Laa By Fatima Noor Readelle50338 Laa (Episode 14)
Rate this Novel
Laa (Episode 14)
Laa By Fatima Noor
” پشاور سے سنان سعدی لاہور کی معطر صبا پر سلامتی بھیجتا ہے”
وہ کیفے سے باہر نکلی ہی تھی جب نظر سامنے گئ ، بلیو جینز پر سیاہ سوئیٹر پہنے سامنے ٹھہرا سنان سعدی ، چہرے پر ازلی نرم مسکراہٹ لئے، سوئیٹر کے نیچے سے سفید شرٹ کے مڑے ہوئے کالر نظر آرہے تھے
” لاہور سے معطر صبا پشاور کے سنان سعدی کی سلامتی قبول کرتی ہے “
وفاؤں کے شہر کے باسی کے چہرے کی مسکراہٹ گہری ہوئ ، محبتوں کے شہر کی باسی نے اس کی گہری ہوتی مسکراہٹ نہیں دیکھی تھی وہ اپنا پرس سنبھالتی سامنے جارہی تھی، وہ جیبوں میں ہاتھ ڈالے اس کے ساتھ چلنے لگا ، درمیان میں فاصلہ برقرار رکھا
” اگر آپ کو اعتراض نا ہو تو کیا میں آپ کے ساتھ اس سڑک پر چل سکتا ہوں ؟”
” یہ سوال سڑک بنانے والے سے کریں “
” میرا نہیں خیال حکومت مجھے اس جرم میں جیل ڈالے گی ، اب میں یہ سوال سڑک پر چلنے والے سے کرتا ہوں “
” میرا نہیں خیال میں آپ کے اپنے ساتھ چلنے کی شکایت پولیس سے کروں گی “
وہ ہنسا
” لاہور والوں سے محتاط رہنا چاہیے “
” محتاط کیوں ؟”
” سنا ہے دل توڑنے میں ماہر ہوتے ہیں”
” ذاتی تجربہ ہے ؟”
” دوسروں کا تجربہ دیکھنے کا کہہ سکتی ہیں ،میں دو سال لاہور رہا ہوں ۔۔۔۔” رک کر اسے دیکھا ۔۔۔” اور مجھے افسوس ہے “
” کس چیز پر ؟”
وہ رک گئ ، اب وہ لاہور کی برائ کرے تو وہ اسے بتائے ۔۔۔
” ان دو سالوں میں مجھے لاہور کی کسی گلی میں معطر صبا نظر کیوں نہیں آئ ، افسوس ہر دیکھے گئے منظر پر “
اس کی آنکھیں سکڑ گئیں
” فلرٹ کررہے ہیں ؟”
” غلام کی یہ جرأت ؟”
وہ سر جھٹکتی آگے بڑھ گئ ، موسم کل کچھ بہتر تھا لیکن آج پھر سرد ہونے لگا تھا
” ویسے ۔۔۔۔۔”
” میرا کیفے آپ کے آفس کے راستے میں پڑتا ہے ؟”
” میں جواب دینے سے انکار کرتا ہوں “
” یعنی نہیں پڑتا ۔۔۔۔”
” میں تصدیق کرنے سے احتیاط کرتا ہوں “
” آپ واپس کیوں نہیں چلے جاتے؟”
” اتنا برا لگ رہا ہوں ؟”
وہ خفا ہوا
” میں پاکستان جانے کی بات کررہی ہوں، یہاں چھوٹی سی جاب کررہے ہیں ، کوئ فائدہ ؟”
وہ اسٹاپ پر رک گئ ، اگلی بس آنے میں پندرہ منٹ دیر تھی
” اوہ اچھا۔۔۔۔” خفگی غائب ہوئ” واپس گیا تو بابا زمینوں پر بٹھادیں گے، اگلے دن کسی سے بھی شادی کردیں گے” سرسری سا کہتے کن اکھیوں سے اسے دیکھا ” مجھے وہاں گدی پر بیٹھ کر حکم چلانے سے زیادہ یہاں عام لوگوں کی طرح رہنا پسند ہے “
” آپ کے بابا سردار ہیں ؟”
وہ کچھ حیران ہوئ
” جی خاتون ، آپ متاثر ہونا چاہیں تو ہوسکتی ہیں “
” مجھے صرف وڈیرے یا سردار متاثر نہیں کرتے “
وہ سامنے دیکھ رہی تھی ، دوسری جانب کچھ لڑکے ٹھہرے تھے ، منچلے ، عجیب نظروں سے گھورتے ہوئے ، اس نے پہلو بدلا
” پھر کون کرتے ہیں ؟’
” وہ وڈیرے یا سردار جو عزت دینا جانتے ہوں “
” یعنی میں پسند آسکتا ہوں ؟”
مسکراہٹ دبائ
” میں جواب دینے سے انکار کرتی ہوں “
وہ ہنس دیا
” جواب میں تصدیق کرنی ہوگی “
” تردید تھی ۔۔۔ آپ کا دل ٹوٹ جاتا “
وہ بے نیاز تھی ، سنان سعدی خان جیبوں میں ہاتھ ڈالے اس کے سامنے آ رکا
” میں نے دل کو ٹوٹنے کے لئے نہیں سنبھال رکھا “
پیچھے کا ہر منظر چھپ گیا ، وہ سامنے ٹھہرا تھا ، عجیب نظریں غائب ہوگئیں
” میں نے بھی نہیں سنبھالا تھا ، پھر بھی ٹوٹ گیا تھا “
نظریں موڑ کر اسے دیکھا ،نگاہوں میں اذیت ابھری ، وہ یہ موضوع نہیں چھیڑنا چاہتی تھی
” آپ نے اپنا دل غلط شخص کے حوالے کیا ہوگا”
نرمی سے رسان سے کہا ، معطر صبا کی آنکھوں کے کونے نم ہوئے
” غلط ہی تھا۔۔۔۔ “
اسے احساس ہوا یہ موضوع وہ بھی نہیں چھیڑنا چاہتا تھا ، وہ اس لڑکی کو تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا ، اسے یہ بھی احساس ہوا کہ وہ تیمور حیدر کو شدید نا پسند کرتا تھا
” وہ آپ کے لئے نہیں لکھا گیا تھا کیونکہ وہ آپ کے قابل نہیں تھا ، اس کے نا ملنے پر شکر ادا کریں “
” اس کے نا ملنے کا غم نہیں ہے ، اس سے محبت کرنے کا غم ہے ” سر جھٹکا ، نمی غائب ہوگئ ، آواز ہموار ہوگئ ” میں نے اپنے دل کے ساتھ غلط کیا ، مجھے اپنے دل پر رحم کرنا چاہئے تھا “
“اب کرلیں ، کسی ایسے دل پر بھی جو آپ کے دل کو چاہتا ہے “
وہ تھوڑا سا مزید درمیان میں ہوا ،معطر کے لبوں کے کونے مسکرائے ، وہ جانتی تھی وہ کیوں سامنے آیا تھا
” ایسا اب کوئ دل نہیں۔۔۔ ایسے کسی دل پر اب میں مہربان نہیں بننا چاہتی ، کسی ایک نے بہت بری طرح یقین توڑا ہے ، اب مجھے کسی پر یقین نہیں آئے گا “
” یقین ٹوٹنے پر دوبارہ یقین کرلینا چاہئے “
“صرف یقین نہیں دل بھی ٹوٹا ہے ، جب آپ ایک بار کسی سے دھوکہ کھاتے ہیں تو ہر شخص دغا باز لگتا ہے ، جب کوئ ایک بار بے وفائی کرتا ہے شہر کا ہر شخص بے وفا نظر آتا ہے ، ایک ناکام محبت ہمارا محبت پر سے یقین ختم کرجاتی ہے “
“میں اکثر سوچتا ہوں کہ ہم اتنے ظالم کیوں بن جاتے ہیں کہ ایک شخص جسے ہم چاہتے تھے وہ ہمارا دل توڑے تو ہم ہر اس شخص کا دل توڑ دیتے ہیں جو ہمیں چاہتا ہے “
” ہم صرف اپنے دل کا خیال رکھ رہے ہوتے ہیں سنان “
” پھر اسے کسی اور کو دے دینا چاہئے جو ہم سے زیادہ ہمارے دل کا خیال رکھ سکے “
