Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 26

عشق دے رنگ رنگجاواں
قسط. 26
سنایا خان

جب تک اسے ہاسپٹل پہنچایا گیا تب تک بہت دیر ہوچکی تھی ان کی ماں انھیں چھوڑ کر بہت دور جا چکی تھی اور باپ اس سب سے بے خبر اپنی الگ دنیا بسانے کے خواب میں مگن تھا رابعہ کو ہسپتال پہچانے والے ان کے پڑوسی نے حارث کو کال کرکے جب یہ خبر دی تو وہ سن رہ گیے انھیں زرا بھی اس بات کا اندازہ نہیں تھا چاہے جو بھی ہو وہ اپنی بیوی کی جان تو نہیں لینا چاہتے تھے انھیں پچھتاوا ہورہا تھا کہ انھوں نے کیوں رائمہ کی بات نہیں مانی کیوں رابعہ کو نہیں دیکھا لیکن ان کے پچھتانے سے نا وہ واپس اسکتی تھی نا حارث کا گناہ معاف ہوسکتا تھا زہن سوچ سوچ کر ماؤوف ہونے لگا تو گاڑی کا توازن بگڑ گیا اور گاڑی بری طرح ایک ٹیکسی سے جا کر ٹکرائی جس سے ٹیکسی بری طرح متاثر ہوئی حارث کو بھی کافی چوٹیں آئی لیکن جان بچ گئی جب انہیں ہاسپٹل میں ہوش آیا تو پتہ چلا کہ اس ایکسیڈنٹ میں ان کے ہاتھوں دو لوگوں کی جان گئی ہے جس کے الزام میں پولس نے انہیں گرفتار کرلیا دو دن وہ جیل میں رہے لیکن ثریا کے والد نے اپنے دولت اور رتبے کے چلتے انہیں آسانی سے باہر نکلوا لیا دوسری جانب سے کافی کوششیں کی گئی انھیں سزا دلوانے کی لیکن دولت کے آگے سچ کب جیتا ہے رابعہ کے مرنے کے بعد آہل اور رائمہ دونوں اپنی دادی کے پاس گاؤں چلے گۓ چند دن گزرنے پر حارث اور ثریا کی شادی ہو گئی شادی کے بعد ثریا کی خواہش پر وہ اسے لیے گاؤں آگئے ثریا نے جب سے رابعہ کی موت کے بارے میں سنا تھا وہ بہت پریشان ہوئی تھی اسے بار بار یہ محسوس ہو رہا تھا کہ اس کی وجہ وہ خود ہے اسی کی وجہ سے ہنستی کھیلتی زندگیاں بکھر گئی اور وہ بچوں کی خاطر ہی وہاں آئی تھی لیکن بچوں کو اس سے اس قدر نفرت تھی کہ وہ اس کی شکل تک دیکھنا نہیں چاہتے تھے لیکن وہ پوری کوشش کرتی تھی ان کا دل جیتنے کی رابعہ کی موت کے بعد سے آہل تو بلکل خاموش ہی ہوگیا تھا نا ٹھیک سے کھانا نا سونا رائمہ ہی تھی جو اسے سنبھالنے کی خاطر مضبوط بنی ہوئی تھی دادی نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی ان کا دکھ کم کرنے میں لیکن اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی ماں کو دم توڑتے دیکھنے کے بعد اتنا آسان نہیں تھا کہ وہ سب بھول سکتے حارث نے بچوں کو سنبھالنا تو دور ان سے ایک بار بات کرکے حال تک جاننے کی کوشش نہیں کی تھی آہل جب جب ثریا کو دیکھتا تھا اسے اس سے نفرت ہوتی تھی اور حارث کے تو سامنے بھی وہ نہیں آنا چاہتا تھا

آپ میری ماما نہیں ہے….

