Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25

عشق دے رنگ رنگجاواں
قسط 25
سنایا خان

ماہی آہل کو ڈھونڈتے ہوۓ روم میں آئی لیکن وہ وہاں نہیں تھا وہ پول. کی طرف ائی تو وہ صوفے پر بیٹھا تھا سر دیوار سے ٹکاے انکھیں بند کیے

آہل جی آپ اپنا فون باہر ہی بھول گئے تھے کب سے کسی کی کال آرہی ہے اور سب……………..

وہ کہتے کہتے رک گئی کیونکہ اسے آہل کچھ پریشان سا لگا آہل نے سیدھا ہوکر اس کے ہاتھ سے فون لیا

کیا ہوا آہل جی آپ ٹھیک تو ہے نا……….

وہ اسے غور سے دیکھتے ہوے بولی اس نے کچھ ری ایکٹ نہیں کیا ماہی اس کے پاس بیٹھ گئ اور اس کا جائزہ لینے لگی. اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کچھ کہے یا نہیں

آہل جی….. کیا ہوا ہے آپ کو….. کیوں پریشان ہے آپ………

اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا

ماہی پلیز لیو می الون……

وہ نرمی سے بولا

آپ ہمیشہ ایسے وقت میں یہ بات کہتے ہیں جب ہم بلکل بھی آپ کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتے اگر آپ ہمیں وجہ نہیں بتانا چاہتے تو مت بتایے لیکن ہم آپ کو ایسے اداس نہیں دیکھ سکتے آہل جی

آہل نے اسے سنجیدگی سے دیکھا

اگر اپ آپی کو لیکر پریشان ہے تو ہم آپ سے بس اتنا کہنا چاہے گے کہ ہم اپنے بھائی کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں اور وہ آپی کو بہت خوش رکھے گے.

آہل نے کچھ نہیں کہا ماہی بس اسے سنجیدگی سے دیکھتی رہی کتنی ہی دیر تک وہ بہت کچھ کہنا چاہتی تھی جاننا چاہتی تھی لیکن کہہ نہیں پارہی تھی بس اسے سمجھنے کی کوشش کررہی تھی آہل ایسے تھا جیسے وہاں موجود ہی نا ہو

جب میں دس سال کا تھا تب میں نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی ماں کو مرتے دیکھا

بہت دیر کی خاموشی کے بعد وہ بنا اس کی جانب دیکھے بولا ماہی کی سنجیدگی حیرت میں بدل گئی آہل نے اپنے پاس سے ایک تصویر نکال کر ماہی کی طرف بڑھائی ماہی نے غور سے اس تصویر کو دیکھا ہوبہو رائمہ جیسی شکل و صورت کی مالک وہ اس کی ماں تھی

کیا آسان ہے یہ بات بھول پانا جب کہ مجھے ہر وقت ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ بس ابھی کی بات ہے اب بھی میرے ہاتھ خون سے رنگے ہیں ……..میری ماما میرے سامنے پڑی ہے اور اپنی ٹوٹتی ہوئی سانسوں کے ساتھ مجھے کچھ کہنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن میں سمجھ نہیں پارہا…

وہ انکھیں بند کرتے ہوے بولا پھر ماہی کی جانب دیکھا ماہی اسے اس طرح دیکھ کر اپنے انسو روک نہیں پائی

وہ بچ سکتی تھیں ماہی……… اگر میں کچھ کر پاتا تو میری ماما کی جان بچ سکتی تھی …….لیکن میں کچھ نہیں کرپایا بس دیکھتا رہا انھیں مرتے ہوۓ ….

