192.3K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Laa (Episode 21)

Laa By Fatima Noor

شیشے کی دیوار کے پار اسے سیاہ دھاری دار پینٹ پر سفید شرٹ میں ملبوس وہ اینکر صاف نظر آرہا تھا ، میک اپ آرٹسٹ سے چہرے پر کچھ لگواتے ہوئے وہ سامنے رکھے کاغذات بھی دیکھ رہا تھا ، ماتھے پر بل تھے اور ناک چڑھا رکھی تھی

ایرک نے بے زاری سے آنکھیں گھمائیں ، بولنا تک اسے آتا نہیں تھا اور ایٹیٹیوڈ یوں تھا جیسے پورے برطانیہ میں اس کے لاکھوں فینز ہوں

” ایرک ۔۔۔۔”

کیمرہ مین اس کے پاس کافی کا کپ لیتے آیا تو اس نے آگے ہوتے کپ لیا

” تم کل کہاں تھے ؟”

” میں نے تم سے شادی کر رکھی ہے ؟”

” کیا مطلب ؟”

” تم میری بیوی نہیں ہو اس لئے یہ مت پوچھو کہ میں کہاں تھا “

” تم سیدھا جواب نہیں دے سکتے ؟”

” نہیں ۔۔۔ میں نہیں دے سکتا “

وہ سیاہ پینٹ پر سفید شرٹ پہنے ہوئے تھا ، گلے میں ٹائ جھول رہی تھی ۔ اسے اس طرح کی ڈیسنٹ ڈریسنگ کی عادت نہیں تھی

” تم ایک بد لحاظ انسان ہو “

کیمرہ مین جیری نے افسوس سے اسے دیکھا

” میں یہ پہلی بار نہیں سن رہا “

” تمہارے اندر ڈھٹائی بہت زیادہ ہے “

” میں یہ آخری بار نہیں سن رہا “

کیا تم جانتے ہو دنیا میں اخلاق نام کی ایک شے ہوتی ہے ؟”

” میں جانتا ہوں اور وہ میرے اندر نہیں پائ جاتی ، میں پیدائشی بد اخلاق انسان ہوں ، اب تم میرا سر کھانا بند کرو اور جا کر اس ہاکس کی چاپلوسی کرو “

وہ بے زار لگ رہا تھا ، جیری بڑبڑایا پھر کپ لیتے وہاں سے اٹھ گیا ۔ ایرک نے کافی نہیں پی ۔ کرسی سے ٹیک لگا کر پیچھے کو ہوتے اس نے لیپ ٹاپ سکرین کو دیکھا ۔وہاں ایک فائل کھلی ہوئ تھی جس پر درج حروف صاف نظر آتے تھے

مسلمانوں کے خلاف بیانات ، واقعات ، انہیں شدت پسند ثابت کرنے کے لئے ہر وہ شے جو وہ ڈھونڈ سکتا تھا اس نے ڈھونڈ کر اس فائل میں جمع کی تھی ، وہ اس کی نیند برباد کرنے اور کئ گھنٹوں کی محنت کا نتیجہ تھا اور اسے یقین تھا کہ اس کا باس یہ دیکھنے کے بعد اس اینکر کو جاب سے نکال کر اس کی جگہ ایرک کو رکھ لیتا ، اپنا کیرئیر بنانے کا سنہری موقع اس کے سامنے تھا

برطانوی حکومت نے اپنی پوری قوت صرف کرکے سنان کے معاملے کو دبانے کی کوشش کی تھی ، کامیابی بہت زیادہ نا صحیح لیکن ملی ضرور تھی ، کچھ حامد رئیسی کا حوالہ استعمال کیا گیا کچھ عوام پر الزام لگایا گیا ، کچھ اِدھر اُدھر کا تڑکا اور معاملہ کچھ حد سنبھل گیا تھا ، اور اب ان کا میڈیا دوبارہ سے مسلمانوں کے خلاف مہم شروع کررہا تھا ، ایرک نے تھک کر کرسی سے ٹیک لگائ

کیا وہ صحیح کررہا تھا ؟ یہ جاب اس کا خواب تھی ۔ دن رات کھلی آنکھوں بند آنکھوں سے دیکھا جانے والا خواب ۔ اس خواب کے لئے وہ اتنی بے ایمانی تو کرسکتا تھا ۔ اتنی سی تو کرہی سکتا تھا ، بھلے اس کی رائے بدل رہی تھی لیکن وہ اتنی سی بے ایمانی تو کر سکتا تھا

” ایرک۔۔۔۔”

اس نے سر گھما کر دروازے کی سمت دیکھا ، اسٹوڈیو سے وہ اکھڑ دماغ اینکر اس کی طرف آرہا تھا وہ کچھ اکتا کر سیدھا ہوا

” جی سر۔۔۔”

” فائل تیار کرلی تم نے ؟”

اس نے سر ہلادیا

” مجھے سینڈ کردینا ، اور یہ چیزیں بھی ساتھ ڈال دینا “

وہ ایک سیاہ رنگ کی یو ایس بی اس کی طرف بڑھا رہا تھا ، ایرک نے وہ لیتے خاموشی سے سر ہلادیا ، اینکر پرسن ہاکس چلا گیا تو اس نے وہ یو ایس بی لیپ ٹاپ میں ڈالی

اسے سینڈ کردے ؟ اس کے ماتھے پر بیوقوف لکھا تھا یا اندھا ؟ اس کی دن رات کی محنت کو وہ اپنا نام دے کر آگے کردیتا اور وہ ایسا ہونے دیتا ؟ گھامڑ تھا کیا وہ ؟

اس نے منہ بناتے سر جھٹکا پھر آنکھیں گھماتے وہ فائل دیکھی ۔ ماتھے پر بل پڑے ، اسے تو اب یقین ہونے لگا تھا یہ ہاکس پتا نہیں جرنلزم کی ڈگری رکھتا بھی تھا یا نہیں ؟ ایک پروفیشنل فائل تک بنانی آتی نہیں تھی

