192.3K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Laa (Episode 13)

Laa By Fatima Noor

وہ پہلے ہی کسی کو بھی ایئرپورٹ آنے سے منع کرچکے تھے تو لینے کے لئے صرف ڈرائیور ہی آیا تھا ، نازنین پورا راستہ اُنگلیاں چٹخاتی تھوڑی تھوڑی دیر بعد ایک نظر تیمور پر ڈال لیتی ، اس کے ماتھے کی رگیں پھول ہوئ تھیں ، چہرہ سرخ پڑ رہا تھا ، پوری فلائٹ کے دوران وہ ایک لفظ بھی نہیں بولا تھا ، یہ خاموشی گھر آنے تک قائم رہی ، گاڑی سے نکلتے ہی وہ سیدھا اندر کی طرف گیا ، دروازے سے ان کے استقبال کے لئے آتی رضیہ ٹھٹھک کر رکیں ، تیمور بنا انہیں سلام کئے ، بنا دیکھے سیدھا اوپر گیا تھا ، یہ پہلی بار ہوا تھا ، تعجب بجا تھا ، حیرت جائز تھی

” کیا ہوا ہے اسے ؟”

وہ اچھنبے سے نازنین کی طرف آئیں جو بے زاری سے گاڑی سے اتر رہی تھی انہیں دیکھتی تھکن سے مسکرائی

” کیسی ہیں چچی “

ان کو گلے لگایا

” میں ٹھیک ہوں،لیکن یہ تیمور کو کیا ہوا ہے ؟”

اصولاً تو انہیں اس کا حال پوچھنا چاہئے تھا ،لیکن بیٹے کی محبت ، اس نے ضبط سے گہری سانس لی پھر ایک نظر سامنے نظر آتی سیڑھیوں کو دیکھا ، تیمور نے کمرے کا آواز زوردار آواز سے بند کیا تھا

” موڈ خراب ہے۔۔۔ “

” وجہ کیا ہے ؟ وہی تو پوچھ رہی ہوں “

” معطر سے ملاقات ہوئ تھی واپسی پر “

وہ لاؤنج میں آتی تھک کر صوفے پر بیٹھی اور ملازمہ کو پانی لانے کا اشارہ کیا ، رضیہ اس کے دائیں طرف والے صوفے پر بیٹھ رہی تھیں

” تو ؟ اس میں موڈ خراب ہونے والی کیا بات ہے ؟ ظاہر ہے تم لوگوں کی وہاں اس سے ملاقات ہونی ہی تھی “

نازنین بمشکل مسکرائ

” جس طرح ہوئ ہے اس طرح کی ملاقات نہیں ہونی تھی “

” کیا مطلب ؟ “

” بات یہ ہے کہ جو داغ آپ کو تیمور کی شرٹ پر نظر آرہے ہیں وہ معطر کی طرف سے الوداعی تحفہ ہے “

” الجھاؤ مت مجھے ، صاف صاف بتاؤ “

وہ بے زار ہوئیں

” صاف صاف یہ کہ ۔۔۔” اس نے ملازمہ سے گلاس لیتے دانستہ آواز اونچی کی ” تیمور نے لندن میں اسے کسی لڑکے کے ساتھ دیکھا تھا ، اس سے پوچھ گچھ کی تو وہ برا مان گئ اور تیمور پر کافی پھینک دی “

شانے اچکائے ، کن اکھیوں سے ساتھ کھڑی ملازمہ کو دیکھا جس کا منہ کھلا تھا ،پھر رضیہ کو جن کا چہرہ حیران لگتا تھا

” لڑکے کے ساتھ ؟”

” یہ تو ہونا ہی تھا چچی ، اب اکیلی لڑکی کو انگلینڈ بھیجیں گے تو ظاہر ہے وہ وہاں کے ماحول میں ڈھل جائے گی ، آپ یقین نہیں کریں گی لیکن وہ بالکل بھی وہ معطر نہیں لگ رہی تھی جو یہاں سے گئ تھی، اس قدر تبدیل ہوگئ ہے ، اس کا لباس ، انداز ، اطوار دیکھ کر میں تو حیران رہ گئ “

” یورپ چیز ہی ایسی ہے ، بڑے بڑوں کو بگاڑ دیتا ہے ۔۔۔” افسوس سے کہتے سر جھٹکا پھر پانی پیتی نازنین کو دیکھا …” لڑکا کون تھا ؟”

” میں نہیں جانتی ، تیمور نے ہی دیکھا تھا ، ہاں البتہ ایئرپورٹ پر جس لڑکے کے ساتھ آئ تھی وہ تو کوئ انگریز ہی تھا ، تیمور نے شاید کسی اور کے ساتھ بھی دیکھا تھا “

” انگریز ؟ یہ لڑکی کیا کیا کررہی ہے وہاں ؟”

” معلوم نہیں چچی ، میں تو خود حیران ہوں ، یہاں کیسے معصوم بنتی تھی اور وہاں آپ دیکھتیں تو حیران رہ جاتیں “

” میں تو شروع سے تیمور کی اس کے ساتھ شادی کے خلاف تھی ، دیکھتی ہوں زرا اسے “

وہ اٹھنے لگیں جب نازنین کی آواز پر رکیں

” آپ بیٹھیں میں دیکھتی ہوں ، غصے میں ہیں پھر تھک بھی گئے ہیں ، آپ سے آ کر مل جائیں گے ، آپ کیوں زحمت اٹھا رہی ہیں “

رضیہ نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا ، کتنی تمیز دار اور با اخلاق بچی تھی ، نازنین نے اٹھتے ہوئے ساتھ رکھا بیگ اٹھایا ، ایک نظر لاؤنج میں پھرتے ششدر چہرے والے ملازمین پر ڈالی اور سکون سے اوپر کی طرف بڑھی ، سیڑھیوں پر ہیل کی ٹک ٹک گونجتی رہی یہانتکہ وہ اپنے کمرے کے سامنے رکی ، ہینڈل پر ہاتھ رکھ کر دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوئ ، تیمور بیڈ پر بیٹھا تھا ، گھٹنوں پر کہنیاں جمائے سامنے گھور رہا تھا ، نازنین پریشان چہرے کے ساتھ اندر داخل ہوئ

” تیمور ۔۔۔۔۔”

وہ جھٹکے سے اٹھا اور اس کی کہنی کو تھاما

” تم نے کال کی تھی معطر کو ؟”

لہجہ غراہٹ میں بدل گیا ،نازنین نے تھوک نگلا

” صرف اس سے کہنے کے لئے کہ آپ سے دور رہے ، میں انسکیور تھی ۔۔۔۔”

” بھاڑ میں گئ تمہاری انسکیورٹی ۔۔۔تم نے میری وضاحت کے باوجود اسے کال کی ؟”

نازنین کی کہنی درد کرنے لگی

” تیمور ۔۔۔۔۔”

” اس عورت نے سینکڑوں لوگوں کے سامنے میرے اوپر کافی پھینکی ” اس کا بازوں چھوڑے وہ پیچھے کو ہوا ، انداز میں طیش تھا ” اس کی اتنی ہمت ؟ اس دو کوڑی کی عورت کی اتنی ہمت ؟ سمجھتی کیا ہے وہ خود کو؟”

بالوں میں ہاتھ پھیرتے وہ کمرے میں چکر لگانے لگا

” میں وہی تو کہہ رہی تھی کہ اس میں اتنی ہمت آئ کہاں سے ؟ یقیناً اسی لڑکے کی شہہ پر وہ آپ کے سامنے آئ تھی جس کا آپ بتارہے تھے ، یہاں تو بہت محبت کے دعوے کرتی تھی ، اتنی جلدی کسی اور سے دل لگا لیا “

