No Download Link
Rate this Novel
Episode 12
عشق دے رنگ رنگجاواں
قسط 12
سنایا خان
ماہی نہا کر باہر آئی تو آہل گہری نیند میں سویا تھا جب ملازم نے دروازے پر دستک دی ماہی نے دروازہ کھولا
گڈ مارنگ میم….
دادی جی نے آہل سر کو نیچے بلایا ہے
ملازم نے اسے اطلاع دی تو اس نے اثبات میں سر ہلایا ملازم چلا گیا تو وہ آہل کو جگانے آئی سوتے ہوئے وہ بہت معصوم لگ رہا تھا ماہی اسے غور سے دیکھنے لگی
گندمی رنگت دلکش نقوش ہلکی بڑھی ہوئی شیو اور براون سلکی بال جو اس کے ماتھے پر بکھرے ہوے تھے
کون کہہ سکتا ہے اتنا معصوم دکھنے والا آدمی اندر سے جلاد جن ہو سکتا ہے
وہ دھیمی آواز میں بڑبڑائی پھر اسے جگانے کے لیے آگے بڑھی لیکن آواز دیتے دیتے ایک دم سے رک گئ ذہن میں کوئی شرارت آئی جس پر ہلکا سا مسکرائی اور سائڈ سے پانی کا گلاس اٹھا کر پورا پانی اس کے چہرے پر ڈال دیا وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا چند پل لگے اسے سچیویشن کو سمجھنے میں
وہاٹ اس دس نانسینس
ماہی جو غصے سے بولا
لگتا ہے پوری طرح نیند سے جاگے نہیں آپ وہاٹ اس دس نانسینس نہیں وہاٹ دا ہیل
ماہی نے اس کے الفاظ درست کرتے ہویے کہا
جس شٹ اپ ماہی…. کیا پاگل پن ہے یہ
ہم تو بس آپ کو جگا رہے تھے آہل جی……… دادی کب سے آپ کو بلا رہی ہیں
وہ بڑی معصومیت سے بولی
بیوقوف ہو کیا تم…….. ایسے کون جگاتا ہے…آواز نہیں دے سکتی تھی
ہم نے آپ کو بہت آوازیں دی لیکن آپ جاگے ہی نہیں مجبور ہوکر ہمیں ایسا کرنا پڑا
وہ دوسری طرف رخ کرکے بولی آہل بستر سے اترا اور اس کا رخ اپنی جانب کیا
جھوٹ مت بولو میری نیند اتنی گہری نہیں ہے اگر تم مجھے اواز دیتی تو میں جاگ جاتا تم نے یہ جان بوجھ کر کیا…
وہ غصے سے بولا ماہی خاموش رہی کہتی بھی کیا
آیندہ اگر تم نے میرے ساتھ ایسی فضول حرکت کی نا مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا
آہل نے غصے سے کہا اور ایک جھٹکے سے اس کا ہاتھ چھوڑ کر آگے بڑھا
آپ سے برا کوئی ہو بھی نہیں سکتا……… جلاد جن…..
وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑائی
جی دادی آپ نے مجھے بلایا وہ تیار ہوکر دادی کے کمرے میں پہنچا تو ثریا بیگم پہلے سے وہاں موجود تھی
آؤ آہل بیٹھو…….
ثریا بیگم نے کہا تو وہ آکر صوفے پر بیٹھ گیا
شیخ صاحب نےاج رات ہمیں اپنے گھر ڈنر پر انوائیٹ کیا ہے
اوکے مام میں ڈرائیور سے کہہ دونگا آپ لوگ چلے جائیں گا
وہ سرسری سا کہہ کر جانے کے لیے اٹھ گیا
کیسی باتیں کر رہے ہو آہل ہم سے زیادہ تمہارا جانا ضروری ہے
دادی نے کہا
نو دادی آۓ کانٹ………. میری اج بہت امپورٹینٹ میٹنگ ہے اس لیے میں نہیں اسکتا
وہ صاف انکار کرتے ہوئے بولا
کوئی بھی کام رشتوں سے بڑا نہیں ہوتا آہل جب سے شادی ہوئی ہے تب سے ایک بار بھی تم وہاں نہیں گئے نا ماہی کو لے گئے اسے بھی تو اپنے گھر کی یاد آتی ہوگی ………
میں نے اسے منع نہیں کیا مام…
اس نے بات کاٹتے ہوئے کہا
کہا بھی تو نہیں….
