Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

عشق دے رنگ رنگجاواں
قسط 18
سنایا خان

شادی کے دن ایک بڑے سے ہال میں بہت ہی اچھا انتطام کیا گیا تھا سب ہی وہاں جانے کے لیے نکل رہے تھے سرخ لہنگے میں گولڈن دوپٹہ اوڈھے دلہن کے روپ میں عائشہ رائمہ اور اپنی چند سہیلیوں کے ہمراہ باہر ائی رائمہ پر نظر پڑی تو فون پر بات کرتے کرتے دانش کی زبان بند ہوگئی اور وہ اسے مبہوت سا ہوکر دیکھنے لگا اتنا کہ اسے اپنے اطراف کا اندازہ ہی نہیں ہوا
رائمہ بلیک لانگ کرتی اور بلیک ہی چوڑی دار پر گولڈن کامداد دوپٹہ اوڈھے بالوں کی چوٹی بنا کر سامنے کو ڈالی ہوئی ہلکے سے میک اپ میں بھی بہت پیاری لگ رہی تھی

بھائی جان چلیے نا……….
دانش کے ایک کزن نے اس کا کاندھا ہلا کر اسے مخاطب کیا تو وہ ہوش کی دنیا میں آیا اور گاڑی میں آکر گاڑی سٹارٹ کردی راستہ بھر بھی وہ ائینے میں اسے ہی دیکھتا رہا بنا اپنی جان کی پرواہنکیے گاڑی چلاتے چلاتے بار بار نظر اس طرف جاتی اپنی منزل پر پہنچ کر عائشہ اور سب لڑکیاں باہر نکلی

آپ یہاں کیوں کھڑی ہیں ……

رائمہ. ایک طرف لان کے کونے میں سب سے الگ آکر کھڑی تھی دانش کی آواز پر پلٹی

بس ایسے ہی ….

اج اس کے نمبر پر کسی ان نون نمبر سے کال آئی تھی جس کی وجہ سے وہ پریشان تھی کیونکہ اسے ڈر تھا یہ کال احد کی ہوگی اپنی پریشانی وہ کسی پر ظاہر نہیں ہونے دینا چاہتی تھی اس لیے ایک طرف کھڑی تھی اس کی بات پر دانش ایک منٹ کے لیے خاموش رہا

ویسے تو آپ مجھے ہمیشہ ہی بہت اچھی لگتی ہیں لیکن آج آپ کچھ ذیادہ ہی اچھی لگ رہی ہیں اتنی کہ میرا دل نہیں کر رہا کہ آپ کے سوا کچھ اور دیکھوں

اس کے انداز پر رائمہ کی پلیکیں خود بخود جھک گئی

شکریہ ہماری اتنی تعریف کرنے کے لیۓ

میں تعریف نہیں شکوہ کر رہا ہوں
وہ ہلکا سا مسکرا کر بولا رائمہ اسے حیرانی سے دیکھنے لگی

کیوں مجھے احساس دلا رہی ہے بار بار کہ. میں آپ کو کھو کر اپنی زندگی کھو رہا ہوں کچھ بھی نہیں ہوگا آپ کے بعد میری زندگی میں بس ایک خالی صفحہ کی طرح رہ جائگی نا کوئی رنگ نا کوئی خوشی

وہ ادسی سے آسمان کی جانب دیکھےے ہوے بولا

کیوں اپ ہم سے ایسی باتین کر رہے ہیں ہمیں گناہگار بنارہے ہیں کیا غلطی ہے ہماری……

وہ انسو ضبط کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہوے بولی

غلطی……. ایک بار سوچ کر دیکھیے کیا غلطی ہے آپ کی جس طرح کسی کی وجہ سے اپ کا بھروسہ رشتوں سے اٹھ چکا ہے کیا اپ کو نہین لگتا کل آپ کی وجہ سے بھی کچھ ایسا ہوسکتا ہے کسی کو محبت سے نفرت ہو سکتی ہے خوابوں سے نفرت ہوسکتی ہیں خود سے نفرت ہو سکتی ہیں

