192.3K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Laa (Episode 32)

Laa By Fatima Noor

دانیال نے اگلی صبح ہی بیٹھک کی صفائ کروادی تھی ، لیکن مسئلہ یہ ہوا کہ بیٹھک قریب دو سال سے زیر استعمال نہیں تھی لہذا وہاں نا پنکھا تھا نا سونے کے لئے کوئ جگہ ، ناچار امی کو بابا کا کمرہ دینے کے لئے راضی ہونا ہی پڑا

” اس سے کہنا شرافت سے رہے “

” کہہ دوں گا “

” نظریں نیچی رکھے “

” اوکے ” ( وہ کسی کو دیکھتا ہی کہاں تھا ؟)

” کام کرے اپنا اور جلدی جائے “

” اچھا امی “

اور وہ بچارا جسے رات سے مسلسل چھینکیں ہی آئ جارہی تھیں ، امی کے کہنے پر اس نے جوشاندہ بنا کر عون کے ہاتھوں بھجوادیا ، ناشتہ بھی صبح دانیال دے کر گیا تھا ، واپس آیا تو اچھا خاصا حیران لگتا تھا

” یہ آدم بھائ کتنے اچھے ہیں “

” ایک ہی ملاقات میں طے کرلیا ؟”

وہ اس اچھے کے برے قصے سناتی تو پھر دیکھتی دانیال کو ہنہہ

” دو سالوں سے ہر جگہ ان کو فالو کررہا ہوں، ان کو بہت اچھے سے جانتا ہوں ، تم سوچو جس کے آپ فین ہوں وہ آپ کے سامنے آجائے تو کیسا محسوس ہوتا ہے ؟”

” اتنا متاثر کیوں ہو اس سے ؟” وہ رک کر پوچھنے لگی

” تم ان کے شو نہیں دیکھتیں نا ، جتنا انہوں نے سنان سعدی والے معاملے پر بات کی تھی آدھا پاکستان تو ان کا فین ہے ، اور پھر اب بھی ان کے سوشل میڈیا پر پوسٹس دیکھو مسلمانوں کے لئے کتنا کام کررہے ہیں “

معطر نے رخ موڑ لیا ، سنان کا زکر کیفیت عجیب کرگیا تھا

” اور تم کیوں اتنا ان سے خار کھا رہی ہو ؟ جانتی تو تم بھی ہو ان کو ، خود بتایا تھا ایک دو بار “

” جانتی ہوں اس لئے روکھی ہورہی ہوں “

” اب بچارے سے تھوڑی بہت تو تڑاخ ہوگئ تھی تو ساری زندگی کیا اس بات پر ان کو برا سمجھتی رہو گی ؟”

تھوڑی بہت ؟ اس نے تلملا کر دانیال کو دیکھا ، پتا نہیں کون سا برا وقت تھا جب اس نے ایرک ( آدم معطر آدم !!!) کے متعلق دانیال کو بتایا تھا ، وہ اب ابلا ہوا انڈہ اور کافی اٹھاتا آدم کے پاس جارہا تھا ، اسے دوائ بھی دی ، لیکن اس کا زکام ٹھیک نہیں ہورہا تھا

” شام کو ہمارے گھر ڈاکٹر صاحب آرہے ہیں ان کو چیک کرالیجئے گا “

برآمدے میں بیٹھے اسے مسلسل چھینکتے دیکھ عون نے مشورہ دیا تھا ، خواتین اندر تھیں تو وہ کچھ دیر کو گرمی سے اکتا کر باہر آ گیا تھا ،پورے گھر کی صفائ مہم جاری تھی اور عون افتخار کو بھی اس مہم میں گھسیٹ لیا گیا تھا جو مارے باندھے اندر سے صوفہ نکال کر بیٹھک میں رکھ رہا تھا

” تم ایڈریس بتادو میں خود ہی چلا جاتا ہوں ڈاکٹر کے پاس “

” یہاں مفت علاج کردیں گے”

” مفت کیوں ؟”

” آپی کے رشتے کے لئے آرہے ہیں تو ہمیں متاثر کرنے کے لئے مفت ہی کردیں گے”

وہ لڑکھڑایا ، صوفہ ہاتھ سے چھوٹا اور وہ خود دھڑام سے نیچے گرا ، لبوں سے چیخ نکلی ، کچن میں کام کرتی معطر بوکھلا کر باہر نکلی ، صحن میں عون نیچے گرا تھا اور آدم اس کے ساتھ کھڑا ہاتھ بڑھائے ہوئے تھا ، وہ تیزی سے اس تک آئ

” کیا ہوا ؟”

” صوفہ بہت بھاری تھا ، میں نے دو دن سے کھانا ٹھیک سے نہیں کھایا اس لئے گرگیا “

وہ پاؤں پکڑے کراہ رہا تھا

” صبح دو پراٹھے کس نے کھائے تھے ؟”

تڑخ کر کہا ، ایک نمبر کا ڈرامے باز تھا یہ لڑکا

” آپی آپ صوفے کو دیکھیں کتنا بھاری ہے ، میرے کھانے کو کیوں نظر لگا رہی ہیں ؟”

” زیادہ چوٹ نہیں لگی “

کہنے والے کی آواز بھاری تھی ، وہ سرخ نظریں چرا رہا تھا ، معطر نے عون پر سے نظریں ہٹا کر اسے دیکھا ، ہاتھ میں ٹشو تھامے ، سرخ ناک اور تھکی آنکھیں

” تم جاکر بیٹھو میں دیکھتی ہوں “

آدم نے سر ہلادیا ، وہ برآمدے تک گیا وہاں پانی رکھا تھا ، اس کے سینے میں کچھ اٹک رہا تھا ، اس نے گلاس اٹھا لیا

” اٹھو عون ، ناٹک مت کرو”

” آپ کو ناٹک لگتا ہے ؟ ، میں گرگیا ہوں “

آدم انہیں دیکھتے پانی پی رہا تھا ( رشتہ ؟)

” گرنے سے مت ڈرا کرو ، گروگے نہیں تو اٹھنا کیسے سیکھو گے ؟ “

” اگر گرنے کے بعد میں لنگڑا ہوگیا تو ؟”