روز کی طرح آج بھی وہ ان دونوں کے لیے کھانا لے کر روم میں آئی تھی اور انھیں منانے کی کوشش کررہی تھی

ٹھیک ہے میں آپ کی ماما نا سہی لیکن انٹی تو ہوں نا

آپ ہماری کوئی نہیں ہے …..ہماری ماما بھی نہیں اور انٹی بھی نہیں..
ہمیں آپ کے ہاتھ سے کھانا نہیں کھانا

وہ کہہ کر فورا باہر چلا گیا

رائمہ بیٹا آپ تو کم سے کم………

ہمیں آپ سے کچھ نہیں چاہیے… آلریڑی بہت کچھ دے چکی ہے آپ ہمیں….. کیوں پیچھے پڑی ہے آپ ہمارے………. ہمارے حال پر کیوں نہیں چھوڑ دیتی آپ ہمیں…………… ہمیں آپ کی ہمدردی نہیں چاہیے چاہے جو بھی کر لیجیے ہماری ماما کی جگہ کبھی نہیں لے سکتی آپ

رائمہ نے اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے کی کاٹ دی

میں تمہاری ماما کی جگہ لینا بھی نہیں چاہتی بیٹا میں جانتی ہوں تم دونوں کی ناراضگی غلط نہیں ہے میری وجہ سے تمہاری ماں کو اتنا سہنا پڑا اتنا دکھ اٹھانا پڑا لیکن میں سچ کہہ رہی ہوں بیٹا میں نہیں جانتی تھی کہ ایسا کچھ ہوجاے گا میں بھی ان ہی بیٹیوں میں سے ہوں جو اپنے ماں باپ کے فیصلے کے آگے اپنا سر جھکا دیتی ہے میری غلطی بس اتنی ہے کہ میں نے ایک بار بھی جاننے کی کوشش نہیں کی کہ میری زندگی بنتے بنتے کس کس کی زندگی متاثر ہورہی ہے کاش کے ایک بار مجھے یہ بات پتہ چل جاتی کہ تمہاری امی اس رشتے سے راضی نہیں ہے میں خود انکار کر دیتی غلطی تو مجھ سے ہوئی ہے اور سزا بھی مل چکی ہے مجھے ساری زندگی میں خود کو معاف نہیں کرپاؤنگی میری خوشیوں کی دو معصوموں نے جو قیمت چکائی ہے اسے کبھی ادا نہیں کر سکوں گی بس مجھے معاف کردینا تم دونوں اور ہوسکے تو مجھے اپنی ماں کی نا سہی بس میری جگہ دے دینا

انھیں نے اپنے دل کی ہر بات پوری سچائیسے بتائی رائمہ انھیں پرسوچ نظروں سے دیکھنے لگی واقعی ان کی کوئی غلطی نہیں تھی اتنا سب ہونے کے باوجود کم سے کم انہیں پچھتاوا تو تھا وہ کوشش تو کررہی تو بچوں کا غم دور کرنے کی جب کہ ان کے اپنے باپ نے انھیں دو لفظ تسسلی کے تو دور ایک نظر ہمدرری سے دیکھنے تک کی زحمت نہیں کی تھی

اور خود کو سنبھالو بیٹا اپنے لیے نا سہی اپنے بھائی کے لیے اس کے زہن پر بہت برا اثر ہورہا ہے….. باتوں کو جتنا یاد کرتے رہوگے اتنی ہی تکلیف ہوتی رہے گی بھول نہیں سکتے لیکن کوشش تو کر سکتے ہو نا

رائمہ نے رخ دوسری طرف کرلیا

میں چلتی ہوں تم کھانا کھا لینا………

وہ ہار مان کر کھانے کی پلیٹ وہیں رکھ کر چلی گئی


حارث صاحب نے واپس شہر جانے کے لیے زور دینا شروع کردیا تھا لیکن ثریا بیگم راضی نہیں ہوئی وہ یہاں بچوں کو چھوڑ کر نہیں جانا چاہتی تھی اور وہ جانتی تھی کہ کسی بھی طرح بچے ان کے ساتھ جانے کے لیے نہیں مانے گے اس لیے انہوں نے صاف انکار کر دیا تو حارث کو اکیلے ہی جانا پڑا

کیا کریگی آپ یہاں رہ کر بچے آپ سے بات بھی نہیں کرنا چاہتے…اس لیۓ کہہ رہا ہوں میرے ساتھ واپس چلیے کچھ نہیں ہے یہاں…….