آگے پیچھے معلومات ۔ آڑے ترچھے حروف ، یوں جیسے جلدی جلدی میں سب لکھا گیا ہو کچھ سمجھ تک نہیں آرہی تھی ، وہ تو جیسے اس کا نوکر تھا نا جو ان سب کو اکٹھا کرکے ترتیب سے لکھ دیتا

حامد رئیسی کے الارا سے تعلقات

حامد کا ہاشم بن عبد اللہ ٹرسٹ کا کارکن ہونا

ٹرسٹ کی چونکا دینے والی کاروائیاں

ہاشم بن عبد اللہ ٹرسٹ کے جھوٹے مقدمات

سنان سعدی کا کردار

سنان سعدی کی کردار کشی

اس کا نیچے کی طرف سکرول کرتا ہاتھ تھما

سنان سعدی کی کردار کشی ؟ بے زاری سے دیکھتی آنکھیں سکڑ کر فائل پر مرکوز ہوئیں ، وہ تیزی سے سیدھا ہوتا آگے کو ہوا

وہ ایک صفحے پر لکھی گئی رپورٹ تھی جس میں سنان سعدی کو مغربی معاشرے کی ہر برائ میں مبتلا دکھایا گیا تھا ، وہ کلبز جاتا تھا ، وہ پارٹیز میں شرکت کرتا تھا ،بہت اچھا مسلمان ہونے کا ناٹک کرنے والا سنان شراب بھی پیتا تھا ،لڑکیوں سے دوستی اور تعلقات بھی تھے

اس کا چہرہ سرخ پڑا پھر نظر اٹھا کر اینکر کو دیکھا ، یہ بیوقوف تھا ؟ اس رپورٹ پر کس نے یقین کرنا تھا ؟ کون اتنا عقل کا اندھا تھا جو اس طرح ہی باتوں پر یقین کرتا ۔ ہاں اگر وہ جرنلزم نا کررہا ہوتا تو ۔۔۔۔

اور اس لمحے وہ ایک ہی جگہ تھم گیا ، مغرب کا میڈیا ، تو وہ یوں یہ سب کرتے تھے ؟ یونیورسٹی میں کتابیں رٹنے اور اسائنمنٹس بنانے کے بعد وہ پہلی بار یہ سب اپنی آنکھوں سے ہوتا دیکھ رہا تھا ، اس لمحے اسے احساس ہوا گر وہ جرنلزم نا کررہا ہوتا بلکہ کسی چھوٹی سی کمپنی کا کوئ ملازم ہوتا تو وہ ان سب باتوں پر یقین کرلیتا ، وہ وہی دیکھتا جو وہ دیکھنا چاہتا تھا اور فلوقت وہ سنان سعدی سے متعلق کوئ بری خبر چاہتا جو اس کے ملک کا امیج بہتر کرسکے

گہری سانس لیتا وہ کرسی پر ٹیک لگا گیا ، سنان ایسا تو ہرگز نہیں تھا ، وہ اسے جتنا جانتا تھا وہ مر کر بھی ان سب پر یقین نا کرتا ، اس سب سے برطانیہ کے لوگوں کو بھی فرق نا پڑتا لیکن سنان کا خاندان ؟ اس کے دوست ؟ اس کے ملک کے لوگ ؟ ان سب کا کیا ؟

لیپ ٹاپ پر جمی نظریں روم میں لگی ٹی وی پر گئیں ، وہاں کوئ پاکستانی نیوز اینکر سنان سعدی کے بارے میں بتا رہا تھا ، وہ پرانا کلپ تھا اور یقیناً اس وقت شو کی تیاری کے لئے چلایا گیا تھا ۔ وہ نظریں وہیں رکھے دیکھتا رہا

سنان سعدی اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا ، وہ اس سال پاکستان ہمیشہ کے لئے شفٹ ہورہا تھا ، اپنے خاندان میں فیورٹ ، بورڈ ٹاپر ۔ خوش اخلاق ۔ موسٹ فیورٹ ۔ سنان سعدی خان

وہ ہونٹوں پر انگلیاں جمائے ٹی وی دیکھتا رہا پھر نظر لیپ ٹاپ پر گئ۔ پھر ٹی وی پر۔ پھر لیپ ٹاپ پر ، وہ چند لمحے لیپ ٹاپ کو دیکھتا رہا پھر فیصلہ کن انداز میں ٹھک سے لیپ ٹاپ بند کرتا اٹھا ، یو ایس بی نکالی اور ساتھ والے روم کا دروازہ کھولتا اندر گیا ، اندر نیوز اینکر اب صفحات دیکھ رہا تھا ، شو شروع ہونے میں چند منٹ باقی تھے

” ایرک۔۔۔ فائل سینڈ نہیں کی تم نے ؟ ایک کام دیا تھا وہ بھی ڈھنگ سے نہیں کرسکے ، اب اپنا لیپ ٹاپ آگے کرو میں خود سب دیکھ لوں ، کچھ اپنی طرف سے بھی شامل کردوں گا “

وہ اپنا لیپ ٹاپ ٹیبل پر رکھتا میز کے سامنے کھڑا ہوا

” سنان ڈرگز نہیں لیتا تھا “

” کیا ؟”

ہاکس ٹھٹھکا

” وہ شراب بھی نہیں پیتا تھا “

” ایرک ؟”

” اس نے ازلنگٹن کے کلبز ایک بار بھی اندر سے نہیں دیکھے ہوں گے “

” تم اب اسے ڈیفینڈ ۔۔۔۔”

” اس کے لڑکیوں سے تعلقات نہیں تھے “

وہ میز پر دونوں ہاتھ رکھتا جھکا ، آنکھوں میں سختی تھی

” تم تو جیسے اس کے بچپن کے دوست ہو “

ہاکس طنزیہ وہ مسکرایا

” وہ ٹرسٹ کے ساتھ منسلک تھا لیکن کسی غیر قانونی کام میں ملوث نہیں تھا ، وہ اپنے مذہب سے محبت کرتا تھا لیکن نفرت اسے عیسائیت سے بھی نہیں تھی ، وہ اپنے ملک سے وفادار تھا لیکن غداری اس نے برطانیہ سے بھی نہیں کی تھی ، یہ سب جھوٹ ہے جو تم نے اس فائل میں لکھا ہے “