انھوں نے جواب دیا. وہ چپ ہوگیا
کیا سوچیں گے وہ سب.. اگر تم نہیں گئے تو….. اور ماہی اسے کتنا برا لگے گا ….بس کچھ دیر کی تو بات ہے بیٹا
انھوں نے سمجھاتے ہوئے کہا
الرائٹ مام …میں رات کو پہنچ جاونگا وہاں
اس نے بیزاری سے کہا اور اٹھ کر باہر چلا گیا
پتا نہیں کب اس کے نیچر میں بدلاؤ آیگا
دادی نے افسوس سے سوچا
رات کو وہ سب شیخ صاحب کے گھر موجود تھے حارث صاحب کسی کام سے باہر گیے ہوئے تھے اور آہل اب تک نہیں آیا تھا جس کے لیے ثریا بیگم پریشان تھی ماہی رائمہ کو زبردستی اپنے ساتھ لائی تھی اس کے کسی بھی انکار کو خاطر میں نا لاتے ہوئے
ماہی. ی. ی. ی……
جیسے ہی اس نے گھر میں قدم رکھا عائشہ چینختی ہوئی اس کے گلے لگی
عاشی. ی. ی. ی……
ماہی نے بھی اس کی نقل اتاری سب ہی ہنس دیے
کتنی بے وفا ہو تم.. مجھے بلکل بھول ہی گئی فون تک نہیں کرتی
میں نے سوچا اتنی مشکل سے پیچھا چھوٹا کیوں دوبارہ چریل کو یاد کروں
ماہی نے اسے ستایا تو عائشہ نے اس کے کاندھے پر ایک زور کہ چپت لگائی
سب ہی ڈرائنگ روم میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے جب کہ ماہی عائشہ کی ہیلپ کہ غرض سے کچن میں اگئ اور رائمہ بھی اس کے ساتھ آکر دونوں کی مدد کرنے لگی
آپی آپ رہنے دیں یہاں بہت گرمی ہے آپ باہر جاکر بیٹھیں
عائشہ رائمہ کو سیلیڈ بنانے سے روکتے ہوئے بولی چھوٹا سا کچن جو بلکل پیک تھا اس لیے وہاں گرمی زیادہ لگتی تھی
کوئی بات نہیں….. آپ دونوں بھی تو اسی گرمی میں کام کر رہی ہیں تم ہم کیوں نہیں کر سکتے
اس نے مسکراتے ہوئے کہا جس پر عائشہ ہار مان کر چپ ہوگئی
وہ آئے گھر ہمارے خدا کی قدرت ہے
کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں
دانش شعر کہتا ہوا اندر داخل ہوا
واہ واہ واہ……
ماہی نے داد دی رائمہ نے مسکرا کہ اس کی جانب دیکھا لیکن اسے خود کو دیکھتے پایا تو نظریں جھکا لی
ہمارے اس چھوٹے سے محل میں ہم بڑی سی سلطنت کی خوبصورت شہزادی کا استقبال کرتے ہیں اس سلطنت کے شہنشاہ جناب دانش شیخ اقبال خود آپ کی خدمت میں حاضر ہے آپ کو شکایت کا کوئی موقع نہیں دیگے
اب کے وہ رائمہ کی جانب جھک کر شاہانا انداز میں بولا وہ مسکراے بنا نا رہ سکی دانش کی اس حرکت پر
او ہیلو مسٹر شہنشاہ ….ہم بھی تشریف لائے ہیں یہاں ہمارا بھی تھوڑا بہت استقبال کر لیں
ماہی نے مصنوعی خفگی سے کہا دانش اگے بڑھ کر اسے گلے لگایا
ارے آپ کے لیے تو دل حاضر ہیں جان حاضر ہے اور خود یہ سلطان حاضر ہیں
رائمہ اسے دیکھ کرباقاعدہ ہنس دی جس پر دانش نے اسے بغور دیکھا وہ ڈارک بلیو شرٹ اور ٹراوزر میں سفید دوپٹہ اوڑھے بالوں کی چوٹی بنا کر سامنے کو ڈالی ہوئی تھی ہلکے میک اپ میں بھی بہت پیاری لگ رہی تھی
.
