No Download Link
Rate this Novel
Episode 33
عشق دے رنگ رنگجاواں
قسط 33
سنایا خان
دادی صاحب دیکھیے کون آیا ہے آپ سے ملنے
وہ دونوں اب تک وہیں بیٹھیں تھی جب ماہی کی نانی صاحب گھر میں داخل ہوئی ساتھ ہی اس کی مامی بھی تھیں …..
روشنی نے دادی کو ماہی کی جانب متوجہ کروایا تو وہ ساکت کھڑی اسے دیکھنے لگیں ماہی آگے بڑھ کر ان کے مقابل آئی اور انھیں سلام کیا
ہمیں یقین نہیں ہورہا کہ آپ ہمارے سامنے کھڑی ہے کتنی کوشش کی آپ کو اپنے پاس بلوانے کے کے لیے لیکن آپ ایک بار ہم سے ملنے تک نہیں ائی.. اور آج اچانک یہاں…….
ماہی خاموش کھڑی رہی کیونکہ اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا انھوں نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگا لیا
ہماری بیٹی کے جانے کے بعد اس کی اکلوتی نشانی تھی آپ …اس نے تو ذندگی سے ہی منہ موڈ لیا تھا لیکن آپ نے بھی ہم سے کبھی رابتہ نہیں رکھا کیا آپ کو کبھی یاد نہیں آتی تھی ہماری
انھوں نے اسے الگ کرتے ہوۓ شکوہ کناں لہجے میں کہا
جانے دیجیے نا امی جان پچھلی باتوں کو دہرا کر کیا فائدہ آج تو ماہی ہم سب سے ملنے آئی ہے یہ ہمارے لیے بہت خوشی کی بات ہے کیسی ہو بیٹا
مامی جی نے آگے بڑھ کر انہیں روکتے ہوۓ کہا
کس کے ساتھ ائی ہو تم….اکیلی ائی ہو… داماد جی نہیں آۓ تمہارے ساتھ
اس کے کوئی بھی جواب دینے سے پہلے ہی دادی صاحب نے دھیان انے پر کہا
اس نے سر نفی میں ہلادیا
اتنی دور تمہیں اکیلا بھیج دیا انہوں نے اتنے لاپرواہ کیسے ہو سکتے ہیں وہ لوگ اسی لیے تمہیں اپنے پاس رکھنا چاہتی تھی جانتی تھی کوئی تمہارا خیال نہیں رکھے گا دیکھا اکیلی لڑکی کو کیسے اتنی دور بھیج دیا زمانہ کتنا خراب ہے کسی کو کوئی احساس ہی نہیں
انہوں نے غصے سے کہا
اوہو دادی صاحب آپ بھی نا چھوٹی سی بات پر پریشان ہوجاتی ہے کچھ نہیں ہوگا اس میں کیا بڑی بات ہے اب زمانہ بدل چکا ہے
روشنی آگے آتے ہوۓ بولی
لڑکیوں کے لیے زمانہ کبھی نہیں بدلتا …..داماد جی کہاں ہے وہ کیوں نہیں آئے
انہوں نے روشنی کو جواب دےکر دوبارہ ماہی سے پوچھا
وہ…..
ماہی سوچنے لگی کہ کیسے بات کرے
دادی صاحب آپ بیٹھیے تو سہی میں آپ کو سب بتاتی ہوں
روشنی نے انھیں خود سوفے پر بٹھایا اور بہت ہمت کرکے انہیں بتایا کہ کس طرح ماہی نے آہل سے کانٹریکٹ میریج کی تھی اور اب وہ بنا کسی کو بتاۓ گھر چھوڑ کر آگئی تھی کوئی بات چھپا کر یا جھوٹ بول کر کوئی فائدہ نہیں تھا کیونکہ کبھی نا کبھی تو انہیں پتہ چل ہی جانا تھا اس لیے اس نے سب بتادیا ماہی کہ کہنے پر صرف تنوی کی بات نہیں بتائی اس نے ماہی کے گھر چھوڑنے کی وجہ صرف یہی بتائی کہ اب وہ وہاں نہیں رہنا چاہتی تھی اور اگر وہ گھر جاتی تو بڑے پاپا اسے وہاں واپس ضرور بھیجتے دادی صاحب اپنا غصہ ضبط کیے حیران ہوکر اس کی سب باتیں سنتی رہی
کیا… یہ کیا مزاق کر رہی ہیں آپ……. ماہی آپ اتنی بڑی بیوقوفی کیسے کر سکتی ہیں وہ بھی چند پیسوں کے لیے….. ہم کیا مر گئے تھے جو آپ نے یہ قدم اٹھایا… اپنا سودا کرلیا آپ نے…. اور وہ…. اس انسان کی ہمت کیسی ہوئی ہماری ناتی کی زندگی کے ساتھ کھیلنے کی ہم اسے کبھی معاف نہیں کرینگے اسے تو ہم اس کی سزا دے کر رہے گے
