہ کہنے کی بجائے کہ جب تک الارا کا قتل گرفتار نہیں ہوتا یہ کیوں کہا کہ الارا کے قاتل گرفتار نہیں ہوتے ؟”

” میں صرف ایک ۔۔ایک مفروضے کی بنا پر کہہ رہا تھا ، ممکن ہے اس کا قاتل ایک شخص نا ہو ، میں خود بھی پتا لگانے کی کوشش کررہا ہوں “

آدم پلٹا ، اس کا چہرہ اب سنجیدہ تھا ، سنجیدگی کے علاوہ کچھ تھا جسے دیکھ کر حامد نے تھوک نگلا

” اور تم چاہتے ہو میں یقین کرلوں کہ تم پتا لگانے کی کوشش کررہے ہو ؟”

” میں واقعی پتا لگانے کی کوشش کررہا ہوں “

” تم پتا لگانے کی کوشش نہیں کررہے حامد ” وہ چلتے ہوئے اس کے سامنے رکھی کرسی تک آیا ، دونوں بازوں کرسی کی پشت پر رکھے ” تم جانتے ہو کہ اس کے قاتل کون ہیں “

پل بھر کو وہاں سناٹا چھا گیا ، حامد کا چہرہ فق ہوا ، آدم اسی طرح سپاٹ تاثرات سے اسے دیکھتا رہا

” میں نہیں جانتا “

” نا ہی میں شکل سے بیوقوف نظر آتا ہوں اور نا ہی میں بیوقوف ہوں ، تمہیں لگتا ہے کہ میں اس بات پر یقین کرلوں گا کہ اس چھوٹے سے ڈربے نما فلیٹ میں جہاں بنیادی ضروریات کا سامان تک نہیں ہے ، پچھلے چار ماہ سے تم خاموشی سے بیٹھ کر الارا کے قاتلوں کی گرفتاری کا انتظار کررہے ہو ؟ حالانکہ اس سے پہلے تم جس ہاسٹل میں رہتے تھے وہ بہتر حالت میں تھا “

” مجھے ۔۔۔اسکالرشپ ملی تھی ، وہ ختم ہوگئ ، وہاں کیسے رہتا ؟” اس کا لہجہ لڑکھڑا گیا

” دیٹس دا پوائنٹ ، تمہاری اسکالرشپ ختم ہوچکی ہے ، جاب تم کر نہیں رہے ، پھر وہ کیا ہے جو تم کررہے ہو ؟”

” میں صر۔…”

وہ بنا اسے بولنے کا موقع دیئے اس کی بات کاٹ گیا ” تمہارے جس کمرے سے میں یہ کرسیاں لے کر آیا ہوں وہاں کئ تصاویر لگی ہیں ، کمرے کے باہر تالا ہے ، یقیناً تم رات تک وہیں کام کرتے ہو پھر صبح بھی وہیں ہوتے ہو ، کیونکہ پورے فلیٹ میں لائٹ کا انتظام بھی صرف اسی کمرے میں کیا گیا ہے ، لیکن کیونکہ میں صبح صبح یہاں آیا ہوں تو جلدی جلدی میں تم اس کمرے کو تالا نہیں لگا سکے ، وہ تصاویر کس کی ہیں ؟”

وہ اب درشت لہجے میں پوچھ رہا تھا

” وہ میرے دوست۔۔۔”

” ان میں سے ایک میئر کا بیٹا ہے ، اتنے اونچے لوگوں سے تمہاری دوستی نہیں ہے “

اب کے وہ کئ لمحے چپ رہا ، خاموشی سے آدم کو گھورتا رہا پھر اس کا چہرہ سپاٹ ہوا

” میں ان تینوں کو قتل کرنے والا ہوں “

آدم نے گہری سانس لی پھر کرسی چھوڑتا اس کے سامنے آ بیٹھا

” الارا کے کیس سے تعلق ہے ان کا ؟”

” ان تینوں نے مل کر اسے قتل کیا ہے “

” تمہیں کیسے معلوم ؟”

” یہ اس کے یونیورسٹی فیلو تھے ، جیس ، براؤن اور رونن ، کافی وقت سے اسے تنگ کررہے تھے ، براؤن نے الارا کو پرپوز بھی کیا تھا لیکن اس نے منع کردیا ، اس کے بعد یہ اسے تنگ کرنے لگا ، ہماری آخری بار ملاقات ہوئ تو وہ بہت پریشان تھی ، میں اس رات اس کے فلیٹ گیا تھا ، اس رات ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ ہم کورٹ میرج کرلیں گے ،لیکن اگلے ہی دن ۔۔۔”

اس نے بات ادھوری چھوڑ دی ، چہرے پر اذیت ابھری

” تمہیں کیوں لگتا ہے کہ الارا کا قتل ان تینوں نے کیا تھا ؟”