اس نے بھیگے لہجے میں کہا ماہی فورا اس کے گلے لگی اہل نے اس کے گرد ہاتھ باندھتے ہوۓ اسے سختی سے بھینچ لیا اور انکھیں بند کرلی اسے بہت ضرورت تھی کسی کے ساتھ کی کیونکہ کبھی کبھی کسی کا ساتھ طوفان میں مل گئی پناہ کی طرح ہوتا ہے


/*

پلیز ایسا مت کیجیے ……..ہم جس حال. میں ہے خوش ہے …….جو بھی ہے ہمارے پاس بہت ہے ہمیں اور کچھ نہیں چاہیے…..

حارث صاحب باہر نکلنے لگے تو رابعہ نے ان کا ہاتھ پکڑ کر روکا انھوں نے زور سے اس کا بازو جھٹک دیا

تمہارے لیے شاید یہ بہت ہو مگر میرے لیے نہیں ہے……..
اتنا اچھا موقع ملا ہے……….. ہماری زندگی سنور جائیگی سارے خواب ایک ہی جھٹکے. میں حقیقت بن جائیگے اور تم چاہتی ہو کہ میں اس موقع کو ہاتھ سے جانے دوں اور ساری زندگی اس چھوٹے سے مکان میں گزار دوں……….. . ہاتھ لگی لوٹری کو اپنے ہاتھوں سے جانے دوں………… بیوقوف عورت اتنا تو سوچو کہ ہم کہاں سے کہاں پہنچ جائنگے ہمارے بچوں کا فیوچر کتنا شاندار ہوجائگا دولت شہرت عزت سب کچھ مل جائگا ہمیں

وہ غصے سے دیکھتے ہوے بولے

مجھے کچھ نہیں چاہیے……. رشتوں کی قربانی دیکر کوئی عیش و آرام نہیں چاہیے مجھے….. یہ مکان نہیں گھر ہے جو میرے لیے کسی بھی بنگلے سے بڑھ کر ہے……….. اب تک بھی تو ہم اچھی زندگی جی رہے ہیں…… خوش ہے ……..بچوں کے پاس باپ ہے ………جو بھی ہے زیادہ نہیں لیکن کم بھی تو نہیں ہے………. بس اتنا ہی کافی ہے حارث ……….اور جو ہماری قسمت میں ہوگا وہ ہمیں ملے گا جو نہیں ہوگا وہ نہیں ملے گا لیکن میں آپ کو کسی کے ساتھ بانٹ نہیں سکتی
…………..مجھے آپ کے بدلے میں دنیا کی کوئی دولت نہیں چاہیے ……. میں کسی بھی حال. میں گزارہ کرلوں گی آپ کے ساتھ لیکن آپ کو کسی اور کا نہیں ہونے دونگی

وہ پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوے بولی رونے سے انکھیں ناک اور چہرہ گلابی ہو چکا تھا اج وہ بے حد کمزور لگ رہی تھی کیونکہ نا جانے وہ کتنی راتوں سے مسلسل رورہی تھی

اپنی فضول کی باتیں بند کرو میں تمہیں چھوڑ نہیں رہا ہوں بس دوسری شادی کر رہا ہوں تمہارے لیے شاید ہوگا لیکن میرے لیے یہ سب کافی نہیں ہے مجھے وہ زندگی چاہیے جس کے لیے میں نے ہمیشہ اتنی محنت کی ہے جس کے خواب دیکھتا آیا ہوں ہمیشہ

انھوں نے رک کر ایک گہری سانس لی

تم وہ کیوں نہیں دیکھ رہی ہو جو میں دیکھ رہا ہوں.. کچھ نہیں بدلے گا میں تم سے ملنے آتا رہونگا اور پھر اسے منا کر ہمیشہ کے لیے تم سب کو اپنے پاس بلوا لوں گا اتنا تو سوچو ہماری زندگی کہاں سے کہاں پہنچ جائگی ہمیں وہ سب کچھ مل جائگا جو کسی کو بھی آسانی سے نہیں ملتا عورت تو اپنے شوہر اور بچوں کے لیے بڑی بڑی قربانیاں دے دیتی ہے کیا تم اتنا نہیں کرسکتی