تیمور کی آنکھوں میں کرچیاں ابھریں ، ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے رکتے اس نے اپنی گدلی شرٹ کو دیکھا

” وہ اس کا انجام بھگتے گی ، بہت برا بھگتے گی “

نازنین چل کر اس کے ساتھ آ ٹھہری

” کچھ غلط مت کیجئے گا تیمور”

” غلط ؟ میں اس کے ساتھ وہ کروں گا کہ وہ یاد رکھے گی “

وہ پھنکارا ، چہرہ سیاہ پڑنے لگا ، معطر کی اتنی جرأت اسے آگ لگا گئ تھی ، اس کے سامنے خاک ہوجانے والی عورت اسے جلا کر گئ تھی ، طیش تھا کہ بڑھتا ہی جارہا تھا

” کیا کریں گے ؟ “

اس نے پریشانی سے تیمور کو دیکھتے پوچھا

” اس نے مجھ پر کافی کے نہیں خود پر ذلت کے چھنٹے ڈالے ہیں “

” وہ آپ کی سابقہ منگیتر ہے “

نازنین کا چہرہ تشویش زدہ ہوگیا

” ہر تعلق ختم ، اسے پاکستان آنے دو ، اگر وہ نہیں آئ تو میں واپس لانا جانتا ہوں ، اور پھر میں وہ کروں گا کہ وہ یاد رکھے گی “

” کیا کریں گے ؟”

جھٹکے سے سیدھا ہوتے اس نے نازنین کو دیکھا

” اسے اس کے باپ کی نظروں میں منہ دکھانے لائق نہیں چھوڑوں گا میں ، جس باپ کے لئے وہ مجھے نخرے دکھا رہی تھی ، اسی باپ کی نظروں میں گراؤں گا اسے “

طیش بھرے انداز میں کہتے وہ دھاڑ سے واش روم کا دروازہ کھولتا اندر بڑھ گیا ،نازنین کے پریشان چہرے پر سکون اترا ، گلے سے سٹالر نکالتے بیڈ پر رکھا اور سکون سے وہاں بیٹھی

لندن کے ٹھنڈے موسم کے بعد پاکستان کا گرم موسم زہر لگ رہا تھا ، حالانکہ یہاں پر بھی سردیاں ہی تھیں ، لیکن پھر بھی یورپ مثل جنت شے تھی

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

” ایرک کو کیا ہوا ہے ؟”

اس نے سر اٹھا کر مایا کو دیکھا پھر نظر کونے پر گئ ، بالکل آخری کرسی پر وہ بیٹھا تھا ، پاؤں لمبے کرکے میز پر رکھے تھے ، نیم دراز، سر کرسی پر ٹکا رکھا تھا ، آنکھوں پر پی کیپ پڑی ہوئ تھی

” کیا ہوا ہے ؟”

” بیس منٹ سے ایسے ہی پڑا ہے وہاں ، سائیکل نہیں ملی اس کی ابھی تک ؟”

” نہیں ملی۔۔۔۔ “

اس نے نظریں چراتے سر پر پہنی مخصوص کیپ درست کی

” بچارا ۔۔۔۔ کتنے دکھ میں ہے “

مایا کے چہرے پر افسوس ابھرا ، معطر نے ایک بار پھر ایرک کو دیکھا ، وہ ابھی تک اسی پوزیشن میں لیٹا تھا

بچارا ؟؟؟؟ اس بچارے نے ایک سائیکل کے لئے پورا ازلنگٹن سر پر اٹھا رکھا تھا ، یونیورسٹی میں ہر ایک سٹوڈنٹ اس کی سائیکل چوری سے واقف ہوگیا تھا ، چند ایک نے باقاعدہ افسوس بھی کیا تھا ، حالانکہ ایرک کو یقین تھا کہ یہی افسوس کرنے والے سب سے زیادہ خوش ہوں گے ، اس نے ڈھونڈ ڈھونڈ کر سوشل میڈیا پیجز پر پوسٹ کروائ تھی کہ جسے اس کی سائیکل ملے وہ ایرک سے رابطہ کرے ، انعام کا لالچ بھی دے دیا تھا ، انعام کی رقم دیکھتے اس نے افسوس سے سرہلایا ، جتنی رقم کا لالچ وہ دے رہا تھا اتنے میں کسی نے سائیکل کو اپنے سامنے دیکھ کر بھی نظر انداز کردینا تھا ، بلکہ جسے سائیکل ملتی وہ بیچ کر اس کی رقم اپنے پاس رکھ لیتا ، آج صبح آتے ہوئے معطر نے اخبار میں اس کا کالم تک دیکھ لیا تھا ، اس نے سائیکل چوروں کو ملکی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے پولیس سے ان کے خلاف ایکشن کی درخواست کی تھی ، اور اب وہ اپنی گمشدہ سائیکل کا سوگ منانے کے لئے یہاں لیٹا ہوا تھا

وہ ایک کافی کا کپ لیتی اس کی میز تک آئ ، ماتھے پر کیپ درست کی اور تھوک نگلا

” ہیلو ایرک ،۔۔۔۔۔”

” ہیلو معطر ۔۔۔۔ میں تمہاری آواز سن چکا لیکن میں تمہاری شکل نہیں دیکھنا چاہتا ، اپنی پاکستانی شکل گم کرو یہاں سے “

اس نے ضبط کرتے کافی میز پر رکھی

” میں تمہیں کافی دینے آئ تھی “

” کیا میں نے منگوائ تھی ؟”

” تم بنا مانگے ملنے والی چیزوں سے کب سے انکار کرنے لگے ؟”

” میں لالچی ہوں لیکن اتنا بھی نہیں کہ اپنی ہزاروں پاؤنڈز کی سائیکل پر چند پاؤنڈز کی کافی قبول کروں “

اس نے کیپ ہٹا کر معطر کو دیکھا ، بال ماتھے پر بکھرے تھے ، نیلی جینز پر سیاہ جیکٹ پہن رکھی تھی

” میں سائیکل کے لئے دے بھی نہیں رہی ، یہ تمہاری کافی ہے جو میں نے ایئرپورٹ پر تمہارے ہاتھ سے لی ۔۔۔۔”

” جھپٹی۔۔۔۔”

” جھپٹی تھی۔۔۔”

اس نے ضبط سے تصحیح کرتے ہاتھ میں تھامے پاؤنڈز میز پر رکھے

” تمہارا ادا کیا گیا کرایہ “

” تم مجھے اتنا گرا ہوا سمجھتی ہو کہ میں تم سے کرایہ واپس لوں گا ؟”

افسوس سے اسے دیکھا

” کیوں ؟ کیا تم اپنی سائیکل کی رقم نہیں لینا چاہ رہے ؟”

” اس کی قیمت جانتی ہو ؟”

” جانتی ہوں ۔۔۔ اسی لئے ادا نہیں کرسکتی “

کاندھے اچکائے

” وہ تمہاری وجہ سے گم ہوئ تھی ، تم نے ایک جملہ افسوس کا بھی نہیں کہا “

” مجھے افسوس ہے ،لیکن وہ میری وجہ سے ہرگز گم نہیں ہوئ تھی “

” میں تمہارے پیچے گیا تھا ، نا جاتا تو میری سائیکل چوری نا ہوتی “

” تم میرے پیچھے نہیں ساتھ گئے تھے ، اور اپنی مرضی سے گئے تھے ، مجھ پر اپنے نقصان کا الزام مت لگاؤ “

وہ خفا ہوئ ، دو دن سے ایسی شکل بنا کر گھوم رہا تھا کہ اسے بچارے پر ترس آنے لگا تھا حالانکہ اسے یقین تھا کہ وہ خود کو زبردستی دکھی ظاہر کرنے کی کوشش کررہا ہے

