Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode

عشق دے رنگ رنگجاواں

قسط 43

سنایا خان

آخری قسط………

آہل سوتے ہوۓ سہان کو مسلسل دیکھ رہا تھا رات کو وہ دیر تک اس کے پاس تھا اور اس کے جاگنے سے بھی پہلے وہاں اگیا تھا سہان نے انکھیں کھولیں اور اسے دیکھ کر مسکرایا

گڈ مارننگ

اہل. نے پیار سے اس کے ماتھے پر کس کرکے کہا وہ جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گیا

گڈمارننگ…… آپ گھر نہیں گۓ …

وہ حیران ہوکر بولا آہل چند پل خاموش رہا

…تمہیں لگتا تھا نا کہ تم دیر تک سوتے ہو اس لیے تمہارے پاپا تم سے مل نہیں پاتے اس لیے آج میں گیا ہی نہیں تاکہ تم سے مل. سکوں

تو کیا آپ میرے پاپا ہو ….
اس نے معصومیت سے پوچھا آہل نے سر اثبات میں ہلا دیا

تو آپ نے مجھے کیوں نہیں بتایا پہلے…….

وہ جانے حیران تھا یا پریشان

کیونکہ میں تمہیں سرپرائیز دینا چاہتا تھا تاکہ تم خوش ہو جاؤ

آہل کوئی بھی غلط بات اس کے زہن میں نہیں انے دینا چاہتا تھا اس لیے ماہی کی بنائی ہوئی کہانی کو آگے بڑھاتے ہوۓ بڑی آسانی سے اسے حقیقت بتا دی

سچ میں آپ میرے پاپا ہو……

وہ بیڈ پر کھڑے ہوکر خوشی سے بولا اہل نے مسکرا کر سر ہلا دیا اوراست گلے سے لگا لیا کتنی ہی دیر اسے یونہی خود سے لگاۓ رکھا ماہی نے اندر داخل ہوتے اس منظر کو سنجیدگی سے دیکھنے لگی

مام …. یہ میرے فرینڈ نہیں میرے پاپا ہے

وہ ماہی کو دیکھ کر آہل سے الگ ہوا آہل نے مڑ کر ماہی کو دیکھا وہ کچھ نہیں بولی

آپ اتنے دن سے کیوں نہیں ملے مجھے میں نے کتنا مس کیا آپ کو

وہ آہل سے مخاطب ہوا

سوری بیٹا مجھے نہیں معلوم تھا کہ میرا بیٹا مجھے اتنا مس کرتا ہے ورنہ میں کبھی تمہیں خود سے دور نہیں رکھتا

وہ ماہی کی جانب دیکھ کر بولا

تو اب آپ مجھے چھوڑ کر نہیں جائینگے نا

کبھی نہیں… اب ہم ہمیشہ ساتھ رہے گے

وہ ماہی کو دیکھ کر سہان کی جانب رخ کرکے بولا

مام اب ہم ہمیشہ ساتھ رہے گے پاپا کہیں نہیں جائنگے
ماہی بس سنجیدگی سے اسےدیکھنے لگی اسے خود نہیں معلوم تھا کہ ااے کیا کرنا ہے تب ہی روشنی وہاں ائی

سہان… جاگ گۓ تم…. ہاؤ آر یو ناؤ

روشنی سیدھے اس کے پاس آکر بولی

روشنی تمہیں پتہ ہے یہ میرے پاپا ہے……… اور پاپا اب ہمیشہ میرے ساتھ رہے گے..