” تو ؟ ہم نے تو وہی دکھانا ہے جس سے ریٹنگ آئے “

ہاکس نے ناگواری سے اسے دیکھا

” بھاڑ میں گئ تم لوگوں کی ریٹنگ ۔ اس کے کردار کی دھجیاں اڑا کر تم لوگ اپنی ریٹنگ بڑھانا چاہتے ہو ؟ “

” ہم صرف اپنے ملک کا دفاع کررہے ہیں “

ضبط سے اسے دیکھا

” اسے دفاع نہیں کیچڑ اچھالنا کہتے ہیں ، اگر دفاع کرنا تھا تو ذمہ داری سے قبول کرنا چاہئے تھا کہ ہاں یہ واقعہ اسلاموفوبیا کا تھا لیکن تم لوگ ، یہ تم لوگوں کا دوغلا چہرہ ، گھن آرہی ہے مجھے اس سے ” چبا چبا کر کہتے وہ سیدھا ہوا اور اپنا لیپ ٹاپ اٹھایا ” میں نے اپنی دن رات کی نیندیں حرام کرکے جو محنت کی ہے لعنت بھیجتا ہوں اس محنت پر لیکن میں اس سب کا مزید حصہ نہیں بنوں گا ، جہنم میں جاؤ تم سب “

وہ جھٹکے سے مڑتا پیچھے کی طرف گیا ، لیپ ٹاپ بیگ میں ڈالا ، یو ایس بی نیچے پھینکی اور چور نظروں سے اردگرد دیکھتے اس پر زور سے بوٹ رکھا، وہاں کیمرے نہیں لگے تھے ( دیکھتا ہوں کیسے شو کرتا ہے یہ )

قہر بھری نظر شیشے کے پار نظر آتے ہاکس پر ڈالیں جو اسے ہی غصے اور طیش سے دیکھ رہا تھا اور دروازہ کھولتا باہر چلا گیا ، عمارت سے باہر نکلتے اس نے موبائل نکالا اور معطر کا نمبر ملایا

“ہیلو ؟”

اس کی آواز بھاری تھی

” تم کہاں ہو معطر ؟”

” ازلنگٹن گرین پر ہوں۔۔۔۔کس لئے پوچھ رہے ہو ؟”

” مل سکتی ہو ؟”

دوسری طرف پل بھر کو خاموشی چھا گئ

” آجاؤ ۔۔۔۔”

اس نے موبائل بند کرتے ٹیکسی کو روکا ، اسے معطر کو بتانا تھا کہ وہ ٹھیک کہتی تھی یہ اسلاموفوبیا ہی تھا ، وہ اسلاموفوبیا کا ہی شکار تھا لیکن مزید ان سب کا حصہ وہ نہیں بن سکتا تھا

اسے سنان سعدی کا نام استعمال کرکے اپنے خواب پورے نہیں کرنے تھے

ایرک کیان نہیں جانتا تھا کہ سنان سعدی کا نام عنقریب اس کی زندگی بدلنے والا تھا

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

وہ اسے دور سے ہی بینچ پر بیٹھی نظر آ گئ تھی ، پتھریلی روش پہ چلتے ہوئے اس نے اردگرد دیکھا ، چند لوگ موجود تھے لیکن سردی کے باعث اکثر گھر میں ہی رہنے کو ترجیح دے رہے تھے ، روش کے دائیں بائیں اونچے لمبے درخت لگے تھے ، وہ درختوں کے بیچ سے مڑتا بینچ تک گیا سبز گھاس پر مصنوعی جھیل کے کنارے بینچ رکھا تھا ، سامنے بطخیں تیر رہی تھیں ، وہ گلا کھنکارتا معطر کے سامنے سے گزرتے بینچ پر بیٹھا ، پھر تھما ، اس کا چہرہ سرخ تھا ، آنکھیں مکمل سوجی ہوئ تھیں ، بینچ پر دونوں ہتھیلیا جمائے وہ سامنے دیکھ رہی تھی ، ان دونوں کے درمیان سرخ ڈائری پڑی تھی

” تم ٹھیک ہو ؟”

اس نے بس سر کو خم دیا

” روئ ہو ؟”

” بیس دن سے ۔۔۔”

بیس دن ۔۔۔۔ سنان کو مرے بیسواں دن تھا ، ایرک نے آگے کو ہوتے کہنیاں گھٹنوں پر رکھیں پھر رخ موڑ کر اسے دیکھا

” تمہاری آنکھیں خشک کیوں نہیں ہوتیں ؟ اس ایک کے لئے کتنا روؤگی ؟”

وہ کچھ کہے بغیر سامنے دیکھتی رہی ۔ ایرک نے سر جھٹکا ۔ اسے موضوع تبدیل کرنا چاہئے ۔ اسے معطر کو بتانا چاہئے وہ جاب چھوڑ آیا تھا کیونکہ اب میڈیا کی اس مہم کا حصہ نہیں بن سکتا تھا ۔ اس نے کچھ کہنے کے لئے منہ کھولا ہی تھا جب معطر کی آواز سنائ دی

” وہ مجھ سے محبت کرتا تھا ایرک ۔۔۔”

وہ کون ؟ اور پھر اسے احساس ہوا وہ کس کا کہہ رہی تھی ، شانے ڈھیلے پڑے

” تمہیں اب علم ہوا ؟”

” تم جانتے تھے ؟” معطر نے رخ موڑ کر اسے دیکھا

” بہت پہلے سے۔۔۔” وہ سوگوار سا مسکرایا ۔۔۔” میں بہت پہلے سے جانتا تھا ، مجھے اس کی آنکھوں نے بتایا تھا “

