Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 34

عشق دے رنگ رنگجاواں
قسط 34
سنایا خان

پریشان مت ہوئیں رائمہ ورنہ آپ کی طبیعت خراب ہوجاۓ گی

وہ. کافی دیر سے روۓ جارہی تھی دانش نے اسے چپ کرواتے ہوۓ کہا

کیسے پریشان نا ہو ہم ایک مہینہ ہوگیا ماہی کا کوئی پتہ نہیں اور آہل………..

وہ. کہتے کہتے چپ ہوگئی

ڈونٹ وری سب ٹھیک ہوجاۓگا….

دانش نے اسے گلے لگاتے ہوۓ کہا

ہم کیا کریں دانش……. ہم اسے ایسے نہیں دیکھ سکتے….. چاہے وہ کتنا بھی ٹھیک بتاے خود کو لیکن ہم جانتے ہیں وہ ٹھیک نہیں ہے….

دانش نے اسے خود سے الگ کیا

میں کیا کہوں آپ سے …میرے پاس الفاظ ہی نہیں ہے کچھ کہنے کے لیے… مجھے یقین ہی نہیں ہوتا کہ ماہی نے ایسا کیا ہے… بچپن سے جانتا ہوں اسے…. وہ. خود سے پہلے دوسروں کے بارے میں سوچتی ہے… میں چاہ کر بھی نہیں مان پارہا ہوں کہ اس نے ایسا کیا…..لیکن اگر کیا ہے تو بہت غلط کیا ہے

وہ پریشان ہوکر بولا

ہم آپ کی بات سے اتفاق رکھتے ہیں… ہمیں خود کبھی نہیں لگا تھا ایسا… لیکن ان دونوں کے درمیان شروع سے ہے ہم نے ایک دوری دیکھی ہے شاید یہی وجہ ہوگی…..

آپ سہی کہہ رہی ہیں… آپ نے پہلے بھی مجھ سے یہ بات کہی تھی لیکن میں نے ہی دھیان نہیں دیا کاش کہ میں نے کبھی کوشش کی ہوتی جاننے کی کہ کیا پریشانی تھی تو شاید بات اتنی نہیں بڑھتی

وہ افسوس سے بولا

آپ خود کو بلیم مت کریں… آپ کی کوئی غلطی نہیں ہے…… امی ابو بھی بہت پریشان ہے اس وقت آپ صرف انہیں سنبھالیے……

اس نے گلے سے لگتے ہوۓ کہا وہ لوگ بہت پریشان تھے اور کوشش بھی کی تھی لیکن کوئی حل نہیں نکلا تھا جس سے ماہی مل. جاۓ


اپنی جانب سے سب کوششیں کرچکا ہوں میں لیکن کچھ پتہ نہیں چلا شیخ صاحب نے اپنے طریقوں سے سب ہی رشتہ داروں سے پتہ کیا ہے کسی کو کچھ پتہ نہیں

حارث صاحب ڈائنگ ٹیبل پر بیٹھے تھے ثریا بیگم کو مایوسی سے جواب دیا تو وہ بھی مایوس ہوگئی

وہ مل تو جاۓ گی نا….

ہاں ضرور مل. جائیگی ….کوشش جاری ہے

وہ خود نہین جانتے تھے لیکن اس وقت امید ختم نہیں ہوئی تھی

کس کے بارے میں بات ہورہی ہے

اہل نے نیچے آتے ہوۓ کہا

ماہی کے بارے میں… تمہارے ڈیڈ نے…….

ثریا بیگم چند پل رک کر اسے بتانے لگی

مام پلیز…… آپ سب سے میری ریکویسٹ ہے کہ اسے ڈھونڈنے کی کوشش نا کریں……

وہ ان کی جانب دیکھ کر سختی سے بولا

لیکن بیٹا….

نو… مجھے کچھ نہیں سننا ہے… اج کے بعد اس گھر میں کوئی اس کا نام نہیں لے گا ورنہ میں یہ گھر چھوڑ دونگا

وہ ان کی بات کاٹ کر بولا

آہل….
وہ اسے آواز دیتی رہ گئی اور وہ باہر نکل. گیا


لنڈن میں انکا اپنا فلیٹ تھا پہلے روشنی کا کسی ہوسٹل. میں ہی رہنے کا ارادہ تھا لیکن اب ساتھ ماہی بھی تھی اس لیے وہ لوگ اپنے فلیٹ میں رہنے والی تھی دادی صاحب تو پہلے سے ہی لڑکیوں کو اکیلے اتنی دور بھیجنے کے خلاف تھیں لیکن اپنے بیٹے بہو اور روشنی کی ضد کے آگے ہار گئی تھی.. اس لیے اپنی بھروسے مند ملازمہ کو ان کے ساتھ بھیج دیا تھا جو ان کا اور گھر کا خیال رکھ سکے……. روشنی بچپن سے ہی وہاں رہی تھی اس لیے انہیں تسلی تھی پھر بھی وہ ہر مہینے دو مہینے وہاں جاکر چند روز ان کے ساتھ رہتی تھی اور کبھی نا ہو پاۓ تو اپنی بہو کو بھیج دیتی تھی روشنی نے زبردستی کرکے ماہی کو بھی کالج میں ایڈمشن دلوادیا تھا اسے کوئی شوق نہیں تھا پڑھنے کا لیکن روشنی کی ضد اور اکیلے ہونے کے خیال سے اس نے یہ بات مان لی تھی……..

.