وہ خوشی سے بولا تو روشنی نے سر ہلا کر ہاں کہاں

ہاں سہان پاپا اب تمہارے ساتھ رہے گے…. اچھا چلو تم فریش ہوجاؤ پھر ہم سب ساتھ میں بریک فاسٹ کرینگے

وہ پیار سے بولی

پاپا بھی

سہان کی ہر بات میں اب بس پاپا ہی تھے

ہاں پاپا بھی …
.وہ ہنس کر بولی اور اسے گود میں اٹھا کر باہر نکل گئی

میں اج سہان کو اپنے ساتھ لے جا رہا ہوں

اس کے جانے کے بعد ماہی بھی باہر جانے لگی تو آہل کی آواز پر اس کے قدم رک گئے وہ رخوڈ کر بے یقینی سے اسے دیکھنے لگی

حیران کیوں ہو تم…. بہت وقت تک دور رکھ لیا اسے اب نہیں….
ماہی نے سر نیچے کرکے انکھیں بند کرلی آہل اس کے پاس آیا اور اس کا سر اوپر کیا

ماہی……. بس کردو اب…. چلو یہاں سے……. مجھے ضرورت ہے تمہاری……. آۓ لو یو…….

آہل نے اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر کہا ماہی نے بھری ہوئی انکھوں سے اسے دیکھا

سہان اور تم دونوں ہی بہت امپورٹینٹ ہو میرے لیے………میری لائف ادھوری ہے تمہارے بغیر…….. میں بتا نہیں سکتا تمہیں لیکن ان پانچ سالوں میں میں نے بہت کوشش کی تم سے نفرت کرنے کی تمہیں بھولنے کی لیکن ایسا نہیں کرپایا میں …..ایک لمحہ کے لیے بھی تمہیں اپنے دل سے نہیں نکال پایا میں……. میں نے اپنی لائف میں اگر کسی سے محبت کی ہے تو وہ تم ہو

وہ چند پل. رکا

چلو اب یہاں سے… ایک نہیں شروعات کرتے ہیں……. سب کچھ بھول کر نۓ سرے سے زندگی شروع کرتے ہیں……..

وہ اس کے ہاتھ کو لبوں تک لے جاتے ہوۓ بولا لیکن ماہی نے ہاتھ کھینچ لیا

نہیں آہل جی…. بہت دیر ہو چکی ہے…. قسمت ہمیں ایسے مقام پر لے آئی ہے جہاں سے ہم واپس نہیں جاسکتے… کوئی ہمیں معاف نہیں کریگا اب نا ہمیں قبول کریگا کوئی….سب کو ناراض کرکے ہم نے جب یہ قدم اٹھایا تھا اس وقت ہی ہم جانتے تھے کہ واپسی کا کوئی راستہ نہیں اس میں…..

وہ انسو صاف کرتے ہقۓ بولی

ایسا نہیں ہے……..سب ٹھیک ہوجاۓ گا میں ہوں نا میں سب ٹھیک کردونگا……. بس تم اور وقت برباد مت کرو بے بنیاد باتوں کی وجہ سے ….. ……چلو چلتے ہیں …..

وہ اسے سمجھا تے ہوۓ بولا اور اس کا ہاتھ ہٹا کر خود اس کے گال سے انسو صاف کے

اور تنوی جی….

وہ اسے دیکھ کر بولی تو آہل کا ہاتھ رک گیا

افف پھر تنوی…… میں تمہیں بتا چکا ہوں کئی بارکہ تنوی صرف میری دوست ہے

وہ غصے سے بولا

لیکن آپ ان سے شادی کرنا چاہتے تھے….

ہاں لیکن تب تم میری لائف میں نہیں آئی تھی مجھے تم سے پیار نہیں تھا اور ویسے بھی اب تو تنوی کی شادی ہونے والی ہے……

وہ اس کی عقل پر ماتم کرتے ہوۓ بولا ماہی اسے غور سے دیکھنے لگی

ایسے مت دیکھو مجھ سے نہیں ہونے والی ہے اس کی شادی…..