” ایک میں ہی نا جان سکی ۔ ہر شخص جان گیا ۔ ایک مجھے ہی علم نا ہوسکا “

اس کے آنسو پھر سے بہنے لگے ، یہ انکشاف نا ہوتا تو وہ اسے بھول جاتی ۔ اس کا غم سہہ جاتی ۔ اس انکشاف کے بعد کیسے سہے گی ؟ اس انکشاف کے بعد اس کا دل کیسے سب برداشت کرے گا ؟

” مجھے لگا تھا وہ تمہیں بتا کر گیا ہوگا “

” کاش اس کے جانے کے بعد بھی مجھے کبھی علم نا ہوتا ۔ میں یہ غم کیسے سہوں گی ؟”

سوجی آنکھیں مزید سوج گئیں ۔ روتی آنکھیں مزید رونے لگیں۔ پھٹتا دل مزید پھٹنے لگا ۔ ایرک چند لمحے اسے دیکھتا رہا

” اتنا غم کیوں ہے اس کا تمہیں ؟”

وہ یہ نا کہے کہ محبت کی وجہ سے ، وہ یہ نا کہے

” انسانیت کی وجہ سے ۔۔ میں کہہ سکتی تو اسے دوست کہتی ۔ تمہیں پتا ہے جو آپ کے لئے دوست جیسا ہو وہ آپ کے سامنے ۔۔ تم غور کرو میں سامنے کا لفظ استعمال کررہی ہوں ، وہ آپ کے سامنے مرے ، یہ کوئ کیسے بھول سکتا ہے ؟ اس کے ہاتھ سے جب جان نکلی تھی وہ ہاتھ میرے ہاتھ پر تھا ، میں اس کا غم کیوں نا کروں ؟ وہ میرے ملک سے تھا ، میں اس کا غم کیوں نا کروں وہ مجھ پر مہربان تھا “

” تم اس سے محبت کرتی ہو ؟”

” محبت ۔۔۔۔” وہ تلخی سے ہنسی ” کچھ لوگ بہت بدقسمت ہوتے ہیں ، کچھ میرے جیسے لوگ بہت بد قسمت ہوتے ہیں ، ہم جن سے محبت کرتے ہیں وہ ہمیں نہیں ملتے ، جو ہم سے محبت کرتے ہیں انہیں ہم نہیں ملتے ، اگر ہم ایک دوسرے سے محبت کریں تو ہم بچھڑ جاتے ہیں “

” تم اس سے محبت کرتی ہو معطر؟”

اسے آج اس سوال کا جواب چاہئے تھا ۔ کم از کم آج چاہئے تھا ۔ معطر چند لمحے جھیل کو دیکھتی رہی

” میں اس سے محبت نہیں کرتی تھی لیکن وہ کچھ عرصہ میرے آس پاس رہتا تو مجھے اس سے محبت ہوجاتی ۔ میں اس سے محبت نہیں کرتی تھی لیکن اگر وہ مجھے شادی کے لئے کہتا تو میں کبھی منع نا کرتی “

اس کا جواب یوں تھا کہ وہ ہاں کہتی تو تکلیف ہوتی ۔ اس نے جواب یوں دیا تھا کہ اب زیادہ تکلیف ہوئ تھی

” وہ اچھا تھا لیکن۔۔۔۔”

معطر نے اس کی بات کاٹ دی

” غم یہ ہے کہ وہ اتنا اچھا کیوں تھا ؟ میں اس سے محبت نہیں کرتی ایرک لیکن مجھے وہ یاد آتا ہے ، میں اس سے محبت کرتی تو تم سوچو میرے دل کا کیا حال ہوتا ؟”

ایرک کیان نے یوسف کا قصہ نہیں سنا تھا ، اس نے یوسف کا ںچھڑنا نہیں دیکھا تھا ۔ اس نے یعقوب کا غم نہیں سنا تھا ۔ لیکن اس نے جانا آنکھیں غم میں کیسے بینائ کھوتی ہیں۔ وہ دونوں عجیب داستان درج کررہے تھے

” تم کچھ عرصے بعد ٹھیک ہوجاؤ گی “

“ہاں میں ٹھیک ہوجاؤ گی ۔ غم کی ایک مدت ہوتی ہے۔ سال بعد ۔۔۔مہینوں بعد۔۔۔ دنوں بعد ۔۔۔انسان صبر کرلیتا ہے لیکن تم یہ بتاؤ یہ عرصہ کیسے گزارا جاتا ہے ؟ “

” تم یوں کرو کچھ دن کے لئے بریک لے لو۔ ازلنگٹن سے کہیں دوسرے شہر چلی جاؤ “

اسے یہی حل بہتر لگا

” میں یوں کرنا چاہتی ہوں کہ تمہارے ملک سے چلی جاؤں “

بہترین حل بدترین بن گیا ۔ وہ جھٹکے سے سیدھا ہوا

” کیوں ؟”

” یہاں وحشت ہے ایرک۔۔ یہاں ظلم ہے ۔۔مجھے تمہارے ملک سے خوف آتا ہے اب “

” تم سنان کی وجہ سے ایسا کہہ رہی ہو ؟ تم ایک دن اس غم سے نکل آ ؤ گی “

گویا وہ ابھی جا رہی تھی ۔ گویا وہ اسے ابھی روک لینا چاہتا تھا

” سنان کا غم پاکستان جا کر بھول جائے گا ؟وہ غم میں ساری عمر سینے میں رکھوں گی لیکن ۔۔ تمہیں پتا ہے برطانیہ کی حقیقت کیا ہے ؟ ان لوگوں نے اپنا نظام اس طرح بنایا ہے کہ انسان یہاں پھنس کر رہ جاتا ہے ۔ یہ قید خانہ ہے۔ یہاں ترقی نہیں کی جا سکتی یہاں صرف گزارا کیا جاسکتا ہے ۔ ہو گے تم لوگ ترقی یافتہ لیکن تم لوگوں کا نظام کبھی غریب کو امیر نہیں بننے دیتا۔ تم لوگوں کا نظام میرے جیسے لوگوں کے لئے نہیں ہے ۔ میں پیسے بچا بچا کر تھک جاتی ہوں ۔ میں اب تک چند پاؤنڈ تک کی بچت نہیں کرسکی ۔ پتا نہیں کیسے تم لوگوں نے یہاں قید کررکھا ہے سب کو ؟”