حارث نے کپڑے بیگ میں رکھتے ہوے کہا

سب کچھ ہے یہاں …….سب سے بڑھ کر میرے گناہوں کی تلافی ہے یہاں… اگر اتنا سب ہونے کے باوجود میں ان بچوں کو اکیلے چھوڑ کر چلی گئی تو لعنت ہے مجھ پر پہلے ہی میری وجہ سے ان کی زندگی ویران ہوئی ہے اب انھیں ان حالات میں اکیلا چھوڑ کر نہیں جاسکتی میں جب انہیں کسی کی ضرورت ہے

وہ. پرسوچ لہجے میں بولی

کیسی عجیب باتیں کررہی ہے آپ آپ کا کونسا گناہ آپ نے کیا کیا ہے

وہ اس کی جانب متوجہ ہوے

وہی گناہ جو آپ لوگوں نے مجھ سے کروایا ہے..جو چاہا تو آپ لوگوں نے لیکن وجہ میں بن گئی میں نے انجانے میں کسی کو خون کے آنسو رلاے…… کسی کی جان لے لی ……….بچوں سے ان کی ماں چھین لی…… کسی کی زندگی اجاڑ کر اپنی زندگی بسانا نہیں چاہتے تھی میں لیکن مجھ سے یہ گناہ ہوگیا اب بس اس کی تلافی کرنا چاہتی ہوں بکھرنے کی وجہ میں بنی ہوں تو ان کو سمیٹوں گی بھی میں ہی

وہ اپنے انسو انگلیوں سے صاف کرتے ہوے بولی

میں نے کوئی غلطی نہیں کی .
…دوسری شادی کرنا کوئی گناہ نہیں……. اسلام نے ہمیں چار شادیوں کی اجازت دی ہے جب خدا نہیں روکتا تو اسے اعتراض کیوں ہونا چاہیے تھا

اپنے مطلب کے لیے اسلام کا سہارا لینا بند کیجیے آپ لوگ ……کبھی صرف حق استعمال کرنے کی بجاے اپنے فرض کو بھی سمجھیے اپنی زمہ داریاں بھی نبھایے …………پڑھنے کی بجاے ان لفطوں کو سمجھیے ……….کسی معصوم کا دل دکھانا سب سے بڑا گناہ ہے کوئی شریعت کوئی کتاب کوئی مزہب اجازت نہیں دیتا اس بات کی…….. تو اپ نے کیسے سوچ لیا کہ خدا کسی کا دل دکھا کر آپ کو اپنا حق حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے

وہ کچھ پل رکی

ایک عورت کے انکھ سے جو انسو نکلے ہوگے جتنا وہ تڑپی ہوگی….ان بچوں کے دل سے جو آہ نکلی ہوگی ان سب کے زمہ دار تو میں ہی ہوگی نا…… میں خود کو کبھی معاف نہیں کرسکتی کاش کے میں نے ایک بار یہ جاننے کی کوشش کی ہوتی …….کاش کے میں پہلے ہی سب کچھ ٹھیک کر پاتی کم سے کم بچوں کے پاس ماں تو ہوتی……

میں چاہوں بھی تو ایک ماں کی جگہ کبھی نہیں لے سکتی لیکن میں انہیں اپنا تو بنا سکتی ہوں نا ان کی ماں بننے کی کوشش تو کر سکتی ہوں نا اب وہ. میرے بچے ہیں اور میں اپنے بچوں کو چھوڑ کر نہیں جاؤنگی

وہ اٹل لہجے میں بولی حارث نے ہار مان لی وہ کیسے بھلا اس کے خلاف جا سکتے تھے

ٹھیک ہے جیسی آپ کی مرضی لیکن آپ جب چاہے آسکتی ہے میرا جانا ضروری ہے کام کے سلسلے میں…..