ماہی نے رخ دوسری جانب کرلیا تو آہل کو اس پر بہت غصہ آیا

آج شام کی فلائٹ سے میں واپس جا رہا ہوں سہان کو اپنے ساتھ لے کر… تمہارا ویٹ کرونگا میں…

وہ بس اتنا کہہ کر باہر نکل گیا اور وہ وہیں بیڈ پر بیٹھ گئی

مام پاپا کہاں گئے….
سہان اندر آکر اسے ڈھونڈتے ہوۓ بولا

وہ…… وہ کام سے گئے ہے بیٹا ابھی واپس اجائنگے

وہ اس کا چہرہ تھام کر بولی

مام آۓ ایم سو ہیپپی اب ہم سب ساتھ رہے گے بہت مزہ آئگا نا

وہ خوشی سے بولا ماہی نے اثبات میں سرہلا دیا لیکن بہت مشکل سے اس نے اپنے انسوں کو روکا ہوا تھاوہ اتنا خوش تھا لیکن وہ سہان کو اپنے سے دورکیسے جانے دیتے

آپ سیڈ کیوں ہو……آپ ٹینشن مت لو اب میں پاپا کو نہیں جانے دونگا

سہان اسکی پریشانی نوٹ کرکے بولا ماہی نے ااے جلدی سے گلے لگا لیا


پاپا ہم کہاں جا رہے ہیں

وہ گاڑی سے اترکر ائیر پورٹ پر آۓ تو سہان نے معصومیت سے پوچھا

ہم اپنے گھر جارہے ہیں…..

وہ مصروف سے انداز میں بولا

کونسے گھر…..اور مام نہیں آرہی ہمارے ساتھ

وہ ضرور آئیگی بیٹا…..

آہل نے اس کےجانب دیکھ کر کہا اور اسے گود میں اٹھالیا
لیکن اس کی امید غلط تھی وہ بہت دیر رک انتظار کرتا رہا لیکن وہ نہیں آئی بار بار اس کا نام پکارا جارہا تھا لیکن وہ نہں جا سکا سہان سو چکا تھا وہ اسے لے کر واپس ہوٹل چلا آیا اور روشنی کو فون کیا اور اسے بتایا کہ وہ صبح جانے والا ہے ا ایک اخری کوشش کی تھی اس نے اس امید کے ساتھ کہ تب تک ماہی سوچ سمجھ کر کوئی فیصلہ کرسکے لیکن اس کا کؤئی فائدہ نہیں ہوا اگلے دن بھی اسے اکیلے ہی جانا پڑا کہ اسے نا آنا تھا وہ نا آئی


آہل سہان کو لیے واپس گھر آیا سہان کو دیکھ کر سب ہی بے حد خوش تھے نا کس نے ماہی کا پوچھا نا اہل نے خود سے اس بارے میں کوئی بات کی سہان کے آتے ہی جیسے گھر میں محفل سا سماں بندھ گیا تھا لیکن آہل کے لیے اب بھی سب کچھ ادھورا سا تھا

لگتا ہے بہت تھک گۓ ہو تم جا کر آرام کرلو بیٹا

آہل تھکا ہارا سا صوفے پر سر ٹکاۓ بیٹھا اسی کے بارے میں سوچ رہا ثریا بیگم نے کہا تو سیدھا ہوکر بیٹھ گیا

سہان….

وہ. سو گیا ہے تمہارے ڈیڈ کے ساتھ….

ثریا بیگم نے اسے بتایا تو اس نے اثبات میں سرہلاتے ہو اٹھ گیا…تھکے تھکے قدموں سے اپنے کمرے کی جانب بڑھا دل ہی نہیں کر رہا تھا کہ وہ اپنے کمرے میں جاۓ جہاں پھر سے وہی تنہائی بے سکونی اور اندھیرا اس کا منتظر تھا لیکن اس نے اندر قدم رکھا تو وہاں روشنی تھی کینڈلس کی مدھم روشنی اور گلاب کی خوشبو سے مہکتا ہوا یہ کمرہ اسے اجنبی سا لگا وہ حیران ہوکر اندر آیا