انہوں نے دوبارہ کھڑے ہوکر غصے سے کہا
نہیں نانی صاحب……. آہل جی کی کوئی غلطی نہیں ہے انھوں نے کوئی زبردستی نہیں کی ہمارے ساتھ ہم نے جو کیا اپنی مرضی سے کیا وہ فیصلہ بھی ہمارا تھا اور یہ فیصلہ بھی ہمارا ہے… آپ انھیں کچھ مت کہیے…….. ہم سے وعدہ کیجیے آپ انہیں لیکر اپنے زہن میں کوئی غلط خیال نہیں رکھے گی نا کوئی غلط قدم اٹھائے گی
وہ انکا ہاتھ پکڑکر روتے ہوۓبولی
امی جان ماہی صحیح کہہ رہی ہے بات کو بڑھا کر کوئی فائدہ نہیں جو ہونا تھا وہ تو ہوگیا اب بات کو ختم کرتے ہیں
مامی جی نے انہیں سمجھاتے ہوۓ کہا
ٹھیک ہے….. ہم آپ کی ضد کے آگے جھک جاتے ہیں اور بھول جاتے ہیں اس بات کو لیکن اب آپ کبھی واپس اس دنیا میں نہیں جائنگی اس شخص سے کبھی نہیں ملینگی چاہے کچھ بھی ہوجاۓ اب اس سے اپ کا کوئی رشتہ نہیں ہے
انہوں نے سختی سے جتاتے ہوۓ کہا ماہی کچھ نہیں بولی
ٹھیک ہے چپ ہوجائے… جو ہوا سو ہوا فی الحال آپ ہمیں ٹھیک نہیں لگ رہی جا کر آرام کیجیے روشنی انہیں لے جائیں
انہوں نے اس کے مرجھاۓ ہوۓ چہرے کو جانچتے ہوۓ کہا
روشنی اسےاپنے ساتھ اپنے ہی کمرے میں لے آئی اسے بے حد کمزوری محسوس ہورہی تھی وہ چل بھی نہیں پارہی تھی اس کی انکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا تو وہ لڑکھڑا کر گرنے لگی لیکن روشنی نے اسے جلدی سے پکڑ لیا
ماہی… آر یو اوکے
وہ فکرمندی سے بولی
ہاں ہم بلکل ٹھیک ہے بس چکر اگیا تھا
وہ بیڈ پر بیٹھتے ہوۓ بولی
جب سے ائی ہو روۓ جارہی ہو کمزوری تو ہو گی ہی نا تم فریش ہوجاؤ میں کچھ کھانے کے لیے لے آتی ہوں
آہل……..
آہل چیئر پر خاموش بیٹھا تھا جب تنوی اندر ائی
کیسے ہو تم
اس نے دھیرے سے پوچھا آہل خود کو مصروف ظاہر کرتے ہوۓ اس کی بجاۓ سامنے رکھی فائل کو دیکھنے لگا
کیسا لگ رہا ہوں
ٹھیک نہیں لگ رہے
لیکن میں تو بلکل ٹھیک ہوں
جھوٹ بولنا نہیں آتا تمہیں
جھوٹ بولتا بھی نہیں میں ….
وہ. کوفت سے انکھیں گھماتے ہوۓ بولا
تو کیا تمہیں ماہی کے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا
کوئی مرجاۓ تو بھی ہم بس چار دن ہی سوگ مناتے ہے اس کی یاد میں دیوداس تو نہیں بن سکتے نا پھر یہاں تو کوئ مرا بھی نہیں ہے
وہ فائل نیچے رکھ کر بولا
مرنے والے کے واپسی کی امید نہیں ہوتی اس لیے دل کو صبر اجاتا ہے …تمہارے کہہ دینے سے تمہارے دل کی سچائی چھپ نہیں سکتی
وہ اسے غور سے دیکھتے ہوے بولی
مجھے بھی صبر اچکا ہے تنوی اور یہی سچائی ہے اتنا کمزور نہیں ہوں میں کہ اس کے جانے سے ٹوٹ جاؤ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا
وہ اب کے اس کی طرف دیکھ کر بولا
تم اسے ڈھونڈنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے آہل
کچھ پل رک کر بولی
ڈھونڈا اسے جاتا ہے جو کھو گیا ہو یا بچھڑ گیا ….جب وہ میرے ساتھ رہنا ہی نہیں چاہتی تو ڈھونڈ کر کیا کروں کیا اس سے بھیک مانگوں گڑگڑاؤں اس کے سامنے کہ میرا پیار نا ٹھکراۓ
محبت میں انا سے کام نہیں چلتا آہل
یہ انا نہیں سیلف رسپیکٹ ہے اگر اسے اتنا چاہنے کے باوجود وہ مجھے بنا بتاۓ چھوڑ کر چلی جاتی ہے اور میں اسے پانے کے لیے منتیں کروں تو لعنت ہے مجھ پر
وہ کرسی سے اٹھ کر سخت لہجے میں بولا