وہ سر جھکاتی بیگ سے موبائل نکال رہی تھی ، سنان کی بات بے دھیانی میں سنی تھی ، کسی کی کال آرہی تھی ، تیزی سے نکالتے یوں ہی موبائل پر ہاتھ کی گرفت ہلکی ہوئ ، موبائل دھڑام سے نیچے گرا
” اللہ جی “
وہ جھکنے لگی جب وہ اس سے پہلے تیزی سے نیچے بیٹھا اور موبائل اٹھایا، اس کے قدموں کے بالکل پاس ، لمحے بھر کو وہ وہیں تھم گئ
” ٹوٹا نہیں ہے ۔۔۔۔”
نیچے بیٹھے موبائل کو سر جھکا کر دیکھتے وہ کہہ رہا تھا پھر اٹھتے ہوئے اس کی طرف بڑھایا تو رکا ، وہ عجیب نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی
” کیا ہوا ؟”
” کچھ نہیں ۔۔۔۔”
سر جھٹکتے معطر نے موبائل تھاما ، ایک نظر سنان کو دیکھا ، اس کے اندر میل ایگو نہیں تھی ؟ وہ یوں جھک کر کسی عورت کے قدموں کے پاس موبائل کیسے اٹھا سکتا تھا ؟ اسے ہاشم بن عبد اللہ ٹرسٹ کے باہر کا منظر یاد آیا ، وہ اس کے بیٹھنے پر نیچے بیٹھا تھا ، اس کے اٹھنے پر اٹھا تھا ، جب چلتا تو فاصلے پر چلتا ، دیکھتا تو وہ نگاہ احترام والی ہوتی تھی ، پھر اسے تیمور حیدر یاد آیا ، سکول کے باہر کا منظر یاد آیا جب اس کا رجسٹر تیمور کے قدموں کے پاس گرا تھا ، وہ جھکی تھی تو وہ سامنے ٹھہرا رہا تھا ،نا نیچے بیٹھا نا پیچھے ہٹا ، نا بیٹھ کر رجسٹر اٹھایا ، اسے تیمور کی آخری بار کی نگاہ یاد آئ ، اس آگ میں تنفر تھا ، حقارت تھی ، وہ وہاں کھڑے کھڑے جانے کیوں ان دونوں کا موازنہ کررہی تھی
” میرے ساتھ چلیں گی ؟”
” کیا ؟ “
چونک کر سنان کو دیکھا
” میں پوچھ رہا تھا کہ کل میرے دوست کی شادی ہے ،میرے ساتھ چلیں گی ؟”
” میں کس لئے چلوں ؟”
” وہ پاکستانی ہے ، وہاں پاکستانی ہی ہوں گے زیادہ تر، آپ اپنے ملک کے لوگوں سے مل لیجئے گا “
وہ اب تک سامنے ٹھہرا تھا
” مجھے عجیب لگے گا ، آفر کا شکریہ “
وہ یکدم سیدھی ہوئ ،بس سامنے آرہی تھی ، جلدی سے موبائل بیگ میں ڈالا ، دانیال کی کال تھی ، بس میں سن لے گی
” ایک مشورہ تو دے سکتی ہیں”
” کیسا مشورہ ؟”
” ان کے لئے کیا گفٹ لوں ؟”
” کوئ روایتی گفٹ لے لیں ، جیسے زیور ، کوئ لباس ،کچھ بھی، کوئ بھی تحفہ جو مشرقی لگے ۔۔ اپنی روایات کو زندہ رکھنا چاہئے “
کوٹ میں ہاتھ ڈالے وہ تیزی سے کہتی میٹرو بس پر سوار ہوئ ، سنان سعدی پورے دل سے مسکرایا ، چند لمحے وہ وہاں ٹھہرا رہا یہانتکہ سرخ بس اس کی نظروں کے سامنے سے غائب ہوگئ پھر وہ واپسی کی طرف بڑھا ، لبوں پہ کوئ پشتو غزل تھی
زه چاته خپل د زړه حال نه شم ویلی
چې راز وي دَ مینې، افشا نه شي
(میں کسی کو اپنے دل کا حال نہیں بتا سکتا
کیونکہ جو محبت کا راز ہو، وہ ظاہر نہیں کیا جاتا)
اردگرد کے شور میں اس کی آواز مدھم ہوتی جارہی تھی
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
” میں پاکستان سے متاثر نہیں ہوا لیکن میری رائے بدل رہی ہے”
اس نے بنائ گئ ڈاکیومنٹری فلم کیپشن کے ساتھ معطر کو سینڈ کی تھی ، اپنے کمرے میں بیٹھ کر اس نے پندرہ منٹ کی وہ ڈاکیومنٹری دو مرتبہ دیکھی ، پچاس فیصد وسائل ، پچاس فیصد مسائل ، اچھی ڈاکیومنٹری بنائ تھی ، وہ یونہی بچارے کو غلط کہہ آئ تھی ،لیکن اس کے سامنے اعتراف کون کرے ؟
اس کی بھیجی گئ ویڈیو پر لائک کرتے اس نے واٹسپ کھول لیا ، میسیجز کی بوچھاڑ آگئ ، جن جن کزنز سے اس کی سال میں دو بار ملاقات ہوتی تھی ان کا بھی میسج آیا ٹھہرا تھا
” تم کسی انگریز کو ڈیٹ کررہی ہو ؟”
” کون لینڈ لارڈ ڈھونڈا ہے ؟ “
” تصویر تو دکھاؤ “
” تمہارے بارے میں کچھ سنا ہے “
وہ ایک ایک کرکے میسجز پڑھتی گئ اور چہرہ زرد پڑتا گیا ، سارے میسجز پڑھ کر دانیال کو کال ملائ ، یہاں نو بج رہے تھے تو وہاں ایک دو تو ہوں گے لیکن وہ جانتی تھی اس وقت وہ جاگ رہا ہوگا ، اس کے پیپر ہورہے تھے آج کل
” خیریت معطر ؟ اس وقت کیوں کال کی ؟ تم ٹھیک ہو ؟”
” میں ٹھیک ہوں، پاکستان میں کیا چل رہا ہے ؟”
آواز میں بے چینی گھل گئ
” سردیاں چل رہی ہیں “
” لاہور کا پوچھ رہی ہوں “
” لاہور میں بھی سردیاں ہی چل رہی ہیں “
” دانیال۔۔۔۔۔۔۔” وہ جھنجھلائ ” ۔۔۔۔۔ میں سنجیدہ ہوں، ابھی مجھے میسجز آئے ہیں سب کے ، خاندان میں کیا باتیں ہورہی ہیں ؟”
موبائل اٹھائے وہ کھڑکی تک گئ ، وہ جانتی تھی ابھی کمرے میں گھٹن بڑھ جائے گی ، اسے سہارے کی ضرورت پڑے گی
” تم کیوں ٹینشن لے رہی ہو ، ایسا کچھ نہیں ہے “
” میں دس سال کی بچی نہیں ہوں دانیال جسے تم باتوں سے بہلا دو گے ، سچ سچ بتاؤ “
وہ چند لمحے چپ رہا پھر گہری سانس لی
” تیمور نے بات پھیلائ ہے کہ اُس نے تمہیں لندن میں کسی لڑکے کے ساتھ دیکھا ہے ، کوئ پاکستانی جس کی دولت کی وجہ سے تم اس کے ساتھ۔۔۔۔”
وہ آگے نا کہہ سکا، اس نے کھڑکی کا پٹ تھاما
” بابا جانتے ہیں ؟”
” نہیں۔۔۔ وہ پورا دن گھر میں ہوتے ہیں تو لاعلم ہیں “
” تم نے یقین کرلیا ؟”
” میں اپنی بہن کے کردار کی گواہی دنیا کے ہر انسان کے سامنے جا کر دے سکتا ہوں “
اس نے کھڑکی چھوڑ دی ، سہارے کی ضرورت نہیں رہی تھی
” وہ جھوٹ بول رہا ہے “
” جانتا ہوں ، اب تم بتاؤ کیوں بول رہا ہے ؟”
اس نے وہیں کھڑے کھڑے ایئرپورٹ کا سارا واقعہ دہرادیا