بیڈ پر وہ دلہن بن کر اس کی منتظر تھی اس کا چہرہ سرخ دوپٹے میں چھپا ہوا تھا آہل کو سب کچھ ایک خوب سا لگا ایک وہم جیسا اس نے پاس رکھے کینڈل اسٹینڈ پر رکھی کینڈل کی لو کو ہاتھ سے چھونا چاہا اس کی تیز حرارت پر فورا اپنا ہاتھ ہٹا لیا اسے بس یہ یقین کرنا تھا کہ یہ وہم ہے یا حقیقت اور حقیقت ہے تو کون ہے جو اس کی دلہن بنی ہوئی اس سجے سجاۓ بیڈ پر اپنے پیر سمیٹے بیٹھی ہے وہ اپنے ہاتھ میں تھاما ہوا کوٹ صوفے پر ڈال کر بیڈ پر آیا ادھا ادھورا سا بیڈ پر بیٹھ کر اس نے پہلے بغور اسے دیکھا اس کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا نا حیرانی نا خوشی نا تجسس

اس نے ایک ہاتھ سے اس گھونگھٹ کو پیچھے کیا تو ماہی کو دیکھ کر حیران ہوگیا ماہی بنا اسےدیکھے ہی ہلکا سا مسکرائی

تم……..

وہ حیرانی سے بولا

آپ کسی اور کو ایسپیکٹ کررہے تھے…

وہ. مصنوعی خفگی سے بولی

نو… آۓ مین.. تم یہاں کیسے… تم سچ میں یہاں ہو….

وہ بے یقینی سے بولا

ہم. سچ میں یہاں ہے….. چھو کر دیکھ لیجیے…

اس نے اپنا ہاتھ آگے کیا

.آپ خوش نہیں ہے ہمیں یہاں دیکھ کر ….

آہل کو مسلسل خاموش دیکھ کر اسے ٹینشن ہونے لگی

مجھے یقین نہیں ہورہا.. کیا پتہ تم ایک خواب ہو جو انکھ کھلتے ہی ٹوٹ جائگا

وہ. اسے غور سے دیکھتے ہوے بولا

ہم خواب نہیں حقیقت ہے…….

ماہی نے اس کا ہاتھ اپنے چہرے پر رکھ کر اسے یقین دلانا چاہا

تم یہاں کیسے……

اس دن. آپ کے جانے کے بعد ہمیں رائمہ آپی نے فون کیا تھا گھر میں سب سے ہماری بات بھی کروائی ناراض تو تھے سب ہم سے لیکن کسی نے نفرت نہیں جتائی ہمیں اور کیا چاہیے تھا……… ہم نے انجانے میں بہت غلط قدم اٹھایا تھا سب کا دل دکھایا اپ کو اتنی تکلیف پہنچائی آپ کو سمجھ نہیں پاۓ ہم
لیکن سب نے ہمیں معاف کردیا اور آپ نے بھی ہماری غلطی کو درگزر کردیا اس کے باوجود اگر ہم نا آتے نا تو خود کی نظر سے گر جاتے ہم……

پچھلی باتیں مت کرو بس ایک. پرامس. کرو کہ آئیندہ ایسا کچھ نہیں کرونگی کوئی بھی پرابلم. ہو. مجھ سے شئیر کروگی مجھے کبھی غلط نہیں سمجھوگی.. اپنی ہر بات مجھ سے شئیر کروگی

آہل نے اسے سمجھاتے ہوۓ کہا اس نے سر اثبات میں ہلا دیا

لیکن تم مجھ سے پہلے یہاں کیسے پہنچ گئی…..