پانی اس کے منہ سے فوارے کی صورت باہر نکلا ، کھانسی کا دورہ بھی ساتھ پڑا ، معطر کو سبکی کا احساس ہوا ، کیا ضرورت تھی انگلش میں فلسفہ جھاڑنے کی

” شرافت سے اٹھو ورنہ یہی صوفہ تمہاری دوسری ٹانگ پر ماروں گی “

اب کے عون کراہتے اٹھا

” یہ دانیال بھائ سے کہئے گا رکھ دیں گے ، میں مزید نہیں اٹھا سکتا “

وہ لنگڑا کر چلتا اندر کی طرف بڑھ گیا

” عون شرافت سے صوفہ اندر رکھو “

وہ پیچھے سے چلائ ، اس نے نہیں سنا

” میں مدد کردوں ؟”

تخت پہ بیٹھے سفید ٹی شرٹ والے نے نرمی سے پوچھا تھا ،معطر ٹھٹکی

” میں خود رکھ لوں گی”

اس نے دوپٹہ سیدھا کرتے خود ہی صوفہ اٹھانا شروع کیا لیکن اسے اندازہ ہوا آدم کے سامنے یہ بہادری نہیں حماقت تھی ، وہ دھان پان سی تھی اور وہ سنگل صوفہ ٹوٹنے کے باوجود اچھا خاصا بھاری تھا ، اس سے ہلا تک نہیں ، سبکی کا احساس مزید بڑھ گیا ، لیکن پیچھے ہٹنا اب توہین تھی تو اس نے اٹھانے کی بجائے دونوں ہاتھوں سے صوفہ گھسیٹنا شروع کردیا تبھی کوئ بالکل ساتھ آ ٹھہرا

” میں رکھ دیتا ہوں “

اس کی آواز زکام کی وجہ سے بھاری تھی ، معطر کا ہاتھ تھما

” میں کرسکتی ہوں ، میں کرلوں گی “

” جانتا ہوں تم کرسکتی ہو ، تم کرلو گی لیکن میں صرف تھوڑی سی ہی مدد کررہا ہوں “

صوفہ اٹھاتے وہ بیٹھک کی طرف بڑھا ،معطر وہیں جمی رہی گئ ، یہ شخص کون تھا ؟ وہ اسے نہیں جانتی تھی ، وہ جس ایرک کو جانتی تھی وہ اِس بات پر اُس کا مزاق اڑاتا ، کئ دن تک اڑاتا ، وہ جس ایرک کو جانتی تھی اس کی آنکھوں میں شرارت ہوا کرتی تھی ، وہ بولتا تھا اور مسلسل بولتا تھا ، اور اب یوں لگتا تھا وہ بولتا ہو اور الفاظ چن چن کر بولتا ہو ۔۔۔ لندن کا باسی کہاں کھو گیا تھا ؟

وہ یہ بھول گئ کہ وہ ایرک تھا اور یہ آدم

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

” تم نے بتایا کیوں نہیں کہ تم پاکستان جارہے ہو ؟”

” مجھے لگا تھا میں اسے نہیں ڈھونڈ پاؤں گا “

” ڈھونڈ لیا ؟”

” کھو بھی دیا “

” کیا ہوا ہے ؟”

اس نے کمرے کی کھڑکی سے نظر آتے صحن کو دیکھا

” اس کا آج رشتہ ہونے جارہا ہے”

دوسری طرف کچھ خاموشی چھا گئ

” آدم …..”

” میں نے کبھی نہیں بتایا آپا لیکن مجھے تکلیف ہوتی ہے ، اس نے جن نظروں سے مجھے دیکھا میں خود سے نظریں چرا رہا ہوں ، میں نہیں جانتا تھا، میں واقعی نہیں جانتا تھا کہ میرا ایک جملہ اتنا بھاری ہوگا ، میں اسے کیسے بتاؤں آپا کہ اس ایک جملے نے میرے اندر سے کیا کیا ختم کیا ہے “

وہ درد سے بول رہا تھا ، جیسے کچھ تھا جو اندر تک ختم ہورہا تھا

” آدم ….”

” میں ایک بار اس سے بات کروں گا ، اگر وہ ناں کہتی ہے تو میں اس ناں کا احترام کرتے ہوئے واپس آجاؤں گا “

” اسے منا لو “

” وہ تو ناراض بھی نہیں لگتی “

” تم کہو تو میں آجاتی ہوں وہاں “

” آپ آجائیں لیکن میرے لئے نہیں”

” پریزے کو بتایا تم نے ؟” اُنہوں نے گفتگو کا رخ پھیر دیا ، وہ شخص اُنہیں دو سال سے واپسی کے لئے منا رہا تھا

” نہیں ، چند دن کی چھٹی باقی ہے تو پشاور سے ہو آؤں گا “

” اسے بتادو “

” بتانے سے کیا ہوگا ؟” ماتھا مسلتے وہ تھکا تھکا سا لگ رہا تھا

” دل کا اور کاندھوں کا بوجھ کم ہوجائے گا آدم “

” دل کا بوجھ اب کوئ کم نہیں کرسکتا اور کاندھوں کا بوجھ مجھے اکیلے اٹھانے کی عادت ہے ، فون رکھتا ہوں بعد میں بات ہوگی آپ سے “

اس نے کال کاٹ دی ، انگلی سے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر دبایا

ایک آخری بار ہی صحیح

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

اسے وہ گفتگو کرنے کا موقع تب ملا جب وہ کچن سے ہوتے ہوئے گیٹ کی طرف جارہی تھی ، بیٹھک کی کھڑکی گیٹ کی طرف کھلتی تھی ، وہ وہیں سے اسے دیکھتا باہر نکلا ، عون کے ہاتھ میں کچھ سامان تھا جو اس نے معطر کو دیا تھا پھر وہ واپس چلا گیا ، وہ کچھ تھکی سی لگ رہی تھی ، واپس جاتے ہوئے اسے دیکھ کر قدم رکے ، وہ بیٹھک کے دروازے میں ٹھہرا تھا

” تم مجھے دس منٹ دے سکتی ہو ؟”

معطر کے حلق میں کچھ اٹکا پھر نظر اندر کی طرف گئ ، دانیال اور امی اندر تھے ، وہ فیصلہ کن انداز میں اس کی طرف بڑھی