” ایرک کون ہے ؟”
” ہے کوئ۔۔۔”وہ رکی۔۔” ۔۔۔وہ سنان کو لے کر مجھ پر الزام لگا رہا ہے “
” سنان جانتا ہے یہ ؟”
” ہاں۔۔۔ “
دوسری طرف کچھ دیر خاموشی چھائ رہی
” تم غلط سوچ رہے ہو دانیال “
وہ چونکا
” کیا سوچ رہا ہوں ؟”
“تم جانتے ہو تم کیا سوچ رہے ہو اور جو سوچ رہے ہو ایسا کچھ نہیں ہے “
” تمہاری طرف سے۔۔۔۔ سنان کی طرف سے بھی ؟”
” ہرگز نہیں ۔۔۔ وہ اچھا انسان ہے اور وہ بالکل بھی میرے متعلق ایسا نہیں سوچتا ، اور ویسے بھی وہ شاید اپنی فیملی میں کسی کو پسند کرتا ہے “
” اب ؟”
” اب کیا ؟ میں تو یہاں ہوں تم کچھ کرو “
وہ مضطرب لگ رہی تھی ،لیکن وہ رو نہیں رہی تھی ، زہن پہلے ہی اس سب کے لیے تیار تھا ، ہاں دل نہیں تھا
” میں سوائے اس کے کہ بابا کو خبر نا ہونے دوں کچھ نہیں کرسکتا ، اور بابا کا بھی کچھ نہیں کہہ سکتا ، ظاہر ہے خاندان والے بولتے رہے تو وہ سن لیں گے “
اس نے بے زاری سے فون کان سے ہٹا کر دیکھا
” کچھ تو کرو دانیال “
” میں تمہیں ایک بات بتاؤں معطر ؟ ان کی زبانیں کھلنے دو ، تم یہ سب پہلی مرتبہ تو نہیں برداشت کرنے جارہیں ، جب بابا کی بیماری کے بعد جاب شروع کی تھی ، جب تیمور سے رشتہ ٹوٹا تھا ،جب تم انگلینڈ جا رہی تھیں تو یہ سب تب بھی تم نے برداشت کیا تھا ، اب بھی کرلو گی “
” تب بات کسی مرد کے ساتھ تعلق کی نہیں تھی ، عورت صرف تب تک مضبوط ہوتی ہے جب تک بات اس کی عزت پر نا آئے “
” تو جو مرد تُمہاری عزت پر بات کررہا ہے اسے جواب کیوں نہیں دیتیں ؟”
” میں اس کا منہ بعد میں توڑوں گی پہلے تم خاندان والوں کا منہ بند کراؤ “
” میں اُنہیں اپنا خاندان مانتا ہی نہیں ہوں ، ایک بار جاب لگ جانے دو تم سب کو لے کر کہیں اور شفٹ۔۔۔۔”
اس نے بے زاری سے کال کاٹ دی ، دانیال کے اپنے ہی مسئلے تھے
خاموشی سے سن لو باتیں ہی تو ہیں
برداشت کرلو لوگ ہی تو ہیں
کہنے میں مشکل نہیں تھا لیکن سہنا موت جیسا تھا ، بات عزت کی تھی ، بات بابا کی عزت کی تھی ، وہ اب کیا کرے گی ؟
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اس نے کچھ سوچ کر ایرک کو کال کی
” مجھے کیفے سے واپسی پر ملنا “
وہ اس کی چھٹی ہونے پر کیفے کے باہر ٹھہرا تھا
” کلاس تو نہیں تھی تمہاری ؟”
” پہلے کون سا کلاس لیتا ہوں میں “
ناک سے گویا مکھی اڑائ، معطر نے سر ہلایا ، اکثر آوارہ گردی کرتا نظر آتا تھا، پتا نہیں پڑھتا کب تک تھا
” تمہاری ایک مدد چاہئے “
” کیسی مدد ؟ “
” تمہارا کوئ جرنلسٹ دوست ہے پاکستان میں ؟”
” دشمن ہیں۔۔۔سرفہرست تم ہو “
” تم آخر سے شروع کرو ، کوئ تو ہوگا جو کم دشمن ہو “
” ایک ہے جاننے والا۔۔۔ کیا کام ہے ؟”
وہ اسٹور کی طرف جارہی تھی اور وہ پتا نہیں کدھر جارہا تھا جو اس کے ساتھ ٹیوب پر سوار ہوگیا ، آج پھر بس چھوٹ گئ ، آج کل اس کی بس کچھ زیادہ ہی چھوٹنے لگی تھیں
” کام ہے ۔۔۔۔ کردے گا ؟”
” میرے اس سے تعلقات خراب چل رہے ہیں ، کچھ نہیں کہہ سکتا “
رش کے باعث سیٹس خالی نہیں تھیں تو وہ دونوں کھڑے ہوگئے ، لندن میں جنوری کا وسط چل رہا تھا تو ٹھنڈ ہڈیوں میں گھس رہی تھی
” کسی سے تو بنا کر رکھا کرو “
” چھ مہینے پہلے میں نے اسے کسی کلب میں دیکھا تھا اور تصویر بنا لی ، چار مہینے پہلے میں نے اسے دھمکی دی تھی کہ اس کی تصویر اس کے باپ کو بھیج دوں گا ، دو مہینے پہلے تم سے ملاقات ہوئ ، اگر مجھے علم ہوتا کہ تمہیں اس کی مدد کی ضرورت پڑے گی اور میں وقت کو چھ مہینے پیچھے لے جاسکتا تو اس سے دشمنی کا آغاز نا کرتا “
” اختتام اب کردو ۔۔۔۔ مجھے اس کی بہت ضروری مدد چاہئے “
” وہ بہت مغرور ہے ، جبکہ اس کا باپ صرف ٹی وی پر پرائم ٹائم شو ہی کرتا ہے ، کیا اس چیز پر غرور بنتا ہے ؟”
” مجھے اس کے شجرہ نسب میں دلچسپی ہے نا اس کے اخلاق میں ، میری مدد کردے گا وہ ؟”
” مجھے اپنے کیمرے میں موجود اس کی تصویر کی قربانی دینی پڑے گی ، ٹھیک ہے تمہارے لئے یہ بھی کرلیتا ہوں “
معطر نے مشکوک نظروں سے اسے دیکھا
” مفت میں …؟”
” میں حیران ہوں تم اب اپنے خیالات میرے بارے میں بدل کیوں نہیں لیتیں, کیا میں یہ ظاہر کرنے میں ناکام رہا ہوں کہ میں تھوڑا بہت اچھا انسان بھی ہوں ؟ “
وہ کچھ کہے بغیر اسے دیکھتی رہی ، ایرک نے جیب میں موجود ایک ہاتھ نکالتے بالوں پر ہاتھ پھیرا
” بدلے میں مجھے تمہارے دو گھنٹے چاہئیں “
” کیا مطلب ؟”
وہ تیزی سے سیدھی ہوئ
” ریلیکس ۔۔۔۔ ایک فنکشن میں مجھے کسی پاکستانی خاتون کی ضرورت ہے “
” اپنی یونیورسٹی سے لے لو کوئ “
” ٹھیک ہے ۔۔۔۔ میں لے لیتا ہوں ۔۔۔۔ ملتے ہیں کچھ دن بعد “
وہ سر ہلاتے آگے بڑھ گیا ،معطر جھنجھلائ ، بلیک میلر نا ہو تو
” اچھا ٹھیک ہے ۔۔۔۔ کیا کرنا ہے ؟”
وہ تیزی سے اس تک آئ
” میرا کام آسان ہے ، تمہارا مشکل ہے ، پہلے اپنا بتاؤ “
اس نے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری
” مجھے کسی کے خلاف ٹی وی پر خبر چلوانی ہے “
” خبر کیا ہے ؟”
” کس کے خلاف ہے۔۔۔۔یہ نہیں پوچھو گے ؟”
” تم خبر بتاؤ ۔۔۔۔ میں نام خود بتادوں گا “
” ایکچولی۔۔۔۔” گلا کھنکارا ” لاہور میں ایک فیکٹری ہے ، مصالحے وغیرہ بناتے ہیں وہ لوگ لیکن اس میں غیر معیاری کیمیکلز ڈالے جاتے ہیں ، اور بطور پاکستانی میں اس غلط کام کے خلاف آواز اٹھانا چاہتی ہوں ، کیونکہ میں ایک محب وطن۔۔۔۔۔”