” خود پر تو میں لگانے سے رہا الزام۔۔۔” اس نے کافی اٹھا کر لبوں سے لگائ ” تمہیں اندازہ نہیں ہے وہ کتنی قیمتی تھی “

” بس بھی کرو ، اتنی کھٹارہ سائیکل تھی ، چلتی تھی تو ازلنگٹن کی سڑکیں اس سے پناہ مانگتی تھیں “

” تم قیمتی اور مہنگی چیزوں میں فرق نہیں کرسکتیں ، وہ قیمتی تھی ، مہنگی نہیں “

” ملکہ برطانیہ کے زمانے کی تھی ؟”

وہ آنکھیں گھمانے لگی پھر رک گئ ، یہ تو ایرک کی عادت تھی

” وہ ایرک کیان کی سائیکل تھی ، میں مستقبل میں جب BBC پر انٹرویو دیتا تو مجھے انہیں بتانا تھا کہ کس طرح میں اپنی پرانی سائیکل پر یونیورسٹی جاتا تھا اور کس طرح جدوجہد کرکے میں نے اپنی پڑھائ مکمل کی “

وہ کتنی ہی دیر اسے دیکھتی رہی

” تمہیں سائیکل کے جانے کا غم اسی لئے ہے کیونکہ تم نے اس کی کہانیاں BBC پر سنانی تھیں ؟”

” اور کیا ؟ یوں مت ظاہر کرو کہ یہ چھوٹی بات ہے ، تم نہیں جانتیں میں نے انٹرویو کے ڈائیلاگز تک ڈیسائڈ کرلئے تھے “

وہ پاؤں نیچے اتارے اب اطمینان سے کافی پی رہا تھا

” چچ تمہاری محنت ضائع ہوگئ “

” ایسی بات بھی نہیں ہے ۔۔۔” گھونٹ بھرتے پیچھے کو ٹیک لگا کر اسے دیکھا ” کہیں نا کہیں میرا فائدہ اس چیز میں بھی ہے ، کیا تم سوچ سکتی ہو کہ سائیکل پر سفر کی داستان سنانے کی بجائے اگر میں پیدل سفر کرنے کی داستان سناؤں تو یہ کتنا متاثر کن ہوگا ؟ میں عنقریب وہ انسان بننے والا ہوں جس کی کہانیاں مائیں اپنے بچوں کو سنائیں گی کہ ایرک کیان کی طرح علم کی پیاس رکھو “

” سٹوڈنٹ کارڈ پر تیس فیصد ڈسکاؤنٹ کے ساتھ تو کوئ اور ٹیوب پر سفر کرتا ہے نا ؟ “

” کیا تم جل رہی ہو ؟ بہت بری بات ہے “

” تم سے جلنے سے بہتر ہے میں جل ہی جاؤں “

” تم ایک اچھی لڑکی ہو اگر زرا سا اپنی زبان پر کنٹرول کرلو تو زیادہ اچھی لگو گی”

” کہہ کون رہا ہے ؟”

” وہی جو جرنلزم کررہا ہے، سن کون رہا ہے ؟ “

” وہی جس نے انگلش میں ماسٹرز کیا ہے”

ایرک نے ابرو اچکائے

” پھر یہاں کیوں جاب کررہی ہو ، کسی اچھی جگہ جاؤ ؟”

” میرے معاملات میں زیادہ دلچسپی مت لو “

” تمہارے معاملات بذات خود دلچسپ ہیں ، میں بی بی سی پر پاکستان کی معطر صبا کی داستان ضرور سناؤں گا جسے مسئلوں میں پھسنے کا شوق تھا “

وہ اسے گھورتی رہی

” کس قدر عجیب ہو تم “

” کس قدر خوش نصیب ہو تم کہ مجھ عجیب سے ملاقات ہوئ تمہاری “

” اور اس خوش نصیب کو جو دھمکیاں تم نے دی تھیں کہ پورا ازلنگٹن میرے خلاف لے آؤ گے تو مجھے تمہارے پیچھے وہ ازلنگٹن نظر کیوں نہیں آرہا ؟”

” تم نے دو دن پہلے تازہ تازہ مجھے سوری کہا ہے “

” میری طرف سے اجازت ہے تم چاہو تو دوبارہ مجھ سے ناراض ہوسکتے ہو “

” پھر تم دوبارہ سوری کرو گی “

” میں اس بار یہ حماقت نہیں کروں گی “

ایرک کچھ کہنے لگا تھا جب پیچھے سے کسی کی آواز ابھری

” السلام علیکم “

معطر دھیرے سے پلٹی ، پیچھے سنان ٹھہرا تھا ، سیاہ پینٹ پر سرمئ شرٹ ، لمبا لوٹ پہنے ، چہرے پر نرمی لئے

” یہ سلامتی میرے لئے تو ہرگز نہیں تھی ، تم دونوں حیران مت ہونا ،مسلمان سٹوڈنٹس کے ساتھ پڑھ کر سلام کا مطلب تو آہی جاتا ہے”

وہ دونوں حیران تھے بھی نہیں ، سنان نے صرف ایک نظر ایرک پر ڈال کر اسے نظر انداز کیا تھا اور معطر سنان کو نظر انداز کرتی ایرک کی طرف پلٹی

” جو کافی تم پی چکے ہو وہ تم سے لی گئ ۔۔۔۔۔”

” چھینی کر لی گئ ۔۔۔”

” چھین کر لی گئ کافی کے عوض تھی ، اور یہ رقم کرایہ ، سائیکل کے پیسوں کی توقع مت رکھنا ، وہ تمہاری خود کی حماقت تھی، اس لئے آئندہ کسی جگہ پر مجھے طعنے مارتے نظر مت آنا “

” اگر میں یہ رقم نا لوں تو ؟”

” یہیں پڑے رہے گی۔۔۔۔ تمہاری مرضی “

وہ واپس پلٹنے لگی جب ان کے بات سنتے سنان نے اسے پکارا

” ہم بات کرسکتے ہیں ؟”

” نہیں۔۔۔۔”

سنان کا چہرہ تاریک پڑا

” دو منٹ صرف …”

” یہ میرا ڈیوٹی ٹائم ہے سنان “

” آپ کا ڈیوٹی ٹائم ختم ہونے والا ہے ، بیس منٹ بعد ۔۔۔۔” اس نے ہاتھ میں پہنی گھڑی پر ٹائم دیکھا پھر نظر اٹھا کر اسے ” میں باہر ملوں ، امید ہے آپ مجھے سنے بغیر نہیں جائیں گی “

وہ نرمی سے کہتا پلٹ گیا ، معطر گہری سانس لے کر رہ گئ ، اس دن کے بعد سے وہ سنان کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی ، تیمور کے اس پر لگائے گئے الزامات ، سنان کے سامنے ہتک کا احساس ، شرمندگی تھی کہ جانے کیا جو اسے سنان سے دور رہنے پر مجبور کررہی تھی

” کیا تم مجھے اردو سکھا سکتی ہو ؟”

اس نے رخ موڑ کر ایرک کو دیکھا

” کیوں ؟”

” کیا یہ میری برائیاں کرکے گیا ہے ؟ تم اگلے دن آ کر پھر کہہ رہی ہوگی ایرک کیان مجھ سے دور رہو ،میں سنجیدہ ہوں ، تم برے انسان ہو ، میں بتادوں میں بہت برا ہوں اور اس بار میں واقعی برا بن کر دکھاؤں گا “

وہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی پھر ہلکا سا ہنس دی

” تم واقعی بہت عجیب ہو ایرک “

وہ آگے جارہی تھی ،لمحہ بھر کو اس کی چوڑیوں کا ساز فضا میں بکھرا ، ایرک کی نظر اس کی کلائ پر گئ ،پھر میز پر رکھی رقم پر ، پھر وہ سیدھا ہوا اور کپ لبوں سے لگایا