” پانچ منٹ “

اس نے سر ہلایا پھر غور سے اسے دیکھا ، ہلکے رنگ پہننے والی معطر صبا نے آج تیز گلابی رنگ کا سوٹ پہن رکھا تھا ، ریشمی دوپٹہ گردن میں تھا ، کوئ سادگی میں بھی اتنا پیارا کیسے لگ سکتا ہے ؟ اس نے بمشکل نظریں ہٹائیں

” جو کچھ میں نے ڈھائ سال پہلے کہا تھا وہ سچ تھا “

” کس بات کا کہہ رہے ہو آدم ؟ مجھ سے محبت کے دعوے کا یا پھر تمہارے لئے اسلام چھوڑنے کا ؟”

” میں تب نہیں جانتا تھا کہ وہ جملہ اتنا بھاری ہوگا “

جانے وہ اس ایک عورت کے سامنے ہر لفظ کیوں بھول جاتا تھا

” وہ تمہاری سوچ سے زیادہ بھاری تھا ،میں آج تک وہ ایک جملہ نہیں بھلا پائ “

” آئ ایم سوری “

” کیا یہ لفظ معنی رکھتا ہے ؟”

” نہیں رکھتا ، جانتا ہوں نہیں رکھتا لیکن میں تب اس جملے کی اذیت سے نا واقف تھا “

” تمہارے واقف ہونے سے میرے لئے کچھ نہیں بدلا …”

” تم مجھے ایک موقع دے سکتی ہو ؟”

وہ جو کچھ کہنا چاہ رہی تھی رک گئ ، اردگرد سب تھم گیا

” کیسا موقع ؟”

وہ چند لمحے اسے دیکھتا رہا

” شادی کروگی مجھ سے ؟”

اس کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں بھینچ کر روکا تھا

” آدم ….”

” میں تمہیں اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا ہوں معطر ، کیا تم مجھے ایک موقع دے سکتی ہو ؟”

” معطر…..”

ان دونوں کی نظر بیک وقت صحن کے سرے پر گئ ، معطر کا چہرہ زرد پڑا ، وہاں دانیال ٹھہرا تھا ، اس کی سخت نظریں آدم پر تھیں

” اندر جاؤ تم “

معطر نے بنا اس پر دوسری نظر ڈالے قدم اندر کی طرف بڑھائے ، دانیال اسے جاتے دیکھ آدم کی طرف آیا

” دیکھو دانیال ، میں صرف …..” ہاتھ اٹھائے احتیاط سے کچھ کہنا چاہا جب دانیال نے ٹوک دیا

” اندر آئیں میرے ساتھ “

وہ سپاٹ سا کہتا افتخار صاحب کے کمرے کی طرف بڑھا ، آدم نے گہری سانس لی پھر اس کے پیچھے گیا ، کمرے کا دروازہ کھلا تھا اور وہ اندر رکھے صوفے پر بیٹھا تھا ، کہنیاں گھٹنوں پر جما رکھی تھیں ، اسے اندر آتے دیکھ صرف ایک نظر اٹھائ تھی

” ہمارے ہاں پرپوزل دینے کے کچھ طریقے ہوتے ہیں”

وہ بیٹھ چکا تو دانیال کی کاٹ دار آواز کمرے میں گونجی

” جانتا ہوں”

” ان میں ایک یہ بھی ہے کہ بات لڑکی سے نہیں لڑکی کے گھر والوں سے کی جاتی ہے”

” یہ بھی جانتا ہوں ، میں نے مشرقی روایات حفظ کر رکھی ہیں”

” تو پھر آپ کو پہلے ہم سے بات کرنی چاہئے تھی “

آدم صوفے پر آگے کو ہوا

” میں نے مشرقی روایات میں یہ بات بھی جانی ہے کہ بات لڑکے کے گھر والے کرتے ہیں اور میرے گھر والے مجھ سے ناراض ہیں “

” تو پھر آپ کو چاہئے کہ اُنہیں منائیں اور پھر یہاں رشتہ بھیجیں “

” وہ تب تک نہیں مانیں گے جب تک میں اسلام چھوڑ نا دوں “

دانیال یکدم تھما ، چند لمحے اسے دیکھتا رہا پھر گہری سانس لی

” آپ کیا چاہتے ہیں ؟”

” جو سوال اس سے کیا وہ تم سے کررہا ہوں ، ” رک کر اسے دیکھا ” میں معطر سے شادی کرنا چاہتا ہوں”

” معطر پسند کرتی ہے آپ کو ؟”

” نہیں “

” آپ پھر بھی اس سے شادی کرنا چاہتے ہیں “

” ہاں “

” کیوں ؟”

” میں نہیں جانتا مجھے یہ بات کرنی چاہیے یا نہیں لیکن میں نے اپنی زندگی میں اس کے علاوہ کسی کا نہیں سوچا “

” یہ ناممکن کے قریب کی بات ہے “

” تم مجھے بتا سکتے ہو دانیال کہ میں اسے کیسے ممکن بناؤں ؟”

وہ بے چینی سے پوچھ رہا تھا

” ایک مسئلہ ہو تو نا ، سب سے بڑا مسئلہ معطر کی رضامندی کا ہے ، وہ راضی ہو بھی جائے تو امی نہیں مانیں گی “

” معطر سے میں بات کرلوں گا ” رک کر اسے دیکھا ” اگر تمہاری اجازت ہو تو ؟”

” ویسے تو میں بہت غیرت مند بھائ ہوں آدم کیان صاحب لیکن ٹھیک ہے یہاں معاملہ میری بہن کی زندگی کا ہے تو میں آپ کی اس سے ایک ملاقات کرواسکتا ہوں “

” شکریہ۔۔۔۔” اس نے سر کو خم دیا ” اور تُمہاری والدہ کو کیا مسئلہ ہوگا ؟”

” آپ کو شاید برا لگے لیکن ان کے لئے دو مسئلے سب سے اہم ہیں ، آپ کا انگلینڈ میں ہونا ، ہمارے خاندان سے نا ہونا وہ نظر انداز کر بھی دیں لیکن آپ کا نو مسلم ہونا وہ نظر انداز نہیں کریں گی وہ بھی اس صورت میں جب آپ کی فیملی بھی آپ سے کوئ رابطہ نہیں رکھنا چاہتی “

