192.3K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Laa (Episode 12)

Laa By Fatima Noor

اگر وہ سوچتا تھا کہ وہ پوری دنیا تسخیر کرسکتا ہے اور معطر صبا اسی دنیا کا حصہ ہے تو وہ غلط سوچتا تھا ، جس دنیا میں تیمور حیدر اب رہ رہا تھا وہ دنیا معطر صبا کب کی چھوڑ چکی تھی ، اس نے اگلے دن اپنے دوسرے نمبر سے ایک ایڈریس بھیجا ، ساتھ فقط ایک پیغام

” میں تمہارا انتظار کروں گا “

اس نے دیکھ کر نظر انداز کردیا ،تیمور حیدر کا سامنا اس کے دل کو منظور نہیں تھا، آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اس نے خود کو کئ بار بتایا کہ وہ کمزور نہیں پڑے گی، وہ اسے ازلنگٹن کی سڑکوں پر نظر نہیں آئے گا، آیا تو وہ اس کے سامنے نہیں رکے گی ، نا اس کی بات سنے گی ، سن لی تو یقین نہیں کرے گی ، وہ میٹھے بول بولے گا تو وہ نظر انداز کردے گی ، وہ کہے گا کہ وہ اسے یاد کرتا ہے تو وہ ان سنا کردے گی ، اگر وہ پاکستان سے اکیلے ایک اجنبی ملک میں آ سکتی تھی تو وہ اجنبی ملک میں آنے والے شخص کو بھی نظر انداز کرسکتی تھی

وہ ایسا ہی کرے گی اب ، ٹھیک ہے ،طے ہوا

پر جو طے کیا جائے وہ کہاں ہوتا ہے ؟

وہ اگلے دن کوزی مگ سے تیزی سے اسٹیشن کی طرف جارہی تھی جب راستے میں کسی چیز سے لڑکھڑا کر گرنے لگی پھر بمشکل خود کو سنبھالا ، ایک تو ان انگریزوں نے ہر دوسری جگہ ڈسٹبن لگا رکھے تھے اور وہ پاکستانی ہر دوسری جگہ گر جاتی تھی ، پاؤں کو پکڑے وہ ساتھ رکھے بینچ پر بیٹھی ، جوتا ٹوٹ گیا تھا ، اسے اکتاہٹ ہوئ ، اب وہ ٹوٹے جوتے کے ساتھ ازلنگٹن کی سڑکوں پر چلے گی ؟ سر اٹھا کر اوپر دیکھا ، آج موسم نسبتاً بہتر تھا ، سورج بالکل سامنے چمک رہا تھا، اس نے جوتا اٹھا کر دیکھنا چاہا کہ شاید بن جائے ، ایک سٹریپ ٹوٹ گئ تھی ، اب نیا جوتا لینا پڑے گا ، لیکن یہاں کوئ جوتوں کی مارکیٹ نہیں تھی ، وہ کچھ فاصلے پر تھی اور اسے وہاں تک پیدل جانا پڑتا

” اور پہنو سردیوں میں بھی یہ سینڈل اور چپلیں “

خود کو کوسا

” میں تمہارا انتظار کررہا تھا”

بالکل سامنے سے کسی کی آواز آئ ، اس نے دھیرے سے سر اٹھا کر اوپر دیکھا ، سرد موسم کے سورج کو سورج کے سامنے آنے والے نے چھپا لیا تھا ، وہ جو گرمیوں کا سورج بن گیا تھا تپش زدہ ، حبس زدہ

معطر نے سر جھکا کر ایک بار پھر جوتے کو دیکھا پھر پاؤں کو ، اسی پاؤں پر کچھ دن پہلے ایرک کی وجہ سے چوٹ لگی تھی

” تم مجھے اگنور کررہی ہو ؟”

” ہاں۔۔۔۔”

تیمور کے چہرے پر سرخی دوڑی

” لندن آ کر ۔۔۔۔”

” میں لندن آ کر بدل گئ ہوں تیمور ، میں لندن آ کر مغرور ہوگئ ہوں ، میں لندن آ کر تمہیں بھول گئ ہوں “

وہ ٹوٹا جوتا لیتی اٹھ کھڑی ہوئ ، چہرے پر کوئ تاثر نہیں تھا ، تیمور چند لمحے اسے دیکھتا رہا

” اور میرا کیا معطر ؟ میرے دل کا کیا ؟”

” اپنے دل سے متلعق کوئ الزام مجھ پر مت ڈالو ، تم شادی کر چکے ہو ، آگے بھی بڑھ چکے ہو ، میرا دل اب تک وہیں ہے ،لیکن آگے میں بھی بڑھ چکی ہوں “

وہ ٹوٹا جوتا اٹھاتی دوبارہ سے جانے لگی جب پشت پر اس کی آواز ابھری

” وہ میری پسند نہیں تھی ۔۔۔۔” وہ رک گئ ، جوتے پر گرفت مضبوط ہوگئ ، تیمور چلتا ہوا اس کے سامنے آرہا تھا ، آنکھیں سرخ تھیں ” نازنین میری پسند نہیں تھی ، میری پسند تم ہو معطر “

ہو ؟ وہ” ہو ” کہہ رہا تھا ؟

” ان سب باتوں کا وقت گزر چکا “

” گزرے وقت میں میرا دل ٹھہر گیا ہے ، میں نے کہا تھا میں آگے بڑھ جاؤں گا ، میں آگے بڑھ گیا ، میرا دل وہیں کہیں رہ گیا ، کسی سرخ گلاب میں ،کسی چھت کی منڈیر پر ، میں تمہیں نہیں بھلا پارہا معطر “

وہ چاہتا کیا تھا ؟ اب ان سب باتوں کا کیا فائدہ ؟

” یہ الفاظ تمہیں اپنے بیوی کے لئے بولنے چاہئیں , میرے راستے سے ہٹ جاؤ “

وہ سختی سے کہتی جانے لگی جب وہ ایک بار پھر بولا

” مجھے ایک موقع دے سکتی ہو ؟”

وہ دھیرے سے پلٹی

” کیسا موقع ؟”

تیمور کچھ دیر اسے دیکھتا رہا

” ایک موقع اور ؟ ہم نے جہاں سے چھوڑا تھا وہیں سے شروع کرلیتے ہیں”

اور اس لمحے کسی نے اس کی ذات کے پرخچے اڑائے تھے ، اس کا چہرہ دھواں دھواں ہوا ، گال اہانت سے تپ اٹھے

” تم جانتے بھی کیا کہہ رہے ہو ؟”

” جانتا ہوں ۔۔۔ میں یہ بھی جان گیا ہوں کہ میں آج بھی تم سے پہلے دن جتنی محبت کرتا ہوں ، یہ بھی کہ تم آج بھی مجھ سے آخری دن جتنی محبت کرتی ہو ، میری محبت تمہاری محبت سے ایک موقع اور چاہتی ہے معطر “

اتنی بڑی بات وہ اتنی آسانی سے کہہ گیا تھا ؟ اس قدر آسانی سے ؟

” میری نظروں سے دور ہوجاؤ تیمور “

وہ دبا دبا غرائ

” میرے ساتھ یہ مت کرو معطر “

” اور تم اپنے ساتھ یہ مت کرو ، خود کو میری نظر میں مت گراؤ “

” ہم سب ٹھیک کرلیں گے ، ایک موقع پلیز “

” تم ہوش میں نہیں ہو “

آواز کانپ گئ

” میں جانتا ہوں میں کیا کہہ رہا ہوں “

“لیکن تم یہ نہیں جانتے کہ تمہارے کہے گئے الفاظ کی کتنی بڑی قیمت ہے “

” صرف ایک بار سوچو معطر ، ٹھنڈے زہن سے ، میں کچھ غلط تو نہیں کہہ رہا ،میں کچھ غلط تو نہیں چاہ رہا۔ “

وہ چند لمحے اسے غصے سے دیکھتی رہی پھر دو قدم چل کر اس کے سامنے آئ

” ٹھیک ہے ،فرض کرتے ہیں میں دے رہی ہوں موقع ،کیسے ٹھیک کروگے سب ؟”

تیمور کے چہرے پر پہلی بار مسکراہٹ ابھری ،یوں جیسے وہ جانتا تھا کہ یہی کہے گی

” ہم شادی کرلیں گے “

” اور نازنین ؟”

” نازنین کیا ؟”

” اسے چھوڑ دو گے ؟”

وہ لمحہ بھر کو چپ رہ گیا

“چھوڑوں گا کیوں ؟ “

” تم مجھے اپنی زندگی میں شامل ہونے کا کہہ رہے ہو ، یعنی اس کی جگہ مجھے دینا چاہتے ہو “