ایرک اسے دیکھتا رہا ۔ وہ برطانوی معیشت ۔ برطانوی پالیسیز پر ایک لمبی بحث کرسکتا تھا ۔ وہ اسے بتا سکتا تھا کہ ان کا نظام عالمی منڈی اور معیشت کے مطابق تھا ۔ وہ بچت کے سنہری اصول پر عمل کرنے والی قوم تھے ۔ وہ اسٹاک ایکسچینج سے لے کر برطانوی کمپنیز کی بچت پالیسیز کے شمار بھی بتاسکتا تھا لیکن فلوقت وہ ایک جملے میں اٹک گیا تھا

” تم پاکستان واپس چلی جاؤ گی ؟”

” میں سوچ رہی ہوں۔اب واقعی سوچ رہی ہوں ۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے کہ کسی دن میں بھی یہاں سنان کی طرح۔۔۔۔” اس نے ازیت سے سر جھٹکا ” میرے بابا میرے منتظر ہیں۔ دانیال کہتا ہے ہم کسی اور شہر چلے جائیں گے ۔ ہم بہن بھائ کی عزت نفس گوارا نہیں کرتی لیکن کسی خیراتی ادارے سے بابا کے علاج کی بات کریں گے ۔ وہ ٹھیک کہتا ہے ۔مجھے یہاں سے چلے جانا چاہئے “

ایرک اسے دیکھتا رہا

” تم پاکستان کیسے جا سکتی ہو معطر ؟”

” میرے پاس اتنی رقم تو ہے کہ میں ٹکٹ لے سکتی ہوں “

” لیکن تم کیسے جاسکتی ہو ؟”

“یہاں اب میرا دل نہیں لگتا ، وحشت ہوتی ہے “

” لیکن تم کیسے جا سکتی ہو ؟”

” تم برطانیہ کی جتنی بھی تعریف کرو میرے نزدیک یہ ملک اپنی اہمیت کھو چکا ہے ۔۔۔”

” تمہارے پاسپورٹ پر ٹریول بین ڈال دیا گیا ہے تم کیسے واپس جاسکتی ہو ؟”

اس کی چلتی زبان رکی ۔ آنکھوں میں ناسمجھی پھر حیرت پھر بے یقینی اتری۔ ایرک نے ہر تاثر دیکھا تھا

” کیا مطلب ؟”

” تمہارا نام۔۔۔۔ بلیک لسٹ میں ہے ۔ تم کچھ عرصے کے لیے برطانیہ سے باہر نہیں جاسکتیں “

وہ گلے میں ابھرتی گلٹی کے ساتھ کہہ رہا تھا

” کیوں۔۔۔ایسے کیسے ؟”

آواز کانپ گئ ۔۔۔۔ قید ؟ یکدم اردگرد گھٹن ابھری ۔ کیا وہ بھی سنان کی طرح قید ہونے والی تھی ؟

” سنان۔۔۔ سنان کے ۔۔۔کیس کی وجہ سے وہاں موجود کئ لوگوں کے پاسپورٹ پر ٹریول بین لگا دیا گیا ہے ۔ ان میں تم بھی ہو ۔ مجھے یہ بات سنان کے قانونی معاملات دیکھنے کی دوران معلوم ہوئ ۔ جب تک تحقیات مکمل نہیں ہوجاتیں تم انگلینڈ سے باہر نہیں جاسکتیں “

معطر کے اردگرد گھٹن بڑھ گئ ۔ قید کا احساس غالب آ گیا

” وہ میرے ساتھ ایسا کیسے کرسکتے ہیں ؟ میرا کیا قصور ہے ؟”

” کیس بہت پیچیدہ ہے ۔ گولی چلانے والے کا تاحال علم نہیں ہوسکا ۔ پولیس کے کام ایسے ہی ہوتے ہیں “

اس کا سر نفی میں ہلا ، ایرک نے نظریں اس کے چہرے پر سے ہٹا لیں ۔ اس کے گلے میں بار بار گلٹی ابھرتی تھی

” میں کیوں ؟ یہ غلط ہے۔۔۔ ایسے کیسے ؟”

وہ بے یقین تھی

” تم اب کچھ نہیں کرسکتیں۔۔ پولیس کے پاس جانا فضول ہوگا وہ بات نہیں سنیں گے “

” میں قید ہوچکی ہوں ؟”

سامنے ٹھہری جھیل ۔ پیچھے موجود درخت ۔ ہر شے اس کے اردگرد گھوم گئ

” کچھ عرصے کے لئے “

” یہ مت کہو ایرک ، کوئ طریقہ تو ہوگا “

ایرک کا سر نفی میں ہلا ، معطر بے یقینی سے پیچھے کو ہوئ

” ایسے مت کہو ۔۔۔”

اس کا دل ڈرنے لگا

” یہ سچ ہے ۔۔۔ میں جھوٹ نہیں بول رہا “

” کوئ تو ۔۔۔کوئ طریقہ تو ہوگا نا “

” سوائے اس کے کہ تم تحقیقات مکمل ہونے تک یہی رہو کوئ طریقہ نہیں ہے”

اس کے اردگرد گھٹن ہی گھٹن باقی رہ گئ ، یا اللہ ! یہ کیسے ؟ وہ اب کیا کرے گی ؟ اگر وہ بھی ساری زندگی یہاں قید رہی تو ؟ اس کے پاس بینچ پر رکھی ڈائری میں آخری ملاقات کا صفحہ کھلا پڑا تھا ،ایرک کو اردو نہیں آتی تھی ، آتی تو وہ پڑھ لیتا ، آخری ملاقات ادھوری رہنے کا غم وہ بھی پڑھ لیتا