” تم اپنے ایکس کے خلاف خبر چلوا رہی ہو ؟”
اس کی زبان کو بریک لگی
” تمہیں کیسے معلوم ؟”
وہ مشکوک ہوئ ، یہ واقعی پکا اینکر پرسن بنے گا
” ظاہر ہے ، یہ حب الوطنی پاکستان میں کیوں نہیں جاگی ؟ پھر یہاں بیٹھے بیٹھے کس نے تمہیں یہ خبر دی ؟ سوائے اس کے کہ تمہیں اپنے ایکس کا راز معلوم ہے اور تم اسے بدنام کرنا چاہتی ہو “
معطر نے ہونٹ بھینچ لئے
” ہاں ٹھیک ہے ، تیمور کے خلاف ہی ہے “
” یہ بہت غلط حرکت ہوگی ویسے۔۔۔ تم دونوں کو عزت سے علیحدہ ہوجانا چاہئے “
وہ کچھ دیر اسے خفگی سے دیکھتی رہی پھر رخ موڑ لیا ، سامنے ہی کوئ نوجوان جوڑا باہوں میں باہیں ڈالے بیٹھا تھا ،لڑکی نے مرد کے سینے پر سر رکھا ہوا تھا ، اس نے گڑبڑا کر رخ موڑا ، دوسری طرف کوئ بزرگ جوڑا تھا ، مرد نے عورت کا ہاتھ نرمی سے تھام رکھا تھا ، یہ منظر قابل قبول تھا ، وہ انہیں دیکھے گئ
” میں ویسے ہی کہہ رہا تھا ۔۔۔۔ میرا تو کچھ نہیں جاتا”
گلا کھنکارتے اس کی خفگی دور کرنا چاہی
” یہ ایک رائے تھی “
خاموشی
” مادام ۔۔۔۔۔”
ایرک نے کان کھجایا ، اس کی زبان قابو میں کیوں نہیں رہتی تھی ؟ وہ سامنے دیکھ رہی تھی ، بزرگ کے ہاتھ میں کینڈی تھی جو وہ عورت کو دے رہا تھا ،چہرہ چمک رہا تھا ، کچھ لوگ محبتوں کے معاملے میں خوش قسمت ہوتے ہیں ، اسے یاد آیا یہ مقام رشک تھا
” میں نے اسے عزت سے چھوڑ دیا تھا ۔۔۔۔” ایرک نے رخ موڑا ، وہ سامنے موجود بوڑھے جوڑے کو دیکھ رہی تھی ، آواز آہستہ تھی ” پھر وہ سامنے آیا اور مجھے مجبور کیا کہ میں اپنے فیصلے پر غور کروں ، مسئلہ میرا نہیں اس کا ہے ، وہ سوچتا ہے وہ پاکستان میں میرے بارے میں باتیں کرے گا اور میں لندن میں بیٹھ کر سنتی رہوں گی ، اسے لگتا ہے وہ ٹھیک سوچتا ہے لیکن۔۔۔” نظریں واپس اس کی طرف موڑیں ، ایرک خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا ” وہ یہ نہیں جانتا کہ میں اپنے اندر کی وہ عورت جو اس سے محبت کرتی تھی ایئرپورٹ پر دفن کر آئ تھی “
” اگر وہ تمہیں پاکستان میں بدنام کررہا ہے تو تم اسے جوابا پاکستان میں بدنام کرنا چاہتی ہو ؟”
” جنگ سمجھ لو ، آغاز اس نے کیا ، اختتام میں کرنا چاہتی ہوں “
” اس سے تمہارے حق میں تو سب ٹھیک نہیں ہوگا “
” جانتی ہوں۔۔۔۔” وہ سوگوار سا مسکرائ ” میں اب گھر گھر جا کر سب کو بتاؤں کہ وہ جھوٹ کہہ رہا ہے تب بھی کوئ یقین نہیں کرے گا ، میں جس معاشرے سے ہوں ایرک وہاں عورت کو بدنام کرنے کے لئے چیخ نہیں مارنی پڑتی صرف سرگوشی کرنی پڑتی ہے ، اس نے بھی سرگوشی کی ہوگی اور اسے لگتا ہے میں جواب نہیں دوں گی ، اسے غلط لگتا ہے ، میں اپنا نقصان دور نہیں کرسکتی لیکن میں اس کا نقصان ضرور کرسکتی ہوں “
ایرک کچھ کہے بغیر صرف اسے دیکھتا رہا
” تم نے خود کے ساتھ کیا کردیا ہے معطر ؟”
وہ بالکل چپ رہ گئ ، یوں جیسے کسی نے زبان نکال لی ہو
” میں خود کو پانے کی کوشش کررہی ہوں “
” اووہوں۔۔۔۔ میں دو ڈھائ مہینے پہلے جس معطر سے ملا تھا وہ کوئ اور تھی ، جس سے اب مل رہا ہوں وہ کوئ اور ہے ، تم نے خود کو کھودیا ہے ، تم نے پرانی معطر کو کھودیا ہے ۔۔۔اور ” وہ ہلکا سا اس کی طرف جھکا ،لبوں پہ مسکراہٹ ابھری ” یہ معطر زیادہ اچھی ہے کیونکہ یہ مضبوط بن رہی ہے “
اس نے آنکھیں سکیڑیں ، ابھی لیکچر دے رہا تھا ، اب موٹیویٹ کررہا تھا، عجیب انسان تھا
” تم جواب بتاؤ ، کام ہوجائے گا ؟”
ٹیوب رکی تو وہ دونوں نیچے اترے
” تمہارے پاس کوئ ثبوت ہے اس خبر کا ؟”
” ثبوت کی ضرورت پڑے گی ؟”
وہ سٹپٹائ
” تو ؟ ایسے کیسے خبر دیں گے نیوز چینل والے ؟”
” اوہ۔۔۔۔” اس نے لاپرواہی سے ہاتھ جھلایا ” پاکستان کے میڈیا پر شاذو نادر ہی کوئ خبر تصدیق کے ساتھ دی جاتی ہو “
” ایسے کیسے ؟”
” ایسے ہی ہے بس “
اس نے کاندھے اچکائے ، ٹیوب پر نئے مسافر سوار ہورہے تھے جب کوئ تیزی سے ان کے پاس سے گزرا ، ایرک کچھ کہہ رہا تھا ، پاکستان کا میڈیا غیر ذمہ دار ہے ، کچھ برطانیہ سے سیکھو بلاں بلاں ، لیکن وہ نہیں سن رہی تھی ، وہ رخ موڑے پاس سے گزرنے والے مسافر کو دیکھ رہی تھی ، وہ شاید جلدی میں تھا لیکن وہ جانتی تھی کہ وہ پلٹے گا ، چند لمحے گزریں گے اور اسے احساس ہوگا کہ وہ چند لمحوں پہلے کسی کے پاس سے گزرا تھا ، وہ اسے دیکھتی رہی ، وہ موبائل پر کچھ ٹائپ کر رہا تھا پھر وہ رکا ، موبائل پر دیکھتی نگاہیں اٹھیں ، اردگرد دیکھا پھر رخ موڑا اور اس پر نظر گئ ، آنکھوں میں حیرانی ابھری ، لب مسکراہٹ میں ڈھلے ، معطر اسے دیکھتی رہی ، وہ چل کر ان کی طرف آرہا تھا
سیاہ شلوار قمیص پہنے اوپر بھوری شال تھی ، سیاہ کھیڑی والی جوتی، شہد رنگ آنکھوں میں کوئ نرم سا تاثر تھا ، شلوار قمیص میں اس کا لمبا قد مزید نمایاں ہورہا تھا ، وہ اپنے علاقے میں چلتا ہوگا تو لڑکیاں رخ موڑ کر اسے دیکھتی ہوں گی ، وہ جب نرمی سے مسکراتا ہوگا تو اس کی مسکراہٹ کے سامنے کئ مسکراہٹیں مانند پڑ جاتی ہوں گی ، وہ پہلی بار اسے اس طرح دیکھ رہی تھی ، ۔۔۔۔ پہلی بار اس طرح
” السلام علیکم ۔۔۔۔”