” میں تمہیں تمہاری جگہ دینے کا کہہ رہا ہوں جو ہمیشہ سے تمہاری تھی “

” وہاں اب نازنین ہے “

” وہاں اب بھی کوئ نہیں ہے”

” مجھے الجھاؤ مت تیمور حیدر ، بتاؤ کہ نازنین کا کیا ؟ طلاق دے دو گے اسے ؟”

طلاق ؟ تیمور حیدر کی ہستی اس لفظ پر الجھ گئ

” طلاق کیوں دوں گا ؟ “

” تو تم مجھے دوسری عورت بننے کا کہہ رہے ہو ؟”

وہ زخمی سا مسکرائ

” نہیں۔۔۔میں “

معطر نے اس کی بات کاٹ دی

” تم یہی کہہ رہے ہو ۔۔۔ تو سنو پھر۔۔۔ میں مرنا پسند کروں گی لیکن کسی مرد کی زندگی میں دوسری عورت نہیں بنوں گی ، میں مرنا پسند کروں گی لیکن کسی پہلی عورت کا گھر برباد نہیں کروں گی ، معطر صبا اتنی بھی سستی نہیں ہے تیمور حیدر کہ تم محبت کے دو بول سے اسے خرید لو جب کہ تم نفرت کے کئ بول پہلے ہی بول چکے ہو “

چبا چبا کر کہتے اس کے چہرے پر سختی مزیدبڑھ گئ ، وہ اسے سمجھ کیا رہا تھا ؟

” تو پھر کیا کرو گی ؟ خاندان میں ہر ایک جانتا ہے کہ میں نے تمہیں چھوڑا ہے ، کون اپنائے گا تمہیں ،؟ چھوڑی ہوئ عورت ناقابل قبول ہوتی ہے ، تم سمجھ نہیں رہیں “

تلخی سے کہتے اس نے اختتام پر لہجہ نرم کرنا چاہا

” میں محبت میں محبت سے زیادہ وفا کی قائل ہوں ، تم نے محبت کی اور وفا نا کرسکے ،میں نے جو محبت کی اس پر پوری وفا سے قائم رہی ، لیکن صرف اس دن تک تیمور جس دن میرے دل نے کسی اور کو یاد کرلیا ، جس دن میرے دل کو کوئ اور شخص حفظ ہوا میں تمہیں بھول جاؤں گی ، اور کوئ ہوگا ۔۔۔۔ کوئ تو ہوگا جسے وفا نبھا آتی ہوگی ، کوئ ہوگا جسے مخلص رہنا ہے تو صرف مجھ سے رہے ، جو جگہ میری ہو وہ مجھے دے ، وہ مجھے چھوڑ کر جانے والا نا ہو ، پھر لوٹ کر یہ نا کہے کہ ایک موقع اور دے دو۔۔۔۔ میں اپنی زندگی میں ایسا مرد چاہتی ہوں اور اب تیمور حیدر تم وہ مرد نہیں ہو “

اس نے بمشکل ڈھیروں آنسو ضبط کرلئے ،آج نہیں ،آج نہیں رونا تھا ، اب تو بالکل نہیں

” تو پھر کون ہے وہ مرد معطر صبا ؟”

اس کے چہرے کی نرمی لمحے میں غائب ہوئ تھی ، نا اپنی تذلیل برداشت ہوئ تھی نا ٹھکرایا جانا

” کم از کم تم نہیں ہو “

وہ اب پلٹ جانا چاہتی تھی، رخ موڑ لینا چاہتی تھی

” اور وہی پوچھ رہا ہوں کہ کون ؟ لندن کا کوئ گورا ڈھونڈا ہے یا اپنے ملک سے کوئ لینڈ لارڈ ؟”

جسے پلٹ جانا تھا کسی نے اس پر سے ٹرین گزار دی ،جسے رخ موڑ لینا تھا ، اس کا چہرہ ساکت ہوا

” اپنی زبان کو لگام دو تیمور “

” بات کھل گئ ہے تو ٹھیک ہے ،میں تمہیں عزت دینا چاہ رہا تھا لیکن تمہیں وہ عزت راس نہیں آرہی۔۔۔۔” وہ سخت آنکھوں اور تپش بھرے لہجے میں کہتا اس کے بالکل سامنے آ رکا” میں نے باوجود اس کے کہ تم یہاں کیا کرتی پھر رہی ہو تمہیں اپنانا چاہا ، لیکن تم اس قابل ہی نہیں ہو “

” کیا کرتی پھر رہی ہوں میں یہاں ؟ “

اس کا لہجہ سلگ گیا

” کون سی کمپنی میں جاب کررہی ہو تم معطر ؟ نام بتا سکتی ہو ؟”

اس کا پورا وجود تھم گیا ، اس نے جانا کہ وہ جانتا تھا ، وہ جانتا تھا وہ یہاں ایک کیفے میں ویٹرس تھی ، ایک اسٹور میں ملازمہ تھا ، وہ جانتا تھا اسی لئے تو اس راستے پر ٹھہرا تھا جہاں سے وہ گزرتی تھی

” تم۔۔۔۔”

” میں تیمور حیدر ہوں معطر صبا ، اپنے خاندان کا سب سے کامیاب مرد ، جس کے پیچھے لوگ چلتے ہیں ، جس کے ساتھ کی خواہش خاندان کی ہر لڑکی کو ہے ، تم مجھے ٹھکرا رہی ہو ؟ تم ہو کون؟”

اس سے اپنی تذلیل برداشت نہیں ہوئ تھی ، وجود انگاروں پر لوٹا تھا ، جو تذلیل وہ برداشت نہیں کرسکا تھا وہ تذلیل اب وہ اس کے حصے میں ڈال رہا تھا

” مزید کچھ مت کہنا تیمور “

اس کا لہجہ کپکا گیا

” اب نہیں ، تم نے میری زبان کو خود موقع دیا ہے تو اب اس کا زہر برداشت کرو۔۔۔۔”

تیمور کے الفاظ زبان میں رہ گئے ، اس کے بالکل پیچھے سے کسی نے پکارا تھا

” آپ ٹھیک ہیں معطر ؟”

سنان سعدی ، اس لمحے وہ آخری شخص ہوتا جسے یہاں موجود ہونا چاہئے تھا ، معطر نے کراہ کر آنکھیں بند کیں ، تیمور چونک کر مڑا ، سامنے سیاہ پینٹ پر سفید شرٹ کے بازوں موڑے کوئ مرد ٹھہرا تھا ،سیاہ کوٹ بازوں پر تھا، اس پر مستزاد وہ معطر کا نام لے رہا تھا، تیمور کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ اتری

” معطر ؟ کیا یہ تمہارا نام لے رہا ہے ؟ تو یہ ہے وہ جس کے لئے تم مجھے منع کررہی ہو ؟”

داد بھرے انداز میں کہتا وہ واپس اس کی طرف پلٹا جو ضبط سے سرخ پڑتے چہرے کے ساتھ ٹھہری تھی

” خاموش ہوجاؤ تم “

” تو کیا کرتے ہو تم ؟ شکل تو اچھی ہے ، کماتے کتنا ہو ؟ یقیناً امیر تو ہوگے، ظاہر ہے اگر یہ مجھے تمہارے لئے ٹھکرا رہی ہے تو چھوٹی آسامی تو تم ہو گے نہیں “

وہ سنان کی طرف دیکھتا پوچھ رہا تھا ، معطر صبا کو لگا کسی نے اسے زمین میں گاڑھ دیا ہو

” آپ کون ہیں مسٹر ؟”

سنان کچھ سختی اور بے زاری سے بولا ، ایک نظر معطر پر بھی ڈالی ، اس طرح سڑک پر سرخ چہرے کے ساتھ وہ کیوں ٹھہری تھی ؟ اور یہ مرد کون تھا ؟

” میں ؟…” اس نے اپنے سینے پر انگلی رکھی ” تمہیں اس نے میرا نہیں بتایا ؟ بہت خوب ، کس قدر چالاک عورت ہو تم ، اور میں تمہیں معصوم سمجھتا رہا ، افسوس “

وہ معطر کی طرف واپس پلٹا جو سخت نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی

” مزید ایک لفظ نہیں تیمور ۔۔۔۔”

تیمور ؟ وہ تیمور حیدر تھا ،سنان کو یکدم احساس ہوا وہ غلط وقت پر غلط جگہ آ گیا تھا

