Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 27

عشق دے رنگ رنگجاواں
قسط 27

کتنے غلط تھے ہم…… کبھی ہم نے جاننے کی کوشش نہیں کی آپ کی بےرخی آپ کا غصہ ان سب کی وجہ کیا ہے …..ہمیں تو یہی لگتا تھا کہ ہمارا دکھ سب سے بڑھ کر ہے کیونکہ ہم نے اپنے امی اور ابو دونوں کو کھودیا لیکن نہیں آپ نے کیسے سہا ہوگا یہ سب جسے ہم سن بھی نہیں پارہے ہیں

ماہی اپنے انسو صاف کرتے ہقے بولی

لیکن آہل جی.. کب تک آپ اسی طرح جیتے رہے گے بھول کیوں نہیں جاتے آپ ان باتوں کو چاہے جو بھی ہو ہے تو وہ آپ کے ڈیڈ ہی….. ہو سکتا ہے انھیں بھی اپنی غلطیوں کا احساس ہو چکا ہو وہ خود پشیماں ہو اپنے کیے پر اور اگر آپ کو اس سے تسلی نہیں ملتی تو آپ ان سے بات کیوں نہیں کرتے اس بارے میں اپنی ناراضگی ظاہر کیوں نہیں کرتے ان پر ……….کبھی کبھی باتیں کہہ دینے سے سب کچھ سہی ہوجاتا ہے اس طرح ایک ایک بات کو اپنے دل میں رکھنے سے کچھ نہیں ہوتا بس نفرتیں
بڑھتی ہے

آہل خاموش صوفے سے سر ٹکایے خاموش بیٹھا تھا ماہی نے اس کی جانب دیکھتے ہوے کہا

وہ نہیں بدلے ہیں ماہی …….آج بھی وہ ویسے ہی ہے بس اپنی مرضی کا کرنے والے انھیں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ان کے فیصلے سے کوئی خوش ہے یا نہیں انھیں نے کبھی جاننے کی کوشش ہی نہیں کی

وہ یونہی چھت کی جانب دیکھتے ہوے بول

تو آپ خود بتا دیجیے انھیں جھگڑا کیجیے ان سے شکایتیں کیجیے بتایے انھیں کے ان کی وجہ سے آپ کو کتنی تکلیف سے گزرنا پڑا اس خاموشی کی وجہ سے ہی نفرت بڑھ رہی ہے اس خاموشی کو توڑیے ……..معاف کردیجیے انھیں آہل جی بھول جایئے سب کچھ

ماہی نے اسے سمجھانے کی کوشش کی اہل سیدھا ہوکر اس کی جانب رخ کیا

مجھے لگا تھا انھوں نے تمہیں میرے لیے اس لیے چنا ہے کیونکہ وہ بدل گیے ہے اب وہ دولت کا نہیں سوچ رہے نا اس میں ان کی کوئی غرض شامل ہے وہ میرا اچھا سوچ کر ایسا کررہے ہیں لیکن………

وہ کہتے کہتے رکا اور ماہی کو سنجیدگی سے دیکھنے لگا ماہی نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا

تم جانتی ہو انھوں نے میری شادی تم سے کیوں کروائی….. اس لیے نہیں کہ تم ہماری سوسائٹی کی لڑکیوں جیسی نہیں ہو یا تم خوبصورت ہو انھوں نے اپنی غلطی کا بھگتان کرنے کے لیے ایسا کیا… اپنا گلٹ ختم کرنے کے لیے… اپنے گناہوں کا مداوا کرنے کے لیے

وہ اس کی نظروں کو سمجھ کر بولا

یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں آہل جی ہم سمجھے نہیں…

اس نے ناسمجھی سے کہا

ہماری زندگی کی کڑیاں بہت پہلے سے ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے. میرے ڈیڈ کے ہاتھوں جو ایکسیڈنٹ ہوا تھا اس میں جن کی جان گئی تھی وہ تمہارے امی ابو تھے

