Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 28

عشق دے رنگ رنگجاواں
قسط 28

سنایا خان

حارث صاحب فون پر بات کرتے ہوے سیڑھیوں کے پاس سے گزرنے لگے تب ان کے ہاتھ میں موجود فائل گرگئی لیکنآا کے زمین پر گرنے سے پہلے ہی آہل نے اسے اپنے ہاتھ بڑھاکر گرنے سے بچالیا اور ان کی جانب بڑھائی

تھینکیو بیٹا…….

وہ فائل لیتے ہوے بولے

یا تو تھینکیو مت کہیے یا بیٹا مت کہیے…

اس نے سنجیدگی سے کہا اور آخری سیڑھی سے نیچے اتر کا فورا آگے بڑھ گیا اور حارث صاحب اسے جاتے دیکھتے ہوے اس کی بات کا مطلب سوچنے لگے

آہل…. کم ہئیر….

وہ باہر نکلنے لگا تب مہیر نے اسے آواز لگائی تو اس نے پلٹ کر دیکھا وہ سب لوگ ڈائنگ ٹیبل پر بیٹھے ناشتہ کررہے تھے صرف دادی اپنے کمرے میں تھیں
اور ثریا بیگم حارث صاحب کو دیکھ کر ان کے پیچھے روم میں چلی گئی

نو…. اۓ ایم گیٹنگ لیٹ….

وہ اپنی گھڑی میں وقت دیکھتے ہوے بولا

اجاؤ یار کام تو ہوتا ہی رہے گا آپی بس کچھ دن ہی تو ہے ہمارے ساتھ تب تک تو ان کے ساتھ تھوڑا وقت گزار لو

آہل نے رائمہ کی جانب دیکھا اس کے چہرے کی مسکراہٹ دیکھنے کے بعد وہ انکار نہیں کرسکتا تھا اس لیے خاموشی سے چل کر وہاں اگیا

یہ ہوئی نا بات… اب بتاؤ کیسا لگا تمہیں میرا پلین

و
کونسا پلین…..

آہل نے حیرت سے پوچھا

یار وہی….. ویڈنگ پلین جو میں نے سیلیکٹ کیا آپی کی شادی کا ….

مہیر نے اسے یاد دلانا چاہا

تم نے مجھے ایسا کچھ بتایا نہیں…………

وہ بے نیازی سے بولا اور بریڈ پر بٹر لگانے لگا

میں نے ماہی بھابھی سے کہا تھا….. ماہی بھابھی آپ نے آہل کو البم نہیں دکھائی

وہ آہل کو کہتے ہوے ماہی کی جانب مڑا

سوری مہیر جی.. ہم بھول گئے تھے ہم ابھی لیکر آتے

وہ اٹھتے ہوے بولی رات کو وہ اس سے کوئی بھی بات کرنے کی ہمت ہی کہاں رکھتی تھی

کوئی بات نہیں ماہی آپ پہلے ناشتہ کرلیجیے وہ سب بعد میں ہوجائگا

رائمہ نے اسے اٹھنے سے روک کر دوبارہ بٹھایا

ہاں اپ پہلے ناشتہ کرو… ایکچولی میں نے رات کو بہت ویٹ کیا تمہارا لیکن تم لیٹ ہوگیے تھے اس لیے ماہی بھابھی سے کہہ دیا تھا کہ وہ تمہیں دکھا دے… آے ایم شیور کہ تمہیں وہ بہت پسند آے گا ایوری تھنگ اس جسٹ اوسم

اس کے بات کرنے کے درمیان ہی آہل نے ماہی کی جانب دیکھا ماہی نے اس کی نظروں کو محسوس کرکے سر اٹھایا اور دوبارہ نیچے دیکھنے لگی

مجھے دکھانے کی ضرورت نہیں ہے آپی سے پوچھ لو اگر انہیں پسند ہے تو ڈن کردینا

وہ مہیر کی جانب دیکھ کر بولا تو مہیر نے زوردار قہقہہ لگایا جب کہ ماہی اور رائمہ بھی ہنسی روکے مسکرا رہی تھی