و اپنی بات کرہی رہے تھے کہ ثریا وہاں سے چلی گئی اس نے ان کی بات تک سننا ضروری نہیں سمجھی
,

نفرت کتنی ہی زیادہ کیون نا ہو محبت کے آگے ہار ہی جاتی ہے اور ثریا کی محبت اور خلوص کے آگے وہ دونوں بھی ہار گئے تھے رائمہ تو سمجھدار تھی سمجھ سکتی تھی کہ اس کا کوئی قصور نہیں ہے اس لیے اس کی ناراضگی کم ہوگئی تھی وہ ثریا سے بات کرلیتی اس کی بات سن لیتی لیکن آہل کے براتاؤ میں کوئی فرق نا آیا وہ اسے ماں نہیں سمجھنا چاہتا تھا وہ اس کا بہت خیال رکھتی تھی سگی ماں سے زیادہ لیکن آہل کے لیے وہ بس اس کی کہانی کی ولن تھی جس کی وجہ سے اس کے ڈیڈ نے اس کی ماما کو مرنے پر مجبور کردیا تھا وہ جب بھی اسے دیکھتا وہاں سے فوران غائب ہوجاتا نا کسی سے بات کرتا نا دوستی بس رائمہ ہی سب کچھ تھی اس کے لیے

زہنی تناؤ اور کمزوری کی وجہ سے وہ دھیرے دھیرے کرکے بہت بیمار پڑگیا اتنا کہ اس کی جان پر بن آئی تھی کتنے ہی ہفتے تک وہ دواخانے میں ایڈمٹ رہا وہاں اس کا ٹریٹمنٹ چلتا رہا رائمہ کو تو ثریا نے سنبھال لیا لیکن خود اہل کو دیکھ دیکھ کر مرتی رہی اور خدا سے اس کی سلامتی کی دعا کرتی رہی اور خدا نے اس کی دعائیں قبول کی آہل کی طبیعت میں سدھار آیا تو وہ اسے گھر لے آئی اور اس کا بہت خیال رکھا رات رات جاگ کر اس کے لیے دعائیں مانگتی اور سارا دن پوری محبت اور خلوص سے اس کی خدمت کرتی آہل کی ناراضگی کو کسی خاطر میں نا لاتے ہوے صرف اس کی صحت کا سوچتی اور اسی وجہ سے وہ جلدی سے ریکور کر گیا اہل کو بہت وقت لگا اسے قبول کرنے میں لیکن وہ بھی اس کے خلوص کے آگے اپنی نفرت کو قائم نہیں رکھ پایا جو ہر بات کے بدلے اسے پیار کرتی تھی ہر نفرت کے بدلے اسے محبت دیتی تھی آہل کو بھی وقت کے ساتھ ساتھ صحیح اور غلط کا احساس ہوگیا اور ساتھ ہی یہ بھی کہ ثریا نے اس کے لیے کیا کچھ کیا ہے حارث بس کبھی کبھی دو تین دن کے لیے وہاں آیا کرتے تھے انہیں کسی سے کوئی غرض نہیں تھی لیے دیے انداز میں سب سے برتاؤ کرتے اور واپس چلے جاتے لیکن پھر جب ان دونوں کی پڑھائی کا سوال آیا تو ثریا انھیں سمجھا منا کر شہر لے آئی آہل اس کی خواہش پر شہر تو اگیا لیکن وہ حارث سے کبھی بات نہیں کرتا تھا اور اس کے لیے بھی اسے ثریا نے بہت سمجھایا شہر آنے کے بعد