وہ اس کی جانب دیکھ کر بولارائمہ نے رخ موڈ لیا

مجھ سے تو منہ موڈ لینگی آپ لیکن حقیقت سے کیسے منہ موڈے گیں

وہ اسکی پشت کو دیکھتے ہوۓ بولا تو رائمہ واپس پلٹی

تو کیا کریں ہم کیسے سامنا کریں ان باتوں کا کیسے پھر کسی پر یقین کرکے ہر وقت بس امید پر گزاردیں کیسے پھر کسی پر بھروسہ کرکے اپنے آپ کو کسی کو سونپ دے کہ وہ ہمارے دل. کے ساتھ کھیل سکے کیسے خود کو ایک بار پھر راضی کریں کہ ہمیں انسو نہیں خوشیان ملیں گی ہم ٹوٹ چکے ہیں ہم میں اور ہمت نہیں ہے کہ ہم کسی بھی زخم کو برداشت کر سکے

وہ. روتے ہوے بولی دانش پریشان ہوکر آگے بڑھا

رائمہ پلیز… چپ ہو جائیں میرا مقصد آپ کو ہرٹ کرنا بلکل نہیں تھا

دانش ہم نے بہت خواب دیکھے تھے بہت امیدیں تھی ہمیں سوچا تھا کچھ خواہشیں ادھوری رہیں گی لیکن شاید بدلے مییں ہمیں بہت خوشیاں ملیں گی ایک نئی زندگی کی امید کے ساتھ نا جانے کتنے ہی معصوم سے خوب تھے ہماری آنکھوں میں لیکن ہم نے تب زندگی کا وہ رخ دیکھا جو سب سے بھیانک تھا ہمارے خواب کرچی کرچی ہوکر بکھر گئے ہماری ساری امید ٹوٹ کر ہمیں زندگی بھر کے زخم دے گئی کیسے بتاے آپ کو کیا کیا سہا ہے ہم نے اب تک تازے ہیں ہمارے سارے زخم

وہ اپنے شولڈر سے شرٹ ہٹاکر نیچے کرتے ہوۓبولی اس کےگلے کے نیچےلا تعداد گہرے گہرےجلنے کے نشان تھے جو شاید سگریٹ کے تھے

دانش نے اس کی شرٹ کو دوبارہ ٹھیک کیا
اور رائمہ کو سینے سے لگایا

میں اچھی طرح جانتا ہوں……… آپ کے ہر درد کو محسوس کرتا ہوں اور وعدہ کرتا ہوں آپ کے وجود پر لگے ہر زخم کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کردوں گا

رائمہ نے اس سے الگ ہوکر اسے دیکھا

میں آپ سے بہت محبت کرتا ہوں رائمہ بس ایک بار مجھ پر اعتبار کرکے دیکھیں

وہ. اس کی انکھوں میں دیکھتے ہوۓ بولا رائمہ اپنے انسو پونچھ کر بنا اس کی بات کا جواب دیے واپس جانے لگی دانش حسرت بھری نظروں سے اسے دیکھتا رہا

,*

ماہی جلدی کرو بیٹا بہت دیر ہوگئی ہے

بڑے پاپا نے اسے آواز دی اور خود باہر نکل گیے

سب لوگ جا چکے تھے لیکن ماہی اب تک تیار نہیں ہوئی تھی کیونکہ اب تک وہ عائشہ کو تیار کرنے میں لگی ہوئی تھی اس لیے خود اب اس کے جانے کے بعد تیار ہونے کے لیے کمرے میں آئی تھی آہل کو دانش نے اسے کے آنے کی غرض سے یہاں روکا ہوا تھا اور وہ روم کے باہر پچھلے دس منٹ سے اس کا ویٹ کر رہا تھا اخر کار خود اندر آیا تو وہ اپنا دوپٹہ سیٹ کر رہی تھی اس نے وہائٹ کامدار لہنگے پر ڈارک گرین رنگ کا دوپٹہ لیا ہوا تھا بالوں کو جوڑے میں باندھے میک اپ میں غضب ڈھا رہی تھی

بس ہم تیار ہے چلیے…..