اس کے چہرے پر سایہ گزرا لیکن پھر سر کو خم دیا

” میں یہ اعتراض سمجھ سکتا ہوں “

” آپ کو برا لگا ؟”

” نہیں۔ یہ سچ ہے ، ٹھیک ہے کوئ بھی پیدائشی مسلمان کسی نو مسلم سے اپنی بیٹی کی شادی نہیں کرے گا ،سمجھ سکتا ہوں “

” میں انہیں راضی کرنے کی کوشش کرسکتا ہوں لیکن میں نے کہا نا یہاں ایک مسئلہ نہیں بہت سے مسئلے ہیں ” وہ اٹھ کھڑا ہوا ، آدم وہیں بیٹھا رہا ” آپ غلط جگہ کوشش کرنا چاہ رہے ہیں “

کھلے دروازے سے وہ باہر نکل گیا ، وہ تب بھی وہیں بیٹھا رہا ، اس کے چہرے پر کوئ زخم سا ابھرتا تھا

دوسری طرف اب کھلے دروازے سے صحن اور پھر صحن سے گزرتا دانیال نظر آرہا تھا ، چھوٹے سے لاؤنج سے ہوتے وہ اندرونی سیڑھیاں چڑھتا اوپری منزل کی طرف گیا ، وہاں سامنے والا کمرہ معطر کا تھا ، وہ اندر داخل ہونے سے پہلے رکا پھر دستک دی ، اندر سے فوراً دروازہ کھولا گیا ، معطر سامنے تھی ، اس کا چہرہ ابھی تک زرد تھا

” کیا کہا اس نے تمہیں ؟”

” تمہارا رشتہ مانگا ہے “

چہرے کی زردی سرخی میں تبدیل ہوئ

” تم نے کیا کہا ؟”

” میں نے کہا یہ ممکن نہیں ہے ” وہ اب بیڈ پر بیٹھ رہا تھا

” ٹھیک کہا “

وہ کچھ مطمئن ہوئ

” اگر میں ایک آذاد خیال انسان نا ہوتا اور اس کی جگہ کوئ اور ہوتا تو میں اس کی ہڈیاں توڑ دیتا “

” اتنے تم پہلوان ، منع کردیا کافی ہے”

” لیکن میں نے دل سے منع نہیں کیا “

” کیا مطلب ؟” وہ ٹھٹکی

” اگر مجھے انتخاب کا موقع دیا جائے تو میں تمہارے لئے آدم کیان کو منتخب کروں گا معطر “

” تم اسے نہیں جانتے دانیال “

” تمہیں لگتا ہے صرف تم اسے جانتی ہو ؟”

” میں نے چھ ماہ ازلنگٹن میں اسے جانا ہے “

” جسے تم جانتی ہو وہ ایرک کیان تھا جسے میں جانتا ہوں وہ آدم کیان ہے ، فرق ہے معطر “

وہ لمحہ بھر کو بالکل چپ رہ گئ پھر سر جھٹکا

” اس نے کہا تھا وہ میرے لئے اسلام قبول کرلے گا ، اب اس کا اس طرح یہاں آنا اور کیا ثابت کرتا ہے ؟”

” اگر اس نے تمہارے لئے اسلام قبول کیا تھا تو وہ دو سال تک کیوں نہیں آیا ؟”

” مجھے نہیں معلوم ….” وہ جھنجھلائ ” اس سے کہو یہاں سے چلا جائے “

” پھر تم ڈاکٹر احمد کے لئے ہاں کردو “

” تم مجھے بلیک میل کررہے ہو ؟”

” بالکل ….”

” دانیال ” اسے صدمہ ہوا

” میری بات سنو معطر ….” وہ اس کے سامنے آیا اور اس کا ہاتھ تھاما ” میں اس گھر کا بڑا مرد ہوں ، بابا کے بعد اس گھر کا سربراہ میں ہوں ، تم دنیا ، لوگ ، ہر چیز سے بے فکر ہوکر تسلی سے سوچو اور مجھے بتاؤ ، اگر تم آدم کے لئے راضی ہو تو بخدا میں پوری دنیا سے لڑ لوں گا “

” تم کیا چاہتے ہو ؟” وہ اسے بھائیوں والا مان دے رہی تھی

” فیصلہ میں نے نہیں تم نے کرنا ہے لیکن اگر تم مجھ سے پوچھو تو میں چاہوں گا کہ ایک بار آدم کے بارے میں سوچ لو ، میں ڈاکٹر احمد کی فیملی کو منع کردوں گا فی الحال آنے سے “

وہ نرمی سے کہتا پلٹا پھر دروازے سے باہر نکل گیا ،معطر تھک کر بیڈ پر بیٹھی ، وہ آیا تھا تو مُشکلیں ساتھ لے کر آیا تھا

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

لاؤنج میں داخل ہوتے اس نے پٹخ کر ٹیبل پر وہ دو کاغذ رکھے اور شرٹ کا اوپری بٹن کھولا ، صوفے پر بیٹھ کر موبائل پر کچھ دیکھتی رضیہ خاتون نے چونک کر سر اٹھایا پھر نظر ان لفافوں پر گئ

” ان میں کیا ہے ؟”

” دیکھ لیں “

وہ اب صوفے پر بیٹھ رہا تھا ، ٹانگ پر ٹانگ رکھے صوفے کے ہتھے پر انگلی بجائ ، چہرہ بے تاثر تھا ، اس کی دائیں طرف بیٹھی رضیہ نے اچھنبے سے لفافہ کھولا، اوپر سے نیچے تک دیکھا پھر ابرو اچکائے

” تم نے کیس کردیا ہے ؟”

” حسن ماموں نے کیا ہے”

” اور میں تو جیسے جانتی ہی نہیں ہوں کہ حسن کو شہہ کس نے دی ہے”

تیمور نے کاندھے اچکائے

” میں نے صرف تھوڑا بہت پیسہ خرچ کیا ہے ، دو سال بہت تھے اُنہیں سمجھانے کو “

” تم سمجھا تو نہیں رہے تھے “

” میں ڈرا رہا تھا “

” معطر کو ؟”

” معطر کو …” اس نے سر کو خم دیا ” لیکن میرا خیال ہے وہ لفظوں سے ڈرنے والی لڑکی نہیں ہے تو اب کورٹ کی راہداریوں میں ملاقات ہوگی “