اب کے انکا لہجہ زرا نرم تھا

نہیں ……….میرے پاس کچھ نہیں ہے سواے آپ کے حارث اور آپ کو کھو نہیں سکتی میں……… میں نہیں دے سکتی یہ قربانی مجھ میں اتنی ہمت نہیں ہے حارث…

وہ روتے ہوئے ان کے قدموں میں بیٹھ گئی

تم کیا چاہتی ہو کیا نہیں مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا یہ حق مجھے خدا نے دیا ہے تم مجھے روک نہیں سکتی ہٹ جاؤ میرے راستے سے

وہ سائڈ سے نکل کر باہر چلے گئے اور وہ روتی انکھوں سے انھیں جاتے دیکھتی رہی

وہ لوگ بہت امیر نا سہی لیکن بہت غریب بھی نہیں تھے لیکن حارث صاحب کا ہمیشہ سے خواب تھا کہ وہ ایک دن بہت بلند مقام پر پہنچ سکے اسی خواب کو پورا کرنے وہ گاؤں سے نکل کر شہر آۓ تھے جہاں انھیں اچھی سی نوکری مل گئی تھی اپنی چھوٹی سی فیمیلی کے ساتھ یہیں ایک کرایے کے مکان میں رہنے لگے تھے ہر مہینے گاؤں میں اپنے والدین کا خرچہ بھی پورا کرتے رہے وقت گزرتا گیا اور ان کا خواب جنون بنتا گیا انھوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی نا محنت کرنے میں نا قسمت آزمانے میں اور رابعہ نے ہر حال میں ان کا ساتھ دیا وہ دن رات کام میں مصروف رہتے تھے تب اس نے اکیلے ہی بچوں کو ان کے حصے کا بھی پیار دیہرنا کبھی کوئی شکایت نا کوئی ناراضگی لیکن اب کے وہ چاہ کر بھی ایسا نہیں کرسکتی تھی

حارث صاحب جس کمپنی میں کام کرتے تھے اس کے مالک کی اکلوتی بیٹی کا رشتہ انھوں نے حارث کے سامنے رکھا تھا کسی وجہ سے اس لڑکی کی پہلی منگنی ٹوٹ چکی تھی شکل و صورت میں بے حد خوبصورت نا سہی لیکن ٹھیک ٹھاک سی تھی حارث صاحب کی محنت اور قابلیت دیکھ کر انھوں نے یہ فیصلہ کیا تھا حالانکہ وہ جانتے تھے کہ وہ شادی شدہ ہے اور دو بچے بھی ہے اسی لیے انھونے ایک شرط رکھی تھی کہ انہیں شادی کے بعد سسرال میں رہنا ہوگا ان کی دولت اور رتبے کو دیکھتے ہوے حارث کو یہ آفر بہت پسند آئی اور انھوں نے بنا دیر لگاے ہاں کہہ دی لیکن جب یہ بات رابعہ کو بتائی تو وہ صدمے میں آگئی انھیں اپنے شوہر کے بدلے میں کوئی دولت قبول نہیں تھی اس لیے انہوں نے صاف انکار کر دیا لیکن حارث صاحب کہاں ان کی ماننے والے تھے ان کے انکار کو خاطر میں نا لاتے ہوے اپنی ضد پر اڑے رہے ان کے سر پر تو دولت اور شہرت کا خمار چڑھا ہوا تھا اس لیے انہیں نا رابعہ کے آنسو نظر اۓ نا اپنے بچوں کا معصومیت ان کا یہی خیال یہی تھا کہ وہ شادی کے بعد اپنی بیوی کو اعتماد میں لیکر ان سب کو اپنے پاس بلوا لینگے لیکن رابعہ کے لیے نا ممکن تھا کہ وہ خود کو راضی کرسکے. صرف شادی تک کی بات ہوتی تو شاید وہ دل پر پتھر رکھ کر مان بھی جاتی لیکن یہاں تو حارث کے ہمیشہ کے لیے چلے جانے کی بات تھی وہ جانتی تھی اس کے بعد اس کی واپسی کی امید نا کے برابر ہے