اب اس میں ہنسنے والی کونسی بات ہے

وہ حیران ہوکر پوچھنے لگا

ایکچولی آہل کل جب میں نے انھیں اپنے ائڈیاس دکھایے تو آپی نے بھی سیم بات بولی کہ آہل سے پوچھ لو اسے پسند آے تو ڈن کردینا تب میں نے کہا تھا کہ دیکھ لینا اہلےبھی ایکزیکٹلی یہی بولے گا کیوں آپی

وہ ہنسی روک کر بولا آہل رائمہ کی جانب دیکھ کر ہلکا سا مسکرایا

کمال کی انڑرسٹینڈنگ ہے آپ دونوں میں ورنہ تو ہم بہن بھاییوں کے درمیان اپنی اپنی پسند کو لیکر جنگیں ہوجاتی ہے

وہ داد دینے والے انداز میں بولا

اوکے آپ لوگ باتیں کرو مجھے جانا ہے ….
اہل. اٹھ کر جانے لگا

اوکے اوکے.. تم نے اپنا اتنا قیمتی وقت ہم ناچیزوں کو دیا اس کے لیے تھینکیو ویری مچ

مہیر نے اسٹائل سے کہا آہل اس کی بات پر بنا کچھ ری ایکٹ کیے باہر کی جانب بڑھ گیا


شادی میں صرف تین دن باقی تھے اور بہت زوروں سے تیاریاں چل رہی تھی ہلدی کی رسم ادا کرنے کے لیے کافی سارے مہمان آے ہوے تھے گھر میں ہنسی خوشی کا ماحول بنا ہوا تھا ماہی پیلے رنگ کے لہنگے اور پیلے ہی بلاؤز پر لال چنری اوڑھے ہلکے سے میک اپ. میں بالوں کو کھلا چھوڑے بہت خوبصورتی لگ رہی تھی

وہ ہاتھ میں ہلدی کا تھال لیے باہر لان میں جانے لگی سامنے سے آتے آہل سے ٹکرا گئی تو اس کے سفید شرٹ پر ہلدی کے داغ لگ گے ماہی نےگھبرا کر اسے دیکھا اور وہاں سے جانے لگی ہڑبڑاہٹ میں اس کے ہاتھ سے تھال گرنے لگا لیکن آہل نے ماہی کے ساتھ ساتھ ایک ہاتھ سے تھال کو بھی پکڑ لیا تھال لےکر پاس ہی رکھے ٹیبل پر رکھا اور اسے غور سے دیکھنے لگا یلو کلر کے ڈریس میں اس کا رنگ بہت کھل رہا تھا وہ ہمیشہ سے مختلف اور خوبصورت لگ رہی تھی ماہی نے خود کو اس سے الگ کیا آہل اب ہاتھ باندھے اسے باقاعدہ دیکھ رہا تھا

آپ ……پھر سے ہمیں….. گھور رہے ہیں

وہ سمجھ نہیں پائی کہ وہ غصے میں ہے یا کچھ اور آہل نے کوئی جواب نہیں دیا اس کی جانب بڑھنے لگا اور وہ گھبراکر پیچھے ہونے لگی پیچھے ہوتے ہوتے دیوار سے جا لگی لیکن آہل نہیں رکا قریب آتا گیا

ک… ک… کیا کرہے ہیں اپ

سب لان میں تھے لیکن اسے پھر بھی ڈر لگ رہا تھا کہ کوئی اجاے گا آہل نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا

ہم نے جان بوجھ کر نہیں کیا آہل جی پلیز ہمیں جانے دیجیے

وہ گھبرا کر بولی

ایک. شرط پر…….

آہل اسکے ہونٹوں کو دیکھتے ہوے بولا ماہی نے اس کی نظروں سے گھبرا کر لب بھینچ لیے تو آہل اپنی مسکراہٹ کو روک نہیں پایا اس کے مسکرانے پر ماہی نے حیرت سے دیکھا