اس نے ایک اور دھماکہ کی

کیا ……
وہ بہت شاکڈ رہ گئی ایک ہی وقت میں اس پر کتنے راز کھلے تھے اور اب یہ بات… اسے یقین نہیں آیا

یہ بات مجھے پہلے پتہ نہیں تھی ماہی ………..اگر مجھے پہلے سے معلوم ہوتا تو میں کبھی تمہیں اتنا ہرٹ نہیں کرتا…………میں نے تمہیں اتنا غلط کہا جب کہ میرے اپنے ڈیڈ کی وجہ سے تمہارے ساتھ اتنا کچھ ہوا ہے

وہ. ماہی کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوے بولا ماہی حیرت اور صدمے سے اسے دیکھنے لگی

اۓ ایم سوری…..

اس کی انکھ سے آنسو گرا تو آہل نے ایک ہاتھ سے اسے سمیٹتے ہوے پشیمانی سے کہا

نہیں آہل جی آپ سوری مت کہیے….

وہ روتے ہوے بولی

میں تمہیں یہ بات اب بھی نہیں بتانا چاہتا تھا لیکن میں کیا کروں اب اور کچھ اپنے اندر چھپا کر نہیں رکھ سکتا میں …..میرے صبر کی حد ختم ہوچکی ہے میرا دم گھٹنے لگا ہے ایسا لگ رہا ہے اس گھٹن سے شاید میری سانسیں رک جاے گی..

وہ بےبسی سے بولا ماہی نے فورا اس کے منہ ہاتھ پر رکھ کر اسے روکا

ایسا مت کہیے آہل جی….. آپ کو کچھ نہیں ہوگا اپ مت رکھیے اس طرح خود کو قید……….. سب کچھ اپنے دل سے نکال کر آزاد ہوجایے …مت دیجیے خود کو اتنی ازیت

وہ. تڑپ کر بولی ماہی نے اپنا ہاتھ ہٹایا اہل خاموش رہا

کیا تم انھیں معاف کرسکتی ہو…

کچھ دیر کی خاموزی کے بعد بولا

ہمارے بڑے پاپا کہتے ہیں گزرا ہوا وقت جا چکے مہمان کی طرح ہوتا ہے اور آنے والا وقت آنے والے مہمان کی طرح جو جا چکا ہے اس کے برے برتاؤ پر رونے پچھتانے کی بجاے ہمیں آنے والے کے لیے تیار رہنا چاہیے کہ ہمیں اسے کیا دینا ہے اس سے کیا سیکھنا اور کیسے اس کا مقابلہ کرنا ہے

ہاں یہ جاننے کے بعد ہمارے لیے مشکل ضرور ہوگا لیکن پھر بھی ہم پوری کوشش کرینگے کہ ہم سب کچھ بھلا کر انھیں معاف کردیں کیونکہ جو بھی ہو ہمارے امی ابو تو واپس نہیں اسکتے تو کیا فائدہ ہماری نفرت ہماری ناراضگی کا… جس طرح اج تک ہم انجان تھے اس بات سے ایسا سمجھے گے کہ ہمیں یہ بات پتہ ہی نہیں بھول جاے گے ہم سب کچھ…

وہ بمشکل بول پائی

اور آپ بھی سب کچھ بھول جایے آہل جی پلیز ہماری خاطر ………وہ چاہے جو ہے جیسے ہیں آپ کے ابو ہے ان کا رتبہ بہت بڑا ہے ……..وہ اچھے باپ نہیں بنے ہیں تو کیا ہوا آپ بہت اچھے بیٹے بن کر انھیں معاف کردیجیے ……..آہل جی جو ہمارے پاس ہوتا ہے نا ہمیں اس کی قدر نہیں ہوتی لیکن جب وہ ہم سے دور چلا جاتا ہے تو ہمیں احساس ہوتا ہے اس کی ضرورت محسوس ہوتی ہے لیکن تب کوئی نہیں ہوتا ہماری پکار سننے والا

وہ اسے سمجھاتے ہوے بولی

شاید تم ایسا کر سکتی ہو….لیکن… میرے لیے بہت مشکل ہے ماہی ایک بات ہوتی تو شاید بھول بھی سکتا تھا لیکن اتنے زخم لگے ہے کہ جن کے بھرنے کی کوئی امید ہی نہیں………