” جو کرنا ہے کرو ” اُنہوں نے ہاتھ جھلایا گویا بے وہ بے زار تھیں ” لیکن اب جا کر نازنین کو واپس لے آؤ، دو ماہ ہوچکے ہیں اسے گئے ہوئے “

تیمور کے تاثرات بگڑے

” میرے سامنے اس کا نام مت لیا کریں “

” بیوی ہے تمہاری”

” وہ بیوی جو مجھے دو سال میں اولاد تک نہیں دے سکی “

” تو ڈاکٹر کو چیک کروایا تو ہے ، یہ دیر اللہ کی طرف سے ہے “

” ایک سال سے ہسپتال کے چکر لگا رہے ہیں ہم دونوں اور آپ جانتی ہیں کہ مجھے ہسپتال میں خوار ہونا پسند نہیں ہے ، اس سے کہیں اب یہ امید مت رکھے کہ میں واپس لینے جاؤں گا “

وہ سگریٹ جلاتا ہونٹوں سے لگا رہا تھا

” تو کیا کرو گے اس کے بغیر ؟”

” اس کے بغیر ؟ میں اس کے ساتھ بھی خوش نہیں تھا “

” دیکھو بچے ، رنجشیں ہر جگہ ہوجاتی ہیں ، ان چھوٹی چھوٹی باتوں پر تعلقات خراب تو نہیں کئے جاسکتے نا “

” تعلقات ختم ضرور کئے جاسکتے ہیں “

” یہ بہت بڑی بات ہے تیمور “

انہوں نے کچھ سختی دکھانی چاہی

” رکیں ابھی امی ، میں آپ کو ایک اور بڑی بات بتاتا ہوں ” سر صوفے کی پشت پر رکھے اس نے دھواں فضا کے سپرد کیا ” میں معطر سے شادی کرنے جارہا ہوں “

دھواں ہوا میں تہلیل ہوا ، آہستہ سے ، دھیرے سے ، پھر مکمل غائب ہوا ، تیمور کی نظر دائیں طرف رکھے صوفے پر بیٹھی رضیہ پر گئ جو ساکت اسے دیکھ رہی تھیں

” تیمور ….”

ان کی آواز بے یقین تھی

” آپ کو شاید یقین نہیں آیا ،میں دوبارہ اپنی بات دہرادیتا ہوں ، میں معطر صبا سے شادی کرنے جارہا ہوں “

وہ پُرسکون لگ رہا تھا

” مزاق بھی وہ کرو جو برداشت ہوسکے “

وہ جھٹکے سے اٹھیں

” آپ کو اتنی بڑی بات مزاق لگ رہی ہے ؟”

” گھٹیا مزاق ، ایسے کیسے شادی کروگے اس سے ؟”

” قاضی کو بلا کر نکاح پڑھوادیں گے ، قصہ ختم “

یوں جیسے چٹکیوں کی بات تھی ، لمحوں کا قصہ تھا ، رضیہ کا تنفس تیز ہوا ، غصہ ابل کر باہر آیا

” اور نازنین کا کیا کروگے ؟ بیوی ہے وہ تمہاری “

” آپ نے دوسرا لفافہ نہیں کھولا ؟”

وہ اب بھی صوفے پر سکون سے بیٹھا تھا ، رضیہ کے زہن میں کوئ الارم سا بجا ، دوسرا لفافہ ؟ نظر میز پر گئ ، وہ بے یقینی سے لفافے تک آئیں اور اسے چاک کیا ، سفید کاغذ جس پر سیاہ حرف درج تھے ، ان کی نگاہیں اوپر سے نیچے تک گئیں ،لب بے یقینی سے کھلے ، پھر تیمور کو دیکھا جو خاموشی سے انہیں دیکھ رہا تھا

” تم ۔۔۔ تم نے نازنین کو ۔۔۔طلاق دے دی ؟”

ان کی آواز صدمے سے عجیب طرح نکلی

” میں نے نازنین کو طلاق دے دی امی ، بالکل صحیح پڑھا آپ نے “

” یہ کیا کیا تم نے۔۔۔۔”

ان کے پاس جیسے الفاظ ختم ہوگئے تھے ، تیمور صوفے سے اٹھا ، سگریٹ نیچے پھینکی

” مجھے اس کا حق تھا ، وہ عورت میرا ذہنی سکون برباد کررہی تھی میں نے وہی کیا جو مجھے ٹھیک لگا ۔ اور اب آپ مامی کے پاس جائیں گی اور میرے اور معطر کے رشتے کی بات کریں گی “

” میں ایسا ہرگز نہیں کروں گی” وہ چیخیں

” سوچ لیں امی ، مجھے اپنی بات منوانی آتی ہے”

” کیا کروگے تم ؟ ہاں کیا کروگے ؟ میں مرجاؤں گی لیکن معطر سے تمہاری شادی نہیں ہونے دوں گی”

” پھر آپ یہ بھی سن لیں کہ میں معطر سے شادی کروں گا اور ضرور کروں گا “

اس کی آنکھیں اور لہجہ باغیانہ ہوگیا ، رضیہ کو کئ لمحے یقین نہیں آیا کہ یہ وہی تیمور تھا جو ان کے صرف ایک بار کہنے پر چار سال پرانی منگنی توڑ آیا تھا

” تم ایسا نہیں کروگے “

ان کا سر نفی میں ہلا

” میں ایسا کروں گا اور میں دیکھتا ہوں مجھے کون روکتا ہے”

وہ سگریٹ پر پاؤں مارتا باہر کی طرف جانے لگا جب رضیہ یکدم اس کے سامنے آئیں

” تیمور ، ایسے کیسے اس سے شادی کروگے ؟ وہ وہی لڑکی ہے جس سے تم نفرت کرتے ہو “

” نفرت؟ ۔۔۔” وہ جھٹکے سے رکا ” میں بھی خود کو یہی کہہ رہا تھا امی ، آپ کو پتا ہے مجھے خود آج تک سمجھ نہیں آئ یہ کیا ہے ، میں کبھی کبھی پچھتاتا ہوں امی ،بہت زیادہ ، دیکھیں ماموں صرف چھ ماہ بعد مر گئے ، کیا ہوتا اگر میں چھ ماہ رک جاتا ، کیا ہوتا اگر آپ چھ ماہ رک جاتیں، ہاجرہ کے نام پر بلیک میل کیا تھا آپ نے مجھے ، اب ہاجرہ کو دیکھیں جا کر ، وہ اپنے گھر میں کتنی خوش ہے ، مجھے دیکھیں میں خوش نظر آرہا ہوں آپ کو ؟ آپ نے میری زندگی برباد کردی “