حارث صاحب کے جانے کے بعد وہ اپنی سوچوں میں گم بیٹھی تھی جب دروازے پر اہل کو دیکھ اس نے اپنے انسو پونچھ کر چہرے پر جھوٹی مسکراہٹ لانے کی ناکام سی کوشش کی آہل نے اس دن نا صرف اپنی ماں کو روتے دیکھا بلکہ ان کے درمیان ہوئی تلخ گفتگو بھی سنی تھی اور وہ وہیں کھڑا رہا کتنی ہی دیر تک اپنے چھوٹے سے دماغ پر زور دے کر کچھ سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا اور اپنی ماں کو روتے دیکھ رہا تھا

آہل وہاں کیوں کھڑے ہو بیٹا یہاں آؤ میرے پاس

انھوں نے پیار سے کہا تو وہ دوڑتا ہوا ان کے پاس آیا

آپ کو بھوک لگی ہے…… کھانا کھاوگے

انھوں نے اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لے کر کہا تو اس نے انکار میں سر ہلا دیا.

اچھا …….بہت تھک گئے ہو آج شاید

وہ اس کے تھکے تھکے چہرے کو دیکھ کر اس کے بالوں کو ہاتھ سے سنوارتے ہوے بولی

اہل……… …

رائمہ چینختی ہوئی وہاں آئی تو آہل فوراً رابعہ کے گلے لگ گیا

ماما دیکھیے نا آہل نے کیا کیا………. ہماری بک خراب کردی آج ہی اپنا اسائمنٹ کمپلیٹ کیا تھا اور کل سبمٹ کرنا ہے لیکن

رائمہ نے اپنی نوٹ بک کے پرزے دکھاتے ہوے رونی صورت بناے کہا

آہل ایسا کیوں کیا بیٹا …….اچھے بچے آپی کو تنگ نہیں کرتے نا

رابعہ نے آہل کو خود سے الگ کرتے ہوے کہا اس نے کوئی جواب نہیں دیا

کل سے ہم محنت کررہے ہیں اور سب ضائع ہوگئی اب ہمیں ٹیچر سے ڈانٹ سننی پڑے گی

وہ آہل کو غصے سے دیکھتی ہوئی بولی

آہل ایسا نہیں کرتے گندی بات بیٹا چلو کان پکڑو اور آپی کو سوری بولو

سوری……… …

وہ دھیرے سے بولا

ماما ………جائیں ہمیں آپ سے بات نہیں کرنی…….. آپ نے اسے ڈانٹا تک نہیں……… آپ صرف اہل کی ماما ہے ہماری نہیں جب دیکھو اس کی سائڈ لیتی ہے ہماری تو کوئی بات نہیں مانتی آپ …….آپ صرف اس سے پیار کرتی ہے ہم سے نہیں

وہ خفگی سے بولی رابعہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس بٹھایا

ادھر آؤ….. ایسا نہیں کہتے بیٹا….. میں آپ دونوں سے بہت پیار کرتی ہوں آپ دونوں میرے لیے برابر ہے بس آہل ابھی چھوٹا ہے نا اس لیے اسے ڈانٹنے کی بجاے پیار سے سمجھانا پڑتا ہے اور میری بیٹی بہت سمجھدار ہے وہ جانتی ہے یہ بات ہے نا ……..کبھی ایسا مت سوچنا کہ ماما تم سے کم پیار کرتی ہے پہلی اولاد کے لیے ماں کے دل. میں سب سے زیادہ محبت ہوتی ہے. اور میں آپ دونوں سے ہی بے انتہا محبت کرتی ہوں میری محبت پر کبھی شک مت کرنا