رائمہ آپی آپ پریشان نا ہو کیا ہے نا کبھی کبھی دورے پڑ جاتے ہیں ……
عائشہ بڑی سنجیدگی سے بولی جس پر دانش نے اس کے سر پر چپت لگائی
زیادہ مت بولو چڑیلوں کی رانی………
آپ یہاں کیوں آگیے ہمارا سر کھانے جا کر باہر بیٹھیے نا
عائشہ نے چڑ کر کہا
مجھے بھوک لگی ہے تم لوگ باتیں بند کر کے جلدی جلدی ہاتھ چلاؤ
اس نے ادھر ادھر کچھ ڈھونڈتے ہوئے کہا
واہ واہ واہ…. ابھی مشکل سے ایک گھنٹہ ہوا ہے آپ کو چاے کے ساتھ تین سینڈوچ ہضم کیے ہوئے اور اب بھوک بھی لگ گئی
عائشہ نے انکھیں بڑی کرکے حیرت جتاتے ہوے کہا
ہاں تو محنت بھی تو کرتا ہوں نا ……لگ گئی بھوک…. کچھ کھلاؤ اب جلدی میرے پیٹ میں چکر آنے لگے ہیں
یہ سنیے لوگوں کے سر میں چکر اتے ہیں اور ان کے پیٹ میں…… کھانا تو ابھی بنا نہیں ایسا کریں اوپر ٹیرس پر جاکر ہوا کھا لیں
عائشہ نے سنجیدگی سےکہا جس پردانش نے اسے گھورا اس کے پہلے کے وہ کوئی کڑا جواب دیتا رائمہ نےایک گاجر اٹھا کر اس کے سامنے کی وہ رائمہ کو غور سے دیکھتے ہوئے گاجر لینے لگا بولا کچھ نہیں
آپی بہت گرمی لگ رہی ہیں…… آپ جاکر ہال میں بیٹھیں …….سب کام ہو چکا ہے ہم لوگ بھی بس آ ہی رہے ہیں پھر کھانا لگاتے ہیں
ماہی اس کے سامنے سے سیلیڈ کی پلیٹ ہٹاتے ہوئے بولی
آئے میڑم تب تک میں آپ کو اپنا محل دکھاتا ہوں
دانش اس کے جواب سے پہلے ہی بولا
ہاں آپی جائیں جب تک آپ راجو گائیڈ کے ساتھ جاکر ہمارا گھر دیکھ لیں کم سے کم ہمارا سر کھانا تو بند کرینگے یہ
عائشہ نے کہا جس پر دانش نے اسے غصے سے دیکھا
تم سے تو بعد میں نپٹونگا…..
وہ اسے دھمکاتا ہوا آگے بڑھا اس کے پیچھے ہی رائمہ بھی چل دی
اس دن آپ نے ہماری ہیلپ کی لیکن ہم اپ سے شکریہ تک نہیں کہہ پاے
اس نےدانش کے پیچھے چلتے ہوے دھیمی اواز میں کہا دانش بنا مڑے ہلکا سا ہنسا
شکریہ تو غیروں سے کہا جاتا ہے اگر آپ مجھے غیر سمجھ کر شکریہ کہہ دینگی تو میں اپ کو اپنا سمجھ کر اپ کی خوشی کے لیے اسے قبول کر لونگا
.
وہ اسے پوری طرح سے لا جواب کر چکا تھا اس لیے آگے کچھ کہہ نہیں پائ
اور یہ میرا کمرہ……..