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

اس نے بانو آپا سے مشورہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ پولیس کے پاس جا کر بات کرے لیکن وہ ایسا کرنے سے خوفزدہ تھی ، اگر پولیس نے اسے تحقیقات میں شامل کرلیا تو ؟ ایرک سے دوبارہ اس کی بات نہیں ہوئ تھی ورنہ اس سے ہی کوئ مشورہ کرلیتی ، اس کے اگزیمز ہونے والے تھے تو وہ مصروف ہوگیا تھا

” واپس کب آرہی ہو ؟”

” تم بھی اب بابا کی طرح ایک ہی سوال پوچھتے ہو “

وہ چڑ گئ ، بس سے وہ مرکزی لندن کی طرف جارہی تھی ، ارادہ تھا کہ عمر بھائ اور نادیہ بھابھی سے ملاقات کرے گی

” کیونکہ اب میں بھی بابا کی طرح ڈر گیا ہوں “

” کس بات سے ؟”

” سنان والے حادثے کے بعد میں نہیں چاہتا تم وہاں رہو “

اوہ سنان ! وہ کس کس کے منہ سے اس کا زکر سنے گی

” میرے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہوگا “

” اسے بھی یہی لگتا ہوگا “

” اگر موت کا وقت مقرر ہے تو تم اسے روک سکتے ہو ؟”

” تم کتنی بے رحم ہوگئ ہو “

دانیال کے لہجے میں افسوس ابھرا

” میں نے ایک شخص کو اپنے سامنے مرتا دیکھا ہے دانیال ، اسے دو گولیاں لگی تھیں ۔۔ دل میں دو گولیاں ، میں نے اسی لمحے جان لیا کہ میں اب موت سے خوفزدہ نہیں ہو پاؤں گی ، میں ابھی تک اس ایک لمحے سے نہیں نکلی ، تم سمجھ سکتے ہو کسی کے جسم سے اپنے سامنے جان نکلتے دیکھنا کیسا ہوتا ہے ؟”

وہ بس کی کھڑکی سے سر ٹکائے باہر دیکھنے لگی

” میں اسی لئے کہہ رہا ہوں کہ واپس آجاؤ “

” واپس آ کر کیا کروں گی ؟”

” ہم یہاں سے چلے جائیں گے ، بابا کہہ رہے تھے وہ سامنے والا پلاٹ بیچ دیں گے”

” اور چچا ایسا کرنے دیں گے ؟”

” کم از کم میں نہیں ڈرتا ۔۔۔”

” بابا ؟ تم جانتے ہو وہ چاچو کو سگی اولاد کی طرح عزیز رکھتے ہیں”

” سگی اولاد کی طرح عزیز رکھے جانے والے چچا نے دو سالوں میں اپنا اصل دکھا دیا ہے ۔ اب بھی تمہارے اور بابا کے دل میں ان کے لئے محبت ہے تو افسوس ہے تمہارے دل پر “

” دل پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے ، بہر حال میں دیکھتی ہوں کہ کیا کرسکتی ہوں “

بس سے اترتے اس نے کال کاٹی، اب دانیال کو کیا بتاتی کہ وہ اس ملک میں قید ہوگئ تھی

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

” تم کراؤن کورٹ یا امیگریشن پورٹل پر درخواست دائر کرو “

کچھ سوچ کر اس نے یہ مسئلہ عمر بھائی اور نادیہ بھابھی سے شیئر کیا ۔ ان کا جو دوست فراڈ کرکے فرار ہوا تھا وہ اب تک گرفتار نہیں ہوا تھا لیکن انہوں نے اب صبر کرلیا تھا ، جو میسر تھا کافی تھا ،جو نہیں تھا وہ ایک دن مل جائے گا

” اس سے مسئلہ حل ہوجائے گا ؟”

” ہاں بالکل ، تم وہاں کسی وکیل سے بھی مشورہ کرسکتی ہو ، لیگل ایڈ بعض اوقات مفت بھی فراہم کردی جاتی ہے لیکن ایک مسئلہ ہے “

” کیا ۔۔۔؟”

اس کا دل زور کا دھڑکا

” اس طرح کے معاملات بعض اوقات جلدی حل ہوجاتے ہیں اور بعض اوقات سالوں لے لیتے ہیں ” سالوں ؟ تو کیا وہ سالوں یہاں قید رہے گی ؟ وہ تو ابھی تک ٹھیک سے جانے کا فیصلہ بھی نہیں لے سکی تھی ۔ پتا نہیں ایرک سے جذبات میں آ کر کیا کیا کہہ دیا تھا ، دانیال کی بات سن کر لگا یہاں سے چلے جانا ہی بہتر رہے گا ، وہ عجیب کشمکش کا شکار تھی ، جائے یا نا ؟

” کم سے کم کتنا وقت لگے گا اور زیادہ سے زیادہ؟”

” کم سے کم تین ہفتے سے لے کر چھ یا سات ماہ تک اور زیادہ سے زیادہ ایک سال ” اس کا دل ڈوبنے لگا ، قید کا احساس غالب آنے لگا جبھی اسے نادیہ بھابھی کی آواز سنائ دی

” تم نے لیگل نوٹس تو سنبھال رکھا ہے نا ؟”

” لیگل نوٹس ؟”

وہ ٹھٹکی

” ہاں ۔۔۔عدالت کی طرف سے لیگل نوٹس یا پولیس کی طرف سے کوئ نوٹس کہ تم اب ملک نہیں چھوڑ سکتیں ۔۔۔ وہ پاس ہے ؟”

” مجھے کوئ لیگل نوٹس نہیں ملا۔۔۔”

وہ الجھی

” نہیں ملا ؟ ملا ہوگا ۔۔۔ تم نے شاید گم کردیا ہو “

” مجھے نہیں ملا بھابھی “

وہ بے چینی سے آگے کو ہوئ ، اس بار عمر بھائ کے چہرے پر ناسمجھی اور الجھن اتری

” ایسے کیسے ہوسکتا ہے ؟ اس طرح کے معاملات میں پہلے لیگل نوٹس بھیجا جاتا ہے ، تمہیں کیسے پتا چلا پھر کہ تم پر ٹریول بین لگایا گیا ہے ؟”