وہ کہتے کہتے رو پڑی

ماما آپ رو کیوں رہی ہیں ہم جانتے ہیں…. ہم نے تو بس یونہی کہہ دیا تھا سوری ماما ہم نے آپ کو ہرٹ کیا

رائمہ اسے روتے دیکھ گھبرا گئی

نہیں بیٹا سوری نہیں کہتے

رابعہ نے اسے گلے سے لگا لیا

آہل …آپ مجھ سے پرامس کرو بیٹا آیندہ آپی کو پریشان نہیں کروگے جو کسی کو پریشان کرتے ہیں وہ گندے بچے ہوتے ہیں اللہ تعالی ان سے ناراض ہوجاتے ہیں اور پھر انھیں پنش کرتے ہے

وہ اسے سمجھاتے ہوے بولی

تو وہ ڈیڈ کو پنش کیوں نہیں کرتے

وہ انکھیں بڑی کرکے سنجیدگی سے بولا رابعہ تعجب سے اسے دیکھنے لگی

ڈیڈ آپ کو پریشان کرتے ہیں نا آپ کو رلاتے ہیں تو اللہ تعالی انہیں کب پنش کرینگے

نہیں بیٹا ایسا نہیں کہتے ………ایسا نہیں کہتے

وہ اسے قریب کرکے بولی اور اس کے بالوں پر لب رکھ دیے

ماما آپ اس لیے پریشان ہے نا کیونکہ پاپا آپ سے روز روز جھگڑا کرتے ہیں کیوں ایسا کرتے ہیں وہ پہلے تو ایسا نہیں کرتے تھے………..

کبھی کبھی کسی بات کی کوئی وجہ نہیں ہوتی بیٹا بس ہم سے زیادہ بہتر مل جاتا ہے تو ہماری ضرورت ختم ہو جاتی ہے لیکن ہم ہی عادی ہوجاتے ہیں تب ہی تو کسی کے بدل جانے پر تکلیف ہوتی ہے

وہ جیسے خود سے بولی رائمہ اس کی بات سمجھ نہیں پائی لیکن یہ تو محسوس کر گئی وہ کتنی دکھی ہے

آپ پریشان مت ہوئیں ماما ہم نے اللہ سے دعا کی ہے کہ وہ پاپا کو جلدی سمجھا دیں کہ وہ آپ سے جھگڑا نا کریں

رائمہ نے اس کے مایوس چہرے کو دیکھتے ہوے کہا وہ اس کے چہرے پر ہاتھ رکھ کر اسے پیار سے کو دیکھتی رہی
.
اچھا چلو اب تم دونوں جلدی سے ہاتھ دھو کر اجاؤ کھانا کھالو……آہل کو بھوک لگی ہوگی وہ ایسے ہی سوجاے گا…. چلو بیٹا

وہ اٹھ کر آہل کو دیکھتے ہوے بولی اسے اچانک سے چکر سا محسوس ہوا تو اس نے دیوار کو تھام لیا

ماما کیا ہوا آپ ٹھیک تو ہے نا……..

رائمہ اسے تھامتے ہوے بولی

میں بلکل ٹھیک ہوں بیٹا……

نہیں ماما آپ کی طبیت ٹھیک نہیں ہے آپ آرام کیجیے ہم آہل کو کھانا کھلا دینگے اور آپ کے لیے بھی. یہیں لے ائنگے

تم جانتی ہو نا بیٹا وہ میرے بنا نہیں کھائگا

ہم اسے منا لینگے ماما آپ آرام کریں
وہ اسے بیڈ پر بٹھاتے ہوے بولی رابعہ کو اس پر بہت پیار آیا

میری بیٹی اتنی بڑی ہوگئی مجھے تو پتہ ہی نہیں چلا

وہ اسے پیار سے دیکھتےہوئے بولیں رائمہ نے آہل کا ہاتھ پکڑا اور اسے لیے باہر آگئی اور رابعہ ایک بار پھر انے والے کل کا سوچ سوچ کر آنسو بہاتی رہی