وہ سرخ ہوتی انکھوں کو بند کرکے بولا

ایسا نہیں ہوتا آہل جی وقت کے ساتھ ہر زخم بھر جاتا ہے آپ وقت کے ساتھ چلیے ماضی سے نکل کر آگے بڑھیے پھر دیکھیے ہر زخم بھر جاے گا… ایک بات سوچیے کہ اگر آج آپ کی امی زندہ ہوتی تو کیا آپ کو اس طرح دیکھ کر سکون سے رہ پاتی کیا وہ آپ کو اجازت دیتیں کہ آپ اپنے ابو سے نفرت کرے ان کے لیے…..

آہل انکھیں کھول کر اسے سنجیدگی سے دیکھنے لگا اس کے چہرے سے بال ہٹاتے ہوے اس کے گلے میں ہاتھ ڈالا ماہی نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا

ہم سے وعدہ کیجیے آہل جی کہ آپ کوشش کرینگے اپنے ابو کی غلطیوں کو بھول کر اچھے بیٹے ہونے کا فرض نبھایے گے

آہل نے اس کے چہرے کو دیکھتے ہوے اس کا ہاتھ اپنے لبوں پر رکھ کر انکھیں بند کرلی…… کچھ دیر اسی طرح رہا پھر انکھیں کھولی اور ماہی کا ہاتھ چھوڑ کر وہاں سے اٹھ گیا ماہی نے اسے نہیں روکا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ وہ اس وقت اکیلا رہنا چاہتا ہے


یہ دیکھیے… یہ کیسا ہے….

رائمہ نے اپنی شادی پر پہننے والا خوبصورت دوپٹہ اسے دکھاتے ہوے کہا

بہت خوبصورت ہے آپی

وہ رائمہ کو خوش دیکھ کو بولی

یہ ہماری امی کا دوپٹہ ہے ہماری بہت خواہش تھی کہ ہم اپنی شادی پر اسے پہن سکے لیکن……..

وہ اداس ہوکر کہنے لگی اس نے اپنی شادی پر وہ دوپٹہ پہننا چاہا تھا لیکن اس کے سسرال والوں نے پرانا کہہ کر اسے روک دیا تھا لیکن وہ جانتی تھی دانش کے لیے اس کی خوشی اب سے زیادہ معنی رکھتی ہے اس لئے وہ انکار نہیں کریگا

آپی آپ اپنی شادی والے دن یہی دوپٹہ پہنیے گا بہت خوبصورت لگے گی آپ

ماہی نے اس سے کچھ پوچھنے کی بجاے کہا رائمہ ہلکا سا مسکرائی اور دوپٹہ فولڈ کرنے لگی ماہی اسے سنجیدگی سے دیکھنے لگی
اس نے بھی تو کتنا کچھ برداشت کیا تھا لیکن کتنی مضبوظ بن کر رہتی تھی اپنا دکھ کسی پر ظاہر تک نہیں ہونے دیتی تھی اپنے چہرے کی مسکان سے خود کو خوش دکھا کر سب کو مطمئن رکھتی تھی ماہی کو اس پر بہت پیار آیا وہ فورا آگے بڑھ کر اس کے گلے لگ گئی رائمہ پہلے حیران ہوئی اور پھر اسے خود سے الگ کرکے غور سے دیکھا

کیا ہوا ماہی…..