آہل اس طرح کی باتیں مت کرو کبھی کبھی انسان بہت مجبور ہوکر کوئی قدم اٹھاتا ہے ہو سکتا ہے اسکی بھی کوئی مجبوری ہو بنا جانے اتنی نفرت مت کرو اس سے کہ تمہیں خود افسوس ہو بعد میں
وہ بھی اس کے پاس ائی
تم کہہ رہی ہو میں اس سے نفرت نا کروں یہ جانتے ہوۓ کہ اس نے کیا کیا میرے ساتھ… میری ہر بات سے واقف تھی وہ میرے آج سے میرے کل سے میری ہر تکلیف سے….. میں نے اپنے دل کی ہر بات بتادی تھی اسے…… اسے سب سے زیادہ چاہا میں نے….. اس کے لیے خود کو بدل دیا…. اور اس نے……. ایک بار بھی نہیں سوچا اس نے کہ کیا گزرے گی مجھ پر…….. کیسے میں اس کے بنا رہوں گا اتنی آسانی سے کہہ کر چلی گئی کہ کانٹریکٹ ختم ہوگیا… اسے وہ کانٹریکٹ یاد رہا میری محبت نہیں….. میرے دل میں اس کے لیے جو جزبات تھے وہ نہیں میرے ساتھ گزرا ہوا کوئی پل اسے یاد نہیں تھا… میں اسے کبھی معاف نہیں کرونگا تنوی
نہیں آہل ایسا نہیں ہے…….ضرور کوئی وجہ ہوگی بنا اس وجہ کو جانے اسے جج مت کرو….. تم نے محبت تو کی لیکن کبھی محبت کا اظہار نہیں کیا کیا پتہ وہ سمجھ ہی نا پائی ہو کبھی… کیا پتہ اسے کوئی غلط فہمی ہوگئی ہو ہم دونوں کو لے کر…… کچھ بھی ہو سکتا ہے ……..مجھ سے بہتر تم اسے جانتے ہوں تم خود ہی سوچو کیا وہ بنا وجہ کے ایسا کرسکتی ہے
تنوی کی بات پر وہ اسے سنجیدگی سے دیکھنے لگا اس کے پاس کچھ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت باقی ہی نہیں بچی تھی اس ایک مہینے میں بھی اسے یہ کل باے معلوم ہوتی تھی یہ بات الگ تھی کہ وہ طاہر نہیں کرنا چاہتا تھا
پتہ نہیں مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا میں کیا کروں
وہ پریشانی سے سر تھام کر بولا
ڈونٹ وری… سب ٹھیک ہوجاۓگا……وہ مل جائیگی اور تمہارے ہر سوال کا جواب بھی..
بیٹھ جائیے…..
وہ نیچے ائی تو سب ڈائنگ ٹیبل پت موجود تھے دادی نے اسے بیٹھنے کے لیے کہا تو وہ بیٹھ گئی
آج صبح آپ کی تائی جی کا فون آیا تھا… اپ کے بارے میں پوچھ رہی تھیں وہ ….ہم نے کہہ دیا کہ آپ یہاں نہیں ہے اور نہ ہی ہم جانتے ہیں کہ کہاں ہے آئیندہ فون کرنے سے منع کیا ہے انھیں لیکن ہمیں لگتا ہے وہ آپ کے بارے میں جاننے کےلیےیہاں ضرور آئنگے اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ اپ کچھ دن کے لیے شہر چلی جائے اپنے ماما مامی کے ساتھ…
انہیں چند ہلوں کی خاموشی کی بعد کہا وہ ساکت سی انہیں سننے لگی
لیکن وہ وہاں بھی تو اسکتے ہیں نا دادی صاحب
روشنی نے کہا
نہیں… انہیں کیا پتہ کہ ہم شہر میں کہاں رہتے ہیں……. آۓ تھنک امی صحیح کہہ رہی ہے
ماما جی نے روشنی کی بات کا جواب دیا
پتہ لگانے میں کتنا وقت لگتا ہے پاپا وہ لوگ آسانی سے جان جائنگے….
میرا ایم بی اے کا ایڈمیشن پروسیس کمپلیٹ ہوگیا ہے اگلے ہفتے میں لنڈن جارہی ہوں …تم بھی میرے ساتھ ہی چلو مجھے کسی کی کمپنی مل جاے گی اور تم بھی اس ماحول سے دور رہو گی تو تمہیں اچھے لگے گا..
روشنی نے اپنا ائڈیا دیا
نہیں روشنی…
روشنی بلکل ٹھیک کہہ رہی ہے پچھلی باتوں کو لے کر بیٹھنے سے کچھ نہیں ہوگا آپ اب آگے کا سوچے تو بہتر ہے آپ روشنی کے ساتھ ہی چلی جایئے اور وہاں اپنی بھی آگے کی پڑھائی مکمل کریں
دادی نے اسے ٹوک دیا تو خاموش رہنے پر. مجبور ہوگئی