/

نہیں میں آپ کو نہیں جانے دوں گی کچھ بھی ہوجاے
ب
حارث اپنا سامان لیے باہر نکلنے لگے تو رابعہ دروازے کی چوکھٹ میں کھڑی ہوگی

میرے راستے سے ہٹ جاؤ رابعہ

وہ سختی سے بولے

آپ اپنے بچوں کو چھوڑ کر جا رہے ہیں مجھے چھوڑ کر جا رہے ہیں …………..کیا ہوگا ہمارا آپ کے بغیر پلیز رک جایئے مت کیجیے ایسا ……………….نکاح کر کے اسے یہیں لے آئے ہم ساتھ رہینگے ………لیکن میں آپ کو نہیں جانے دوں گی

وہ بے بسی سے روتے ہوے بولی

یہ نہیں ہوسکتا

وہ نظریں پھیرتے ہوے بولے وہ جانتے تھے ان کا مالک اپنی شرط سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا

کیوں نہیں ہوسکتا….

اس وقت میں تمہاری کسی بھی فضول بات کا جواب دینے کے موڈ میں نہیں ہوں جانے دو مجھے

وہ لاپرواہی سے کہہ کر باہر جانے لگے لیکن رابعہ نے فورا باہر نکل کر دروازہ بند کردیا اور باہر سے کنڈی لگا دی

یہ کیا پاگلپن ہے رابعہ دروازہ کھولو
وہ دروازہ زور سے پیٹتے ہوے بولے

نہیں میں نہیں کھولونگی…… میں آپ کو جانے نہیں دونگی

وہ روتے روتے بولی

بیوقوف مت بنو دروازہ کھولو ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا

رابعہ نے کوئی جواب نہیں دیا وہ خود نہیں جانتی تھی وہ کیا کر رہی ہے بس وہ مجبور تھی بہت مجبور ……..حارث نے اسے بار بار آواز دی لیکن اس نے دروازہ نہیں کھولا تو حارث نے پچھلی طرف کی کھڑکی سے کود کر باہر نکلے رابعہ نے جب انھیں کافی دیر خاموش پایا تو دروازہ کھول کر دیکھا لیکن روم کھالی تھی وہ سمجھ گئی کہ وہ کھڑکی سے نکل. کر جا چکے ہیں وہ روتے ہوئے فورا باہر کی جانب بھاگی لیکن دوسری سیڑھی پر ہی اس کا پیر بری طرح پھسل گیا اور وہ ایک کے بعد ایک سیڑھی سے گرتی ہوئی سیدھے زمین پر اگی جہاں آہل کھڑا تھا آہل اچانک سے اسےاس طرح دیکھ کر بری طرح گھبرا گیا

ماما… ماما………

اس کا سر لہو لہان ہوگیا تھا آہل نیچے بیٹھ کر اس کا سر اپنے گود میں رکھے اسے اوازیں دینے لگا وہ سمجھ نہیں پایا کہ کیا کریں کیا نا کریں بس زور زور سے اسے اوازیں دیتا رہا اور روتا رہا.

رائمہ نے جب اس کی اوازیں سنی تو اپنی سہیلی کو رکنے کا کہہ کر اندر آئی اور اندر کا منظر دیکھ کر زور سے چینختی ہوئی بھاگی

ماما…. یہ آپ کو کیا ہو گیا ….. …..ماما….

وہ اسے دیکھ کر روتے ہوے بولی رابعہ کچھ کہنے لگی لیکن کہہ نہیں پارہی تھی رائمہ نے جب باہر گاڑی سٹارٹ ہونے کی اواز سنی تو دوڑ کر باہر آئی حارث گاڑی سٹارٹ کرنے کی کوشش کر رہے تھے

پاپا……. جلدیں چلیے پاپا….ماما اوپر سےگر گئی ہیں …..
وہ گھبرائی آواز میں بولی

تمہاری ماما کو خود گرنے کا شوق ہے گرنے دو اسے

انھوں نے بے نیازی سے کہا

نہیں پاپا….ماماکو بہت چوٹ لگی ہے بہت خون بہہ رہا ہے انہیں ہاسپٹل لےکر چلیے پاپا جلدی…..