وہ پریشانی سے پوچھنے لگی

کچھ نہیں آپی بس یونہی دل کیا آپ کو گلے لگانے کا

اس کی بات پر رائمہ پرسکون ہوکر خوبصورتی سے مسکرائی

آپ بہت اچھی ہے آپی ہم آپ کو بہت مس کرینگے

وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی

ہم آپ کو مس کرنے کا موقع ہی نہیں دینگے اس کے پہلے ہی آپ سے ملنے اجائنگے

ماہی اس کی بات پر مسکرائی رائمہ نے اسے گلے لگایا


شادی کی تیاریاں شروع ہوگئی تھی اور سب ہی بہت مصروف ہوگیے تھے ماہی اور رائمہ دونوں شاپنگ کرکے تھک رہی تھی مہیر نے آہل کا کام آسان کرکے ساری باہری زمیداریاں خود لے لی تھی آہل بس آفس کے کام میں بزی تھا اور بہت پریشان بھی تنوی کے واپس آنے کے بعد سے اسے سمجھ نہیں آرہا تھے کہ کرے تو کیا اس نے تنوی کو زبان تو دے دی تھی جس سے وہ پیچھے نہیں ہٹنا چاہتا تھا لیکن وہ ماہی سے محبت کرنے لگا تھا اور یہ بھی محسوس کیا تھا کہ ماہی بھی اسے چاہتی ہے اگر اب وہ تنوی سے شادی کرتا تو وہ ماہی کے ساتھ ساتھ خود پر بھی زیادتی ہوتی وہ بہت کنفیز ہوگیا تھا جب سامنے دو راستے ہو ایک سہی اور ایک غلط تو انسان آسانی سے فیصلہ کرسکتا ہے کہ اسے صحیح ہی چننا ہے لیکن جب صحیح اور غلط سمجھ ہی نا آئے تو کیا کریں تنوی کی کوئی غلطی نہیں تھی تو وہ اسے دھوکہ کیسے دے سکتا تھا دوسری طرف سوال خود کی محبت کا تھا وہ چاہ کر بھی تنوی سے محبت نہیں کرسکتا تھا کیونکہ اب اس کے دل میں صرف ماہی تھی

دیر رات کو وہ گھر لوٹا تو سب سو چکے تھے وہ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آیا تب اس نے ماہی کو روم. میں صوفے پر بیٹھے دیکھا وہ وہاں آیا ماہی اس کا انتظار کرتے ہوے وہیں پر سوگئی تھی اس کا سر ایک طرف ڈھلکا ہوا تھا اور بال چہرے پر بکھر گئے تھے اہل آستین فولڈ کرتے ہوے اسے دیکھتا ہوا اس کے پاس آکر بیٹھ گیا اور اسے سنجیدگی سے دیکھنے لگا اس کے چہرے سے بالوں کو پیچھے کرکے اس کے ایک ایک نقش کو اپنی انکھوں میں قید کرنے لگا اس کے ہونٹوں پر آکر نظر ٹہر گئی اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں اس طرح لیا کہ بس ماہی کی چار انگلیاں ہی اس کی گرفت میں تھی آہل نے اس ہر جھکتے ہوے اپنا چہرہ اس کے چہرے کے قریب کیا ماہی نے اس کی سانسوں کی حرارت کو محسوس کیا تو انکھیں کھولی اس نے کچھ کہنا چاہا لیکن تب تک آہل اس کے لبوں پر اپنے لب رکھ کر اسے خاموش کرچکا تھا اس نے دونوں ہاتھوں سے آہل کو پیچھے کیا او گھبرائی ہوئی نظروں سے اسے دیکھنے لگی آہل اس کی گھبراہٹ کو محسوس کرتے ہوۓ اس سے دور ہوا اور سیدھا ہوکر اس سے نطریں ہٹاکر دوسری جانب دیکھنے لگا ماہی اٹھ کر کھڑی ہوئی کتنی ہی دیر وہ خاموش رہ کر سوچنے لگی بات کرنے کے لیے لفظ ڈھونڈنے لگی

ہم آپ کے لیے کھانا لے آتے ہیں.

اس کی حالت عجیب ہورہی تھی وہ بنا اس کی جانب دیکھے بولی

.نہیں… میں نے کھالیا ہے….

وہ بھی بنا جانب دیکھے بولا

ٹھیک ہے….

وہ سونے کے لیے جانے لگی آہل اسے بس دیکھتا رہا روکنے کی کوشش نہیں کی کیونکہ وہ اس کے ساتھ کوئی زبردستی نہیں کرنا چاہتا تھا