سارا گھر گھمانے کے بعد دانش اسے ایک روم میں لے آیا جو چھوٹا مگر بہت خوبصورت تھا صاف ستھرا ہر چیز سلیقے سے سجائی ہوئی وہ غور سے ایک ایک چیز کو دیکھنے لگی
جب ہم تینوں چھوٹےتھے تو اسی کمرے میں ساتھ رہتے تھے بہت سی یادیں جڑیں یہاں سے کچھ خوبصورت اور کچھ ……
وہ ٹیبل پر رکھی ماہی عائشہ اور اپنی تصویر کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہنے لگا
ماہی بہت چھوٹی سی تھی جب چاچو اور چاچی کی ڈیتھ ہوئی……… اس وقت سے وہ ہمارے ہی ساتھ ہے…….. بہت روتی تھی ان کے لیے……. رات رات بھر سوتی نہیں تھی …….. بس ایک ہی بات کہتی تھی…….. مما کے پاس جانا ہے پاپا کے پاس جانا ہے…….. پر کس کے بس میں تھا یہ جو اسکی یہ خواہش پوری کرتا
لیکن پھر……… کچھ وقت بعد اس نے اچانک رونا بند کردیا ان سے ملنے کی ضد بھی چھوڑ دی جانتی ہیں کیوں………
وہ رائمہ کی جانب مڑا
کیونکہ اسے محسوس ہوا جب جب وہ روتی تھی عاشی بھی روتی تھی ……..امی اور ابو بھی پریشان ہوتے تھے کتنی عجیب بات ہے نا رائمہ اکثر ہم کسی ایسے کے لیے خود کو ازیت دیتے ہیں جو ہماری زندگی سے جا چکا ہے یہ سوچے بغیر کہ جو ہمارے پاس میں ہیں انھیں اس سے کتنی تکلیف ہوتی ہیں …..
دوبارہ سامنے دیکھنے لگا
زندگی بہت کچھ دیتی ہے ہمیں…… اچھا بھی اور برا بھی…….. لیکن ساری زندگی ان برے لمحوں پر ہی افسوس کرنے کی بجائے ہمیں اچھی یادوں کو سوچ کر خوش ہونا چاہیے…….. برا وقت تو آکر چلا جاتا ہے لیکن اس پر رونے میں ہی ہم اپنی زندگی بہت بڑا حصہ ضائع کر دیتے ہیں…….. لیکن ایک دن افسوس ہوتا ہے کہ کاش اس وقت میں پچھلے پر رونے کی بجائے ایک نئی شروعات کی ہوتی…… زندگی تو ایک امتحان کی طرح ہوتی ہے ایک ہی امتحان میں ہار مان لینا کہاں کی سمجھداری ہے آگے بڑھ کر دیکھو شاید اللہ نے کچھ بہت اچھا لکھا ہو آپ کے نصیب میں………..
اس کی ایک ایک بات کو رائمہ بہت غور سے سن رہی تھی دانش کی نظر اسی تصویر پر جب کہ رائمہ مسلسل اس کے چہرے کو دیکھ رہی تھی وہ اس کی بات کا ہر مفہوم سمجھ رہی تھی دانش نے اسے مڑ کر دیکھا
کیا ہوا ……
دانش سے سنجیدگی سے پوچھاتو وہ جیسے ہوش میں آئی
کچھ نہیں…….. ہمیں چلنا چاہیے سب انتظار کر رہے ہونگے
وہ بات بدلتے ہوئے بولی
.جی آئیے………..