اس دن ائیرپورٹ پر ہم آپ کے پاس آۓ تو آپ وہاں نہیں تھے آپ نے فون پر روشنی سے کہا کہ آپ صبح جانے والےہے ہم آپ کے پاس انے والے تھے لیکن روشنی نے ہمیں زبردستی یہاں بھیج دیا تاکہ ہم آپ کو سرپرائیز دے سکے

اہل نے ایک گہری سانس لی اور بستر پر گرگیا

سرپرائیز سے زیادہ شاک تھا یہ میرےلیے شکر ہے مضبوط انسان ہوں کمزور دل کا مالک ہوتا تو شاید خوشی سے مر جاتا

وہ مسکرا کر بولا ماہی نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا

ایسی باتیں مت کیجیے…..
اہل اس کی حرکت پر مسکرا کر اس کے ہاتھ پر کس کیا تو اس نے فورا ہاتھ ہٹالیا

کیسی باتیں کرو……..

وہ اسےشرارتسے دیکھتے ہوۓ بولا تو ماہی سیدھی ہوکر رخ پھیر گئی

ہمیں نہیں پتہ….

اس کء نظروں سے الجھ کر بولی

اوکے میں بتاتا ہوں…..

وہ اسے کھینچ کر اپنے اوپر گراتے ہوۓ بولا


بہت پیاری لگ رہی ہیں آپ ………

دانش نے اسے زبردستی خود سے لپٹالیا وہ خود کو چھڑانے کی کوشش کرتی رہی تب اس کے کان کے پاس سرگوشی میں بولا وہ ڈارک بلیو سوٹ میں بلیک دوپٹہ اور سادے سے میک اپ میں اج بھی ویسی خوبصورت لگ رہی تھی

کچھ تو شرم کیجیے باہر مہمان انتظار کررہے ہیں اور آپ کو رومانس سوجھ رہا ہے چھوڑیے ہمیں……

اج ان کی پیاری سی بیٹی امایہ کا تیسرا برتھ ڈے تھا اور ساتھ ہی ماہی اور سہان کے واپس آنے کی خوشی کا جشن بھی گھر مہمانوں سے بھرا ہوا تھا …. امایہ سے زیادہ سہان کو کیک کاٹنے کی جلدی تھی اور وہ دس دفعہ رائمہ سے کہہ چکا تھا

جانے دو نا ………میرا موڈ نہیں باہر جانے کا ……..ہم. دونوں یہیں رک جاتے ہیں..اور یہیں سیلیبریشن کرتے ہیں

وہ اپنی گرفت مزید سخت کرتے ہوۓ بولا رائمہ زور لگا کا خود کو آزاد کیا

جی نہیں آپ اکیلے یہیں رک جایے ہمیں جانا ہے برتھ ڈے ہماری بیٹی کا ہے تو سیلیبریشن بھی ہم اس کے ساتھ کرینگے

رائمہ نے اسے جواب دیا

…… آپ کو اپنے شوہر کا زرا خیال نہیں بے چارہ اتنا پیار کرتا ہے آپ سے کبھی جھوٹ موٹ ہی پیار جتا دیا کریں
وہ شکوہ کناں لہجے میں بولا

آپ کی. اموشنل. بلیکمیلنگ اس وقت کام. نہیں کرینگے اوکے باۓ

رائمہ نے اسکی باتوں کو خاطر میں نا لاتے ہوۓ کہا اور فورا باہر نکل آئی

رائمہ………

وہ اسے روکتا ہوا خود بھی اس کے پیچھے چل دیا

مامی جی…ہم کیک کب کاٹے گے……..

اس کے باہر نکلتے ہی سہان نے پھر سے سوال کیا

سہان…… یہ آپ کی مامی نہیں پھوپھی ہے بیٹا

ثریا بیگم نے رائمہ سے بات کرتے ہوۓ کہا تو سہان نے ایک پل کو ان کی جانب دیکھا

پھوپھی ہم کیک کب کاٹے گے…..

بس بیٹا شروع ہی کررہےہیں آپ چلو ہمارے ساتھ

رائمہ اس کا ہاتھ پکڑ کر لے جاتے ہوۓ بولی لیکن پھر کسی مہمان کو دیکھ کرباتوں میں لگ تو وہ بےزاری سے انکھیں گھما کر رہ گیا

بہت بہت شکریہ آپ لوگ یہاں اۓ

نانی صاحب اور باقی سب بھء ماہی کے بیت کہنے پراس تقریب میں شریک ہوۓ تھے

ہمیں بس اپنی بچی کی خوشی چاہیے وہ خوش ہے تو ہمیں کیا اعتراض ہو سکتا ہے

نانی صاحب نے جواب دیا انداز سردسرد سا تھا

جی آئے نا…..