ایرک کی زبان کو بریک لگی ، وہ معطر کے سامنے ٹھہرا تھا ، معطر اس کے سامنے ٹھہری تھی اور وہ اسے نہیں دیکھ رہی تھی، رخ موڑا ، وہ سنان کو دیکھ رہی تھی ، وہ سنان جو ان کے درمیان آ ٹھہرا تھا ، اس نے گہری سانس لی
” یہ سلامتی اس بار بھی یقیناً میرے لئے نہیں تھی “
اس کی بڑبڑاہٹ اس بار بھی دونوں نے نظر انداز کی
” آپ یہاں کیسے ؟”
” کیا میں ٹیوب پر سفر نہیں کرسکتا ؟”
وہ مسلسل مسکرا رہا تھا
” یعنی آپ کی گاڑی واقعی خراب ہوگئ تھی ؟”
” میں اس سوال کے جواب میں خاموش رہوں گا “
” ٹھیک۔۔۔۔” اس نے سمجھ کر سر ہلایا ” اتنی تیاری کس خوشی میں ؟”
” جس دوست کی شادی پر جانے کے لئے آپ کو کہا تھا اسی دوست کی شادی پر اکیلا جارہا ہوں ، گاڑی میں آنے جانے میں مسئلہ ہوتا تو ٹیوب کا سفر بہتر رہے گا “
” اوکے ۔۔۔۔”
” تمہیں دیر نہیں ہورہی سنان ؟ ٹیوب جارہی ہے “
ایرک نے بیچ میں ٹوک دیا ، اس نے بس ایک نظر ایرک پر ڈالی، سر کو خم دیا پھر معطر کو دیکھتے مسکرایا، سر کو دوبارہ خم دیا اور پیچھے کی طرف بڑھ گیا ، وہ رخ موڑے اسے دیکھتی رہی
” سنان شلوار قمیص میں زیادہ اچھا لگتا ہے نا “
ایرک چونکا، غور سے معطر کو دیکھا ، وہ سنان کی پشت کو دیکھ رہی تھی ، اس کے ماتھے پر بل پڑے ، نظر سنان پر گئ ، وہ بھوری شال درست کرتا ٹیوب پر سوار ہورہا تھا
” اتنا بھی نہیں لگتا “
” اوہوووں۔۔۔۔ روایتی لباس میں زیادہ اچھا لگ رہا تھا “
” اور میں کیسا لگوں گا ؟”
” تم۔۔۔۔؟” معطر نے رخ موڑ کر اسے دیکھا ” برطانیہ کا روایتی لباس کون سا ہے ؟ “
” ہر دور میں مختلف رہا ہے ، کثیر الثقافتی ملک ہونے کا نقصان یہی ہوا ہے کہ برطانیہ اپنی ایک علیحدہ ثقافت قائم نہیں رکھ سکا ، گو ماہرین اسے ثقافتی بدلاؤ کہتے ہیں لیکن میں اس ثقافت کھونا کہتا ہوں ، ویسے میں پاکستان کے روایتی لباس کی بات کررہا ہوں “
” شلوار قمیص میں؟ پتا نہیں کیسے لگو گے ، جب پہنو گے تب بتاؤں گی , ابھی مجھے دیر ہورہی ہے “
اس نے ایک بار پھر رخ ٹیوب کی طرف موڑا ، سنان وہاں نہیں تھا ، ایرک کے اندر کچھ جلا ، جیسے آگ سی ہو ، پھر ٹیوب کو دیکھا ، یہ جا کیوں نہیں رہی تھی ؟
” تمہیں دیر نہیں ہورہی ؟”
معطر نے رخ واپس اس کی طرف موڑا
” جارہی ہوں لیکن تم مدد کروگے پھر ؟”
” میں زبان سے نہیں پھرا کرتا “
اس کا موڈ یکدم ہی بگڑا تھا ، کچھ تھا جو حد سے زیادہ برا لگا تھا
” ٹھیک ہے پھر کل ملتے ہیں”
ہاتھ ہلاتے وہ تیزی سے آگے بڑھی ، ٹرین اسی لمحے جارہی تھی ، سنان مرکزی لندن کی طرف جارہا تھا ، معطر مخالف سمت میں ، اور ان دونوں کے بیچ وہ ٹھہرا تھا جس کے چہرے پر ناگواری تھی
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اگر اسے لگتا تھا کہ وہ پوری دنیا میں اس کے خلاف بولتا رہے گا اور وہ چپ چاپ سنتی رہے گی تو اسے غلط لگتا تھا ، ایرک کا دوست شایان واقعی میں مغرور تھا لیکن وہ مدد کے لیے مان گیا تھا ، اس کا باپ پاکستان کے کسی غیر معروف نیوز چینل میں پرائم ٹائم شو کرتا تھا ،اس کی بلا سے وہ اخبار کا نمائندہ بھی ہوتا، اس نے بس دو منٹ کی ایک خبر چلوانی تھی ، پتا نہیں شایان نے اپنے باپ کو کیسے راضی کیا ، کیا کہا لیکن وہ خبر چلانے پر مان گیا
حیدر فوڈز کے مصالحہ جات میں ملاوٹ
دو منٹ کا وہ کلپ بس ایک مخبر کی اطلاع کی ترجمانی میں بتاتا تھا کہ حیدر فوڈز کے مصالحہ جات میں غیر معیاری کیمیکلز ڈالے جارہے ہیں اور اتھارٹیز کو اس پر ایکشن لینا چاہئے ، اس نے اپنی فیک آئی ڈیز سے وہ کلپ چن چن کر ایک ایک خاندان والے کو سینڈ کیا تھا
” اس سے ہوگا کیا ؟”
ازلنگٹن گرین کے سبزہ زار پر بیٹھے ایرک نے کچھ تجسس سے پوچھا تھا ، وہاں ڈھیروں لوگ ارگرد گھوم رہے تھے ، بینچ ہر جگہ موجود تھے لیکن وہ دونوں پھر بھی نیچے بیٹھے تھے ، سبز لمبا پیروں سے نیچے آتا فراک جس کے بازوں کلائ پر چنٹ کی صورت اکٹھے کر رکھے تھے ، سیاہ سوٹیٹر ، سر پر اونی ٹوپی جس کے نیچے سے پھسلتے بال کمر پر گررہے تھے ، مشرقی لڑکی معطر صبا
” میرا فائدہ نہیں ہوگا لیکن تیمور کا نقصان ضرور ہوجائے گا “
” کیسے ؟”
” اس کا بزنس پھیل رہا ہے ، وہ یہ خبر افورڈ نہیں کرسکے گا ، اس خبر کے بعد وہ اپنے پھیلتے بزنس پر توجہ مرکوز کردے گا اور۔۔۔۔۔” موبائل سے نظریں ہٹا کر اسے دیکھا ” خاندان والوں کو ایک نیا ٹاپک مل جائے گا ، زیادہ نہیں کم ازکم مجھ پر سے سب کی توجہ ہٹ جائے گی “
” انٹرسنگ ۔۔۔۔”
وہ محظوظ ہوا تھا ، معطر بنا جواب دیئے فیسبک اور انسٹا پر اس کی ویڈیوز دیکھتی رہی ، وہیں بیٹھے بیٹھے اس نے ان دو ماہ میں پہلی بار ازلنگٹن گرین کے سبزے پر اپنی تصویر بنا کر سٹیٹس پر لگائ تھی ، وہ پر سکون نہیں تھی لیکن وہ خود کو پر سکون ظاہر کرنے کی کوشش کررہی تھی ، تیمور کے خلاف کی گئ حرکت بھلے ہی غیر اخلاقی ہو لیکن ٹھیک ہے اگر تیمور حیدر اخلاق سے گر سکتا تھا تو اس نے بھی خود کو بے حس بنا لیا تھا ۔۔۔۔۔ پر دل ؟ وہ ٹوٹ کر سو بار جڑا تھا ، ان چند دنوں میں وہ سو بار گری تھی ، سوبار اپنے آنسو دھکیلے تھے ، یہ احساس جاتا ہی نہیں تھا کہ جو محبت کا دعویدار تھا وہ ایسا نکلا تھا ، یہ احساس بھی جانے میں عرصہ لگتا کہ محبت کی دعویدار تو وہ بھی تھی ، اپنے ہی ہاتھوں اس شخص کی رسوائ کا سامان اکٹھا کررہی تھی