” میں واپس ہاسٹل آیا تو اس کی کال آئ ، اس نے مجھے خود بتایا تھا کہ یہ تینوں اس کے اپارٹمنٹ کے باہر ٹھہرے ہیں ، میں جب تک اپارٹمنٹ پہنچا الارا وہاں نہیں تھی ، میں نے اسے پورے شہر میں ڈھونڈا ، ہر جگہ ، ہر گلی میں ، تم یہ کیفیت سمجھ سکتے ہو آدم جب کوئ آپ کو دل سے پیارا انسان مررہا ہو اور آپ جانتے ہوں کہ وہ مررہا ہے لیکن آپ اسے بچا نا سکتے ہوں , یہ کیفیت سمجھ سکتے ہو ؟”

اس کے گلے میں گلٹی ابھری ، برستی بارش ، سرخ خون ، سفید لباس والی لڑکی ، اس کی بے جان ہوتی آنکھیں ، کئ منظر زہن میں ابھرے ، وہ سامنے بیٹھے لڑکے کی کیفیت سمجھ سکتا تھا

” تم نے پولیس کو کیوں نہیں بتایا ؟”

” بتایا تھا ، میں سب سے پہلے اس کے ڈیڈ کے پاس گیا تھا ، انہیں الارا کی کال کا بتایا ، ان لڑکوں کا بتایا ، اس کے باپ نے ہی پولیس بلوا کر مجھے گرفتار کروایا تھا ، کیونکہ وہ اپنے تعلقات اپنے اونچے دوستوں سے خراب نہیں کرنا چاہتا تھا “

آدم یکدم سیدھا ہوا ، معاملہ کسی اور طرف جارہا تھا

” پولیس الارا کی تمہیں کی گئ کال کے بارے میں جانتی تھی ؟”

” ہاں “

وہ ٹھٹکا اور بری طرح ٹھٹکا

” ریپ کی تصدیق کے لئے تمہارے خون کا فرانزک ٹیسٹ کیا گیا تھا ؟”

” ہاں ۔۔۔۔۔”

” الارا کا ؟”

” ہاں “

” رپورٹ کیا آئ تھی ؟”

” نیگیٹو…..”

وہ کراہ کر پیچھے کو ہوا پھر آنکھیں میچتے دونوں ہاتھوں کو گردن پر رکھا

” لعنت ہو “

” کیا ہوا ؟”

آدم نے جواب نہیں دیا ، وہ جیسے ایک بار پھر بے یقینی کی تہہ میں اترا تھا ، تو یہ سب پلینڈ تھا ، شروع سے ، الارا کا قتل جیسے ان سب کو ایک بہانہ دے گیا تھا ، یہ سب کسی میئر کی اولاد کو بچانے کے لئے نہیں گیا تھا ، حامد کی گرفتاری الارا کے باپ کی اپنے تعلقات بچانے کی کوشش تھی لیکن آگے کا سب پلینڈ تھا ، الزام حامد پر لگا کر اسلاموفوبیا کی مہم ، ہاشم بن عبد اللہ ٹرسٹ کا نام ان سب میں لانا ، ٹرسٹ پر حملہ ، سنان کی موت ، یہ سب شروع سے طے کیا گیا تھا ، الارا کا قتل نا ہوتا تو بھی وہ کسی نا کسی طریقے سے یہ سب کرلیتے لیکن الارا گریس کے کیس نے جیسے اوپر والوں کو وہ طریقہ دے دیا جس سے وہ ہاشم بن عبد اللہ اور سنان سعدی کا کام ختم کرسکتے

” آدم ۔۔۔۔”

اس نے ضبط بھری آنکھیں اٹھا کر حامد کو دیکھا جو ناسمجھی سے اسے دیکھ رہا تھا پھر سر جھٹکا ، اب کیا فرق پڑتا تھا

” کاش تمہیں تھوڑا بہت قانون کا علم ہوتا خیر ، اب کیا کروگے ؟”

” وہی جو بتایا ہے ،میں ان تینوں کو زندہ نہیں چھوڑوں گا ،آپ پولیس کو جا کر سب بتادیں ، مجھے پرواہ نہیں”

وہ سپاٹ لگ رہا تھا ، آدم نے ایک بار پھر سر جھٹکا ، یہ صرف ایک قتل میں الجھا تھا اور یہاں بات کہاں تک پہنچ گئ تھی

” میں پولیس کو نہیں بتاؤں گا لیکن میں کسی اور کو۔ بتاؤں گا “

” کسے ؟” وہ چونکا

” تمہارے ماں باپ کو “

” ہرگز نہیں….”