” اس کے یہ ہتھیار واقعی خطرناک ہیں ، ہوشیار رہو ایرک “

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

اس نے سوچا وہ بہت تیزی سے اسٹیشن کی طرف جائے گی تاکہ سنان سے ملاقات نا ہوسکے لیکن وہ باہر ہی ٹھہرا تھا تو سوچ سوچ تک ہی رہ گئ

” میں صرف آپ کے چند منٹ لوں گا معطر “

” میں اپنے چند منٹ نہیں دے سکتی ، مجھے پہلے ہی دیر ہوچکی ہے “

” میں لفٹ دے سکتا ہوں “

” ضرورت نہیں ہے”

وہ سنجیدگی سے اسٹیشن کی طرف جارہی تھی جب وہ اس کے سامنے آیا ،معطر کے قدموں کو بریک لی

” آپ مجھے نظر انداز کرنا چاہ رہی ہیں ،میں پوچھ نہیں رہا ، آپ یقیناً یہی کرنا چاہ رہی ہیں “

وہ یہی کرنا چاہ رہی تھی

” مجھے دیر ہورہی ہے سنان ، راستہ چھوڑ دیں “

“میں راستے میں آنے والا مرد نہیں ہوں لیکن میں صرف یہ جاننا چاہ رہا ہوں کہ اس دن آپ کو میرا تیمور کا گریبان پکڑنا برا لگا تھا ؟”

پہلی بار ،پہلی بار اس نام پر اس کے اندر کچھ نہیں ابھرا تھا ، نا کوئ خوش نما خواب ، نا اذیت ناک خیال

” آپ اسے میرے سامنے تھپڑ بھی مار دیتے مجھے کوئ فرق نا پڑتا “

” پھر آپ مجھے نظر انداز کیوں کررہی ہیں ؟”

” کیا آپ پچھلے چار پانچ دن سے مجھے نظر انداز نہیں کررہے تھے ؟۔۔۔میں نے تو یہ سوال نہیں پوچھا تھا “

وہ لمحہ بھر کو چپ رہ گیا

” میرے پاس وجہ تھی۔۔۔ “

” میرے پاس بھی ہے “

” جان سکتا ہوں کیا ؟”

” انجان رہیں ، جاننا آپ کے لئے فائدے کا باعث نہیں ہوگا “

اس نے پھر سے قدم آگے بڑھا دیئے

” آپ کے والد کو کینسر ہے ؟”

وہ گہری سانس لیتی پلٹی

” آپ ہمدردی کا اظہار کرنا چاہ رہے ہیں تو ضروت نہیں ہے ، ترس دکھانا چاہ رہے ہیں تو میں قابل ترس نہیں ہوں ، سوال تھا تو ہاں انہیں کینسر ہے “

” نا یہ ہمدردی تھی نا ترس ۔۔۔۔” وہ چلتے ہوئے اس کے سامنے آرکا ” یہ فخر تھا، یہ متاثر ہونا تھا ، مجھے آپ کی بہادری پر فخر ہوا تھا ، مجھے آپ کی ہمت نے متاثر کیا تھا “

معطر کو اس جواب کی امید نہیں تھی ، وہ کچھ دیر کو بالکل چپ رہ گئی

” آپ دل رکھ رہے ہیں ؟”

” دل میرے پاس رہا ہی کب ہے ” ہلکی آواز میں کہتے وہ سر جھٹکتے کچھ بے بسی سے مسکرایا پھر اسے دیکھا ” میں تعریف کررہا ہوں ، مجھے پاکستان کے لاہور سے آنے والی معطر صبا کی ہمت نے متاثر کیا تھا ، مجھے اس کے عمل نے متاثر کیا تھا ، میں نے سوچا اور جانا کہ آپ نے گھر بیٹھ کر ساری ذمہ داری اپنے گھر کے مردوں پر نہیں ڈالی ، آپ نے رو کر خود کو حالات کے دھارے پر نہیں چھوڑا ، آپ لڑیں ، ممکن ہے گری بھی ہوں لیکن تھکی نہیں ہیں ، میں اعتراف کرتا ہوں کہ آپ نے مجھے متاثر کیا ہے”

وہ اس کے چہرے پر نظریں جمائے اپنے مخصوص نرم لہجے میں کہہ رہا تھا ، معطر کے گلے میں گلٹی ابھری ، گری تھی ؟ وہ بہت بار، بہت بری طرح گری گی ، گہری سانس لیتے اس نے سنان کو دیکھا ،پھر نظر پیچھے گئ

” میری بس چلی گئ “

وہ بے ساختہ پلٹا ، سرخ رنگ کی ڈبل ڈیکر بس ابھی نکلی تھی ، بالوں میں ہاتھ پھیرتے سنان نے معذرت خواہانہ نظروں سے اسے دیکھا

” میں صرف آپ کی بہادری کی تعریف کررہا تھا”

” کر لی ہو تو میں جاؤں ؟”

” کیسے جائیں گی ؟ میں گاڑی پر چھوڑ دیتا ہوں “

” میں چلی جاؤں گی “

” میں آفر کررہا تھا ، آپ اگر مجھ پر یقین نہیں کرتیں تو۔۔۔۔ “

معطر نے اس کی بات کاٹ دی

” اگر آدھی رات کو آپ کو اپنی مدد کے لیے بلایا تھا تو ظاہر ہے آپ پر یقین ہی تھا ،لیکن جانتے ہیں سنان ۔۔۔” اس نے اپنے کوٹ کی جیب میں موجود ہاتھ سینے پر باندھے ، چہرہ یوں تھا جیسے دنیا کا کوئ غم لاحق نا ہو ” میں جان گئ ہوں کہ اگر میری بس چھوٹ جائے تو میرے پاس ٹیوب کا راستہ بھی ہے بجائے کسی سے لفٹ لینے کے ، میں جان گئ ہوں کہ میرے مسئلے حل کرنے کے لئے ہر مرتبہ کوئ نہیں آئے گا ، مجھے اپنے لئے خود لڑنا ہوگا ، میں نے سوچا اور جانا کہ اس دن آپ کو کال کرنے کی بجائے مجھے اپنی گردن اٹھا کر مضبوطی سے چلنا چاہئے تھا ،کوئ مجھے ہاتھ لگاتا تو میں اپنے ہاتھ سے اس کا ہاتھ توڑ دیتی ، ایرک نے جاب سے نکلوایا تھا تو مجھے خاموشی سے وہ جگہ چھوڑنے کی بجائے وہ جگہ اس پر گرا کر آنی چاہئے تھی ، تیمور حیدر نے چھوڑا تھا تو مجھے اس کی پہنائ گئ انگوٹھی اس کے منہ پر مار کر آنی چاہئے تھی ، لیکن ٹھیک ہے ، میں اب یہ سب کرسکتی ہوں ، کسی سنسان گلی میں کبھی دوبارہ کوئ ملا تو میں اپنے پاس اب چھری رکھتی ہوں ، کوئ میری جاب پر نظر رکھے گا تو مجھے اب اس کی آنکھیں چھیننا آتی ہیں اور رہی بات انگوٹھی کی تو اسی منہ پر کافی پھینک کر آرہی ہوں میں “