اج تم بہت خوبصورت لگ رہی ہو….. ….لیکن میں تمہیں اور خوبصورت بنا سکتا ہوں

ماہی نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا آہل نے ٹیبل پر رکھی ہلدی ہاتھ میں لے کر ماہی کے گال پر لگائی وہ دوسری جانب چہرہ کیے خاموشی سے کھڑی رہی آہل نے اس کے دوسرے گال پر ہلدی لگاتے ہوے اس کے سامنے اتے بالوں کو پیچھے کرتے ہوے گلے کے نیچے تک اسے رنگ دیا چند سیکنڈ بعد ماہی نے آنکھیں کھولی اور جانے کی کوشش کی لیکن آہل راستے سے نہیں ہٹا تو اس نے دونوں ہاتھوں سے اسے پیچھے کرتے ہوے ہٹایا اور جلدی سے آگے بڑھی لیکن آہل نے اس کی کلائی پکڑ کر روکا اور اس کے قریب ہوا ماہی نے اپنا رخ اس کی جانب نہیں کیا بس یونہی کھڑی رہی آہل نے اس کی پشت سے لگتے ہوے اپنا ہلدی سے بھرا ہاتھ سامنے سے اس کے کمر پررکھا ماہی نے انکھیں پھر سے بند کرلی آہل نے ہاتھ ہٹانے کی بجاے اپنی گرفت اور مضبوط کردی تو ماہی کو جیسے کرنٹ لگا اس نے فورا انکھیں کھولی اور آہل کا ہاتھ ہٹاکر فورا اوپر کی جانب بھاگی جلدی سے روم میں جاکر اس نے دروازہ بند کیا اس کی سانسی پھولنے لگی تھی اس نے اپنا دوپٹہ نکال کر بیڈ پر ڈالا اور ائینے میں خود کو دیکھنے لگی

اس کے جسم کے ہر کھلے حصے پر ہلدی کا رنگ لگا ہوا تھا لیکن اس کا چہرہ پھر بھی سرخ نظر آرہا تھا اس نے اپنے دونوں ہاتھ چہرے پر رکھ لیے


آہل تم اتنی رات گئے یہاں کیا کررہے ہو

وہ سارا دن بزی رہا اور اسے کل بھء کافی کام تھا اس لیے وہ اس وقت ڈرائنگ روم بیٹھا لیپٹاپ پر کچھ کام کررہا تھا حارث صاحب نیند نا آنے پر بیزار ہوکر روم سے باہر اۓ تو اسے دیکھ کر حیرت سے پوچھا

اہل نے کوئی جواب نہیں دیا نا ان کی جانب دیکھا لیکن اس کا چلتا ہوا ہاتھ رک گیا تھا مطلب اس نے ان کی بات سن لی تھی حارث صاحب آکر اس کے قریب والے صوفے پر بیٹھ گے وہ فورا اپنی جگی سے اٹھ گیا

رک جاؤ آہل…..

اس سے پہلے کہ وہ جاتا انہوں نے اسے رکنے کا کہہ دیا وہ خاموشی سے کھڑارہا

بیٹھو….. مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے

اہل خاموشی سے بیٹھ گیا

کیا میں جان سکتا ہوں کہ تم نے اپنے لیے الگ گھرکیوں لیا ہے
انھیں آج ہی پتہ چلا تھا کہ آہل نے شہر سے دور ایک رہائشی بنگلہ اپنے لئے خریدہ ہے اور اب انہیں موقع ملا تھا وجہ پوچھنے کا

کیونکہ میں ہمیشہ یہاں نہیں رہنا چاہتا……

وہ بے نیازی سے بولا

تمہیں پرابلم اگر میرے ساتھ رہنے سے ہے تو مجھے یہاں سے نکال دیتے تمہیں جانے کی کیا ضرورت ہے

انھوں نے سختی سے کہا

آپ کی غلط فہمی ہےیہ …..آپ ہو یا ناہو ایک ہی برابر ہے بس مجھے اس گھر میں نہیں رہنا میری محنت کی کمائی سے نہیں بنا ہے اسلیے گھٹن سی ہوتی ہے

وہ سکون سے بولا

اپنے باپ کے گھر میں گھٹن محسوس ہوتی ہے تمہیں……..