” آئ ایم سوری ۔۔۔ مجھے جانا چاہئے “

وہ آکورڈ سی پوزیشن کا حصہ بن گیا ، دل کے ہاتھوں یوں ہی مجبور ہو کر اسے دیکھنے چلا آیا تھا ، اور دل نے ہر بار کی طرح اس بار بھی اذیت ہی چنی تھی ، اس لمحے اس نے سامنے کھڑے انسان کے لئے صرف ایک جذبہ محسوس کیا تھا ، رقابت کا جذبہ

” آہاں۔۔۔ رکو مسٹر ۔۔۔معاملہ واضح تو ہونے دو ” وہ یکدم درمیان میں آ ٹھہرا ، یوں کہ سنان اور معطر آمنے سامنے آگئے ” تو یعنی بات یوں ہے کہ پاکستان سے آنے والی محترمہ معطر صبا جو اپنے باپ کی بیماری کا بہانہ لے کر آئ تھیں وہ یہاں لندن میں عشق کی داستان درج کررہی ہیں ، حالانکہ یہی معطر صبا کل تک میری محبت کا دم بھرتی تھیں “

وہ اس کی ذات کے پرخچے اڑا رہا تھا اور سر عام اڑا رہا تھا ،کسی نے اس کے حلق میں موجود زبان کھینچ لی تھی ،کاش کوئ تیمور کے حلق میں موجود زبان بھی کھینچ لیتا

” آپ غلط سمجھ رہے ہیں مسٹر تیمور “

سنان کو جیسے اب صورتحال کا اندازہ ہوا تھا ، اور جو اندازاہ ہوا تھا وہ خطرناک تھا ، وہ اس کی وجہ سے معطر کو غلط سمجھ رہا تھا

” اب تو صحیح سمجھا ہوں میں ، اور تم ۔۔۔” وہ یکدم پلٹتا معطر کی طرف آیا ” تم جو پاکستان سے یہاں کمانے آئ تھیں تاکہ اپنے بستر پر پڑے باپ کی زندگی بچا سکو یہ کما رہی ہو تم ؟ ایک کیفے کی ویٹرس ؟ ایک اسٹور کی ملازمہ ؟ کم آن معطر صبا اتنی تو میری سیکرٹری کی تنخواہ بھی نہیں ہو گی جتنا تم ان دو جابز سے ملا کر کماتی ہو ، ان چند ٹکوں کے لئے تم مجھے ٹھکرا کر آئ تھیں ؟ مجھے ؟ کتنے سستے میں خود کو جانے دیا تم نے “

وہ افسوس سے کہہ رہا تھا ،لہجہ آگ جیسا تھا ،۔ لہجہ برف جیسا تھا ، اسے رجیکشن نے غضبناک کیا تھا ،وہ اس غضب میں اسے جلانا چاہتا تھا

” خاموش ہوجاؤ تیمور “

وہ جو جل رہی تھی ،اسی جلتے لہجے میں کہنا چاہا

” اب بھی میں خاموش ہوجاؤں ؟ اور تم ؟ تم جو چاہے کرتی رہو ؟ تمہارا بھائ مجھے انگوٹھی واپس کرکے گیا تھا ، اس انگوٹھی کی قیمت جانتی ہو ؟ تم نے خود کو اس سے بھی کم قیمت کا بنا دیا ہے میری نظر میں “

سنان کے ضبط کی انتہا یہیں تک تھی ، وہ آگے بڑھتا تیمور کے سامنے آیا اور بازوں سے پیچھے کی طرف دھکیلا

” ایک لفظ مزید نہیں “

” یہ تو سچا عاشق لگتا ہے ” وہ طنز سے ہنسا ، معطر کا چہرہ اب سیاہ پڑنے لگا تھا ،کسی نے زبان واقعی کھینچ لی تھی

” بس کردو مسٹر ، اس سے پہلے کہ میں یہیں کھڑے کھڑے تمہارا منہ توڑ دوں “

وہ طیش میں آیا تھا ، تیمور پہلے ہی غصے میں تھا ، معطر کو لگا فضا میں آکسیجن کم ہوگئ تھی

” کیا کروگے ؟ تم اس عورت کے لیے مجھے دھمکی دے رہے ہو ؟ میں تمہیں بتاتا ہوں یہ کیا ہے ، چار سال اس نے مجھ سے محبت کی ، چار سال میں نے اس سے محبت کی ، چار سال بعد یہ اپنے کینسر سے مرتے باپ کو بچانے کے نام پر یہاں آگئ ، اور اگر میں اب جاکر اس کے باپ کو بتاؤں کہ کمانے کے نام پر وہ یہاں کیا گل کھلا رہی ہے تو وہ کینسر سے مرے نا مرے غیرت سے ضرور مر جائے گا “

سنان کا دماغ کھول اٹھا ، آگے بڑھتے اس نے یکدم تیمور کا گریبان پکڑا

” کیا بکواس کررہے ہو “

معطر کے ساکت وجود کو ہوش آیا ، وہ جھٹکے سے آگے بڑھی اور سنان کے بازو کو پیچھے کرنا چاہا

” سنان چھوڑیں اسے “

تیمور حیدر زہر سا مسکرا رہا تھا

” اس کی باتیں سنی ہیں آپ نے ؟ “

” سنان چھوڑیں اسے ، آپ کا ان سب سے کوئ تعلق نہیں ہے ، ہاتھ ہٹائیں اس کے گریبان سے “

وہ یکدم چلائ تھی ، سنان کی گرفت ڈھیلی پڑی ، وہ صحیح کہہ رہی تھی ، وہ ہوتا کون تھا اس کے پسندیدہ شخص کا گریبان پکڑنے والا ؟

” تم۔۔۔۔” وہ سنان کا ہاتھ ہٹاتی تیمور کے سامنے آئ ” تم بابا سے کچھ نہیں کہو گے تیمور “

اس کا ہر الزام جائے جہنم میں ، اسے بس یہی ایک فکر دامن گیر ہوئ

” اب تو ضرور بتاؤں گا۔۔۔۔ ” ہلکا سا اس کی طرف جھکتے پھنکارا پھر قہر بھری نظر سنان پر ڈالتے پلٹ گیا ، معطر تھک کر بینچ پر بیٹھی ، آنسو بہنا بھول گئے ، دل کی دھڑکن کب سے رکی ہوئ تھی

” آپ ٹھیک ہیں ؟”

وہ اس کے سامنے آتا پوچھ رہا تھا ، اس نے ساکت بے تاثر نظروں سے سنان دیکھا

” آپ کیوں آئے یہاں ؟”

” گزر رہا تھا تو۔۔۔۔”

جانے اس کے راستے اسی طرف سے کیوں گزرتے تھے ؟ وہ سر جھٹکتی اٹھی

” آئ ایم سوری میری وجہ سے ….”

” اس نے آپ کی وجہ سے کچھ نہیں کہا ، اس سڑک پر اسے کوئ بھی ملتا وہ تب بھی مجھ پر ایسے ہی الزام لگا کر چلا جاتا “

” میں جانتا ہوں وہ جھوٹ کہہ رہا تھا “

” آپ چاہیں تو سچ بھی مان لیں “

وہ آگے بڑھ گئ ، اسے بھول گیا کہ اس کا ایک جوتا ٹوٹ گیا تھا ، وہ ایک جوتے سے چلتی جارہی تھی ، سنان کی نظر اس کے پاؤں پر گئ

” آپ کا جوتا ٹوٹ گیا ہے ،میں نیا لا دیتا ہوں “

” میرا دل بھی اسی جگہ ٹوٹ گیا ہے ، وہ نیا لادیں گے ؟ “

سنان تھم گیا ، حلق میں گلٹی ابھری

” معطر۔۔۔۔”

” جائیں یہاں سے سنان ۔۔۔ “

بے زاری سے ہاتھ جھلایا ، وہ اس وقت ماؤف دماغ کے ساتھ تھی ، سنان کو فکر ہوئ

” آپ ٹھیک نہیں لگ رہیں۔ “

“کہا نا آپ جائیں یہاں سے ، میں سیدھا گھر جاؤں گی ، مجھے اس وقت اپنے کمرے میں بیٹھ کر یاد کرنا ہے کہ غلطی کہاں ہوئ “

آخر پر وہ بڑبڑائ ، پھر سر جھٹکتے آگے بڑھی ، بس آگئ تھی ، اسے گھر جانا تھا ،تب تک شاید سویا دماغ جاگ جاتا

سنان اس کے بس میں سوار ہونے تک وہیں رکا رہا ، دماغ میں بیک وقت بہت کچھ چل رہا تھا ؟ معطر کی داستاں کیا تھی ؟