حارث صاحب نے اپنے پسند سے رائمہ کی شادی کہیں طے کردی اس کا دل پڑھنے کا تھا اور ثریا بیگم نے حارث کو منانے کی لاکھ کوشش کی لیکن اس وقت انہوں نے یہ کہہ کر انہیں چپ کروادیا کہ وہ ان کے بچے ہے اور وہ جو چاہے کر سکتے ہیں اس لیے وہ چاہ کر بھی کچھ کر نہیں پائی رائمہ نے بھی سب کی خوشی کا خیال کرکے اپنے سب خواہشوں کو بھول کر ان کے حکم کی تعمیل کی آہل اس وقت بہت رویا جب وہ اسے چھوڑ کر گئی اب تو کوئی نہیں تھا جس سے وہ بات بھی کرسکے دن بدن اس کا مزج مزید تیز ہوتا گیا اسے نا کسی سے دوستی پسند تھی نا کسی کا جھوٹا اپنا پن آہل کا مقصد صرف پڑھ لکھ کر کچھ کردکھانے کا تھا حارث کے لاکھ کہنے کے باوجود اس نے اپنا فیمیلی بزنس جوائن کرنے کی بجاے الگ سے کاروبار شروع کیا اور کم عمر میں محنت اور ایمانداری سے بہت بڑا مقام حاصل کیا اسے اپنی دولت کا گھمنڈ نہیں تھا نا وہ مغرور تھا بس وہ کسی پر بھروسہ نہیں کرنا چاہتا تھا اسے نفرت تھی ایسے لوگوں سے جو پیسے کے خاطر اپنی ہر حد بھول کر کسی کا دل دکھاتے ہیں کیونکہ وہ ان حالات سے گزر چکا تھا جب وہ پچیس سال کا ہوا تب ہی حارث صاحب نے اس کی شادی کا فیصلہ. کرلیا اسے ماہی سے شادی کرنے پر اعترض نہیں تھا اسے حارث کے فیصلے پر اعتراض تھا اور کہیں نا کہیں اس کے ذہن میں یہ بات گھر کر گئی تھی کہ جس طرح حارث نے کیا ویسا ہی ہر کوئی کر سکتا ہے پیسے کے لیے ….. اس نے سوچ رکھا تھا کہ وہ تنوی سے شادی کریگا کیونکہ وہ خود بہت امیر گھرانے سے تھی اسلیے وہ اس سے کسی لالچ میں آکر شادی نہیں کریگی وہ حارث صاحب کے فیصلے سے صاف انکار کردیتا اور چاہتا تو گھر چھوڑ کر بھی چلا جاتا لیکن اسے دادی کا خیال تھا جنھوں نے کسی وقت میں اسے سہارا بن کر سنبھالا تھا تو وہ کیسے اپنی وجہ سے انہیں کچھ ہونے دیتا لیکن اس نے ایک اور ترکیب نکالی تھی کانٹریکٹ میریج کی اسے یہی امید تھی کہ ماہی کانٹریکٹ میریج کا سن کا صاف انکار کردیگی اور حارث صاحب کو خود ہی خاموش ہونا پڑےگا لیکن ماہی نے اس کانٹریکٹ کو ایکسیپٹ کرلیا آہل کو اس سے نفرت محسوس ہونے لگی کیونکہ وہ بھی انہی میں سے تھی ……. اس لیے وہ اسے بار بار اس کی غلطی پر طعنے دیتا لیکن اس سے اسے خود کتنا فرق پڑتا تھا یہ صرف وہی جانتا تھا