” مجھے کسی نے بتایا تھا “

اور پل بھر کو اس کے اردگرد ہر شے غائب ہوگئ ، ہاتھ مروڑتی انگلیاں تھمیں

” کیا بتایا ؟”

” اس نے کہا کہ پولیس نے مجھے شہر چھوڑنے سے منع کیا ہے “

وہ شل دماغ کے ساتھ بول رہی تھی۔ دور کہیں گھنٹیاں سی بجیں

” اور تم نے یقین کرلیا ؟…” عمر بھائ مسکرائے ” کسی نے مزاق کیا ہوگا معطر ، ٹریول بین کے بھی کچھ قواعد ہوتے تھے ، پولیس عدالت کو درخواست دیتی ہے پھر عدالت نوٹس جاری کرتی ہے ، بعض اوقات آپ کا پاسپورٹ بھی ضبط کرلیا جاتا ہے ، تمہیں نا نوٹس ملا نا پاسپورٹ ضبط ہوا ، یوں کسی کے کہنے پر تم کیسے یقین کرسکتی ہو ؟”

اسے نا نادیہ بھائ کی مسکراہٹ نظر آئ تھی نا عمر بھائ کی ، اس کے اردگرد کا ہر منظر رکا ہوا تھا ، ہر شے ساکت تھی ، ایرک کیان ؟ وہ ایک بار پھر اسے بیوقوف بنا گیا تھا ؟

” جس نے کہا میں اس پر یقین کرتی تھی “

اپنی ہی آواز دور سے سنائ دی

” یہاں کوئ یقین کے قابل نہیں ہے ، تمہیں خود اس بارے میں معلومات لینی چاہئے تھیں “

وہ یقین سے مات کھا گئ ، اعتبار کرنے کی سزا ملی ، اردگرد جیسے صرف اسی ایک کی آواز گونجنے لگی ، مسئلہ تو یہ تھا کہ اس نے ایرک پر اتنا یقین کر کیسے لیا ؟ کر کیوں لیا ؟ اسے اگر ان سب معاملات کا تھوڑا سا بھی علم ہوتا تو وہ اس پر یقین نا کرتی لیکن اسے ان سب سے متعلق کچھ علم نہیں تھا ، وہ لاعلمی کی موت ماری گئ تھی ۔۔۔ ہر بار کی طرح

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

اس بار اس نے کسی سے ایرک کیان کا نہیں پوچھا تھا ، نا اس بار وہ پوری یونیورسٹی میں گھومی تھی ، سرخ پڑتے چہرے کے ساتھ وہ سیدھا اس کے ڈیپارٹمنٹ گئ ، غصہ ، اہانت ، طیش ، قہر یہ سب بہت چھوٹے الفاظ تھے جو وہ اس وقت محسوس کررہی تھی ، اس کے ڈیپارٹمنٹ کے سامنے قدم رکے

وہ سامنے بیٹھا تھا ، سیاہ جینز پر بھوری جیکٹ ،نیچے گہرے نیلے رنگ کی ٹی شرٹ تھی ، کان پر پنسل گھسائ ہوئ تھی ، وہ اردگرد بیٹھے سٹوڈنٹس سے کچھ کہہ رہا تھا ، سات آٹھ لوگوں کا گروپ جو خاموشی سے اسے سن رہا تھا ، وہ بولتا تھا تو تتلیاں رقص کرتی تھیں ، وہ بولتا تو اسے خاموشی سے سنا جاسکتا تھا

” بات کرنی ہے تم سے “

بولنے والا خاموش ہوا ، دیکھتی نظر سامنے گئ ، ہلکے بھورے رنگ کے لباس میں بالوں کا گول مول جوڑا بنائے سرخ چہرے والی معطر ، جس کا دوپٹہ گلے میں تھا

” ابھی ؟”

اس کی نظر اردگرد بیٹھے لوگوں پر گئ

” ابھی ۔۔۔ اسی وقت “

” میں تھوڑا مصروف ہوں تو بعد۔۔۔۔”

” مجھے ابھی ۔۔۔۔ اسی وقت۔۔۔اسی لمحے تم سے بات کرنی ہے۔ سنا تم نے ؟”

وہ میز پر ہاتھ مارتی غصے سے بولی ، ایرک کی زبان بند ہوئ ، محتاط نظروں سے سب کو دیکھا جن کے چہرے پر ناگواری آئ تھی

” تم نے سنا نہیں وہ مصروف ہے”

ایرک کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھی کوئ لڑکی ناک بھوں چڑھا کر بولی

” میں نے ایرک سے بات کی ہے تم سے نہیں “

اس کا چہرہ اب اس قدر سرخ پڑ رہا تھا کہ اسے خود حدت محسوس ہورہی تھی ، ایرک کے اردگرد خطرے کی گھنٹی بجی ، پینسل کان سے اتارتا وہ اٹھا

” ریلیکس ۔۔۔۔ میں آتا ہوں “

آخر پر ان سب کو دیکھا اور پھر معطر کو آگے چلنے کا اشارہ کیا ، وہ غصے سے کھولتی آگے کی طرف چلی ، دائیں طرف سے گزر کر گراؤنڈ تھا ، وہاں چاروں طرف سے بیچ سے گزرنے کا راستہ بنایا گیا تھا

” گو تم نہیں سمجھتیں۔۔۔۔ لیکن میری یہاں تھوڑی بہت عزت بھی ہے “

وہ پیچھے سے محتاط انداز سے کھنکارا , معطر جھٹکے سے مڑی

” اور تم دوسروں کی عزت نفس کے ساتھ کھیلنا کب بند کروگے ایرک کیان ؟”

وہ دونوں آمنے سامنے رک گئے ، کلاس کا وقت تھا تو اکا دکا سٹوڈنٹس وہاں گھوم رہے تھے ، امتحانات کی وجہ سے اکثریت یا تو کلاسسز میں تھی یا لائبریری میں