ماہی نے سوچا اس کے پہلے کہ وہ غصہ کرے خود ہی جلدی سے بول پڑی اور جلدی سے آگے بڑھ کر باہر نکلنے لگی لیکن آہل نے اس کی کلائی پکڑ کر اسے روک لیا ماہی نے اسے حیرت سے دیکھا آہل اس کے قریب آیا اوراسے سنجیدگی سے دیکھنے لگا پھر اس کا رخ دوسری جانب کرکے پشت اپنی جانب کی ماہی بس روبوٹ کی طرح عمل. کرتی رہی آہل نے اس کے بالوں سے کیچر نکال. کر انھیں جوڑے سے آزاد کیا اور اسکی پشت پر بکھرا دیے اور قریب ہوکرایک ہاتھ اس کے گرد باندھ کر اسے اپنے حصار میں لیا اور اس کی پشت سے لگتے ہوۓ شولڈر پر اپنے لب رکھ دیے ماہی نے آنکھیں سختی سے بند کرلی آہل نے اپنے ہاتھ میں موجود اس کا ہاتھ اٹھاکر اپنے ہونٹوں پر رکھ.لیا ماہی نے رخ. موڈ کر اسے دیکھا اور اپنا ہاتھ چھڑوانے لگی آہل نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا اور اسے اپنی جانب کھینچ کر بہت قریب کیا اور ایک ہاتھ سے اس کے چہرے پر بکھرے بالوں کو پیچھے کیا ماہی کو اس کی سانسوں کی گرماہٹ اپنے گالوں پر آگ کی طرح محسوس ہورہی تھی آہل اس کے ہونٹوں کو دیکھتے ہوۓ اس پر جھکا ماہی نے ایک بار پھر اپنی آنکھیں بند کرلی لیکن تب ہی اس خاموشی میں موبائیل کی اواز گونجی تو فورا آنکھیں کھول دی آہل اسکے گرد سے اپنا ہاتھ ہٹاکر اسے آزاد کیا اور جیب سے فون نکال کر کان سے لگایا

دانش کا فون تھا جو اسے آنے کا کہہ رہا تھا آہل نے بس ہوں ہاں کرکے فون کاٹ دیا

چلیں…..

وہ ماہی کو غور سے دیکھ کر بولا
ماہی نے بنا اسکی جانب دیکھے سر اثبات میں ہلا دیا اور اس کے پیچھے پیچھے چل. دی

/
شادی کی تقریب اپنے اختمام پر تھی ماہی سب کام سے فارغ ہوکر ایک طرف آکر بیٹھ گئی شام کے واقعے کو سوچتے ہوۓ اس نے جھرجھری سی لی اس کے گال خود بخود سرخ ہوگۓ اور لب مسکرانے لگے

اس نے اب اہل کے لیۓ اپنے دل میں. محبت محسوس کی تھی جب بھی وہ اس کے قریب آتا تھا اسے اپنی دھڑکنیں بڑھتی ہوئی محسوس ہوتی تھی وہ اس سے محبت کرنے لگی تھی جس بات کو وہ سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی اب خود اس کا اعتراف کر رہی تھی کیونکہ اس نے آہل کے انداز سے بھی اپنے لے چاہت دیکھی تھی وہ بہت خوش تھی اج اسے ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے اس نے اپنے خوابوں کے شہزادے کا چہرہ دیکھ لیا تھا بہت قریب سے اتنا ہی نہیں بلکہ اسے چھوکر یہ یقین بھی کر آئی تھی کہ اب وہ خواب حقیقت بن چکا ہے اس کے معصوم دل. نے اب آہل کو اپنا مکین بنا لیا تھا

ہم. نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ یہ سب ہوگا اور ایسے ہوگا آہل جی تو ہم سے نفرت کرتے تھے اور ہم نے کبھی ان سے یہ امید نہیں کی کہ ان کی نفرت کبھی محبت میں بدلے گی لیکن شاید ہم غلط تھے اب ان کے دل میں ہمارے لیے جو نفرت تھی وہ ختم ہوگئی ہے وہ بھی ہمیم پسند کرنے لگے ہیں

وہ. خود سے ہی سوچ کر مسکرانے لگی

کیا بات ہے کیا سوچ کر اتنی ہنسی آرہی ہے تمہیں

دانش نے اسے اکیلے میں مسکراتے دیکھ کر حیرت سے پوچھا وہ سٹپٹاکر. کھڑی ہوگئی
کچھ نہیں بھائی ہم تو بس ایسے ہی…..