سب جانتا ہوں میں یہ نیا ناٹک ہے مجھے روکنے کا لیکن میں پھنسنے والا نہیں چاہے جو کرلیں وہ مجھے روکنے کے لیے..

انھیں یہ سب جھوٹ لگا

نہیں پاپا ماما کوئی ناٹک نہیں کررہی وہ سچ میں سیڑھیوں سے گر گئی ہے انہیں چوٹ لگی ہے پلیز پاپا جلدی چلیے نا

مرجانے دو اسے……..

وہ غصے سے کہہ کر گاڑی لئے اگے بڑھ گئے اور وہ پاپا پاپا کرتی رہ گئی پھر دوڈ کر اندر ائی اس کی سہیلی جو اب تک وہیں تھی اس کے پیچھے پیچھے اندر آئی رابعہ کے سر پر پیچھے چوٹ لگی تھی جو بہت گہری تھی اور لگاتار خون بہہ رہا تھا وہ اپنی ٹوٹتی سانسوں کے ساتھ پانی پانی کہہ رہی تھی آہل نے اس کا سر نیچے رکھا اور دوڈ کر کچن میں آیا فرج سے پانی کی بوتل لے آیا اور رابعہ کو پانی پلانے کی کوشش کی لیکن اسے کچھ سجھائی نہیں دیا تب ہی رائمہ اندر آئی اور اپنی ماں کو پانی پلایا آہل رو رو کر سرخ ہو چکا تھا اس کے ہاتھوں اور کپڑوں پر جگی جگہ خون لگا ہوا تھا

ماما…. آپ کو کچھ نہیں ہوگا ماما………

رائمہ روتے روتے بولی اس کی سہیلی باہر نکل کر فورا اپنے گھر کی جانب بھاگی

ر… رائمہ………..

رابعہ نے بمشکل بولنے کی کوشش کی

ہاں ماما…. آپ کو کچھ نہیں ہوگا ماما میں ابھی ڈاکٹر کو فون کرتی ہوں

وہ دوبارہ اٹھنے لگی رابعہ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا

ن.. نہیں…….. بس میرے پاس….. رہو… میری…… ب… ب.. بات سنو…..

وہ بند ہوتی آنکھوں کو بمشکل کھلی رکھنے کی کوشش کر رہی تھی

ہاں ماما میں آپ کے پاس ہوں ……..

رائمہ کی کچھ سمجھ نہین آرہا تھا کیا کرے کیا نا کریں کس سے کہے وہ بس بے بسی سے روۓ جا رہی تھی

تم آہل کا …اور اپنا………خیال رکھنا….اور …..

نہیں ماما… آپ کو کچھ نہیں ہوگا

رائمہ نفی میں سر ہلاتے ہوے بولی

آہل…. آپی کو کبھی……. ت… تنگ مت کرنا بیٹا….. ہمیشہ آپی کی ……….بات ماننا…………..

وہ آہل کا ہاتھ اپنے لبوں سے لگاکر بولی آہل کی روتے روتے ہچکیاں بندھ گئی تھی

نہیں ماما …..آپ ہمارا خیال رکھے گی آپ… آپ کو کچھ نہیں ہوگا… آپ ٹھیک ہوجاے گی……

وہ روتے روتے کہنے لگی اور آہل کو خود سے لگا لیا

رائمہ کی سہیلی اپنے امی ابو کو ساتھ لیے ائی انھوں نے اسے سہارا دے کر اپنی گاڑی میں بٹھایا اور ہاسپٹل لے اۓ لیکن ہاسپٹل پہنچنے سے پہلے ہی اس کی سانسیں ختم ہو چکی تھی ……….