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

گھر پہنچ کر اس نے سب سے پہلی کال دانیال کو کی

” یہ سب کیا کہہ رہی ہو تم ؟”

” جو سچ ہے وہی کہہ رہی ہوں ، اب جو جھوٹ ہے وہ تیمور کہے گا ،کچھ کرو دانیال “

وہ جلے پیر کی بلی مانند کمرے میں چل رہی تھی

” تمہیں کم از کم مجھے تو بتادینا چاہئے تھا “

” تم خواہ مخواہ پریشان ہوجاتے “

” وہ اب بھی ہوں ، اوہ اللہ ، تم وہاں اسٹور میں جاب کررہی ہو ؟ پہلی فرصت میں جاب چھوڑو “

” مشورہ نہیں مانگا “

” میں مشورہ نہیں حکم دے رہا ہوں”

” میں تمہارے حکم کی پابند نہیں ہوں ، تم بس وہاں حالات سنبھالو “

” کیسے سنبھالوں ؟ تم جانتی ہو جب بابا کو پتا چلے گا تو وہ کیا کریں گے ، اس سے بہتر ہے جاب ابھی چھوڑ دو “

” اور پھر؟ “

” پھر؟ ” لمحہ بھر کو دانیال چپ رہ گیا ” تمہیں یہ جاب کرنی ہی نہیں چاہئے تھی معطر “

” کیا کرتی پھر ؟ تمہیں لگتا تھا یہاں کوئ فیری ٹیل کی کہانی چل رہی تھی ؟ معطر صبا ایئرپورٹ پر پھنس گئ تو کوئ امیر لینڈ لارڈ شہزادہ اس کی مدد کو آیا اور اسے اپنے ساتھ اپنے محل لے گیا ، اس کی فیملی کی دیکھ بھال کی ، ان دونوں کی کہانی چلی اور ہیپی اینڈنگ ہوگئ ” وہ پھٹ پڑی ۔۔۔۔” نہیں دانیال افتخار، یہ کوئ فیری ٹیل نہیں چل رہی جس میں شہزادہ آپ کا پہلی ہی منزل پر منتظر ہو ، یہ حقیقت ہے ، میں دو گھنٹے ایئرپورٹ پر رہی اور کوئ شہزادہ نہیں اترا ، میں نے کیفے میں جاب کی اسٹور میں لوگوں کو سامان اٹھا اٹھا کر دیا ، یہاں کوئ فیری ٹیل نہیں چل رہی جس کے اختتام پر سب ٹھیک ہوجائے ، مجھے اپنی جنگ لڑنی ہے ، تم میری جگہ پر آ کر نہیں لڑ سکتے ، میں سب کچھ چھوڑ کر یہاں آئ تھی ، اپنا سب کچھ ، اور تم فون کرکے کہہ دیتے ہو کہ جاب چھوڑدو ۔۔۔۔ اتنا آسان ہے یہ ؟ “

دانیال خاموشی سے سنتا رہا پھر اس نے گہری سانس لی

” مت چھوڑو ۔۔۔۔لیکن ان الزامات کا کیا ؟”

” میری بلا سے وہ پوری دنیا کو بتادے ، تم صرف بابا کو سنبھال لینا “

” میں کہتا تھا کہ وہ تم سے محبت نہیں کرتا “

وہ آپ سے تم ہوگیا ، نا بھائ رہا نا کوئ عزت باقی رہی

” تم ٹھیک کہتے تھے ، تم ہمیشہ ٹھیک کہتے تھے “

تھک کر کہتے اس نے کال کاٹ دی ، سر دونوں ہاتھوں میں گرا لیا ، وہ ہمیشہ سے ٹھیک کہتا تھا ، اس نے جان لیا تھا

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

جانے دانیال نے بابا سے کیا بات کی ، کیا کہا ،کیسے سمجھایا لیکن اس دن اسے بابا کا فون آیا تو زندگی میں پہلی بار اس نے ان کے لہجے میں وہ تھکن محسوس کی جو میلوں دور اس کے دل کو ان سے زیادہ تھکا گئ ، وہ اس وقت کیفے میں تھی ،کچھ تھک کر اس نے وہ کال اٹھائ

” تم فوراً واپس آؤ معطر ، کوئ ضرورت نہیں ہے وہاں دھکے کھانے کی “

” آپ کہتے ہیں کوئ کام چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا “

” کام کرنے والا چھوٹا یا بڑا ضرور ہوتا ہے ، میں نے تمہیں زمین میں رولنے کے لئے بڑا نہیں کیا تھا ، تمہیں ملکہ بننا تھا معطر”

” میرے سر پر کسی نے تاج ہی نہیں رکھا بابا ۔ملکہ کیسے بنتی ؟ “

” میں نے رکھا تھا “

” پھر یوں سمجھیں اسی تاج کا فرض نبھا رہی ہوں “

” یہ مت کرو ، واپس آجاؤ “

” کچھ عرصہ بابا ،میں یہاں ٹھیک ہوں ،میں نہیں تھکتی ، یہاں سب ٹھیک ہے ،میں نہیں گروں گی ، آپ کی وہ ایک سال کی معطر بائیس سال کی ہوگئ ہے ، اسے اب انگلی کی ضرورت نہیں رہی ، وہ اپنے قدموں پر چل سکتی ہے “

” تم کچھ بھول رہی ہو “

” کیا ؟”

” تمہاری انگلیاں بڑی ہوچکی ہیں ، وہ اب میری انگلیوں میں نہیں آتیں ، انہیں ہاتھ میں تھامنا پڑتا ہے ، اپنے اردگرد دیکھو ، میرا ہاتھ وہاں نہیں ہے “

کال کٹ گئ ، اس کے اندر کا سکون درہم برہم ہوا ، کتنی ہی دیر موبائل کو دیکھتی رہی ،پھر یکدم چونکی

کسی اجنبی نمبر سے کال آرہی تھی

” ہیلو ؟”

موبائل کان سے لگاتے اس نے دیکھا ایرک کیان اسی لمحے اندر آیا تھا ، کاؤنٹر کی طرف بڑھتے اس نے معطر کو نظر انداز کرتے مایا سے کافی مانگی

” معطر ؟”

” کون ؟”

” نازنین بات کررہی ہوں “

اسے شدید ترین اکتاہٹ نے آن گھیرا ،یہ عورت اور اس کا شوہر اس کا پیچھا چھوڑ کیوں نہیں دیتے تھے؟

” میں نے بتایا تھا میں بزی ہوتی ہوں ،تم لوگوں کے ساتھ گھومنے نہیں …”

نازنین نے اس کی بات کاٹ دی

” جو کچھ تم کررہی ہو اس کے بعد تمہیں لگتا ہے میں تمہیں اپنے ساتھ گھمانے پھرانے لے جاؤں گی ؟ “

وہ چلائ تھی ،معطر نے کچھ حیرانی سے اس کی آواز سنی

” نازنین۔۔۔۔”

” تم کتنی مکار ہو معطر ، کتنی بے حیا لڑکی ہو ، جس مرد نے تمہیں چھوڑ دیا اسی پر دوبارہ ڈورے ڈال رہی ہو ، کیا لندن آ کر شرم ختم ہوگئ ہے تمہارے اندر سے ؟”

اس کا چہرہ سفید پڑا ، ایرک جاتے جاتے رکا

” نازنین۔۔۔”

” نام مت لو میرا ، میں اسی وجہ سے یہاں آنا ہی نہیں چاہتی تھی ، اسی ایک وجہ سے ، ہو کیا تم ؟ سمجھتی کیا ہو خود کو ؟ ایسا ہے کیا تمہارے اندر کہ وہ مجھے چھوڑ کر تمہیں اپنائے گا ؟ لاہور کی بسوں اور لندن کی ٹرینوں میں دھکے کھانے والی عام سی عورت ہو تم ، میرے مقابلے پر آنا چاہتی ہو ؟”

اس کا لہجہ سلگتا ہوا تھا ، معطر نے کاؤنٹر کو زور سے تھاما ، ذلت ، تہمت ، اذیت

” مزید ایک لفظ مت بولنا نازنین “

” میں بولوں گی اور چیخ کر بولوں گی ، تم تیمور سے ملاقاتیں کرتی پھر رہی ہو ؟ تمہیں لگتا ہے وہ مجھے چھوڑ کر تمہیں اپنائے گا ؟ “

” میں نے کوئ ملاقات نہیں کی اس سے “

آواز سخت کرنی چاہی

ایرک اس کی طرف آرہا تھا

” تم ٹھیک ہو۔۔۔ ؟”