تیمور نے ایک دو بار یوں ہی اس سے زکر کیا تھا کہ کسی زمانے میں وہ پرانے مصالحوں میں ملاوٹ کرتا رہا تھا ، وہ نہیں جانتی تھی اب بھی وہ یہ سب کرتا تھا یا نہیں لیکن صرف ایک خبر ہی تو تھی ، وہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی تھی ، اور وہ اس مقام پر تھی جہاں خود کو اور اپنے باپ کو بچانے کے جو ہوسکا وہ کر گزرے گی
” جہنم تک ساتھ چلو گی میرے ؟”
اس نے جھٹکے سے سر اٹھا کر ایرک کو دیکھا
” کیا مطلب ؟”
” آج ایک نیوز چینل پر انٹرویو دینے جا رہا ہوں ، تمہارے بقول جہنم میں جا رہا ہوں ، ساتھ چلو گی ؟”
معطر نے غور سے اسے دیکھا ، اسی لئے آج انسانوں کی طرح تمیز سے تیار لگ رہا تھا ، سیاہ پینٹ پر سفید شرٹ پہن رکھی تھی ، ٹائ بھی لگا رکھی گو وہ اس وقت ڈھیلی تھی ، اوپر لمبا کوٹ تھا جس کے بازوں کہنیوں تک موڑ رکھے تھے ، بال جیل سے پیچھے کو جمے تھے اور نیلی آنکھوں میں پہلی بار خوابوں کے پورا ہونے کا جوش اور سنجیدگی تھی ، مغربی مرد ایرک کیان
” تمہاری ڈگری تو کمپلیٹ نہیں ہوئ ابھی پھر جاب کیسے ملے گی ؟”
” پارٹ ٹائم جرنلسٹ کی جاب ہے ، دن کے چند گھنٹے دینے ہوں گے “
” یعنی تمہیں اپنا شو ملے گا ؟”
” نہیں۔۔۔۔ مجھے کسی جرنلسٹ کا اسسٹنٹ بننا پڑے گا یا زیادہ سے زیادہ شو کے لئے ٹاپک ڈھونڈنے ہوں گے یا اسی طرح کا کچھ بھی ، یوں سمجھو ایک طرح کی انٹرنشپ ہوگی ، ویسے تو دوران سٹڈی جاب ملنا مشکل ہے کیونکہ برطانیہ میں میڈیا انڈسٹری بہت مقابلے والی ہے لیکن میں عرصے سے کالمز لکھ رہا ہوں تو چانس ہے “
اس نے سمجھ کر سر ہلادیا
” تو چلو گی ؟”
” میں کیوں جاؤں تمہارے ساتھ ؟”
” گڈ لک چارم سمجھ رہا ہوں تمہیں “
” میرا اپنا لک بیڈ چل رہا ہوں ، تمہارے لئے کیا گڈ لک ثابت ہوں گی “
” کیا معلوم ۔۔۔۔ میڈیا ہاؤس ہی دیکھ لینا “
” مجھے نہیں دیکھنا۔۔۔۔جاؤ تم “
ایرک کے ماتھے پر بل پڑے
” میں نے تم پر ایک احسان کیا ہے “
” جتا کر ضائع مت کرو “
” جتا کر اس کی قیمت ضرور وصول کروں گا “
” ہاں ہاں۔۔۔ کردوں گی تمہارا کام “
ہاتھ جھلایا ، ایرک کچھ دیر اسے خفگی سے دیکھتا رہا پھر ساتھ رکھی فائل اٹھائ اور بال درست کئے
” گڈ لک نہیں بولو گی ؟”
” جس کمپنی میں جا رہے ہو ان کے لک پر افسوس ہے مجھے لیکن پھر بھی گڈ لک “
وہ مسکرایا
” تم اتنی بری نہیں ہو ویسے “
” اتنی اچھی بھی نہیں ہوں ، شکل گم کرو اپنی اور یہ گلے کا پھندہ درست کرکے جاؤ “
یوں ہی بیٹھے بیٹھے ہاتھ جھلایا ، ایرک سر کو خم دیتا پلٹ گیا ، اس نے ٹائ درست نہیں کی تھی ، وہ کچھ دیر سوشل میڈیا سکرولنگ کرتی رہی پھر دانیال کو کال ملائ ، دو دن سے خبر نہیں آئ تھی کوئ ، جانے کیا ہورہا تھا خاندان میں ، اور وہ دو دن سے ویڈیو ہر جگہ پھیلا پھیلا کر تھک گئ تھی
” کیسے ہو ؟”
کال اٹھا لی گئی تھی
” ٹھیک ہوں ۔۔۔تم ؟”
” میں خوش ہوں “
” خیریت ؟”
” ویسے ہی۔۔۔وہاں سب ٹھیک ہے ؟”
سرسری سا پوچھا ، دل کی دھڑکن بڑھ گئ ، اب وہ بتائے گا کہ تیمور کے خلاف ویڈیو وائرل ہوگئی تھی، خاندان میں سب اسی کو ڈسکس کررہے تھے اور اسے بھول گئے تھے تو وہ شاید بتادے کہ یہ سب اس نے کروایا تھا پھر ۔۔۔
” تیمور کو پولیس پکڑ کر لے گئ ہے “
دل کی دھڑکن رک گئ
” کیوں ؟”
” نیوز پر خبر آئ تھی کہ اس کی فیکٹری میں مصالحہ جات میں مکسنگ کی جاتی ہے ، کسی کلائنٹ میں پولیس میں رپورٹ درج کرادی ، خبر سچ تھی ، وہ کل رات سے جیل میں ہے “
اس کا موبائل تھامے ہاتھ نیچے آ گرا ، چہرہ زرد ہوا ، اس نے یہ تو نہیں چاہا تھا ، یہ تو ہرگز نہیں چاہا تھا ، یعنی وہ جیل میں تھا ، اس کا کاروبار تباہ ہوجاتا ، اس کا کیرئیر ختم ہوجاتا ، پھپھو کی کیا حالت ہوگی اور ان سب کے علاوہ اصل بات ۔۔۔۔۔
جھٹکے سے کھڑے ہوتے اس نے بیگ اٹھایا ، ایرک یہیں کہیں ہوگا ، ازلنگٹن گرین پارک نما بڑی سی جگہ تھی ، ہر طرف سبزہ ، درخت ، درختوں کے بیچ پتھریلی سی روش ، وہ یہیں کہیں ہوگا یا باہر تک گیا ہوگا ، راستہ لمبا تھا ، وہ جوتے پہنتی باہر بھاگی ، راستے میں کسی کو ٹکر بھی لگ گئ ، اس کا دل رکنے لگا ، گیٹ سے باہر نکلتے کی اس کی نظر سڑک کی دوسری طرف گئ ، ایرک سامنے جارہا تھا ، ایک ہاتھ میں فائل تھی ، دوسرا ہاتھ جیب میں تھا
” ایرک۔۔۔۔۔”
اس نے نہیں سنا
” سنو ۔۔۔ “
اس کا سانس پھول گیا ، وہ لمبا فراک پہنے ہوئے تھی ، لمبے فراک پر لمبا کوٹ ، فراک پاؤں میں آگے لگا ، اس کے قدم مزید تیز ہوئے
” ایرک۔۔۔۔”
اس نے کانوں میں ہینڈ فری ڈالی ہوئ تھی ، وہ چلتا تھا تو ارگرد سے بے نیاز ہو کر چلتا تھا ، جیسے دنیا کی پرواہ نہیں تھی بھلے ہی راکھ میں تبدیل یا خاک میں
وہ خاک تھی نا راکھ لیکن اس وقت دل مٹی ہورہا تھا ، تیزی سے چلتے اس کا پاؤں زور سے مڑا ، دھڑام سے گرتے اس نے ہلکی سی چیخ ماری ، ایرک رکا کوئ احساس تھا جو وہ پلٹا
” معطر۔۔۔۔”
وہ روڈ کی دوسری سائیڈ پر بیٹھی تھی ، ایرک سر پر ہاتھ مارتا اس تک آیا
” تمہیں ازلنگٹن کی سڑکوں پر گرنے کا شوق ہے ؟”
