Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 24

عشق دے رنگ رنگجاواں
قسط 24

سنایا خان

نکاح کا دن قریب اگیا تھا آہل بہت کم ہی گھر پر ہوتا تھا اس کا زیادہ تر وقت باہر ہی گزرتا تھا دیر رات کو وہ گھر واپس آیا تو ثریا بیگم اس کا انتظار کر رہی تھی

رائمہ سے بات کی میں نے وہ راضی ہے بیٹا اسے اس رشتے سے کوئی اعتراض نہیں ہے اب تم بھی مان جاؤ پلیز

وہ اس کے پاس صوفے پر بیٹھتے ہوے بولیں آہل نے جیسے سنا ہی نا ہو

کب تک میری غلطی کی سزا خود کو دیتے رہوگے تم………. کیا میں نہیں جانتی کہ تم اندر سے کتنے ٹوٹ چکے ہو……….. کاش کے میرے بس میں ہوتا کہ میں سب کچھ بدل دوں میری وجہ سے جو کچھ……….

وہ. روتے ہوے کہنے لگی تو آہل نے ان کی بات کاٹ دی

مام پلیز… آپ کی وجہ سے کچھ نہیں ہوا ہے خود کو ہر بات کے لیے بلیم کرنا بند کردیں

نہیں …..میں جانتی ہوں اس سب کی زمہ دار میں ہی ہوں میں نے تم سے تمہارا بچپن چھین لیا تمہاری مسکراہٹ تمہارا سکون سب کچھ میری وجہ سے ہی………

میں ماں کہلانے لائق نہیں ہوں…..

وہ سر نفی ہلاتے ہوے بولیں

اگر آپ نہیں ہوتی تو آج میں زندہ نہیں ہوتا آپ نے مجھے زندگی دی ہے اور زندگی دینے والی ماں ہی ہوتی ہے

وہ ان کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیتے ہوے بولا

میں اپنے آپ کو کبھی معاف نہیں کر سکتی بیٹا……… کم. سے کم تم مجھے معاف کردینا …

وہ روتے روتے بول رہی تھی

اگر آپ نے ایسی باتیں کی نا تو……..

اہل نے بات ادھوری چھوڑی اور ان کے گلے سے لگ گیا

اۓ لو یو مام….. میری لائف کے سب سے برے وقت میں اگر کچھ بات بہت اچھی ہوئی ہے تو وہ یہ کہ مجھے آپ مل گئی…….. اللہ نے مجھ سے بہت کچھ لیا ہے لیکن بدلے میں آپ کو دیا ہے اور آپ جانتی ہے نا مجھے آپ کے انسوو بلکل پسند نہیں اگر اب آپ روئی تو میں آپ سے ناراض ہوجاؤنگا

وہ خفگی سے بولا

تم مجھ سے کبھی ناراض مت ہونا میں تمہاری ناراضگی برداشت نہیں کر پاؤنگی اب ………

انہوں نے اس سے الگ ہوتے ہوے کہا
آہل نے سر نفی میں ہلادیا


ڈارک بلیو لانگ کرتی اور ریڈ چوڑی دار پر ریڈ ہی بڑا سا دوپٹیہ سر پر اوڑھے سفید ہتھیلیاں مہندی سے سجی تھی اور کلائیاں چوڑیوں سے بھری تھی وہ دنیا کی سب سے معصوم دلہن لگ رہی تھی بس چہرے پر ایک اداسی تھی انکھوں میں کچھ امیدیں اور دل میں ڈر

نکاح خواہ نے جب نکاح کے کلمات ادا کرکے اس سے اجازت چاہی تو اس نے بنا کچھ کہے سر اٹھا کر کچھ دوری پر کھڑے آہل کو دیکھا جو دیوار سے ٹیک لگاے نظر جھکاے کھڑا تھا وہ رائمہ کی نظروں کو محسوس تو کر چکا تھا لیکن اس کی جانب دیکھا نہیں ثریا بیگم نے رائمہ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی جانب متوجہ کیا تو وہ انہیں دیکھنے لگی اس کا بھائی اس سے ناراض تھا تو وہ کیسے اس نئی زندگی میں خوش رہ پاتی ثریا بیگم اس کی نظروں کا مفہوم تو سمجھ رہی تھیں لیکن اسے کچھ بھی کہنے سے قاصر تھیں تب رائمہ نے اپنے ہاتھ پر کسی کا ہاتھ محسوس کیا وہ آہل ہی تھا آہل نے اسے انکھوں ہی انکھوں میں حوصلہ دیا تو اس کی انکھ سے آنسو اور لبوں پر مسکراہٹ ایک ساتھ آئی اور تب اس نے کہا

قبول ہے………….


نکاح میں بس چند ہی لوگ شریک ہوے تھے شیخ صاحب اور رضیہ بیگم دونوں ہی اس رشتے سے خوش تھے بلکہ انہیں اپنے بیٹے کی پسند پر فخر محسوس ہورہا تھا رضیہ بیگم اس رشتہ کا سن کر کچھ پریشان ضرور ہوئی تھی لیکن دانش نے ان کی ساری پریشانی آسانی سے دور کردی تھی ماہی دونوں کو دیکھ کر بس ان کی خوشیوں کی دعا کررہی تھی اس کی خوشی تو دوگنی تھی ایک طرف بھائی اور دوسری طرف رائمہ…..