اکھڑا انداز ،یوں جیسے سرسری سا پوچھ رہا ہو ، اس نے جواب نہیں دیا ، وہ نازنین کو سن رہی تھی

” میں نے خود اس کے موبائل میں میسجز دیکھے ہیں ، اس نے خود مجھے بتایا ہے کہ تم نے اسے ملنے کے لئے بلایا تھا ، تم چاہتی ہو وہ تمہیں اپنا لے ، تم چاہتی ہو وہ مجھے طلاق دے دے ، تم ہو کیا ؟”

وہ چیخ رہی تھی ، معطر صبا کی ہستی فنا ہوئ ، کاؤنٹر پر پڑا ہاتھ دھیرے سے نیچے گرا

” اس نے یہ کہا ہے ؟”

بے یقینی سے دہرایا

” تمہیں لگتا ہے وہ یہ کرے گا ؟ وہ مجھے سے محبت کرتا ہے معطر ، وہ اب مجھ سے محبت کرتا ہے ، تم اس کے قدموں میں گر جاؤ وہ تب بھی تمہیں نا اپنائے ، لیکن تم واقعی ایسی عورت ہو ؟ تم اس کی دوسری بیوی بننے پر تیار تھیں ؟،کوئ عزت نفس ہے تمہارے اندر ؟”

” اس نے کہا میں اس کی زندگی میں دوسری عورت بننا چاہتی ہوں ؟”

دھیرے سے بے یقینی سے دہرایا

” اس نے کہا اور میں مانا ، اور تم ۔۔۔، تم دور رہو میرے شوہر سے ، اس نے اس بار شرافت سے منع کیا ہے ، اگلی بار وہ تمہیں پوری دنیا کے سامنے رسوا کرے گا اگر تم اس کے سامنے آئیں تو ، مجھ سے اور میرے شوہر سے دور رہو سمجھیں ؟، وہ تو اچھا ہے ہم دونوں آج جارہے تھے ، تین گھنٹے میں ہماری فلائٹ ہے ، تم رہو یہیں لندن کی سڑکوں پر دھکے کھاتے ہوئے، تیمور تمہارا کبھی نہیں تھا , نا ہوگا “

پھنکار کر کہتے اس نے کال کاٹ دی ، معطر کا منہ صدمے سے کھلا ہوا تھا ، چہرہ سفید پڑ رہا تھا، ایرک کچھ پریشان ہوا

” تم ٹھیک ہو ؟”

اس نے بے جان نظریں ایرک کی طرف موڑیں

” معطر۔۔۔۔ “

” میں نے اس سے یہ سب کہا ؟”

” کیا ۔۔۔؟”

اسے سمجھ نہیں آئ تھی

” میں نے اس سے کہا کہ وہ مجھے اپنا لے ؟”

بے یقینی سی بے یقینی تھی ، اذیت سی اذیت تھی ، دوسری عورت ؟ وہ اس طرح اسے رول رہا تھا ؟ اس طرح ؟

پھر دماغ یکدم جاگنے لگا ، احساس زندہ ہونے لگے ، تیمور حیدر اپنی بے وفائ کو اس کی بے حیائ قراردے رہا تھا ، وہ اپنی بیوی کے سامنے خود کو فرشتہ اور اسے گناہ گار بنا رہا تھا ، یقیناً نازنین نے اس کی چیٹ پڑھ لی ہوگی اور اب وہ خود کو بچانے کے لئے اس پر الزام لگا رہا ، معطر کا دماغ کھول اٹھا ، جھپٹ کر پیچھے بیگ اٹھایا ، کیپ پٹخ کر کاؤنٹر پر رکھی

” کہاں جارہی ہو ؟”

ایرک بوکھلایا ، مایا اس سے پوچھ رہی تھی ، مینجر آتا ہوگا ، وہ غصہ کرے گا ،لیکن اس نے ان دونوں کو نہیں سنا ، وہ طیش سے سرخ پڑتے چہرے سے باہر کی طرف بڑھ رہی تھی

” کہاں جارہی ہو لڑکی ؟”

وہ تیزی سے اس کے پیچھے آیا

” جہنم میں۔۔۔۔”

” پاکستان کی فلائٹ دستیاب ہے فلوقت ؟ “

وہ تیزی سےاس کے ساتھ چل رہا تھا ، کافی بیگ میں ڈال لی تھی

” اس بار کسی اور کو جہنم بھیجنا ہے ، سائیکل کہاں ہے تمہاری ؟”

وہ تیزی سے چلتی اس کی طرف پلٹی ، چہرہ غصے کی حدت سے سرخ پڑ رہا تھا

” کیوں ؟ وہ مجھے بہت عزیز ہے ، اسے کچھ کیا تو ۔۔۔۔۔۔ “

” ایرک منہ بند رکھو اپنا , سائیکل کہاں ہے تمہاری ؟”

” ریلیکس۔۔۔ میں لاتا ہوں “

ہاتھ اٹھائے

وہ کیفے کے باہر ہی سائیکل کھڑی کرتا تھا ، معطر سلگتے قدموں سے گھومنے لگی ، دوسری عورت ؟ دوسری عورت ؟

” کہاں جانا ہے ؟”

وہ سائیکل پر بیٹھا اس کے سامنے آیا تو وہ ایک سائیڈ پر بیٹھی

” تم چلو بس “

اسے راستہ نہیں معلوم تھا بس اتنا معلوم تھا اسے کچھ کرنا تھا

” میں بتادوں میں پاکستان تک تمہیں سائیکل پر نہیں لے جا سکتا “

معطر نے جواب نہیں دیا ، ایک ہاتھ سے پیچھے پکڑے وہ فلائٹ شیڈیول دیکھ رہی تھی ، پاکستان کے لئے اگلی فلائٹ تین گھنٹے بعد نکلنے والی تھی، یعنی وہ لوگ ایئرپورٹ پہنچنے والے ہوں گے

” تم تیز نہیں چلا سکتے ؟”

” اس سے زیادہ سپیڈ قانونی طور پر جرم ہے “

” پہلے کون سا قانون مانا ہے تم نے ؟”

وہ تپی

” جو مان رہا ہوں وہ ماننے دو ، اور بات مت کرو مجھ سے ،میں ایک برا انسان ہوں “

اسے یکدم یاد آیا وہ اس سے ناراض تھا

” ایرک تیز چلاؤ “

بھاڑ میں گیا اس کا برا یا اچھا ہونا

” جانا کہا ہے تمہیں ؟”

” ایئرپورٹ ” ایرک نے جھٹکے سے سائیکل روکی ، اس کے سر کا دایاں حصہ زور سے ایرک کی پشت سے لگا

” اللہ ۔۔۔۔”

” تم لندن سٹی ایئرپورٹ کی بات کررہی ہو ؟”

” ہاں۔۔۔” اتر کر اپنا ماتھا سہلایا

” وہ یہاں سے تقریباً گیارہ کلو میٹر دور ہے “

” تم اتنا سا سفر بھی نہیں کرسکتے ؟”

” سائیکل پر ؟ ہاں “

” ٹھیک ہے ، مرو پھر۔۔۔ “

طیش سے کہتے وہ کوئ ٹیکسی روکنے کے لئے جارہی تھی ، ایرک گہری سانس لیتا اپنی سائیکل وہیں کھڑی کرتا اس تک آیا

” ایئرپورٹ جانا کیوں ہے ؟”

” تم برے انسان ہو ، واقعی برے ہو ، دور رہو مجھ سے”

وہ چلائ ، دماغ کھول رہا تھا

” لفٹ کیوں لی پھر ، اگر برا ہوں تو ؟”

” دماغ خراب ہوگیا تھا “

” شروع سے ہے “

اللہ جی ، اس نے اپنا بیگ گھما کر سائیڈ پر کیا ، ایرک ساتھ چلتا موبائل سے کچھ دیکھ رہا تھا

” پاکستان کی فلائٹ قریب ڈھائ گھنٹے بعد ہے ، کسی کو الوداع کہنا ہے ؟”

” ہمیشہ ہمیشہ کے لئے “

وہ تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی

” معطر۔۔۔۔”

” تم جاؤ ،میں دیکھ لوں گی ۔۔۔۔ “

“معطر ۔۔۔۔”

وہ یکدم سامنے آیا تو وہ رک گئ

” کیا ہے ؟”

” خود کو پر سکون کرو پہلے “

” نہیں ہونا مجھے پر سکون”