وہ چیخ رہا تھا ،جس ماں کے سامنے اس کی آواز بلند تک نہیں ہوتی تھی وہ اس پر چیخ رہا تھا ، رضیہ صدمے سے وہیں جم گئیں

” تیمور ۔۔۔۔”

” مائیں آپ جیسی ہوتی ہیں کیا ؟ میں نے بتایا تھا میں اسے پسند کرتا ہوں ،بتایا تھا نا امی ؟ پھر بھی آپ نے کہا نازنین سے شادی کرلو ، میں نے کرلی ، میں چابی والا گڈا بن گیا جو صرف آپ کے اشارے پر چلتا رہا ، پر دیکھیں میں نے وہ تاریں نکال دی ہیں ، اب آپ مجھے کنٹرول نہیں کرسکتیں “

ان کے پاس الفاظ ختم ہوگئے ، تیمور انہیں سننا بھی نہیں چاہتا تھا

” آپ کو پتا ہے میں پاگل ہوتا جارہا ہوں امی ، میں ایک دن سوچتا ہوں معطر کو پوری دنیا میں رسوا کروں گا ، اگلے دن مجھے احساس ہوتا ہے میں تو اس سے محبت کرتا ہوں ، میں سوچتا ہوں اس سے شادی کرکے اسے چھوڑدوں گا لیکن مجھے پتا ہے میں ایسا نہیں کروں گا ، میں اسے ساری زندگی اذیت دوں گا پھر بھی اپنے ساتھ رکھوں گا ، اس کے بہت سے قصور جمع ہیں میرے پاس، وہ ساری زندگی میرے ساتھ اذیت میں رہے گی لیکن میرے ” ساتھ “رہے گی ، یا میرے اللہ ، امی میرا دماغ درد سے پھٹا جارہا ہے “

” ایسا مت….”

” میں کیا سے کیا بن گیا ہوں امی ؟ میں نے اپنی اِنسانیت بھی کھو دی ہے ، آپ دیکھیں میرے پاس دولت ہے ،گھر ،گاڑی ،ہر شے لیکن وہ نہیں ہے ، آپ کو پتا ہے میں نے اتنی دولت کیسے اکٹھی کی ؟ میں نے اپنے اندر کا انسان مار دیا ہے ، آپ کو پتا ہے میں نے اتنی اذیت کہاں سے اکٹھی کی ؟ آپ نے میرے اندر کا تیمور مار دیا ہے “

اس کی آنکھیں نم ہوئیں ، رضیہ صدمے سے جم گئ تھیں

” اور نہیں امی ، آپ نہیں جائیں گی تو ٹھیک ہے میں خود معطر سے بات کروں گا ، مجھے معلوم ہے وہ نہیں مانے گی لیکن میں اسے راضی کرلوں گا ، وہ پھر بھی نا مانی تو میں اسے دھمکی دوں گا ، اس نے مجھ سے شادی نا کی تو اس کا گھر چھین لوں گا ، وہ بہت بہادر بنتی ہے لیکن وہ اندر سے آج بھی کمزور ہے ، صرف ایک دھمکی امی اور وہ اپنے باپ کے گھر کے لئے ،اپنے گھر والوں کے لئے ہار جائے گی ،میں اسے جانتا ہوں “

اس کی آنکھیں اب سرخ پڑ رہی تھیں

” تیمور ۔۔یہ مت کرو “

” کیوں ؟ میں کیوں خوش نا رہوں ؟ میں کب تک آپ کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنوں ؟ کب تک امی ؟ وہ واحد خوشی تھی جو میرے پاس تھی ، وہ واحد محبت تھی اور آپ نے اسے بھی مجھ سے چھن جانے دیا ، جتنا قصور افتخار ماموں کا ہے اتنا آپ کا بھی ہے ، میں انہیں جا کر باتیں سنا سکتا ہوں آپ کو نہیں ، لیکن اور نہیں ، آپ اب مجھے اپنی مرضی پر نہیں چلائیں گی ، میں نے کہا میں معطر سے شادی کررہا ہوں تو کررہا ہوں ، آپ روک کر دکھائیں مجھے “

سخت آنکھوں سے چبا چبا کر کہتے وہ میز کو ٹھوکر مارتا باہر کی طرف بڑھ گیا ، رضیہ اب بھی کسی مجسمے کی مانند وہاں ٹھہری تھیں

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

دانیال نے ساجدہ کو سب بتادیا

” وہ اس سے شادی کرنا چاہتا ہے”

” اور تم یہاں بیٹھ کر مجھے بتارہے ہو ؟ فوراً اسے گھر سے جانے کا کہو “

وہ سیخ پا ہوئیں

” اس نے عزت اور شرافت سے رشتہ مانگا ہے امی “

” یہ کیسی عزت اور شرافت ہے کہ جن کے گھر مہمان بن کر رہ رہا ہے ان کی ہی بیٹی پر نظر رکھی ہوئ ہے ؟” وہ غصے سے کہہ رہی تھیں

” وہ اسے لندن سے جانتا ہے”

” یعنی اس کے پیچھے پیچھے یہاں تک آیا ہے؟”

اُنہیں مزید صدمہ ہوا

” اس کے پیچھے نہیں آیا ، اتفاقاً ملاقات ہوگئ ہے”

وہ تحمل سے سمجھا رہا تھا ، معطر آنکھیں میچے کمرے کے باہر ٹھہری تھی ، اسے اندازاہ نہیں تھا کہ وہ امی کو بتا دے گا

” تو اب اس حرکت پر پھول پہناؤں اسے ؟”

” امی ، آپ کو مسئلہ کیا ہے آدم بھائ سے ؟”

” ایک مسئلہ ؟ ہزاروں ہیں “

” پہلا بتائیں”