نکاح کے بعد دانش کی خوشی کی کوئی انتہا نہیں تھی اس نے تو جیسے چاند کو چھو لیا تھا ایک مستقل مسکراہٹ اس کے چہرے کو مزید پرکشش بنا رہی تھی نکاح کے بعد بڑی شدت سے اس کا دل چاہ رہا تھا کے وہ جانے سے پہلے ایک دفعہ رائمہ سے ملاقات کرے اور اس نے اس بات کے لیے ماہی سے کہا تھا

سب مہمان جا چکے تھے اور رائمہ روم میں اکیلی تھی وہ اپنی کلائی سے چوڑیاں نکال رہی تھی جب دانش بنا دستک دیے سیدھے اندر داخل ہوا رائمہ کو محسوس نہیں ہوا دانش دونوں ہاتھ باندھےدیوار سے ٹیک لگاے اسے دیکھنے لگا رائمہ نے ساری چوڑیاں نکال کر ایک طرف رکھ دی اور اٹھ کر چینجنگ روم کی طرف جانے لگی تب دانش کواچانک سے سامنے دیکھ کر وہ بری طرح گھبرا گئی اس کے منہ سے چینخ نکلتی اس کے پہلے دانش نے آگے بڑھ کر اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا

ایسا مت کریں ورنہ اپنے ہی نکاح والے دن میری پٹائی ہو جائے گی کیا آپ کو اچھا لگےگا اپنے نئے نئے شوہر کو پٹوا کر

وہ اس کی خوفزدہ انکھوں کو دیکھتے ہوے بولا پھر اس کے لبوں سے ہاتھ ہٹایا رائمہ نے ایک گہری سانس لی

آپ یہاں…… کب ائے….. اور کسی نے دیکھ لیا تو….. پلیز آپ یہاں سے چلے جائیں

وہ گھبرائی ہوئی سی بولی

چلا جاؤں گا پہلے اچھی طرح سے دیکھنے تو دیجیے میری بیوی بننے کے بعد کیسی لگتی ہے آپ ……

وہ انگھوٹے سے اس کا چہرہ اوپر کرتے ہوےبولا رائمہ کی نظریں شرم سے جھک گئی

ایسا لگتا ہے جیسے میرا خواب چاند کی صورت میں میرے سامنے کھڑا ہے

دانش نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور اس کے چہرے کو دیکھتے ہوے ان پر اپنے ہونٹ رکھ دیا رائمہ نے بجلی کی تیزی سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا

آپ کو یہاں سے چلے جانا چاہیے کسی نے دیکھ لیا تو ہمیں بہت خراب لگے گا

وہ پریشانی سے بولی

ٹھیک ہے لیکن جانے سے پہلے ایک بار آپ کو گلے تو لگا سکتا ہوں نا میں…… اتنی تو اجازت ہے نا مجھے

رائمہ اس کے انداز پر کچھ کہہ نہیں پائی بس اسے دیکھنے لگی دانش نے آگے بڑھ کر اسے سینے سے لگایا

رائمہ نے انکھیں بند کرکے اس کی دھڑکن کو محسوس کیا

آپ خوش تو ہیں نا

اس نے دھیرے سے پوچھا رائمہ نے کوئی جواب نہیں دیا
دانش نے اسے خود سے الگ کیا تو وہ سر جھکاے اپنے انسو چھپانے کی کوشش کررہی تھی دانش نے اس کے انسو صاف کرتے ہوے چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا

میں آج بہت خوش ہوں کیا آپ چاہتی ہے آپ کو روتے دیکھ کر میرا دل بھی اداس ہوجاے

رائمہ نے بنا اس کی جانب دیکھے سر نفی میں ہلا دیا

آپ کو مجھ پہ بھروسہ ہے نا

رائمہ نے اس کی جانب دیکھ کر سر اثبات میں ہلا دیا

تو پھر بس…. اب آپ کو رونا نہیں ہے کبھی بھی.. اب آپ کی زندگی میں بس خوشیوں کی جگہ باقی ہے اور اگرمیں کبھی کوئی غلطی کرکے آپ کو تکلیف پہنچاؤں تو میں آج خود آپ کو اجازت دے رہا ہوں کہ آپ میری اچھی طرح سے خبر لیجیے گا

اس کی بات پر رائمہ روتے روتے ہنس پڑی

دانش کو اس وقت وہ بہت پیاری لگی اس نے اس کا چہرہ اپنے اور قریب کیا وہ اسے گھبرائی ہوئی نظروں سے دیکھنے لگی دانش نے اس کے ماتھے پر پیار کیا …..

کوئی اجاے گا…..

وہ اس کے دونوں ہاتھ ہٹا کر بولی اور کچھ پیچھے ہوئی

بس اب کچھ دن اور اس کے بعد چاہے کوئی اۓ کوئی جاے یا آپ خود کتنے ہی بہانے بناے …..

وہ اہ بھرتے ہوے بولا رائمہ مسکراتے ہوے نظر جھکا گئی

چلیں اس سے پہلے کہ آپ شرم سے گلاب بن جاے اور میں بےقابو ہوجاؤ مجھے یہاں سے چلے جانا چاہیے

وہ اسے شوخ نظروں سے دیکھتے ہوۓ بولا

میری بیوی کا خیال رکھیے گا جب تک وہ میرے پاس نہیں اجاتی….

جایئے….
وہ التجائی نظروں سے بولی دانش اس کی گھبراہٹ پر ہلکا سا ہنسااور بنا مڑے پیچھے چلتا ہوا دروازے تک پہنچا اور پھر باہر نکل گیا