” غصہ بری شے ہے “

عادتاً آنکھیں گول گول گھمائیں

” مجھے اس وقت کسی اچھی شے کی ضرورت نہیں ہے ،سمجھے ؟ “

” اچھا اوکے تم پہلے پرسکون تو ہوجاؤ ۔۔۔۔”

وہ اسے نظر انداز کرتی ٹیکسی روک رہی تھی ، ایرک نے کچھ جھنجھلا کر اسے دیکھا ، پھر یکدم گھوم کر دوسری طرف بیٹھا

” تم کہاں جارہے ہو ؟”

” تمہارے ساتھ جہنم میں “

” نیچے اترو۔۔۔ “

” ٹیکسی چلائیں سر ، جتنے غصے میں یہ خاتون ہیں آج کسی کا مرنا طے ہے اور میں یہ شو مس نہیں کرنا چاہتا “

ڈرائیور کو مخاطب کرتے وہ آرام سے پیچھے کو ہو کر بیٹھ گیا

” تم اتر رہے ہو یا نہیں ؟”

خونخوار نظروں سے اسے گھورا

” نہیں ۔۔۔۔ بہتر ہوگا اپنا خون مت جلاؤ “

وہ ضبط سے گہری سانس لیتی باہر دیکھنے لگی، غصہ ،طیش ، اہانت ، ذلت، ہر شے بیک وقت اندر بھری تھی ،یوں لگتا تھا جیسے اسے اس وقت پوری دنیا دی جائے تو وہ اسے بھی آگ لگا دے گی ، باہر دیکھتے ہوئے آنکھیں نم ہونے لگیں تو سر جھٹکا ، آج نہیں ، آج تو ہرگز نہیں

” پتا نہیں میری سائیکل واپسی پر ٹھہری ہوگی یا نہیں ؟”

وہ ساتھ بیٹھا اپنے ہی مسئلوں پر غور کررہا تھا ، ڈرائیور سے اس کی پوری ہسٹری بھی اگلوا لی ، برطانیہ میں بڑھتی مہنگائ اور ٹرانسپورٹ کے کرائے پر بھی تبادلہ خیال کرلیا جو کہ ڈرائیور کے نزدیک کم تھا ، اسے تسلیاں دیں، یقین بھی دلوایا کہ وہ جرنلسٹ بننے کے بعد سب سے پہلے یہی مسئلہ اٹھائے گا ، معطر باہر دیکھتی رہی ، دس منٹ عذاب کی طرح گزرے، ایئرپورٹ کے احاطے میں ٹیکسی رکی تو وہ باہر نکلی ، بنا کرایہ دیئے تیزی سے آگے بڑھی

” میرے باپ کی سونے کی کانیں نہیں ہیں ملک میں”

وہ پیچھے سے اسے بلا رہا تھا ، اس کی بلا سے بلاتا رہے ، وہ پارکنگ سے اندر تک گئ ، وہاں تیمور نہیں تھا

” میری سائیکل کی حفاظت کی دعا کرو ورنہ میں پورا ازلنگٹن تمہاری خلاف اکٹھا کرلوں گا “

وہ ایک بار پھر باہر پارکنگ میں آئ تو وہ اسی طرف آرہا تھا ، بیگ سے کافی نکال کر لبوں سے لگائ

” آغاز اپنے جاننے والوں سے کرنا “

ہاتھ جھلاتے اس کا غصہ کچھ اور بڑھا ، شاید وہ چلا گیا تھا ، شاید معطر صبا کی قسمت میں آخری ملاقات نہیں تھی

” تم چاہتی ہو وہ الٹا میرے خلاف اکٹھے ہوجائیں ؟”

اس نے جواب نہیں دیا ، نظر سامنے تھی ، تیمور حیدر ٹیکسی سے سامان اتار رہا تھا ، نازنین اس کے ساتھ ٹھہری موبائل نکال رہی تھی ، اس کے اندر طیش سے لاوا پھٹا ، دماغ کی رگیں گویا پھٹنے کو ہو گئیں ، یکدم ایرک کی طرف مڑتے اس کے ہاتھ سے ڈسپوزیبل کپ جھپٹا ، اس کا ڈھکن ہٹاتے تیزی سے تیمور کی طرف بڑھی

” تم میری زندگی میں سرخ گلاب کی طرح آئ ہو “

وہ بھول گئ گلاب مرجھا جاتے ہیں ۔۔۔۔چند قدم کا فاصلہ

” مجھ سے اپنی محبت کی بھیک مت مانگنا”

وہ بھول گئ ایسے الفاظ محبت کرنے والے نہیں کہا کرتے ۔۔۔۔۔ چند سیکنڈ کا فاصلہ

” میں تمہیں یاد کرتا ہوں معطر “

وہ بھول گئ کہ یاد بھلانے کے بعد کیا جاتا ہے ۔۔۔۔چند لمحوں کا فاصلہ

” کتنے سستے میں جانے دیا تم نے خود کو “

پوری قوت سے اس نے کپ میں موجود کافی تیمور کے چہرے پر پھینکی، نازنین کا سیلفی کے لئے اٹھتا ہاتھ نیچے آ گرا ، اس کے بالکل پیچھے آتا ایرک ٹھٹھک کر رکا اور وہ ۔۔۔ اس کے سامنے ٹھہرا تیمور حیدر ، وہ جو بیگ اٹھا کر آگے بڑھ رہا تھا ، یکدم پیچھے کو ہوا ، پہلے پہل تو سمجھ نا آیا پھر جھک کر صدمے سے اپنی شرٹ کو دیکھا ،پھر نظر اٹھا کر سامنے کانپتی معطر کو جو سرخ نظروں سے اسے گھور رہی تھی

” تم۔۔۔۔”

بے یقینی حیرت میں بدلی ،پھر غصے میں ،پھر طیش اور وہ بیگ وہیں پھینکتا اس کی طرف بڑھا

” ہمت کیسے ہوئ تمہاری “

معطر صبا نے ڈسبوزیبل کپ تیمور حیدر کے سینے پر پوری قوت سے مارا ، وہ وہیں رک گیا ، وجہ کپ نہیں تھا ، وہ پلاسٹک کا کپ نا درد دے سکا تھا نا پیچھے کرسکا تھا ، وجہ وہ ہمت تھی جو کپ پھینکنے والے میں اسے نظر آئ تھی ، وجہ وہ بے یقینی تھی کہ یہ حرکت معطر نے کی تھی ، معطر صبا نے ؟

” تم شروع سےایسے تھے ،تم شروع سےایسے ہی تھے تیمور ، ۔۔۔” وہ آگے بڑھی اور چلاتے ہوئے اسے گریبان سے پکڑا ،تیمور ششدر سا کھڑا رہ گیا ” تم شروع سے بے وفا تھے ، تم آخر تک بے وفا رہے ، تم شروع سے محبت نہیں کرتے تھے، آخر تک پسندیدگی بھی ختم ہوگئ ، اور میں نے یہ بھی جان لیا کہ وہ نا محبت تھی نا پسندیدگی وہ انا تھی ، اور میں ۔۔۔وہاں دریائے ٹیمز پر ٹھہر کر جب تم نے کہا میں تمہیں یاد کرتا ہوں ،میں سمجھی وہ محبت تھی ، وہ تب بھی انا تھی ، تم ایک انا کے مارے شخص ہو تیمور ، اور تمہیں سوچ سوچ کر میں روتی رہی ، تم اس قابل بھی نہیں تھے کہ میری سوچ کا حصہ بنتے اور میں نے تم پر اپنے آنسو ضائع کئے “

اس کی آواز اتنی بلند تھی کہ اردگرد چلتے چند لوگ رک گئے، ایرک نے ابرو اچکا کر اس کا انداز دیکھا ، یہ معطر صبا تھی ؟ اس کا یہ روپ بھی تھا ؟ دلچسپ !!