” تم ایسا کرو اپنے ملک کی معاشی بدحالی سمیت کرپشن کا الزام بھی مجھ پر لگادو “

” میں مزاق نہیں کررہی “

” غیر سنجیدہ میں بھی نہیں ہوں “

” تم کس قدر جھوٹے ہو ایرک “

” نہیں۔۔۔ میں دھوکے باز ۔۔۔دغا باز ۔۔۔ منافق ۔۔”

” تم نے جھوٹ بولا نا کہ میرے پاسپورٹ پر ٹریول بین لگ گیا ہے ؟”

وہ غصے سے پھنکاری ، ایرک کی چلتی زبان رکی وہ چند لمحے اسے دیکھے گیا

” میں کیوں جھوٹ بولوں گا ؟ “

” تم اب بھی جھوٹ بولوگے ؟ یا میرے اللہ , تم مجھے کس قدر ذہنی اذیت دو گے ایرک ؟ مزید کس قدر ؟”

ایرک کا چہرہ سنجیدہ ہوا

” تمہیں غلط فہمی ہوئ ہے”

” غلط فہمی ؟ ایسا ہے تو ٹریول بین کا لیگل نوٹس کہاں ہے ؟ تمہیں لگا مشرقی لڑکی ہے تو بیوقوف ہوگی ، میں واقعی ہوں ، میں نے تم پر بھروسہ کرلیا ، بنا سوچے سمجھے ، اور تم ؟ تم نے یہ صلہ دیا میرے بھروسے کا ؟”

اسے غصہ تھا اور شدید تھا ، ایرک نے گہری سانس لی

” تم غلط سمجھ رہی ہو “

” میں اب تک غلط ہی سمجھتی رہی ۔۔۔ مجھے لگا تم اب مجھے تنگ نہیں کروگے ، جتنا تنگ کرنا تھا تم نے کرلیا ہوگا لیکن پھر وہی سب ، پھر وہی سب ایرک ؟”

” میں تمہیں تنگ نہیں کرنا چاہتا تھا “

” ایک اور جھوٹ ؟ کتنی بار میری عزت نفس پر وار کروگے ؟ تمہیں پوری دنیا میں اور کوئ نہیں ملا ؟”

اس کا دماغ گویا پھٹنے کو تھا

” نہیں۔۔۔ مجھے نہیں ملا “

” تمہیں مجھ پر رحم نہیں آیا ؟”

” میں نے اپنے دل پر رحم کرنا چاہا “

” الفاظ میں مت الجھاؤ مجھے “

” الجھ تو میں چکا ہوں “

” تم ۔۔۔۔” وہ ضبط سے گہری سانسیں لینے لگی ” تم اس قابل ہی نہیں ہو کہ میں تم پر بھروسہ کروں ، دفع ہوجاؤ تم “

وہ پیچھے کی طرف مڑی جب اس کی آواز آئ

” ہاں میں نے جھوٹ بولا تھا ۔۔۔۔”

اس کے قدم رکے ، دھیرے سے پلٹ کر ایرک کو دیکھا ، وہ جیبوں میں ہاتھ ڈالے اسے ہی دیکھ رہا تھا ، وہ آنکھیں ؟ وہ پہلی بار ان آنکھوں کے تاثرات دیکھ کر ٹھٹکی

” ایرک۔۔۔۔”

” میں نے جھوٹ بولا تھا معطر “

وہ دھیمے قدموں سے چلتا اس تک آیا اس کے بالکل سامنے رکا ، وہ قد میں اس سے لمبا تھا

” کیوں ؟”

” کیونکہ میں چاہتا تھا کہ تم یہاں سے نا جاؤ ۔۔۔ میں چاہتا تھا کہ تم ازلنگٹن سے نا جاؤ ۔۔ لندن سے ۔۔ برطانیہ سے “

درختوں کے بیچ سے آتی روشنی ان دونوں پر پڑنے لگی

” اور یہ کون سی غلط فہمی ہے جو مجھے ہوئ ہے ؟ تم اسے تم کیا کہو گے ؟”

اس کا طیش بڑھا ، ایرک اسے دیکھتا رہا ، کئ ساعتیں پھر ہلکا سا اس کی طرف جھکا

” میں اسے محبت کہوں گا “

آسمان کے بیچ چھپا سورج درمیان میں آیا ، بالکل عین ان کے اوپر ،معطر کا دل وہیں رکا ، وہ جانتا تھا وہ کیا کہہ رہا تھا ؟

” مزاق مت کرو “

” میں پہلی بار سنجیدگی سے اعتراف کررہا ہوں “

وہ نفی میں سر ہلاتی پیچھے کو ہوئ ، نہیں ، یہ سب غلط تھا

” ایرک ۔۔۔ “

” میں چاہتا تھا تم میرے آس پاس کے منظر کا حصہ رہو ، میں چاہتا تھا میں جس منظر کو دیکھوں تم اس کا حصہ ہو “

” کچھ مت بولنا “

اسے لگا اس کا دل رک جائے گا

” میں چاہتا تھا تم برطانیہ سے نا جاؤ ، میں چاہتا تھا تم یہیں رہو ، میرے سامنے , وہ جھوٹ تھا , میں یہ سچ بولتا ہوں “

” کچھ مت کہو “

بولنے والا آج چپ رہنے کو تیار نہیں تھا ، سننے والی آج بہری ہوجانا چاہتی تھی

” تم پر فرض ہے کہ سنو ۔۔۔۔۔ میں اعتراف کرتا ہوں میں نے جھوٹ کہا تھا کیونکہ ۔۔۔” اس نے آنکھیں بند کیں پھر کھول کر اسے دیکھا ، چند لمحے اسے دیکھتا رہا ” میں مشرق سے آنے والی لڑکی سے محبت کرتا ہوں “

اس کا دل وہیں رکا ، آنکھیں وہیں منجمد ہوئیں

” میں تم سے محبت کرتا ہوں معطر “

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