وہ یہ بھول چکا تھا کہ ثریا اسکی سگی ماں نہیں ہے اس کے دل میں ثریا کے لیے بہت عزت اور بہت محبت تھی لیکن وہ اپنی ماں کو بھی بھول نہیں سکتا تھا اس نے ثریا کو اپنی ماں کا مقام دیا تھا اور وہ بہت خوش تھی اپنے بچوں کے لیے

آہل کی محبت اور عزت اپنی ماں کے لیے اس دن مزید بڑھ گئ جب اسے اپنی ڈاکٹر فرینڈ کے زریعے یہ معلوم ہوا کہ ثریا نے جان بوجھ کر کبھی اپنی اولاد نہیں ہونے دی صرف اسلیے کہ آہل اور رائمہ کا پیار بٹ نا جاے تاکہ وہ صرف انہیں اپنی اولاد مان سکے اس دن وہ اسکے لیے بہت عظیم ہوگئی ایسا تو کوئی سگی ماں بھی نہیں کرتی جو ثریا نے انکے لیے قربانی دی تھی اس نے یہ بات ظاہر نہیں ہونے دی کہ وہ جانتا ہے لیکن اس دن وہ ثریا کے گلے لگ کر بہت رویا تھا

/

رائمہ کی شادی کے اگلے دن سے ہی اس کے سامنے اپنے سسرال والوں کا اصلی چہرہ اگیا کہ انہوں نے صرف اس کے باپ کی دولت کی خاطر اس سے شادی کی تھی اور انھوں نے اپنے مقصد پر بہت اچھے طرح سے عمل کیا رائمہ کو بار بار کسی نا کسی بہانے سے سسرال سے پیسے لینے کے لیے اکسایا گیا وہ جھوٹ بولتی رہتی کہ وہ خوش ہے اور ان کے حکم کی تعمیل کرتی رہی اس کے شوہر کو اس سے نفرت تھی کیونکہ وہ کسی اور لڑکی کو پسند کرتا تھا اور گھر والوں نے اس کی شادی رائمہ سے کردی تھی اور اس کا بدلہ وہ رائمہ سے لیتا تھا گالی گوچ مارپیٹ ظلم. کی انتیہا تک وہ برداشت کرتی صرف اسلیے کہ اس کے گھروالوں کو اس کا حال جان کر دکھ نا ہو اس نے مائکے آنا تک چھوڑ دیا کہ کہ اس کے زخموں کے نشان اور اسکے کمزور وجود کو دیکھ کر کہیں اس کے اپنوں کے دل نا دکھے آہل پہلے ہی کتنا کچھ برا وقت دیکھ چکا اب وہ اس کے پریشانی کی وجہ نہیں بننا چاہتی تھی آہل اس کے نا آنے پر بہت ناراض ہوتا تھا لیکن وہ اس کی ناراضگی دور کرنے کی بھی کوشش نہیں کرسکتی اس کا پھول جیسا وجود مرجھائی ہوئی پتیوں جیسا ہوگیا تھا چار سال میں ….چار سال بعد اسے امید کی ایک کرن ملی اس خوشخبری نے اس کے سب زخموں پر مرہم کا کام کیا لیکن یہ خوشی بھی قسمت کو منظور نہیں تھی اس کے شوہر نے اسے جان سے مارنے کے لیے اسے زبرسستی زہر دینے کی کوشش کی کیونکہ وہ اسے چھوڑ کر اپنی معشوقہ سے نکاح کرنا چاہتا تھا لیکن رائمہ کی زندگی لکھی تھی اس لیے اتفاق سے آہل اسی وقت اس سے ملنے آیا تھا اور اس کی حالت دیکھ کر وہ رودینے کو تھا وہ زمین پر پڑی تھی اور منہ سے خون بہہ رہا تھا اس نے بنا دیر کیے اسے اٹھا کر اسپتال لے آیا اور تب اسے ہر بات کا پتہ چلا رائمہ کے ساتھ ہوئی ہر زیادتی کے بارے میں ڈاکٹر نے اسے بتایا اللہ نے اس کی جان تو بخش دی تھی لیکن وہ اپنے بچے کو کھو چکی تھی اور اس کے لیے یہ بات کسی صدمے سے کم. نہیں تھی اس لیے اس کی حالت مزید خراب ہوتی گئی اس دن آہل احد کو جان سے مارنے گھر سے نکلا تھا لیکن وہ وہاں سے بھاگ چکا تھا لیکن آہل نے پوری کوششیں صرف کرکے پولیس کو اس کے کے پیچھے لگا دیا تھا اور پولیس نے بہت ہی کم وقت میں اسے گرفتار کرلیا تھا اور اس سے ہر گناہ قبول. کروالیا تھا
ایک بار پھر ثریا بیگم نے ہی رائمہ کو سنبھالا حالانکہ وہ خود کتنی دکھی تھی یہ بس وہ جانتی تھی لیکن اپنا دکھ ظاہر نا کرتے ہوے انھوں نے رائمہ کو اس کے پچھلے زخموں سے نجات دلوائی لیکن وہ خاموش ہوکر رہ گئی تھی اسے اب زندگی سے نفرت ہونے لگی تھی وہ بس خود کو ایک کمرے میں قید کرکے رکھتی
آہل نے اسے احد سے طلاق دلاوائی تھی کیونکہ اب وہ اس شخص کا نام بھی اپنی بہن کے ساتھ برداشت نہیں کرسکتا تھا اور اس نے احد اور اس کے گھر والوں پر اتنے مقدمے چلاے کہ وہ سب اس کے آگے کمزور پڑگیے احد نے اس سب سے بچنے کے لیے رائمہ کو اعتماد میں لینا چاہا تو آہل نے اسے اتنا مارا کہ وہ بے جان ہوکر رہ گیا لیکن اس نے طے کرلیا کہ وہ آہل سے بدلہ لے کر رہے گا اور اس نے ہر ممکن کوشش بھی کی لیکن دانش نے آکر اس کے سارے ارادوں پر پانی پھیر دیا اور رائمہ کو ایک نئی زندگی کی جانب لے آیا