” وہ نو مسلم ہے “

سب سے بڑا اعتراض

” دو سال ہوچکے ہیں انہیں اسلام قبول کئے ، اور ہم میں سے تو کئیوں سے بہتر ہیں ، آپ نے خود دیکھا ہے دو دن میں ، ساری نمازیں پڑھتے ہیں ،نیک ہیں ، اخلاق اچھا ہے اور کیا چاہئے ؟”

اس کے نزدیک گویا یہ اعتراض تھا ہی نہیں

” کیا معلوم ہمارے سامنے نیک بن رہا ہو “

” بہت اچھے ، آپ ایسا کریں بانو خالہ سے پوچھ لیں ، دو سال سے جانتی ہیں وہ آدم بھائ کو ، ان کے سامنے بھی دو سال سے اچھا بننے کا ڈرامہ کررہے ہوں گے ؟”

” کل کو اگر وہ اسلام سے پھر گیا تو ، گمراہ ہوگیا پھر ؟”

” نہیں پھریں گے ، جن کو اللہ نے چن کر ہدایت کی راہ پر ڈالا ہے آپ اُنہیں کیسے گمراہ کہہ سکتی ہیں ؟”

” اس کے ماں باپ بھی ساتھ نہیں ہیں “

دوسرا اعتراض

” وہ انہیں اسلام قبول کرنے کی وجہ سے ہی چھوڑ گئے ہیں “

” تو کیا ایسے ہی ایرے غیرے کے ساتھ بیاہ دوں اپنی بیٹی کو ؟ لوگ کیا کہیں گے ؟ ماں باپ میں سے ایک ہی ہوتا تو بھی سوچ لیا جاتا یہاں تو دونوں ہی اس کے ساتھ نہیں ہیں “

” وہ انہیں منا لیں گے “

وہ کچھ چڑ گیا

” منا لے لیکن میں معطر کی شادی اس سے نہیں کروں گی “

” ابھی کہا ہے نا بانو آپا بھی جانتی ہیں انہیں ، آپ ان سے تسلی کرلیں “

” جب رشتہ ہی نہیں کرنا تو تسلی کیسی ؟”

” آپ جن لوگوں سے ڈر رہی ہیں نا اچھی طرح جانتا ہوں ، یہ جن رشتے داروں کی باتوں کی آپ پرواہ کررہی ہیں کل کو معطر کو کسی لنگڑے کے ساتھ بیاہ دیں ایک اعتراض تک نہیں کریں گے ، زندگی معطر کی جہنم بنے گی ، آپ کے رشتے داروں کو فرق نہیں پڑے گا ، اپنی اولاد کو کیوں معاشرے کی خوشی کے لئے قربان کررہی ہیں ؟”

ساجدہ کچھ غصے سے اسے دیکھتی رہیں

” معاشرے کا سبق مت پڑھاؤ مجھے ، میں پہلے ہی بتاچکی ہوں مجھے سو سو اعتراض ہیں ، اگر یہ سب نا ہوتے تو بھی بات تھی ،میں کلیجے پر پتھر رکھ کر اسے دوبارہ اس ملک بھیج دیتی لیکن یہاں تو سرے سے بات ہی نہیں بن رہی ، اس سے کہو سامان اٹھائے اور جائے یہاں سے “

وہ غصے سے اٹھیں اور کمرے سے نکل گئیں ، معطر ان سے پہلے باہر جا چکی تھی ، اس کا رخ بابا کے کمرے کی طرف تھا ، دروازہ کھلا تھا کھلے دروازے سے اندر بیڈ پر لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھا آدم نظر آرہا تھا ، وہ سیخ پا ہوکر اس کے سر پر پہنچی

” دانیال کو کیا پٹی پڑھائ ہے تم نے ؟”

اس نے چونک کر سر اٹھایا

” کیا ہوا ؟”

” ایسا کیا کہا ہے تم نے اس سے کہ وہ تُمہاری حمایت میں امی تک سے لڑرہا ہے ؟”

اس کا چہرہ غصے سے سرخ پڑرہا تھا

” میں نے کچھ نہیں کہا سوائے اس کے کہ میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں “

وہ بیڈ سے اٹھتا اس کے سامنے آیا

” میں نے تمہیں منع کردیا تھا “

” تم نے ایرک کو منع کیا تھا اس مرتبہ یہ سوال آدم نے کیا ہے “

” مجھے پھر بھی تم سے شادی نہیں کرنی چاہے تم ایرک ہو یا آدم “

” وجہ جان سکتا ہوں ؟”

” نہیں کرنی تو بس نہیں کرنی ،بہتر ہے یہاں سے چلے جاؤ “

وہ اسی غصے سے پلٹتی جانے لگی جب پیچھے سے اس کی آواز آئ

کیا تم واقعی مجھے ایک موقع نہیں دے سکتیں معطر ؟ میں بدل گیا ہوں ، ہاں ٹھیک ہے میں نے ماضی میں بہت کچھ غلط کیا ہے لیکن میں اب واقعی میں بدل گیا ہوں “

وہ پلٹی

” نہیں ۔ میں تمہیں موقع نہیں دے سکتی ، میں نے بانو آپا سے جھوٹ کہا تھا کیونکہ میں چاہتی تھی کہ تم میرے پیچھے نا آؤ ، میں اب بھی یہی چاہتی ہوں کہ تم یہاں سے چلے جاؤ ، میں تمہارے سوال کا جواب وہ نہیں دے سکتی جو تم چاہتے ہو “

” لیکن کیوں ؟” وہ بے بس ہوا

” ہم مشرقی لڑکیوں کی بڑی مجبوریاں ہوتی ہیں آدم کیان صاحب ، ہمیں معاشرے کی بنائ گئ حدود میں رہنا پڑتا ہے ، ہمارا مستقبل صرف ہم نہیں پورا معاشرہ طے کرتا ہے ، اور جس معاشرے کا حصہ میں ہوں وہاں تم میرے معاشرے کے تقاضے پر پورے نہیں اترتے “

” میں اس معاشرے سے لڑ سکتا ہوں “

” اور میں تمہیں اس کی اجازت نہیں دوں گی ، بہتر ہوگا تم واپس چلے جاؤ “

” اگر میری جگہ سنان یہاں ہوتا تو کیا تم اسے منع کرتیں ؟”