کھانا لگانے سے پہلے ہی آہل آگیا جس پر سب نے خدا کا شکر ادا کیا ماہی کو اس کے آنے کی امید نہیں تھی اس لیے تھوڑی حیرت ہوئی سب نے ساتھ مل کر کھانا کھایا
ماشاءاللہ آپ کی دونوں ہی بیٹیاں ایک سے بڑھ کر ایک ہیں اتنا لزیز کھانا بنایا کہ ہم تعریف بھی کریں تو کم ہیں خوش رہیے
کھانے کے درمیان ثریا بیگم عاشی کو پیارسے دیکھتے ہوئی بولی
یہ تو آپ کا بڑھکپن ہے انٹی جو آپ ایسا کہہ رہی ہیں ورنہ تو ایک نمبر کی کام چور ہیں دونوں
دانش بغل میں بیٹھی ماہی کو چھیڑتے ہوے بولا جس پراس نے گھور کر دیکھا
نہیں بیٹا بیٹیاں مایکے میں کتنے ہی ناز نکھرے اٹھواے لیکن جب اپنی زندگی میں قدم رکھتی ہے تو کسی بھی چنوتی سے پیچھے نہین ہٹتی اپنا ہر فرض ہر ذمہ داری پوری محنت اور خلوص سے پورا کرتی ہیں اور اپنے ماں باپ کا سر بلند رکھتی ہیں
ثریا بیگم نے دونوں کی پوری سائڈ لی
سن لیا آپ نے…..
عائشہ نے اسے جتاتے ہوے کہا ماہی نے بھی ابرو اچکا کر دانش کو دیکھا آہل اس سب سے پوری طرح لاتعلق صرف کھانا کھا رہا تھا
زیادہ خوش مت ہو وہ تو انٹی خود اتنی اچھی اس لیے……
بس کرو دانش کیا بچوں کی طرح لڑنے لگتے ہو تم لوگ….
رضیہ بیگم نے دانش کو ٹوکا
بس انٹی ان بھائیوں کو تو بہانہ چاہیے ہوتا ہے بہنوں لڑنے کا ….ہر وقت تنگ کرتے رہتے ہیں
عائشہ نے ماں کی بات نظر انداز کرتے ہویے خفگی سے کہا
اس معاملے میں ہم بہت لکی ہیں…..
رائمہ جو کب سے انکی باتیں انجواے کر رہی تھی بول پڑی آہل بنا نظریں اٹھائے ہلکا سا مسکرایا دانش سنجیدگی سے اسے دیکھنے لگا
لیکن آہل نے بھی بچپن میں ہمیں بہت تنگ کیا ہے سارا دن اپنے پیچھے دوڑاتے رہتے تھے کبھی کپڑے نا پہنے کے ضد تو کبھی کھانے کے لیے ……اتنے شرارتی تھے بچپن میں کہ ہر وقت بس کچھ نا کچھ شرارت ہی کرتے رہتے
آہل کی آنکھیں مسکرارہی تھی جب کہ رائمہ کے چہرے پر بھی بتاتے ہوے ایک خوشی تھی باقی سب بھی اس کی باتوں پر مسکرا رہے تھے
ہماری کتابوں کے تو سخت دشمن تھے بس کتاب دیکھتے ہی اس کا حشر کر دیتے دن بھر باتیں کرتے رہتے تھے بنا تھکے بس بولنا بولنا بولنا
آپی یہ ایسا کیوں ہے آپی وہ ایسا کیوں ہے اتنے سوالات کہ کیا بتاے ….لیکن پھر……..
رائمہ بولتے بولتے رک گئی آہل کو غور سے دیکھا تو وہ اب بھی نظر جھکاے بیٹھا تھا لیکن اب انکھوں میں مسکراہٹ کی جگہ گہری سوچ کے تاثرات تھے دادی اور ثریا بیگم بھی خاموش تھے
پھر کیا ہوا آپی آہل بھائی اتنے سنجیدہ مزاج کیسے ہوگیے.
عائشہ نے تجسس سے پوچھا
وہ……..
رائمہ جانے کیا کہنے والی تھی کہ آہل ایکدم سے کرسی سے اٹھا اور ٹشو سے اپنے ہاتھ صاف کیے
مجھے ایک امپورٹینٹ کال کرنا ہے ایکسکیوز می
وہ رائمہ کو ایک نظر دیکھ کر باہر نکل گیا ماہی اسے جاتا دیکھنے لگی
لگتا ہے آپی کسی اور بچے کہ بارے میں بات کر رہی ہیں یہ جلاد جن اور شرارتی ہرگز نہیں
ماہی نے خود سے سوچا پھر سر جھٹک کر کھانا کھانے لگی