” معطر ۔۔۔۔”

تیمور کے لب بے یقینی سے پھڑپھڑائے

” وہ کبھی محبت نہیں تھی ، تھی تو میں لعنت بھیجتی ہوں ایسی محبت پر ،میں لعنت بھیجتی ہوں اس محبت پر کئے گئے اپنے یقین پر ، تم محبت نہیں کرتے تھے ، وہ انا تھی ، بابا نے رشتے سے منع کیا تو انا کا مسئلہ بن گیا ، تم ڈٹ گئے ، معطر نے شادی سے منع کیا تو انا کا مسئلہ بن گیا ، تم پیچھے ہٹ گئے ، وہ شروع سے انا تھی ” چلاتے ہوئے اس کے گریبان کو جھٹکا

” تمہاری اتنی ہمت۔۔۔” نازنین غصے سے کھولتی اس کی طرف بڑھی جب اس نے نازنین کا اپنی طرف اٹھتا ہاتھ پکڑے جھٹکا دیا ، وہ کراہ کر رہ گئ

” تم ؟ مجھ سے کہہ رہی تھیں نا کہ میں تمہارے شوہر سے دور رہوں ؟ پلاسٹک کی دو روپیے کی گڑیا اپنا یہ چند روپے کا گڈا اپنے پاس رکھو ، میں اسے اب دیکھنا بھی پسند نا کروں “

نازنین کو جھٹکے سے چھوڑتے وہ پیچھے ہوئ اور تیمور کو جیسے ہوش آیا ، نظر جھکا کر اپنی شرٹ کو دیکھا پھر اسے اور اس کے ماتھے کی رگیں پھول گئیں

” تم ۔۔۔۔”

وہ غصے سے کھولتے اس کی طرف بڑھنے لگا ، جب یکدم ایرک اس کے اور معطر کے درمیان آیا ، ایک ہاتھ سے تیمور کے سینے پر ہاتھ رکھتے اسے پیچھے دھکیلا

” Don’t you dare۔۔۔۔۔۔۔ “

آنکھوں میں سختی لئے ایک انگلی اٹھا کر اسے وارن کیا ، تیمور ہلکا سا پیچھے کو ہوا پھر وہی طیش بھری نظریں معطر پر جمائیں

” تو یہاں دو دو مردوں کو پھنسا رکھا ہے “

ایرک کے پیچھے ٹھہری معطر کا دماغ کھولا ، اس کی سائیڈ سے ہوتے وہ تیمور کے سامنے آئ

” اپنی زبان اپنے حلق کے اندر رکھو ، اپنی زبان کے الفاظ بھی اندر رکھو ، میں تمہارے جیسی نہیں ہوں جو بیوی کے ہوتے ہوئے اپنی سابقہ منگیتر سے آ کر کہے کہ اسے ایک موقع اور چاہئے “

نازنین یکدم ٹھٹکی

” کیا مطلب ؟”

” میں بتاتی ہوں تمہیں ، بات کھل گئ تو سب واضح ہونے دو ” وہ دونوں ہاتھ لمبے کوٹ کی جیب میں ڈالتی نازنین کی طرف مڑی ،انداز آگ جیسا تھا ،تیمور کا ماتھا ٹھنکا لیکن وہ اسے نہیں دیکھ رہی تھی ” آج جو کال تمہاری جانب سے مجھے کی گئ اور مجھ پر الزامات کی بوچھاڑ تمہاری طرف سے کی گئ ، وہ سب تمہارے اس شوہر کا جھوٹ تھا ، اس نے کل واٹرلو بریج ( waterloo bridge) پر کھڑے ہو کر کہا تھا کہ یہ مجھے یاد کرتا ہے ، اس گھٹیا شخص نے کل ازلنگٹن کی سڑک پر کھڑے ہوکر یہ بھی کہا تھا کہ یہ مجھ سے ایک اور موقع چاہتا ہے “

وہ پھنکاری ، ایرک کی نظر اردگرد گئ ، ابھی سکیورٹی اہلکار آتے ہی ہوں گے ، معاملہ بگڑ جاتا

” جھوٹ مت بولو ،مجھے اپنے شوہر پر یقین ہے “

وہ تڑخ کر کہتی تیمور کے ساتھ جا ٹھہری

” پھر انتظار کرو کہ اس یقین کا جنازہ کب نکلتا ہے ، اور جو تم مجھے کال پر کہہ رہی تھیں نا کہ میں نے اس سے کہا ہے اپنی زندگی میں واپس آنے کا ، تو میں اس پر تھوکنا بھی پسند نا کروں اب “

” یہ کیا ہورہا ہے ، براہ مہربانی جائیں یہاں سے “

تین چار اہلکار ایک ساتھ وہاں آئے اور سختی سے انہیں گھورا

” میرا بس چلے تو ان پولیس والوں کے ساتھ بھیج دوں تمہیں ، یعنی تم کس قدر گھٹیا تھے تیمور ، کس قدر گھٹیا “

” معطر۔۔۔۔” ایرک ہونٹ بھینچے اس تک آیا ” چلو یہاں سے ، پولیس سختی کرے گی ورنہ “

” مجھے نہیں جانا ، اسے تو میں بتاتی ہوں ،یہ کس منہ سے مجھ پر الزام لگا رہا تھا ؟”

” مادام بی ہیو یور سیلف ، آپ جائیں یہاں سے ورنہ ہمیں آپ کو گرفتار کرنا پڑے گا ، اور مسٹر اگر آپ کی فلائٹ ہے تو اندر جائیں ورنہ نکلیں یہاں سے “

تیمور نے غضب سے سرخ پڑتی آنکھیں معطر پر جمائیں اور دو قدم آگے کو ہوا

” You will pay for it”

ایرک ایک بار پھر اس کے سامنے آیا

” اور ایسا نا ہو اس سے پہلے تمہیں انجام بھگتنا پڑے ، میں ایک خبر دوں گا اخبار میں اور برطانوی پولیس تمہیں اسی ایئرپورٹ سے اٹھا کر جیل میں ڈالے گی ، اپنی شکل گم کرو اب “

،معطر نے دانت جما کر اس کی پشت کو گھورا، خواہ مخواہ ہیرو بن رہا تھا

” بہت خوب معطر ، تو وہ پاکستانی اور یہ انگریز ، بہت خوب معطر ۔۔۔ “

تیمور پھنکارتے ہوئے پیچھے پڑے بیگز کھینچتا آگے بڑھا ، وہ ایک بار پھر طیش سے اس کی طرف بڑھنے لگی جب ایرک نے اسے بازوں سے کھینچا

” معطر رک جاؤ اب ، پولیس دیکھ رہی ہے “

” اور تم خود کیا ہو ، جہنم میں جاؤ ، یا اللہ ،میں کیا کروں تمہارے ساتھ “

وہ پیچھے سے چلائ ، وہ دونوں اندر جارہے تھے ، بار بار اسے گھورتی نازنین اور سپاٹ تاثرات والا تیمور حیدر ، جب تک وہ اندر غائب نا ہوگئے وہ وہیں ٹھہری انہیں غصے سے گھورتی رہی پھر ایرک کے ہاتھ سے بازوں کھینچا

” دور رہو مجھ سے “

” نزدیک ٹھہرا تھا تو زندہ ہو ورنہ وہ لڑکا پتا نہیں کیا کرتا تمہارے ساتھ “

” ہاتھ تو لگا کر دکھاتا ، ہاتھ نا توڑ دیتی میں اس کا “

چٹخ کر کہتے وہ آگے جارہی تھی

” کون سی روح آ گئ ہے تمہارے اندر ؟”

وہ حیران نہیں شدید حیران تھا

” وہ مجھ پر الزام لگا رہا تھا ؟ کل اس نے سنان کے سامنے وہ سب کہا آج تمہارے سامنے ؟ میں اس سے محبت کرتی رہی ؟ اس انسان سے ؟ “

ایرک کا منہ بگڑا

” بڑی ہی گھٹیا چوائس ہے تمہاری ویسے “

معطر نے رک کر اسے گھورا

” تم کیوں آئے ہو میرے ساتھ ؟”

” آئے ہو ؟ میری سائیکل پر زبردستی سوار ہوئ تھیں تم ، پتا نہیں وہ بچاری سلامت ہوگی بھی یا کسی بری نظر والے کی بری نظر اس پر پڑ چکی ہوگی “

جس کی اچھی نظر تھی اس نے نظر کو برا بنا کر ایک بار پھر اسے گھورا

” اور اگر وہ چوری ہوچکی تو تم اب ایک لمبا عرصہ مجھ پر الزام لگاتے رہو گے کہ میں نے تمہاری سائیکل چوری کروائ ؟”

” میری کافی گرائ ۔۔۔”

لقمہ دیا

” رقم لے لینا “

ہاتھ جھلایا

” میری جیب سے کرایہ دلوایا “

” کتنے کنجوس ہو “

وہ ابھی تک طیش سے ہلکا ہلکا کانپ رہی تھی

” کنجوس ہوتا تو کرایہ نا دیتا “

اس نے کچھ نہیں کہا ، ایئرپورٹ کے باہر احاطے پر سڑک تھی ، غصے سے کھولتے دماغ کو ٹھنڈا کرنے کے لئے وہ جوتے وہیں اتارتی آگے بڑھی اور ننگے پاؤں سڑک پر چلنے لگی ، ٹھنڈک اندر تک اتری لیکن فلوقت اسے اسی ٹھنڈک کی ضرورت تھی