اس کے پاس آتے غصے سے اسے دیکھا ، وہ ہاتھ پاؤں پر رکھے بیٹھی تھی ، آنکھوں میں غصہ لئے اسے نظر اٹھا کر دیکھا
مغربی معاشرے کا مرد مشرقی لڑکی کی آنکھوں کو دیکھ کر تھم گیا
” تم بہرے ہو ؟ کب سے بلا رہی تھی “
وہ کراہ کر اٹھتے کہہ رہی تھی ، ایرک نے سر جھٹکتے اسے تھامنا چاہا جب معطر نے اس کا ہاتھ جھٹکا
” کس لئے بلا رہی تھیں ؟ “
تحمل سے اس کا انداز دیکھا ،جو لڑکھڑا کر سیدھی ہورہی تھی
” جب چلا کرو تو یہ کانوں سے نکال کر چلا کرو “
” اب تم میری چیزوں پر آجاؤ ، ایرک کی سائیکل سے لے کر اس کا موبائل سب بیکار ہے “
” تم چپ کرو گے ؟”
” تم بولنا شروع کروگی ؟”
” میری بات سنو۔۔۔۔” لڑکھڑا کر ساتھ دیوار کو تھاما ، ایرک وہیں ٹھہرا رہا ، وہ جانتا تھا وہ سہارا دینے کی کوشش کرے گا تو وہ ہاتھ جھٹک دے گی” یہ جو خبر چلوائ ہے اسے ہٹواؤ “
” کون سی خبر ۔۔۔۔ تیمور کی ؟”
” ہاں وہی۔۔۔۔”
” کیوں ؟ تمہاری سوئ محبت پھر سے جاگ تو نہیں گئ ؟”
” جہنم میں جائے محبت ، اسے پولیس نے گرفتار کرلیا ہے “
” اوپسس۔۔۔۔۔” اس کے ہونٹ گول ہوئے
” وہاں حالات خراب ہوجائیں گے ، ہٹواؤ خبر “
” یہ تو ناممکن ہے اب ، کلپ اب کیسے ہٹے گا ؟ ، تم خود اسے ایک ایک بندے کو بھیج چکی ہو “
اس نے کاندھے اچکائے
” پھر ایسا کرو ، شایان سے کہو اپنے بابا سے بات کرے کہ وہ شو میں بتائیں یہ خبر جھوٹی تھی “
” مجھے یقین ہے اس چوٹ نے تمہارا دماغ متاثر کیا ہے “
” کام کی بات کرو “
وہ اکتائ ، پیر درد کررہا تھا ، وہ بمشکل وہاں ٹھہری تھی
” بات یہ ہے مادام ، کون سا نیوز اینکر آ کر ٹی وی پر کہے گا کہ اس کی دی گئ خبر جھوٹی تھی ؟ یہ صحافتی خود کشی ہوگی ، اور کوئ صحافی اتنا بے وقوف نہیں ہوتا “
” اللہ ۔۔۔۔ یہ کیا کردیا میں نے “
” تمہیں برا کیوں لگ رہا ہے اب ؟ خود ہی تو کہا تھا یہ سب کرنے کو “
” برا کسے لگ رہا ہے……” حالانکہ لگ رہا تھا ” میں اتنا آگے اس سب کو نہیں لے جانا چاہتی ، مجھے لگا صرف خاندان میں بات پھیلے گی ، پولیس تک نہیں لے جانا تھا معاملہ “
” وہ اسی لائق تھا۔۔۔” بے نیازی سے کاندھے اچکائ ، اس کی یہ بے نیازی یوں تھی جیسے پوری دنیا کو قدموں میں رکھتا ہو ،معطر جھنجھلائ
” وہ جس لائق بھی تھا ، کم از کم میں اسے جیل نہیں بھیجنا چاہتی تھی ، اور یہ تو ہرگز مت سوچنا کہ میری مر چکی محبت جاگ رہی ہے ، مسئلہ یہ ہے ایرک کہ جس دن اسے پتا چلا کہ وہ میری وجہ سے جیل گیا تھا تم سوچ بھی نہیں سکتے وہ کیا کرے گا ، میرا خاندان پاکستان میں ہے اور اس کی طاقتور لوگوں سے دوستی ہے ، وہ میرے خاندان کے لئے مسئلے کھڑے گا ، تم سمجھ نہیں رہے “
” اسے کیسے پتا چلے گا ؟”
” تم اس کی پہنچ سے واقف نہیں ہو “
” اسے کیسے پتا چلے گا معطر ؟”
” کیسے پتا چلے گا مطلب ؟ اس کے جاننے ۔۔۔۔”
” اسے کیسے پتا چلے گا معطر کہ یہ خبر تم نے چلوائ ہے ؟ یہ خبر معطر صبا نے چلوائ ہے تیمور کو کیسے پتا چلے گا ؟”
وہ یکدم تھم گئی
” تم نے۔۔۔۔”
” میں نے شایان کے سامنے تمہارا نام نہیں لیا تھا ، اس نے یہ خبر میرے کہنے پر چلائ تھی ، نام آئے گا تو میرا آئے گا “
اس کے کاندھے ڈھیلے پڑے ، ٹیشن دور ہوئ ، دل سے کوئ بوجھ سرکا ، ایرک یکدم ہی تھوڑا سا اچھا لگا
” ہاں۔۔۔۔ اسے کیسے علم ہوگا ” پھر وہ چونکی ” لیکن تمہارا نام آگیا تو ؟”
” تو کیا ؟”
” تم پھنس جاؤگے ایرک “
” میں کیوں پھنسوں گا ؟ مجھے پاکستان کی پولیس یہاں گرفتار کرنے آئے گی یا تمہارا کزن رپورٹ درج کروائے گا ؟”
” تم سمجھ نہیں رہے ۔۔۔۔ خبر اگر تم نے دی ہے تو ۔۔۔” وہ رکی، بات یکدم سمجھ میں آئ ، ایرک اسے ہی دیکھ رہا تھا
” دیٹس دا پوائنٹ مادام ، اسے علم ہو بھی جائے کہ خبر میں نے دی ہے تو سچ ہی دی ہے ، وہ اگر گرفتار ہوا ہے تو ظاہر ہے وہ مکسنگ کررہا تھا ، اس پر میں کیوں پھنسوں گا ؟ ، مجھے کیسے علم ہوا یہ کون اگلوائے گا ؟ ایک صحافی کے پاس خبر دینے کا حق ہوتا ہے ، میں نے وہی حق استعمال کیا ہے ، وہ اس پر مجھے کچھ نہیں کہہ سکتے ، خاص کر تب جب میرے پاس امریکی اور برطانوی شہریت ہے “
کاندھے اچکائے
” ہاں ٹھیک ہے۔۔۔۔معاملہ نہیں بگڑے گا “
خود کو تسلی دی لیکن دل مطمئن کیوں نہیں ہورہا تھا ؟ وہ کیا تھا جو کھٹک رہا تھا ؟ کیا تھا جو برا لگ رہا تھا ؟
” بالکل۔۔۔۔ ، اور اب یہ اپنا لنگڑا پاؤں سنبھالو ، میرے اوپر گریں تو میں اپنی نئ شرٹ کے لئے تمہاری آدھی سیلری خرچ کروں گا “
لنگڑا پاؤں ؟ تپ کر اسے دیکھا ، جو اچھا لگا تھا وہ زہر میں تبدیل ہوا
” تم یہاں کیوں ہو ؟ جاؤ انٹرویو دینے “
” میں یہاں گارڈز کی پریڈ دیکھنے کے لئے رک گیا تھا ، سامنے دیکھو کتنی بہترین تقریب چل رہی ہے “
اس نے طنز نظر انداز کرتے آگے بڑھنا چاہا ، لیکن پاؤں کا درد ، افففف اللہ ، یقیناً موچ آ گئ تھی ، وہ کراہ کر رک گئ
” اجازت ہو تو ہاتھ پکڑ لوں تمہارا ؟ صرف سہارا دے کر ٹیکسی میں بٹھاؤں گا “
اس کا چلتا وجود رک گیا ، وہ سامنے ٹھہرا کہہ رہا تھا ، وہی نرمی جو اسے سنان کے چہرے پر نظر آتی تھی ، وہی انداز جو سنان کا تھا
” چلی جاؤں گی۔۔۔ “
اسے سہارے کی ضرورت نہیں تھی ، ایرک گہری سانس لیتا اس کے سامنے آیا ، اپنا ہاتھ آگے کیا
” ہاتھ نا سہی کوٹ ہی پکڑ لو ، ورنہ گر جاؤ گی “