وہ کیوں کرتا تھا ایسے ؟ وہ کیوں اپنا موازنہ اس سے کرتا تھا ؟ معطر کے گلے میں ڈھیروں آنسو اٹکے

” وہ یہاں نہیں ہے “

” اگر وہ یہاں ہوتا معطر ، اگر سنان یہاں ہوتا اور تمہیں انتخاب کا موقع دیا جاتا تو تم مجھے منتخب کرتیں یا سنان کو ؟”

وہ کئ لمحے اسے دیکھتی رہی ، چپ چاپ، پھر گہری سانس لی

” میں سنان کو منتخب کرتی “

وہ بنا اس پر دوسری نظر ڈالے آگے بڑھ گئ ، اس نے پیچھے ٹھہرے لڑکے کی آنکھوں کو نہیں دیکھا تھا ، اس نے ان آنکھوں میں درج ہوتی اذیت نہیں دیکھی تھی ، اس نے نہیں دیکھا تھا کہ پیچھے ٹھہرے لڑکے کے چہرے پر کسی نے وہ اذیت انڈیلی تھی جو کسی کا دل نکالنے سے ہوتی ہے

ہاں ٹھیک ہے اسے معلوم تھا جواب یہی ہوگا تو پھر اپنے دل پر یہ ظلم کیوں ؟ وہ جانتا تھا ، وہ ہمیشہ سے جانتا تھا کہ جب انتخاب کا موقع آیا تو معطر صبا کبھی بھی اسے منتخب نہیں کرے گی پھر کس امید پر اس نے یہ سوال پوچھا تھا ؟

وہ ہزاروں لاکھوں لوگ کا پسندیدہ تھا لیکن وہ اپنی پسندیدہ عورت کے دل سے اپنے لئے نفرت نہیں نکال سکتا تھا ، اس کے پاس ہر کام کے لئے ہزاروں انتخاب تھے لیکن وہ خود کو اپنی پسندیدہ عورت کا انتخاب نہیں بنا سکتا تھا ، وہ جب بولتا تھا تو نظریں اس پر جم جاتی تھیں اور وہ ایک عورت اس کے ہر لفظ کو کھینچ کر لے گئ تھی ، اتنی شہرت کا کیا فائدہ ؟ دل تو پھر بھی خسارے میں رہا تھا

کمرے سے باہر نکل کر دیکھو تو معطر اب چھوٹے سے لاؤنج سے ہوتی سیڑھیوں کی طرف جارہی تھی جب لاؤنج میں بیٹھے دانیال کو دیکھ کر رکی

” دانیال …”

اس نے بے ساختہ سر اٹھایا پھر معطر کی آنکھوں کو دیکھا

” اس سے کہو یہاں سے چلا جائے ، مجھے اس کی آنکھوں سے خوف آتا ہے”

” کیسا خوف ؟”

” وہ ان آنکھوں میں جو محبت بھر کر لایا ہے وہ مجھے خوفزدہ کررہی ہے ، تمہیں اللہ کا واسطہ اس سے کہو چلا جائے “

اس کی آواز بھرا گئ ، قدم اوپر کی طرف بڑھ گئے ، دانیال کئ لمحے وہاں بیٹھا رہا پھر دھیرے سے اٹھتے سب سے پہلے کمرے کی طرف بڑھا ، دروازہ کھلا تھا ، اس کے قدم دروازے پر رک گئے ، سامنے بیٹھا شخص کسی تھکے ہارے انسان کی طرح بیٹھا تھا ، اس کا سر جھکا ہوا تھا

” آدم بھائ “

آدم نے سر اٹھایا ، لمحے بھر کو دانیال وہیں تھم گیا ، اس کی آنکھوں کا کونہ نم تھا ، دانیال کو دیکھتے اس نے گیلی سانس اندر اتاری

” اس نے کیا کہا ہے ؟”

آدم اٹھ کر اپنے بیگ کی طرف جارہا تھا

” تمہاری بہن کبھی مجھے منتخب نہیں کرے گی دانیال “

” اس نے منع کردیا ؟”

” میں جانتا تھا وہ یہی کرے گی اور میں نے سوچا تھا کہ وہ منع کرے گی تو میں اس کی زندگی سے چلاجاؤں گا لیکن ” وہ بیڈ پر بیٹھا دانیال چلتے ہوئے سامنے آ ٹھہرا تھا” لیکن وہ کمرے سے گئ ہے تو میں نے جان لیا کہ وہ میری زندگی سے چلی گئ تو میرے پاس تو کچھ باقی ہی نہیں رہے گا “

دانیال سامنے ٹھہرا اسے دیکھتا رہا ، وہ دو دن سے سوچ رہا تھا ، دو دن سے فیصلہ نہیں لے پارہا تھا لیکن اس ایک لمحے میں جیسے اس نے طے کرلیا تھا

” آپ کی فیملی یہاں نہیں آ سکتی ؟”

” وہ لوگ مجھ سے کوئ رابطہ نہیں رکھنا چاہتے “

” کوئ تو ہوگا آدم بھائ ، فیملی میں کوئ ؟ کوئ رشتے دار ؟ کوئ تو “

” کوئ نہیں ہے…” وہ لمحہ بھر کو رکا ” سوائے چند لوگوں کے “

” کون چند لوگ ؟”

” وہ میری فیملی نہیں ہیں ، فیملی جیسے ہیں اور میں انہیں ان سب میں نہیں لانا چاہتا “

” کیوں ؟”

” ان کے دل زخمی ہیں ،میں یہاں بلا کر مزید زخمی نہیں کرنا چاہتا ، تم بے فکر رہو ، میں یہاں سے کل چلاجاؤں گا “

دل تو پچھلے چند سالوں میں کئ بار ٹوٹا تھا ، اس بار زیادہ زور سے ٹوٹا تھا لیکن کوئ بات نہیں وہ برداشت کرلے گا

” مجھے افسوس ہے کہ میں آپ کی کوئ مدد نہیں کرسکتا “

اس نے کچھ نہیں کہا ، دانیال خاموشی سے باہر چلا گیا ، پیچھے بیٹھا لڑکا اب زمین کو دیکھ رہا تھا

کیا واقعی اس بار دل کا ٹوٹنا وہ برداشت کرلے گا ؟

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