ثریا بءگم نے ان کے لہجے کو سنجیدگی اے نا لیتے ہوۓ انہیں اندر لے آئی

سہان………….

سہان ایک کونے میں کھڑا تھا ادھر سے ادھر دیکھ رہا تھا جب دانش وہاں آیا

کیا ہوا آپ یہاں اکیلے کیوں کھڑے ہو ……

ماما جی ہم کیک کب کٹ کرینگے میں کتنی دیر سے ویٹ کررہا ہوں بہت بھوک لگ رہی ہے آپ کہیں نا پھوپھی کو جلدی کرنے کے لیے

وہ معصومیت سے بولا تو دانش نے مسکرا کراسے گود میں اٹھا لیا

بیٹا وہ آپ کی پھوپھی نہیں مامی ہے
اب کے دانش نے اس کی اصلاح کی کل سے آج تک کئی بار اس کی اصلاح ہو چکی تھی

لیکن دادی نے کہا کہ وہ پھوپھی ہے

میں آپ کا ماما ہوں …تو وہ آپ کی مامی ہے نا
دانش نے تفصیل بتائی

اوکے تو آپ بولو نا مامی کو

اسے صرف اپنے کام سےمطلب تھا

اچھا چلیے…….
دانش رائمہ کو ڈھونڈتے ہوۓ اس کے پاس آیا تھوڑی دیر بعد سب کی موجودگی میں ایک کیک امایہ کے ہاتھوں اوردوسرا سہان کے ہاتھ سے کاٹا گیا سہان تو پھر پوری طرح سے کیک کھانے میں بزی ہوگیا

ماہی بار بار آہل کی نظریں خود پر محسوس کررہی تھی وہ ایک طرف کھڑا کسی سے بات کررہا تھا اورساتھ ہی اسے دیکھ رہا تھا جیسے ہی ماہی نے اسے اکیلے پایا اس کے پاس آئی

ایسے کیوں گھور رہے ہیں آپ ہمیں……….

وہ اسے غصے سے دیکھ کر بولی تو وہ مسکرایا

میری انکھیں ….میری بیوی …..میری مرضی

بے نیازی سے بولا

مہمان بھی آپ کے ہیں

ماہی نے اسے یاد دلایا

تمہیں کیا. لگتا ہے مجھے کوئی فرق پڑتا ہے اس بات سے کہ کوئی کیا سوچے گا اور اگر لگتا ہے تو میں تمہاری یہ غلط فہمی دورکرسکتا ہوں

وہ دھیمی آواز اور زومعنی لہجے میں بولا

نہیں…….اس کی ضرورت نہیں آپ سے کچھ بھی امید کی جاسکتی ہیں

ماہی نے رسک لینے سے انکار کیا اہل فخریہ مسکرایا

کیونکہ آپ بے شرم ہے……
ماہی نے کہا تو آہل نے مسکراہٹ روک کر اسے غصے سے دیکھا

انسلٹ……اوکے…. تو میں….. وہ…. اس لڑکی کو دیکھ لیتا ہوں کم سے کم وہ تو ایسا نہیں کہے گی

وہ ماہی کے پیچھے اشارہ کرتے ہوۓ بولا ماہی اسے صدمے سے دیکھنے لگی

یہاں نہیں وہاں دیکھو…..
آہل اس کے آنکھوں کے آگے چٹکی بجا کر بولا

ہمیں نہیں دیکھنا……
وہ ناراضگی سے بولی

دیکھ لو…. واقعی اتنی خوبصورت ہے …….. دل کرتا ہے بس دیکھتے رہو…… اور جب انکھیں تھک جاۓ تو اسے سینے سے لگا کر…