وہ چپ ہوگئ ، سنان سنتا رہا

” آپ کے اردگرد کے لوگ آپ کی مدد کے لئے ہی ہوتے ہیں معطر “

” نہیں ہوتے ، میں نے یہ بھی جان لیا ہے کہ دن کے اختتام پر ہمارے پاس صرف ایک شخص بچ جاتا ہے اور وہ ہم خود ہیں ، ہمارے علاوہ ہر شخص ہمیں چھوڑ جاتا ہے ۔۔۔۔ میں نے یہ بھی جان لیا ہے کہ مجھے شہزادی نہیں ملکہ بننا ہے ، مجھے اپنے مسئلے خود حل کرنے ہیں ، کسی شہزادے کا انتظار نہیں کرنا ۔۔۔۔” اس نے آنکھیں بند کرکے ایک سانس فضا کے سپرد کی پھر سنان کو دیکھا ” آپ کی آفر کا شکریہ “

وہ گلے میں موجود مفلر ٹھیک کرتی آگے بڑھ گئ ، اینجل اسٹیشن سے ٹرین نکلنے میں تقریباً پانچ منٹ تھے ، اسٹیشن دو منٹ کے فاصلے پر تھا ، وہ تیز قدموں سے چلتے بنا پیچھے دیکھے آگے بڑھتی گئ ، آئسٹر کارڈ ( oyster card) کو سینسر پر رکھا اور ٹرین میں سوار ہوگئ ، آئسٹر سفید اور نیلے رنگ کا کارڈ تھا جو عموماً ٹیوب اور میٹرو بسوں پر سواری کے لئے استعمال ہوتا تھا ، یہ خود کار طریقے سے کرایہ کاٹ لیٹا تھا اور آپ کو بار بار ٹکٹ لینے کی زحمت نہیں کرنی پڑتی تھی ، ایک اسٹیشن سے دوسرے اسٹیشن تک داخل ہوتے اور اترتے وقت اسے سنسر پر ٹیپ کرنا پڑتا تھا اور یہ خود کو کار طریقے سے کرایہ کاٹ لیتا

خوش قسمتی رش آور نہیں تھا تو سیٹس خالی تھیں ، وہ سامنے ہی سیٹ پر بیٹھ گئ ، ہاتھ میں موبائل تھا جس سے مبشرہ کو جواب دے رہی تھی ، اس کے پاس خواہشات کی لمبی لسٹ تھی ، عون کے پاس شکووں کی ، مبشرہ کو کوئ جواب دیتے ہوئے اسے احساس ہوا کہ کوئ تھوڑے سے فاصلے پر ساتھ آ کر بیٹھا تھا ، اس نے سرسری سی نظر اٹھا کر دیکھا پھر نظر موبائل پر جما دی ، پھر کوئ احساس ہوا ، ٹائپنگ کرتی انگلیاں تھمیں ،نظر دھیرے سے دوبارہ اٹھائ

وہ ٹانگ پر ٹانگ جمائے ساتھ بیٹھا تھا

” آپ یہاں کیا کررہے ہیں ؟”

” میری گاڑی خراب ہوگئ تھی “

معصومیت سے کہا

” ایسے کیسے خراب ہوگئ ؟”

” یہ تو گاڑی یا مکینک کو معلوم ہوگا ، میں مکینک نہیں ہوں ، نا میری گاڑی بات کرسکتی ہے “

” آپ گاڑی کے پاس ٹھہریں پھر، چوری ہوجائے گی “

ایرک کے بعد وہ اس کی گاڑی چوری ہونے کا الزام اپنے سر نہیں لینا چاہتی تھی

” اگر وہ چوری ہوگئ تو میں الزام آپ پر نہیں لگاؤں گا ، نا اس کے پیسے مانگوں گا “

” آپ ہم دونوں کی باتیں سن رہے تھے ؟”

اسے صدمہ ہوا

” جان بوجھ کر نہیں۔۔۔۔یوں ہی سنائ دے گئیں اور صبح ایرک کا کالم دیکھا تھا اخبار میں ” سر جھٹکا” کیسے چوری ہوئ سائیکل ؟”

یوں ہی بات کو طول دینا چاہا ، ٹیوب دس منٹ تک اگلے اسٹیشن پر پہنچ جاتی ، دس منٹ ہی صحیح ، چند لمحے ہی صحیح

” درخت کے نیچے ٹھہرا کر محترم چلے گئے اب الزام مجھ پر لگا رہا ہے ، میں نے تھوڑی کہا تھا میرے ساتھ ایئرپورٹ جانے کو “

خفگی سے کہتے موبائل پر آتا میسج پڑھا ، مبشرہ کی لسٹ کچھ زیادہ ہی طویل ہوتی جارہی تھی

” آپ تیمور سے ملنے گئ تھیں ایئرپورٹ ؟”

اس نے سر اٹھایا ، بس ایک نظر، ایک سنجیدہ سی نظر اور سنان نے احتیاطاً ہاتھ اٹھائے

” آپ سوال نظر انداز کرسکتی ہیں ، تھپڑ کی بجائے یہ زیادہ مناسب رہے گا “

وہ احتیاطاً تھوڑا سا دور ہوا، جیسے وہ واقعی گویا اسے تھپڑ مارنے والی تھی ، چند لمحے خاموشی سے سرک گئے ، وہ سر جھٹکتے دوبارہ موبائل پر جھک گئ تھی اور وہ اردگرد دیکھتا سوچ رہا تھا کہ اس کے علاوہ کون سا موضوع تھا جس پر وہ بات کرسکتا تھا ؟

” میں اسے الوداع کرنے گئ تھی ۔۔۔۔”

سنان نے دھیرے سے رخ موڑا ، وہ اب بھی موبائل پر دیکھ رہی تھی ، لیکن مخاطب وہی تھا

” ہمیشہ کے لیے ؟”

” ہمیشہ کے لئے…”

سر اٹھا کر سامنے دیکھا ، کوئ نیا جوڑا ساتھ بیٹھا تھا ، لڑکی مسلسل موبائل پر مسکراتے ہوئے کچھ دیکھ رہی تھی اور لڑکا اسے

” آسان تھا ؟”

” اس نے بنادیا ۔۔۔۔ خود کو میرے دل سے جانے دیا ، مجھے افسوس ہے میں نے اسے دل میں آنے ہی کیوں دیا تھا “

” آپ کا قصور نہیں ہے ، محبت پر اختیار نہیں ہوتا “

سنان کہ نظر اس کی کلائ پر گئ ، ان چوڑیوں کا شور آج بھی اس کے دل پر بھاری تھا

” محبت کے بعد جو کریں اس پر ہوتا ہے ، مجھے خود کو اس کے لئے نہیں رولنا چاہئے تھا ، اسے لگا میں اس کی غلام ہوں ، وہ کہے دن تو ہاں یہ دن ہی تھا، رات تو رات ہی ہے ، میں ڈرتی رہی کہ اسے کھو دوں گی ، غلط ڈرتی رہی ، جس دن اس نے میرے باپ کے خلاف پہلی بار بات کی تھی مجھے اسی دن اسے چھوڑ دینا چاہئے تھا ، لیکن شاید یہ تب آسان نا ہوتا ، محبت اتنی آسانی سے ختم نہیں کی جاسکتی “

” ٹھیک کہہ رہی ہیں محبت اتنی آسانی سے ختم نہیں کی جاسکتی “

سر ہلایا ، نہیں کی جاسکتی تھی ، اس نے مان لیا تھا

” بھلائ بھی نہیں جا سکتی ،میں اسے یاد رکھوں گی لیکن برے حوالے کے طور پر ، اس کا ذکر آئے گا تو میں نہیں مسکراؤں گی ، وہ نظر آئے گا تو میں اسے نظر انداز کردوں گی ، ایسے ہے تو ایسے ہی ہے ، میں اسے الوداع کرچکی ہوں ” رخ اس کی طرف موڑا ” آئ ایم سوری کہ اس نے میرا نام آپ کے ساتھ جوڑا “