وہ گھبرا کر بولی دانش مسکرایا

پاگل ہو تم چلو گھر جانا ہے…….
وہ اسے کہتا پلٹ گیا اور ماہی بھی اس کے پیچھے چل دی رائمہ پہلے سے ہی گاڑی میں موجود تھی

آپی کیا ہوا آپ کی کچھ پریشان لگ رہی ہیں

وہ سارے وقت سے رائمہ کہ اداسی محسوس کررہی تھی اور موقع ملا تو فورا پوچھ لیا دانش نے گاڑی سٹارٹ کی

نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہم. بلکل ٹھیک ہے

کہاں ٹھیک ہے آپ سارا وقت بس خاموش بیٹھی رہی دیکھا ہم نے آپ کو بہت پریشان لگ رہی ہے آپ

نہیں ماہی ہم. بلکل ٹھیک ہے اور ہم. نے بہت انجوے کیا

آپ جانتی ہے جھوٹ بولنے کا ہنر بس کچھ لوگوں میں ہوتا ہے اور آپ میں تو بلکل. نہیں ہے….

اس کی بات پر رائمہ نے ائینے میں دانش کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا


آہل گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی سٹارٹ کرنے لگا تو اس کا فون بجا

ہیلو….

اس نے فون کان سے لگا کر کہا

کیسے ہو تم آہل…..
تنوی کی دھیمی آواز ااے سنائی دی

تنوی….. میں بلکل ٹھیک ہوں تم کیسی ہو

میں جب سے یہاں آئی ہوں تم نے ایک بار بھی مجھ سے بات نہیں کی نا فون نا میسیج تمہیں کیا لگتا ہے کیسی ہو سکتی ہوں میں

وہ شکوہ کرتے ہوے بولی

وہ….. میں تھوڑا بزی تھا آج کل. بس اس لیے……..

وہ صفائی دیتے ہوے بولا

ہاں اب شادی جو ہو گئی ہے……. تمہارے وقت میں تمہاری بیوی کا بھی تو حصہ ہے تو کسی اور کے لیے کیسے وقت ملے گا

یہ تم کیا کہہ رہی ہو تنوی …..ایسا کچھ نہیں ہے

وہ بیزاریت سے بولا تنوی ہلکا سا مسکرائی

مزاق کر رہی تھی ….کیا ہے نا کہ نا چاہتے ہوے بھی مجھے بار بار یہی لگا کہ اب تم اپنی بیوی کے ساتھ بزی ہونگے اس لیے مجھے یاد نہیں کیا لیکن میں جانتی ہوں تم اپنی کمنٹمنٹ سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے اور وہ لڑکی اس سے تم نفرت کرتے ہو کیونکہ وہ ان لوگوں میں سے ہے جو پیسے کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں اور اسی لیے میں ڈرتی ہوں آہل کہ وہ تمہیں مجھ سے چھین نا لیں اچھی بننے کا ڈرامہ کرکے تمہاری نفرت کو چاہت میں نا بدل دیں بس اتنا ہی ڈر ہے میرے دل میں میں بس انتظار کررہی ہوں کہ کب یہ چھ مہینے ختم ہو اور ہم دونوں کو اس سے چھٹکارا ملے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے

آہل ایسے خاموش رہا جیسے اسے سانپ سونگھ گیا ہو
آہل تم سن رہے ہو نا…….
کاف دیر تک کوئی جواب نا پاکر دوبارہ بولی

ہاں….. بس کچھ دن اور پھر یہ قصہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوجاۓگا ٹیک کیئر