” کہاں نا نہیں گروں گی “
ماتھے پر بل ڈالے اس نے بہادری کا مظاہرہ کرتے آگے بڑھنا چاہا جب لڑکھڑا کر گرنے کو تھی ، فوراً ایرک کے کوٹ کو پکڑا ، وہ ایک ہاتھ جیب میں ڈالے دوسرا ہاتھ آگے بڑھائے اسے ہی دیکھ رہا ہوں ، کوٹ پر اس کا ہاتھ آیا تو ابرو اچکائے ، معطر کو شدید سبکی ہوئ ، سیدھا ہوتے اس کا کوٹ پکڑا ، فلوقت کسی اور چیز کا سہارا ہوتا تو وہ اس کا کوٹ کبھی نا پکڑتی ، ایرک بنا طنز کئے آگے چلا ، قدم چیونٹی کی طرح تھے ، وہ جو یوں چلتا تھا کہ سفر سمٹ جاتا تھا وہ یوں چل رہا تھا کہ سفر طے ہی نہیں ہورہا تھا، جس کی رفتار وقت سے تیز سمجھی جاتی تھی وہ قدم گن گن کر رکھ رہا تھا
آگے بڑھتے اس نے ٹیکسی کو روکا پھر دروازہ کھولتے سائیڈ پہ ہوا ،معطر کراہ کر اندر بیٹھی ، وہ دروازہ بند کرتا دوسری طرف گیا اور پیسنجر سیٹ پر بیٹھا
” تم کہاں جارہے ہو ؟”
” میں قطعاً بھی یہ طعنے سننے کے موڈ میں نہیں ہوں کہ انگریز غیر مہذب قوم ہے ، تمہیں گھر چھوڑنے جارہا ہوں تاکہ ان طعنوں سے بچ سکوں “
” چھوٹی بچی نہیں ہوں میں ، انٹرویو دینے جاؤ تم “
اب اتنا بھی اس کا پاؤں زخمی نہیں ہوا تھا جو وہ اس کے ساتھ جاتا
” انٹرویو میں دیر ہے ، تمہیں اتار کر چلا جاؤں گا “
” ایرک ۔۔۔۔۔۔”
وہ جھنجھلائ
” بحث کرکے تم صرف وقت ضائع کروگی “
وہ چپ ہوگئ ، سر جھٹکتے پیچھے کو ٹیک لگالی ، اسٹور سے آج چھٹی کی تھی کہ عمر بھائ اور نادیہ بھابھی سے مل آئے گی ،کیا سوچیں گے کتنی بے مروت لڑکی تھی ایک بار بھی ملنے نہیں آئ اور یہ مصیبت آ گئ ، ایرک کیان کا ازلنگٹن اسے شاید پسند نہیں کرتا تھا
گاڑی راستوں سے ہوتی فنسبری پارک تک پہنچی تو وہ اس سے پہلے اترا ، اس کی طرف کا دروازہ کھولا اور اپنا کوٹ آگے کیا
” بانو آپا کو بلا دو ۔۔۔۔”
” تم دو قدم نہیں چل سکتیں ؟ کچھ کھاتی کیوں نہیں ہو ؟ “
اور بس ، اس کی غیرت کو تازیانہ لگا تھا ، اب مجال ہے جو اس کا کوٹ پکڑ لیا تو ، کھڑا ہوتے کار کو تھاما ، کرایہ اس نے ایرک کے احتجاج کے باوجود ٹیکسی میں ہی دے دیا تھا ، دوسرے ہاتھ سے کسی طرح چل کر دیوار کو تھاما اور اس کی بس ہوگئ
” نہیں ۔۔۔۔بہادری دکھانا تو ضروری ہے نا “
وہ تپانے والی مسکراہٹ سے کہتا آگے آیا اور دروازہ بجایا ، ایک بیل پھر دوسری پھر تیسری ، اس نے ایرک کو روکنا چاہا کیونکہ اس کے بعد بانو آپا نے اس کے ساتھ جو کرنا تھا وہ پورا فنسبری پارک سنتا ، چوتھی بار بجانے کے بعد اس نے پانچویں بار ہاتھ رکھا ہی تھا جب دھاڑ سے دروازہ کھلا اور بانو باہر نکلیں
” کیا مسئلہ ہے ؟”
پھاڑ کھانے والا انداز ، وہ گڑبڑایا پھر مسکرایا
” ہیلو سوئیٹ لیڈی ۔۔۔۔ میں ایرک ہوں ، آپ کو دیکھ کر خوشی ہوئ ، ملاقات کے بعد مزید خوشی ہوگی “
سر جھکاتے اس نے سینے پر ہاتھ رکھا ، بانو آپا کا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھا ، اس سے کچھ کہنے لگیں پھر نظر معطر پر گئ ، وہ پریشانی سے آگے بڑھیں ، دروازے سے بمشکل ٹیک لگائے وہ ضبط سے ایرک کو دیکھ رہی تھی
” تمہیں کیا ہوا ہے ؟”
” پاؤں مڑ گیا “
” اللہ۔۔۔۔ اندر آؤ “
اسے سہارا دیتے تھاما پھر ایرک کے پاس سے گزرتے ہوئے رکیں
” تم بھی چلو اندر ۔۔۔۔ “
” بہت شکریہ لیکن مجھے ضروری کام سے جانا ہے ،لیکن کیونکہ اب آپ یقیناً اصرار کریں گی تو میں کل ضرور آؤں گا “
معطر نے اکتا کر اور بانو آپا نے کچھ حیرت سے مسکرا کر اسے دیکھا پھر سر ہلایا ، وہ باہر کی طرف جاتے ہوئے ٹیکسی میں بیٹھ رہا تھا ، اسے انٹرویو کے لئے دیر ہوگئ تھی
” کون تھا یہ ؟”
سہارا دے کر اسے لاؤنج میں بٹھاتے وہ پوچھنے لگیں
” ہے کوئ۔۔۔۔ خواہ مخواہ میرے پیچھے پڑ گیا ہے “
” پیچھے پڑ گیا ہے ؟”
وہ اسے صوفے پر بٹھاتے رکیں
” جی۔۔۔۔ تنگ کرنے کا بہانہ چاہئے اور۔۔۔۔”
اس نے مختصراً ایرک کیان کا بتادیا ، بانوآپا خاموشی سے سنتی رہیں
” دلچسپ لگ رہا ہے یہ تو “
” خطرناک ہے ۔۔۔دلچسپ نہیں “
اسے ایرک پر خواہ مخواہ غصہ آرہا تھا ، بانو آپا سر جھٹکتی اندر سے کوئ کریم لینے جارہی تھیں اور صوفے پہ بیٹھی معطر اپنا موبائل کھول رہی تھی ، ایرک صحیح کہتا تھا تیمور کو علم نہیں ہوگا کہ یہ خبر کس نے چلوائ تھی ، وہ یہ نہیں چاہتی تھی لیکن اس کا قصور بھی نہیں تھا ، سر جھٹکتے اس نے خود کو بتانا چاہا کہ اسے فرق نہیں پڑا تھا کہ وہ جیل میں ہے ، اسے فرق نہیں پڑتا تھا کہ اس کی زندگی تباہ ہوجاتی ، لیکن کہیں اندر دل کے کسی کونے میں اسے فرق پڑا تھا، دل کا وہ کونہ کسی نے مٹھی میں لے رکھا تھا ،ایسا کونا جسے ہر کوئ دل میں دفنا دیتا ہے جو احتجاج کرے تو اس کی نہیں سنی جاتی ، اس نے بھی وہ کونا دفنادیا تھا ، موبائل کھولتے اس نے دانیال کو کال کی ، مکمل معلومات لینا اس وقت وہ بھول گئ تھی
اور اسے یہ بھی بھول گیا کہ اگر ازلنگٹن کے ایرک کیان کا نام آتا تو تیمور حیدر کو ازلنگٹن میں موجود معطر صبا کا خیال بھی آتا ، اسے بھول گیا کہ ازلنگٹن میں ایرک کیان کی نہیں معطر صبا کی تیمور سے دشمنی تھی اور تیمور حیدر کو ایرک کیان کا نام سن کر معطر صبا یاد آتی
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