” تھا کون ویسے یہ ؟”

” تیمور حیدر ۔۔۔۔میرا سابقہ منگیتر “

گہری سانس لیتے خود کو پرسکون کرنا چاہا

” سابقہ ۔۔۔۔؟”

” اب تو کوئ سابقہ لاحقہ لگانے کا بھی دل نہیں کرتا “

” تم اس سے محبت کرتی تھیں ؟”

” میں اس بات پر پچھتارہی ہوں “

” اتنا برا تھا ۔۔۔۔ ؟”

وہ اس کی دائیں طرف ٹھہرتا اسے دیکھنے لگا

” تمہاری سوچ سے زیادہ ۔۔۔ میں اس سے محبت کرتی رہی ؟ اس سے ؟ “

اسے بیک وقت دکھ اور رونا ایک ساتھ آیا

” تمہیں اسے دو چار گالیاں دے دینی چاہئے تھیں “

” مجھے گالیاں نہیں آتیں”

” تم چاہو تو میں تمہیں چند اچھی اچھی گالیاں سکھا سکتا ہوں “

وہ رکی

” اچھی اچھی گالیاں کون سی ہوتی ہیں ؟”

” اچھی اچھی گالیاں جیسے کہ ” اور وہ شروع ہوگیا ، کسی اینکر کی طرح ، نان سٹاپ ، معطر کے کان ناک گال سب سرخ ہوئے، وہ بنا رکے انتہائ نازیبا الفاظ استعمال کررہا تھا

” بس ۔۔۔۔” ہاتھ اٹھا کر اسے گھورا تو وہ رکا ” تمہیں اندازہ ہے تم ایک لڑکی کے سامنے کتنی نازیبا زبان استعمال کررہے ہو ؟”

” نازیبا ؟ مادام یہ میری روٹین لینگویج ہے”

اور وہ اسے گھور کر رہ گئ ، اس کے بارے میں صحیح مشہور تھا وہ بے شرم تھا اور اسے اپنی اس بے شرمی پر فخر تھا ، سر جھٹکتے اس نے جوتے پہننے شروع کئے طیش کچھ کم ہوا تو احساس ہوا تھا ، وہ کیا کر آئ تھی ،جانے تیمور اب کیا کرتا

” اب چلو گی یا یہیں رہ کر اسے الوداع کرنے کا ارادہ ہے ؟”

” تم سچ میں ایک رپورٹ لکھتے اور پولیس اسے جیل میں ڈال دیتی ؟”

جوتا پہن کر مشکوک نظروں سے اسے دیکھا

” ویسے ہی بول رہا تھا ، برطانوی پولیس اتنی پاگل نہیں ہے ، تحقیقات کرتے پھر کچھ ہوتا البتہ اس کی آج کی فلائٹ ضرور کینسل ہوجاتی ،کیا خیال ہے لکھوں رپورٹ ؟”

” ضرورت نہیں ہے ، اس نے اب پاکستان جا کر پتا نہیں میرے بارے میں کیا کیا کہنا ہے “

کوٹ جھٹکا اور سیدھی ہوتی وہ دائیں طرف چلنے لگی، دو ماہ پہلے جب وہ اسی ایئرپورٹ پر اتری تھی تو لگتا تھا دل پاکستان میں چھوڑ آئ تھی ، گھر کے دروازے پر چچا کے دروازے کے ساتھ ٹھہرے شخص کی نظروں میں ، اور اب یوں لگتا تھا جیسے دل نرم گولے جتنا ہو ، نا کوئ احساس تھا نا کچھ ، وہ جانتی تھی وہ تیمور کو شاید یاد رکھے، لیکن وہ یہ بھی جانتی تھی اب اس کی یاد آنے پر کوئ احساس اندر نہیں جاگے گا ، آج اس نے اس شخص سے خود کو آذاد کردیا تھا ، اس کی محبت کی قید سے اپنے دل کو نکال دیا تھا

” یہ شکل سے ہی مجھے گھٹیا لگ رہا تھا “

معطر نے چلتے چلتے اسے دیکھا ، شرمندگی سی ہوئ ، کتنا برا بھلا کہہ دیا تھا اسے ، اور وہ اس کے لئے تیمور کے سامنے کھڑا ہوگیا تھا، اتنا برا بھی نہیں تھا

” آئ ایم سوری ایرک “

” میں کب سے ان تین الفاظ کا منتظر تھا “

وہ محظوظ سا مسکرایا

” آئ ایم سوری ، میں واقعی بہت غلط بول گئ ، تم اچھے ہو ،گو بہت زیادہ اچھے نہیں ہو ” ایرک کی مسکراہٹ غائب ہوئ ” برے بھی ہو ، لیکن اتنے برے بھی نہیں ہو کہ میں وہ سب کہتی “

” اصولاً تمہیں مجھ سے زرا ڈھنگ سے معافی مانگنی چاہئے “

وہ یکدم اس کے سامنے رکی

” آئ ایم سوری ۔۔۔۔”

ایرک رک کر چند لمحے اسے دیکھتا رہا

” مجھ سے معافی مانگنے کی ضرورت نہیں ہے ، سب سے پہلے اس انسان سے معافی مانگو جو تمہاری معافی کا سب سے زیادہ حقدار ہے”

” کس سے ۔۔۔۔؟”

” خود سے۔۔۔”

” میں نے اپنے ساتھ کیا غلط کیا ہے ؟”

” تم نے خود پر رحم کرنا چھوڑ دیا ہے ۔۔۔” وہ اس کے سامنے ٹھہرا کہہ رہا تھا ، معطر کے گلے میں کچھ اٹکا ” تم تھک جاتی ہو لیکن کسی سے اپنا بوجھ نہیں بانٹتیں ، تم تکلیف میں ہو لیکن کسی کو بتاتی نہیں ہو ، تم ظاہر کرتی ہو کہ جو کچھ ہورہا ہے تم اس پر راضی ہو لیکن تم یہ نہیں کہتیں کہ تمہارا دل کچھ اور چاہتا ہے ، تمہارا زہن سکون چاہتا ہے لیکن تم اپنے اردگرد کے لوگوں سے یہ نہیں کہہ سکتیں ، تمہارے دل کا ایک حصہ زخمی ہے لیکن تم اسے شفا یاب نہیں کرنا چاہتیں ، تم نے خود پر رحم کرنا چھوڑ دیا ہے معطر “

وہ کتنی ہی دیر اسے دیکھتی رہی پھر سر جھٹکا

” ایسا کچھ نہیں ہے “

” اور تم یہ بھی صرف ظاہر کرتی ہو کہ ایسا کچھ نہیں ہے “

” تم پر ایسی باتیں سوٹ نہیں کرتیں ایرک “

” اگر تم غور کرو تو میں ایک سنجیدہ انسان ہوں “

” تم پر غور کرنے سے بہتر ہے میں کسی جانور پر غور کرلوں “

” شیر بہتر رہے گا “

” تم خود کو شیر سے تشبیہ دے رہے ہو ؟”

” میں شیر کو خود سے تشبیہہ دے رہا ہوں “

وہ اپنی جون میں واپس پلٹ چکا تھا ، ساتھ کسی ٹیکسی کو روکا ، معطر خاموشی سے اندر بیٹھ گئ ، اسے ایرک کو کرایہ دینا تھا ، اس کی کافی کے پیسے دینے تھے ، اور ۔۔۔۔ باہر دیکھتے ہوئے چپکے سے نظر گھما کر اسے دیکھا

اللہ کرے اس کی سائیکل وہاں ٹھہری ہو ، ورنہ اگر وہ کہتا تھا کہ وہ پورا ازلنگٹن اس کے خلاف لے آئے گا تو وہ یہ کرسکتا تھا ، وہ اس کی کافی کے پیسے دے سکتی تھی ، کرائے کے بھی لیکن اس کی سائیکل کے نہیں

اس کی دل سے کی گئ دعا قبول نہیں ہوئ تھی ، وہ لوگ کیفے سے کچھ فاصلے پر رکے تو ایرک کرایہ دیتا فوراً باہر نکلا وہ احتجاج کرنا چاہتی تھی کہ کرایہ اسے دینا تھا لیکن الفاظ زبان پر ہی رہ گئے ، ایرک ٹیکسی سے نکلتے ہی رک گیا تھا ، معطر کی نظر بے ساختہ اس درخت تلے گئ جہاں وہ اپنی سائیکل کھڑی کر کے گیا تھا اور اس کا دل دھک سے رہ گیا

ایرک کی سائیکل غائب تھی !

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