انہوں نے حیرت کا اظہار کیا

ہاں ہوتی ہے… کسی کی چینخیں سنائی دیتی ہے یہاں کسی کے رونے کی آواز جینے نہیں دیتی

وہ پرسوچ لہجے میں بولا

بکواس بند کرو اہل …..کم سے کم تم سے میں اس بیوقوفی کی امید نہیں کرتا تھا…… تمہیں لگتا ہے میں نے تمہاری ماں کو مارا ہے… میں نے جو کچھ کیا تھا تم لوگوں کے لیے کیا تھا زرا سوچو کیا ہم آج اس مقام پر ہوتے جہاں اس وقت ہے کیا کبھی کتنی ہی محنت کرتے تو یہ سب ہمیں مل سکتا تھا

انہوں نے غصے سے اس کی بات کاٹی

یو آر رائٹ ڈیڈ…… اگر آپ نہیں ہوتے تو ہمیں یہ سب کبھی نہیں ملتا ………

.کمال کی بات ہے کہ سارے باپ آپ جیسے کیوں نہیں ہوتے کیا وہ اپنی اولاد کو پیار نہیں کرتے ڈیڈ یا انہیں خوشی نہیں ہوتی اپنے بچوں کو اچھے حالات میں دیکھ کر وہ لوگ کیوں بیوقوفوں کی طرح محنت کرتے رہتے ہیں آپ کی طرح کیوں نہیں کرتے وہ

وہ مصنوعی حیرت دکھاتے ہوے بولا

آہل….
انہونے زور سے کہا

حیرت ہے ڈیڈ کے آپ کو اپنی غلطی پر بھی فخر محسوس ہوتا ہے امیزنگ

وہ طنزیہ ہنستے ہوے بولا

کونسی غلطی …کیا کیا ہے میں نے ….کس بات کے لیے تم یہ طنز کررہے ہو مجھ پر اگر میں نہیں ہوتا تو تم لوگ اسی جھوپڑے میں بھکاریوں والی زندگی گزاررہے ہوتے

وہ آگ بگولہ ہوکر بولے

کاش کے آپ نا ہوتے ڈیڈ ہمیں منظور ہے وہ زندگی کیونکہ وہ زندگی تھی آپ نے کبھی جاننے کی کوشش ہی کہاں کی کہ آپ کی غلطی کیا ہے باپ بن کر اگر آپ بات کرتے تو ہم بھی اولاد بن کر آپ کو اپنے دکھ بتاتے لیکن آپ نے تو کبھی عیروں کی طرح بھی حال نہیں پوچھا ماں تو جان سے چلی گئی تھی لیکن آپ نے ہمارے باپ کو زندہ ہوتے ہوۓ بھی ہم سے چھین لیا تھا کیا آپ جانتے ہیں جب ماں گئی تھی تو میں کتنے دن بھوکا رہا تھا کیا آپ کو پتہ ہے کتنے دن میں نہیں سویا تھا کیا آپ جانتے ہیں ڈیڈ کہ کتنی ضرورت تھی ہمیں آپ کی اس وقت جب آپ ہوکر بھی ہمارے پاس نہیں تھے

وہ کچھ پل کے لیے خاموش ہوا حارث اسے سنجیدگی اور حیرت سے دیکھنے لگے

آپ نے ہمیں بہت کچھ دیا ڈیڈ کھانے کو ایک سے بڑھ کر ایک لزیز پکوان تھے لیکن جن ہاتھوں سے بھوک مٹتی تھی وہ ہاتھ نہیں تھے بہت کچھ کھوچکا تھا ہمارا اس کیے ہمیں کسی چیز کے پانے کی خوشی نہیں تھی آپ نے ہمیں ضرورت سے بڑھ کر سب کچھ دیالیکن کبھی کوشش نہیں کی جاننے کی کہ ہمیں کس چیزکی ضرورت ہے

حارث صاحب خاموش رہے آج پہلی بار کسی نے انھیں ان کی غلطیوں کا احساس دلایا تھا وہ کچھ بولنے. کے قابل نہیں رہے تھے

گڈ نائٹ ڈیڈ…….. اینڈ ڈونٹ وری آپ نے ہمارے لیے جو کیا ہے وہ کوئی باپ نہیں کرتا آپ کو اس بات کا فخر ہونا چاہیے

وہ اٹھ کر بولا اور اور سیڑھیاں چڑھتے ہوے اوپر چلا گیا

***///