وہ تیزی سے سیدھا ہوا

” اب کیوں فکر ہورہی ہے ؟ ان تینوں کو مارنے کے بعد ویسے بھی تم نے خبروں میں آنا ہے تو اُنہیں پہلے پتا چلنے دو تاکہ وہ خود کو تیار کر سکیں ” وہ جس دقت سے بول رہا تھا وہی جانتا تھا ، سر جیسے درد سے پھٹنے کو ہوا ، وہ الارا کو انصاف دلانے کے لئے ہر احتجاج میں شریک ہوا تھا ، کالمز تک لکھے تھے ، مسلمانوں کے خلاف بولا تھا ، اسی کیس کی وجہ سے معطر کو موت کی طرف جانا پڑا تھا اور وہ سب جھوٹ تھا ، سازش ؟

” میرے ماں باپ کو ان سب میں مت لائیں “

وہ سیخ پا ہوا

” ٹھیک ہے میں پھر کسی اور کو بیچ میں لاتا ہوں ، تمہارے اس عمل کا انجام جانتے ہو کس کس کو بھگتنا پڑے گا ؟ ” وہ کرسی سے ایک بار پھر اٹھا ” برطانیہ میں مقیم ہر مسلمان کو ، تم جب ان سب کو قتل کروگے تو یہ سوچنا چھوڑ دو کہ تم بچ جاؤگے ، تمہاری گرفتاری پر یہ نہیں کہا جائے گا کہ حامد رئیسی نے قتل کیا ہے ، بلکہ یہ کہاجائے گا کہ مسلمان حامد رئیسی نے کیا ہے ، ایک بار پھر سے بات مسلمانوں پر چلی جائے گی ، ایک بار پھر سے مظاہرے شروع ہوجائیں گے ، ایک بار پھر مسلمان تمہاری وجہ سے مشکل میں پڑ جائیں گے ، اور یقین کرو اس بار یہ سب زیادہ شدید ہوگا ، جن لوگوں کو تم مارنے کا سوچ رہے ہو وہ ہائ پروفائل لوگ ہیں ، بات بہت زیادہ بڑھے گی اور تمہاری سوچ سے زیادہ بڑھے گی ، تو طے کرلو حامد کہ کیا تم ایک بار پھر کسی سنان سعدی کے قتل کی وجہ بننا چاہتے ہو یا نہیں ؟”

وہ اس کی کرسی کے سامنے چلتا کہہ رہا تھا ، حامد کا چہرہ فق ہوا ، کئ لمحے وہ آدم کو دیکھتا رہا پھر اس نے سر جھکا کر دونوں ہاتھوں میں چہرہ رکھا

” میں اسے انصاف دلانا چاہتا ہوں “

” یہ صحیح طریقہ نہیں ہے ، میں اس معاملے کو پرسنلی دیکھوں گا لیکن اب میں تمہیں اپنے غصے اور انتقام کے لئے ایک بار پھر مسلمانوں کے خلاف اسلاموفوبیا کا شکار لوگوں کو محاذ کھولنے کا موقع نہیں دوں گا ، اپنے عمل سے پہلے یاد رکھنا کہ تم کس تباہی کا آغاز کرنا چاہتے ہو “

اسے احساس ہوا شاید وہ لڑکا رو رہا تھا ، آدم کو اس پر ترس آیا ، وہ اس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھا اور اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا

” وہ تمہارے نصیب میں نہیں تھی صبر کرلو “

” یہ دنیا طاقتور لوگوں کی کیوں ہے ؟ ہم جیسے مظلوم کہاں جائیں ؟”

سر اٹھاتے اس نے کہنی سے آنسو صاف کئے

” یہاں ہر شخص خود سے کمزور لوگوں کے لئے ظالم ہے حامد ، کوئ دودھ کا دھلا نہیں ہے “

اگلے کئ لمحے وہ دونوں خاموش رہے

” میں واپس چلا جاؤں گا لیکن آپ مجھ سے وعدہ کریں کہ آپ الارا کے قاتلوں کو سزا دلوائیں گے “

” میں پوری کوشش کروں گا ” اس نے سر کو خم دیا پھر اٹھا ” اسے بھول جاؤ ، یہ مقدر تھا اور یہ طے تھا “

وہ موبائل نکالتا باہر جارہا تھا جب پیچھے سے حامد کی آواز ابھری

” آپ نے کسی سے محبت کی ہوتی تو یہ نا کہتے “

وہ رک گیا ، گلے میں کچھ اٹکا

” تمہیں لگتا ہے مجھے محبت نہیں ہوئ ؟”

” ہوتی تو اتنی آسانی سے یہ نا کہتے “

” آسانی سے نہیں کہا ، ہمت سے کہا ہے “

” آپ نہیں سمجھ سکتے “

” ہاں ،میں نہیں سمجھ سکتا ” اس نے رک کر گہری سانس لی ” کیونکہ مجھے جو ہوئ وہ محبت سے زیادہ تھی ، میں تو مروں گا بھی تو اس کا خیال ساتھ لے کر مروں گا “

وہ آہستہ سے کہتے باہر کی طرف بڑھ گیا ، حامد وہیں بیٹھا رہا اس کی آنکھیں سرخ تھیں

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