سنان نے نظر اس کے چہرے پر سے ہٹا لی ، اس کے ساتھ نام جوڑا تھا ؟

” یہ اس کی سوچ تھی ، آپ بے فکر رہیں “

” غلط سوچ تھی ، مجھے شرمندگی ہے کہ وہ ان سب میں آپ کو لے آیا “

” مسئلہ میرا نہیں ہے ، آپ کا ہے ، وہ پاکستان میں آپ کے لئے مشکلات کھڑی کرے گا معطر “

” جانتی ہوں ، میں جانتی ہوں اب زندگی آسان نہیں رہے گی لیکن میں تیار ہوں ، تیمور حیدر سے اب میں ہر گھٹیا پن کی امید رکھتی ہوں “

” میں کچھ مدد کرسکتا ہوں آپ کی ؟ “

پورے دل سے آفر کی

” آپ کیا مدد کریں گے ؟ یہ میری جنگ ہے مجھے خود لڑنی ہے ، آپ پہلے ہی بہت مدد کرچکے ہیں مزید نہیں “

وہ کچھ دیر خاموشی سے اسے دیکھتا رہا

” مجھے اچھا لگا کہ آپ نے اپنے دل کی بات مجھ سے کہی “

ٹیوب رک رہی تھی ،معطر نے ساتھ پڑا بیگ اٹھاتے اسے دیکھا

” میں اپنے دل کی بات آپ سے نہیں کہہ رہی تھی میں صرف اپنی پوزیشن کلیئر کررہی تھی ، میں یہ بتا رہی تھی کہ آپ چاہیں تو تیمور حیدر کو دریائے راوی کے سپرد بھی کردیں وہ میرے لئے غیر اہم ہے ، اور غیر اہم شخص کے لئے میں وہم نہیں پالا کرتی ، دل کی بات کیوں کروں گی آپ سے میں ؟”

نرمی سے مسکراتے ہوئے وہ اٹھی ، انداز ایسا تھا کہ سنان کو برا نہیں لگا تھا ، یا شاید اسے لگ ہی نہیں سکتا تھا ، وہ بیگ اٹھا کر اس کے سامنے سے گزر رہی تھی ، سیاہ لباس پر سیاہ گھٹنوں تک آتا کوٹ جس کے لمبے بازوں نے اس کی چوڑیوں کو چھپا لیا تھا ، ان چوڑیوں کا ساز اب بھی بج رہا تھا ، وہ ساز اب بھی بنجارے کو کھینچ رہا تھا

” آپ اپنے دل میں نئ محبت کو جگہ دے سکتی ہیں ؟”

وہ جاتے جاتے رکی ، وہ سر اٹھائے اسے دیکھ رہا تھا ،ٹیوب خالی ہورہی تھی

” عرصے تک نہیں ، ایک شخص ہر شخص کی محبت سے بے زار کرگیا ہے ، ایک بار کی محبت ہر محبت سے ڈرا گئ ہے ، دل کو اب کسی دل کی خواہش نہیں رہی ، آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ نہیں میں دوبارہ محبت نہیں کروں گی “

وہ آگے بڑھ گئ ، چند منٹ کے لئے ساتھی بننے والے مسافر کو شاید کہیں اور جانا تھا تو وہ اس کے ساتھ نہیں اترا تھا ، اسے اب اس کے ساتھ چلنے کی ضرورت بھی نہیں تھی ، وہ اب ازلنگٹن کی گلیوں میں چلتے ہوئے خوفزدہ محسوس نہیں کرے گی ، اس کے پیچھے ٹیوب کے دروازے بند ہورہے تھے ، بند ہوتے دروازے کے پار شخص وہیں بیٹھا تھا ، اسے واپس پہنچنا تھا ، لیکن اب اس کا چہرہ پرسکون تھا

وہ دوسری بار محبت نہیں کرنا چاہتی تھی ، اور وہ پہلی بار محبت کرنے پر راضی تھا

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

کوزی مگ کے کاؤنٹر کے عین سامنے دائیں طرف علیحدہ بنے حصے میں چار پانچ ٹیبلز کو جوڑ کر ایک لمبی نشست بنا دی گئ تھی ، اردگرد ڈھیروں کرسیاں ، ڈھیروں کرسیوں پر بیٹھے چند سٹوڈنٹس ، جن کے ہاتھ میں کتاب اور سامنے لیپ ٹاپ پڑے تھے ، بھنبھناہٹ کی آواز کبھی کبھی شور میں بدل جاتی ، وہ کیفے کی سائیڈ پر بنا الگ کمرے جیسا ہال تھا جہاں ان سب نے ڈیرہ جما رکھا تھا ، ہر ایک پرجوش اور تھکا ہوا سا تھا سوائے اس ایک کے جو سربراہی کرسی کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔ سویا تھا

لیپ ٹاپ سامنے رکھے کتاب پر رکھا سر ، اس شور میں بھی وہ سکون سے سے نیند کررہا تھا ، مایا اور وہ پانچ چکر لگا کر دس کافی کے کپ دے چکی تھیں ، وہ ایک کپ پی کر سو گیا تھا

” ایرک کو جگاؤ ۔۔۔”

سربراہی کرسی پر بیٹھی ایوا نے ایرک کے ساتھ بیٹھے جمی کو مخاطب کیا

” جنگ عظیم شروع کرنے کا اچھا طریقہ ہے”

” ڈر کیوں رہے ہو ؟ اس کے بال پکڑو اور کھینچ دو “

” کیا تم بھول گئے پچھلی مرتبہ اس حرکت کے بعد تمہارے سر کے سارے بال صبح اٹھنے پر غائب تھے؟ تم مجھے یہ مشورہ دے کر کون سی دشمنی نکال رہے ہو ہیری ؟”

” تم اٹھا رہے ہو یا میں واقعی تمہارا دشمن بنوں ؟ میں اس کے حصے کا کام ہرگز نہیں کروں گا ، چاہے یہ اپنے کیمرے سے کوئ بھی تصویر نکال لائے “

جمی نے بڑبڑا کر کچھ کہتے ایرک کو آواز لگائ

” ایرک ۔۔۔۔۔”

وہ سویا رہا

” تم سو کر دنیا پر احسان کررہے ہو ،لیکن فلوقت اس احسان کی ضرورت نہیں ہے ، اٹھو “

” کیا تمہیں سائیکل کا صدمہ زیادہ لگ گیا ہے ؟”

” کوئ اسے جگاؤ ، کیا اس کا کام بھی ہم کریں گے ؟”

” اسے جگانے کے لئے برمنگھم پیلس کے گارڈ بلا کر لاؤ ، یہی آخری حل ہے “

نا اس نے جاگنا تھا نا وہ جاگا ، یہ لڑکا اتنی نیند کہاں سے لاتا تھا ؟ پھر جمی نے اس کے سر پر موجود بالوں کو کھینچا ، اس نے بمشکل آنکھیں کھولیں پھر نظریں اٹھا کر بال کھینچنے والے کو گھورا

” اپنے ہاتھ قابو میں رکھو ، ورنہ میں اپنے ہاتھوں پر قابو نہیں رکھ پاؤں گا “

” تم اپنے حصے کا کام دوسروں پر ڈالنا چاہتے ہو ؟”

” دوسروں کے حصے کا کام دوسرے کرلیں بہت ہے “

” اٹھ جاؤ ورنہ ہم مصیبت لے آئیں گے “

” تم پہلے مصیبت لے آؤ میں اٹھ جاؤں گا “

وہ سر دوبارہ کتاب پر رکھنے لگا، کھینچنے والے نے دوبارہ بال کھینچے ، جس کے ہاتھ قابو میں نہیں آتے تھے اس نے ہاتھوں کا مکا بنا کر جمی کے پیٹ میں مارا

” تم کس قدر گھٹیا ہو ایرک”