بسسسس………

وہ. مدہوش لہجے میں بولا ماہی نے اس کی بات کاٹ کر دانت پیستے ہوۓ بس کہا آہل مسکرایا

وہ صدمے سے اسے دیکھنے لگی آہل مسکرا کر اس کا چہرہ ہاتھ سے اس جانب کیا تو ماہی نے دیکھا پیچھے شیشہ لگا تھا اور آہل اسی کے عکس کی تعریف کررہا تھا اس نے پہلے مسکرا کر اس کی جانب دیکھ پھر مصنوعی غصہ دکھاتے ہوۓ وہاں سے چل دی

کئی بار آہل نے اس سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن وہ اسے اگنور کرتی رہی محفل ختم ہوئی تو سب اپنے اپنے گھر چلے گۓ صرف رائمہ اور دانش ہی
رک گۓ کیونکہ کل صبح ان لوگوں کا پکنک پر جانے کا پلین تھا ماہی کچن میں آکر پانی کا جگ بھرنے لگی تب اہل وہاں آیا

ماہی……

ہمیں آپ سے بات نہیں کرنی اپ جائے اب وہیں جاکر پیار جتایے جہاں تعریفیں کررہے تھے

وہ رخ پھیر کر بولی آہل نے اس جا رخ اپنی جانب کیا

ماہی آۓ ایم سیریس…. مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے

وہ. سنجیدگی سے بولا تو ماہی بھی سنجیدہ ہوگئی

کونسی بات…….

وہ سہان….

آہل نے بس اتنا کہا

کیا ہوا سہان کو…….

وہ پریشان ہوکر بولی

کچھ نہیں ہوا تم چلو میرے ساتھ ….

لیکن کہاں….

روم میں بہت سیریس میٹر ہے یہاں نہیں بتا سکتا چلو

وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اوپر روم میں لے آیا

اہل جی کیا بات ہے ہمیں ٹینشن ہورہی ہے بتایے نا

وہ اب واقعی پریشان ہوگئی اہلیکو اس قدر سنجیدہ دیکھ کر

ماہی دھیان سے سنو یہ بہت اہم مسئلہ ہے ہمیں اسے جلد سے جلد حل کرنا ہوگا

وہ اس کے قریب ہوکر اس کے ہاتھ تھامے بولا

کونسا مسلئہ …

سہان….. سہان کو

وہ جان بوجھ کر پوری بات نہیں بولا

کیا…

ماہی اسے پریشان نظروں سے دیکھنے لگی

سہان کو….سہان کو چھوٹی بہن چاہیے. وہ بھی جلد سے جلد…

وہ اس کے کان کے قریب ہوکر سرگوشی میں بولا

ایسے کیا دیکھ رہی ہو آۓ ایم سیریس …

ماہی اسے حیرت سے دیکھنے لگی تو وہ نا چاہتے ہوۓ بھی مسکرا دیا

ہٹیے ہمیں آپ سے بات نہیں کرنی

وہ خفگی سے اسے پیچھے کرتے ہوۓ بولی اور دونوں ہاتھ چہرہ پر رکھ کر مسکرا دی آہل نے اس کے ہاتھ ہٹا کر مسکراتے ہوۓ اس کے ماتھے پر پیار کیا

آۓ لوو یو……..

کہتے ہوۓ اسےسینے سے لگالیا ماہی نے اس کی دھڑکنوں کو محسوس کیا اور پرسکون ہوکر انکھیں بند کرلی ایک بات کی تسلی تھی کہ اب سب کچھ اچھا ہونا تھا کیونکہ آہل اس کے ساتھ تھا ہوتا وہی ہے جو لکھا ہوتا ہے اس لیے اللہ پر بھروسہ رکھے کیونکہ وہ کبھی کچھ غلط نہیں کرتا

ختم شدہ

از سنایا خان