اس نے سنجیدگی سے کہہ کر فون بند کردیا اور جیب میں رکھ کر گاڑی سٹارٹ کردی

اب وہ کیسے یہ بات مان لیتا کہ پہل تو وہ کر رہا تھا لیکن اج میں تنوی کی باتیں سن کر اسے خود پر غصہ آرہا تھا کہ وہ کیسے اپنی نفرت کو بھول کر اس طرح ماہی کی جانب کھینچا جا رہا ہے اس کی اتنی بڑی بات کو نظر انداز کرکے اسے اپنے دل میں جگہ دے رہا ہے کیا واقعی ماہی نے خود اسے مجبور کیا اس سب کے لیے لیکن اس کا دل کہنا چاہتا تھا نہیں یہ سب جھوٹ ہے اسے ماہی سے محبت ہے اس لیے وہ اس نفرت کو بھول جانا چاہتا ہے لیک وہ دل کی نہیں دماغ کی سننا چاہتا تھا جو ہر طرح سے ماہی کو قصوروار دکھا رہا تھا


آہل جی یہ آپ کیا کر رہے ہیں………

وہ گھر اکر الماری سے اپنے کپڑے نکال کر بیگ میں رکھنے لگا تو ماہی اسے حیرت سے دیکھنے لگی

ہمیں گھر جانا ہے…….
اس وقت…. لیکن کیوں ہم کل چلے جاۓگے نا

اب کیا میں وہ کرونگا جو تم چاہتی ہو میں ابھی جانا چاہتا ہوں تم چاہو تو آسکتی

وہ اس کی جانب دیکھ کر غصے سے بولا ماہی کو اس کے اس طرح بدلنے پر بہت اندر تک کچھ ٹوٹتا ہوا محسوس ہوا اس کی انکھوں سے انسو بہنے لگے

وہ بھی اس کے پیچھے پیچھے آکر گاڑی میں بیٹھ گئی اہل خاموشی سے ڈرائیو کرنے لگا

بس دو مہینے باقی ہے ہمارا کانٹریکٹ ختم ہونے میں اس کے بعد تم آزاد ہو

آہل نے سامنے دیکھتے ہوۓ جب کہ ماہی اسے حیرت سے سے دیکھتی رہی

آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں آہل جی…..

کتنی ہی دیر خاموش رہی پھر نا چاہتے ہوۓ بول پڑی

کیا مطلب… کیا غلط کہا میں نے اس میں تم نے کیا سوچا تم یوں میرے قریب آنے کی کوشش کروگی تو میں تمہارے ساتھ کانٹریکٹ والی بات بھول کر تمہیں اپنا لوں گا نیور ایسا کبھی نہیں ہوگا

وہ نفرت سے دیکھتے ہوے بولا

تو وہ سب کیا تھا جو ہم. نے محسوس کیا

وہ خود کلامی میں بولی آہل نے گاڑی روک کر اس کی جانب دیکھا

اگر تم اس بارے میں بات کر رہی ہو جب میں تمہارے قریب آیا یا تمہیں چھونے کی کوششش کی تو سن لو وہ سب بس وقت گزاری تھی میرے لیے اس کے کوئی معنی نہیں ہے میری زندگی میں تم جیسی لڑکی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے

ماہی اسے افسوس سے دیکھنے لگہ اس کی باتیں اج جس طرح لگ تہی تھی آج سے پہلے کبھی نہیں لگی تھی

معاف کیجیے گا ہم تو بھول ہی گیے تھے کہ ہم تو اپکے غلام بن کر ائے تھے پتا نہیں کیسے آپ کی دل لگی وقت گزاری کو ہم نے کچھ اور سمجھ لیا لیکن اچھا ہوا جو آپ نے ہمیں جلدی سے جگا دیا نیند سے…… ورنہ ان خوابوں میں ہم پتہ نہیں کتنی دور تک نکل جاتے اور تب ہمیں معلوم ہوتا تو زیادہ تکلیف ہوتی شکریہ ہمیں ہوش میں لانے کے لیے

آہل نے اسے سنجیدگی سے دیکھتے ہوۓ گاڑی سٹارٹ کی اور سامنے دیکھنے لگا