وہ کراہا

” میں واقعی ہوں ، اس لئے زبان کو اور ہاتھوں کو لگام دو “

” خاموش ۔۔۔۔۔ ایرک سنجیدہ ہوجاؤ ، دو دن ہیں صرف ہمارے پاس “

سربراہی کرسی پر بیٹھی ایوا نے ان دونوں کو گھورا تو وہ دونوں چپ ہوگئے لا محالہ ایرک کو جمائ روکتے کتاب کو نگاہوں کے سامنے رکھنا پڑا ، چند لمحے کتاب کو آنکھیں سکیڑ کر گھورا پھر آنکھیں کھول کر دیکھا ، یہ سب کیا لکھا تھا ؟ کیا یہ پڑھنا تھا ؟ کیا یہ پڑھ کر پیپر بھی دینا تھا ؟

” ایرک ۔۔۔ تم نے ملک کا انتخاب کرلیا ؟”

” اس کے لئے ساؤتھ افریقہ بہتر رہے گا ، افریقہ میں جنگلات بہتر رہیں گے ، یہ واقعی اچھا رہے گا اسے افریقہ کے جنگلات بھیج دو “

” ہیری ۔۔ کیوں ان جنگلات کو تباہ کرنا چاہتے ہو ؟”

” میں باقی دنیا پر ترس کھا رہا ہوں “

” باقی دنیا کو ہم پر ترس کھانا چاہئے کیونکہ ایرک نامی مصیبت کو ہم پر نازل کیا گیا ہے “

نازل شدہ مصیبت نے منہ پر رکھ کر جمائ روکی ، یوں جیسے اسے ان سب جملوں کی عادت تھی

” بس بھی کرو ۔۔۔۔۔ ایرک کس ملک پر لکھ رہے ہو ؟”

ایوا اکتائ

” میں نے انتخاب کرلیا ہے ۔۔۔” اس نے کرسی پر پیچھے کو ہوتے سامنے کاؤنٹر پر ٹھہری معطر کو دیکھا ” میں پاکستان پر لکھ رہا ہوں “

آواز اونچی تھی ، جس کو سنانا مقصود تھا اس نے سن کر سر اٹھایا ، وہ پورے دل سے مسکرایا ، معطر صبا نے پوری آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھا

” تم شیور ہو ؟”

” اسٹامپ پیپر پر لکھ کر دوں ؟”

” پاکستان پر کیا لکھو گے ؟ “

ایرک نے رخ موڑ کر اسے دیکھا

” وہی جو تم انڈیا پر لکھو گے ،جو جیمز امریکہ پر ، ہیری یوگانڈا پر ، رائن ناروے پر لکھے گا “

کاندھے اچکائے

” ان ممالک میں دہ شت گردی پر لکھنے کے لئے کچھ نہیں ہے “

کافی کی ٹرے لاتی معطر رکی ، سب کی نظر بے ساختہ اس پر گئ سوائے ایرک کے

” ہاں تو مسائل ہی تو لکھنے ہیں ، یہ اچھا ٹاپک رہے گا ، اور سیاحت پر بھی لکھا جاسکتا ہے ، ضروری تو نہیں میں صرف دہ شت گردی پر لکھوں گا ، آئ مین دیئر آر لاٹس آف ٹاپک “

وہ بے نیاز تھا

” ڈرگز سپلائز۔۔۔ دہ شت گردی ۔۔۔کرپشن۔۔۔گداگری۔۔۔۔ اور بھی بہت کچھ ایڈ کرلو ۔۔۔ میرا مطلب ہے مسائل” کسی نے قہقہہ لگایا

” مسائل ہر ملک میں ہوتے ہیں ، اچھی چیزیں بھی ہر ملک میں ہوتی ہیں ، میں اچھی چیزیں لے لوں گا “

” اور مسائل چھوڑدوں گا۔۔۔۔”

کسی نے لقمہ دیا ، ایرک نے ایک انگلی کان میں ڈالی کر گھمائی ، وہ اس سب سے بے زار لگ رہا تھا

” پچاس فیصد مسائل پچاس فیصد وسائل ، اس کی رپورٹ نوے فیصد مسائل پر ہوگی، دس فیصد وسائل پر ، لیکن رکو وہاں دس فیصد وسائل ہیں بھی ؟”

وہ بولنے کو منہ کھول رہا تھا جب پیچھے سے آواز آئ

” تو آپ سب کو لگتا ہے کہ پاکستان میں صرف مسائل ہی ہیں ؟”

معطر پرسکون انداز میں کہتی سربراہی کرسی کے ساتھ آ ٹھہری تھی ، ٹرے ٹیبل پر رکھی ، ساتھ مینیجر کے دروازے کو دیکھا ، وہ اندر تھا ، وہ پانچ منٹ کی تقریر کر سکتی تھی

” اب تم ہمیں لیکچر دو گی کہ مسائل ہر ملک میں ہوتے ہیں بلاں بلاں ، ۔۔۔اوہ کم آن لیڈی “

ایوا کے ساتھ بیٹھے سیاہ فام لڑکے نے ہاتھ بے زاری سے ہلایا ، ایرک خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا ، بے زار آنکھیں دلچسپی سے سکڑ گئ تھیں

” میں یہ نہیں کہنے والی تھی۔۔۔۔” وہ ہلکا سا مسکرائ پھر ہاتھ سینے پر باندھے” میں ایرک کو بتانے آئ تھی کہ وہ پاکستان کے بارے میں کیا کیا لکھ سکتا ہے “

” اسے مشورے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔”

” کیا لکھ سکتا ہوں ؟”

معطر نے وہی پُرسکون نظریں اس پر جمائیں

” بہت سے ٹاپک ہیں۔۔۔۔”

” جیسے کہ۔۔۔۔۔”

وہ ایک بازوں پیچھے کرسی پر جمائے اسے دیکھنے لگا

” جیسے کہ دنیا کا بلند ترین اے ٹی ایم پاکستان میں خنجراب پاس پر ہے ، دنیا کی دوسری بڑی نمک کی کان پاکستان میں ہے ، تھر پارکر میں دنیا کے چوتھے بڑے کوئلے کے ذخائر موجود ہیں، دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام پاکستان میں ہے ، پاکستان دنیا کے دس سب سے زیادہ گندم پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے ، دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی پاکستان میں ہے ، دنیا کا پہلا طویل ترین جنگل جو انسانی ہاتھوں سے لگایا گیا پاکستان میں ہے ، دنیا کے چودہ بلند ترین پہاڑوں میں سے پانچ پاکستان میں ہیں ، پاکستان کی فوج دنیا کی سب سے بڑی رضاکارانہ فوج میں شامل ہے ، پاکستان کی عوام سب سے زیادہ خیرات دینے والی عوام میں سے ہے ، پاکستان میں سب سے بڑا ایمبولینس نیٹ ورک موجود ہے ، پاکستان کی آدھی سے زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور۔۔۔۔۔” رک کر ایک آخری نظر ساکت بیٹھے سامعین پر ڈالی اور مسکرائ” پاکستانی قوم دنیا کی بہترین مہمان نواز قوم ہے ،کبھی آئیے گا ضرور “

کپ رکھ کر ٹرے اٹھائ اور سر کو خم دیتے با اعتماد چال چلتے کاؤنٹر کی طرف مڑ گئ ، پیچھے سب کتنی ہی دیر خاموش بیٹھے رہے ،پھر سر جھٹکتے لیپ ٹاپ سامنے کرلئے ، سوائے ایرک کے ، وہ رخ موڑے کاؤنٹر پر ٹھہری معطر کو دیکھ رہا تھا ، لبوں پہ محظوظ کن مسکراہٹ تھی ،پھر رخ موڑے سامعین پر ڈالی

“جیسے کہ اس نے کہا کہ میرے پاس بہت سے موضوعات ہیں تو تم لوگ پریشان مت ہو۔۔۔ناؤ ایکسکیوزمی “

کاندھے اچکاتے وہ اٹھا ، کافی کا کپ اٹھایا اور معطر کی طرف بڑھا جو کیپ اتارتی اپنا بیگ اٹھا رہی تھی

” میری پاکستان کے بارے میں رائے کچھ زیادہ ہی بری تھی “

کپ لبوں سے لگاتے اسے دیکھا

” تمہارے میڈیا کی بدولت ، ان کا شکریہ “

” برطانوی میڈیا کے بارے میں تمہارے خیالات بہت برے ہیں “

” جس طرح ان کے پاکستان کے بارے میں برے ہیں ، میرے نزدیک برطانوی میڈیا جنہم کی مانند ہے جو اپنے لوگوں کو نفرت کی آگ میں جھونک رہا ہے”

” عنقریب میں اسی میڈیا کا حصہ بننے والا ہوں “

” یعنی عنقریب تم بھی پاکستان کے بارے میں غلط خبریں دینے والے ہو “

” میری رائے اتنی آسانی سے تبدیل نہیں ہوتی ، تم دو منٹ کی تقریر سے میری رائے نہیں بدل سکتیں “

ایک ہاتھ جیب میں ڈالے دوسرے ہاتھ سے وہ کافی کے گھونٹ بھر رہا تھا ، انداز کچھ تبدیل سا تھا ، وہ جلدی میں نا ہوتی تو غور کرتی ، غور کرتی تو مشکوک ہوتی

” کیا چل رہا ہے ویسے یہ ؟”

بیگ میں موبائل ٹھونستے پوچھا

” اسائنمنٹ ، ہر سٹوڈنٹ کو کسی ملک پر ڈاکومنٹری بنانی ہے، ان کے مسائل ، ان کے وسائل “

” اور تمہیں پاکستان ملا ؟”

وہ جانتی تھی چن چن کر غلط چیزیں ڈالے گا پاکستان سے متعلق

” کچھ عرصے پہلے تک شاید میں یوگانڈا کو پاکستان پر ترجیح دیتا ، اب بات مختلف ہے”

آنکھیں گول گول گھمائیں ، معطر نے رک کر اس کا انداز دیکھا ،یہ بٹن کی طرح گول گول کیسے آنکھیں گھما لیتا تھا ؟

” اب کیا بات ہے ؟”

بیگ اٹھاتے وہ مایا کو ہاتھ ہلاتی باہر کی طرف جانے لگی

” اب میری پاکستان کی معطر صبا سے ملاقات ہوگئ ہے”

وہ کپ وہیں رکھتا اپنے دوستوں کی طرف جارہا تھا ،معطر لمحہ بھر کو رکی پھر سر جھکتے آگے بڑھ گئ ، اسے اسٹور پہنچنا تھا

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

دروازہ کھولتے اس نے بائیک صحن میں ٹھہرائ پھر دروازہ بند کرتے برآمدے تک آیا اور دھڑام سے کرسی پر گرا ، بیگ میز پر رکھ دیا تھا

” عون پانی کا گلاس تو لے آؤ “

آنکھوں کو مسلتے صحن میں موجود عون سے کہا تو اس کا منہ بنا

” مبشرہ کو کہہ دیں نا بھائ “

” وہ پڑھ رہی ہے ۔۔۔۔”

” آپ کو دیکھ کر کتاب کھولی ہے ، ورنہ پہلے میرے ساتھ لڈو کھیل رہی تھی “

دانیال کی نظر مبشرہ پر گئ ، وہ گڑبڑائ

” جھوٹ بول رہا ہے یہ “

” ہاں تمہارے تو سات پشتوں میں کوئ جھوٹا نہیں گزرا “

” تم دادا پردادا کو جھوٹا کہہ رہے ہو ؟ “

” تم دادا پردادا کا نام لے کر خود کو بچا رہی ہو؟ “

” بس بھی کرو۔۔۔ ..” دانیال اکتایا ” ایک پانی ہی مانگا تھا ، جنگ شروع کردی تم دونوں نے تو “

وہ اٹھ کر خود ہی اندر جانے لگا جب گلاس میں پانی لے کر آتی ساجدہ پر نظر پڑی وہ کرسی پر واپس بیٹھا

” ان دونوں کو کوئ کام کہنے سے بہتر ہے خود ہی اٹھ کر کرلیا کرو “

اس نے پانی کا گلاس لیتے عون اور مبشرہ پر نظر ڈالی ، وہ پھر سے لڑائ میں مصروف تھے

” بابا کی طبیعت ٹھیک ہے ؟”

” بہتر ہے۔۔سو رہے تھے ، معطر کو بتایا ؟”

” نہیں ، وہ پریشان ہوجاتی ہے پھر “

انہوں نے سر ہلادیا ، کل رات تو گویا ان کے ہاتھ پاؤں ہی پھول گئے تھے ، افتخار صاحب کی طبیعت اچانک ہی شدید خراب ہوگئ تھی

” بل جمع کروادیا ؟”

” جی ، راشن کی لسٹ بنا دیجئے گا ، لے آؤں گا ، پہلے تو معطر کے ساتھ جاتا تھا تو آسانی ہوجاتی تھی “

تھک کر سر پھر سے کرسی پر ٹکایا ، ساجدہ کچھ دیر اسے دیکھتی رہیں

” تم تھک گئے ہو دانیال ؟”

” تھوڑا بہت۔۔۔” وہ ہلکا سا مسکرایا ” معطر ہوتی تھی تو احساس نہیں ہوتا تھا ، اب وہ نہیں ہے تو احساس ہورہا ہے کہ اس نے کتنی ہی ذمہ داریاں اٹھا رکھی تھیں ، وہ میرا بڑا بھائ تھا “

” ہمارا بڑا بیٹا بھی …. کبھی کبھی افسوس ہوتا ہے ہمارے لئے خود کو برباد کررہی ہے “

” اگر آپ کا اشارہ جاب کی طرف ہے تو وہ اس کی مجبوری تھی ، اور اچھا ہے اسے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے دیں ، لیکن اگر آپ کا اشارہ تیمور کی طرف ہے تو وہ اس کی خوش قسمتی تھی “

” تیمور اچھا لڑکا ہے دانیال ، اور پھر مکمل اچھا تو کوئ نہیں ہوتا “

” مکمل اچھے ہونے کا کہا کس نے ہے پیاری امی جان ، معطر نے چار سال اس کی برائیاں نظر انداز کی ہیں ، اگلی ساری زندگی اس کی چند اچھائیوں کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے گزر جاتی “

” تم اسے آپ کہا کرتے تھے “

اسے گھورا

” وہ اب قابلِ عزت نہیں رہا ، میں کمرے میں جا رہا ہوں ،لسٹ بنا دیں آپ “

بیگ اٹھاتے وہ اندر کی طرف بڑھا ، بابا کے کمرے کے پاس چند لمحے کو رک کر اندر جھانکا ، وہ آنکھوں پر بازوں رکھے سو رہے تھے ، وہ کچھ دیر انہیں دیکھتا رہا پھر آگے بڑھ گیا ، چہرے پر تھکن اترنے لگی ، کچھ دیر پہلے اسے تیمور کے کزن نمیر کی کال آئ تھی اور اس نے جو کچھ کہا تھا اسے سننے کے بعد اس کے اندر باہر اضطراب دوڑ گیا تھا ، کیا وہ معطر کو بتادے کہ تیمور حیدر یہاں اس کے بارے میں کیا باتیں پھیلا رہا تھا ؟

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